Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad Qadiani pubh – Chodhawen Sadi




Rahe Huda – Sadaqat Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad Qadiani pubh – Chodhawen Sadi

Rah-e-Huda – 7th March 2020 – London UK

اے سونے والو جان گیم گیم م وہاں یہی ہے رحمان رحیم اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ پروگرام راہ خدا ہے جو آپ کی خدمت میں اس وقت ایم ٹی انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے براہ راست پیش کیا جا رہا ہے وقت کے مطابق شام کے چار بج چکے ہیں اور اب سے آئندہ ڈیڑھ گھنٹے تک یعنی تقریبا 90 منٹ کا پروگرام جاری رہے گا اس کرنا اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ پروگرام ہمارے ناظرین اور سامعین کا پروگرام ہے میں سے کوئی بھی جو اس پر دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہوا یہ پروگرام دیکھ رہا ہے کیا سن رہا ہے اگر اس کے ذہن میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں کوئی بھی سوال ہے تو آپ اس پروگرام میں اپنا سوال کر سکتے ہیں سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ایک تو ہمارا واٹس ایپ نمبر ہے واٹس ایپ نمبر پر آپ اپنا تحریری سوال یا وائس میسج کے ذریعے اپنا سوال بھی سکتے ہیں لیکن اگر آپ اس پروگرام میں شامل ہونا چاہئے ہم سے بات کرنا چاہیے تو اس کے لیے آپ کو ہمارا لیڈر استعمال کرنا پڑے گا آج کے پروگرام کا آغاز کرنے سے پہلے یہاں جو شخص کا یہ پروگرام میں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں خاکسار کے ساتھ یہ اسٹوڈیو میں موجود ہیں نصیر احمد قمر صاحب اور حافظ سید مشہود احمد صاحب جبکہ گانا سے ہمارے ساتھ ٹیلیفون لائن کے ذریعے شامل ہوں گے عبدالسمیع خان صاحب قارئین کرام حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے مسیح ہم اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے آگے فرمایا ہے کہ ان کا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس آنے والے کی خبریں دی تھی پیشگوئی فرمائی تھی وہ آنے والا وجود آپ کا وجود ہے احمدیہ گذشتہ سو سال سے زائد عرصے سے دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پیغام پہنچا رہی ہے جو دراصل آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے قرآن کریم کا پیغام ہے اور اللہ تعالی کا پیغام ہے حسین جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کا ذکر کرتے ہیں تو خاص طور پر اسلامی لٹریچر میں چودھویں صدی کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے تو میں چاہوں گا کہ آج کا پروگرام کا آغاز ہی میں سوال سے کرے اور آپ ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ چودھویں صدی کی کیا اہمیت ہے لوگ یہ کہتے تھے کہ چودھویں صدی ختم ہی نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسیح موعود امام مہدی نہ آجائیں تو چودھویں صدی کی کیا اہمیت ہے اس کا مسیح اور مہدی سے کیا تعلق ہے اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا دعوی اپنے وقت کے لحاظ سے کی اہمیت رکھتا ہے یہ بہت اہم سوال ہے کیونکہ جیسے کہ پچھلے پروگرام میں بھی ذکر ہوا تھا امت محمدیہ میں جمعہ اور امام مہدی کا ظہور ایک بہت عظیم الشان واقعہ ہے قرآن مجید میں اشارات موجود ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ان آیات کریمہ کی روشنی میں ارے امور پر روشنی ڈالی ہے جس میں اس آنے والے مسیح اور مہدی کی علامات اس کے زمانے کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے حق میں ظاہر ہونے والے مختلف نشانات زمینی اور آسمانی جو بھی ظاہر ہونے تھے ان کو بڑی تفصیل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تاکہ اوہ سا ہو تو ان کو بھی اس کو پہچاننے میں مشکل پیش نہ آئے اور اتنی قرآنی آیات کی تصریحات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض شادات کی روشنی میں پھر علمائے امت میں آغاز سے ہی یہ بات واضح ہوگئی تھی اور وہ اس بات کو بیان کرتے تھے اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ ہزار سے بھی اوپر ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایسے اولیاء ایسے نیک لوگ نتیجے میں اس سے بات کر کے اور اپنے اللہ تعالی کی طرف سے علم پاکر بھی اس زمانے کی نشاندہی فرمائی جو ختم ہوتا ہے لیکن یہ جو آپ پہلے اس کا بھی ذکر کر دو یہ بات نہیں کرتی اور یقینی بات تھی کہ یہ بات بھی کی گئی کہ چودھری ختم نہیں ہوگی جب تک وہ زہر نہ ہو جائے اسے موت امام مہدی کا مطلب یہ تھا کہ چوتھی صدی میں اس کا بھرپور طاقت اور یقینی بات ہے لیکن آپ لوگوں نے اس کا یہ لے لیا کہ دیگر ٹی کی اس کا کوئی تعلق نہیں سو سے اوپر بھی ہو جائے جب وہ آئے گا تو پھر چوتھی ختم ہوگئی ہے جہالت کی بات ہے اس کو کوئی بھی تسلیم کرنے والی تسلیم نہیں کر سکتا اور کھا اسلام کو اور اسلامی تعلیمات کو ایک مضحکہ خیزی کا نشانہ بنانے والی بات ہے چودھویں صدی میں اس موضوع امام کا ظہور پکی بات ہے یہ چل نہیں سکتیں ایسی پکی بات قرآن کریم میں میں نے ذکر کیا اس کے اشارات موجود ہیں اور مختلف آیات سے استنباط بھی ہوتا ہے اس کے لئے بھی تقویٰ اور انصاف فارم حق کی جستجو اگر ہو تو پھر وہ ان چیزوں کو سمجھ سکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے خود فرمایا آغاز میں کہہ دے متقین بنیادی تقوی اس کو کی خواہش اور سچ کو تسلیم کرنے کی خواہش یہ ہے کہ انسان قرآن پر اگر غور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی رہنمائی فرماتا ہے جنہوں نے نہیں ماننا انہوں نے نہیں ماننا مجھے یاد ہے ایک دفعہ پاکستان میں ایک مولوی صاحب نہیں وہ ایک دن دو دن پہلے ان سے پہلے فاطمہ سے بات ہوئی جب ان سے ہوں دلیل نہ بنے اور دیگر ایک دو دن کے بعد پھر آئے گا تجھے میرے استاد صاحب نے کہا تھا کہ آپ سے یہ پوچھو کہ کہاں لکھا ہے کہ مجھے وہ چوتھی صدی میں آئے گا اگر میں نے بعض آیات قرآنیہ کے ریفرنس سے اس کو سمجھانے کی کوشش کی اس کو اتنی سمجھ ہوتی تو یہ سوال اٹھاتا اگر حدیثوں کے حوالے سے جو استنباط کیا گیا ان کا ذکر کرتا ہے تو اس میں بھی اس نے کو اپنی بات نہ ماننے کے لیے نکالی نہیں ہے اس میں سوال کیا آپ یہ بتائیں کہ امام مہدی اور مسیح موعود نے آنا ہے فاتحانہ میں مجھے نہیں پتہ کب آنا ہے آپ مجھے بتائیں کب آنا ہے کتا اس قیام سے پہلے انہوں نے مجھے تو پتا نہیں کہ آپ کب آنی ہے چلو کچھ علامتیں میں کا مثلا وہ ایک علامت کرے 712 میں اور ذکر کر دو یہ جھوٹ بہت پہنچ جائے گا پھول جائیگی اخلاقی گراوٹ مسلمانوں میں آجائے گی قرآن کو لوگ تلاوت جو ہے وہ بس ایک دکھاوے کی ہو جائے گی ان کے گھر سے نیچے نہیں اترے گا پڑھیں گے ہمارا تو یہ کچھ باتیں وہ کرے اور اس زمانے میں دجال کا خروج ہو گا یا جو ہوں گے یہ ساری بات سن کر آپ یہ بتائیں کہ یہ علامت بھی پوری ہوگئی ہیں تو ہے تمہیں پھر اگر یہ اس زمانے میں پوری وہ زمانہ ہے جس میں اس کو آنا چاہیے یہ تیر بھی ہے یا چودھویں یہ پر بھی یہ آپ کرلیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم نے جو علامتیں بتائی تھی آپ کہتے ہیں کہ وہ ساری تو پوری ہوگئی ہیں تو پھر ڈالنا چاہیے کہ خدا اور رسول کے واسطے جھوٹی نہیں ہو سکتے بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالی نے یہ فرمایا اگر صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت کریمہ قران کریم کی سورہ مزمل کی آیت ہے ہذا فرماتا انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم ارسلنا الا فرعون الرسول اللہ تمہاری طرف اسی طرح رسول بھیجا ہے تم پر ایک شاہد گواہ بنا کر نگران بنا کر جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت و مماثلت حضرت موسی علیہ السلام سے دی جا رہی ہے اور دوسری جگہ مولانا نے اس کی مزید تفصیل یوں بیان فرمایا سورہ نور میں کے وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلی یا پھر ماں کا لفظ آیا کہ مومنوں سے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مومنوں سے اور ایسے اعمال صالحہ بجالانے والوں سے اللہ نے یہ وعدہ فرمایا کہ یہ اختلاف نہ ہو تو نے خلیفہ بنائے گا زمین میں جیسے چھ لوگوں نے بنایا تھا اب جیسے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مسائل کے طور پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اس طرح سے آپ کی امت کو موسی عمر ہے گی اور اس میں سے میں یہ بھی ایڈ کر دو اس سے اس انہی آیات سے اس خیال کا بھی رد ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں پرانا مسیح آئے گا سات والا مضمون ہے محمد موسوی امت میں اور محمدی امت میں مماثلت ہے جس پر اندر صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور جس طرح حضرت موسی علیہ الصلاۃ و السلام نبی تھے اور ان کے بعد بہت سے نبی آئے اور چودھویں صدی کے سر پر حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام آئے حسین مریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مقامات پر یہ بھی فرما دیا کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل جس طرح موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد بہت سے انبیاء اس طرح کے بہت سے میری امت کے علماء اس مقام پر ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی مسئلہ مسائل تھے لیکن اسے پڑھ کر موسی علیہ السلام تو ایک مضبوط قوم کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دائرہ تو قیامت تک اور تمام کمپنیوں انسان ہیں اس لیے آپ سے بڑھ کر تھے آپ نے فرمایا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے لیکن والے ماحول کے بارے میں کہاں کا لفظ استعمال کرنا اور فرمایا وہ نبی اللہ ہوگا اور مسیح ابن مریم ہوگا وہ امام مہدی کا ظہور ہو گا تو اس کے بارے میں جوان وسلم نے بتا دیا تو ان دونوں آیات کی روشنی میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں یہ ثابت واضح ہوگیا کہ چودھویں صدی کے سر پر جس طرح وہاں پہ حضرت مسیح ابن مریم کا نزول ہوا تھا اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب امت میں آنے والے مسیح تک فرماتے ہیں تو ساتھ ماموں کو ملک میں فرماتے ہیں اور اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مسئلہ ہوگا اس صورت میں آیا تھا اور جس طرح وہ چودھویں صدی کے سر پر آیا تھا اسی طرح یہاں پہ آنے والا بھی چودھویں صدی کے سر پر آئے گا کیونکہ دونوں امتوں میں بہت مشابہت ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دھماکے کی وضاحت مختلف واقعات فرمائیں بنی اسرائیل کی امت کی طرح مختلف فرقوں میں بٹ جائے گی اور بالکل جیسے سپورٹر کافی بنیں گے اسی قسم کی بد یا اسی قسم کے اختلاف اور تفرقہ میں بند ہو جائیں گے صرف ایک ہوگا پھر کا جو جماعت ہوگی جو حق پر ہو گی باقی سب جو ہیں وہ کل اور پھر لڑائی جھگڑا فساد اسی میں ہی رہیں گے ایک ہوگی جو جماعت ہوگی اور دوسرے پر اس کی وضاحت فرما دیں اب قرآن اور حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں دیکھیں تو آپ نے واپس آنے والے امام مسیح اور مہدی کا یہ بھی فرما دیا کہ مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہو گا پھر آپ نے یہ بھی فرما دیا کہ اس کے لیے آسمانی نشانوں زائروں کے زاد کشمیر ساری علامات بتائیں آپ کام بتائیں بالکل ٹھیک بات اور دن بدن جب یہ فرمایا اس کی تفصیل آگے بھی آجائے گی کہ اس کی آنکھیں کرے گا کیا جو کام اس کے بتائے گئے ہیں نا ان سے بھی اس زمانے کی تائید ہو جاتی ہے کہ اس زمانے میں ایسے ہی کاموں کی ضرورت ہوگی ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے جن میں سے ایک فرمایا کہ وہ صلیب کو توڑ دے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تسلی بھی فتنہ بڑے زوروں پر ہوگا تو کسی علیحدہ کی بات کریں گے جس طرح آپ نے ابھی تک یار آپ نے اپنی گفتگو کا بھی حوالہ دیا ہم تو کہتے ہیں یہ ہیں جو ہمارے سننے والے ہیں جو جماعتیں اس سے تعلق نہیں رکھتے وہ اس بات کی طرف توجہ دیں اور خود اس بات کو جانچے اور پرکھے کہے اگر آپ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کو سچا نہیں مانتے تو پھر یہ آپ کے ذمہ ہیں کیونکہ وہ وقت آگیا ہے وہ علامات ساری پوری ہوگئی ہیں تو پھر سچے کو ہمارے سامنے پیش کریں اور اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے اور یقین نہیں کر سکتے کیونکہ پچھلے سو سالوں سال سے آپ سے یہی تقاضا ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام ہیں اللہ تعالی کی پیش گوئیوں کے مطابق آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں ہم گفتگو کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں اور اب میں بات کرنا چاہوں گا میں صاحب سے السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ جی میں عبدالسمیع خان صاحب سے بات کرنا چاہوں گا اچھا مجھے لگتا ہے کہ آپ ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم دوبارہ کے پاس آجائیں گے مشہور صرف اسی بات کو جو نصیحت مرتب کریں تاکہ ہم آگے بڑھائیں گے نصیب صاحب نے قرآن کریم کے حوالے سے بات کر دی ہے اور کچھ کے حوالے سے بھی بات کر دیا ایک اور بڑا تاریخ کا اہم پہلو ہے لیکن جو دعوی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں یہ کوئی ایسا گا وہ نہیں جو آپ نے پہلی دفعہ ذکر کر دیا ہے بلکہ ہمیں ایسا ملتا ہے کہ امت محمدیہ کے دیگر بزرگان جو گزرے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام سے پہلے انہوں نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا اور اس وقت کی تعیین کی ہے تو اس بارے میں کچھ بتا دیں جزاک اللہ خان صاحب اللہ الرحمن الرحیم قرآن کریم کے حوالے سے بھی بات کی کہ قرآن کریم میں سے بھی نشانات موجود ہیں پتہ چلتا ہے جس میں اشارہ موجود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر زمانہ ہے چوتھی سے بھی ہوگا حدیث میں ذکر ملتا ہے چند ایک بات تو نصیر صاحب نے کی ہے میرا خیال ہے کچھ اور مزید وضاحت کر دی جائے تو اسے ایک بات بڑی وضاحت کے ساتھ ساتھ آپ کے ساتھ ثابت ہوجائے گی کہ چودھویں صدی کی آمد کے بارے میں خود بھی سارے دیے ہوئے ہیں قرآن کریم نے تو بات کی ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معین طور پر اشارہ دے دیا مثلا حضور صل وسلم کی حدیث ہے آنسر فرماتے ہیں الآیات بعد المائتین کچھ نشانات دنیا میں ظاہر ہوں گے رمشا نعت جو ہیں وہ بعد میں آتی دو سال کے بعد ہوں گے مفسرین نے محدثین نے اس حدیث کو لے کر یہ بیان کیا ہے کہ علم یقینی 200 نہیں ہیں بلکہ الفلاح جوزف کو لامحدود کہا جاتا ہے زمانے کا ہے جو ایک ہزار روپے پر منتج ہوتا ہے یعنی بارہ سو سال کے بعد کچھ نشانیاں جو ظاہر ہوں گے جو بہت بڑے محدث بھی مفسر بھی ہیں انہوں نے بخاری کی شروعات بھی لکھی ہیں اور دیگر حدیث پر بہت کام کیا ہے وہ ملا علی قاری صاحب رحمہ اللہ ہیں کہ اسلامی روایات کون علامہ فلم یا تین بادل الف وقت ظہور الحدیث وقت ہے بارہ سو کا امام مہدی کے ظہور کا وقت ہے اس کے نشانات اللہ تعالی ظاہر کرے گا پھر ایک اور حدیث ہے اس میں فرماتے ہیں آدامز حلقوں میں عطانی واربعون آتا یا اباصالح المہدی 1200 سال گزر جائیں گے اور اس کے پر چالیس سال مزید گزر جائیں گے یعنی بارہ سو چالیس سال گزر جائیں گے اللہ تعالی ماضی کو مبعوث کرے گا باتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان کی ہیں جہاں تک بزرگان سلف کا تعلق ہے ان کے خیال کا تعلق ہے تو ایک بات بڑی وضاحت کے ساتھ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کی ہوئی ہے کہ لا یمسہ الا المطہرون ٹرین کے جو مفاہیم ہیں ان کو وہی سمجھ سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جن کو خدا تعالی کی طرف سے تحیر کا سرٹیفیکیٹ میں ہوتا ہے اب ان بزرگوں نے قرآن کریم کے پر بھی کیا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر غور و فکر بھی کی اور دعائیں بھی کی کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ان بزرگوں کو الہام کے ذریعے سے خود بتایا کہ یہ وقت ہے جو حضرت مسیح موعود اسلام آباد یے ماود علیہ السلام کے ظہور کا وقت ہے اسلام نے انہیں بزرگان میں سے دو بزرگوں کا ذکر کیا اور آپ نے کتاب لکھی جس کتاب کا نام ہے نشان عثمان اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا ہے دو بزرگوں کا جن میں ایک کا نام حضرت نعمت اللہ ولی صاحب انہوں نے فارسی میں قصیدہ لکھا ہے سیدھا مسیح علیہ السلام کے زمانے سے تقریبا ساڑھے سات سو سال پہلے لکھا گیا تھا اور جو قصیدہ بیان کرنے والے ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے الہام نے بتایا ہے میں بیان کر رہا ہوں یہ آپ بات نہیں ہیں کہ آنے والے کا نام محمد ہوگا ملک ہند میں ہوگا اور میں ہوگا چوہدری مشکل اور ہوگا انسان اور ساری باتیں لکھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے ہیں ایک بزرگ ہیں جو ہنس ہنس کے دعوے سے کچھ عرصہ پہلے فوت ہوگئے ہیں جن کا نام نہیں لکھا ہوا ہے حضرت گلاب شاہ منصور اللہ انہوں نے اپنے مرید کو یہ بات کی تھی کہ میڈیکل ہو گیا میں بھی نوجوان ہیں قادیان شہر میں اس طرح سے اللہ تعالی نے پیاروں کو الہام کے ذریعے حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کی خوشخبری دی ہوئی تھی پیدا ہوئے تھے یہ زبانی دعوے نہیں تھے اندازہ نہیں تھے بلکہ ان کی بنیاد الہام تھی کہ خدا کا لہجہ بتا رہا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جس میں خدا تعالی اس امت کو بچانے کے لیے حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود کے ذریعے دین پسند کرے گا یہ تو وہ لوگ تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے زمانے کو نہیں پایا لیکن آپ کی صداقت کے اوپر محبت کر چلے چلے گئے جن کا ذکر بھی کر دیا حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی ہیں باہر صدی کے مجدد ہیں یہ کہتے ہیں علمنی ربی جل اللہ جل جلالہ خدا تعالیٰ نے یہ بات سکھائی ہے بتائیں ہے بیان کی ہے للقیامۃ کتاب نزدیک آ چکی ہے مہدیہ یا الخروجی اور مہدی اپنے خروج کے لئے تیاری کر چکا ہے تو یہ بارہویں صدی کے مجدد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب کہہ رہے ہیں کہ مجھے یہ بات میں بیان کر رہا ہوں اپنی بیان کر مجھے یہ بات اللہ تعالی نے بتائی ہے اور اللہ تعالی کے بیان پر میں یہ بات میں بتا رہا ہوں امام عبدالوہاب شعرانی صاحبان کی کتاب الیواقیت والجواہر میں بھی لکھی ہوئی ہے کہ امام مہدی کا ظہور صنعت خمسین عوامی اکین بادل پی کے بارہ سو پچاس کے بعد جو ہے وہ امام مہدی اور مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے خواجہ حسن نظامی صاحب ایک پرانے بزرگ گزرے ہیں حضرت امام ابن عربی اور ابن عربی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں کو پڑھتے ان کے بیانات کو پڑھ کر جو میں نے اندازہ لگایا ہے وہ یہ ہے کہ امام مہدی کا ظہور 335 میں ہوگا مسیح موعود علیہ السلام کے ہم عصر جو لوگ تھے جو آپ کے دور کے لوگ تھے ان میں بھی یہ بات بڑی کثرت کے ساتھ موجود تھی کہ یہ وقت ہے جس میں امام مہدی اور مسیح موعود کے ظہور کا وقت کے علامات پوری ہو چکی ہیں جہاں کے جو مصنف ہیں صدیق حسن خان صاحب ان کی ایک فارسی کی بات ہے اس کا ترجمہ پیش کر دیں تو آپ کے سامنے وہ کہتے ہیں کہ چودھویں صدی شروع ہونے میں دس سال باقی ہیں اگر اس میں مہدی کا ظہور ہو جائے تو وہی چودھویں صدی کے مجدد و مستحق ہوں گے لوگ بھی اس بات کے یہ پڑھے لکھے لوگ تھے جاننے والے لوگ تھے علم معرفت رکھتے تھے تو یہی بات بیان کر رہے ہیں ہم آپ صلعم کا ایک شعر پڑھ کر اپنی گزارشات ختم کروں گا اس میں فرماتے ہیں وقت تھا وقت مسیحآ نہ کسی اور کا وقت یہ کوئی اور ہی آیا ہوتا تو یہ خدا تعالی نے قدر کیا ہوا تھا کہ اس وقت میں دین کی تجدید ہونی ہے میں نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا لیکن ہو نہ اسی صدی میں تھا آپ نے ذکر کیا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ اور اشعار بھی میرے سامنے ہے تو میں وہ بھی اس موقع پر پڑھنا چاہوں گا آپ نے اپنے منظوم کلام میں یہ بھی ذکر فرمایا اب وہ دن جب کہ کہتے تھے یہ صبر کا نہ دیں محمودالحق اب جلد ہوگا آج کا روات آپ حوالے جو بیان کر رہے ہیں اور آگے فرماتے ہیں کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی ایک جوش سے کون تھا جس کو نہ تھا اس آنے والے سے پیار میرے بھاگ گئے اور چودھویں ایس دی اول ہوگئے منکر یہی دیں کہ مینار پر دوبارہ آ گئی اخبار میں رسمیں ہوتی پھر مسیحی وقت کے دشمن ہوئے یہ جو بازار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ان باتوں کا اپنے منظوم کلام میں اظہار فرماتے ہیں مجھے امید ہے کہ جب ہمارے عبدالسمیع خان صاحب سے ہمارا رابطہ ہو جائے گا تو مجھے بتا دیا جائے گا تو میں اس کی طرف چلتا ہوں اور نصرت صاحب سوال آنا شروع ہوگئے ہیں اور میں خود ترتیب تو ان سوالات کی جڑ ہے جو میرے سامنے ہیں لیکن ہمارے بھائی ہیں وہ بشر احمد صاحب انہوں نے ایک سوال پوچھا ہے اور انہوں نے جس انداز میں سوال کا آغاز کیا اس نے یہ سمجھنے کے لیے اٹک بہت کر لی تو میں چاہتا ہوں کے پہلے سوال کا جواب دے دیں وہ یہ کہتے ہیں ہمارے بھائی مبشر احمد صاحب پاکستان سے کہ غیر جماعت کی طرف سے ایک نئی اعتراض پیش کیا جاتا ہے یہ عرض کر رہا ہوں کہ اگر آج تو وہی ہوتے ہیں اور وہی ہیں جو پہلے بھی کیے جا چکے ہیں لیکن پیش کرنے کا انداز لوگوں کا احساس ہوتا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے نیا انداز ہیں تو وہ ان کا اعتراض یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب اپنا دعوی کر لیا اس کے بعد تو ٹھیک ہے آپ کو مسلتی حج پر جانے کی لیکن اپنے دعوے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حج کیوں نہیں کیا دیکھیں یہ کے متعلق کچھ شرائط ہیں قرآن کریم میں بھی خاص طور پر فرمایا اللہ الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا سورہ آل عمران کی آیت 98 ہے علاوہ بھی احادیث نبویہ کی روشنی میں بھی علمائے کرام نے بعض شرائط کا ذکر فرمایا ہے جس میں راستے میں امن ہونے کی شرط بھی ہے صحت کا ہونا بھی ہے والدین نہ ہو دیسی چھوٹی نہ ہو جس کی تربیت اس پر ہوں اور ان کو چھوڑ کے وہ نہ جائے بہت سارے استاد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تو آغاز سے ہی یعنی از اسلام نے لکھا ہے کہ میں 15 سال کی عمر میں میں نے عیسائیوں سے مباحثے شروع کر دیے تھے وقت سے ہیں آپ اسلام پر کمر بستہ تھے باقی آپ کے والد صاحب جو ہیں وہ بھی تقریبا چالیس سال کی عمر تک بوڑھے تھے ان کا بھی ان کی بھی خیال رکھنا تھا ان کے کام بھی وہ جان دیتے تھے جو کی ہدایت کے مطابق پھر بچے بھی چھوٹے بھی تھے تو یہ ساری شرائط میں تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ دین اسلام کی خدمت جو ہے اس میں اتنی مصروفیت تھی کہ آپ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ اس کو چھوڑ کے اس طرف چلے جاتے ہیں یہ واقعات امت کے بزرگ ان کے حوالے سے بھی موجود ہیں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی بعض لوگ آئے کاکے میں حادثے کا جانا چاہتا ہوں حضور کو علم تھا آیا اس نے ذکر کیا کہ میری والدہ ہیں پیچھے ایک ماں کی خدمت کرو وہ تمہارے ساتھ کرنے سے بہتر ہے ماں کی خدمت کرنا حج سے بہتر فرمایا ہے تو دین اسلام پر جب ہر طرف سے حملے ہو رہے تھے اور جس طرح آپ اور چشموں کی لڑائی لڑ رہے تھے سائنس کے اندر سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اور دین اسلام کی فضیلت کو ثابت کر رہے تھے یہ بہت اہم تھا تو آج پوری آ نہیں رہی تھی آپ کے اوپر آپ حج خود نہیں جا سکے لیکن یہاں اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے گویا نعوذ باللہ آج کو ہم تسلیم نہیں کرتے اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارہا اس بات کا ذکر خدا کی قسم کھا کر بتایا کہ یہ ہمارے اعتقادات ہیں جس میں کلمہ شہادت ہے نماز روزہ زکوۃ حج ان پانچ ارکان اسلام پر ہفتہ ایمان ہے اور حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو خود پتہ چلی تشریف لے جا سکے لیکن حقیقت بدل کروایا ان کی طرف سے حج بدل کیا گیا اور یہ وی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے ثابت ہے کہ کسی نے کہا کہ میرا باپ یہ میری ماں آج کرنا چاہتے رہے ہیں لیکن اب ضعیف ہے اس کے اہل نہیں ہے کہ وہ اپنا نمبر کرسکے اونٹ پر بیٹھ سکیں تو کیا میں ان کی طرف سے حج کرنا ہو تو حضور اکرم صلی وسلم نے اجازت دیں تو جو کام کی نوعیت ہے اس کو بھی دیکھیں اگر اس سے یہ استنباط کرتے ہیں لوگ کہ کوئی ہم حق کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ غلط بات ہے اور آپ کے فرزند حضرت مولانا الحاج مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ تعالی عنہ جو آدمی منصب خلافت پر متمکن ہوئے اور خلیفۃ المسیح الثانی کے نام سے معروف ہے انہوں نے بھی آج کیا آپ کے خلیفہ المسیح اول تھے حضرت الحاج مولانا نور الدین رضی اللہ انہوں نے حج کیا ہوتا سینکڑوں ہزاروں افراد ہیں جماعت احمدیہ کے جو حج کرتے ہیں کہ پاکستان سے یا باز اور جو سے پابندیاں ہیں لیکن اللہ تعالی مسلمان کرتا رہتا ہے دنیا بھر میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں کوئی حق نہیں ہے کسی کو بھی کہ جو حج کرنا چاہیے اس کو خدا کے گھر سے کوئی روکے تو بیان کردی ہے اضافی لگایا جا رہا ہے کہ ہم آج نہیں کرتے یعنی گویا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام بانی جماعت احمدیہ نے حج نہیں کیا تو پھر ہمارے پر پابندی کیوں لگائی جاتی ہے پابندی لگانا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ احمدی مسلمان یہی کہ ہم حج کریں لیکن پھر کچھ ممالک میں ہمیں روکا جاتا ہے اور پھر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ تم آج کیوں نہیں کرتے یہ دلچسپ بات ہے کہ آپ کچھ کہنا چاہ رہے ہو کیا کرنا چاہیے جس سے تفصیل سے بات کی گئی ہے کہ حج کے لئے کچھ شرائط ہیں اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں سکون نہیں تھی کہ زکوٰۃ کی شرائط پوری نہیں ہوئی کہ ایک سال تک ایک مقرر شدہ رقم جو ہے وہ اسلم کی پاس رہے اور پھر اس کو دیتے تو اس لئے میں نے کال کی تھی لیکن اس میں آپ کے پاس کچھ کھائی نہیں اگر کوئی شخص اس بات کو بنیاد بنا دے اور مذاکرات کرنا شروع کر دے یہ دیکھیں اسلام کا رکن ہے اور آپ نے نہیں کیا تو جو ہمارے جماعت احمدیہ کے بارے میں جو لوگ تحقیق کرنا چاہتے ہیں جو لوگ جاننا چاہتے ہیں ان کو اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے حضرت بانی جماعت احمدیہ آپ کے خلاف اور جماعت احمدیہ کے بارے میں یہ کبھی اعتراض نہیں ہوگا کہ نماز نہیں پڑھتے تھے کیونکہ نمازوں کی پابندی بہت سختی کے ساتھ نظر آتی بلکہ لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ نعوذباللہ ہیں تو جھوٹے لیکن نمازیں بہت پڑھتے ہیں اس وجہ سے یہ کامیاب ہوتے جا رہے ہیں یہ بڑے دلچسپ امر ہیں جو لوگوں کو جس کے بارے میں س ایک تو یہ دیکھا جائے گاوچنا چاہیے اور اس آپ خدا نے اس کے بارے میں کیا خوب فرمایا کے بارے میں توجہ دینی چاہیے نصرت اور ان کا نام لینا چاہیے زیادہ نہیں لیتا کسی بھی کمی کی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جماعت سے تبلیغ گفتگو ہو رہی تھی جب ان سے کوئی دلیل نہیں بنتی تو پھر وہ کہتے ہیں جی آپ جو بھی آپ کا ہے میں نے انہیں کہا کہ دیکھیں آپ مجھے جو چاہیں سمجھیں میں تو آپ کو نہیں روک سکتا مجھے کافر قرار دیتے رہے لیکن میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کافرہ سے جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا حدیث آپ نے سنی ہے آپ نے کہا یہ حدیث ہے انہوں نے کہا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے آج تک کوئی بھی نماز پر جو ہے وہ نہیں چھوڑیں آپ سب لوگ جمع ہیں اور آپ بڑے شدومد سے اپنے اسلام کا دعوی کرتے ہیں کیسے بتائیں کہ کون ہے جس نے آج کی ساری نمازیں پڑھی ہیں کل کی نماز پڑھی ہیں نماز پڑھی تھی نماز نہیں چھوڑیں عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر کے اس میزان پر اس فیصلہ کن معیار پر پورا اترتے ہیں پھر تو آپ کی بات کر رہے ہیں ورنہ یہ کفر کا فتویٰ رسول اللہ صلی وسلم کی زبان سے آپ پر لگتا ہے تو جب سے ہوش سنبھالی ہے اور ایک بات علم میں ہے کہ نماز ایک فرض ہے میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑیں اور پھر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور وہ شرمندہ ہوں کہ وہ اٹھ چلے بات یہ ہے کہ اعتراض برائے اعتراض کرنا تو آسان ہے نماز کو اور مجھے اس سے اس سے بھی زیادہ اہمیت ہے اور آج تک ہم نے انکار کیا ہے ان چیزوں کا ہم تو یہ جو تمام روایات سے اپنے ساتھ روکتے کیوں ہو ہمیں نمازوں سے کیوں روکتے ہیں مساجد سے کیوں روک رہے ہیں ہمیں اپنے مساجد کو مساجد کہنے سے کیوں روکتے ہیں ایک طرف یہ ہمارے پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ نعوذ باللہ نعوذ باللہ یہ تو ہی مسلمان نہیں تو پھر ہمیں ان ارکان کو ادا کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے علم نہیں اس کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں میں صرف ہمیں کہتے ہیں کہ ان کی مسجد مسجد نہیں ہیں ان کو دوسروں کو یہ نمازیں کیوں پڑھتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہتے اور نماز کیوں نہیں پڑھتے آپ سوچتے کیوں نہیں جاتے کہ آج بھی نہیں جانے دینا ایسے قوانین سخت تر بنایا جائے کہ یہ کسی طرح بھی نکل نکل سکیں یہاں پہ جانے کے لیے اسحاق کہتے ہیں کہ آج نہیں مجموعہ ہے اللہ اور رسول کے فرمان کے مطابق آپ نے جائزہ لینے کی اس کو فکر نہیں جو عمل کر رہا ہے خدا اور رسول کے احکامات کے مطابق اور اس پہ کوشاں ہے کہ ہم اس کی پوری روح کے ساتھ ان فرائض کو ان کا دیا ان میں روک جا رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آج کرنے کا طبی علاج ہماری گفتگو کا سلسلہ جاری رہے گا میں ایک بات یہ بھی ہمیشہ عرض کرتا ہوں دوبارہ عرض کرنا چاہوں گا اور بار بار عرض کرتا رہوں گا جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد یا جماعت احمدیہ بھی باتیں عملی طور پر کرتی ہے وہ دراصل اسلام کی تعلیمات یہی اور حضرت بانی جماعت احمدیہ اور آپ کے بعد آپ کے خلاف اور آپ کی تمام جماعت جو ہے وہ قرآن پر کامل یقین رکھتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی کماحقہٗ پیروی کرنے کی کوشش کرتی ہے اب ہم اگلے سوال کی طرف جاتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ آپ ان سب سے ہماری بات ہو جائے گی اسلام علیکم عبدالسمیع خان صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جیسا گوا بیٹھے تو گانا میں ہم سے کافی دور بیٹھی ہوئی ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ میں آپ کو اپنے پروگرام میں شامل رکھیں اور ایک بھی یہی کچھ رابطوں کا ہے لیکن انشاءاللہ کوشش کریں گے نہ کیا ہوگا وہ بہت اہمیت کا حامل سوال ہے اور میں اس سے زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن اشارتن بات کا بات کرتے ہیں تو کئی دفعہ کہ ہمارے سامنے یہ اس طرح کا سوال پیش کیا جاتا ہے کہ گویا آنے والے امام مہدی یا مسیح موعود کے بارے میں دمشق کا ذکر ملتا ہے مکہ کا ذکر ملتا ہے یا اور مقامات کا ذکر ملتا ہے کہ یہاں ظہور ہونا تھا یا ایھا نزول ہونا تھا تو یہ جو متفرق مقامات کا ذکر آرہا ہے جگہوں کا ذکر آیا ہے اس کی وضاحت آج ہمارے ناظرین کے لیے آپ ہمارے لئے کر دیں عمران خان صاحب یہ ایک اہم سوال ہے کرنا چاہتا ہوں کہ امت محمدی 70 کی ہیں اور ہر غموں اپنے حصہ ہے اس کی علامات اور تفصیلات پر مختلف علاقوں اور دیگر علامات ظاہر ہے کہنہ ناممکن ہے شاپس آج ہے جس پر تمام پر انڈیا مسلم ہمارے بھائی ہیں ہمارے پیارے بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ امام مہدی غار میں چھپا ہوا ہے اور میرے خیال سے اب وہ کیسے ہوگا ہوگا 2018 بات یہ ہے اور محققین نے یہ لکھا ہے کہ حضرت محمد اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس طرح کے کپڑے ایک فلم یعنی امت محمدیہ میں آنے والے بزرگوں کے عورتوں کی اللہ تعالی سب سے آنے والی افطار لگتا بول یار مجھے دینا ایک وہ بھی ہے جو مسئلہ ہے اس کے مطابق یہ لوگ مسلمانوں نے غلطی سے وہ ساری کی ساری علامتیں تھے جو امام مہدی کے متعلق ہی بزرگ امامت سے متعلق تھی وہ ساری کی ساری امام مہدی موعود اور اس کے بارے میں اختلافات کا ایک لقمہ فیصلہ جو کبھی یہ نہیں ہوتا کہ کوئی ایسا شخص اس پر تعلیم پوری ہو سکی کہ یہ شخص ایک ہی مسلک کی محفل کبھی ہو دوسرے کی نسل سے بھی ایک دوسرے کی نسبت سے بھی ہو علاقے ایک ہی میں سے ایک شخص نے بھی اور مدینہ میں بھی اور بھی آ سکتا ہے اللہ تعالی کے شاگردوں نے پورا کر دے یار ان کو اگر آپ غور سے دیکھیں ہیڈ سانحہ لیکر کا بیان پہنچ جاتا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام مہدی مشرق میں ایک شرقی دمشق مشرف کے مشہور علاقے میں ہے اس کے متبادل علاقے ہیں اور اللہ نے فرما دیا کہ وہ آج ہم میں سے آئے گا بات کریں اور وہ فرماتے ہیں کہ امام مہدی کے ساتھ یہ بھی ہوں گے اور عربی میں گفتگو نہ کرے اللہ کا کرم ہے یہ چوری کرتا ہے کہ مولا علی کے ساتھ میں ہوں گے اب عجم کے بھی آگے میں شمار کرتے ہیں بارش ہے مختلف دوسرے علاقے ہیں اور اصول میں پھرتی سلائیاں فرمائیں کہ وہ سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اور ابھی اس وقت بہت پریشان کن تھی اس وجہ سے علاقے میں آیا اور وہ ماں اور اولاد میں سے یہ مرتبہ بارے میں کیا رائے ہے سوات کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور یہ ہجرت کر کے انتہائی اور آگے چل رہا ہے ہندوستان میں علم حدیث سلامت رہو محمدی قبرستان میں کھیلنا آسان نہیں بنوا رہے یہ خدا کی طرف سے کیسی ہو میں ہے کہ امام مہدی کی زبان ہندی روانہ ہوگی ان کا بھلا کیسے کروں آپ ہی کرتے ہیں کہ ہندوستان میں کتنے ہیں بحیرہ طبریہ کے مشرق میں جس کے ہیں مشرق میں واقع ہے اور میں پاکستان پہنچ گئے ہیں ہوگا یہ ہے پنجابی تو یہ واضح ہو گیا کہ پنجاب میں آئے گا پھر پنجابی پرانا ہے کہ آئے گا اب انسانوں کی یہ پیش گوئی ہے کہ وہ جتنی دار ہوگا اور مصالح کے نام تمہارے ساتھ بات کرتی ہے جب وہ خدا ہو گئے اور حضرت خواجہ غلام فرید شاعری زمانے کے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ خدا کا خیال رکھنا واجب ہے یا نہیں یار میں کل کا غدار کو خوش رکھے اور خدا کرے اس میں آتا ہے کردے کہ وہ پڑا ہے پر میرا یار کے گانے دریا دریا دریا کے کنارے واقع ہے کرتا ہوں دریا کے قریب کے علاقے سے وہ مایوس ہو گا آپ کی پارٹی کا استعمال کرنے والا وجود اور اللہ تاللہ نے صاحب مجھ سے متعلق قانون کے طور پر ایک بزرگ ہے کے قتل عام میں پاگل ہوں آپ میری اولاد سے محروم رہ گئی ایک مغل بادشاہ کرنے کرتا ہے کہ گزرا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ فرق کا بیان میں ہے اور صالح غلام محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے بزرگوں کی بشارت کس ملک کا شہر ہندو رہتے تھے ان سب کی جو اسلام کی جائے پیدائش سے تعلق رکھتا ہے اور ماتھے کے لیے بھی بتاتے نہیں آتی ہے حدیث ہے جو بعض لوگوں نے عباسی خلافت کے دور میں بنائی اور گھر کر کے سو کے مجموعہ میں شامل کرنے اور کرانے اور وہاڑی میں ماضی مطلق تو ہے ٹھیک کر لے کر تو ہماری کوئی الگ کرنے کی صحیح تعلیمات سورۃ ہے کہ در مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہے اور ہے فائدہ ہوگا اور مسلم لیگ نون میں شامل ہوں گے یہ آزاد کشمیر میں بیان کر دی ہیں ان کے متعلق فروری مارچ کے لے کر میں موجود ہے یہ دوستوں کو خارش ہو ان کو پیش کیا پڑھ کر اپنے معنوں میں اضافہ نہیں کر سکتے شکریہ عبدالسمیع خان صاحب بہت تفصیل کے ساتھ آپ نے اس مضمون کو بیان کر دیا ہے اور یہ جو بات آپ نے آخر میں ہمارے ناظرین و سامعین کے لئے عرض کی ہے اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ یہ جو ساری باتیں جو ہورہی جگہوں کا نام دیا جارہا ہے یہ ہمیں کسی خاص طرف لے کے جا رہے ہیں اور اس پر غور کرنا چاہئے اور اگر حقیقت کی نگاہ میں دیکھا جائے پتا ہے کہ قادیان میں آنے والے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام ہیں ان پیشگوئیوں کے مستحق ہیں کرتے ہیں اگلا پروگرام جو سوال ہے وہ افسوس ہوا آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا ہمارے بھائی ہیں عبدالمصور خان صاحب ویسے وہ پوچھ رہے ہیں کہ میرا سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو کسوف و خسوف کی پیشگوئی ہے قرآن و حدیث کی وضاحت کرنے کی توفیق ہوئی ہے لیکن آپ ایک مسیح موعود علیہ السلام کے صداقت کے لئے خدا تعالیٰ نے بے شمار نشانات دیکھے ہیں ہر نشان اپنا ایک رنگ رکھتا ہے لیکن صوبوں کو سب کو نشان ہے یہ اس خدا تعالی کی عظمت اور جبروت اور اس کے جلال کو مہک یہ کام کسی انسان کے بس میں ہوئی اس لیے اس نشان کی اس قدر اہمیت ہے کہ خدا تعالی نے سورہ قیامہ میں اس کا ذکر کیا ہے اور قرآن کریم کی آیت ہے فائزہ باریک لباس سرخ القمر وجمع الشمس والقمر یقول الانسان یومئذ این المفر مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا ہے کہ میں امام مہدی بنایا ہے اس وقت کے لوگوں نے یہ مطالبہ کرنا شروع کر دیا کے لئے تو چاند اور سورج گرہن لگا تھا رمضان کے دنوں میں اور میری پیاری تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث میں حضور صل وسلم نے فرمایا تھا المدینہ مہدی کے دو نشان ہوں گے ابھی کرتے ہوئے اس نشان کے بارے میں اللہ تعالی نے دو دفعہ سے منع فرمایا لعنت ہو نا منظور یہ جو نشان ہے یہاں معمولی نشان نہیں ہے یہ نشان ایسے ہی جب سے کائنات بنی آسمان اور زمین کی تخلیق ہوئی ہے یہ نشان کبھی خدا تعالی نے کسی اپنے کی موت کے لیے بطور نشان کے پیش نہیں کیا وضاحت کی تعریف الخمر فی اول لیلۃ من رمضان ا کے مہینے میں چاند کی گرہن ان میں سے پہلی رات کو خدا تعالی چاند گرہن لگے گا وطن کچھ مصروفیات بھی ہو اور گرہن کی تاریخ یہی سورج گرہن کی ان میں سے درمیانی رات کو خدا تو لگ رہا ہے ان کو گرہن لگ جائے گا اور پھر اس بات کو دوبارہ شادی کی تو بیان فرمایا اور فرمایا علم کو نامنظور خلق اللہ السماوات والارض دفعہ کس حدیث میں کہا کہ یہ ایسا نشان ہے یہ معمولی نشان نہیں ہے ان کے اختیار میں ہی نہیں کہ وہ خدا تعالی کی بنائی ہوئی جرائم میں اتنا بڑا جو کارخانہ قدرت ہے اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود سن کر دیا کرتا پھر ایک دفعہ نہیں نشان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں رونما فرمایا 1894 میں مشرقی ممالک میں نشان دیکھا گیا اور پھر اس سے اگلے سال 1995 میں مغربی ممالک نے یہ نشان دیکھا اور یہ ایسی بات ہے جو انٹرنیٹ پر موجود ہے اس وقت بارات ہے انہوں نے اس کے چچا کیا اور کہ اس نشان کو دیکھ کر ایک کثیر تعداد ہے جو احمد میں داخل ہوئے اور اس وقت جو موجود ہے وہ پھر یہ کرنا شروع کردیا کہ لو بھائی اب تو یہ نشان ظاہر ہوگیا ہے اب تو حضرت مرزا صاحب تم ہی کہتے ہیں انہوں نے تو آپ لوگوں کو بہت انہیں پہچان اور بہت سارے لوگوں پر ہوں گے میں کیا پیش کروں نے زمین بیان بھی کیا فرمایا عاصمہ میرے لئے تو نے بنایا ایک ڈبہ چھوٹے نشان نہیں تھا کہ تم نے خود کہا تھا ان حلیمہ دیوے نہ آتا جو ہمارا میں بھی ہوگا میں ٹھیک ہوں گے ہونگے جو مہدی جی نہیں ہمارا ماضی ہوگا اس کے لئے دو نشان آگے فرمایا آسماں میرے لیے تو نے بنایا گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے ہوتا ہے نسیم صداقت کے لیے دنیا کے سامنے پیش کیا بہت بہت شکریہ مزید سخت اگلا سوال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اور یہ ہمارے بھائی ہیں محمد شہزاد سے پاکستان سے ایک سوال ہے آپ کے سامنے رکھتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیسے پتا چلا سکتا ہوں یا مجھے کیسے پتہ چلے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد واقعہ تم خدا کی طرف سے ہے یہ یقینا اس پروگرام کو دیکھنے والے ہمارے کی بھائی اور بہن کی جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں یہ سوال ذہن میں رکھتے ہوں گے کہ کس طرح ہم کیسے پتہ لگائیں کہ واقعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد خدا تعالی کی طرف سے رہنمائی کردیں اگر ان کے پاس کوئی ملک کے وزیراعظم کی طرف سے آیا ہوں تو اس سے آپ کیسے پہچانیں گے کہ وہ واقعی اس کی باقی تین وزیراعظم نے اس کو بھیجا ہے ان کا پیغام لے کر آیا ہے کوئی اپنی کوئی ان کا خالد دکھاؤ اردو بتاؤ تمہیں انہوں نے بھیجا ہے ہم کیسے مان لیں وہ تو پیروں والی بات ہو گی نہ یہ فسانہ تمام ہو ہی نہیں ہوئی پاگل پن نہیں چلے گا جو کہتا ہے کہ مجھے فلاں نے بھیجا ہے بہت بڑی بات ہے اگر وہ کہتا ہے کہ مجھے تمہارے چچا نے بھیجا ہے جان نے بھیجا تو آپ اس سے پوچھیں گے کہ کوئی علامت کا نشان کچھ ثبوت کے واقعات مووی کسی کا نام لے کے مجھے انہوں نے بھیجا ہے کہ اتنے پیسے دے دو اور لے کر بھاگ جاتے ہیں خدا کی طرف سے ہو اسے ثابت کرنا ہوگا کہتا ہے خدا نے اسے بھیجا ہیں بالکل کہ اگر کوئی شخص خدا کی طرف سونے کی طرف کا دعویٰ کرتا ہے تو کیا واقعات اس کی زندگی ایسی ہے کہ وہ خدا بالا یا خدا کی طرف سے آنے والا سمجھا جاۓ بدکار آدمی اگر یہ دعویٰ کرے کہ میں خدا کی طرف سے ہو تو فورا اس کو جلا دے گی تمہارے اپنے خدا کی حکم پر چلنے والی کوئی بات نہیں تمہارا کردار اتنا گندا ہے تم جھوٹے آدمی ہوں تم بھی ہو بد تمیز ہو ملوث ہوں اور تم نے نا ملے تو مجھے خدا نے بھیجا ہے ایک تو یہ پہلا بیان ہے اس کی وجہ سے اس کی زندگی کو دیکھا جائے کہ وہ کیا وہ واقعی بندہ اپنی زندگی میں کیسا تھا اس میں اس کی زندگی پاک تھی متقی ہے پھر اگلا مرحلہ یہ ہے یا وہ لوگ بہت ساری ہوسکتے ہیں نیک لوگوں سے ہو سکتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تو کیا اس کے بارے میں خدا نے کوئی ہمیں بتایا تھا وعدہ تھا اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی اس کی علامتیں تھی ہم اس کے پاس ہے اس کو پتہ چل جائے گا دیا اور باتی میں وقت مقرر ہوتا ہے اس لئے میں اس کی تفصیل نہیں قرآن کریم نے ایک بڑی واضح علامت اور تحریک اس کو پہچان کا یہ بتایا ہے فقہ میں 41,439 ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ بلا و تقول علینا بعض الاقاویل لاحظنا من ہو بلی آمین ثم علقۃ ان المتین تمام نعت خواں بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کرتا ہاتھ سے پکڑ لیتے تھے اور اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے اور پھر تم میں اس کو بچانا سکتا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ہے آسمان میں یہ سوال اٹھا کاجل کی آپ خدا کی طرف سے آپ کہتے ہیں خدا نے بھیجا رسول اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ جھوٹے طور پر ہماری طرف کوئی بات منسوب کرتا دنیا میں تو آپ کسی کی طرف سے ہونے کا دعوی کر سکتے ہیں اس کی اس سے کنفرم کرنے میں وقت لگے گا کہ واقعی وہی ہے رابطہ کریں گے خدا تو عالم الغیب والشہادۃ ہے کی طرف اگر کوئی منسوب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس نہیں ہے وہ کہتا ہے اگر میری طرف منسوب کرکے کوئی بات کسی کو کہتا ہے تو میں تو اس کو گا اگر تم میں سے کوئی اس کو بچا نہیں سکتا کوئی تعمیری کام نہیں آ سکتی تمہارا یہ خیال کہ کوئی اس کی پشت پناہی بھی تھا ان کے والد اعتراض کرتے ہیں انگریز ان کی پشت پناہی بھی تھے اس لیے یہ بچ گئے انگریز اس سے بڑھ کر دے خدا کہتے ہیں کہ کوئی نہیں بچا سکتا جو میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے الصلاۃ والسلام نے اس آیت کے حوالے سے اس کے بعد فرمایا یہ بتایا کہ یہ دلیل بہت عام ہے صلی اللہ علیہ وسلم پر عملی طور پر یہ سب ہوئی آپ نے فرمایا میں خدا کی طرف سے ہو اس کے بعد 23 سال تک آپ کے بھائی کو دنیا کے سامنے پیش کرتے رہے آپ کبھی طور پر زندگی پا کر وفات پائی آپ نے جھوٹے ہوتے تو خدا 23 سال تک مہلت نہیں دیتا اس سے آپ نے یہ استدلال فرمایا کیونکہ اگر اس بات کو تسلیم نہ کیا جائے تو پھر غیر مسلم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن کو جہنم کی سب سے زیادہ عرصہ تک ابو دعوے کر کے خدا کی طرف گویا منسوب کرکے زندہ ہے اس لیے یہ کوئی بات نہیں ہے ہوسکتا ہے وہ بھی جو کہتے ہیں نبی اکرم کے بارے میں وہ بھی غلط ہو گئی  یہ کیسے ہو سکتا ہے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کو خود پیش فرمایا ہم آتے ہیں اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کر کے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتی ہونے کے برابر 23 برس تک جو زمانہ وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ رہا ہے بے نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے سود کے خلاف ثبوت دے دیئے 500 روپے دے دوں گا اور کسی کو یہ مجال نہیں ہوئی کہ اس بات کی اس چیلنج کو قبول کرتا ہے بہت سارے الامان ہے سابق میں بھی یہ اصول کو تسلیم کیا ہے کہ جھوٹا نبی یعنی کوئی شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ جھوٹا ہے وہ خدا کی طرف سے بھی پانے والے ہونے کا دعوی کر کے تیس تک زندہ نہیں رہ سکتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس معاملے پر رکھ لیجئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معیار ہے پھر اس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو عالم الغیب ہے عالم الغیب اللہ ہی وزیر والا غائب ہیں احد الا من ارتضی من رسول ابھی ہیں اور کثرت سے ہونا بھی ہے جس کو نبی اور رسول کا کہاں جائیں وہ اللہ تعالی صرف رسول نبی پر ظاہر کرتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت سی پیش بریانی جن کا پورا کرنا آپ کے بس میں نہیں تھا ساری پوری ہوئی اور اس قدر سے پوری ہوئی اور ہو رہی ہوتی چلی جارہی ہے کہ اس کی بنا پر ماننا پڑتا ہے کہ یہ انسانی کاروبار نہیں ہے یہ خدا کی طرف سے جو فرشتہ ہے خدا اس کی پشت پر کھڑا ہے اس کے فرشتے اس کی تائید کر رہے ہیں اور وہ خدا کی طرف سے ایک سچا مدد دیتے ہوئے یہ باتیں بتا دیں اور ناظرین کے سامنے ہم یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو بھی دعا فرمائی آپ نے جو بھی تحریرات تحریر فرمائی ہے وہ کوئی ایسی دھمکی چھپی بات نہیں ہے آپ سب کے لیے موجود ہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہیں الاسلام 22 جماعتیں آفیشل ویب سائٹ ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کی کتب روحانی خزائن کے نام سے 23 جلدوں میں موجود ہیں جو بھی آپ نے تحریر فرمایا ہے وہ دنیا کے لیے موجود ہے آپ خود تحقیق کرنا چاہیے کو دیکھنا چاہئے پرکھنا چاہئے پڑھنا چاہیے اور کریں اور یہ بھی نہایت دلچسپ بات ہے کہ جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کے کلام کو پڑتا ہے وہ بے شک مخالف کیوں نہ ہو اختلاف لیکن آپ کے کلام اور آپ کی تحریر کی جو خاصیت ہے اس کو پہچاننے سے محروم نہیں ہوتا اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوتا ہے کہ یہ کلام انسانی طاقت سے نہیں لکھا جا سکتا بلکہ اس میں اللہ تعالی کی تائید و نصرت بھی شامل ہے اگلا سوال لے کر میں عبدالسمیع خان صاحب کی طرف چلتا ہوں اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عبداللہ خان صاحب سمیع خان صاحب سے ہماری بات ہو سکے گی اس چمن میں کوئی نہیں مجھے لگتا ہے کہ لائن ڈراپ ہو گیا موجودہ ساتھ اسلام علیکم عبدالسمیع خان صاحب فرمائے اب بھی خان صاحب اگلا سوال ہمارے بھائی مرزا دانیال صاحب پاکستان سے کر رہے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں سوال یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ابھی تک حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہ تو یہودیوں کو قتل کیا ہے اور نہ ہی غزوہ ہند ہوا ہے تو پھر مرزا صاحب کو ہم کیسے سچا جانے بے بات بڑی دلچسپ تھا اس کا تعلق دراصل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سے ہے میری جماعت کے دو گروہ ہیں جو ان کے ساتھ یار اور دوسرا گروہ وہ ہے جو مجھے اپنے مریم کے ساتھ ہوگا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ اس سے مراد موجودہ ہندوستان نہیں ہے اس سے مراد وہ سارا علاقہ ہے جس میں پاکستان ہندوستان بنگلہ دیش کا طالبان افغانستان کا بھی آہستہ آہستہ شامل ہے یہ سارے کے سارے وہ علاقے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہند کے علاقے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے دراصل اس کے ساتھ وہ قسم کے روابط ہے ایک وہ پہلا میں وہی آتا زمانہ ہوگا جب ہندوستان میں اسلام تلوار کے ساتھ اس وقت میں سیاست کا زمانہ تھا ظلم و ستم کو ختم کرنے کی خاطر اور مسلمانوں کو تحفظ دینے کی خاطر اللہ تعالی اس کی روح کو جنت کی بشارت دیتا ہے اگر وہ ہے جو مصیبت میں مریم کے ساتھ ہوگا اس سے تو یہ صاف طور پر والا مسیح بن مریم بھی ہندوستان میں آئیں گے کیونکہ دونوں ایک ہی لڑی میں بند ہو گیا ہے ایک ہی درخت کیا گیا لگتا ہے یہ ہو چکا ہے جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں حضرت عثمان کی ہجرت اور کے زمانے میں اول اسلام پہنچا لڑکوں کے لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قمر کا واقعہ ہوا ہندوستان کے راجہ میں وہ نظارہ بھی دیکھا تشریح طور پر اور اس میں اپنے بچے کو بچا کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبول کرے اور وہ بیٹا لیکن راستے میں فوت ہو گیا اور اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کون سے سال میں ہوا ہندو راجاؤں کی شرارتوں کی وجہ سے ہندوستان پر حملوں کا آغاز کیا گیا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی بعد میں تفصیل کے لیے فتوحات کا آغاز ہوا فلم پاکستان میں پھر اسلام قائم ہوگیا صوفیانہ عارفانہ ہندوستان میں اسلام کو پھیلایا اور وہ اکثریت مسلمان ہوئیں لیکن ایک ہزار سال تک مسلمانوں میں تیری بہن ہندوستان پر حکومت اس کے بعد دوسرا واقعہ ہے جس کا تعلق دیہات میں قلم ہے اور ظفر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب وہ آئیں گے سارے جہاں میں خوف ہو جائے گا جمع کرتے ہیں کہ مسلمان اسلام کے زمانے میں وہ حالات پیدا ہوئے ہیں جس میں جہاد میں حصہ ملا ختم ہوگیا اور نسیم وکی اور اسلامی تشخص کو بھی فرمائی یہ حکم سن کر جو بھی لڑائی کو جائے گا کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا تاریخ پر نظر رکھنے والے قرار کرتے ہیں جس سے 100 سال میں جہاد کے نام پر کوئی بھی تاریخ کامیاب ہو مانا احمدانی جنگوں کا خاتمہ المقتدر تھا اور جہاد میں رونق افروز ہونا تھا تو دوسرا گروپ فرمایا کہ میری امت کا عظیم الشان گروہ ایجنسی کے ہوا ہے جمشید مریم کے ساتھ ہوگا اور تفصیلی دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا اصلاۃ وسلام کا گروہ ہے جو کل میں جہاد کر رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں کی بات کی ہے جس نے فرمایا تھا کہ اس کے بعد وہ بالکل برف کے پہاڑوں پر بھی چل کر جانا پڑے اور ہم جس کا جہاد پہ سیاست کے ذریعے ہوا تھا وہ اب عالمگیر شکل اختیار کر چکا ہے جب دیہات میں لکھ کے ذریعے نفاذ اسلام کی جماعت ساری دنیا میں چل رہی ہے اور اسلام کے غلبے کی جس کے مطلب یار یہ گواہی دینے پر مجبور ہے کہ سارے والا ماہ گئے سب نے اٹھا لی ہے اب ہو کر رہا ہے ہوگئے اور دشمن کو شاعری الیکٹرانکس اسلام کا بول بالا کیا جا رہا ہے اور یہی علاج زکام کا علاج پر بھی کیا گیا بارہا تم سے متلعق مسلمانوں کے ذریعے جہاد جاری ہے اور انشاء اللہ تعالی اسلام کے آخری لمحے تک جاری رہے گا اللہ تعالی ہمیں اس کام کے لیے توفیق عطا فرما جی بالکل بھی خان صاحب اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور یہ پروگرام بھی اسی بات کا تسلسل ہے اسی حکم کی اور اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ پروگرام جو اینٹی انٹرنیشنل پیش کرتے ہیں یہ بھی دراصل حضرت امیر المومنین سیدنا امام حسن حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی رہنمائی میں آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ بھی اس جہاد کا ایک حصہ ہے اس وقت مجھے اسکرین پر کافی سارے نام نظر آرہے ہیں منیر احمد صاحب ہم ان سے اس کا ثواب بھی مل گیا ہے عائشہ صاحبہ ملیشیا سےنادیہ خالق صاحب حربوں سے اور مبارک احمد صاحب ہیں انڈیا سے تقریبا آدھے گھنٹے کا وقت باقی ہے کوشش کریں گے کہ آپ کے سوالات کو اس پروگرام میں ضرور شامل کریں یہ اگلا سوال میں مذکور صبح آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں وہ میرے سامنے نام لکھ الراشدہ چوہدری نام ہے بہار اگر میں نام غلط لینا ہو تو پلیز سوال آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں کینیڈا سے سوال ہے وہ سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جو شعر ہے کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی اور اس کی وضاحت کر دیں کچھ اچھا بات یہ ہے کہ خان جو ہے وہ سب سے زیادہ اپنے آپ کو خدا تعالی کے حضور بات کو اپنی مناجات کرتا ہے اور جو خدا تعالی کے حضور انسان دعائیں کرتا ہے اس میں عاجزی اور انکساری اپناتا ہے دیکھنے انسان سجدے میں جاتا ہے تو خدا تعالی کے بلند ہونے کا اقرار کرتا ہوں اور نبی جو ہیں وہ تو ہر لمحہ خدا تعالی کے غائب ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ خدا تعالی کے حضور جھکے تاکہ خدا تعالی کے فضل پر نازل ہوتے چلے جائیں گے وہ اطلاع ہوئی حالات نوح علیہ السلام نے فرمایا ربی انی مغلوب فانتصر یا خدا مجھ کو تو برباد کیا ہے میری مدد کر دل کے قریب تھا خدا تعالی کو اپنی مدد کے لیے پکارنے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا ساری تکلیف وہ لے رہے تھے سارے مسائل برداشت کر رہے تھے یہ یقین تھا کہ خدا مجھے بچائے گا ایک موقع ایسا آیا ہے تو خدا تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارتے ہوئے آپ نے کہا اور بری بات لکھی گئی ہے اے میرے خدا اے میرے خدا مجھے چھوڑ کے نہ جانا تیرا بندہ ہوں تیرا محتاج ہوں مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی جو دلی جذبات تھے جو آپ کی خدا تعالی کے ساتھ محبت راز و نیاز کی باتیں تھیں ان باتوں کو اس شعر میں بیان کی ہے کہ کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں میری حیثیتوں کے جیسی ہے انسانوں جیسے میں نہیں ہوں بس آپ کی جائے نفرت مخالفین سے نفرت کرتے ہیں انسانوں کی آپ لوگ اسے عار محسوس کرتے ہیں وہ مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں تو مجھے نہ چھوڑ دو سعدیہ حضرت مسیح موعود فرام کا انحصار لیکن اعتراض کیا جاتا ہے وہ اعتراض اس رنگ میں نماز اپنے آپ کو ذلیل کر کہہ رہے ہیں ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ شعر جو ہے یہ حضرت داؤد علیہ السلام کا شعر ہے اور یہ شعر زبور میں درج ہے نامہ قدیم میں اور باب 22 ہے اور آیت نمبر اس کی ہے جہاں پر حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ شعر اپنے لیے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پیارے ساتھی ان کے نبی ہیں ان کے شعر کو ریفریش کی اردو زبان میں میں اردو جو جنگل میں کس کے ساتھ موجود ہیں زبور باب 22 آیت نمبر 62 کہتے ہیں این ہوم لوٹا mean in english of مین اینڈ سپائسی پیپل اس کا اردو ترجمہ یہ ہے پر میں تو کیڑا ہوں انسان نہیں آدمیوں میں انگشت نما ہوں یہ لوگ میری طرف انگلی اٹھاتے ہیں اور لوگوں میں حقیقت تو یہ بعینہٖ وہی شیر ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام نے خدا تعالٰی کے حضور خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کو حاصل کرنے کے لئے پیش کرنے کے لئے کیا کوئی نبیوں کی سنت ہوتی وہ کیا اللہ تعالی سے راز و نیاز کرتے ہیں پتہ حضرت ایوب اسلام کا ایک ایک بار جو تفسیر کبیر امام رازی کی یہ ہے اس میں لکھی ہے وہ کہتے ہیں اللہ تعالی کو مخاطب کرکے انا عبد ذلیل انسان کے نبیوں ہر نبی تو باہر بہت اعلی مقام پر ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرنے میں تو عام انسان بھی خدا تعالیٰ کے حضور عاجزی و انکساری کے ساتھ داؤد علیہ السلام نے یہ بھی تو بیان فرمائی ہے ہمارے لئے رہنمائی فرمائیں ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے داخل ہوں ہزاروں سال میں اگلے سوال کی طرف چلتے ہیں ہماری بہن عائشہ ملیشیا سے سوال کر رہی ہیں اور یہ شائبہ ہوسکتا ہے اور تعلق رکھنے والے دیگر ہمارے بہنوں اور بھائیوں کا بھی سوال ہو ہم یوم مسیح موعود کیوں مناتے ہیں یوم مسیح موعود کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح موعود علیہ الصلاۃ و السلام کا یوم پیدائش نہیں ہے 23 مارچ کو ہم یوم مسیح موعود کے طور پر مناتے ہیں یہ وہ دن ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق زمانے میں مسیح موعود کے ذریعے سے مشال جماعت کی بنیاد ڈالی گئی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس زمانے کے امام مہدی اور مسیح موعود تھے اللہ تعالی کے حکم کے ساتھ بیعت کا سلسلہ شروع فرمایا باقاعدہ طور پر ایک جماعت کی بنیاد رکھی ان شرائط کو پڑی ہے جن کی طرف اپنے لوگوں کو اور ان مشاہدات کو اشتہارات کو پڑی ہے جس میں آپ نے بتایا کہ اس کی غرض و غایت کیا ہے بیٹا فرمایا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ طایفہ متقین جو ہے اس کی بنیاد ڈالی جارہی ہے متقیوں کی ایک جماعت تیار ہوں اور وہ اتنی بڑی تعداد میں ہوں اس کثرت سے ہوں کہ گویا ایک عظیم دریا کی طرح ان کا وہ سلسلہ چلے کاروان جو ہے وہ چل رہا ہے اور اس کا ایک آسان جو ہے وہ پھر دنیا پے اور ایک طرف اللہ کی محبت میں بڑی اور دوسری طرف بنی نو انسان کی خدمت میں آگے بڑھنے والے ہو ٹوم وسیع معاوضہ اس لیے مناتے ہیں کہ ہم اس اللہ تعالی کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کریں میں مسیح موعود اور امام مہدی کو مبعوث فرمایا جنہوں نے اسلام آباد کی بنیاد رکھی اور جن اغراض اور مقاصد کے لیے آپ نے یہ جماعت قائم فرمائی اور مقاصد کو ہم یاد کریں ان کو ہمیشہ سامنے رکھی آنے والے نئے احمدیوں کو بھی یاد دہانی ہوں جو پرانے ہیں ان کے اندر نسلوں کو بھی یاد دہانی ہو اور بڑوں کو بھی یاد دہانی ہوں کہ وہ اپنے ان مقاصد سے ادھر ان کی توجہ قرآن کو ہمیشہ سامنے رکھیں تاکہ ہمارا اثر و مقاصد کو پورا کرنے والے ہو جن کے لئے جماعت کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اللہ کے فضل و کو یاد کریں اس نے ان کو یاد کریں جو اس آیت کی برکت سے اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد قائم ہونے والی خلافت کی برکت سے ہم وہ سارے فیوز حاصل کرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ جماعت اللہ کے فضل سے انہیں راہوں پر گامزن چائے یوم مسیح موعود چاہیے اور خلافت ہوں یہ دراصل کے ایام اس لیے مناتی ہے کہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیا پوری ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ تعالی سے خبر پا کر ہمیں بتایا تھا وہ باتیں عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئی ہیں اور ہم شکرانے نعمت کے طور پر اور اپنے آپ کو یاد کروانے کے لیے ایام بناتے ہیں اور یہ بات بالکل واضح کر لینی چاہیے نہ ہی کسی کا یوم پیدائش ہے نہ یہ کسی کا یوم وفات ہے اور نہ ہی اس کا کس کس طرح کے نام سے کوئی تعلق ہے جو عام دنیا اس طرح کے آیا مناتی ہیں اگلا سوال لے کر میں عبد اللہ صاحب کی طرف چلتا ہوں صاحب السلام و رحمۃ اللہ علیہ عزیزامین کو کہتے بھی ہیں یہ بات درست ہے کہ ہمارے آج کے پروگرام اور آیندہ پروگراموں کا ٹوپک تو یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد اور ضرورت ہے زمانہ یعنی آپ کی آمد زمانے کے عین مطابق ہوئی ہے لیکن سوال مختلف نوعیت کے بھی آ جاتے ہیں نئی محمد صاحب ہیں جو ایسے ہمارے بھائی وہ ایک بنیادی نوعیت کا سوال پوچھ رہے ہیں وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو یعنی جو روحانی خزائن کا ذکر کر رہے ہیں تو اس جلدوں میں موجود ہیں اسی سے زائد کتب ہیں ان کو پڑھنا کس ترتیب کے ساتھ چاہیے اس بارے میں ان کی کچھ رہنمائی کردیں مثال ہے اگر تم سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالی سے کے اصول کوئٹہ کے قریب کتب لکھی ہیں میں ٹھیک ہوں کیا کر سکتے ہیں مختلف ادوار ہیں ان سے جس میں لکھی گئی ہیں جس میں مسلمانوں کے لیڈروں کو ہندوؤں کے لیڈروں کو سکھوں کے لیڈروں کو مخاطب کیا گیا ہے اور وہ اس زمانے کے رواج کے مطابق منطق اور فلسفہ اور اس قسم کے لوگوں اور ان کی اس لحاظ سے بھری ہوئی ہیں جو آج کی کتاب کے فضل سے آپ نے جماعت احمدیہ قائم فرمائے اور جس طرح اس بات کو اپنی جماعت کی بنیاد رکھی اور آپ کے سامنے والے آپ کے ماننے والے آپ کے دعوے پر ایمان لانے والے پیدا ہو گئے تو پھر آپ کی کتابوں کی زبان بے قاعدہ سی شکلیں ہوتی گئی کہ آفس ہمارے بزرگوں نے خاص طور پر آسانی خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ سے لوگوں نے پوچھا فرمائے اب عوام بھی ہیں وہ زیادہ میں پرانے زمانے کی اردو میں عبور نہیں رکھتے ہیں اور اصطلاحات کو نہیں سمجھتے تو یہ مناسب ہے کہ آخری زمانے کی کتابوں کو مشک پہلے پہلے حقیقت وہی ہے جس میں معرفت ہے اور اس سے پہلے پھر رہے ہیں لیکن وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ کتاب جس میں آپ نے جماعت کے ہے فارسی کتابیں آتی جو ماہر نشانہ پر مشتمل ہیں واقعات پر مشتمل ہیں روحانی تربیت کے لئے بہت ضروری ہے نزول مسیح ہیں آپ کی اس کتاب میں تو عربی زبان میں ہے اور عربی زبان میں تمہیں کتابیں پڑھے گا اور میزبان جانتا ہوگا پھر میں سے بعض کے نام یہ ہیں یہ چیلنج کے طور پر مشکل ہے کہ ملزم ادریس نے ان کو حل نہیں کر سکے اور وہ بار بار میں کھیلتے ہیں اور مواد دیکھتے ہیں تو ہم یہ ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے نکاح ہوا کتاب میں ہے اور اپنا ایمان بنانا ہے تو ہم نے یہ بارہا سنا ہے اس کی مثال سربیا کے مسلمانوں سے خطاب فرمایا کے آخری زمانے کی کتابوں سے آپ کیسے ہیں اسلام کی کتابوں کا ذکر ہے برائے مہربانی ایک حصہ لیکر آخر کوشش کرو کہ میری کتابوں کو تین مرتبہ پڑھ کر اچھی طرح نوازشریف کو سمجھ سکوں جاتا ہے اور کچھ ہمیشہ کی طرح سے پڑے ہیں جس طرح کیا ہوا ہے اور اللہ کے فضل سے بہت بہترین نسخہ ہے تو اگر آپ کو بھی یہ توفیق ضرورعطا کریں انشاءاللہ اس دفعہ کتاب پرندہ ہیں اس میں الفاظ تم محسوس کریں گے انشاء اللہ جزاک اللہ آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعوت ہی لکھنے کی ترتیب تو لازمی بات ہے اور ترتیب تھی براہین احمدیہ سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے 1880 سے ایک رات کا آغاز کیا اس سے پہلے بھی آپ نے مختلف مضامین وغیرہ لکھے اور یہ سلسلہ آپ کی وفات تک جاری رہا تو مختلف مواقع پر خلفاء احمدیت نے بھی اس بارے میں ہماری رہنمائی کی ہے ہے ایک اور بڑا بنیادی نوعیت کا سوال ہے میں آپ سے اس پروگرام میں کرنا چاہتا ہوں موجودہ زمانے کے جو حالات ہیں اس زمانے کی جو ترقیات ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے اور یہ کس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل بنتی ہے مسیح علیہ السلام نے متعدد جگہ پر اپنی کتاب میں بیان کی ہے حضرت بیان فرماتے ہیں دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تھا دین کی تکمیل کا دور تھا کا دور تھا اور بہر حال اس زمانے میں وہ ایجادات و وسائل موجود نہ تھے کہ کثرت کے ساتھ لوگوں تک پیغام پہنچ پاتا ہاں یہ ٹھیک بات ہے کہ وہ پہنچا حضرت امام مہدی علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو دور تھا اس بارے میں میں بھی احادیث میں بھی کہ اس دور میں ایسے سامان مہیا ہو جائیں گے جس کے ذریعہ سے اشاعت اسلام جو ہے اس کی تکمیل بھی ہو جائے گی السلام نے بیان کی ہے کہ یہ جو دور ہے یہ دراصل میاں شاہد آیت کا قرآن کریم کی وہ آیت ہے جس کے بارے میں مفسرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور وہ کہتے ہیں جس میں سورہ میں بھی ہے اور گائے کے پتّہ کے آخری حصے میں بھی ہے وہ جلدی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ اس نے اپنے رسول کو بھیجا کہ ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ تاکہ وہ اس دینی اسلام کو باقی دنیا کی جتنی ادیان پر غالب کر دے کرین نے تفسیر ابن جریر کے مصنف ہیں وہ کہتے ہیں کہ آئندہ خروج مہدی اظہار الدین ہوگا کہ جو ادیان پر اسلام کا غلبہ ہو جائے گا یہ امام مہدی کے ساتھ تنبیہ اس کا ظہور ہوگا اسی طرح سے تفسیر جامع البیان جلد 29 میں بھی اسی آیت کے پیسوں کی آیت کے تحت لکھا ہوا ہے کہ جعلی کا نزول عیسی بن مریم کو یہ کام ہوگا کے نزول کے وقت ہوگا کہ اسلام کا جو ہے وہ گریباں تمام ادیان پر ہو جائے میں اس قسم کی ایجادات کا ہونا ضروری تھا کہ اشاعت کے کام جو ہے وہ سہولت ہوتی مثلا قرآن کریم کی جس سورت میں رہے سورہ انفطار اور آخری پاروں میں کثرت کے ساتھ یہ پیشگوئی مشکور ہیں کہ جب وہ دور آئے گا تو اس دور کے اندر صحیح ہے پھیلا دیئے جائیں گے ابھی دیکھیں کہ آج سے پہلے دس سال پہلے کتاب کی کیا شکل تھی آپ کی کیا شکل ہے پرنٹنگ پریس پے ہاتھ سے لکھے جاتے تھے آپ نے پرانے مطبع خانے ہیں یہ تو پیچھے رہ جاتی ہے انٹرنیٹ پر کتاب موجود ہے ہر چیز موجود ہے کمپیوٹر کا دور ہے تو جس کثرت کے ساتھ اس دور کے اندر صحیفے پھیلائے جارہے ہیں کہ پہلے کبھی نہیں ہوا اور یہ اظہار الگ دین جو ہے باقی ادیان پر غلبہ ہے وہ ہوتا ہے اس وقت ہو ئی ہو سکتا تھا جب یہ ساری سہولیات موجود ہوتی ہے پھر نہیں آنی سواریوں کا ذکر ہے وہ علی شاہ وقت قرآن کریم کے الفاظ ہے کہ جب ان کو چھوڑ دیا جائے گا نہیں جائیں گی انہوں نے بھی اپنی ایک حدیث میں اس بات کو بیان کیا مسلم میں درج ہے لیکن فل الحال کیا جائے گا ابھی دیکھے ہی حاصل نہیں پیش گوئی کر رہے ہیں چودہ سو سال پہلے یہ کہا جائے کہ ان تمہارا میں نظریہ ہے جس کے ذریعے یہ چھوڑ دی گئی وہ لوگ حیران و پریشان ہو جائیں گے نہ کہ ایک ہی میرے پاس ذریعہ ہے جس کے ذریعے سے نقل و حمل کرنا ہے ایک دوسرے کو منتقل ہونا ہم یہاں پر ایک مضمون ہر ایک بات کی ہے جو فرماتے ہیں حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ نمبر 276 لکھی ہے فرماتے ہیں ایام حج میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف اونٹنی پر سوار ہو وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لیے تیار ہو جائے تب اس سفر پر یہ صادق آئے گا آج پچھلے چند سالوں میں دو تین سالوں میں اب مکہ سے مدینہ کی طرف ریل کا آغاز ہو چکا ہے اور لوگ سفر کر رہے تھے تو مسیح علیہ السلام نے ان ایجادات کو اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر لیا حسن علیہ السلام کے دور میں جب فون کرنا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو اپنی صداقت کی دلیل بیان کرتے ہوئے نظمیں کہی ہیں اور مقصد کیا بیان کیے آواز آرہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈ لو کو دل سے نہ جدا یاد آتے ہیں ان کی ایجادات کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کھیل تماشہ ہو بلکہ ہاتھ کے لئے دین کو تکلیف دینا نا چاہیے استعمال ان کا یہ بالکل ٹھیک میں کیمرے کی بات آئی تو جب حضور کی تصویر بنوانے کا وقت آیا تو کثرت سے حضور کی طرف مائل ہوئی تھی پھر صاحب نے یہ سوچ کر کہ کیا اثرات ہوتے ہیں جو لوگوں کا چہرہ دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ یہ تیرا چہرہ ٹوکا تو حضور نے اس وجہ سے اس بنا پر تقسیم کی جائیں اور خدا تعالیٰ ہم بھی ہے عشق الہی وسیم ہوتے ہیں ان شاء اللہ اس کا چہرہ دیکھ لو اس کے نور خدا تعالیٰ کا یہودیوں کی نشانی پہچانا نہیں ہے اس زمانے میں ایجادات کا اور رینجرز کے مختلف ذکر تھا اور پوری ہوئی پھر انشاءاللہ کی ہے صداقت کی دلیل ہیں اور آپ نے خود ہی چیز اور اب جب ہم عملی طور پر دیکھتے ہیں اس ٹرین پر سفر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں وہ جگہ جہاں گائے اونٹ ہوا کرتے تھے مکہ سے مدینہ تک آپ سفر کرتے ہیں اور آپ کو ووٹ شاذو نادر ہی نظر آتا ہے تو کس آپ کا دل حمدوثنا سے بھر جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان فرمایا وہ لفظ لفظ بات پوری ہوئی ہے پہلا سوال جو میرے سامنے ہے وہ ہمارے بھائی فراز احمد صاحب کی طرف سے ہے جو فیصل آباد پاکستان سے کر رہے ہیں وہ یہ کہتے ہیں میں اسے یہ کہہ رہا ہوں کہ باہر کی دفعہ سوال کی بی سی بن جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ یہ کہتے ہیں کہ جو نبی ہوتا ہے وہ شاعر نہیں ہوتا تو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کیونکہ آپ نے شاعری کی کتابیں کیسے ہو سکتے ہیں میوزک رو از مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہیں فرمائی سچ اور حقیقت پر مبنی بہت پاکیزہ مضامین ہیں جو آپ کے منظوم کلام میں موجود ہیں ان میں اسلام کی فضیلت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ تعالی کی محبت اس کی توحید کے لیے غیرت اور مخالفین اسلام کو چیلنجز ہیں اور تربیتی لحاظ سے بہت سارے مضمون ہے دوائیاں مضامین ہیں اور شعیوں کو چیلنجز ہیں کہ اوہائیو ادھر رائے حق دیکھو آپ نے فرمایا ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی نہیں دینے محمد سونا پایا ہم نے تو یہ ایک موضوع کلام ہے لیکن اس کو شاعری نہیں فرماتے اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مرد ہی ہے اور موثر لوگوں پر ایک موضوع کلام جو ہے وہ بہت اچھا اثر پیدا کرتا ہے اس سے آپ یہ طریقہ کوبھی اپنایا ہے اور رسیدیں ہیں آپ کے اندر صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں اسلام کی فضیلت کے بیان میں جن جو جس کرتا ہے اور آپ کے بارے میں قرآن کریم میں ذکر ہے کہ مخالفین کہتے تھے کہ یہ تو شاعر ہے اللہ نہ تھا وہ بھی شعر آمنہ اور شیر آنے سے شیئر نہیں سکھایا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شیر نے کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پڑا کے النبی الاعظم نہ بنو عبدالمطلب اور دو میں پڑھا گیا وہ موقع پر بھی اور ان کے منہ پر بھی جیسا کہ حضور نے بھی یہ خطبے میں اس کی وضاحت فرمائی تھی عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غزہ میں عید کے موقع پر پڑھا گیا موقع پر بھی بیان فرمایا اور اس کا حوالہ بھی موجود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا اور گرمی بھی بہت ہی موقع ہے کہ جب کے موقع پر آپ کی انگشت مبارک پر زخم آیا تو آپ نے فرمایا کہ اے اللہ اس بونڈ میں تھی وفی سبیل اللہ مالقیت یا سوائے اس کے کہ کیا حکومت ہے جس میں ہے اور جو کچھ تو ہوا ہے خدا کی راہ میں ہوا ہے تو شیر کا جہاں تک تعلق ہے یہ موضوع کلام لیکن قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ آپ صرف شاعر نہیں تھے اب شاعر کس کو قرآن کہتا ہے قرآن کریم میں فرماتا ہے شاعر کی تعریف قرآن نہیں معاف فرما دیں المطر فی المنام فی کل واد یہیمون ولا یحزنون شاعر تو وہ ہوتے ہیں جو بس ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں جسے وہ ہوائی باتیں گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ان کا عمل اس کے مطابق نہیں ہوتا دیکھنے کے بعد دل کو بڑے بڑے شاعر مشرق کو پتا نہیں کیا کچھ کہا جاتا ہے والا جوش پیدا ہوتا ہے دینی غیرت ہوتی ہے اسلام کے لئے ایک جو ہے دل میں بڑے جذبات پیدا ہوتے ہیں لیکن اگر ان کی اپنی زندگی کا مطالعہ کریں تو اس میں بہت فرق ہے تو شاعر تو ایسے لوگ ہوتے ہیں اور اس پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کیا فرماتا ہے کہ وہ شاعر نہیں تھے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا جو منظوم کلام ہے اس کو بھی پڑھ لیجئے وہ بھی آپ بھی شاعر نہیں تھے وہ نہایت پاکیزہ کلام ہے جو آپ نے لکھا ہے اس کے مطابق زندگی تھی اور خدا کی محبت میں ڈوبا ہوا اس لئے آپ کے اوپر شاعر کا لفظ استعمال کرنا یہ غلط بات ہوگی آپ کے کوئی بھی منظوم کلام ایسا نہیں ہے جس میں وہ خیالی گھوڑے دوڑائے گئے ہو یا اور شفا باتیں بیان کی گئی ہو یہ ایسی باتیں ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو محض خیالات کی یہ لفظوں کی ایک جیسے ہی کھیلتے ہیں شاعر لوگ ایسی باتیں نہیں ہے اور وہ نہایت عرفانہ کلام ہے اور دلوں پر اثر کرنے والا ہے کلام ہونا یعنی با وزن کلام ہونا یہ تو اور قرآن کریم میں بھی یہ تھی دل پر ہوتا ہے تو آپ لوگ مذاق مذاق اڑانے کے لیے کہتے ہیں شاعر ہے حالانکہ قرآن کریم جو ہے وہ شاعرانہ کلام نہیں بلکہ صداقت پر مبنی کلام ہے اور اس میں بھی بعض آیات ایسی ہیں جن کا اگر دیکھا جائے تو شعر کے جو معروف بحریں ہیں ان کے مطابق میں واقع ہے ان الباطل کان زہوقا اگر دیکھا جائے اور موزونیت ہونا آپ وہاں سے شیئر نہیں کہا جا سکتا آپ جو معروف شعر کے اوزان ہیں ان کو بھی دیکھا جائے اس موضوع سے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے نثرکے علاوہ نظم اور قصیدے بھی فرمائے اور فنی کیا کہ میں شاعر ہوں اور نہ ان معنوں میں جو کرانے کے لیے شاعر کی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے وہاں پے بھی قرآن کریم نے ایک استثناء فرمایا ہے مومنوں کا اور مسیح موعود علیہ السلام تو امیرالمومنین تھے زمانے کے امام تھے اور آپ کے کلام میں ٹانگ جلوہ گر ہے کچھ نہ کہ عام دنیا داروں کی طرف سے شاعری شکریہ حافظ مسعود صاحب آپ کا بھی بہت بہت شکریہ عبدالسمیع خان صاحب جو ہمارے ساتھ رہے گا نا سے ان کا بھی بہت بہت شکریہ اور خاص طور پر نازیوں سا میں آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ میں بھی اسکرین پر دیکھ رہا ہوں ہمارا واٹس ایپ نمبر جو ہے وہ بہت مقبول ہے اور لوگ ہفتے کے دوران بھی ہیں اس نمبر پر سوالات بھیجتے ہیں آپ اپنا یہ سلسلہ جاری رکھیں انشاءاللہ آپ کے سوالات کو اپنے پروگرام میں ضرور شامل کریں گے نادیہ خالد صاحبہ کا انداز کر دیا مبارکہ ہے احمد صاحب ہیں آپ کا سوال بھی ہم ضرور ملیں گے اور اسی طرح اور بھی ہمارے بہن اور بھائی یہ سوال کر رہے ہیں آج کے پروگرام کا وقت اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے جاتے جاتے حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کی بات پر ہی اپنے پروگرام کو استعمال کریں گے آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا بلکہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کا دعوی ہے کہ مجھے خدا تعالی کی پاک اور متحرک دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی و بیرونی خطرات کا حکم ہو اللہ تعالی ہم سب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائے اور اس بات کی توفیق عطا فرمائے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مصداق بننے والے وجود کو جان پائی اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے اگلے پروگرام تک کے لئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا قدیم دل سے ہے خدا میں ختم لغت

 27 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: