Rahe Huda – Musleh Maood Khalifa II Mirza Bashiruddin Mahmood r.a – Ishqe Muhammad pbuh




Rahe Huda – Musleh Maood Khalifa II Mirza Bashiruddin Mahmood r.a – Ishqe Muhammad pbuh

Rah-e-Huda – 15th February 2020 – Qadian India

ہم تو رکھتے ہیں ہم مسلمانوں کا دیس دل سے ہے خدا میں خط عمل سلسلی دل سے ہے خود ہی میں ختم المرسلیں استعمال لی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آج 15 فروری 2020 ہفتہ کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام راہ خدا کا قادیانیت علماء سے پروگرام راہ خدا کی جو سیریز ماں کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اس کا آج ہمارا یہ تیسرا ایپیسوڈ ہے جو اس وقت ہم آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ہیں کے تعلق سے ہمارے ناظرین جانتے ہیں کہ یہ ایک لائیو پروگرام ہے اور انٹریکٹیو ڈسکشن پروگرام ہے جس میں ہم جماعت احمدیہ کے عقائد اور اس کی تعلیمات کے حوالے سے بات کرتے ہیں ہم اپنی سٹوڈیو ڈسکشن کے ساتھ ساتھ اپنے مشاہدے کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہیں ٹیلی فون لائنز کے ذریعے سے اپنے ساتھ جوڑتے ہیں اور ان کے سوالات سنتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے اس پروگرام کے دوران ہمارے مشاہدے کے سوالات کے جوابات بھی اسی پروگرام کے ذریعے سے ان کی خدمت میں پیش کیا جائے تو ناظرین ہمارے ساتھ اگر آپ اپنا رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطے کی وجہ مختلف سہولیات موجود ہیں تلخ لائن کے ذریعے آپ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے سوال تک پہنچا ٹیکس میسج صرف ایک میسنجر ایم ایس کی سہولت موجود ہے جن سے استفادہ کرتے ہوئے آپ اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں ملنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کی تفصیل میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت آپ اپنے ٹیلی ویژن سکرین پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے جانتے ہیں کہ قادیان دارالامان سے پروگرام راحت فتح کی سیریز ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اس میں ہم ایک عظیم الشان پیشگوئی پیشگوئی مصلح موعود کے تعلق سے بات کر رہے ہیں اور حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب جو اس پیشگوئی کے مصداق ہیں اور جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ ہیں جو مسئلہ موجود ہیں ان کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں گزشتہ دو ایپیسوڈ جنہوں نے دیکھا ہو گا وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پہلے پیسوڈ میں ہم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت القبلہ کے آئینے میں اس کا تفصیلات آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں اور دوسرے پیسوڈ میں جو خدمت قرآن کی توفیق اللہ تعالی نے آپ کو عطا فرمائی تھی اس نے بات کی ہے اور آج کا ایپی سوڈ میں صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا جو پہلو ہے جو حضرت مسلم اور لڑکوں کی سیرت کا ایک بہت ہی عمدہ اور حسین پہلو ہے اس کو روشناس کرنے کی اور اس کے متعلق کچھ تفصیل آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے آج کے ہم وزن پر گفتگو کے لیے جو علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ کروا دیتا ہوں مگر محترم مولانا زین الدین صاحب حامد ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں مکرم و محترم مولانا محمد امیر کوثر صاحب دونوں حضرات ہمارے پروگرام رہا تھا کہ قرآن 15 ہیں عبدالرزاق پروگرام خیر مقدم کرتا ہوں ناظرین کرام مسلم اور کوئی عام پیش گوئی نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس میں دراصل اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و شوکت اور آپ کی صداقت و عظمت کا اظہار فرمایا ہے مسلم عورت کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں اور اس کو پڑھتے ہیں تو اس میں حضرت مصلح موعود کی ایک خاص خوبی یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار اور تہذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان کے لیے اس پیش گوئی میں ایک کھلی نشانی رکھی گئی ہے ایس حوالے سے ہمارا حوصلہ معذرت مسلموں رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کا جائزہ لیتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کا جو عشق تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اور آپ کے اعلی و ارفع مقام سے دنیا کو روشناس کرانے کے لیے حضرت مسلم رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات ہیں وہ ایک بے نظیر اور بے مثال خدمات ہیں المسلمون کی اہمیت کو جاننے کے لیے جب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو حضرت محمد مصطفی صلی جہاں پر امام مہدی اور مسیح موعود کی آنے کی خبروں میں محمدیہ کو عطا فرمائی ہے وہاں پر امام مہدی کی بیان فرمائی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ جزو ایولہ مستقبل میں جس اللہ تعالی اسلام کی خدمت کے لیے مسیح موعود اور امام مہدی کے طور پر محفوظ کرے گا وہ شادی بھی کرے گا اور اس کے ہاں اولاد بھی ہوگی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس حوالے سے پیشگوئی فرمائی ہے تو یقینا ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو آنے والا مسیح موعود ہے اس کی جو شادی وہ بھی عظیم الشان پیش خبریوں عظیم الشان برکتوں والی شادی ہوگی اور اس کے ہاں جو اولاد ہوگی وہ بھی ایک معجزہ کی صورت میں اس کے ہاں اولاد ہوگی اور اس اولاد کو بھی اسلام کی عظیم الشان خدمت کی توفیق عطا کی جائے گی جس کے نتیجے میں میں خاص طور پر امام مہدی کی شادی اور اس کے ہونے والے ولادت کے تعلق سے خبر دی ہے کہ اس حوالے سے جب ہم پیشگوئی مصلح موعود کا جائزہ لیتے ہیں اور اس میں خاص طور پر اہل علم کے اعلیٰ و ارفع مقام کے حوالے سے بات کی گئی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھلی نشانی جو ہے وہ اس پیشگوئی کے ذریعہ سے عطا کی جائے گی چنانچہ جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کا اس حوالے سے مطالعہ کرتے ہیں اور اس کو پڑھتے ہیں اعلیٰ و ارفع مقام سے دنیا کو روشناس فرمایا ہے آپ کی کتابوں کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں خاص طور پر دیکھا جاتا ہے صرف قرآن میں نبیوں کا سردار والا حصہ ہے جس میں آپ نے ان کی سیرت کو بہت ہی عمدہ رنگ میں بیان فرمایا ہے خاص طور پر اس میں مستشرقین کی طرف سے ان کی سیرت پر بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں اس کی وضاحت کے ساتھ اور تاریخی حقائق اور دلائل کے ساتھ پیش فرمائے ہیں جس سے ہمیں معلوم ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کتنا پاک ہے اور کسی عظیم الشان حضور صل وسلم نے اپنی زندگی جو ہے وہ امت کے لئے ایک اصول کے طور پر دنیا کے لئے رہنمائی اصول کے طور پر آپ نے میں پیش فرمایا ہے اس کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی اور بھی بہت سی تصانیف ہیں دنیا کا محسن آپ کا ایک لیکچر ہے اس کے علاوہ تفسیر القرآن جو آپ نے تحریر فرمایا ہے بیان فرمایا ہے اس میں بھی آپ نے ایسے ایسے مقامات پر جہاں پر گزشتہ مفسرین حضور صلی اللہ وسلم کی سیرت اور آپ کی شان میں ایسی گستاخانہ باتیں باہر یک اور ہاتھ سے سلام کا جواب مقام ہے اور قرآن مجید کی شان ہے اور قرآن مجید میں حضور صل وسلم کی سیرت بیان کی گئی ہے اس کو بہت ہی عمدہ رنگ میں دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے یہ دراصل رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اور آپ کے سپرد یہ فریضہ اللہ کی طرف سے سونپا گیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی و ارفع مقام سے دنیا کو روشناس کرانے کی آپ کی ایک ذمہ داری تھی جس کو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اللہ تعالی کے فضل سے اور اس کی تائید و نصرت کے نتیجے میں اس فریضہ کو اپنے بڑی ہیں سنہری ایک مرتبہ پھر میں اس مختصر سی تمہید کے بعد آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ آج کے پروگرام میں عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کے اس پہلو کے تعلق سے بات کریں گے جس میں آپ نے کے حوالے سے آپ کی زندگی کی جوت تجارب ہیں اور ان وسلم کے جو عشق اور آپ کی سیرت پر ہونے والے اعتراضات کو جس طرح آپ کیا ہے اور اس کے جوابات پیش کیے ہیں اس کے تعلق سے ہم آپ کی خدمت میں تفاصیل پیش کریں گے اس موضوع پر آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمیں ضرور ٹیلی فون کال کریں ہمارے ٹیلیفون انصاف کے لئے اس وقت سیکٹر ہمیں بڑی خوشی ہوگی آج کے سوٹ میں گفتگو کا آغاز محترم مولانا محمد حمید کوثر سے کرنا چاہوں گا سب سے پہلے جیسا کہ ہمارا موضوع ہے اور مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ تم سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت سے ایسے تجارب اور ایسے واقعات ہمارے ناظرین کو پیش کریں جس سے حضرت مصلح موعود کی یہ صفت اس کے رسول کی جو ہے وہ واضح ہو جائے رحم انیسویں صدی کے نصف آخر میں برصغیر ہندوستان اور پاکستان میں انگریزوں کی مستحکم ہوگی پاکستان تو تھا ریٹ ڈریسز جتنا بھی تھا یا انگریزوں کی حکومت مستحکم ہوگئی اب ایک طرف ان کے ہاں سلطنت اور حکومت کے اوپر کا قبضہ تھا اور دوسری طرف ان کی یہ کوشش تھی کہ ہندوستان میں عیسائیت کو مستحکم کیا جائے اور اس کے لیے انہوں نے جو ان کے بس میں تھا وہ سب کچھ کیا بے شمار پیسہ خرچ کیا بے شمار موت تیار کئے پادری تیار کیے اور وہ یہاں پر آئے ہندوستان میں انہوں نے شروع کی سب سے بڑی روک ایک اسلام تھا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے بنیاد کتابیں کہا شادی کرنا شروع کی اور زبردست قسم کے جو جارحانہ اطلاعات ہوسکتے تھے وہ انہوں نے لکھنے شروع کیے امام علی علیہ السلام نے اپنی حیات مبارکہ میں ان کے جواب دیے انسان نے بڑے ہی دردمندانہ انداز سے پادریوں کو مخاطب دیکھو تم مجھے ذاتی طور پر جتنا نقصان پہنچانا چاہتے وہ پہنچا دو میرے بیوی اور بچوں اور میرے دوستوں کو نقصان پہنچانا چاہتے وہ پہنچا دو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ جھوٹ اعتراضات یہ سلسلہ بند کرو یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے اس موقع پر کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا سانپوں سے جنگلوں کے بیابان خونخوار جانوروں سے زنا کر سکتے ہیں لیکن اس سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر اگر تم جھوٹے الزامات لگائے گے وہ ہماری برداشت سے باہر حضرت مسیح ان کی وفات کے بعد شاید ان مخالفین نے یہ سمجھا کہ شدت کے ساتھ ہمارے ایک رکاوٹ تھی جواب دیا جاتا تھا اس کا سلسلہ رہ جائے گا بہرحال حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے زمانے میں وہ دفاع جاری رہا مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں اس جدت پیدا ہوگئی اور آپ نے دفاع کا ایک نیا رخ اختیار کیا ایک دو میں سالہ دیتا ہوں ممبئی 27 دہاکے میں ان دنوں میں عیسائیت کا رد کرتے ہیں کرتے تھے ان کو دیکھ کر ایک اور فرقہ یا ہندوستان میں تیار ہوا وہ کچھ ہندو صاحب تھے برہمو سماج سے کو دوسرے فرد کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتراضات ایسے حق برداشت نہیں ہو سکتے تھے مجھے ایک شخص کا راج فل اس نے ایک کتاب لکھی رنگیلا رسول مسلمان تو مسلمان ایک شریف کو نفسیاتی مسلم ہندو سکھ بھی اس کو نہیں پڑھ سکتا تھا شدید ردعمل ہندوستان میں شروع ہوگیا اس کے بعد ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا رسالہ نکلتا ہے رسول کے انسان کے خلاف مضامین لکھنے شروع کر دیا اور اس سے بھی مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوئے دو مقاصد تھے ایک تو یہ کہ مسلمانوں کو رسول اکرم صل وسلم سے بدظن کیا جائے غیر مسلم اسلام سے کچھ ہمدردی رکھتے ہیں ان کے سامنے رسول کریم صلی وسلم کی وہ تصویر پیش کی جائے کہ ان کے اور حضور کے درمیان ایک بری پیدا ہوجائے اور تیسرا اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اشتعال میں آگے کچھ ایسی کاروائی کرے جس سے وہ قانونی گرفت میں آگیا رنگیلا رسول کا جو ہے مصنف تھا راجپال اس کو لاہور میں الدین نامی ایک شخص نے قتل کردیا اس سے ان کو اور زیادہ اشتعال پیدا کرنے آگیا دیکھو ہم تم ہی کہتے تھے کہ مسلمان جو ہیں وہ ظالم ہے مسلمان جو ہیں وہ سب ان کے اب حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ساری صورت حال دیکھ لیتے وہ عشق وہ محبت جو آپ کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا کیک کا تھا زبان عام طور پر کرتے تھے ان کی محبت رسول کے انداز ہے آج تک وہی ہے کہ قوالیاں گانا میں مدینے جاؤں مدینے آؤں مدینے رہو مدینے یہ لو مدینے کی محبت لیکن رسول کے اوصاف پر جارحانہ حملے ہو رہے تھے اس کے جواب دینے کی ان کو نہایت ہی نسل کا تھا کہ کس طرح سے اس کا مقابلہ کیا جا سکے السلام علیکم رضیہ سلطانہ مسلمانوں کی رہنمائی کی دو طریقے ہمارے پاس ہے ایک تو قانونی چارہ جوئی قانونی طور پر وہ طریقہ اختیار کریں کہ یہ سراسر کو بند کیا جائے صاحب کو سلام اور رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہمیں سب ارے عشق ہماری محبت کا تقاضا رسول کے مطابق زندگی ہے کے جوابات تیار کریں لوگوں کے دلوں میں جو حضور صلی یہ نفرت رعایت اور دوری پیدا کرنے کی کوشش اس کے بالمقابل ہم ان کے دلوں میں محبت پیدا کرے کہ وہ قانونی کاروائی کی جائے قانون قانون اپنا کام کرتا ہے مضمون لکھا تھا ایک سال کی یا کچھ سزا ہوگی اور وہ جیل میں جانے لگایا جو بھی تھا اس سے اپیل ہوئی وہ بھی چھوڑ دے دیتے ہوئے محترم اور اللہ تعالی نے اس موقع پر اپنی محبت کا اظہار جو 16 کیا وہ آپ کے ان خطابات اور تقاریر سے ظاہر ہوتاہے باہر ہوتے ایک لمبی باتیں اس سب کو چھوڑتے ہوئے جب اس شخص نے ورتمان والے نے یہ مضمون لکھا اور اس کو سزا ہوئی تو حضور نے اس وقت اپنا ایک جواب دیا اور حضور نے فرمایا میرا دل غمگین ہے میں اپنے آقا اپنے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانے کو قرار نہیں دیتا اور لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے یہ ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا یہ قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت قرار نہیں دیتا دنیا کی موت کو بھی اس کی تھی دیتا میرے لیے خوشی نہیں دنیا کے دنوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت نکال کر آپ کی محبت کا عمل کر یہ ہے اصل محبت اور عشق کا تقاضا اس وقت ضرورت ہے رسول اکرم صل وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کرنا محبت کرتا ہی کرتا ہے مگر دشمنوں کے دلوں میں محبت پیدا کرنا یہ سب سے بڑا کام تھا اور یہ حضرت موسی ٰاور رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا آپ نے صرف یہ مضمون لکھنے تک تھی آپ کی یہ کوشش کا اختتام نہیں رہا بلکہ آپ نے اس کے لیے عمل آپ نے یہ مقرر کیا کر سال میں ایک دن ایسا منایا جائے یا ایسے پروگرام بنایا جائے جس میں غیروں کو بلایا جائے اور غیروں کو کہا جائے وہ رسول اللہ وسلم کی محبت میں مضامین لکھے اور اس کے لیے اپنے تین عنوان مقرر کئے آپ نے فرمایا سب سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات جو مخلوق خدا پر ہیں کیا جائے دو ہزار سولہ سال کی سیرت طیبہ کے اوپر کام ہونا چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو تعلقات دوسروں کے ساتھ بارے میں تقاریر ہونی چاہیے اور جو آپ کی قربانیاں تھی اس بارے میں تقریر اس پر آپ نے فرمایا کہ ایک ہزار مقرر اور ان کو اس بات کے لئے تیار کیا جائے اسلام کی سیرت کے یہ پہلو خصوصیات اور صفات ہے اگر کیا جائے مضامین لکھے جائیں کیا آپ نے یہ تحریر فرمائیں کہ غیر مسلم جو سنجیدہ طبع ہے ان کو بھی اس میں شریک کیا جائے کہ وہ بھی اس پر مضامین لکھیں اور آپ نے اعلان کیا کہ مضامین لکھنے والوں کو ہمارا نام بھی دیں گے اسلام کے زمانے میں بھی یہ بات تھی کہ وہاں پر ہنس ہنس کر کیا کہ برداشت دیر جی نے ایک سیرت کی کتاب لکھی تھی اور حضور نے فرمایا تھا یہ ہر گہر میں ہونی چاہیے رضی اللہ تعالی عنہ اسی طریق پر آپ نے بھی یہ تحریر کی کہ سنجیدہ طبع جوار ہندو ہیں سکھ عیسائی ہیں اس کو بھی یہ بات پہ آمادہ رضامند کیا جائے کہ وہ رسول اللہ صلی وسلم کی سیرت کے بارے میں مضامین لکھے تعریف کریں اور لوگوں کے سامنے آئیں اور حضور کی سیرت کو نمایاں کرتے لوگوں کے سامنے پیش کرے یہ سارا پروگرام تھا اور اس پروگرام پر جمع سے عمل کیا وہ سے مقررین اس کے لئے تیار ہوئے بہت سے صحافی اس کیلئے تیار ہوئے اور ان کو جماعت کی درسی مواد فراہم کیا گیا اور انہوں نے اس کی روشنی میں بہت اچھے مضامین لکھے بہت اچھے لیکچر دیئے جس کی وجہ سے عوام الناس کو یہ پتہ چلا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رسول اکرم صاحب کے دل میں مخلوق خدا کی کتنی ہمدردی تھی کتنی محبت تھی حضور صلی وسلم کی کتنی قربانیاں دیں مخلوق خدا کے لئے وہ سب کے سب ان مضامین میں آیا اور پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آپ کے سامنے بہت سے اور پروگرام پیش کیے کے تحریک جدید کو جاری کیا اور بہت سے مضامین کا طریقہ شروع کیا اور پھر اس میں حضور نے فرمایا بڑے دلی جذبے کے ساتھ جو حضور کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تھی آپ یہ فرماتے ہیں اسی غرض کے لیے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اسی غرض کے لیے میں تمہیں کی تعلیم دیتا ہوں اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ رسول اللہ صلی اللہ بخت آج مسینجر چھینا ہوا ہے مسیح سے چھین کر وہ تخت محمد رسول اللہ سب کو دینا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تو خدا کے آگے پیش کرنا ہے بادشاہ تو دنیا میں قائم ہونی چاہیے بس میری سنو اور میرے پیش میری باتوں کے پیچھے چلو میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے میری یہ خدا میں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں تم میری مانو خدا تمہارے ساتھ ہو خدا سے ہمارے ساتھ ہو یہ رسول حضرت مسلم رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت تھی سیکس پک کسی نہ کسی طرح ساری دنیا میں جو سیرت ہے رسول اکرم صل وسلم کی وہ دنیا میں پھیلائی جائے اور لوگوں کے دلوں میں جوب کہ رسول کریم صلی لگ جائے اس کی جگہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت اور محبت اور شفقت جو ہے وہ ان کو سکھائی جائے اور سیدنا مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ کوشش کامیاب ہوئی اگر آپ اس زمانے سے لے کر آج کے حالات پر غور کریں گے یہ کایا ہی پلٹ گئی جس طرح اس وقت لٹریچر رسول کے عناصر کے خلاف لکھا جا رہا تھا وہ طریقہ ختم ہوا لوگ اس سے باز آئے اور خاص طور پر عام تو نہ صرف عوام جو ان مضامین کو پڑھنے لگے ان کے دل میں رسول اکرم صلی وسلم کی محبت اور تھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی اس کے ساتھ ساتھ حضرت مسلم رضی اللہ تعالی عنہ نے کرنے کے لیے رسول کی مثال کی محبت پیدا کرنے کے لیے امی اور ایسے خطابات کا سلسلہ تاکہ وہ اس بات کے لئے تیار ہوسکے کہ اگر کوئی مخالف رسول کے آنسو کس چیز پر کوئی اعتراض کریں تو وہ ہمارے افراد نے جماعت اس کو جواب دے سکے اور اس کے لیے آپ نے یہ جتنا سے بھرے ہوئے مضامین تھے جتنے اعتراضات میں بھرے ہوئے کتابیں تھیں زمانہ کتابیں آپ نے ان کا مدلل جواب دیا اور لوگوں کو سمجھایا کہ دوسروں کو اس کے جوابات کیسے دینے ہیں چنانچہ افراد کی جماعت نے اس کی کیا یہ تیری صورت حال کی محبت جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے ذہن میں تھی اور آپ نے اس کو عملی جامہ پہنایا اور اللہ تعالی کے فضل سے اس کے بہت سے سوالات ظاہر ہوئے خلافت سر میں تلاوت تراویح میں خلافت خامسہ میں وہی تربیت ہے جو آج تک کام آرہی ہے میں یا کسی جگہ رسول اکرم صاحب کے خلاف کوئی خاکے یا کوئی مضمون شائع ہوتا ہے جماعت احمدیہ سے اول میں کھڑی ہوتی ہے اس کے لیے اور بڑے منظم طور پر ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ رسول اللہ صل وسلم کی سیرت نہیں ہے یہ تم لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہو حضور صل وسلم کی حقیقی صورت وہی ہے جو آج اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خلفائے کرام نے پیش کی اور اسی کے مطابق یہی وہ عشق و محبت ہے جو افراد جماعت کے دل و دماغ میں قائم ہے اور حضرت اللہ کے بہت سے خطبات محبت کے متعلق اور انھیں کے اعتراضات کے دفاع کے متعلق موجود ہیں اور نہیں محبتوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے لہٰذا اب ہم اپنے مجاہدین کو موقع دیتے ہیں ان کی زلفوں کا سیٹنگ کریں گے ان کے سوالات بھی سنیں گے سب سے پہلے ہم بات کریں گے انڈیا سے ہی ہمارے ٹیلیفونک الرحیم قریشی عبدالحکیم صاحب ان کو اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہیں اور ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ انسان میری طرف آتی ہے آج کل یوٹیوب پر اہل سنت والجماعت اور شیعہ حضرات کے درمیان خلفائے راشدین کے انتخاب ایک دن تک کی بحث چل رہی ہے ہے ہے سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ اسلام میں اختلافات کا آغاز کی روشنی میں ہمارے اہل سنت و جماعت کی اللہ کی رہنمائی کریں ملا شکریہ یہ کتاب السلام ڈاٹ او آر جی میں بھی موجود ہے انگریزی میں اس کا ترجمہ ترجمہ موجود ہے آپ خود بھی ایسے دوست ہیں شیعہ حضرات ہیں وہ ہیں کال کرکے جو تاریخی حقائق ہیں وہ ان پر واضح ہو سکے تاہم اس وقت مولانا زین الدین صاحب ہم آپ سے درخواست ہے ان پر تو بہت ہیں تفصیلی گفتگو لیکن تم بہت صاحب کے ساتھ میں یہ عرض کرنا چاہوں گا یہ کام تو بنیادی طور پر ایک حدیث بیان کی جاتی ہے یہ حضرات کی طرف سے کیلئے کلین بین وسیع و موسی علیہ کا ایک وسیع ہے اس آپ کے بعد بھی جون کو ان کے جانشین ہوگا اور میرا وصی جانے والی ہے یہ حدیث دراصل شیعہ حضرات کی طرف سے بعد میں بنائی گئی ہے اگر ایسا نہ ہوتا چونکہ بنیادی طور پر یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا جو ہے وہ روحانی ہے یا جسمانی ہے لیکن ایک اقلیتی گروہ انعام ہے اگر اللہ تعالی نے ایک مشہور طور پر امن کے لیے جماعت مومنین کے لئے وعدہ فرمایا ہے علی آیا تے سورہ نور کی جس میں خلافت کا وعدہ دیا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ کی پیش گوئیوں کے مطابق اور قرآن مجید کی پیش گوئی کے مطابق خلافت کا نظام جاری ہوا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ خلیفہ خلیفہ اول اللہ تعالی ان کے بارے میں واضح تاریخی شہادت ملتی ہے کیا آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کی بات کی ہے اس کے علاوہ خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر بھی آپ نے بات کی ہے اور آخر میں غربت خلیفہ ابھی کے طور پر آپ منتخب ہوئے آپ ذیشان مقام پر فائز بھی رہے اگر شیعہ حضرات کی یہ حدیث صحیح مانی جائے کہ حضرت علی اصل خلیفہ بننے والے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ جنگ میں خلافت پر قبضہ کیا بالکل تاریخی واقعات اور شہادت کے خلاف ہے اس کی کوئی سند نہیں ہے سائل نے ذکر کیا ہے مسلمانوں کی جو معرفت الہی کتاب بی ایک لیکچر ہے اس میں کافی حد تک رہنمائی ملتی ہیں جس میں خاص طور پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جو نے روشنی ڈالی ہیں اور اس میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں شیخ عبداللہ بن سبا یہودی تھے لیکن اسلامی 20 مئی میں مسلمانوں کے بھیس میں مختلف جماعتوں کا دورہ کرتے رہے اور مسلمانوں کو خلافت کے خلاف ورغلا دے رہے ہیں اور بنیادی طور پر بنیادی کردار ادا کرنے والا شخص یہی شخص تھے اس کتاب کو پڑھنے والے پتا لگتا ہے باہر اتنا سمجھ لیجے کہ خلافت کوئی ایسا جسمانی انعامی جس کو چھینا جا سکیں بلکہ ایک روحانی انعام ہے جو ایمان اور عمل صالح کی شرط پر ایک مشروب رنگ میں اللہ تعالی جماعت وہ انگلش کی پیشگوئیوں کے عین مطابق خلافت کا نظام جاری رہا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلافت کے بارے میں اشارہ فرما چکے تھے مثال تو آپ نے فرمایا ابوبکر افضل علامت ملازمت کا سب سے بہترین افضل ترین شخص ہے کیونکہ عضو صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق جاری و ساری میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو کر تشریف لانے والے تھے اس طرف اشارہ فرمایا گیا باہر آؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہت ساری ایسی باتیں آپ کے ارشادات تھے جس سے یہ پتہ لگتا ہے یقینی طور پر پتہ چل جاتا ہے خلیفہ اول کے طور پر ایک صدیق رضی اللہ تعالی عنہ وحید فائز ہونے والے تھے اسی کے مطابق بھی مزہ بنگلہ دیش سے کو ٹیلی فون کر رہے ہیں عارف زمان صاحب ہمارے برعہدہ قادیان سیریز کر کال بھی ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ پروگرام میں شامل کرتا اور ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ الرحمٰن صاحب تم رحمۃ اللہ علیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرا سوال ہے غلاموں کا مسلمان اور کشمیری مسلمانوں کے لیے کیا خدمت کی ہے یہ اس کا وصال چاہیے مجھے ٹھیک ہے جناب بہت شکریہ محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے درخواست کروں گا بات یہ ہے کہ کشمیری مسلمان یہ اگر ہم اس کو ذرا تفصیل سے لینا چاہیں تو اس کے لیے اتنا وقت نہیں ہے اختصار سے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں کے ایک معاہدہ ہوا تھا اس کو امرتسر معاہدہ کہا جاتا ہے ڈوگرہ حکومت نے جموں اور کشمیر کو اس کے اوپر ایک قبضہ کیا ہوا تھا یہ سمجھتے تھے کہ یہ کشمیر اور جتنے کشمیر والے ہیں یہ سارے ہمارے کے غلام ہیں موسم اور رضی اللہ تعالی عنہ خلافت سے پہلے ایک دفعہ کشمیر گئے ایک واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا کہ مجھے اس روڈ لانا تھا میں نے دیکھا کہ میرا کچھ سامان وغیرہ ہے وہاں ایک بار آ جا رہی ہے اس کو ایک سپاہی جو ہے وہ ساری بارات کو لے کے آیا میرا سامان اٹھانے کے لیے یہ کس حد تک بچارے مظلوم ہے لاہور رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو انسان کے لیے یعنی بنیادی حقوق دلوانے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کو شروع کی اور آپ نے وہ طریقہ اختیار کیا جو کہ قانونی طریقہ تھا ایزی حکومت تک رسائی کی آپ نے اس کے لیے ہندوستان کے ساتھ لوگوں کی تک رسائی کی آپ نے اس کے لئے کشمیر کمیٹی بنائی یہ سارے کا مقصد جو بنیادی طور پر تھا وہ یہ کہ کشمیر کے لوگوں کو جو انسانی حقوق ہیں بنیادی طور پر پڑھائی ہے صحت ہے گھر ہے آزادی ہے نوکری ہے سرور عظمت ہے وہ سب کی سب ان کو بھی لے جائے اور ان کی یہ کوشش بہت حد تک کامیاب ہوئی اور ان کو وہاں کے ماجہ نے ابتدائی جو بنیادی حقوق کو ہم کو دیے اور اس کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے جب ان کی کتابیں دیکھیں ان مسلمانوں نے قوم کے لئے اتنا کچھ کر رہے ہیں اور ان کی کوششیں کامیاب ہوتی چلی جارہی ہے اور کشمیر والوں کو ان کے حقوق ملتے چلے جارہے ہیں تو بہت سے اور مسلمان کر کے وہاں داخل ہوگئے جنرل تشدد کی راہ اختیار کی اور سارے کا سارا ماحول جو ہے وہ بکھر گیا یاد تھی جو حضرت مسلم عورتیں اللہ تعالی نے کشمیر کے لوگوں کو غلامی کا جو ایک دور تھا اس سے ختم کروایا اور جو انسانی حقوق اور بنیادی حقوق سے وہ ان کو دلوائے اور اس کے بعد یہ تحریک جب دوسروں کے ہاتھ آگئی حضور نے کہا ہم تشدد والا راستہ اختیار نہیں کرسکتے اور حضور نے اس وقت اور یہ معاملہ یہ بنیادی طور پر تھا بعد وہ سیاست آگئی اور لیکن اگر اس وقت کشمیر کے لوگ اس طرح چلتے تو ان کو مزید حقوق مل سکتے تھے وہ ایک لمبی بحث کو یہیں ختم کرتے ہوئے اب یہ فلسطین کی بات نہیں کی رضی اللہ تعالی عنہ 924 میں یورپ کا شیر لے گئے میں آپ فلم مصرسےفلسطین گئے رہنماؤں سے اور وہاں کے لیڈر سے آپ سے ملاقات کی اور ملاقات کرکے حضور نے کہا جو حالات میں دیکھ رہا ہوں جو واقعات میں پڑھ رہا ہوں اور جو قرآن مجید اور احادیث میں ذکر آتا ہے یہ ہے کہ یہ تم جو تمہارا تم جو اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہو ابھی یہ انگریزوں کی حکومت ہے اور انگریزی تراجم زندگی گزار رہے ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہاں پر یہودی کو واپس آجائے گی جیسے ان کی سازشیں چل رہی ہے نہیں ہوا کیونکہ قرآن مجید میں ایک بات سورہ انبیاء میں واضح طور پر یہ بتائیں گے تو ختم ہے ممبا دراز کرے آمین یہ جو ارض مقدسہ ہے اس کے اوپر قبضہ جو ہے وہ اس ساعت مشروط ہے کہ ان اللہ اذا یا رسول کے بعد یہ سوال ہونگے وہ اس کے اوپر قابل رہیں گے ان کے پاس یہ زمین رہے گی اگر یہ زمین نکل گئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صالحین زمانہ میں باقی نہیں رہی جب تک وہ سلسلہ جاری ہے آپ یہ دیکھ لیں گے مسلمانوں کی تقریبا تیس پینتیس چالیس کے قریب حکومتیں ہیں اور تو اور ارض مقدسہ جو مقامات مقدسہ ہیں وہاں تک بھی ان کی کوئی رسائی نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے پہلے ظہور میں اور اب قرآن مجید میں یہ آبادیاں صالح نہیں بنیں گے جب تک یہ اللہ تعالی کی طرف رجوع نہیں کریں گے مامور زمانہ کو مانیں گے نہیں خلافت کے سامنے جھک جائیں گے نہیں مقدس کبھی بھی ان کو واپس نہیں مل سکتا بے شمار 70 سال تک ہو گئے ان کو کوشش کرتے ہیں یہ وہ سارے حقائق ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے ان کے خیر خواہوں نے کے ساری قوموں کے خیر خواہوں نے کے ان کو جنسیت کی تھی ان کو سمجھایا تھا مگر یہ قوم اپنے تکبر ضد اور ایک عجیب طرح کی کیفیت بنی رہی اور مسلم عورتیں ان کے حکم کو اور آپ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا جس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں چلے جائیں گے لہٰذا ایک اور ٹیلیفون کال رہیو کیسے مقرر محمد عبدالرشید صاحب ان کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہوئے ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ محمد صاحب بھائی صاحب مولانا اکرام آپ کے پروگرام بڑے شاندار ملک کے لیے پہلا سوال یہ ہے جی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے 1924 میں انگلستان میں اسلام کے بارے میں ایک گھنٹہ کی تقریر فرمائی تھی دوسرے علماء کرام کے کیا ردعمل ہے برائے کرم اس کی اور دوسرا سوال آج کا یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے سورۃ البقرہ آیت نمبر 214 پر تفسیر سعید نے تمام لوگوں کو امت واحدہ بننے کی تاکید فرمائی ہے کیا ہے میں فیس جمع نہیں غلط ہے برائے کرم اس کی بھی وضاحت فرما دیں تاکہ تبلیغ کے لئے آسانیاں و جزاکم اللہ انعامات کا سب سے درخواست ہے لندن سے سوال کر رہے ہیں ان کو تو زیادہ پتہ ہونا چاہیے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا جو کتابیں جلیل تھا وہاں پر رات تھے اس کے اللہ کے فضل سے بہت بڑے اثرات ظاہر ہوئے وہ تفصیل ساری تاریخ احمدیت میں موجود ہے اخبارات نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی موجود ہے احمدیہ سے دیکھ سکتے ہیں اور وہ بڑی آسانی سے دستیاب ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کو چوتھا احمدیت حقیقی اسلام کے نام سے چھپا ہوا ہے ارے الیکشن کو پڑھ لیں تو حضرت مسلم رضی اللہ تعالیٰ ان کی یہ کوشش تھی کے بارے میں جو غلط فہمی ہیں اور آپ میں پیدا ہوئی ہیں ان کا کسی طرح اور صحیح اور صاف اسلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو جس سے متعارف کروایا جس کی بنیاد رکھی اس سے دنیا کو آگاہ کیا جائے رضی اللہ تعالی عنہ کی کوشش تھی جس کے لئے آپ وہاں تشریف لے گئے تھے پیپر پڑھے گئے کتابیں پڑے گی لیکن سب سے زیادہ جو سراہا گیا وہ حضرت مسلم رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کتاب تھا حضور کی لہر تھا زمانے میں جن لوگوں نے یہ سنا تھا اس میں سے ایک کے پاک سے دونوں ہی لیکچرار سنے ہوئے تھے علیہ الصلوۃ والسلام کا اسلامی اصول کی فلاسفی کا کتابیں سنا تھا اس کے بعد یہ لیکچر بھی انہوں نے سنا تھا کی جو اسلامی اصول کی فلاسفی والا خطاب ہے اس کی جھلک واضح نظر آتی تھی ساری کی ساری باتیں تھیں کہ اس کے اثرات وہاں بہت زیادہ ہوئے جیسے اسلامی اصول کی فلاسفی کے ویسے ہی اس خطاب کے اخبارات نے اس کے بارے میں بہت وضاحت سے لکھا کا سوال ہے 214 عید کے بارے میں واحدہ بنانا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دنیا کے سامنے آئیں وہ انیس سو پانچ میں اپنے رسالہ الوصیت کے نام سے پیش کیا اس میں آپ نے دنیا کا ایک نظام کا خاص تھا اور اس کا نقشہ بیان کیا فرمایا اللہ تعالی نے مجھ کو اس لئے بھیجا ہے میں جو سعید رومی ہیں ان کو ایک جگہ جمع کر کے امت واحدہ بناؤ کے لیے حضور نے اپنا اپنا دور اور دور کی بشارت دی کہ میرے بعد خلافت کا سلسلہ چلے گا اور جس کے زمانے میں یہ سارے لوگ متحد ہوں گے اور بچے ہوں گے ہے کہ امت واحدہ بنانے کے لیے جمع آتی ہے اور کر رہی ہے مگر امت واحدہ میں وہی شریک ہوں گے جو اس عیدالفطر تو لوگ ہیں بہت کے اوپر ایمان رکھتے ہیں اور خلافت یہ چاہے وہ کوئی ہی ہو کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہوں جب تک وہ اس نظام میں نہیں شامل ہوں گے وہ امت واحدہ بن سکتے یہ جماعت احمدیہ ہے اللہ تعالی کے فضل سے 213 14 محبت کی پھیلی ہوئی ہے غالب و نسل کے لوگ اس میں شامل ہے ہر زبان بولنے والے لوگ اس کے اندر دیکھیے جماعت احمدیہ آپ کسی جلسے کو لے لے کا سالانہ پہلی یا پہلے جو روح میں ہوتا تھا اس کو لے لے قادیان کا لے لیں جرمنی کا لے لیں لوگ وہاں جمع ہو جاتے ہیں امت واحدہ کا وہاں ملے گا وعتصمو بہ حبل اللہ خلافت کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہوتے ہیں اور اللہ کے فضل سے وہ امت واحدہ بن رہے ہوتے ہیں اور یہی دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے گا انشاءاللہ یہ امت واحدہ بنتی چلی جائے گی اور اگر دنیا نہیں مانے گی اس کو تو پھر حضرت مسیح علیہ سلام نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہیں کیا کرے گا اور بڑے زور اور حملوں سے اس کی سچائی وہ زور اور حملہ کبھی بیماریوں کی شکل میں کبھی زلزلہ کی شکل میں کبھی آباد کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے جو اس امت واحدہ کے دائرے میں آتے چلے جائیں گے وہ انہوں حافظ غلام اللہ خضدار کی مضبوط قلعے میں شامل ہوئے اپنے آپ کو محفوظ کرتے چلے جائیں گے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہیں پھر ہم اپنے مجاہدین کی طرف آئیں گے تو مولانا عدنان صاحب ہم آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ کے عشق کے تعلق سے بھی ذکر میں محترم مولانا محمد کاشف چائے اشعار کا ذکر فرمایا تھا تو میں آپ سے اس حوالے سے تفصیل جاننا چاہوں گا کیونکہ یہ بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حالات سے محبت کا اظہار ہے تو اس حوالے سے اس کا کیا غلام حضرت مسلم اور اللہ تعالی عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو بہت سارے اوصاف میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ماشاء اللہ آپ ہم آہنگ نظر آتے ہیں ایک ہی کیوں نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اوصاف حمیدہ اور دیگر تمام اوصاف میں آپ کامل ترین نظر آتے ہیں یہ کہ حضرت علی نے آپ کو مسئلہ مسیح طور پر محفوظ فرمائے قرار دیا ہے مسلم ودل عطاری کی زبان پر یہ حکم جاری ہوا وہ المسیح الموعود مسئلہ وخلیفتہ کے میں مسیح موعود یعنی ان کا مسئلہ امامت کا مسئلہ اور آپ کا خلیفہ ہو آپ کی سیرت کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کی کتابیں دیکھ لے لے لے مختلف تقاریر دیکھ لیں تصنیفات دیکھ لیجئے کو تو عاشق رسول نظر آتا ہے مسیح موعود علیہ السلام نے بارہ فرمایا ہے کہ یہ جو عظیم الشان منصب آپ کا عطا ہوا ہے وہ عشق رسول کی وجہ سے آتا ہوا ہے کیونکہ ان سے آپ کا یہ کہاں جانا ہے کہ یہ ایک عظیم الشان مردہ شخص ہے جو اللہ اللہ کے رسول سے محبت کرتے ہیں تو اسی بنا پر اللہ تعالی نے اس زمانے کی اصلاح کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی عنہ کے اندر بھی یہ یہ وصف خاص طور پر عشق رسول کا واسطہ جو بہت دنوں سے جاتا ہے آپ کے ایک تو یہ کہ آپ کو آپ حضرت اقدس مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے فرزند ہونے کی وجہ سے بھی اور آپ کے ماحول خلیفہ ہونے کی وجہ سے بھی اور اس کے علاوہ و عظیم الشان پیشگوئی مصلح موعود کی پیشگوئی کے نام سے معروف ہے حضرت اقدس مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سارے محکمہ صفائی جناب کے اندر پائے جاتے ہیں اس کے رسول کی ایک مثال جو سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد ہے کیا پس منظر ہے کیوں حضرت سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا اعلان فرمایا ہے وہ ایک تصویر کے ساتھ میں بیان کرتا ہوں کہ وہ زمانہ وہ تھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سیرت کے خلاف آپ کی شان کے خلاف گستاخیوں کا بہت زیادہ پیار کرتا ہوں تو اس زمانے میں ایک کتاب شائع ہوئی ان دونوں کی طرف سے اس کا نام رنگیلا رسول سارا تو وقت مان کر کے ان دونوں میں ایسے مضامین دل آزار مضامین شائع ہوتے گئے اور اس کتاب میں بھی ایسا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس سیرت کو بگاڑ کر آپ کو ایک ایسے منسوب کی گئی تو پورے برصغیر ہند و پاک میں امن تباہ ہونے لگا اور اسی طرح جو ہندو مسلم کشمیر پر فرقہ وارانہ کشیدگی بہت زیادہ ضرورت تھی جو مختلف تنظیموں میں بٹے ہوئے مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے اس کا دفاع کیسے ممکن ہے کس طریقے سے ماحول کو اس کشیدگی کے ماحول کو فتنہ و فساد کے ماحول کو اور کس طرح تبدیل کر سکتے ہیں اس زمانے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے یہ تجویز فرمائی آپ نے سے وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر کیچڑ اچھالیں کی وجہ ہے کیا وجہ کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کے خلاف آپ کی شان کے خلاف اس قدر گستاخی کی جائے آخر کیا وجہ ہے کیوں نکالا کہ جب تک آنسو صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر نے کیا جائے امجد جانے کیا جائے آپ کی سیرت کے مختلف کرونگا عالمگیر ملک میں ہر جگہ پر کریا کریا بستی بستی ہر جگہ پر جب تک یہ آواز میں پہنچے تو یہ اس کا ازالہ ممکن نہیں اس کا اظہار ممکن نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ آخر یہ اعتراض کیوں کرتے ہیں کہ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ سے یہ خبر نہیں ہے بلکہ یہ شیئر بطور دلیل پیش فرمایا آفتاب احمد تو آپ تہ سور جاگن چڑھا ہوا ہو تو اس کے لئے تو کوئی دلیل کی ضرورت ہے تو سورج ہے کہ نہیں سورج کیا ہے سورج کا لںڈ اتنا ہی کافی ہے سورج کی دلیل ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم المقدس میں سے ہیں جن کے جن کے لیے کوئی ظاہری بیرونی دلائل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے صرف یہ ہے کہ باقی جو اندھے ہیں جو آپ کے دل کو اس کو آپ کے خلاف طرح طرح کی باتیں بیان کرتے ہیں تو ایک تو یہ کہ حضرت نے یہ تجویز پیش کی اور بہت زبردست کی بنائی کی وہ ہو جائے اس دفع بنتی ہے حسن دی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم اس آیت سے آپ نے اس بات پر متفق ہوں گالیوں کے بدلے میں گالی نہیں دیں گے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے خلاف اگر کسی نے مضمون لکھا ہے آپ کی صحت کو پامال کیا ہے اس کا مطلب نہیں ہماری طرف سے ویسے ہی اختیارات نہ آئے اور ان کے باقی جو مذہبی لیڈروں کے خلاف بات کی جائیں ایسا نہیں ہے ضرورت اس بات کی ہے وطن پہلوؤں کو خاص طور پر آپ کی قربانیاں ہیں آپ کے عالمگیر احسانات ہیں کیونکہ آپ رحمتہ اللعالمین بن کر آئے تو یہ ساری تفصیل منظر عام پر آ جائیں اس کے لیے آپ مولود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسے ہوتے رہتے ہیں لیکن آپ نے فرمایا سال میں کم از کم ایک بار ایک ایسے آج رات مقرر ہو جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو کو بیان کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں یہاں اس کے بعض اہم پہلو آپ نے فرمایا آپ نے فرمایا کے مختلف عناوین کا انتخاب کرنا ہے اور یہ تحریر ہے ہر جگہ پر آپ نے ایک تاریخ ہے اِبراہیم کا انتخاب کیا جائے جو سیرت النبی کے مختلف پہلو پر لیکچر دے سکیں اور جس نے جو بات اس میں قابل ذکر یہ ہے حضور نے یہ جو کرنے کے لیے غیر مسلم مسلمان ہونے کی کوئی شرط نہیں دی وہ شخص کو ختم کیوں دور میں حضور نے فرمایا کہ غیر مسلموں سے بھی مختلف ممالک میں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھی نہ صرف کے ساتھ ایسے جو غیر متعصب اور اسی طرح دانشور طبقہ ہے ان کو کہا جائے کہ سیرت کا مطالعہ کریں اور اس طرح سیرت کے متعلق فارم پر آکر تقریب بیان کریں تاکہ جو جو ماحول خراب ہوا ہے غیر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی ہے ہو سکے تو پھر آپ نے فرمایا کہ غیر مسلم لیگ کو تیار کیا جائے اور جلسوں میں صدارت کے لیے غیر مسلم دانشور طبقہ کو بلایا جائے اسی ایران فرمایا جو غیر مسلمانوں میں سے جو تقریر کے لیے آگے آجائیں گے آپ نے تقریر تیار کر کے بھیجیں گے ان میں سے اول دوم سوم کا انتخاب کر کے انعامات بھی دیے جائیں گے تاکہ ان کے اندر کی ترغیب ہو اور ان کے اندر احساس پیدا ہوجائے اور تیسری بار دور میں بنائے گئے اس کے بعد اسے اور مقررین کی تیاری کے لیے ان الفضل خاتمنبین نمبر کی شاید تم آئی مضامین شائع ہوئے اور پورے ملک میں یہ پھیلا دیا گیا اور اس میں اس نے فوائد ہوئے کیونکہ حضرت مولانا کے اعلان کے مطابق عظیم الشان جلسہ منعقد ملک میں ہر جگہ ہوئے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بیرون ممالک میں بعض ممالک میں یہ جلسہ منعقد ہوئی ہاں ایک طرف مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت والہانہ استقبال کیا گیا بہت ساری مسلم تنظیمیں غیر مسلم تنظیمیں ہندو تنظیمیں آگے آنے لگی اور دوسرے قسم کی سیرت پاک کے مطالعہ کرنے کے لیے آگے بڑھے اور دوسری طرف ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مسلمان کی بات تنظیمیں فن کا لمحہ کرتے رہے اور یہاں دکھ بزنیم پھیلائیں اور کہا کہ پس پردہ یہ دراصل قادیانیت کی تبلیغ کے لیے کوشش کر رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ جو عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے آپ کوشش کر رہے تھے یہ تجویز پیش کی اور آپ کی تجویز بہت کامیابی ہوگی اور اس طرح ایک تو یہ فائدہ ہوا کہ دشمنوں کی بہت ساری غلط فہمیاں دور ہو گئی اور اس کے کیا کیا فوائد ہوئے یہ بھی حیرت انگیز ہے یہ تھی کہ مختلف جو مسلمان فرقے جو عقائد و نظریات کے لیے اس سے بھرے ہوئے تھے جو ایک دوسرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی اس تحریک کے نتیجے میں اس تجویز کے نتیجے میں کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس آپ کی عزت کی حفاظت کے لیے کیا کیا جائے تمام اس ایک پوائنٹ پر آگے آجائیں حضور کی آواز بہت موثر تھی آپ کی تحریک بہت موثر تھی اور کثرت کے ساتھ ایسے لوگ آگے آئے مسلمانوں سے بھی سیکھو سے بھی عیسائیوں سے بھی جانیے اس سے بھی آگے آئے اور سیرت النبی کے مختلف پہلو پر تقریر ہوئی اور پورے ملک میں ایک ایسا اثر پیدا ہوا سادات تشدد کے رشتے دار کر رہے تھے وہ مختلف قسم مسلمانوں کے ایمان پر آپ کے خدا سوفساری فراست کے نتیجے میں آپ نے جولائی میں بیان فرمایا اس کے نتیجے میں وہ سارا ماحول اچھا ہوا پوری ہندوستان میں خوشی کا اور یکجہتی کا ماحول پیدا ہوا اور ایک تو ان جلسے کے لیے یہ فائدہ ہوا مختلف مختلف مذاہب کے لوگوں نے حضور کی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے دبیا گیا کیونکہ ایک تو بات فضول نہیں بیان کی بہت نکتہ کی بات ہے حضور نے فرمایا اگر مسلمان غیر مسلموں کو یہ مخالفین اسلام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اعتراض کرنے کی ضرورت کیوں ہوئی ہوتی ہے دنیا تبدیل فرمایا کہ چونکہ حضور کی مقدس سر تھے اس پر لوگ آگاہ نہیں ہے اس لیے اگر موسم کی سیرت کیا ہے اور عالم انسانیت کے لیے آپ کی خدمات کیا ہیں یہاں پہ دنیا پر اگر عام طور پر لوگوں کو پتہ لگ جائے تو کوئی کسی اعتراض کرنے کی جرت نہیں کرے گا اس کو پتہ ہے کہ بچے کو پتا ہے اور سسٹم کی صحت کیسی ہے اللہ علیہ وسلم حضور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی ان کی کاوشوں کے نتیجے میں یہ عظیم الشان تبدیلیوں کے اندر آ گئی اور ایک کے لوگ مختلف مسلمانوں کو حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر کرنے کو موقع ملا اس سے انکار کاوشوں کے نتیجے میں ایک تو یہ معلوم ہوا کہ ہندوؤں میں بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے غیر مذاہب کے لوگوں میں سارے کے سارے جماعت کے یہ اسلام کے صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نہیں ہے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کرتا تھا اور آپ کی سیرت مقدسہ کو کے آگاہی حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے تو ایک جلسے منعقد ہوا اس طرح جو 1948 کو مختلف قومی مختلف شہروں میں جلسے ہوئے قادیان سے میں بھی ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی نے خود زبردستی حافظ اب بھی فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو مختلف دنوں میں یہی خواہش کی جانے لگی کہاں سے جلسے تو بار بار ہونے چاہیے یہ ایک ایسی تبدیلی تھی جو غیر مسلم میں پیدا ہوئے مسلمانوں کی کوشش کے نتیجے میں کی طرح ملکی اتحاد پر بھی بہت اچھا اثر پڑا اور اس زمانے کے بہت سارے اخباروں نے آئینی باوجود اس کے بہت سارے مسلم تنظیموں کی طرف سے مخالفت کا سامنا تھا اور ہندو تنظیموں کی طرف سے مسلم حکومت کی طرف سے جو پیش کو یہ جو پلان بنائیں گے یہ اسکیم تیار کی گئی دراصل اللہ تعالی کی بنا پر پریس کلب تیار کی ہے تو اللہ تعالی کے فضل سے آپ کی کوشش بار آور ہوئی کامیاب ہوئی زمانے میں بوسٹر اخبارات نے متعدد اخبارات اس پر تبصرہ کیے جلسے کے بعد اس کے نتائج کے بارے میں اس کے فوائد کے بارے میں اس کے نتیجے میں جو مختلف مذاہب میں جو اتحاد پیدا ہوا اس کے بارے میں بھی اور ایک اور بات یہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کے جذبات بیدار ہونے لگے چوہے اتنا جو غیرت کے اندر جو تھے وہ بیدار ہونے لگی حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریر کے نتیجے میں آپ کے نتیجے میں اور سیرت النبی کے مختلف پہلوؤں پر مختلف احساسات کے نتیجے میں تو مختلف اخباروں نے مختلف سرمایا ہے تو وہ یا پڑھنے کا موقع نہیں ہے البتہ میں یہ تو بات کی طرف اشارہ کروں گا اللہ تعالی کی تائید و نصرت عظیم الشان مہم کے پیچھے کام کر رہی تھی اس لیے یہ تمام مخالفت کے باوجود یہ جلسہ کامیاب ہوتے رہے اور مختلف مذاہب کے لوگ اس میں شامل ہوتے رہے اور نمائندگان مسلمان کے بھی غیر مسلموں کو بھی نمائندہ نے اس میں اس میں ایک تو یہ کہ مختلف بھارت کے میں نے ذکر کیا ہے خاص طور پر اخبار مشرق اخبار خبر سلطان اسی طرح کشمیری اردو اخبار اخبار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مختلف تفسیریں کیے ہیں اور مختصر کرتے ہوئے ایک تو ایک ایک تب اس کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں سے بہت کامیاب رضی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ علم کی برتھ ڈے کے مسلم ہو تو اللہ تعالی نے پہلی بار یہ ایک ایسا تیار کیا جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مختصر تقریر آج ہم دیکھتے ہیں اتنے سال سے چل رہے ہیں کہ مختلف جو مسلم تنظیمیں بھی ایسے جلسہ منعقد کر رہے ہیں جس میں غیر مسلم کو بھی مدعو کیا جاتا ہے یہ دراصل مسلم میں ایک کے پاس پیش کرنا یہ حوالہ اور اتنے تبصرے شائع کیے دنیا کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہے ورتمان پرویا مقدمہ چلا آپ ہی کی جماعت نے رنگیلا رسول کے معاملے کو آگے بڑھایا علی خان جانے سے خوف نہیں کھایا آپ ہیں کہ پچھلے جناب گورنر صاحب بہادر پنجاب کو انصاف عدل کی طرف مائل کیا کیا مگر اس کے اس اس وقت ہندوستان میں جتنے پھر کے مسلمان نہیں ہیں انگریزوں یا ہندو یا دوسری قوموں سے محروم ہو رہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو بولا کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا کسی جماعت سے جمیعت سے محروم نہیں ہے تو انجام دے رہی ہے مشرق 22 ستمبر 1987 عظیم الشان کامیابی دراصل سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا عشق رسول آپ کی دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے ایک ٹیلی فون کال پر کو اس وقت ہم اپنے ساتھ پروگرام میں شامل کریں گے ان کا سوال نہیں کہ پاکستان سے مکرمہ نادیہ خالق صاحب ہیں جو اس وقت ہمارے ساتھ فون پر موجود ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عصمت اللہ جی اپنا سوال پیش کریں سورہ مزمل کی آیت نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انتخابات میں یوم علی رضی اللہ عنہ کی جگہ اگر تم نے انکار کیا کہ جوانوں کو خدا بنا دیتا ہے ہے برائے مہربانی درخواست ساری کی ساری وہ ہے اور آخری زمانے کی بہت سی پیشگوئیاں ہیں اس کے اندر ہوئے عذاب جس وقت آئے گا اس وقت یہ نوجوانوں کو بھی اڑا بنا دے گا بڑھا جس سے انسان ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا میں موت کے قریب ہوں تو وہ کیفیت ہے جو اس بیان کی جارہی ہے جو اس سورت کے اندر بیان کی جاری آگے اس کی تفصیل پوری ہے سمجھنے کے لئے آج کل کے حالات وہ چائنہ میں کرونا وائرس وغیرہ شروع ہوا ہے گئے کو کچھ ہی بارہ جو بھی صورت ہے دہشت گردی یہی ہے وہ خوف اپنی جگہ پر ذکر آیا ہے لگتا ہے تو تمہارے ہوش اڑ جاتے ہیں بھائیوں کا کرنے والے ہو اس سے اپنا تعلق رکھتے ہیں الف سے مطمئن ہوتی کرے گا اور وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کو ان آفات سے محفوظ رکھے اور اس کی مثال ابھی میں نے ایک سوال کے جواب میں دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں 19345 میں تھی اللہ تعالی عنہ انہیں وہ حافظ غلام اللہ خضدار کے جو دار میں رہ گیا کا کردار سے مراد ایک تو مسلمانوں کا یہ گھر جو قادیانی ہے اس کے علاوہ ہر احمدی کا گھر ہے آپ لوگ بھی ہو سکتی ہیں اللہ تعالی کیا وعدہ ہے کہ وہ اپنے یہ چاہتا ہے تو یہاں اصل میں ایک انتظار ہے ایک تنبیہ ہے کہ اس دنیا میں وہ واہ یا مرنے کے بعد آئے وہ بڑے بڑے نوجوانوں کے دل جو ہے وہ کتاب پانی کر دے گا اور ان کو بوڑھا کر دے گا قبل اس کے کہ وہ دن آئے اپنی اصلاح کی فکر کوئی آگے بڑھاتے ہیں اور محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے ہمارا اگلا سوال ہے جیسے کہ اس فلم کی سیرت پر ہونے والے مختلف اعتراضات مسلموں سے اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ہورہے تھے اس کے تعلق سے آپ نے بھی ذکر کیا اس کے علاوہ مستشرقین کے اعتراضات تھے تو مسلمانوں پر ظلم کیا انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں ان حالات کے ان اقدامات کے ازالہ کے حوالے سے اور شکوک و شبہات کی گالف کورس میں آپ سے اللہ تعالیٰ عنہٗ کے لیکچر و تحریرات اور تقریر کو انسان سمجھا تھا سے مکوانہ خان کو دور کیا ہے جو ان لوگوں نے اور ان شکوک کو دور کیا جائے ان لوگوں نے پیدا کرنے کی کوشش روپے ایک بہت بڑا اعتراض اور مسلمانوں کو بھی اس سے بدظن کیا جاتا ہے العیاذ باللہ نعوذ باللہ انہوں نے تلوار کے ذریعہ سے سارے کام کیے تلوار کے ذریعہ پر حکومت قائم کی اور بعض اس زمانے میں یا ابھی وہ جو حضور کے خاکے شائع کیے گئے اس نے تلوار ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے اور اس پر العیاذ باللہ ایک دہشت پھیلانے والے رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے پہلے یہ ظلم صرف ان کے جوابات دیئے کیا کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مگر وہ ایک اشتہاری اگر وہ ستر اور مس ترانہ حالات پیدا نہ ہوتے تو حضور ایسا نہ کرتے مالدیپ تیرا ساتھ نبی اکرم صلی اللہ وسلم مکہ میں رہے تنگ آ گئے تو اللہ تعالی نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی آپ یا سرمد اب سوال یہ ہے کہ کتاب کو آپ نے خیرباد کہہ دیا اور یہ کہتے ہوئے خیرباد کیا کہ اے مکہ کی بستی تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں مگر تیرے رہنے والے مجھے عدیدہ میں آ گئے مسلمان مدینہ میں آ گئے سکون سے بیٹھ جاتے ہیں وہ خطرہ سمجھنے سے وہاں سے چلا گیا کہ انہوں نے جنگ اور حملہ کی تیاریاں شروع کیں اس کا جتنا فوائد ہوں گے وہ جنگ میں خرچ ہوں گے اس وقت اللہ تعالی نے اجازت دی کہ ان مظلوموں کو اپنے دفاع کے لئے ہم یہ جنگ کرنے کی اجازت دیتے ہیں کیا ہوگا ایک آدمی نے مسلمانوں نے اپنا وطن چھوڑا دوسری جگہ کے ہاتھ پر ہے پر حملہ کرنے کی کیوں تو ان کے اوپر اسی حالت میں اللہ تعالی نے مجبور ان کو اجازت اس حقیقت کو حضور نے بیان کرنے کے بعد حضور نے پھر کچھ مثالیں دیں عاصم کا وجود ایک رحمت ہے اور حضور نے مثال دیے ڈاکٹر اور طبیب کی ایک جگہ کی ایک مریض کا اس کا بادشاہ اسے پاؤں کاٹنا پڑتا ہے یا ہاتھ کاٹنا پڑتا ہے یا گردے نکالنے پڑتے ہیں اس خوف سے کہ جو یہ حصہ پاؤں کا یہ گرین سے بیمار ہے اگر یہ ٹا نہ گیا تو سارا جسم تباہ ہو جائے گا ڈاکٹر جب کاٹ رہا ہے جاکے کوئی انسان دیکھے اور یہ کہیں گے ڈاکٹر کتنا ظالم ہے تو سوائے اس کے کہ اس کی نادانی پہ ہنسا جائے اور کیا کیا جا سکتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی مظلوموں کو بچانے کے لئے رہنے کا حق دینے کے لئے دفاعی جنگ لڑنی پڑیں ایسا لگتا تھا کہ یہ منحصر نہیں ہے آپ کے بتایا کیوں کہ یہ کتاب ہندوستان میں لکھی گئی تحریروں سے مثالیں دیں رام چندر جی زرعون سے لڑائی کی اس لیے کی کہ عیار اون وہ رام چندر جی کی بیوی سیتا ویٹ مگر یہ غیر اخلاقی حرکت ہے آندھیوں سے جنگ نہ کرتے اس کو سبق نہ سکھاتے ہوتی یہ انسانیت کے پھر حضور نے دو سے مثال دی کرشن جی مہاراج تھے مہابھارت لیں کس لیے ‏honda 125 olx دونوں میں ایک معاہدہ ہوا تھا کسی دوسری جگہ جاکر ہے اور معاہدہ یہ ہوا کہ بارہ سال تھی اس کے بعد جب تم آؤ گے تو تم کو یہ حکومت حوالے کر دی جائے گی اور میں تو نااہل نہیں مانتے اسماعیل کا وعدہ کیا جاننا میں ہم نہیں مانتے میں نے کہا کہ اگر یہ ماما ہے یہ جو معاہدہ ہوا اس کی اور ظالموں کو ان کے ظلم سے نہ روکا گیا تو دنیا سے امان ہو جائے گا اور کرشن جی جو ان کا ساتھ دیا آپ نے آدم کو کہا کہ میرے سامنے جو اچار یہ بہت سے رشتے داروں میں کیسے چلاؤ پھر شہید ہوئے تھے کی بات کہی تھی اور ملا انصافی کے خلاف تم نے تلوار نہ چلائیں یہ ظالم دنیا سے اتنی ہولناک جنگ ہوئی خط لکھوں کا تعلق اچھا پھر وہ علیہ السلام کے بارے میں تورات میں آتا ہے اور جنگ کرکے جب تیرے قبضہ میں کچھ چلا جائے تو وہاں پر تو سارا گاؤں پر قبضہ کرلیا اور تو بچوں کا راولیگا وہاں امن پسند ہے امام کا قول موجود ہے آیا ہوں بلکہ میں تو تلوار چلانے کے السلام علیکم باجی کو اپنی زندگی میں اس کا موقع نہیں ملا اب یہ ساری باتیں اس طرح کی ہیں جو یہ بیعت تھے اپنے اپنے زمانے میں ان کے ساتھ یہی ہوا کہ انسانیت اور معاشرہ استاد بیمار تھا بعض حصے آپریشن کر کے کاٹنے کی ضرورت تھی اگر نہ کرتے تو یہ رغبت نہ ہوتی بلکہ یہ ایک مصیبت اور رحمت ہوتی رسول اکرم صلی وسلم نے جن وہ اس وجہ سے کئی ایک دوسری بات جو عام طور پر اس کے اندر رنگیلا رسول وغیرہ میں جو مر گیا وسلم کے بارے میں یہ کہا گیا آپ حضور نے اس کا جواب دیا حضور نے فرمایا دیکھو پاس رہو شادی تھی صرف حضرت عایشہ ام المومنین کے علاوہ سب کے سب بے وفا ہیں تھی متعلق تھی جن سے آپ نے شادی جو کا مقصد کیا تھا کہ ان قبائل سے تعلق قائم کر کے جو شریعت اسلامیہ ہے وہ عورتوں کو سکھائی گئی ہیں اس کا مقصد ہے دینے کے لئے ان لوگوں کو سمجھانے کے لیے بتایا کہ تم سے کیا وہ تاریخ بھی ہو جاتی ہے جو تمہارے اوتارو کی ہے راجہ بشارت اس کی تین بیویاں تھیں کرشن جی کی ہارٹ بیٹ یوتوب اور سب کچھ ہے ہو جاتا ہے اسی طرح اور بہت سے ہیں ایک سے زیادہ شادیاں کی یہود کو یا عیسائیوں کو سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام ناراض کرتے وقت پہلے انبیاء کی تاریخ دیکھیں خود پتہ چل جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شادیاں کیں وہ صرف ایک رحمت کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے لوگوں کو اسلام سمجھانے کے لیے اگر العیاذ باللہ نعوذ باللہ جو لفظوں میں استعمال داعش یا فلاں تو آپ کو تو ابتدا میں ہی مکہ والوں نے یہ کہا تھا کہ اگر تو مکہ کے کسی خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے تو صرف نام لے پر یہ بات کرنے سے روک جاؤ اگر آپ اس طبیعت کے ہوتے جیسے یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہیں تو تو اسی وقت قبول کرلیتے ہیں یہ باتیں سمجھایا اور بقایا کی یہ بات بالکل غلط ہے جو تو رسول کے انسان سے ان کی طرف منسوب کر رہے ہو تو یہ وہ حضور کا طریقہ تھا کہ سلیقے کے ساتھ دلائل کے ساتھ اور تاریخ کے ساتھ انبیاء کی تاریخ کے ساتھ سمجھایا جائے تاکہ ہم دونا ثواب کم ازکم اچھی طرح سمجھ جائیں اور حضور سے جو بہتا رہتا ہے اس کی جگہ محبت اور پیار لے قرآن کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا زین الدین صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے افراد جماعت کے دلوں میں بھی حضرت محمد کی محبت کو جاگزیں کرنے کے لئے اور آپ کے مدرسہ گلشن رحمن رحیم پیشگوئی مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ فقرہ بھی ہے وہ حسن میں تیری نظیر ہوگا اوصاف بیان کیے جاتے ہیں اور دیے گئے ہیں اس میں ایک جیسا کہ پہلے عرض کیا تھا عشق رسول جو سب سے نمایاں طور پر نظر آتا ہے اور آپ کو یہ خوش نصیب ملا بھی اسی وجہ سے تو حضرت ابن عربی رحمۃ اللہ تعالی نے ایک پیش گوئی بھی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام محمود ہے اس کا زمانے میں ہونا ہے اور یہ دراصل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا موت خلیفہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں اور دوسری طرف وہ مسلمان سلام کا جواب ہے میں مسلمان کا الہام آپ کی زبان پر جاری ہو المسیح الموعود مسئلہ ہوا خلیفہ یہاں بھی تقاضہ کرتا ہے اور اسی طرح آپ کے فضائل و برکات آپ کے اوصاف حمیدہ آپ کے اندر پائی جائے آپ کے خطبات اور خطابات دیکھ لیجئے تعریفات اس بات کے گواہ ہیں آپ کی رات بولتا ثبوت ہیں کہ والد ماجد اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح آپ بھی اسے بھی اور آپ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ عشق کرتے تھے اور محبت کرتے تھے اور آپ کی محبت کا ہی تقاضہ تھا تحریری بھی ہے اور اسی طرح مختلف آپ نے محمد دنیا انجام دیتے رہے ہیں آپ کی تحریرات میں سے چند ایک کے پاس پیش کرنا مقصود ہیں یہ تو آپ نے اردو نظم میں فرماتے ہیں فرمایا کہ محمد پر ہماری جان فدا ہے حیات جاوداں ملتی سے کلام پاک ہی آب بقا ہے یہ میرا ہر ذرہ احمد میرے دل کا اسی سے میرا دل پاتا ہے تسکین وہی آرام میری روح کا ہے حضرت انس یونس میرے اعمال ہوتے تب بھی یہ جو منصب آپ کو ملا ہے وہ نہ ملتا یہی خیال تازہ ترین مسلموں دل اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بھی یہی خیال تھا فرماتے ہیں انڈے داس نہیں  اس کے ایک نشان ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے خدا نے مجھے یار بنایا ہے ورنہ مجھے کوئی دعویٰ ہے نہ مجھے کسی دعاؤں میں خوشی ہے میری ساری خوشی اسی میں ہے کہ میری خاک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھیتی میں کھاد کے طور پر کام آجائے لالہ مجھ پر راضی ہو جائے اور میرا خاتمہ اس نے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا قیام کی کوشش میں ہوں نام اور مقام کو ساری دنیا جوانی کے عزم و ارادے کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کنارے تک پہنچا ہوں اور اسلام کے مقابلے میں تمام ادیان کے دنیا کے بعد پھر ادیان کو ہمیشہ کے لیے شکست دے دی پھر فرمایا جو لوگ میرے خطبات اور تقریریں سنتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مجھ پر کبھی کوئی ایسا وقت نہیں ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی واقعہ میں نے بیان کیا کیا کیا بیان کیا ہو اور رزق سے میرا گلا نہ پکڑا گیا میں دنیا میں محبت ہوتی ہے کسی کو زیادہ مزہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسی شدید محبت ہے کہ مجھے اپنی زندگی میں ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں کہ میں نے آپ کا ذکر کیا ہو اور مجھ پر رقت طاری نہ ہو ڈوب گیا ہوں میں سماتے ہیں میں ہماری جان حاضر ہے ہماری اولادوں کی جان حاضر ہے جس قدر چاہے ہمیں دکھ دے لے لیکن خدارا نبیوکے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ترک کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کیوں ذات بابرکات سے ہمیں اس قدر تعلق ہے اور وابستگی ہے کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم کبھی صلح نہیں کر سکتے جسے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہرگز نہیں ہو سکتی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے پھر احباب جماعت کو تاکید کرتے ہوئے آپ نے نہایت موثر پیرائے میں فرمایا بس اپنے اخلاق میں کہ دنیا کے محبوب بن جاؤں اپنے آپ اس طرح فنا کر دو کہ دنیا تمہارے ذریعے زندہ ہوجائے اگر تم اپنے لیے اس طرح موت قبول کر لو دنیا زندہ ہو جائے تو دشمنوں کی نظروں میں بھی محبوب ہو جاؤ گے اور اپنوں کو خدا تعالی کی نظر میں تو بہت ہی محبوب بن جاؤ گے اپنے اندر خاص تبدیلی نہ پیدا کرو اور اسے قربانی نے اختیار کرو جس سے لوگوں کو زندگی حاصل ہو اس وقت تک نہ اپنوں میں معزز سمجھ جاؤگے نہ بیگانوں میں اگر تمہیں جوش پیدا ہوتا ہے تو اسے اپنے معاملات ادا بلاک اور نفس کی اصلاح کا کام لو اللہ اس کے رسول اور اس کے دین کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو سے ایسا عشق دکھاؤ کہ اس عشق آنسو اشیاء کو جلا کر راکھ کر دے جو خدا تک پہنچنے کے پہنچنے میں حائل ہو ماں کے اندر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محبت و غیرت اور غصہ کے حالت میں بھی اپنے آپ پر قابو کرتے ہوئے طریقہ اختیار کرنے کی موسم تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا اسلام جہاں یہ کہتا ہے کہ اور اس کے رسول کے لیے غیرت دکھاؤ یہ حکم دیتا ہے کہ جس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت کسی اور چیز سے کم نہیں اس میں ایمان نہیں نہیں وہ خدا کے غضب کے نیچے ہے وہ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ اخلاق کو کسی حالت میں بھی نہ چھوڑو اور غصے میں ہو یا آرام میں بس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں خطرناک دنوں میں اپنے جوش و کو قابو میں رکھے میرے لیے اس وقت خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بغض نکل کر اس کی جگہ آپ کی محبت کا علم نہ ہو جائے ہیلو اس کے رسول آپ کا کیا آپ کے جو کل میں ہوتا ہے اس کے حصول سے سب سے اچھا تھا اور آپ عشقِ الٰہی اور عشق رسول اور عشق قرآن آپ پر بےشمار رحمت حافظ ظفر شہزاد گجر ذات کے اختتام پر محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے پوچھنا چاہوں گا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کے اس پہلو کی طرف سے ہم نے بڑی تفصیل کے ساتھ یہاں پر ڈسکس کیا ہے کہ آپ کا اس کے رسول کی پیش گوئی میں یہ بھی ذکر ملتا ہے اور جو پاک و سلم کے انکار اور تہذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نشانی ملے تو یہ نشانی کہ حضرت ام سلمہ کو کس طرح بنتے ہیں اس بارے میں ناظرین کرام بات یہ ہے کہ آپ کی یہ باتیں سن کر رہے ہیں اور اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا ہے اس زمانے میں امان دینے اسلام ایک بات کر رہے تھے خاص طور پر عیسائی دنیا ایک بار اور اس میں سے عالمی دیتا ہوں پادری عماد الدین بڑا مشہور پادری تھا اس نے اپنے ایک مضمون میں لکھا محمدیہ غوثیہ اس قدر شکست خوردہ ہیں قیامت تک سب نہ اٹھا سکیں گے اتنا ہم نے ان کو کچل دیا ہے مذاق کرکے کرکے قیامت تک سامنے اٹھا سکیں گے یا لفظ استعمال کر رہا ہوں محمدی یعنی مسلمانوں کے لیے یہ ایک لفظ استعمال ہو کر دے اب آپ دیکھیں گے کہ اسی قسم کی آواز میں اٹھتی ہے حکیم صاحب نے اعلان کیا اللہ تعالی نے یہ بات کہا ان نہ شانہ کا ہوا لگتا یہ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مبین اور محمد حسن روحانی لحاظ سے بالکل ختم ہو چکے ہوئے آگے ان کی کوئی آگے سنوائی نہیں ہے کوئی قبولیت نہیں ہے یہ دین العیاذ باللہ ان کے نزدیک بالکل اقلیت کی حالت میں یہ اس وقت اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعا کی آیا کہ محمد صل وسلم کی جو انکار اور تقسیم کر رہے ہیں یہ ایک کھلی نشانی ٹھہرے اب یہ جو حضرت موسی علیہ السلام اور رضی اللہ تعالی عنہ کی پیش گوئی تھی تو بات ہی یہ شروع ہوئی تھی کہ حضرت موسیٰ نے اٹھارہ سو پچاسی میں یہ اعلان کیا تھا کہ صداقت اسلام کے لیے اگر کوئی نشان دیکھنا چاہتا ہے تو وہ میرے پاس آ کر رہے اگر ایک سال میں اس کو نشان نہ دیکھا سکو تو میں اس کو دوں گا اور حضور نے اس کے لیے بیس ہزار اشتہار دیا تھا فقط و فقط اسلام سے شروع ہوئی تھی اور یہ کہہ رہے تھے کہ اسلام سر اٹھانے کے قابل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب یہ دعا کی تو اللہ تعالی نے نشان دیا چھتر سالوں نشان چمکتا 12 جنوری 1989 کو حضرت موسی اور رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش ہوئی اور نومبر 1965 میں آپ کی وفات ہوئی کم و بیش سات رسالہ وجود ایک نشان بن کے سامنے رہا کہ تم تو کہتے تھے اب یہ محمد مظہر جو ہے یہ قیامت تک سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا یہ دیکھو وہ نشان جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے خان جب وہ دیکھتے رہے ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ سلام کو دوبارہ زندہ کیا اور یہی وہ بات تھی جو کہ ان نشانات ہو الابتر کی پیشگوئی پوری ہوئی کہ تیرا دشمن کیا کر رہے گا ان کی صفائی آنے لگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا ہوگا اللہ تعالی نے اس پیشگوئی کے ذریعہ مسیح موعود علیہ السلام کو کو سردیاں المسلم او دیا اور اسلام کا احیاء کی جو بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور رحمت کی جو شروعات حضرت مسیح موعود صاحب جس کی ابتدا کی تھی حضرت مصلح موعود نے اس کو تکمیل تک پہنچایا آگے لے کے گئے اور یہ واقع ہیں ان لوگوں کے لئے جو یہ اعلان کرتے تھے کہ محمد ختم ہو گئی ہے مجھے ایک اعلان تھا ان نشانات کا غریب تر ہر زمانے میں تیرا دشمن ہی رہے گا اور تجھے ہم کو فریب دیتے چلے جائیں گے بس تو نماز پڑھ اور قربانی کر اور یہ انعامات بھی ملتے چلے جائیں گے اس لحاظ سے یہ جزاک اللہ تعالی اس معجزہ ناظرین کرام کے ساتھ آج کا ایپیسوڈ ختم ہوا چاہتا ہے آخر میں بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر فرماتے ہیں خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میں تیری جماعت کے لیے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کا اپنے قرب اور وہیں سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے ان دنوں کے منتظر ہوں اور تمھیں یاد رہے کہ ہر ایک کی شناخت اس کے وقت میں ہوتی ہے اور قبل از وقت ممکن ہے کہ وہ معمولی انسان دکھائی دے یا بازو کے دینے والے خیالات کی وجہ سے قابل اعتراض کرے جیسا کہ قبل از وقت ایک کامل انسان بننے والا بھی پیٹ میں صرف ایک صفحہ یا الگ ہوتا ہے اپنی ہم اس دنیا میں کیا اثر کیا اور مستقبل میں کیا اس کی تفصیلات ہیں اس کے حوالے سے مرتب کریں رہے گا ہم اپنے اگلے پیسوڈ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے خدمت اسلام کے فریضے کو جس عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ عطا فرمائے اس کے تعلق سے بات کریں گے عمران ایپیسوڈ نمبر 22 فروری 2020 ہفتہ کے دن انڈین کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے آگیا دارلامان سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے کر دیجئے گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ بعد یادوں نے تار تسلی کم بتایا ہے ہیلو کہ یہیں نور خدا آباد باو گے یہاں تو نے تار تسلی کب بتایا ہم لاہور تمہیں تار تسلی بھی بتایا ہے ہم نے

 43 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: