Rahe Huda – Muhammad pbuh Ki Sadaqat aor Maseehe Maood pubh k Bare Men Peshgoian




Rahe Huda – Muhammad pbuh Ki Sadaqat aor Maseehe Maood pubh k Bare Men Peshgoian

Rah-e-Huda – 9th November 2019 – Frankfurt Germany

مجھے کیوں نکالا گیا ہے جس نے بابا نوں لگ جاندا مولا علی دم دماعوذ باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تمام نومبر ہے جی ایم ٹی وی پروگرام کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں جیسا کہ آپ ہمیشہ رہے ہیں ہمارا یہ والا پروگرام رادھا لائف ہوتا ہے براہ راست نشر کیا جاتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جو بھی ہو ہمیں اپنا صاحب جا سکتے ہیں یا پھر یہاں ڈائریکٹ رابطہ کر سکتے ہیں اس پروگرام میں ہمارے مہمان معاشرے کی گفتگو ہوگی یا جمیکا studio میم کرم شاہ کا مصاحب ہیں اور یہی ہے کہ آپ سے کر سکیں اس پروگرام میں ہماری جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات کے بارے میں آپ کے بارے میں عقائد کے بارے میں یہ بات ہی گفتگو کرتے ہیں اور اسلامی جو بھی اعتراضات پیش کئے جاتے ہیں ان کو بھی شامل کر سکتے ہیں کہ اس کے بارے میں جو حقیقت ہے اس کے متعلق ہم آپ کو بتا سکے ہمارے یا جنگ سے جو آپ کی خدمت میں سیریس سیریس پیش کی جارہی تھی اس میں ہم نے اس بارے میں گفتگو کی تھی کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کی صداقت کو ہم اس پہلو سے ایم این جی کے سامنے رکھیں کہ خدا تعالی نے کس طرح سے غیبی امور کے متعلق آپ کو خبر دے دی تھی اور یہ غیب کا علم ہے وہ سائنس کے خدا تعالی کی طرف سے کوئی شخص کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں پا سکتا تو ایک ہم نے اس پہلے سے بات کی کہ آج کے متعلق پیش گوئی تھی جو گزشتہ رکھی تھی وہ باتیں وہ پیش گوئیاں جو سچ ہو مبارک سے ہم تک پہنچی اور خاص طور پر وہ تو پھر آپ کے زمانہ پھر پوری ہوئی اور صحابہ تھے آپ اس بات کو ماننے پر ایک ایسا وجود ہے ایسی ہستی ہے جو غیب کا علم دوستی ہے خدا تعالی آپ کی مدد اور نصرت فرما رہا ہے خدا تعالیٰ کا جو اصول ہے صوفیانہ کا ہے ایسی خبریں ہی باتیں ہیں جو ہر صورت جیتنی زندگی میں پورا ہوتا دکھائی گے اور کچھ ایسی باتیں ہیں جو تیری وفات کے بعد پوری ہوگی تو آج ہم ایسی گفتگو کو پیش گوئیوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے کہ وہ باتیں جو رسول کریم میں آپ کی وفات کے بعد آپ کے وفات کے بعد علی زمانہ ہے وہ اس میں پھر مختلف رنگوں میں وہ پورا ہوتی ہوئی ہے لوگوں نے دیکھی وہ ہم انشاء اللہ یہ عذر قبول آئیں گے تو جو یہ ایسی باتیں ہیں جو نہ صرف اس بات سے تعلق رکھتی ہے بلکہ آئندہ زمانے میں آج کے دور میں اور آئندہ بھی زمانہ آتا ہے مجھ سے رنگوں میں ہم اس کی سچائی اور صداقت کو ہم سچا ہوتا ہوا دیکھتے ہیں کہ اس طرح سے پیش ہوئے پوری ہوتی ہیں تو آج کی اس گفتگو میں بھی ہم وقت زمانہ پر آج کے زمانے بھر کے مسلم ممالک میں اسلام کی آمد سے متعلق وہ باتیں ہم آپ کے سامنے رکھیں گے تو سب سے پہلے ساتھ ساتھ جو ہماری گفتگو ہے اس کا آغاز محرم سے شادی کرنا چاہے گا کہ جو ہم نے وہ ان پیشگوئیوں کا بیان واقعات کا بھی ذکر کیا تھا جہاں کو ہجرت کرنی پڑی تھی اور وہاں پھر آپ کا تعاقب کیا گیا تھا اور اس نے پھر پیشن گوئی کی تھی کہ میرا حال کیا ہوگا کے گندے بنائے جائیں گے اس میں تو ہوتے نہیں دیکھا نہ ہوئے تو اس کے متعلق آپ نے فرمایامکے میں آپ کو شدید تکلیف ہی نہیں جا رہی تھی اور بالآخر مکہ کے لوگوں نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ نعوذباللہ من ذالک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہوں نے ایک رات آپ کے مکان کو گھیرا ڈال لیا لیکن اللہ تعالیٰ حفاظت آپ کو وہاں سے نکال کر لے گیا جب لینی مکہ کے لوگ اسے جنت کو روکنا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالی نے اس کو ناکام بنا دیں اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنے بستر پر لٹایا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکل گئے اور ان کو کوئی خبر نہ ہوئے جب صبح انھوں نے دیکھا کہ جس شخص کو ہم قتل کرنا چاہتے تھے وہ تو ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو ان کو بڑی تشویش ہوئی اور والوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر کوئی ان کو پکڑ کر لائے گا تو اس کا نام دیا جائے گا حضرت سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے بھی یہی نام حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تو وہاں میں نے ادھر کہیں سے پوچھا تو کسی نے بچے نے شاید کسی نے ذکر کیا کہ میں نے دو آدمیوں کو صحت پر جاتے ہوئے دیکھا ہے وہاں اور بھی لوگ برباد سن رہے تھے لیکن انعام کے لالچ میں کہیں کوئی اور جا کے نام کو پکڑنے میں نے یہ کہہ دیا کہ نہیں وہ تو کوئی اور نہیں تو اس وقت تو کسی کو خیال نہیں گزرا لیکن اس کے بعد میں نے اپنا گھوڑا تیار کروایا اور وہ گھوڑے پر بیٹھا اور حضور صل وسلم کے تعاقب میں چل پڑے تو جب رسول پاک صلی اللہ رت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے پیچھے مڑ کر ہتھیار ڈال دیتے تھے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت فکر تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قال مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے کہ آپ نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا لیکن حضرت ابوبکر صدیق بار پیچھے مڑ کر دیکھتے تھے جو آپ نے دیکھا تو پیچھے آرہا ہے کوئی آنحضور صلی علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ ہمارا پیچھا کر رہا ہے فرمایا کریں تو سراقہ بن مالک جب قریب پہنچتے ہیں تو ان کا گھوڑا ٹھوکر کھاتا اور پھر جاتا ہے تو وہ انہوں نے فال نکالی جو عرب کا رواج تھا حالت ٹھیک نہیں نکلی لیکن سراقہ بن مالک نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوبارہ آگے بڑھنے کی کوشش کی گھوڑا دوبارہ گرا اور روایات میں کئی دنوں تک پہنچ گیا کیا اور اس طرح دو تین مرتبہ جب ہوا اور بار بار فال نکالتے ٹھیک نہیں نکلتی تھی اس کو کہتے ہیں کہ میں نے سمجھا کہ یہ شخص کوئی عام شخص نہیں ہے یہ ہستی ایسی ہے کہ جس کا اقبال بلند ہے اور اس نے کامیاب ہونا ہے اس کے بعد میں نے آواز دی کہ آپ جائیں میرے سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو آج وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ گئے تو پھر وہاں جا پہنچے آپ نے سارا واقعہ بیان کیا کہ میں آیا تو اس نیت سے تھا لیکن آپ نے اپنی نیت کو بدلتا ہوں اور میرا یہ خیال ہے کہ آپ باقی خدا تعالیٰ کی تائید آپ کے ساتھ ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لینے کی چاہت میں یہ ہمارے پیچھے آرہا ہے اس وقت خدا تعالیٰ سے خبر پا کر دشمن یا جس طرح اللہ تعالی نے وحی کے ذریعے خبر دی آپ نے فرمایا کہ ایسا تیرا کیا حال ہوگا جب کسریٰ کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے تو یہ تو ایک سو اونٹوں کے لئے تو آ رہا ہے لیکن ایک وقت آئے گا کہ کل سے تم ہوگے 2016 کے حیران ہو کر پوچھا کہ کس طرح شاہ ایران کی بات کر رہے ہیں فرمایا کہ ہاں اسی کی بات کرتا تھا اب یہ چیز کو کہتے ہیں میرے دل میں خیال آیا کہ ان کے کا ایک طرح کا بادشاہ اس کے کنگن حیرت کی بات ہے باہر میں نے اس وقت ان سے درخواست ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھ کر دے تو آپ کے تاثرات کا وہ واپس آگئے اب یہ معاملہ اس کے بعد سارے حالات چلتے ہیں پھر وہاں جاکے مجبورا آپ کو جنگ لڑنی پڑتی اور اللہ تعالی کی طرف سے اجازت دے دی جاتی ہے کہ جو جانی تلوار سے حملہ کرتے ہیں ٹھیک ہے دفاع کرنے کے لیے ابھی تلوار اٹھائی لیکن یہ پھر آہستہ آہستہ جنگ چلتی چلتی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں پھر حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بھی چلتی رہی ہیں جیسے جیسے دوسری باتتفصیلات تو میں چھوڑتا ہوں جب آپ وہاں پہنچے ہیں تو مسلمانوں نے جو طریقہ السلام نے آپ کو بتایا تھا اس پانچ افراد کا وفد یہ ہے کس طرح کی کے پاس بھیجا da3 کو جا کے اسلام کی دعوت دی تو شرائط ہیں وہ پیش کر دیں اب دوسری طرف صورتحال یہ تھی تھی کہ جو ایرانی تھے یعنی وہ بہت بڑی بادشاہت تھی کہ وہ لکھتے تھے اور ان کی کرتے تھے ان کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ عربوں کے اندر یہ طاقت بھی آجائے گی کہ وہ ہمارے اوپر حملہ کرنے آ جائیں گے تو اس وقت پیش آیا جب ان کو بتایا گیا ہے تو وہ اس بات پر یقین نہیں کرتا تھا تو جب یہ خبر وہاں پر پہنچا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا صفایا ہے انہوں نے کہا بلائیں تو بڑی رعونت کے ساتھ گفتگو کی انہوں نے کہا کہ تم نے جرات کیسے ہوئی ہے کہ تم ہم پر حملہ کرو اور بڑے گھٹیا الفاظ بولے کہ تم گو کا گوشت کھانے والے لوگ ہو تمہاری حیثیت کچھ نہیں ہے تمہیں تو میں کا عمل کے ذریعے سیدھا کردیا کرتا تھا اب تم نے یہ سوچا کہ ہمارے اوپر حملہ کرو تو تم اس طرح کرو اگر تم سے زیادہ 22 اشرفی سپاہی دیتا ہوں وہ لے جاؤ چلو واپس لے جاؤ یہ ان کی نظروں میں مسلمانوں کی قیمت مرتضیٰ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ جی بات یہ نہیں ہے وہ جو باتیں کر رہے ہیں ہمارے بارے میں بارے میں ہم اس طرح کے تھے یہ بات درست ہے لیکن وہ اور زمانہ تھا وہ جاہلیت کا دور تھا کہ میں اللہ کا رسول مبعوث ہو چکا ہے اس نے ہمیں تعلیم دی ہے مس تعلیم کے پر عمل کرتے ہیں اس کے مطابق ہیں اب تمہارے لیے تین راستے ہیں یا تو اسلام قبول کر لو یا جزیہ دینا قبول کر لو یا تیسری صورت یہ ہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان سے تلوار فیصلہ کرے گی اس کو بڑا غصہ آیا اور اس نے مٹی کی بوری بھر کے لئے کہ یہ تمہارے لیے انہیں اپنی طرف سے انکار کا اظہار کیا اور وہ جو فکر کر نادان صدارت حضرت عاصم روایت میں کا نام آتا ہے انہوں نے مٹی کی بوری آرام سے اٹھائی گھوڑے پر کھینچا جائے یہ مٹی تو اپنے ملک خود اس نے اپنے ہاتھوں سے ہمارے حوالے کر دیے اور دفاع کے طور پر انہوں نے اسے کے لیے کہ جب مٹی اس نے خود ہاتھ سے دے دیں تو اس کا مطلب فتح ہوگیا اور وہ مل جائے انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی خدمت میں پیش کیجئے یہ جواب ہے مبارک ہو پتہ کیا ہے اس نے مٹی اپنے ہاتھوں سے دے دیں اس کے بعد پھر جنگ ہوتی ہے بڑی منی طاقتور جنگ ہوئی ہے جس میں دونوں طرف سے کافی نقصان ہوا لیکن مسلمانوں کے تعداد بھی کم تھی اور اس کے بے تحاشہ تعداد تھی لیکن وہ تو وہاں مسلمانوں کا ہزاروں میں ہوں لیکن بہت کم اور اس کے مقابلے میں بہرحال مختصر یہ کہ اللہ تعالی نے فتح عطا فرمائے اور وہ کس طرح جو کبھی بہت بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مطابق وہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا پھر اس کا جو سامان تھا مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور وہ مسلمانوں کے ساتھ یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ اس ام المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں بھیج دیا جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں وہ سامان آیا تو میں کسریٰ کے کنگن بھی تھے تو آپ نے فورا پیشگوئی یاد آگئی اور اللہ کا بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو عطا فرمائے اور بلا کے ان کو کہا کہ یہ اپنے ہاتھ میں پہنے اور ان کو وہ تنگ آ کر دیے دیے اور حکم دیا کہ اس کو پہلے حالانکہ سونا اس وقت ختم ہو چکا تھا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کو پورا کرنے کے لیے مالک رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عمر نے حکم دیا کہ نہیں اس کے باوجود حضرت سراقہ بن مالک نے پھر وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہننے اور اس کے احترام کے ساتھ یہ پیشگوئی جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت میں کی تھی جب آپ کی حفاظت کرنے والا اللہ کے سوا اور کوئی سچائی نہیں تھا اور ایک شخص کو پکڑنے کے لئے جا رہا ہے بظاہر دنیا کی نظر میں یہ خاصیت تھی اور پیش گوئی کیا فرماتے ہیں کہ طاقت ہے دنیا کے اس وقت بہت بڑی طاقت اس کے بعد شاہ کنگن تیرے ہاتھوں میں ہوں گے اور یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ کچھ سال گزرتے ہیں اور وہ واقعی اللہ تعالی اس کو مس کر دیتا ہے اس بادشاہ کو اور وہ کن حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ میں پہنا ہوا دیکھتےوہ اسی طرح کی دوسری حالت میں تھی اس کا ذکر بھی ہوا تھا ہمارے پشتو پروگرام بھی وہ حالت بیان کی تھی وہ جنگ عذاب کا موقع تھا جب سارا عرب مشترکہ طور پر سارے قوالی اکٹھے ہو کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے وہ مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو وہ آپ یہ واقعہ پیش آیا تھا کہ پتھر صابن تھوڑا جا رہا تھا جیسے آپ تو اس دن سے اس پتھر کو مارا تشریح طور پر پھر آپ کو کچھ ایسے نظارے دکھائے جانے پر اپنے اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو ان میں ایک دوسرے کے سامنے فرمایا تھا وہ آنکھیں مجھے مسجد کے معاملات دکھائیں گے اسی طرح سے یورپی ممالک تھے جن کے محلات اس کی سب کو دکھائے یمن کا ذکر آتا ہے اسی طرح سے شام کے حوالے سے آپ نے ذکر کیا تھا تو خان صاحب آپ سے خاکساری ہاسپٹل کریں گے جس کے محلات اور شام کا جو ذکر ہے اس نے منع فرمایا تھا اس کا تعلق سے علماء کرام کی خبر دی تھی تو اس کے بارے میں آپ کو کچھ تفصیلات بتائیں کس طرح سے وہ پوری ہوئی مسلمانوں کی حالت کا روایات میں ذکر ہے ہے اس کی کیفیت سے میں ایسی اس طرح ہے کہ انسان جب پڑتا ہے تو روتے ہو جاتے ہیں کہ کس طرح مسلمان اور خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہر مشکل وقت میں سے گزر رہے تھے اور ان کے پاس نہ کھانے کو پورا سامان تھا تاکہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ خندق کی کھدائی میں مصروف تھے اور مسلسل تین دن سے فاقہ سے تھے اسی دوران کے دوران ایک پولیس بٹانا گی جو صحابہ سے ٹوٹتی ہی نہیں تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سچے عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو پھر آپ نے اللہ کا نام لےعدالت کی طرف سے لگائی تو وہ ناراض ہو گئی پھر کہتے ہیں کہ چاند نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لیے اپنی اپنے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا ہے ہے اور اس کی کیفیت صحابہ کی تھی ایسی حالت میں میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی اسرائیل کے لئے اور جیسا کہ مسلمان دیکھ رہے تھے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو بات بھی اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو بھی خبر آپ کو ملتی ہے وہ پوری ہوکر رہتی ہے ایسی عظیم الشان برے وقت میں ایک دوسری روایت میں اس طرح ذکر ہے کہ حضرت ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ ایک ٹانگ راستے میں حائل ہو گئی تو آپ نے اللہ کا نام لے کر خدا کی پہلی نظر لگائیں تو پتھر ٹوٹ گیا اور آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور ایک چنگاری نکلی اور آپ نے فرمایا کہ شام کی دنیا میرے حوالے کی گئی ہیں اور خدا کی قسم میں شام کے متعلق معاملات اپنی جگہ سے دیکھ رہا پھر آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور خدا کی رحمت اور اس پتھر کا ایک اور جھوٹ کیا اور اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر فرمایا مجھے ایران کی چابی عطا کی گئی ہیں اور خدا کی قسم میں مردان اور اس کے سفید محل ایک ایسی جگہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں پھر آپ نے اور پھر آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا مجھے یمن کی شادی اس کی گئی ہیں اور خدا کی قسم میں سنا کے محلات کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اب یہ بظاہر صرف ایک حوصلہ افزائی کے لئے بات نہیں کی کی چند ہی سالوں کے بعد جیتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالی نے مسلمانوں پر جو قیامت اور برکت نازل کی یہ سارے وہ علاقے جو بظاہر علاقوں کے لیے پتہ کرنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن نظر آتے تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک تو کچھ تو ہو چکی تھی لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں جب باز لوگوں نے بغاوت کا اعلان کردیا اور یمن کی طرف تھا بہت بڑا علاقہ ہے جو مسلم اتحاد کے زیر تسلط تھا یا آپ نے جو اللہ تعالی عنہ کی حکومت تھی اس کو ماننے سے انکار کر دیا یا اس کے نتیجے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو خالد بن ولید اور حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح کو مختلف علاقوں میں ان باتوں کو کرنے کے لئے بھیجا اور یہ سلسلہ کے اس کے آگے بڑھتا چلا گیا اور انہیں اسی تسلسل میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو یہ سارے علاقے عطا فرمائے کہ جس کی تفصیل تعریف میں اس طرح ہے ہے کہ ایک جگہ ذکر ملتا ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے ان فتوحات کا آغاز ہو جاتا ہے حضرت خالد بن ولید کو اسلامی فوج کے ساتھ شام کو اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں فتوحات کی تکمیل ہو جاتی ہے اور ایران کی فتوحات حاصل کرتے ہیں اور صرف چند سال کے مختصر عرصہ میں دنیا کی دو بڑی سلطنتیں روم اور ایران فاقہ کشوں کو اللہ تعالی نے الٰہی دے دیئے تھے جو عطا فرمائے تھے اس کے مطابق مسلمانوں کو ان انتخابات میں ان علاقوں میں بات ہوتی ہیں جیسا کہ بھی موسم کے ساتھ صاحب نے ذکر کیا کہ یہ جو فتوحات کا سلسلہ ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو عرب کے اندر عربوں کی شرارتوں کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنا پڑی لیکن جب تک کے علاقوں میں کوئی حل 781 ارب کتنے بنتے چلے جا رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں عرب کے لوگوں نے بات شروع کی اور اسلامی حکومت کے خلاف اس کے کی اس کا یہ ایک سبب بنا اور پھر مسلمان کے مسلمانوں کی سلطنت بھی اور ایران فتح ھوا اے ھوا اسلامی تہواروں بھی پتہ تھا لیکن ان ساری باتوں کے پیچھے درد وہ ہے جو آج خاص طور پر ہم دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو آپ کے ذریعے مسلمانوں کو ان فتوحات کی پیشگوئیاں عطا فرمائی اور وہ اس سے پوری ہوئی کہ آج بھی یہ علاقے شام ایران اور عراق کو غیر مسلمانوں کے مطابق مسلمانوں کی وہاں پہ سوتے ہیں اور صدیوں تک مسلمانوں کو اللہ تعالی نے علاقوں میں عظیم الشان خدمت کرنے کی توفیق عطاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے سچے رسول ہیں اور آپ کو قرآن جوادی دیے وہ پوری طرح پوری شان کے ساتھ دنیا میں داخل ہوئے ہیں ان صاحب ہیں جو ہم دکان پر ہیں لگتا ہے کہ آپ کی کال نہیں ہوئی صاحب اسلام علیکم کال پے لے لیتے ہیں جنہیں اپنے پروگرام کو آگے چلاتے ہیں تو ابھی جس سے فضل الرحمان صاحب کے متعلق کے بعد پیش ہوئے کا ذکر کیا ہے تو وہ ہمہ مزید اگلے دور کی طرف سے آگے چلتے ہیں جو خلافت کا دور ہے صاحب اس کے متعلق بھی ہمیں پتا ہے کہ رسول اپنی حیات کے بعد فرمایا تھا کہ خلافت جاری ہوگی تو بہت سی ایسی باتیں ہیں امور ہیں جن کی طرف آپ نشاندہی بھی کی تھی خلفاء کے بعد میں آپ نے ذکر کیا تھا تو وہاں سے بھاگ سکتا ہے خاص کر کے حوالے سے ہمیں بتائیں اللہ الرحمٰن الرحیم نبی کو اس وقت بھیجتا ہے جب دنیا میں ایک فساد اور خرابی پیدا ہو چکی ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ظہر الفساد فی البر والبحر یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جب اللہ تعالی نے کس نبی کو مبعوث کرتا ہے اور وہ نبی جو ایمان کا نور ہے وہ دنیا میں واپس لاتا ہے جن کو کام کرتا ہے اور وہ نبی کے ذریعے دوبارہ ایک دفعہ حقیقی دین اور حقیقی اللہ تعالی کی تعلیم جو ہے وہ لوگوں تک پہنچتی ہے جو خلیفہ ہوتا ہے وہ اللہ تعالی خلافت کا سلسلہ صرف کام کرتا ہے جب ایمان اور عمل صالح دنیا میں قائم ہوچکے ہوتے ہے اور اکثریت لوگوں کی ایمان اور عمل صالح بجا لا رہتی ہے اور خلیفہ جو ہے وہ نبی کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں راستے کرتا ہے اور اس نبی کی قوم ہوتی ہے اس کو منظم کرتا ہے یہ خلافت کا کام ہے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مشورہ دیں سورۃ نور میں جو آیت استخلاف بڑی مشہور ہے کہ اللہ تعالی نے جس طرح پہلی قوموں میں خلافت کے سلسلے کو جاری کیا اسی طرح اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم میں آپ کی امت میں بھی اس خلافت کے سلسلے کو جاری کرے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے اسی وجہ سے اس نے فرمایا نبوت وقت العتبیۃ خلاف ہر نبوت کے بعد اللہ تعالی خلافت کے نظام کو کام کرتا ہے پھر ایک اور حدیث ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ میں آپ کی زندگی سے لے کر قیامت تک ک جو مختلف احوال آپ کی مدد سے گزر رہے تھے ان تمام کا ذکر فرمایا جس میں خلافت کے قیام کا بھی ذکر تھا وہ ایک لمبی حدیث ہے کہ تو نبوت اور خلافت علی منہاج نبوت کے بعد مختلف جو فیض آج کا زمانہ عمل کرنا لازم ہے اور پھر اس حدیث کے آخر تک خلافت علی منہاج نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر بیان فرما دیں کہ میری وفات کے بعد ایک خلافت کا نظام قائم ہوگا اور اس کے خلافت کے ذریعے اللہ تعالی اسلام کو ترقیات سے نوازے کا نعتیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ایک مسلمانوں کے اندر ایک بے چینی اور بے قراری پھیل گئی اور شدت غم کی وجہ سے مسلمانوں کی بہت یہ حالت تھی کہ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ مشہورتھا اور یقینا خدا تعالی کی طرف سے تھی اس لیے اللہ تعالی نے کیا انصار اور مہاجرین سب کو حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر جمع کیا اور پھر وہ فتنے جو تمام عرب مرتد ہو چکا تھا اس کے علاوہ جو دوسرا دشمن تھا وہ مکہ مدینہ کی طرف دیکھ رہا تھا حملوں کے پلان بنا رہا تھا اور اس قدر شدید تھی کہ حضرت عمر جیسے طاقت ور اور کوئی ارادہ رکھنے والے وہ بھی اس سے خوفزدہ ہوگئے جب حضرت ابوبکر نے حضرت اسامہ کی قیادت میں لشکر کو بھجوانے کا ارشاد فرمایا جس نے اپنی زندگی میں شادمان چکے تھے حضرت عمر نے درخواست کی عقل کو یہ حالات نہیں ہے لیکن حضرت عمر حضرت ابوبکر تو خدا تعالیٰ کی نظر سے دیکھ رہے تھے اللہ تعالی کے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق خلیفہ بنے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق خلیفہ بنے تھے پھر آپ نے جو آپ کا ارادہ تھا میں نے آپ کے استادوں کو ارادوں کو برکت بخشی اور روہی حضرت ابوبکر کے زمانے میں وہ جس کے درخت تھے کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں اللہ تعالی نے حضرت ابوبکر کے ذریعے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور حضرت اسامہ کا لشکر بھی گیا اور اس طرح دشمن کو جرات نہ ہوسکے کہ مسلمانوں پر مدینہ یا مکہ کے اندر حملے اور وہ خوف کی حالت تھی وہ اللہ تعالی نے تمام اس وقت صحابہ کو دکھائیں وہ کس طرح ہم نہ بدلیں اور جو اللہ تعالی فرماتا ہے یا وحدہ لا شریک لہ بھی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی اور کو کسی اور کے سہارا لیتے ہوئے اللہ تعالی کی ذات پر یقین کرتے ہوئے پھر اللہ تعالی نے آپ کو ہر قسم کی وہ جو بھی اپنے فیصلے فرمائے اللہ تعالی نے اس میں برکت اور مسلمانوں کو ایک دفعہ پھر ایک ہاتھ پر جمع کر دیا اور ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا وقت دیکھ رہا ہوں کہ اس سال رہی آن لائن کال پر لائن پر تو ہم چلتے ہیں تو اس کو بھی یہاں پر آپ اسی کے بعد میں پھر آگے بڑھاتے ہیں جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ الرحمان صاحب آپ کا کیا خیال ہے میاں صاحب کے لئے میرے لئے میرا سوال ہے کہ تم نے اسلام کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ ہو تعالئ عنہ کے خلاف جنگ لڑی تھی جو اسلام نافذ ہے رب کی عبادت نماز روزہ حج جگہ ایسا اس احمد یوٹیوب لگاؤ نہیں کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نہیں کریں گے آگے تک ہے تو میں آپ کا ویٹ کر لی ہیں تو انسان کو پروگرام کے دوران ہے شامل کرنے کی کوشش کریں گے اسی طرح سے اور بھی تو کال رہی ہے سر جی اسلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ السلام علیکم حاجی عبدالوہاب صاحب السلام علیکم اللہ جی آپ سال کے بارے میں تاریخ کے حالات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے پہلے سے بیان فرما دیں کہ ایسے لوگوں کو علم ہوجائے تو سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی قوم میں کل کتنے فرعون آئے تھے تاریخ سے کیا ثابت ہوتا ہے کیا یہ سب میں تبدیل تھا براہ کرم وضاحت فرما دیں جزاک اللہ احسن الجزا اللہ نے آپ کا ساتھ چھوڑ کر کے اپ لوڈ کر لی ہے تو جیسے موقع پر منعقد ہوگی ہم اس کو انشاءاللہ شامل کریں گے تو دوسرے ایسے کال بھی ان کو ہسپتال لے لیتے ہیں یہ خان صاحب ہے یوکے جی خان صاحب رحمتہ اللہ اللہ خان صاحبصدائے ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں مخمل دو خلفاء کے دور میں بھی وہ باتیں اس وقت سامنے آئی ہے جس کے متعلق صحابہ کو کیسے ہونا ہے تو مکرم صاحب آپ سے خاص کر گیا ان حالات کے متعلق مزید تفصیلات بتائیں یہ صاحب پوری طرح یہاں پہ نہیں آئے گا تو بتا دیں کیا حال ہے آپ نے حضرت آپ نے باتیں ایک تو خلافت کے قیام کے متعلق پیش گوئی کی تھی اور پھر کچھ ایسے واقعات سے حالات سے جن کا آپ نے ذکر کیا تھا وہ بعد میں رونما ہوں گے رانا صاحب نے ہمیں بتایا ہے کہ کس طرح سے خلافت کا قیام ہوا اور پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وقت میں کیسے حالات پیش آئے خدا تعالی کے بعد پورے ہوتے مسلمان دیکھے تو یہ زمانہ مزید ایک سو تیس سال میں بنتا ہے جان ہوئے درخواست ہے کہ آپ نے ہمیں بتائیں کو اللہ تعالی نے قیامت تک ہونے والے کے جو ذیشان واقعات کی خبر دی ان میں سے ایک بہت بڑی خبر تو یہ ٹھیک ہے آپ نے فرمایا کہ میرے بعد خلافت تیس سال تک رہے گی نہ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے زمانے میں اللہ تعالی نے اسلام کو غیر معمولی ترقی عطا فرمائے اور یہ سلسلہ پھر آگے کی کاپی ملنے تک کے آگے بڑھتا چلا گیا اور لیکن یہ جو فتوحات کی بنیاد ہیں یہ خلافت راشدہ کے دور میں پڑی ہے کہ عورت کی فرج عاہرۃ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ اس طرح روایات میں ذکر ہے کہ ایک دفعہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان کے گھر میں آرام کے لیے تو آپ کو نیند آگئی اور جب ہوئے تو آپ دفتر آ رہے تھے اس پر حضرت ام حرام بنت ملحان نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں آپ نے بتایا کہ ابھی میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ کچھ ہے میری عمر کے بعد تھا جو سمندر میں بڑی شان کے ساتھ سفر کر رہے ہیں اور ان پر بیٹھے ہوئے تو میں حرام بنت ملحان کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں شامل کرتے ہیں تو آپ نے دعا کی کہ اللہ تعالی ان کو ائمہ کرام کو اس میں شامل کر لے اس کے بعد دوبارہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تھوڑی دیر کے بعد تمہارا تم نے پھر پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کیوں مسکرا رہے ہیں آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے ایک اور عظیم الشان مظاہرہ دیکھا ہے کہ میری امت کا ایک گروہ ہے جو بادشاہوں کی طرح سمندر میں سفر کر رہا ہے ہے اور بیٹھا ہوا ہے اور تم حرام نے پھر دوبارہ درخواست کی کہ یارسول اللہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے بھی ان میں شامل کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنی ممی سے ہے گویا یہ روایت بتاتی ہیں کہ گویا اس نے گناہ گار بڑے عظیم الشان مسلمانوں کی خبر کس نے دی تھی کہ آپ کے بعد جو مسلمان بادشاہ ہوں گے وہ ان کے دوار ہوں گے نہ کہ جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے سے اس طرح معاویہ کو آسمان نے شام کا گورنر مقرر کیا تو انہوں نے آپ سے اس بات کی اجازت چاہی کہ وہ ایک بحری بیڑا تیار کریں انہوں نے بہت عظیم الشان بحری بیڑا تیار کیا اور اس کے نتیجے میںمسلمانوں میں سے بعض عظیم الشان بادشاہ بھی سے بڑھ کر کیے گئے تھے جن کو اللہ نے بادشاہت عطا فرمائی کہ یہ تمہارا اس سے روکا نہیں ایسے حالات خود بچہ پیدا ہوتے چلے گئے کہ ایک طرف باہر کی طرف آپ کے بعد مسلمان بادشاہوں نے بعض وجوہات کی بنا پر حملے کئے اور ہندوستان فتح ہوا ایک طرف کھینچتا ہوا اور یہ خوشخبری ہیں جو اللہ تعالی نے محمد اور آپ کی عمر کے ایسے بات کرتا ہوں گے جو دنیا میں عظیم الشان تو حاصل کریں گے تو یہ آنکھیں صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حالت ہے یہ بھی مدینہ کی ہے اور ایک ایسے زمانے کی ہے جب کہ مسلمانوں کی حالت میں ہے ٹھیک ٹھاک کیاحال ہے کیونکہ اس کے پاس کھانے پینے کے لیے بھی آسان نہیں تھا لیکن بھی اور آج تک اس کے آثار ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں جو اس بات کا بڑا واضح ثبوت ہیں کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور آپ کو خدا نے جو بھی خوش خبری دی دنیا میں پوری ہوتی جا رہی ہے فاروق صاحب ہیں وہ کال پر ہی ان کا سہارا لیتے ہیں یہ شخص ایک مسئلہ ہے اس وقت تو ظاہر ہے ایک غیر مسلم کی نظر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالکل بھی یارو مددگار تھے کہ اس بارے میں حضرت فاطمہ نے کبھی بعد میں بات کی تھی کہے یہ الفاظ میں اس وقت شہادت سے بعض خاص کریں گے کہ آپ اس کا جواب دے دیں یہ آپ کا بھی حصہ لینا شروع کر دیتے ہیں کرم خان صاحب کا جوس الاحساء سعودی خاص ہے جو انہوں نے اسلامی صراط کے متعلق پوچھا تھا کہ ایک تو مارے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ نوجوان احمدی ختم نبوت نہیں مانتے جائیں اسلام سے باہر مرتضی تو دوسری طرف سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ ہم اسلامی اصطلاح بھی استعمال کریں وہ الفاظ استعمال کریں جو اسلام میں استعمال کیے گئے ہیں تو اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں یہ ہے کہ کہ یہ مسلمانوں نے جب سے یہ بتائیں کہ آپ اپنا ایک عقیدہ رکھتے ہیں اس عقیدے کی بنا پر آپ کسی کو سچا سمجھتے ہیں کسی کو جھوٹا سمجھتے ہیں آپ کا ذاتی معاملہ ہے اور ہر مسلمان کا ہندو مسلم کا حق ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے کل تو خدا کے سامنے وہ جواب دیتے ہیں جو جواب دیا اس کو حق حاصل ہے کہ وہ جو بھی عقیدہ رکھیں جس میں وہ اپنے جائز سمجھتا ہے اگر وہ کسی غیر مسلم سمجھتا ہے تو سمجھے اگر وہ کسی کو مسلمان سمجھتے سمجھتے وہ کرتا رہے ہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں لے کے یہ بات درست نہیں ہے کہ چونکہ میں تمہیں غیر مسلم ہوں لہٰذا تم بھی اپنے آپ کو جو انہیں دوسرے پر آپ اپنے عقیدے کو زبردستی لاگو نہیں کر سکتے ہیں اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا اورنہ آئین اخلاق میں اس کی اجازت دیتے ہیں جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ تم ختم نبوت کو نہیں مانتا اس لیے تمہیں اسلامی اصطلاحات استعمالبات یہ کہ ڈرامہ پہلی بات کہ ختم نبوت کے ہم قائل ہیں کہ نہیں ہم اللہ تعالی کے فضل سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں یہ بات غلط ہے کہ ہم ختم نبوت کے قائل نہیں ہاں یہ درست ہے کہ ختم نبوت کی وہ جو ہمارے غیر احمدی دوست ہیں وہ کرتے ہیں اس کی تشریح اس سے مختلف ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی کسی بھی صورت میں نہیں آ سکتا جبکہ ہماری تشریح کے مطابق کیا یہ خدا کی شان کے مطابق اللہ کے رسول کی شان کے مطابق کی تشریح جو ہم ختم نبوت سے محفوظ سمجھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور باقی اور بھی بزرگان دین نے یہ محفل سمجھا ہے وہ اللہ کے فضل سے نا تو لغت کے خلاف ہے نہ عربی محاورے کے خلاف ہے نہ خدا خدا کے رسول کی شان ان کے خلاف ہے جب وہ ہر لحاظ سے وہ ہمیں دین کے اندر سے وہ تشریح تشریح ثابت کرتے ہیں تو کس لحاظ سے ہمیں مسلمان کہتے ہیں رہی یہ بات کہ یہ اصطلاحات ہماری ہی تو استعمال نہیں کر سکتے ہماری کہاں سے ہو پہلے تو یہ سوچنے والی بات ہے کہ اللہ رب العالمین ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین ہے اور قرآن کریم پوری دنیا کے لئے ہے یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا تمام لوگوں کو یہ کس نے قبضہ کر لیا رسول پاک صلی وسلم پر یا اللہ کی ذات پر میں صرف ہمارا خدا ہے ہمارا نہیں اسلام کو کہتا ہے وہ تمام لوگوں کا خدا ہے ہے مالک الناس ہے اللہ نہ سہی رب المسلمین یا مالک مسلمان کو مسلمان نہیں کہا گیا اور اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و دیو کے لئے ساری دنیا کے لیے ہیں یہ الگ بات ہے کہ آپ کو مانتا ہے کوئی نہیں مانتا جماعت ہے وہ کسنگ مانتے ہیں پھر میں بانو کی بھی آگے کی تشریح ہو جاتی ہیں تو یہ بات نہیں ہے تو پھر یہ کہ چونکہ کمپنیاں جس طرح کر لیتے ہیں کر تھوڑا سا غور کریں کہ جو کمپنیاں ہیں وہ کمپنیاں اس کا مالک ہوتی ہیں اس طرح کی اور پھر وہ حکومت سے پیٹنگ کرواتی ہیں وہ کاروبار ہے افسوس یہ ہے کہ یہ اس فلموں کی مثال دے کے دراصل دین کو جنہوں نے کاروبار بنا لیا ہے ان کے لیے پھر دین ایک کمپنی بن جاتی ہے اور جو دین کو کاروبار نہیں بلکہ دین کو خدا تعالی کی راہ نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ان کے لیے دین ایک کمپنی نہیں ہے یہ کاروباری چیز نہیں ہے بلکہ دین خدا تعالی کی کے حصول کا ذریعہ ہے خدا کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ اس کو ایک کاروبار بنا لینا اس کو بھی ہے بیچنا شروع کر دینا اس کے اوپر ملکیت کا دعویٰ کر دینا یہ بذات خود دائرہ اسلام میں چیز ہے اس کا اسلام سے تعلق کوئی نہیں ہے اب رہی یہ بات کہ کر چلا جائے کیونکہ یہ بات ہم استعمال کرتے ہیں اور اس کو استعمال نہیں کر سکتا تو پھر قرآن سے یہ دیکھیں کیا قرآن کریم نے جو چیزیں آپ ہمیں استعمال کرنے سے روک رہے ہیں وہ آپ کیا اگر پی ٹی آئی تھی تو پھر یہ تو اس سے پہلے کچھ اور لوگوں کے لیے پینٹنگ مسلم کا لفظ دیکھ لیں قرآن کریم میں واضح طور پر اللہ تعالی فرماتا ہے ملا تھا ابھی کم ابراہیم ابراہیم اسماء کومل مسلمہ کے ملت ابراہیم کو اللہ تعالی نے اس وقت بھی من قال وفی ہذا پہلے بھی اور آپ بھی مسلمان کرا دیا تھا حضرت اقدس ابن ابراہیم علیہ السلام نے جب خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے کیا دعا کی تھی ربانہ وجعلنا مسلمین کے خدا ہمیں مسلمان بنا دے کتاب کرنے والا بنا نہیں ہیں تو اگر مسلم کا لفظ ایک قوم کے لئے ہو جائے تو دوسری قوم اس کو استعمال نہیں کرتی پھر تو کوئی بھی مسلمان استعمال نہیں کر سکتا اس لئے کہ پھر تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے مسلم مسلم قرار دیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں کرتے رہے ہیں کہ مجھے میرے بیٹے کو مسلمان بنا دے تو پھر تو اگر پیٹ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے پیٹنٹ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے بیٹا ہے پھر کسی اور کے لئے بھی استعمال نہیں ہو سکتا اور پھر آگے مسجد کالر بھی آپ اپنی مسجد کو مسجد نہیں کہہ سکتے یہ بھی حیران کن بات ہے مسجد جہاں سجدہ کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے اس جگہ کو مسجد کہا جائے گا اور قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ مسلمانوں سے پہلے جو عبادت گاہیں تھیں ان کو بھی مسترد کردیا جاتا تھا مثال کے طور پر سورہ کہف میں اصحاب کہف کا ذکر ہے اور ان کی جب گفتگو ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے میں یوں گفتگو ہوئی کہ ہمیں کوئی بنیاد بنانے چاہیے تو اس میں جو فیصلہ ہوا جانی جو غالبا جو اکثریت سے فیصلہ ہوئے تھے کہ ہم مسجد بنائیں گے اصحاب کہف حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے ابتدائی تھے اور وہ قرآن گواہی دے رہا ہے کہ انہوں نے مشورہ کیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم مسجد بنائیں گے اگر مسجد کا لفظ بیٹا ہے تو پھر تو کوئی بھی دوسرا مذہب اس کو استعمال نہیں تو نعوذباللہ مسلمان نہیں کر سکتے لیکن انہوں نے تو پیٹ نہیں ٹھیک ہے جیسے اور بھی بناتا ہے بنائی لیکن آج کے لئے وہ حضرات جو ہیں نام نہاد علما منگا رضی اللہ انہوں نے اس کو کہتے ہیں ہمارا کاروبار کیوں کہ آج مسجد میں کاروبار کے طور پر چل رہی ہیں وہ دوسرے کو مسترد نہیں کرنے دیتے اگر نام چینج کی ہے تو وہ کرتے ہیں ان کا مسئلہ ہمارا تو نہیں ہے پھر اس کے علاوہ منافقین کی مسجد مسجد ضرار کا ذکر آیا ہے اب وہ اللہ تعالی نے اس کو گرانے کا بھی حکم دیا ہے اور یہ کیسی مسجد فرمایا کہ یہ رقم اس کی بنیاد نہیں ہے تو اس کے لئے بھی فرمائیں کہ اللہ نہ کرا تو کی تکلیف کے لیے دکھ دینے کے لیے بنائے گئے بنائی تھی اس کو گرانے کا حکم دینے کے باوجود اس کو مسجد ہی قرار دیا جائے نہیں کہا کہ اس کو مسجد نہ کہو کیا تم خدا اور خدا کا رسول تو اس کو منع نہیں کر رہے لیکن آج وہ کہتے ہیں کہ آپ نہیں کر سکتے پھر اسی طرح صحابی کا لفظ ہے کہ آپ صحابی کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں پرانے کریم میں یہ لفظ میں نے ابھی بولا ہے اصحاب الکہف قرآن کریم میں استعمال کیا جو کہ آپ کے ساتھی تھے وہاں پہنچ گیاواقعہ کسی کو آپ کہہ نہیں سکتے اس کی ممانعت کہیں بھی نہیں آئی اب قرآن کریم میں تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی خاطر محبت کرتے ہیں خدا تعالی کی خاطر کسی سے نفرت کرتے ہیں عزیز رشتے دار ہوں سرمایہ ایک اقتباس قلوبہم الایمان آئی ہیں جس کے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے وہ آیا مگر وہ اپنے علم کے ذریعے ان کی مدد کی ہے یہ لوگ جنات تجری من تحتہا الانہار اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں فرمایا رضی اللہ عنہم و رضو عنہ رضی اللہ عنہ کن کے بارے میں فرمایا یہ صرف صحابہ کے بارے میں تو نہیں فرمایا کہ ان تمام لوگوں کے بارے میں جو ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جو خدا تعالی نے بیان فرمائی تو یہ چیزیں ہیں اسی طرح علیہ السلام ہے اب علیہ السلام کہنے میں بھی قرآن کریم نے کتنی جگہوں پر السلام کا لفظ استعمال کیا ہے یہ ٹھیک ہے نبی علیہ السلام کو کہتے ہیں ہمارے شیعہ بھائی جو ہیں وہ اپنے نوح علیہ السلام ہیں اور بالکل ٹھیک ہے کوئی حرج نہیں ہے کہنے میں یہ قرآن کریم میں تو وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ہو کے بارے میں بھی حکم ہے کہ ان کو اسلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا ذکر آتا ہے کہ جب گفتگو ہو رہی تھی وہ مشرک تھے حالانکہ تو اس کے ان کے بارے میں بھی آتا ہے انہوں نے کیا کہا کہ اسلام نہ لگا سکتی ہو میں تیرے لئے استغفار کروں گا پھر اکیلا اکیلے ہیں یار بے گناہ عام لا یؤمنون کے نبی فرما رہا ہے عرض کر رہا ہے کہ یہاں خدا یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے نہیں لاتے تو اللہ فرمائے فاصفح عنہم وقل سلام ان سے درگزر قاری صھیب غیر مسلموں کے اوپر بھی نبیوں کی زبان سے تو سلامتی کے ہیں پیغام لائے جا رہے ہیں اور یہ کیا ہے کہ نہیں جی آپ کسی اور کو علیہ السلام نہیں کہہ سکتے ہیں جن کو نبی مان رہے ہیں ان کو بھی آپ علیہ السلام نے کہہ سکتے ہیں والی بات ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں تو کیا کہتے ہیں اسلام وعلیکم کیا مطلب ہے کہ تم پر سلامتی ہو اور جو وہاں موجود نہیں ہیں اس کو کہہ دیا علیہ السلام تو اس میں گناہ والی کونسی بات یہ نہیں مل رہے ہیں آپ پر سلام ہو ٹھیک ہے علیہ السلام ہے وہ غلط ہے تو یہ بات درست نہیں ہے کہ کسی کو علیہ السلام کہہ سکتے سب کے لیے سلامتی کی دعائیں مانگنا یہی بھی منع نہیں ہے جتنی بھی اصطلاحات کا ذکر ہے مختصر طور پر میرے خیال میں اتنا ہی کافی ہوتا ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ جتنی اصطلاحات ہیں یہ سب دعائیں ہیں اور یہ دعاؤں سے اللہ تعالی بالکل منع نہیں کرتا نہ کسی کو مسجد جانے سے منع کرتا ہے کسی کو مسلمان کہنے سے منع کرتا ہے آپ سمجھتے ہیں آپ سمجھتے ہیں لیکن اگر آپ زبردستی سمجھ رہے ہیں اس کا مطلب ہے خدا کی خدائی پہ ڈال رہے ہیں اور رسول کی رسالت کے اوپر ہاتھ ڈال رہے ہیں وہ خدا جو تمام جہانوں کا رب ہے وہ رسول جو تمام جہانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے آپ اس کو محدود کرنے کے نہیں وہ صرف ہمارا ہے اور کوئی جو ہے وہ اس کے اوپر کو اس کا حق نہیں رکھتا کہ لفظ استعمال کرے کسی کو حق نہیں ہے کہ محمد آصف سلمان بٹ کا اظہار کرے کسی کو حق نہیں ہے کہ اللہ سے محبت کا اظہار کرے مجھے اس موقع پر ایک سکھ کا شعر یاد آرہا ہے اس نے اچھا شعر کہا ہے کہ عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں کہا کہ محبت کرتا ہے یہ اس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہ مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی طرف آجائیں یہ کہ عالم اسلام میں واسطہ پڑا کہ یہ ہر ممکن طور پر ایک دوسرے کو اسلام سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ دعا بھی نہیں کرنی ہے تو میں اس کی بھی اجازت نہیں کی ان للہ وان الیہ راجعون بی جو مخلوق کو خدا کی طرف لانے کے لیے ان کے لیے دعا کرتا تھا اس نبی کی امت کے علاقے وہاں سے دور کر نبی سے بھی دور کر رہے ہیں اس ادا سے بھی دور کرتا ہے اس کے گھر سے بھی دور کر اس کی کتاب سے بھی دور کرتا ہے اس پے ہم کیا کہہ سکتے ہیں جس کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن ایک حقیقتاچھا وہ اور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے اس فلم کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ اپنی وفات کے بعد مجھے اپنا جانشین بنا دیں اور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی آپ نے فرمایا کہ اگر تو اس کا بھی مطالبہ کرو گے تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا وہ واپس آ گیا اور نبوت کا دعوی کر دیا اور اس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خط لکھا جس میں اس نے یہ لکھا کہ یہ علاقے اور میں بھی خدا کی طرف سے نبی ہوں مجھے بھی خدا نے مبعوث کیا ہے اور یہ علاقے میں رہے ہیں اس کے جواب میں اور ہم نے اس کے جواب میں قرآن کریم کی یہ آیت لکھی اس کی یہ جو مسلمانوں کے خلاف یہ اس کی اس طرح کی چیزیں شروع ہو گئی لیکن انہوں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں نے اس کو قتل کر نے فرمایا ابھی کتنا بڑا فتنہ ہے کر دیا ہے لیکن آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا حضرت اسامہ بن زید کا لشکر تھا اور وہ رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے تو پہنچادیا لیکن جو مسلمان تھا اس کو اس کے اس فتنے کے لیے نہیں بھجوایا اب اصل بات کیا ہے مسلمہ کذاب نبوت کے دعوے کی وجہ سے نہیں گیا بلکہ وہ اپنی بغاوت کی وجہ سے مارا گیا اس نے مامی اور صلی اللہ علیہ وسلم علیہ الصلاۃ والسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے جو وہاں کے گورنر تھے اس کو اس کے علاقے ان کے علاقے سے نکال دیا اس کے علاوہ اور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ کو اس نے پکڑا اور قدرت کے بنائے تھے اور ان کو زبردستی اپنی نبوت کے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا ان کو قتل کر دیا پھر ان کے اعضا کاٹ دیئے ان کو مسلح کیا تو ایک قاتل بھی وہی تھے مسلمانوں کے وہ قتل بھی تھا اس کے بعد اس نے اسلامی حکومت جو تھی اس کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا جس کے گورنر کو باہر نکال دیا پھر اس کا جو قبیلہ بنو حنیفہ اس نے مسلمانوں کے قبیلہ بنو عامر کے ساتھ کھلے عام جنگ شروع کر دی مسلمانوں کے خلاف جو بغاوت کرنے والے اور قبائل تھے ان میں ایک عورت بھی تھی ان کے ساتھ مل کر اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تو یہ وہ چیزیں تھی جس کی وجہ سے اس کے ساتھ دن بھر جو شرارت تھی وہ بڑھتی چلی جا رہی تھی اس نے قرآن کریم کے اندر تحریر کرنے کی کوشش کی اپنی عادت بنالیں اس نے جو نمازیں ہیں اس کے اندر اس میں تحریف و تبدیل کر دیں یہ تمام چیزیں صرف نبوت کی وجہ سے نہیں آیا اگر ایسی بات ہوتی تو پھر اس وسلم اپنی زندگی میں حضرت اسامہ کو واپس جانے کی بجائے سب سے پہلے اس کے قتل کا ارشاد فرماتے ہیں یہ تمام عوامل ہیں جو مسلمہ کذاب کی قتل کی وجہ بنے بنائے ہمیں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی کہ نبوت کا دعوی کیا ہے وہ حقائق کو پھیر کر جو کوئی بھی بات ملے اہمیت ہے اور اسلام کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اپنے اگلے پروگرام میں بھی ایسے ہی تاریخی حقائق سے متعلق گفتگو کریں گے اور ان کے بعد میں آؤں گا انشاء اللہ تعالی تین یہ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کیا تھا یا نہیں کریں گے آپ کا اس عمل کرنے کی تو وہ بھی محبت کرتی ہو گئی ہیں تو کوشش کرتے ہیں آپ کو لے لیتے ہیں یہ سلام علیکم ورحمۃ اللہمحلہ خان صاحب ایس علیکم خان صاحب سال کے نام کیسے ہو جاتا ہے لے کر اٹھو بعد دس سال میں میں انگریز راج میں ساڑھے چار ہزار افراد کو پھانسی دی گئی تھی کہ اکیلی تھی وہ تعلیم یافتہ تھوڑا ہی غلط کر دیجیے اپنے ناظرین کو بلا لیجیے کس کے لیے پیسے بھیجے میں جو انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کو عرصہ دس سال میں اس وقت مرزا صاحب کوٹلی ستیاں تعالی کا کوئلہ جلانے میرے اس سوال سے نہ کسی کو پیغام دینا چاہتا ہوں ماتمی اضافہ کے لئے اچھی باتیں اور 8877 ارسال کی تھی کہ ٹھیک ہے آپ کا سایہ آپ پر جب تک میں سمجھا ہوں وہ یہ کہ وہ ٹھہرا جو عوام پر انگریزوں نے کیا سمجھے جانا چاہتے ہیں ہم اس کے بارے میں دیکھے ہیں جس میں سیاست والا مجھ کو پھر آگے اس کے بارے میں خدا کرے تمام چیزیں تم پریشان کر جس سے تاریخ میں ہیں جن کے بارے میں گفتگو کریں گے اچھا تو ہمارے پروگرام کے تحت کو آگے بڑھاتے ہیں ان کے بارے میں بات چیت گفتگو کر رہے تھے ابھی آپ کے سامنے رکھیں تو آپ کا بھی ذکر کیا تو یہ کیسے عظیم الشان بھی ہیں آپ کی صداقت ثابت ہوتی ہے کہ ایک طرف آپ خالی فتویٰ کا ذکر نہیں کر رہے تھے بلکہ آپ ان باتوں کا ذکر کر رہے ہیں جو بعد میں بگاڑ سے تعلق رکھتی ہیں امت کا جو حال ہے اور میں جانے والے ہی نہیں تھی کہ اسلام ان شاء اللہ العزیز میں آجائیں گے وہاں اس بات کی بھی اس بات سے بھی لگایا تھا ہوشیار کیا تھا کہ امت کے اندر بگاڑ دیا جائے گا اور بگاڑ کے بعد پھر بھی شعر دی تھی کہ اس کے بعد پھر اللہ تعالی ایک میرے حسین کو یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امام علیہ السلام کو بھیجے گا اور وہاں کے اسلام اگر آسمان پر بھی ثریا ستارے پر بھی چلا گیا ہوگا تو اس کو واپس لے کے آئے گا جہاں تک گاڑی کا تعلق ہے تو اسے لے کے خلافت علی منہاج نبوت جو آخری زمانے میں قائم ہوئی تھی اس کا چند الفاظ کے اندر بیان فرمایا ہے کہ فرمایا کہ رہوں گا جب تک اللہ چاہے گا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے بعد پھر میرے بعد اللہ تعالی خلافت علی منہاج نبوت کرے گا پھر وہ جب تک اللہ چاہے گا تو پھر اس کے بعد بادشاہت قائم ہو جائیں گی ان کی خلافت کا خاتمہ ہوجائے گی اور خلافت کے بعد بادشاہت قائم ہوگی پھر تکلیف دے شروع ہوجائیں گے اور پھر آخر میں فرمایا سنت کو خلافت علی منہاج نبوت پر دوبارہ آخری زمانے میں خلافت علی منہاج نبوت پر قائم ہو جائے گی اب یہ جو درمیان کا عرصہ ہے ایک خلافت ختم ہونے والا وہاں سے لے کر کے فرمایا کے میں بہترین صدیق ہوا جس میں مقرر خصوصی گروہ سے وابستہ ہوتی ہوئی وہ تین سو سال تک تو کسی حد تک رہی اس کے بعد اگلے ایک ہزار سال ہے ایک سال کو کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی بگ اس میں شروع ہوجاتا ہے اور خاص طور پر جب آخری زمانہ ہے یا نہیں یہ تو خلافت کا ختم ہونا ہی اس بات کی علامت تھی کہ وہ مشہور تھے کل آپ پر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ اور خلافت کا ختم ہونا اس بات کی اور عمل صالح میں کمی آگئی ہے خلافت کے قابل نہیں رہے خلافت اٹھا لیا گیا لیکن بادشاہ نے کسی حد تک پھر بھی وہ بہتر تھی لیکناور جو علماء ہوں گے ان کے وہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے جن سے ایمان کی حفاظت کا امکان ہو سکتا تھا وہ خود ان کی یہ حالت ہو گئی کہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہو جائیں گے منٰی میں ہم کو دخل جو فتنہ تو ایسے فتنے نکلیں گے میں لگاؤگے تو ایسے نکلتے اپنی میں جاتے وقت نے نظر آئیں گے اور پھر اسی طرح کنزالعمال میں نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا میری امت میں گھبراہٹ چھا جائے گی ورنہ سوال اولاً تو لوگ اپنے علماء کی طرف لوٹیں گے اعظم گرہ تھا ناخن گرہ تو وہ دیکھیں گے اور امان نہیں ہے وہ بندر اور خنزیر ہیں ان کی یہ کیفیت ہو جائے گی ان کے اعمال اس طرح کے انتہائی گندے میں بیان کی تھی یہودیوں کے ساتھ کہ میری امت کے اوپر بھی ایسا زمانہ آئے گا جیسے یہودیوں کے زمانہ تھا کی وجہ سے قرآن کریم بیان فرماتا ہے ہمارا تعلق نہ کہ ان میں سے بندر اور سور بنا دیے گئے کہ ان کی حرکتیں ایسی تھی یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب لوگ اپنے علماء کی طرف جائیں گے تو یہ بھی اسی طرح کو پائیں گے اتنا بھی گاڑی اس دور میں پیدا ہو جائے گا پھر اس نے ایک اور حضور سلم نے یہودیوں سے مشابہت کی وجہ سے میں نے عرض کیا فرمایا کہ میری امت کے اوپر اسی طرح کے حالات آ جائیں گے جیسے بنی اسرائیل کے اوپر تھے اور اس نے مختلف روایات ہیں اس میں اگر جمع کیا جائے تو فرمایا کہ اسی طرح کے آ جائیں گے جیسے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے برابر ہوتا ہر جگہ عام پر آئیں اور ایک روایت میں ہاتھ باندھنا علی بنا لے کے ایک جیسے جوتی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے اور یہاں تک کہ اگر وہ کسی گو کے سوراخ میں داخل ہوئے یہ بھی کوشش کریں گے اس میں داخل اگر وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے تو یہ طریقوں میں تقسیم ہو جائیں گے اور پھر اس داڑھ کے دور میں جو علامات بیان کی گئی ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسان سواتی قیامت برپا ہوگی جب امانت جائے گی اور نااہل لوگوں کو سر بنا لیا جائے گا اور پھر مزید فرمایا کہ پھر 7 بجے گی جب علم اٹھ جائے گا جہالت عام ہو جائے گی زنا کا ثبوت کے ساتھ ہوگا شراب کا ثبوت کے ساتھ دی جائے گی مرد زیادہ ہوجائیں گے عورتیں کم ہو جائیں گی اسی طرح پھر اسدالغابہ کے اندر بھی ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ علم اٹھ جائے گا اس زمانے میں جو غلام آیا وہ بھی علم نہیں رکھتے ہوں گے تو صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ اس طرح ممکن ہے کہ علم اٹھ جائے گا کہ یہ علم کیسے ہو جائے گا ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کیا یہودیوں کے پاس اور عیسائیوں کے پاس تورات وانجیل نہیں تھی کہ انہیں تورات اور انجیل ہونے کے باوجود وہاں سے ہٹ گئے تو یہاں بھی یہ ہوگا کہ کتاب تو موجود ہوں گی لیکن کتاب کے اوپر عمل نہیں کیا جا رہا ہو گا اس کو صحیح سمجھا نہیں جا رہا ہوگا شہید بیان نہیں کیا جا رہا ہوگا جس سے وہ غلام ابھی خدا سے اور خدا کے رسول سے دور ہو جائیں گے اور پھر وہ جن کو آگے سمجھا رہے ہو کہ ان کو بھی خدا اور خدا کے رسول سے اور دین سے دور کرنے کا باعث بنے گی کرنے کا باعث بنے تو یہ موٹی موٹی نشانیاں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں اس کے متعلق اور جو فتوحات کے بعد جو بگاڑ کا دور نہ تھا اس کے متعلق بیان فرمائی ہیں اور بڑی وضاحت سے وہ چیزیں سامنے آئی ہیں جو رسولاس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کیا خیال ہے آپ نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتاب بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اور اولیاء قیادت سے رحمت نازل ہوتی ہے اور خدا نے بھی انبیاء کا تذکرہ کی ترغیب دی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جانے جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو ہوجائے نہیں خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ آج کل کے مولویوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بھی دعا خدا کے منشا کے خلاف ہے اگر بدعات نہ ہو تو پھر تو وہ ایک باغ ہے جس کی پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو مجھے جواب ہے بات ہے جس کے جو اس کے بارے میں ہے اس بات کا تعلق ہے راشدین کے زمانہ میں ایسے میلاد منانا جائز ہے یا نہیں اگر کوئی ایسی برائی نہیں سکتا لیکن اس کے ساتھ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا ہی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا ذکر قرآن میں کیا ہے اور صحابہ کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ دنیا بنا کر بیٹھ جاتے تھے کہتے تھے اور ایمان تازہ کریں اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں یاد کرکے روتے بھی تھے یہاں بھی کرتے تھے ان کا ایمان تازہ ہوتے تھے لیکن وہ اکیلی جگہ جانے ہوتے تھے یا کوئی ایسی محل بنائے جاتے تھے اور اس طرح کی اور جس طرح کی آج کل بعض ایسے افراد پائے جاتے ہیں ساری ساری رات جاگ کر اللہ کے بعض ملکوں میں بعض علاقوں میں تو اتنا شور شرابہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے لئے وہاں پر رات گزارنا مشکل ہو جاتا ہے ان چیزوں کا محمد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا ہے تو اس کی ضرورت کیوں پڑی ہیں نفل پڑھیں اور تہجد کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے اپنے بچوں کو بٹھا کر بتایا جائے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے اور آپ کی تعلیمات ہماری زندگی میں کیسے رہنمائی کرتی ہیں تو یہ طریقہ ہے میلاد منانے کا صحیح جامع الفاظ اس نے پیش کی ہیں کہ جن کا ذکر موجود ہے ایسی باتیں جن سے توحید نہیں دیتے تو نہیں ہوتے نا فضل الرحمن صاحب بہت شکریہ ہمارے یہاں پہ تھوڑا ہے لیکن جو منصبوں تھی وہ پیشے سے متعلق تھی ابھی میں نے فرمایا قیامت میں کیا حالات ہیں گھر آئے گا ایسا نقشہ کھینچا کہ انسان ہو جاتا ہے اس وقت ایسی پیش خبریوں اس طرح اس دن جب ہم بالکل دیکھ رہے ہیں تو یہ پہلو سے جو بگاڑ کا پہلو تھا لیکن زندہ نبی ہیں اور قیامت کے متعلق خیر بہترین امت اللہ تعالی نے فرمایا ہے کیا اس وجہ سے جو ہے وہ مکمل بیان جیسے ان اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ ایک ایک کر کے پورے ہوتے ہو گویا پوری ہوتی ہیں جس کا آخری دن تھا یقینا یہ بھی وقت کے ساتھ اس کا پورا ہونا مقدر تھا اور الحمدللہ کی یہ جماعت احمدیہ کا امانت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تھا وہ خلافت علی منہاج نبوت جماعت احمدیہ میں قائم ہے یہ سب سے بڑی یہ خوشخبری تھا اس گا جو امت کے اندر بگاڑ اور مختلف ادوار اور سر سے گزرے گی تو اللہ تعالی پھر ایک دفعہ پھر اس کا اعادہ فرمائے گا اور آپ نے پھر توحید کا کیا ہوگا پھر اس شریعت کوسورۃ جمعہ میں بھی ہمیں بالکل واضح ہے اس کا اشارہ ملتا ہے کہ جب سورہ جمعہ اور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وآخرین منہم لما یلحقوا م کے الفاظ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے سامنے پڑے تو صحابہ نے سوال اٹھایا کہ وہ آخر یہ کون ہے اور کب یہ آپ کی ہوگی تو آپ صلی اللہ وسلم نے اس میں وہی جواب دے دیا کہ جب دنیا سے ایمان اور عمل صالح ختم ہو جائے گا اور خلافت آتی اس وقت ہے جب ایمان اور عمل صالح دنیا میں قائم ہو اور ایمان اور عمل صالح نبی کے ذریعہ ہے تو آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام القریٰ یہ لال اور چالان نہ آئے اب اس حدیث جو یہ حدیث ہے اس کے بارے میں اظہار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر رکھا اور ایک واحد وہ اس محفل میں صحابی تھے جو غیر عربی تھے اور آپ تھا اور جو آنے والا ہے یہ بھی عجیب دلچسپ بات ہے کہ فارسی النسل اور فار سے اور دعویٰ کرنے والا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے حضرت امام ابو حنیفہ کو لوگوں نے کہا کہ وہ اس سے مراد حدیث ہے لیکن انہوں نے خود اپنے آپ کو اسلام نے یہ ثابت کیا کہ وہ فارسی الاصل ہے اور آپ ہیں وہ موجود ہے جس کے بارے میں اظہار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح اس بگاڑ کے قبیح اتنی سی بات یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کا ہو گا یہاں تک کہ یہ خود کے مشابہ ہو جائے ہے اگر مریض کے مرض بتاتا جائے کہ آپ کو یہ سکھایا ہے یقینا نے امت محمدیہ میں ان کی نشاندہی فرمائی وہاں اس کا تدارک اور اس کے دوا کا بھی ذکر فرمایا ہے اور بشار حکومت کو کہ جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے تو اللہ تعالی میرے نقش قدم پر میری امت میں سے ایک موت کو جو میری صفات لے کر میرا دل ہو گا وہ دوبارہ دنیا میں اسلام کا احیاء کرے گا اور یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ساری احادیث ملتی ہیں اور اس کا ہوگا اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ بھی فرمایا کہ اللہ ہی بحال عمر میں شادی نہ کے سلسلہ کی خوشخبری سنائی اور پھر اس کے بعد فرمایا اس کے ساتھ ساتھ امت کبھی بھی ناکام و نامراد نہیں کر سکتا جس کا آغاز ہو اور اس کے آخر پر ہو تو اس کا یقین یہ مطلب ہے کہ حضرت عزیر علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم زمانہ میں آئیں گے اور ان بیماریوں کی جو انتشار کے وقت آئیں گے اور حضرت عیسی بن مریم کو منظور کریں گے اور اس کے بعد ایک اور بھی حدیث میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک یہ نشانیاں ظاہر ہوجائیں اس میں کیا تھا آپ نے ان کا جو ہدایت کا ذکر فرمایا بیماری تعاون کرنے کا ذکر فرمایا میں مغرب ہاں نزول عیسیٰ بن مریم یاجوج ماجود اور اس کے علاوہ کسوف و خسوف کا ذکر فرمایا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تمام پیشن گویاں پوری ہوگئی ہیں وہ زمانہ ہے جو ظہور امام مہدی اور مسیح بن مریم کا تھا اور وہ اپنے عین مطابق بدھوکے السلام کے وہ آیا اور اس نے خدا کی طرف سے یہ خوشخبری آپ آئیں اور امت محمدیہ کو دوبارہ اسلام کی حقیقی تعلیمات جوان صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے سامنے پیش کیا اور اس دوران تعلیم حقیقی کو پھیلانے کے لیے جماعت احمدیہ اپنی پوری کوشش اور پوری اپنی طاقت صرف کر رہی ہے کہ اس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے تمام دنیا آشنا ہو کر یہ اصل میں مسلم لیگ کا قیام کا مقصد ہی ہے جو ہم سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں کرتے ہیں کہ مخالفین تو جذبات کو بھڑکانے کے لیے عوام کو جو ناواقفیت کو اسلام کے خلاف کرنے کے لیے گویا الزام لگاتے ہیں کہ کوئی نئی نبوت کا دعویٰ کردی ایک مستقل بود کہ اس کے خلاف ایک مضبوط کا استعمال اسلام کی آمد صرف اسی مقصد کے لیے تھے کہ رسول اللہ صلی وسلم کے دین کی خدمت کی جائے اس دن کو پھر سے زندہ کیا جائے گا کہ آپ نے بہت اچھے انداز سے اس بارے میں بتایا ہے کیا تھا کہ مہدی کی علامات کیا ہیں ہمیں بتائیں تو کچھ علامات کا بھی آپ کے سامنے ذکر ہو گئے لیکن اشارتا ذکر ہوا ہے ہماری اس میں آگے جاکر انشاءاللہ ارادہ ہے کہ اس سے بھی کریں ہم اِسی حوالے سے مہدی کے حوالے سے جو بالخصوص آپ سے گفتگو کریں اور تفسیر کے ساتھ تو ساری علامات اور اسباب ہیں جن سے جو سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں وہ ہمارے ناظرین کے سامنے پیش کریں تو ہم آگے چلتے ہیں انشاءاللہ صبح آپ سے درخواست ہے مولانا صاحب کی کال آئی تھی وہ اپنے سوا کا حضرت کعب بن مالک کا ذکر کیا تھا اس دن سے پیش گوئی کی پیشگوئی فرمائی تھی وہ ایمان بھی مانگی تھی تاکہ سامان بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کی حکومت تھی اس وقت آپ کے پاس کیا مان دی جارہی ہے تو سہی بتائیں دیکھیں حکومت تو جیسا کہ میں نے عرض کیا اس وقت کیفیت کی حکومتوں لگ رہی ہے آپ کو تو اپنے شہر میں رہنے نہیں دیا جا رہا تھا اپنے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی بلکہ آپ کو قتل کرنے کی کوشش ہو رہی تھی اور وہ اس وجہ سے آپ اللہ تعالی کی اجازت کے ساتھ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہجرت فرما رہے تھے اس نے انہوں نے یعنی حضرت سراقہ بن مالک نے یہ امان کیوں لگی تھی میں سمجھتا ہوں اس لیے کہ اگر وہ روایت پر اس روایت کے اندر یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ عام ہستی نہیں ہے یہ کوئی غیر معمولی ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے تو سارے حالات مکہ کے دیکھے تھے کہ آنحضور صلی وسلم کے ساتھ اس طرح پیش کیا جا رہا ہے اور پھر اس حالت سے بھی واقف تھے کہ آپ کو قتل کرنے کا کس قدر بڑا منصوبہ بنایا جائے اور وہاں سے نکل جا  انا کوئی آسان کام نہیں تھا جب اس چیز کی بھی اس نے تباہی دیکھی کہ آنحضور صلی اللہ نکلنا ناممکن تھا آپ کے لیے وہاں سے خدا تعالیٰ آپ کو بچا کر لے گیا اور پھر جب یہ دیکھتے ہیں کہ وہ گھوڑا لے کے پیچھے پکڑنے کے لیے جا رہے ہیں بالکل قریب پہنچ گئے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ رسول پاک صل وسلم آپ کے ہاتھ سے نہیں جاسکتے تو تھوڑا کر جاتا ہے اور وہ تقریب میں پھنس جاتا ہے اور پھر وہ فال نکالتے ہیں تو فعل نہیں نکلتی جو عربوں کا طریقہ اس کے مطابق دوسری دفعہ کوشش کرتے ہیں گھوڑا پھر جاتا ہے وہ پھر فال نکالتے ہیں بھارت سے نہیں نکلتی تیسری دفعہ ٹرائی کرتے ہیں گھوڑا پھرتا ہے اور پھر فال نکالتے ہیں وہ پھر سہی نہیں نکلتی تو اس وجہ سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں ہے جس کا مجھے پیچھا کرنا پڑ رہا ہے یہ کوئی غیر معمولی انسان ہے اور یہ ایک دن ضرور غالب آئے گا گاگواہی دے رہا تھا کہ شخص غالب آنا ہے تو اس کو پھر یہ خیال عربوں کے دستور کے مطابق آنے کا امکان ہے اس کو یہ خیال آیا ہوں کہ جب انہوں نے غلبہ پانا ہے تو ایسا نہ ہو کہ پھر اس وقت مجھے یہ بدلہ لیں تو اس وقت میں نے درخواست کی کہ مجھے امان لکھ دیں میں آپ کے پاس اس نیت سے آیا تو ضرور تھا لیکن یہ میری غلطی تھی اور اس کے اوپر انہوں نے یہ امانت کی درخواست کی اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو امان دے دی تھی کہ صرف اور صرف ایک منٹ ہے فضل صاحب اگر آپ بتا دیں یہ عثمانی صاحب جاننا چاہیں گے کہ ہم وسلم نے کب حج کیا تھا اس نے نماز وغیرہ فرض ہوئی یہ شروع کے ہم ہیں ہی اچھا پروگرام ہے عمل کریں تو یہاں پر یہ بتاتا چلوں کہ ہمارا اگلا پروگرام ہے وہ ہم ایک خاص موضوع پر کریں گے تو جیسے کہ حضرت مسیح موعود اسلام تشریف لائے تو اس کے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ ما کنت بدعا من الرسل ہے کہ میں اس سے ہٹ کر نہیں ہوں اس میں اس طرف اشارہ ہے جس سے دوسروں سے شروع ہوتا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا تو یہی بات ہے ملوانہ نسیم الاسلام بھی دیکھتے ہیں کہ جیسا سلوک پہلے گذشتہ انبیاء کے ساتھ ہوتا رہا تھا ہوا ہے جو باتیں میں مذکور ہیں وہ کسی نہ کسی رنگ میں مشکلات میں ایک چیز جو ہمیں گزشتہ انبیاء کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ جو مخالفین ہے وہ ایک وقت کے بعد جو ان کی حقیقی اور اصل تاریخ ہے جو ان کی تصویر ہے اس کو ہم سفر کرکے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر حقائق کو مدنظر رکھ کر دوسرے رنگ میں باتیں بیان کی جاتی ہیں اور حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی سے متعلق ایسا ہی ایک واقعہ ہے جو پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے ساتھ پیش آیا جس میں آپ نے تحصیل میلسی کا چیلنج دیا تھا تو اس بارے میں ہم انشاءاللہ اگلے پروگرام میں بڑی تفصیل کے ساتھ دیا گفتگو کریں گے کیا حقیقت تھی کہ وہ اپنے چلے گیا تھا کیا وجوہات تھیں اس کا کیا نتیجہ نکلا اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا قدیم نام رمضان صلی صلی

 27 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: