Rahe Huda – Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad Qadiani pubh – Angrez Ki Sazish ka jawab




Rahe Huda – Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad Qadiani pubh – Angrez Ki Sazish ka jawab

Rah-e-Huda – 30th November 2019 – Frankfurt Germany

اس سے اعوذ باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج 30 نومبر ہے جی اور ہم تو گرامر کے ساتھ یا جنسی پتھر ہے راز ہمارے اس سیریز کا جنگ فلم پیش کی جارہی ہے اس کا یہ چوتھا پروگرام ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارا یہ پروگرام لائف ہے براہ راست نشر کیا جاتا ہے اسی طرح سے انٹری ہے مقصد یہی ہے اپنا سوال پیش کریں الالماس یہاں سے بھی کر سکتے ہیں اور کریں گے ماتحت یہاں شریک گفتگو ہمارے ایمان و کرم شمشاد احمد کمال صاحب ہے اور اسی طرح مقرر السلام علیکم ورحمۃ اللہ سے بذریعہ فون سات شامل ہوں گے صاحب السلام علیکم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جیسا کہ آپ پہلے بھی دیکھتے آرہے ہیں ہمارے سے پروگرام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہمارے بھی اس کو جماعت احمدیہ کے حقیقی تعلیم اور جو عقائد ہیں ان کے متعلق ہم انہیں پہنچائیں ایسا پلیٹ فارم یہاں پیش کیا جائے اور جس پر بغیر کسی مشکل کے سلمہ سے براہ راست رابطہ کرسکیں جماعت احمدیہ مسلم کے بانی حضرت مرزا غلام قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام آپ کے عقائد رکھتے تعلیمات کے بارے میں آپ کے ذہن میں جو بھی سوال ہو تو آپ ایسا کر سکتے ہیں یا پھر اگر کسی مخالف ایسا اعتراض ہو جس آپ حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو تب بھی آزما حصہ دیا رابطہ کریں کیسا رہا آج کا پروگرام بھی یہ کچھ اس طرح سے ہے کہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے خلاف مخالفین کی طرف سے جو بے بنیاد باتیں اور اعتراضات پیش کیے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے آج ہم وہی چند باتیں لے کر آپ کے ساتھ پاکستان میں پیش کریں گے آپ ایسے عقائد منسوب کئے جاتے ہیں جو ہر مسلمان کو اپنا قائد نہیں تھے اور ایسے الزامات بھی جو آپ کی ذات کے ساتھ کسی طرح سے ان کو جوڑنا آپ بالکل بے بنیاد ہے اور یہ تاریخ اصل میں کیا طریقہ نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے اسم دیکھتے آرہے ہیں کہ جب کبھی بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مثال آتے ہیں کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص بھیجا جاتا ہے اور جب اس رسم کو کامیاب نہیں ہوتے تو آئی کاروائی ہوئی ہے ان کی طرف سے بلکہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ کو ہے اور باتوں کو دوسروں کو دیکھ کر من گھڑت باتیں توڑ باتیں پیش کی جائے تاکہ کسی طرح سے نفرت پیدا کی جائے آج پیدا ہوا لوگوں کو خدا تعالی کی طرف سے مامور شخص سے متنفر اردو رکھا جائے تو یہ سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی اطاعت اور نسرین اتنی ہی نمایاں طور پر اس طرح یہ شخص کے خلاف لوگ ان باتوں کے نتیجے میں بعض ٹکڑے بھی ہو جاتے ہیں خدا تعالی اس کو تمام باتوں کے باوجود کامیابی دیتا ہے تو آج بھی ہمارے اس پروگرام کا جو سلسلہ ہے جو آج کا جو ہے ایسے ہی ایک مندر تک شاہ صاحب آپ سے درخواست کروں گا کہ وہ اسلام کے بارے میں جو مخالفین ہے وہ ایسا ایک قصہ بھی کرتے ہیں بیان کرتے ہیں کہ محسن کے انسان ہو جاتا ہے کہ باتوں میں کہاں سے لیا گاجی جاتا ہے کہ جب انگریزوں کا انگلستان پر تسلط تھا تو اپنی حکومت کو کس طرح سے مضبوط کرنے کے لئے اور دوام حاصل کرنے کے لیے ایک سکیم سوچی تھی اور اس کی جو مسلمان ہے ان کو کسی طرح سے کمزور کیا جائے اور ان کے دلوں میں محبت ہے اور اس کے رسول کے لیے حضرت محمد صلی محبت کسی طرح سے ان کے دلوں سے ہٹا دی جائے یہ پھر ایک کی بنائی کہ کوئی ایسا شخص کھڑا کریں ہم جو بطور نبی کے آئے دعویٰ کرے اور مسلمانوں کو ان کے اپنے نبی سے ہٹا دے اور وہ شخص انہیں ان ابے ان کے ایجنٹ ہو وہ بات اگر مزید اس سے چلتی ہے کہ گویا پھر چار سو افراد پر مشتمل ایک وقت آیا وہ انگلستان آیا اور انسان عمر 423 لوگوں کے قریب 50 لوگوں کے بیان کیا گیا ان کا انٹرویو لیا کار کا انتخاب وہ چاروں کے جا کے غلام قادیانی کا انتخاب ہوا جن کو پھر بعد میں انہوں نے پھر اس کام کے لئے چنا کے باعث یہ دعویٰ کریں اور مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرے تو جب بھی رکھتے بات مزید آگے بڑھتی ہے اور کوئی اپنی بات کو مزید تقویت دینے کے لیے حوالہ دیتے ہیں جاتا ہے کہ آپ جائیں بٹ صاحب یہ کتاب ملتی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں اس سے بہتر ہے کہ جو بات ہم یہ کر رہے ہیں سارے معاملے پر لکھی ہوئی ہے یہ ساری تو یہ چیز جا رہا ہے قطر کیا سچ ہے عصمت بتائے اعوذ باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ جو بھی کہانی آپ نے سنائی ہے مخالفین یہ بڑے اسے سناتے چلے جا رہے ہیں اور پچھلے پروگرام میں بھی آپ نے فرمایا تھا ایک حوالے سے کہ اتنا جھوٹ بولیں اتنا جھوٹ بولا کہ وہ سچ نظر آنا شروع کردیں شروع ہو جائے مخالفین نے بھی یہی کہتی رہی تیار کیا ہوا ہے ایک دفعہ بیان کریں بار بار چھوٹا ہونے کے سمجھیں کہ یہ سچ ہے ابھی آپ نے بتایا کہ مخالفین یہ کہانی بیان کرتے ہیں کہ چار سو بندوں کے انٹرویو لیے یہ نہیں بتایا کہ وہ انٹرویو لینے کے لیے چار سو کا انتخاب کیسے کیا تھا کہیں کوئی اشتہار دیا تھا لینے کا طریقہ کار تو یہ کسی اخبار میں کسی رسالے میں اعلان ہوتا ہے تو پھر وہ لوگ اپلائی کرتے ہیں یہ نہیں بتایا کہ انٹرویو 400 کا وقت کتنے پلائی کیا تھا کیا ہوا تھا خواب میں استخارہ کیا تھا اس لیکن کس طرح 421 لیکچر کوئٹہ اکثر یہ ہے خیال کیا جاتا ہے کہ جی آئی والا فریشنر ایر انڈیا اس نام سے رپورٹ شائع ہوئی اور یہ آج بھی برٹش لائبریری کے اندر موجود ہے اس سے بڑھ کے جھوٹ کوئی نہیں ہے اس لیے کہ ساری چیک ہوچکی ہے بالکل من گھڑت کہانی ہے اس نام سے نہ کوئی اس لائبریری کے اندر رپورٹ موجود ہے نہ کوئی کتاب موجود ہے نہ کوئی عوام بیچارے سوری لوگ ہیں اور یہ مولوی اتنے پکے انداز میں اس کا نام لیتے ہیں کہ دیکھیں انگریزی کی ایک کتاب کا ایئرپورٹ کا نام لیا جا رہا ہے بتایا جائے کہ برٹش لائبریری میں یہ بے برٹش لائبریری کے اندر موجود ہے حالانکہ یہ جب سے یہ جھوٹ بولنا شروع ہوا ہے تب سے جماعت اس کی تحقیق کر لیا یہ فرشتوں کو بھی پتہ نہیں ہمارے پاس اس نام کی نہ کوئی رپورٹ نہ کتاب نہ پڑھ لے کوئی چیز موجود نہیں ہے اصل میں بات یہ ہے کہ یہ بنیاد رکھی گئی ہے نا 59میں خالد پریس سرگودھا سے اسے ایک کتاب کا شائع ہوا آپ کے اندر یہ جھوٹی کہانی سے کی گئی جس کا سرے سے کوئی سر پہ نہیں ہے بلکہ وٹامن کھڑا ہے کسی لائبریری کے اندر موجود نہیں ہے کعبہ کی وہاں سے شورش کاشمیری صاحب نے 1973 میں عجمی اسرائیل اس کے اندر لے لیں اور پھر 2011 میں جو 7 ستمبر خصوصیات اخبار میں شائع ہوتی ہے ہمارے خلاف اس کے اندر سرگودھا سے کسی صاحب نے غلط فہمی کو دور تھے انہوں نے اس اسکول یا وہیں سے لے کر یہ ایک سو سات کے اندر کی یہ ہوئی ہے ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مسیح علیہ السلام کے پوتے بھی ہیں اور ماشاءاللہ جماعت کی بڑی طلب ڈاکٹر نے کے ساتھ ساتھ یہ علمی خدمات بھی کر رہے ہیں پروگرام میں اس چیز کا برا کیا تھا وہ کہتے ہیں کہ جب یہ اخبار میں شائع ہوئی تو اسی اخبار کا حوالہ لے کے انہوں نے ایمیل کی اخبار کو ان کا برٹش لائبریری والوں کا طریقہ کار ہے کہ جو بھی تحقیق کے لئے ان کو لگتا ہے وہ اس کا ریکارڈ رکھتے ہیں تو جواب دیتے ہیں اس کا بھی ریکارڈ رکھتے ہیں انہوں نے اپنا نام ایڈ بھی بتایا کہ یہ میرے استعمال کی آئی ڈی ہے زیرو زیرو سیون 475 سے آئی تھی انہوں نے بتایا کہ ابھی کو چیک کر سکتا ہے کہ انھوں نے پوچھا کہ نہیں 57 سے لے کے اگلے بیس سال تک کوئی اس نام کی کوئی رپورٹ کوئی کتاب پڑھ لے تو آپ کا ہوا انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے سارا چیک کیا ہے ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے پاس اس نام کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے پورٹ کا تو حقیقت یہ ہے کہ یہ ہے ہی نہیں سرے سے لوگوں کو ٹوٹل جھوٹ بیان کیا جا رہا ہے سے کام لیا جا رہا ہے اور یہ اصل میں ہوا یہ تھا ایک اور چیز دیکھی جب یہ شائع ہوئی انیس سو ستاون میں اس وقت پر آگے چلتی رہی ہے مولانا دوست محمد شاہد اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے کتاب لکھا مذہب کے نام پر پھنسانا اس کے اندر انہوں نے اس رپورٹ کے ساتھ یہ پہنچا کیا ہوا ہے اس میں انہوں نے یہ رپورٹ دیا کہ دیکھیں یہ کتاب جو اصل میں خالد پر سرگودھا سے 960 میں چھپی تھی یہ اس کا نام انگریزی میں احسن رنگٹون ہو اور اس کتاب کا اردو ترجمہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے شائع کیا سوچنے کی بات کے نام سے پھر وہ لکھتے ہیں یہ رپورٹ اس کے اندر کے لئے برای بالا بردن پاکستان انڈیا کے نام سے یہ رپورٹ شائع کی گئی کہ سارے انٹرویوز وغیرہ لینے کے بعد یہ رپورٹ پیش کی جائے کہ ہم نے وہ بندہ ڈھونڈ لیا گیا بندہ ہوگا کورٹ کہاں پیش کی گئی اس کتاب کے اندر جو مجلس تحفظ ختم نبوت شائع کہ اس کتاب کو یہ رپورٹ پیش کی گئی اس نام سے کہاں پہ وائٹ ہاؤس لندن میں وائٹ ہاؤس لندن میں آپ اندازہ کریں ان کی علمیت کا وائٹ ہاؤس کا شاید پتہ نہیں ہے اگر پتہ تھا اس کا نام سچائی سن رکھا تھا لیکن یہ پتا نہیں تھا کہ وہ لندن میں ہے یا امریکہ میں ہے وائٹ ہاؤس لندن میں یہ رپورٹ پیش کی گئی اور آج بھی لندن کی لائبریری کے اندر موجود ہے دنیا کے کسی حصے میں موجود نہیں ہے مجھے پتا نہیں کہ بائٹ ہاؤس کیا ہے پتہ نہیں کہ وائٹ ہاؤس لندن میں آکے اس نے پیش کی جانے والی رپورٹ بھی اسی طرح ہے جیسے وائٹ ہاؤس لندن کے اندر ہے اصل میں یہی ہے اچھا ایک اور مولوی صاحب ہیں وہ بریلوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں بابا مولوی محمد شوکت علی چشتی صاحب انہوں نے اپنی کتاب کے متعلق تقریر کے اندر وہ ختم نبوت کے حوالے سے انہوں نے لکھا میں نے ایک اور کیونکہ وہ بریلوی ہیں انہوں نے الزام دیوبندیوں کے اوپر بھی ادھر آیا کہ جب یہ سارے ہر غیر ہوا ہے یا نہیں کی ان کو تلاش تھی اور نبی تلاش کرنے کے لئے انہوں نے سارا یہ سیٹ دیا اس کا راستہ بھی انہوں نے پیار کرنا تھا تو وہ راستہ اختیار کرنے کے لئے انہوں نے سلیکٹ کیا مولانا قاسم نانوتوی صاحب کو کہا کہ کوئی ایسا صدمہ دی جسے زمانہ میں پھیلے کے اجنبی آ سکتا ہے تو پھر ناز کتاب لکھی اور اس یار کی خاتم النبیین کے کا مطلب یہ ہے کہ شرعی نبی نہیں آسکتا لہذا آپ کے بعد اگر کوئی نبی آجاتا ہے تو وہ آپ کی خاتمیت کے خلاف نہیں ہے تو یہ اس کے اوپر انہوں نے مولانا قاسم نانوتوی نے پہلے بتا دیا اس کے بعد پھر مرزا صاحب نے بویا حضرت موسی علیہ السلام کے احساسات قاسم نانوتوی صاحب کو بھی جو ان کے فرقے کے خلاف تھے ان کو بھی اندر انہوں نے شامل کرلیا اب یہ ان کی تحقیق کے معیار ہیں بے شرم لوگوں کے سامنے اس طرح کرتے ہیں کہ گویا ہم ان بے چاری نہ تحقیق کرتی ہے لیکن ہم دعوت دیتے ہیں جو آپ نے پوری تحقیق کی ہے اس کے اندر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں اور برٹش لائبریری ایمیل کرنے کے علاوہ خود جا کے وہاں پر اگر کسی کو مل جاتی ہے تو وہ ہمیں بھی دکھائے کہاں پہ اگر انہوں نے ماہ حضور صلی اللہ کے ناول محبت کو ختم کرنے کے لئے نبوت کا دعوی کیا وہ سلیکٹ کیا جو نبی پاک صل وسلم کی نبوت تقریر محبت کو کم کرنے کی بجائے صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہوا ہے پاکستانیوں کے اوپر یہ ثابت کر رہا ہے کہ آج دنیا میں ہے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جگہ کسی اور مقصد کے لئے تھا اور وہ مقصد کوئی اور کر رہا ہے اتنا تو تھا کہ نعوذباللہ من ذالک احساس کی محبت کو کم کیا جائے یہ فرما رہا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ملا ہے مصطفی صلی اللہ سلم کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے کہ باقی لوگ بھی پیار کریں گے کہ اگر یہ مل سکتا ہے تو پھر عہد صلی علیہ وسلم کی ذات سے کیوں نہ باقی بھی محبت کریں یہ کہ وہ نہ صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بٹھا کے پیش کر رہے ہیں کے جو کچھ میں نے حاصل کیا محمد مصطفی صل وسلم کے قدموں سے حاصل کیا دوسری طرف وہ عیسائیوں کے خدا کو بھی مار رہے ہیں اور ان کے خلاف وہ جہاد انہوں نے کیا ہے کہ یہ علماء آج بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہانیوں کے ساتھ مناظرہ کرکے ان کو اگر شکست بھی اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حضرت مرزا غلام احمد پھر کہتے ہیں ان کی باتوں نے نبوت کا دعویٰ کیا کہ یہ نہ کرتے تو وہ بہت بڑے مبلغ اسلام تھے مبلغ اسلام قرار دے رہے ہیں اور محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کی محبت میں ڈوبا ہوا فنا کر دے رہے ہیں اور محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کی ناموس عزت کا دفاع کرنے والا قرار دے رہے ہیں ورنہ یہ پوچھے تو کہنا ہے کہ محبت کو کم کرنے کے لیے بہت زیادہ کیا تفاوت کجا بخدا یہ خود اندازہ کر لیں اس میں ٹھیک ہے جزاک اللہ بہت بہت شکریہ آپ نے برملا اس سے یہ ثابت کیا بتایا بلکہ نظریے یہ جہاں الفی نے جھوٹے قصے بیان کرتے ہیں وہ اپنی چیزوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایل ساتھ سیکس سپورٹنگ ایڈوائزر اس کا جواب پر جیسے ہی آپریشن پائے اور برٹش کتاب کا حوالہ دیا ہے تو ان چیزوں کی تحقیق کرنی چاہیے یہی بات نہیں بلکہ وہ بہت ساری باتیں ہیں جو وہ ہیں جو آپ کی دعوت دیتے ہیں کہ آپ آئیں اور جو باتیں بھی آپ کے سامنے پیش کی جائیں ان کی خود بھی تحقیق کریں قرآن مجید کو دیکھیں تو وہاں پر کیا لکھا ہے وہاں پر قرآن مجید کے مطالعے سے بہت سے بات ہوئی ہے ہم آگے چلتے ہیں ایک تو جھوٹ ہے جو اس سے دنیا کے گھر جاتی ہیں دوسرا بعض باتیں اس کے جذبات کے رنگ میں پیرائے میں پیش کی جاتی ہیں جو عام طور پر آنے والی ہوتی ہیں لیکن اس کو جس سے جوڑا جاتا ہے جو وہ ایک بہت دلچسپ بھی ہے تو آپ ہمیں اس بارے میں بتائیے گا ایک جگہ لکھا جاتا ہے کہ الحمدللہ رب العالمین خدا تعالیٰ کی رحمت ہے وہ ہے وہ تمام عالمین کے لئے ہے اس سلسلے کی فصل کوئی ذرا بھی آپ کے رحم سے خالی نے بیان کیا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بھی آپ سے رحمت سے فیض اٹھایا تو کیا ہم نہیں رسول اللہ صل وسلم کی رحمت سے فائدہ اٹھا سکتے سے فائدہ اٹھا سکتے رحمت حاصل کر سکتے ہیں تو پھر ابھی یہاں پر مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کھڑے ہوگئے ہیں بلا رہے ہیں تو ہمیں ان کی ضرورت پیش آئی بتائے گا کہ کیا ایسا بیان دینا ہے کس وجہ سے جانا درست ہے یا نہیں ایک تو ہے جذبات کے ساتھ کھیلنے وہ تو کوئی مولویوں سے سیکھے ایک حقیقت کا علم ہونا خدا تعالیٰ رب العالمین ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے تو ہم بھی مانتے ہیں سارے مانتے ہیں رب العالمین خدا کے ہوتے ہوئے خدا والدین کو بھی رابعہ کردیا ہما کما ربیانی صغیرا کے لوگ دعا کرتے رہا کرو گے یا اللہ ہمارے والدین پر بھی اسی طرح رحمت اور شفقت خدا جس کو ہماری چھوٹی ہوتی ہے دوسرا ہم حال میں تو حضور صلی علیہ وسلم رحمت اللعالمین ہیں دیکھنے والی بات یہ ہے آیت اللہ کی رحمت بھی زحمت ہے رحمت ہے اردو نبوت رحمت ہے تو حضور تو رحمت دینے آئے ہیں روکنے نہیں آئے ثبوت ہے تو پھر باہر بند ہونی چاہیے چاہیے حضور صل وسلم رحمت اللعالمین بن کے آ گئے ہیں آپ کے بعد کسی اور کی ضرورت نہیں ہے اب صرف کتنا سوچیں کہ کوئی کہہ دے کے دیکھ کے حضور صلی وسلم رحمت اللعالمین پیدا ہوئے آپ فوت ہمیں خلفائے راشدین کی ضرورت نہیں ہے رحمت للعالمین تھے اسلم کے رحمت اللعالمین ہونے کے باوجود اگر خلفائے راشدین کی ضرورت تھی محمد ناول بند نہیں کرتی اس وسلم کے فیضان کو اس سے بڑھ کر دیکھ کر ان کے لیے ہم نے تو ہر مسلمان کو یہ حکم دیا ہے نماز کی بلکہ روس اسلامی ہر نماز کی ہر رکعت میں جب تک آپ فاتحہ نہیں پڑھتے اگر اس نے ہو سکتی تمہیں کیا دعا سکھائی گئی ہے کہ اھدنا صراط المستقیم الم تعلم ان لوگوں نے مومنین میں مسلمانوں یہ دعا کرتے رہا کرو کہ خدا ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے وہ راستہ جس پر تو نے انعام کیا جانے رحمت کی وجہ سے نام ہے دیکھنا ہے کہ قرآن کریم نے کس چیز کو انعام یافتہ قرار دیا ہے اور کس چیز کو رحمت کا سبب قرار دیا ہے موسی علیہ السلام اپنی قوم کو مخاطب ہوتے ہیں فرماتے ہیں کہ ہمارے قومی یاد کرو اللہ تعالی کی کیا اس جانا فیکم انبیاء جب اللہ تعالی نے تم میں انبیاء بنائے میں بلال کو ملک کا اور تمہیں بادشاہ بنایا جائے دو دن میں لحاظ سے سب سے بڑا نام ہے بادشاہ روحانی لحاظ سے سب سے بڑا انعام کیا ہے نبوت کا دفاع کر رہے ہیں ہمیں سیدھے راستے بند خواہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا اگر آپ دیکھتے ہیں کہ جو روحانی نام ایک دن سی علیہ السلام بیان کر دیے بادشاہ دنیا نام موت کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں بھی نبوت مولانا ملنا تھا کہ کسی کو جانے انسان عطا فرماتا ہے کہ جو بھی اللہ کی نمبر ایک نمبر دو رسول کی اطاعت کرتا ہے اس کو چار قسم کے نام ملتے ہیں جو اللہ کے اس رسول کی اطاعت کرتا ہے کیا ہوگا لیکن اس کا نام کرے گا کیا کہ نام کرے گا یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا انعامات ہے میں نبینا و صدیقین اور شہداء کے ورثا صدیق شہداء اور صالحین چار قسم کے نام عطا کرے گا ایک ہی جملے میں سب کو رکھا ہے نبی کب مقرر کرنا ہے اللہ المہ جعلتہ کہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ کب کہاں اور کس کو الگ نبی بنانا ہے کہ نبوت کا دروازہ کھلا رکھا ہے اس سلسلہ میں علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کی میری امت میں سے بعض وہ ہیں وہ بالکل حقیقت تو انبیائے بنی اسرائیل کے برابر ہوں گے ان میں سے اللہ تعالی کے رسول ہیں یہ بتاؤ یہ کتاب الملاحم ہے ابو داؤد میں مسلم کی ایک حدیث لکھی ہے وہ میں آپ کو لیس بینی وبینہ نبی کس کے تمہیں احساس کا چل رہا ہے میرے درمیان اور اس علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے وہ نازل ہونے والا بھی ہے سونے کا مفہوم سمجھنا اور مباحثوں طلاق پڑھنی ہوگی جبکہ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھی نازل کیا ہے میں لوگوں کو اللہ تعالی کے نبی کا یاد کرو جب اللہ تعالی نے تم میں سے نبی بنائے اور وسلم کو خاص طور پر فرمایا اس نظر علیکم تم میں نبی پاک صل وسلم کو نازل کیا اور آسمانوں نے موت سے پیدا ہوئے تم اور یہاں تک کے رحمت کو عزت سے جوڑنے کی اہمیت سے یہ ہے دروازہ بند ہوگیا ہے یہ جو آپ نے بہت اچھا بتائے 12 غلط ہے لیکن یہاں پر نصب یہ آپ کے تاثرات نماز پڑھ لو یو کی تصویر نہیں لینا 27 میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب آئے تو انہوں نے پھر یہ بھی کہہ رہی ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ کتابوں میں بلکہ ان کا ذکر سے جو کہتے ہیں کوئی لے جاتا آپ سے میرے سے یہ کیا ہے کہ حضرت عباد فرمانے کی اپنی ذات سے مرضی آپ لوگ حاصل کر سکتے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام نے کسی ایک جگہ نہیں فرمایا کہ آپ بن جاتے نواز بلاول وسلم کے ذریعے نہیں ہو رہی بلکہ میرے ذریعے ہوگی ہے جو اسلام نے بیان کیے جیسے میں نے پہلے بیان ابھی کیا آپ کو کیا کسی کا جذباتی طور پر 11 اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو خلافت کی ضرورت نہیں تھی خلافت راشدہ کی مدت خلافت راشدہ اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے وہ بھی اللہ کے رسول کا دین ہے اللہ کا سوال کیا کہتا ہے میں اتا کم الرسول اللہ کا رسول دے خضوع کو بدلو نہ کرے اس سے رک جاؤ اللہ دیتا ہے تو اللہ کے رسول نے جو دیا اس کو پکڑنا ہے جسے لوگ کہاں سے روکنا ہے دوسرے والا کہتا ہے میں کل ان کنتم تحبون اللہ فتبعونی نہیں کہ نبی اعلان کردے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرنی ہے السلام جی کہیں کہ میرے بعد ایک مسیح نے آنا ہے چار دفعہ کا قصہ شیطان نے غلبہ و حسین رضی اللہ ہو گا مسئلہ نبی اللہ ہو گا مسئلہ نبی اللہ ہو گا مسئلہ بھی حل ہو گا اللہ کا حصول ایک دفعہ کہہ دے تو میرے لئے کافی ہے چار دفعہ بھی مسئلہ ہوگا رات میں نے آپ کو بھی حدیث نہیں ہے کہ میرے دل میں اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اس کو نصیب نہ ملا تو ساتھیا سونگ ہر باغ میں نہیں کرنی ہے وہ من الثلج بچے تمہیں برف کے تودوں پر سے گزر کر جانا پڑے خلیفہ المہدی ہے تو اللہ کا اصول کہتا ہے کہ اس کو ماننا ہے تو اللہ کے رسول کے ساری باتوں کا معنی سے نجات ہے اللہ کے ساری باتوں میں سے ایک بات کا ہے کہ مسئلہ اگر جانا ہے تو ہم تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی کر رہے ہیں کہ حضور نے کہا میرے بعد انسان اس کو بات کرنے کے بعد میں صاحب کہتے ہیں حضور نے فرمایا اگر میرے اعمال پہاڑوں کے برابر بھی ہوتی تو میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا نہ ہوتا تو کبھی بھی یہ نہ سکتا ہے وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا محمد انور میرا یہی ہے کہ جو پایا ہے وہ اسے لیا ہے جو ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک جگہ نہیں آتا بھی پیش کیے جاسکتے ہیں جس نے دنیا میں اللہ کے رسول کے ذریعہ نجات ہے سے جاتا ہے کہ اس کے سارے احکامات پر عمل کرنا ہے ساری باتوں کو ماننا اللہ کا سونا حد مسئلہ کا مان لو اس کے جال کا مقابلہ کرو تمہارا مان لینا اپنی طرف سے خودساختہ معیار بنا کے پھر اپنے دام میں پھنس نہیں ہم حضور صلی السلم کا دیا ہوا جو ہے اس کو صرف یہ بلکہ دیکھنا انصاف یہاں تک کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھیجو کچھ حاصل کرنے کے لئے اس نے کیا تھا تو ہم آگے چلتے ہیں اس وقت بنگلہ دیش سے ان کا مسئلہ لیتے ہیں جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ ورحمۃ اللہ ہے اس کا سافٹ وئیر چاہیے ٹھیک ہے ٹھیک ہے اور واٹس اپ ڈاؤن لوڈ کرنی ہیں ان شاء اللہ ہم اپنے پروگرام میں شامل کریں گے تو آپ بھی پروگرام میں ہمیشہ کی طرح رہے گا ہم آگے چلتے ہیں فضل الرحمان صاحب ہاں جی وعلیکم السلام جو آپ سے خاکسار درخواست کرے گا کہ مخالفین کی طرف سے ایسی کانٹیکٹس میں جہاں یہ ذکر کیا جاتا ہے مجھے سب کہنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ 16 کیست آگئے ہیں وہ ہماری کافی تھے ہم بھی باتیں پیش کی جاتی ہے کہ وہ حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جان پر ایک محل کا ذکر کیا جاتا ہے قسم مثال دے رہے کہ اس محل کی طرح ہے میری مثال کے جس کی صرف ایک ہی جیتے گی اور وہ آئندہ ابواب میں ہوں اور جنید کی آیات کے لئے سربمہر مکمل ہو چکا ہے تو اس کے بعد اب اہل کی جگہ آنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے آپ اس کی وضاحت فرما دیں کہ اس کو کس طرح سمجھیں رحیم کے مخالفین کی طرف سے لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے اکثر رات کی جو در اصل بنیاد ہے وہ یہ اس بات پر ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی امت محمدیہ ان کا یہ ایک سارے علماء اس پر متفق ہیں کہ دنیا میں کوئی کسی طرح کبھی نہیں آ سکتا کی تائید میں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو حدیث ہے یہ ان کے لئے ایک بہت عظیم الشان ہتھیار ہے بلکہ اگر اس بات کو دیکھا جائے کہ یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے ہمارے امت مسلمہ کے بڑے بڑے علماء نے اس حدیث کے بارے میں کیا لکھا ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نہایت عظیم الشان سر یہ نبی سے اب اپنی اپنے استعمال کو یہ بتا رہے ہیں کہ میرے آنے سے یہ یہ وہ عمارت جو کی مکمل ہوگئی ہے اس میں کسی طرح کا نقص نہیں رہا جماعت احمدیہ کا بیان ادا کرنے سے پہلے حضرت علامہ ابن حجر کا ایک حوالہ پڑھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اسی حدیث کی تشریح وہ یہ کہتے ہیں قلندروں اکمل بنسبت الشریعۃ مزار میں نشر ایل کا ملاتے اس حدیث میں اس حدیث میں جس تکمیل کی طرف اشارہ ہے اور اداس تکمیل عمارت سے یہ ہے کہ شریعت محمدیہ کامل شریعت و کی نسبت ایک اکمل شریعت ہے دنیا میں کوئی آپ قرآن نہ آیا ہوتا کیوں غصہ نہیں کرنا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ دنیا میں میرے آنے سے پہلے اور اس حدیث میں جو ایک خاص طور پر لفظ محمد صلی اللہ علیہ وسلم حال کیا ہے مثلی ومثل الانبیاء من قبلی علم بیاں کا ذکر کر رہے ہیں پہلے جو انبیاء اب تک دنیا میں آئے ہیں عمار تو گویا اب حب ندی لیکن اس کا وزن اپنی تکمیل کو نہ پہنچا میرے آنے سے اس حسن کو چار چاند لگ گئی اور وہ بہت خوبصورت ہو گئی ہے اور کسی بات کو علمائے امت ہمیشہ بیان کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے ہمیں واضح طور پر یہ بات اگر کسی بات پر اتفاق ہی تو یہ ہے امت محمدیہ میں ایک مسیحی اللہ کے آنے کی بشارت احادیث میں بھی ہے قرآن کریم کی بعض آیات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں مفسرین نے بھی بات نہیں تو کسی فرقہ کو شک ہے یا نہیں اللہ نے دنیا میں ضرور آنا ہے اگر اس سے حدیث کو اگر ہم زیادہ غور سے دیکھیں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم مخالفین احمدیت کے اپنے بعض عقائد پر اس وجہ سے زیادہ پڑتی ہے جو ان کے اپنے ہی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی جانے سے شریعت مکمل ہوئی اگر نعوذباللہ من ذالک جو کہ ان کے عقیدہ کے مطابق غیر جماعت کے کردار کے مطابق ہم غیر احمدی مسلم آخری نبی اس کی یہ حدیث اس حدیث کے راوی پہنا ہو جائے گا انبیاء کے دنیا میں آنے کا کے سامنے ایک بندہ ہے کہ اب دنیا میں پہلا کوئی ہمارا نبی دنیا میں نہیں آ سکتا اور ان کے ذریعے شریعت میں آئی تھی وہ ساری کی ساری مکمل ہوچکی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسیح اللہ کے آنے کی بشارت دے رہے ہیں مسلم کی مفتی احمد اللہ صاحب نے اس کے علاوہ علاجات ہمیں ملتے ہیں کہ جس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ احادیث کی طرف اشارہ کر کے بار بار ہم یہ کہہ رہے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تو ہیں لیکن ولاتقولوالانبی آباد ہوا لیکن یہ نہ ہو کہ آپ کے بعد بھی کوئی نبی نہیں آتے اسی طرح بعض اور محدثین نے واضح کیا ہے مثلا اے ابن عربی نے اس بات کو واضح کیا ہے امت محمدیہ کے اندر جو شریعت مولانا عطاء فرمایا اللہ یوم القیامۃ فی الخلق و ان کانت تشریح کا دن قحط کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے میں قیامت تک جاری ہے کل آنا منقطع ہوگیا بصریات کا اعلان نبوت کے اجزاء میں سے ایک گروہ ہر مسلمان بھائی ایک مطیع اللہ جو بنی اسرائیل میں تھا اور ان کے عقیدے کے مطابق وشنوئی بھی تھا اگر وہ دنیا میں آتا ہے اس حدیث کے ساتہ پیدا ہوئے جہاں تک کسی بھی دنیا میں شری نبی کے آنے کا تعلق ہے یہ حدیث بتارہی ہے کہ شریعت کی شریعت والی نبوت کی عمارت بالکل مکمل ہو چکی ہے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تربیت کی روشنی میں ظاہر ہوا ہے کاش نبی دنیا میں نہیں آ سکتا جہاں تک مرزا صاحب کا تعلق ہے مرزا صاحب نے ہمیشہ اس بات کا دعوی کیا ہے کہ میری تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم مجھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آنے والے مسیح قوم تیار دیا امامت بھی نہیں چلے گا بلکہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا میں امت محمدیہ میں سے ہوگا اور پھر آتی ہے کہ اسلام نے کیا کہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہی خدا میں ختم المرسلیں ساری اس موقع پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے شریعت محمدیہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا اسلام کی آمد کی بشارت تو خود قلم بار بار دے رہے ہیں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں میں رکاوٹ پیدا ہوجائے ایک طرف وہ کہہ رہے ہو کہ بالکل بند ہو گئی ہے اور وہ عمارت مکمل ہوگئی ہے لیکن نصیحت انار کے ساتھ ہر زمانہ میں ہر طرح کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں یہ عقیدہ موجود ہے کہ ایک مسئلہ نبی اللہ نے دنیا میں آنا ہے تو پھر تو گویا اس حدیث میں اور ان ساری روایات کا ہو جائے گا اور اس کے بیان حوصلہ میدان میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں تضاد ماننا پڑے گا اور یہ ہو نہیں سکتا موجود ہے ایسی نبی اللہ جو پہلے ایک جس کو عام مسلمان شہری بھی کہتے ہیں پہلے تمام انبیاء کی نہیں اب پہلے والا کوئی بھی دنیا میں نہیں آتا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم نبی نے ان کی محفل سے ان کی اطاعت سے ان کے پیچھے لگ کر ان کی راہوں پر چل کر کوئی غلام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوگا پاکستان اور پڑے گی اسی لیے نریندر مودی کا اصل نام مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے فرمایا اس نور پر فدا ہوں یا محمد ےہئ اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے میرے آنے سے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت میں کوئی خالی نہیں نماز وہی ہے آپ کو قرآن ہوئی ہے وہی ہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں لے کے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کام صرف یہ تھا کہ آپ کو دوبارہ کونسا دنیا کے سامنے پیش کیا دنیا قرآن کو بھول چکی تھی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ٹوٹ گئے اور ایک متین دیوانہ ہوگا جو بھارت میں لے کر آئے گا اس میں بھی اللہ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی خراب ہے مہم حدیث سے بڑا واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں کوئی کسی طرح کا شاہین بھی دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا شریعت مکمل ہوچکی ہے تم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل کے آپ کے دین کو دنیا میں پھیلانے والا ہوگا اس کا نام محمد مصطفی صلی اللہ وسلم بی رکھ دیں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے محبت کا اظہار ہے کبھی فرماتے ہیں کہ میں اور وہ کوئی ایک ہی موجود ہیں پیسے میرا باپ جاتے ہو تیماردار سے میری ماں کی محبت پیار کی باتیں ہیں جو آنے والے مسیح کے لئے حضور صلی اللہ علیہ ٹھیک ہے فاطمہ صاحب بہت شکریہ بلکہ آپ کی بات کو آگے بڑھاتے ہیں اور یہاں پر جو فضل الرحمان صاحب کا سوال انسان کا سوال آیا تھا نبوت اور رسالت میں کیا السلام علیکم میں آپ سے لیتے ہیں کیونکہ میں لازمی اس سے فرق کرتے ہیں وہ رسول کے ماننے لیتے ہیں کہ شرعی نبی اور نبی کے معنی لیتے ہیں کہ غیر تشریعی نبی اور یہاں پر ایک اور مزید بات بھی ساتھ بڑھا لیتے ہیں اس بارے میں بتائیں ایک جگہ ایک مخالف دوست فرما رہے تھے کہ رہے تھے کہ ان کے بارے میں خاتم النبیین آیا ہے ختم رسول نہیں آیا وجہ یہ کہ سارے جانتے ہیں کہ شریعت میں بھی نہیں سکتے لیکن کہنا پڑا کہ وہاب نگر کوئی نبی نہیں آئے جو کوئی جوش نیت نہ لانے والے بھی نہیں ابرار اگر اس لفظ کا جو نبوت اور رسول نبی اور رسول میں اس کی اس میں واقع میں فرق ہے کیا یہ فرق درست بھی ہے آپ بیان کیا جاتا ہے تو اس میں کے آپ نے جو بات بھی بیان فرمائی ہے اور جو سوال ہے بنیادی طور پر تو یہی ہے کہ نبی اور رسول میں کوئی فرق ہے یا نہیں ہے اگر فرق کوئی نہیں ہے تو پھر خاتم النبییین کہا جائے یا خاتم المرسلین کہا جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے نزدیک نبی اور رسول میں کوئی فرق نہیں ہے بعض علماء اس میں فرق کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول وہ ہوتے ہیں جو شریعت لے کے آتا ہے اور نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لے کے نہیں آتا کیا حال ہے اب دیکھیں رسول المرسل اس کو کہتے ہیں جو بھیجا گیا اور رسول بھی ہوئی ہے جو اللہ تعالی نے جس کو بھیجا ہے کیونکہ رسالت پیغام کو کہتے ہیں وہ اللہ کا پیغام لے کر آتا ہے خدا تعالیٰ اس کو اپنے پیغام کے ساتھ بھیجتا ہے تو اس لحاظ سے اور نعمان کہتے ہیں خبر کو کرنے کا ہے بہت زیادہ خبریں دینے والا کام دیتا ہے جو خبر دیتا ہے جو خبر دیکھیں وہ جب لوگوں کو خبر سنا اس لحاظ سے رسول اور نبی میں ہمارے نزدیک فرق نہیں ہے جب کہ علماء حضرات کس بنا پر فخر کرتے ہیں یہ وہ بہتر بتا سکتے ہیں ان کے پاس کیا دلیل ہیں لیکن میں اس بحث میں تو نہیں جاؤں گا کہ کس عالم نے کس بزرگ نے کیا فرمایا ہے میں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جب ہم قرآن کریم کے اوپر وار کرتے ہیں فرق نظر نہیں آتا تاریخ بیان کرتے ہیں کہ شریعت والا نبی ہیں اور دوسری اتنی لے کے آتا اور اصول نہیں کہلاتا ہے وہ صرف نبی کہلاتا ہے قرآن کریم اس کی تائید نہیں کرتا ایک بات ذہن میں رکھیں کہ ایک شریعت ہو نبی ایک سے زیادہ ہو اس سے اس فرق نہیں پڑتا کیونکہ اگر دو نبی ہیں یہ ایک سے زیادہ نبی امت میں آ جاتے ہیں اسی شریعت ہیں وہ تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں اسی شریعت کی پیروی کرتے ہیں دوسروں کو بھی کرواتے ہیں یہ ایک سے زیادہ ہو تو پھر فرق پڑتا ہے کہ قوم ایک اور شریعت سے زیادہ آگئی ہیں تو قوم بٹ کو سمجھ نہیں آئے گی کہ اس شریعت کے اس پر عمل کریں گے دوسری طرف سے ان پر عمل کریں غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک ہی کام کی طرف 22 نبی بازو کا طوطے رہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نبی یہ دونوں نے مل کر کھانا کعبہ کی بنیادیں اٹھائی ہیں حضرت اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں بھی فرماتا ہے انہوں کہا صادق الوعد دیوانہ رسول انبیاء دادو والا تھا اور رسول تھا اور نبی تھا یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام علیکم تھے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی جو آخری عمر ہے وہ تو حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس ہی گزری ہے جو تاریخی بتاتے ہیں اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے قرآن سے بھی ظاہر ہوتا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ رسول تھا کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ حالات کا عورت ملی اسلام آباد ہیں رسول اللہ تو نے کیا کہنا شروع کر دیا کہ اللہ اس کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجا گیا نہیں دوسرے وہ بھی ختم نبوت کے قائل تھے اس وقت وہ لوگ بھی محبوب علیہ السلام کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی رسول قرار دیا جا رہا ہے کہ آپ اس کے بعد رسول نہیں آئے گا مطلب اس کے بعد جاپان حضرت ہارون اور حضرت موسی علیہ السلام کو دیکھتے ہیں اسلام کو اللہ تعالی نے نبوت اور رسالت ادا کی تھی ہارون علیہ السلام کو تو حضرت موسی علیہ السلام کی درخواست پر نبی بنایا گیا تھا آج ہم دیکھتے ہیں دونوں بھائی ایک ہی وقت میں اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ دونوں فرعون کی طرف جاؤ فقولا انا رسول نور جہاں کے کہو ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں یعنی دونوں اور اگر دونوں اگر نئی شریف کے ساتھ ہوتی ہے شریعت لے کے آتا ہے تو پھر یہاں قرآن کریم ہے حضرت موسی علیہ السلام دونوں کو رسول قرار دے رہا ہے کو دونوں کو کہو کہ ہم دونوں اللہ کے رسول ہیں تو ایک دوسرے مقام پر فرمایا قول الرسول اور ابو العالمین کی طرف سے دونوں رسول ہو کر آئے ہیں اس نے والی بات ہے اگر ابھی کو کہتے ہیں تو پھر اس کا مطلب دونوں رسول تھے دونوں عشریۃ لے کر آئے تھے یہ نہیں ہے کہ ایک ہی قوم ایک ہی وقت میں دو شریک ہوتے ہیں اور حضرت موسی علیہ السلام چالیس راتوں کے لیے جاتے ہیں پہاڑ پے اہل اسلام کو چھوڑ کے جاتے ہیں حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد نہیں کیونکہ وہ شریعتی ایک حسرت تھی کہا گیا اس کے علاوہ سورہ شعراء میں دیکھیں وہاں مختلف انبیاء کا ذکر اللہ تعالی فرماتا ہے اور شریعت نے دیکھی کسی مسلمان سے پوچھنے کے بچے سے پوچھنا کتنے ہوتے ہیں کتابیں کتنے چار تورات انجیل زبور تورات انجیل اور قرآن کریم میں بھی مقبول ہیں کہا جاتا ہے ہمارے نزدیک تو انجیل ہے شریعت نہیں تھی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں الگ نہیں لے کر میں شریعت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ اس کو پورا کرنا ہو رہی ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک عمر کی طرف کتنی شرطیں ہیں آپ قرآن کریم سورہ میں فرماتا فرما رہا کردہ قومونو ہے مثالیں نیم آف سلیم کی سلیم کا مطلب جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تو وہ کتنی شرائط ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی طرف اسی طرح قوم عاد کا ذکر کیا وہ اب یہ فرمایا کہ قوم عاد کے نبی مسلم کی تقریب کی قوم ثمود کا ذکر کیا عذاب قوم ثمود میں مثالین کے انھوں نے بھی مسلن کے اب دیکھیں ایک قوم کی طرف کتنی شریعتوں کا ذکر ہو رہا ہے میں انکا بھی یہی ہے پھر اس آباد سارے سورہ کے اندر ہے اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر دیکھیں اللہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام کے بعد صرف روس والے کے سامنے اس کے بعد پےدرپے6 رسول بھیجے سورۃ شریعت والا ہوتا ہے تو پے در پے رسول کا مطلب درپیش شریعتی آئی متواتر شریف سے آئی کوئی نہیں مانتا اس چیز کو انجیل کو شریعت بھی مانگتا ہے تب بھی انجیل ہیں اس کے وہ نیوز حضرت موسی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے اندر آپ کو شرم نہیں آئی تو یہ ساری قرآن کریم کی آیات کا انکار کرتے ہیں ناراض ہوتا ہے کہ اتنی شریعتی نہیں تھی جب اتنی شریعت ہی نہیں تھی تو اللہ تعالی یہ رسول کا روس الخبار بیان فرما رہا ہے اور ایک ایک قوم کی طرف ایک سے زیادہ مسلم بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے جب کہ سب کو پتہ ہے کہ ایک سے زیادہ شریف ہی ایک کام کی طرف نہیں تھی ایک مختلف ہے کہ شریعت آتی تھی اس شریعت کو لاگو کرنے کے لئے جب حکومت شہریوں سے دور جاتی تھی دوسرا بھی اسی شریف کی پیروی کروانے کے لیے دعا کرتا تھا باقی میں تو چیزوں کو چھوڑ بھی دے سیر قرآن حکیم پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول اور نبی میں فرق نہیں ہے اور رسول کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ شریعت اور رسول اور دوسرا یہ قرآن اس کی تصدیق نہیں بہت شکریہ آپ کا ہمیں آگے ہی جانا ہے سر آپ سے درخواست کروں گا کہ مخالفین کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مفتی آسمان پر ہیں اور احمد عیسیٰ یہ فرمانا کہ وہ تو غیرت کی بات ہے کہ آپ لوگ اس مسئلہ کو آسمان پر جاتے ہیں اور جو حقیقی زندگی میں نبی ہے اس کو اصل میں تو آپ نے اپنے دعوے کے ساتھ یہ بھی ثبوت حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل سے بھیجے گئے تھے وفات پا گئے ہیں ان سیاستدانوں نے ایک مسئلہ اسی کے رنگ میں آپ کو کیا ہے تو پھر مخالفین بھی کہتے ہیں وہ زندہ آسمان پر ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ رسول معراج پہ گئے تھے کہاں گئے تھے تو وہ آسمان پر گئے ہو کہ ساتویں آسمان پر چلے گئے تھے چوتھے آسمان پر آپ یا ہم تو میں آمین زور کی بحث ہے وہ بھی ایک سوال آیا بی بی مبارک شہ بحر و سنت سے سوال کیا کہ لیکن بہت لمبا ہو جائے تو میں بعد میں انشاءاللہ پروگرام میں بچہ بن کر یہ تو معراج جسمانی تھا جس میں مصروف ہوگئے تھے وہ کیا تھا اس کے بارے میں بتائیں حسن جہاں واقعہ معراج کا تعلق ہے ملتے ہیں حضور صلی علیہ وسلم کو اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضور صلی وسلم جسمانی طور پر آسمانوں پر گئے تھے جہاں آپ کا ایک لطیف تھا خدا سے یہ دو قسم کے نظریات رہے ہیں یہ جو ساتھ ہیں آپ نے اس کا تذکرہ کیا ملاتے ہیں کہ جس علیہ السلام علیکم چوتھے آسمان تیسرے آسمان پر جا سکتے ہیں گئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان تک گئے ہیں جاسکتے ہمارا نوجوان اس بارے میں زیادہ ہے کہ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا سوال ہے آپ کو محدود نہیں کرتے لیکن ساتھ ہی خدا تعالی نے فرمایا ہے کہ لعنت اللہ علی سنت اللہ تبدیلا کہ خدا تعالیٰ کی سنّت ہے اس میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی جو خدا تعالیٰ نے حقیقت بیان کی ہے اس کا تذکرہ نہ چاہیے اس کا تعلق ہے ایک آسرا کا حوصلہ بکھرا ھوا ھے جس کا تذکرہ سورہ بنی اسرائیل میں ہے اور معراج کا واقعہ ہے اس کا تذکرہ قرآن کریم میں بیان کیا ہے الجامع راز کا تذکرہ ہوا تو وہ بیان کیا گیا کہ ماں کا عذاب الفؤاد مارا پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے دل نے دیکھا ہے نہیں بولا عثمانی معراج تھا جو آپ کی آنکھوں دل کرۃالقدم روحانی باتوں سے ہوتا ہے کس سے ہے روح سے ہے اس طرح کے جان تحفظ اللہ علیہم اجمعین کا اس بارے میں تذکرہ تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا نماز عشاء کہتی ہیں کہ معاذ اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم غائب نہیں ہوا بستہ قضا پر آپ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اس طرح عالم سلام السلام مسجد حرام تھے نا آپ کا جسم فتوے نہ پوچھ روح گئی تھی باقی جہاں تک تعلق ہے کہ صرف عائشہ کا نہیں بلکہ اللہ کے علاوہ اور صحابہ کا اس بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ اس بارے میں یقین رکھتے تھے کہ حضور صل وسلم کا معراج جسمانی نہیں مثال کتاب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ملتا ہے حسن بصری رضی اللہ عنہ آسمانی کے قائل نہیں تھے بلکہ معراج روحانی کے قائل تھے اور اس کی بڑھی ہوئی میں نے آپ کو بتا دیا تو نظر نہیں آتا دل نے جو دیکھا ہے ماں کا زلف والا دو جو دل نے دیکھا جھوٹ نہیں بولا پاک جان تک دے گانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر گئے ہیں واپس آ سکتے ہیں اس علیہ السلام کی و آسمان پر بیٹھے نہیں رہ سکتے تو بخاری شریف میں پانچ چھ مقامات پر حدیث ہے کہ حضور صلی وسلم معراج پر گئے ہیں پہلے آسمان پر کون ہے دوسرے پر کون ہے مثال کے طور پر ابراہیم کو دیکھا ہے آپ نے اس حضرت آدم کو دیکھا موسی کو دیکھا ہارون کو دیکھا یہی علیہ السلام کو دیکھا ہے نہیں دو نہیں پانچ مختلف احادیث حضور چھوٹے چھوٹے فرق بیان کی ہیں کہ کون کیا کر رہا تھا جیسے ابراہیم علیہ السلام بچوں کو پڑھا رہے تھے چھوٹے پر بیان کی ہیں لیکن کسی ایک جگہ بھی نہیں صرف علیہ السلام وہاں پر جسمانی طور پر موجود تھے السلام علیکم جن کے بکثرت مریضوں ماننے والے پاکستان میں موجود ہیں وہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے صدر مقام لاہور میں آمد نہیں انہوں نے کشف المحجوب کے نام سے بڑی ہی مدت میں صوفیانہ کتاب پر لکھی ہے ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات حضور کی ہوئی ہے آزمود سے ہوئی ہارون سے ہوئی ہے یہاں سے ہوئی قد لا محالہ وہ ان کی روحیں تھی وہ ان کی روحیں تھے اگر کہیں اس علیہ السلام آسمان پر چلے گئے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا عیسی علیہ السلام آسمان پر گئے تو زمین پر خدا کا وجود نہیں تھا اس سیارے کو نکال کے کہنے میں لفظ لینا ہے تو خدارا اللہ کہتا ہے کہ اس نوبہار اللہ جب یہ خالہ کی جرسی ہے اس کو پکڑو اور آسمان سے گرا رہے ہو رہا ہے اس کو اپنے بندوں نے پکڑا ہوا ہے کیا ہے رحیم علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے العربیہ اپنے رب کی طرف جارہا ہے آخری بات کرکے اس میں مختلف کرتے رہے خدا تعالیٰ ہدایت رسول پاک صل وسلم نے بھی تلقین کی ہے کہ جب آپ سے مسلمانوں میں سے انسانوں سے فوت ہو تو بڑی یہ دعا کیا کرو کہ اننا للہ و اننا الیہ راجعون آپ کو اسی کی طرف واپس لوٹنے والے ہیں تو کیا کبھی دیکھا کہ پانچ سال بعد اس بندے پر آجاؤ میں شہر میں فوت ہوئے نہیں سارے شدہ ہیں اسپتال کے ایم ایس کر لیتے ہیں آپ نے شروع میں بھی خوش جان بھی خوش ہوا اس کے بارے میں ابھی بھی ہمارے پاس دوسرا سوال اکٹھا ہو گیا بستر سمیٹ نہ بھی کر سکیں گے دوبارہ کے لیے دعا کریں کیا منظور سندھی مرغا دیتے کہ آسمان سے نازل ہو گا اسلام تو ہے ہی نہیں بلکہ نذیر مسافر کو بھی کہتے ہیں باپ آسمان سے نازل ہوئی دن میں پیدا ہوئے آپ نے دعوت دنیا میں کیا ہے میں پھیلا ہے یہ نعمان بٹ صاحب ہیں پاکستان وہ پوچھتے ہیں کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ قادیان کا نام قرآن میں آیا ہے تو اس کے متعلق وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیسے اس طرح پڑھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ قادیانی یہ ہوسکتا ہے مخالفین سے انہوں نے یہ بات سنی وہاں یہ ضرور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک شخص ہے یا خواب جوتا ہے اس کی ہمیشہ تعبیر کی جاتی گزارش یہ ہے السلام فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرزا غلام قادر مرزا غلام قادر صاحب وہ قرآن کریم پڑھ رہے ہیں تو قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے انہوں نے پڑھا ان نا نظر نہ قریب من القادیان کا اظہار کیا کہ کیا قادیان کا نام قرآن میں ہے لکھا ہوا ہے تو میں نے جب دیکھا تو قرآن کریم کے دائیں صفحہ درمیان میں مکہ اور مدینہ کے ساتھ قادیان کا لفظ بھی لکھا ہوا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ خوابیاں کش یہ ظاہری معنوں میں نہیں لیا جا سکتا بہت ساری مثالیں ہمیں قرآن کریم میں بھی ملتی ہیں بزرگان امت میں بھی ملتی ایسے دیکھے جو ظاہری طور پر اگر دیکھا جائے تو مناسب نہیں ہے کرنا صرف اللہ تعالی کی ذات کو جائز ہے خدا کی ذات کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے میں حضرت یوسف علیہ السلام تم کہاں کے انہوں نے کہا کہ یہاں بات ان رایت واحد اشراق وقت بند شمس القمر حدیث آج دن کے گیارہ ستارے چاند اور سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں ادا کرنا اللہ کی ذات کے سوا مناسب نہیں لیکن حضرت یوسف علیہ السلام قرآن کریم کے متعلق مطابق کے بیان کر رہے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ خواب تھا اس کا مطلب آپ پھر آگے جا کر اس کی تفصیل میں نہیں جاتا شریعت میں مدعو کے لیے جائز نہیں ہے فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے یہ تعبیر کی انتخاب میں دیکھے تھے یہ کون سا جو مسئلہ درست ہے کون سا مسئلہ اسی طرح حضرت سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق ہے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے دونوں پاؤں قرآن کریم کے اوپر کھڑا ہوں ظاہری طور پر انسان کانپ جاتا ہے یہ سن کے ہیں کہ نعوذباللہ من ذالک قرآن کریم کی توہین لیکن یہ چونکہ خواب کا واقعہ ہے اور جب آپ نے اپنے بزرگوں کو یہ خواب سنایا تو انہوں نے اس کی تعبیر کی کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا قدم شریعت کے خلاف نہیں پڑے گا تمہارا قدم شریعت کے مطابق رہے گا مطلب یہ نہیں تھا جو حضرت موسی علیہ السلام نے یہ کس دیکھا تعبیر یہ تھی کہ جس طرح اللہ تعالی نے مکہ اور مدینہ کو یہودی یا وہ تعلیم جو مکہ مدینہ سے پھوٹیں دین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اس تعلیم کو اب قادیان سے اس کی تجدید ہو گی یعنی وہ امام مہدی 10 تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لئے آئے گا وہ قادیان سے ظاہر ہوگا خالہ کا بیان کو بھی اسی طرح مکان عزت فرمائے گا مکہ اور مدینہ کی برکت عطا فرمائے گا اور مکہ مدینہ کی مدینہ کی برکتوں سے قادیان کی بستی بھی فائدہ اٹھائے گی اور یہاں جب وہ مسیح پیدا ہوگا میں ظاہر ہوگا مہدی ظاہر ہوگا وہ اسی تعلیم کو جو قرآن کریم کی تعلیم ہے جو امت کے اور مدینے سے پھوٹی تھیں ایسی وہ تعلیم یہاں سے پھوٹے گی اور زمین کے کناروں تک پہنچے گی اس کی تعبیر تھی ورنہ یہ نہیں لکھا کہ قرآن کریم نے قادیان کا لفظ موجود ہے صاحب نے دیکھا قادیانی نواب صاحب امید ہے کہ آپ کو اپنا آپ کا جواب سن لیا ہوگا تو اسی طرح خان صاحب کی کال آئی تھی سوال کیا تھا کے جھوٹے نبیوں کے بارے کا حوالہ دیا جاتا ہے یعنی اس نے فرمایا ہوا ہے کہ تیس جھوٹے نبی آئیں گے اور جال فرمایا ہے تو گویا مرزا غلام قادیانی یہ انہیں تین چیزوں سے احتیاط کے زمرے میں شامل کرکے آپ کو چھوٹا کرنا چاہتے ہیں کوشش کرتے ہیں مولانا صاحب آپ سے خاص کرو اس کے متعلق ہمیں آپ بتا دیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اور اکثر غیر احمدی علماءکی طرف سے جماعت احمدیہ کے خلاف کمال کیا جاتا ہے ہمارے ہاں عام طور پر غیر مسلم ان حدیثوں کے بڑے شاعر ہوتے ہیں اور ان کو اس حد تک نہ اور سے نہیں پڑھتے تھے لیکن حدیث ہمیں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ وہ جو تیس کا عدد سے پورا ہوچکا ہے چنانچہ امام حسن صحیح مسلم ہے اس کی شرح ایک معلومات استعمال میں یہ بات لکھی ہوئی ہے سجا لو ان کی تعداد کو بہت اچھا پہلے ہی پوری ہو چکی ہے اور یہ صرف ایک ہی کتاب میں نہیں بلکہ فرخ مجید کتاب ہے اس میں بھی ہے المواہب اللدنیہ میں نے کتاب لکھی ہوئی یہ بات لکھی ہوئی ہے فیض القرآن والے نے یہ بات ایک مزید اس نے روایت کی ہے کہ 30 کا عدد بتاتا ہے کہ کوئی سچا بھی ظاہر ہو گا فرمایا جاتا ہے کہ جو بھی دعویٰ کریں وہ ہوگا امت محمدیہ میں یہ رسم چلی ہیں اور انہوں نے اس کے اوپر پر لکھا ہے بات کی ہے سوچا ہے تو ظاہر ہے اس لئے کہ امت محمدیہ میں ایک مسیحی نبی اللہ کے آنے کی قطعی طور پر موجود تھی اور اگر صرف جھوٹے ہیں ان کے تھے تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو بھی آئے گا جھوٹا ہوگا نے بڑی مضبوط رکھی ہے لیکن یہاں آخرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال دعوی نبوت پیدا ہوں گے جھوٹے ہوں گے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ سارے کے سارے یوٹیوب میں متی نبی اللہ کی آنے کی بشارت دی ہے اور اس کے سچا ہونے کی خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے بنائی ہے مفتی محمود ایسا اسلام سے بھی آپ کی زندگی میں یہ سوال پوچھا گیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو وہ عام طور پر دنیا میں یہ اصول ہے اور قرآن بھی یہ بتاتا ہے کہ جب دنیا میں ظہر الفساد فی البر ہر طرف گمراہی پھیلا جاتی ہے تو خدا کی طرف سے کوئی ہدایت دینے کے لیے دنیا میں آتا ہے گوڈ مانا کو محمد کوڑیوں کے متعلق پر ہے اگر ہم اس ترتیب میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تیس سال تک خلافت ہوگئی اس کے بعد پھر ملوکیت آجائے گی اس کے ظالمانہ بادشاہ ہوگی پھر اور زیادہ مزہ نہ بادشاہ ہوں گی اور اس یہ پیداوار کا زمانہ ہے کیسا خطرناک ماننا ہوگا کہ مسلمانوں کے تہتر فرقے ہوجائیں گے پراسرار دنیا سے اٹھ جائے گا کیا ایسے زمانے میں جب کہ قرآن کی اس آیت کی رو سے ظہر الفساد فی البر والبحر خدا کی طرف کھچا آنے والے پتہ ہونا چاہیے تھا پایا ہوگی کہ جادو الہی کتابوں کی کی روشنی میں جب علامات ایک دنیا میں گمراہی کی فروخت سے آنے کی ضرورت تھی میرا نام بلال مسلمانوں کی اور زیادہ تباہی کے لئے اور جھوٹے کو بھیج دیا آپ کی باتوں سے یہی ہے کہ چودہ سو سال زمانے سے پہلے جو زمانہ گزرا اس کے درمیان کئی لوگوں نے جھوٹی نبوت کے دعوے کیے اور وہ بڑی جلدی دنیا سے معدوم ہوگئے یہ اسلام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایسا زمانہ تھا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیش گوئیوں کے مطابق ہی دراصل ایک ایسا زمانہ تھا جب کہ دنیا میں اسلام اس وقت تھا اور دنیا سے اٹھ چکا تھا علماء جو ہے وہ شرمندہ عدم سماع کا منظر پیش کر رہے تھے مساجد ہیں کیسا مسلمانوں کی ان سے فتنے اٹھے ہیں ان ہی کی طرف لوٹ جاتے ہیں پھر پورے ہو رہے ہیں تو لازمی اللہ تعالی کی طرف سے رحمت بھی یہاں آنے کی توقع مسلمانوں کا دینی چاہیے اور اگر مرزا صاحب کو نہیں مانتے تو خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی تو سچے موتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ زمانہ آج کا اخبار خلافت کے مسئلہ کو بھیج دیا اور اس کے ساتھ مسلمانوں نے وہی سلوک کیا جو عام طور پر سچے انبیاء کے ساتھ دنیا میں ہوتا رہا ہے یہ دنیا مخالفت کرتی ہے اور وہ دنیا پر غالب آتے ہیں چلے جاتے ہیں صاحب بہت بہت شکریہ سماع 7 2 2010 پر ان کے ان سوالات سے لیتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ پلیز اپنے اپنے ٹی وی کی جو تیری دوستی کر لو سٹوری کراس بند کر لیں آواز گونج رہی ہے جس پر عمل کا حکم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ میں خان نے دوسرے کو لے لیتے ہیں اگر آپ کو کوئی کا مسئلہ درست ہو جائے تو دانتوں سے پڑھ لیتے ہیں جس سلام علیکم ورحمۃ اللہ اپنا سو اب اپنی بیوی کے بعد بند کر دے یا فون بند کر دی دوسری پڑھ لیتے ہیں بعد میں پھر کال کر لیجئے اسفندیاری جی سلام علیکم ورحمۃ اللہ یا پھر بھی یہی مسئلہ ہے تو اب آواز آ رہی ہے ہیلو آگے بڑھاتے ہیں کالر کو درخواست ہے کہ جب ہمیں فون کری آپ کی کال یا پراگے سٹوڈیو میں آپ کے ساتھ کنکشن کی اپنی بات کریں تو اس سے پہلے پی ٹی وی کے بعد بند کر دیا کر دیتا اس کو سمجھ نہیں آتی تو کوئی آگے بڑھاتے ہیں پھر بعد میں پھر اپنے کو لے لیتے ہیں اور آپ سے خاکسار دراز کرے گا ابھی بات ہوئی تھی اس کے بارے میں آپ قیامت کے متعلق یا وحدیث شیاطین الانبیاء آبادی کہ آفاق میں گم ہے کوئی نبی نہیں آئے گا تو اس کی تشریح نے پشتو عمر حیات سیل کے ساتھ بات کی تھی اس دن بھی نہیں آئے گا اور ایسا آئے گا آپ نے فرمایا وہ بھی ویسے بینی وبینہ نبی نے اس کے درمیان ہیں کہ وہ اچھا ہے وہاں پے کوئی نبی نہیں آئے گا اس کو میں ہی رہتے ہیں ابھی بات ہوئی ہے وہ کرنے والی یہ ہے کہ وہ دوسری تشریح بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں خیال آگیا کہ اس نے آنا ہے اور عربی والا ہوں گے آپ نے فرمایا سیاق مزید وضاحت یوں کی جاتی ہے مخالفین کی طرف سے قیام پر لائیو مراد یہ ہے کہ کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا میرے نبی علیہ السلا الانبیاء بعد مال و دولت کا استعمال پیدا کیا تو اس کے بارے میں بتا دیں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ قاعدہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں ہمارے ناظرین جو ہمارے مخالفین ہیں کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ عربی زبان میں کے بعض اوقات الفاظ محذوف ہوتے ہیں لیکن اپنے معنی کے اعتبار سے وہ موجود ہوتے ہیں آخری بات یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ قاعدہ ایسا موجود ہے لیکن یہ قاعدہ اندھا دھند استعمال ہونے والا فائدہ نہیں ہے کہ جب دل کیا جہاں دل کے اس کو استعمال کر لیں اس کے لیے اس سے قبل و بعد ایسے الفاظ موجود ہونے چاہئیں جو اس بات کو سپورٹ کرتے ہو ورنہ تو اگر اس کو اندھا دھند استعمال کریں تو خدا نہ خاستہ آج ہی کوئی اٹھ کے کہہ دے کہ ہمارا کلمہ جو ہے لا الہ الا اللہ اس میں عبداللہ محذوف ہے تو ہمارے پاس کا جواب ہوں کے گانے جو کہ ابھی میں موجود ہیں تو بات یہ ہے کہ یہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیے جائیں غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جا رہے تھے اور اپنے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مدینہ میں امیر مقرر کیے جارہے تھے رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کے مطابق تازہ خبر تین نے اس طرح دوسرے منافق جھوٹی افواہ پھیلانے کی کوشش کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش نہیں ہیں جو گویا حضور آپ کو کمزور خواتین و بچوں کے پاس چھوڑے جا رہے ہیں آج کے بعد حضور صلی وسلم تک پہنچی ہے سلیم اس کا اظہار بھی کیا کہ حضور صلی اللہ علی الارض ہونا تو راضی ہیں اس بات پر جیسا حضرت موسی علیہ السلام کا مقام تھا جب آپ کوہ طور پر تشریف لے گئے تھے اور اس کے بعد ہارون کا مکان قائم کرنے والا تھا پر صرف یہ ہے کہ لا نبی یا بعدی میرے نبی نہیں ہے تو جواب دو مولود کا جواب پیدائش کے لحاظ نہیں ہو رہا تشریف لے جا رہے ہیں آپ کی غیر موجودگی میں نیابت کا تذکرہ ہے کہ جس طرح ہارون افضل موسی علیہ السلام کے بعد میں بھی نہیں بلکہ موجود تھے جب موجود تھے اسی موجودگی میں ہی نبی تھے نے قائم کر لے تو ورنہ اگر اس زمانے نے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کہا ہے نہ کہ میرے بعد ایسی ہے وہ نازل ہوگا وہ نبی ہوگا نبی تو اسے خود کہہ رہے ہیں ایک لمحے کے لیے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس کے یہ معنی ہیں تو بہرحال جو ختم نبوت ہمیں اعتراض کرتے ہیں نا کہ سارا دن نہ چلے جانا ہے ختم نبوت دو انسانوں پر ہوئی ہے ایک پیدائش کے لحاظ سے سورۃ یاسین خاتمنبین بن کے لحاظ سے حضرت عیسی علیہ السلام خاتمنبین ہوں گے ختم نبوت کا زمانہ مقام ہے وہ کسی اور نبی کی طرف منتقل لودھراں اولاد وہ اپنے دل کو تسلی پہنچانے کے لیے ایسے الفاظ حضور کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے تجھے بڑی سختی والی بات نہیں ہمیں اب پھر ٹرائی کرتے ہیں خوشی کرتے سالے نے کی محمد آصف صاحب ہمارے ساتھ ہی کال پر جماعت اسلامی وہ کیسے اللہ حاجی محمد اسد اگر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ کشمیر کی طرف اور سارے جو منتقل ہوگئی ہیں اور وہاں جاکر وہاں آباد ہوئے ہیں اس کے بارے میں تو اس سے محبت کرتی تھی بلکہ ابھی تو صرف آپ کے بارے میں کچھ فرمائیں گے کہ جہاں تک عمر کا تعلق ہے وہاں اسلام کی جو امور ہیں بیان کرتے ہیں جب آپ کو صلیب دی گئی تھی اس وقت عمر 33 سال بتائی جاتی ہے کہ 35 سال کی عمر میں آپ کو تکلیف دی گئی تھی اور جب نبوت ملی ہے اس وقت تقریبا 30 سال کی عمر میں آپ کو نبوت ملی ہے تین سال آپ نے یہ وہاں پر تبلیغ کی اور اس کے بعد یہ سارا سلسلہ شروع ہوا جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس طرح اللہ تعالی بتانے والا ہوتا ہے کیونکہ بائبل سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ علم تھا اور آپ نے یہ بتایا کہ میں بنی اسرائیل کے پھیپھڑوں کے سوا کسی اور طرف نہیں بھیجا گیا یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی تھی اور یہ بنی اسرائیل کو بھی پتہ تھا اور یہ بائبل بھی بتاتی ہے تاریخ ہمیں بتاتی ہیں کہ اس وقت پہلے یہودیوں پر جو ملے ہوئے لوگوں کے نظر کے دور میں وہ موبائل کو قید کرکے لے گیا تھا باقی قبائل وہاں سے ہجرت کر گئے تھے بڑی دور تک بائبل کے مختلف والے میں بھی آپ کو بتایا پیش کر دیتا ہوں ایک تو یہ تو پھر دوسرا حضرت عیسی دوسری جگہ فرماتے ہیں باب 18 آیت نمبر 11 مئی کے ابن آدم کھوئے ہو کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے یا نہیں جو یہودی کھو گئے ہیں یہاں سے چلے گئے ہیں ان کو ڈھونڈنا بھی ہے ان کو نجات دینا ان کی ایسی تعلیم دینی ہے کہ وہ نجات پائیں گے وہ کہاں کھو گئے تھے کے لیے بائبل کی کتاب ہے اس کا نام ہے اثر کتاب جام کرتے ہیں تو اس کے اندر باب نمبر آٹھ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اس وقت یہودی قبائل جو تھے وہ فلسطین سے لے کر ہندوستان تک ہندوستان کا باقاعدہ نام وہاں پہ لکھا ہوا ہے سے لے کر ہندوستان تک 127 صوبوں کے اندر آباد تھے اب اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کی کتابیں نہیں بائبل خود بیان فرمائی ہے کر رہی ہے کہ فلسطین سے ہندوستان تک 127 صوبوں کے اندر یہودی آباد تھے تو گویا یہ وہ کھوئی ہوئی تھی مسئلے کی جڑ کو تلاش کرنا تھا تلاش کرنے کے بعد ان کا خدا کا پیغام پہنچانا تھا اور ان کو نجات ملی تھی یہ جو واقعہ سلیم کا اس کی تفصیلات تو اس وقت بتانے کا وقت نہیں ہے لیکن اتنا یہ جیسا کہ مختلف اوقات میں اس کی تفصیلات بتاتے رہتے ہیں وہ یہ کہ اس وقت آپ صلی فوت نہیں ہوئے بلکہ بے ہوشی کی حالت میں اتارے گئے اور جب بے ہوشی کی حالت میں اتار کے قبر نما کمرے میں رکھے گئے وہاں آپ کے ہونے ان کا علاج کی عمرہ لگاتے رہے کہ جب کسی قبر میں رکھ دیا جائے تو اس کے بعد مرہم نہیں لگائے جاتے اس کا علاج اس کے بعد نہیں کیا جاتا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہارنے کو کچھ علم تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور پھر جب ان کو ہو جائے تو وہ اسے خاموشی سے چپکے سے ہجرت کر گئے جب ہجرت کی جاتی ہے تو خاموشی سے ہی کی جاتی ہے پیچھے نہیں بتایا جاتا ہے پھر بعد میں یہ بھی باہر سے پتا چلتا ہے کہ کچھ بھائیوں کو راستے میں ملے بھی ہیں اور ان کو بتایا کہ میں گلیل کی طرف جاتا ہے یعنی آسمان کی طرف نہیں دلیل کی طرف جا رہے ہیں اور پھر وہاں سے آپ کو منتقل ہوتے ہوئے دوسرے مقامات کی طرف چلے گئے ہیں اور وہ مقامات کون سے تھے ظاہر ہے جس کے بارے میں بتائیں کے کب آئے تھے ادھر آپ کا سفر ہوتا ہے بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ مسیح آپ کا نام اس لئے رکھا نہیں اسی خلا سے زمین میں چلا پھرا کرتے تھے کیا یہ بھی ذکر ہے لا الہ الا اللہ اے اللہ تو رافت وجہ سے ایسا الٰہی کرکے بتائیں کیا ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہوتا جاتا کہ تو پہچانا جائے تو تکلیف نہ دی جائے تو یہ ساری چیزیں بتاتے ہیں بائبل سے بھی قرآن کو قرآن حکیم بن فرما رہا ہے کہ آپ اہل باطن ذات کے بارے میں ماہرین نے ان کو ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ کو ایک ان دونوں کے کیسی جگہ پر پناہ دی تھی جو چشمہ کابل کیا کر کشمیر بنتا ہے اس کا ذکر وہاں پر موجود ہے تو یہ تصویر تو اس وقت جاتا ہے سیا کر دی ہے اس میں مزید اضافہ کرسکتا دیکھ مسیح ہندوستان ہے زمانہ علیہ السلام کی اپنی تحریر ہے جو السلام پر بھی آن لائن بھی مہیا ہے تو ویسے بھی اس آیت کی تفسیر بھی کر سکتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کا لباس محمد صاحب ہیں جن میں سے بھی محمد اختر صاحب سلام علیکم جیو song حدیث کی سند میں سلامت رہے ماشاءاللہ بہت اچھا کام کر رہے ہو رہی ہے یہود نے حضرت ایمان نہ کیا ہمارے غیر جو جماعت مسلمان بھائی ہے اسی طرح وہ بھی غلطی کر رہے ہیں کیا یہ بھی شک نہیں جی آپ نے مجھے اپنے ساتھ ہیں آپ نے جواب میں بھی اس بارے میں کس حد تک جو ہمارا موقف ہشام کو دے دیا اسی طرح سے ہے اس نے کس سامنے حدیث میں باقاعدہ جو کیا وجوہات ہیں کہ کی مماثلت کے طور پر ان کے وجوہات کی بنا پر آپ کو یہ لقب دیا گیا ہے کہ مخالفین یہ کہتے ہیں کہ کیسے ہو محسوس ہوئی وہ مریم کرتا ہوں آپ بھی نہیں تھا ان کے باپ ہیں ان کی والدہ کا نام دوسری جگہ دوسری تھی پر کچھ باتیں دلواتے ہیں تو اس بارے میں السلام علیکم کے مثیل مسیح کی بات جو ہے کوئی چل رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہم مسئلہ مسئلہ کہتے ہیں یا آپ نے اور اس میں ایک دوسرے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں یہ مضمون دراصل شروع ہوتا ہے قرآن کریم کی بعض آیات تھے قرآن کریم سورہ مزمل میں اللہ تعالی فرماتا ہے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے انا ارسلنا الیکم رسولا وعلیکم السلام الحمد للہ ولرسولہ کے آئی مسلمانوں ہم نے تمہاری طرف ایک ایسا قرآن بنا کر بھیجا ہے جیسا کہ فرعون کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا اور وہاں پر مختلف انداز کریں واضح بات ہے کہ اس آیت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو موسی علیہ السلام بالکل ویسا رسول ہی آیا ہے مسلمانوں کے اندر ہی امت محمدیہ کے اندر اللہ تعالی مقام محمود کیا جیسا کہ فرعون اب جس رنگ میں مشابہت موسی علیہ السلام اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آپس میں مشابہت ہے اسی رنگ کی بے شمار مطابق ہوتے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانی کے درمیان یہ ہے کہ ہمارے بعد جو غیر احمدی بھائی ہیں وہ بڑا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات کیا بتاؤ نہ کیا کریں آپ مجھے یہ بتائیں کہ جو مضمون ہے یہ مشابہت والا قرآن کریم نے خود ہی جاتی ہے قرآن کریم نے جگہ ایسی مثالیں بیان کی ہیں جس ایک دوسرے کے ساتھ جو مشابہ لوگ تھے ان کی باتوں کو بیان کیا ہے تاکہ ہم ایک مضمون کو دوسرے مضمون جیسا کہ ذکر ہورہا تھا کہ وہ میڈیا کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی پھر ویسے ہی حالت ہوجائے گی جیسا کہ یہود اور نصاریٰ بھی ہوئی تھی مجھے کتنی ہے آپس میں گہری مشابہت ہوگی جیسے دو جوتی آپس میں مشابہ ہوتی ہے پھر یہ سب کچھ اس لئے ہے یہ درست رہنمائی ہے مسلمانوں کے لیے یہ دیکھو تمہاری اس طرح کی حالت ہوجائے گی اور یہ حالت ہوئی مسلمانوں میں سے بڑے بڑے اور انہوں نے کہا کہ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں لیکن قرآن کریم سن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا عنھما قال عیسی عنداللہ کمثل آدم اب اگر ہر چیز میں بالکل مشابہت اختر ہو رہی ہے تو پھر ہم کیا ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا میں بھی کوئی آپ کی طرح کی مشابہت پائی جاتی ہے سلام کی پیدائش کے مطابق جیسے اعظم کی ابتدائی اسی طرح تھی سابقہ مضمون ہے آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے اور جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اس سے لطف اٹھاتے ہیں مثلاً کسی کو کہتے ہیں کہ تم شیر ہو یا بعض لوگ اپنے محبوب کو چاند سے مشابہ دیتے ہیں مجھے اس کو کسی کی بہادری کو بیان کیا جائے کہ تم شیر ہو تو اس کا یہ مطلب ابھی نکل آئیں اور پنجاب میں نکل آئیں اور تم بھی نکل رہا ہے یہ مطلب نہیں کہ وہ اسی طرح اس کے اندر جتنے بھی ہیں اور وہ آسمان پر ہے اور اس جو عمر انسان محض مفعول کی رات کرسکتا ہے وہ قادر مطلق نہیں کر سکتا آگے بڑھا کے حضور فرماتے ہیں وہ کی عادت قدیمہ سے انکار نہیں ہو سکتا کی وجہ سے جو ایک کا نام ہے وہ دوسرے کا نام رکھ دیتا ہے مشرف اس کے نزدیک ابراہیم ہے اور موصول مطلب اس کے نزدیک ہوتا ہے اور ایسی المشرف اس کے نزدیک کیسا ہے کلاس چہارم مضمون کا بس میں ایک بات اور بیان کر دیتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام نے جو مشابہ ہوتے ہیں بڑی بڑی آئی ہے کہ جیسا کہ موسی علیہ السلام تشریف نبی تھے ان کے چودہ سو سال کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام آئے جب کہ امت موسی علیہ بگڑ گئی تھی اور بگڑتے بگڑتے ان کے 72 فرقے ہوگئے تھے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی آخری نبی تھے اور قرآن کو وسیلہ قرار دیتا ہے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ مسلمان بہتر کی بجائے تہتر فرقوں میں بٹ جائیں گے اور ایسا ہی ہوا اور بڑی بڑی کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی وجود ہی طور پر وہ زمانہ تھا جب کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے دعویٰ کیا تھا مسیح اور مہدی ہونے کا اللہ تعالی کی خبر سلام کا یہ دعوی دنیا میں پھیلتا چلا جا رہا ہے وہ زمانہ وہ تھا جب کہ دونوں مسلمان فرقہ درخت تھے اور بی نہیں اسی طرح مسلمانوں کی حالت ہوتی عرفان کے زمانہ میں یہودیوں کی ہوچکی تھی کے لیے اللہ تعالی نے نبی کو بھیجا اسی طرح مطیع اللہ اسی طرح حضرت ابن عربی نے یہ باتیں لکھی اور پڑھی لکھی ہیں کہ مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ مخالفت جو ہوگی وہ علماء کی طرف سے ہوگئی ہے آنے والے نہیں اور احسان کی تعریف کرتے ہیں تو اس میں آنے والی سب سے زیادہ مخالفت ہوئی ہے یہ سلام کی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اس کی طرف سے بالکل ٹھیک ہے افضل خان صاحب جزاک اللہ آپ نے ماشاء اللہ بہت مفصل اور بہت تفصیل سے ساری باتیں بیان کی ہیں جن سے دوسروں کی نماز سے مشابہ ہے بہت واضح طور پر نمایاں ہوتی ہے تو نظر نماز پڑھی ہے لیکن چونکہ یہ ہماری سوری کرتے ہیں ہمارے مزید جو سندھ حساب سے خاص درخواست کرے گا کہ شہزاد چیمہ صاحب میں فیصل آباد سے انہیں اسلام کے بعد آئے تھے ان کی طرف سے فارغ ہے کہ ہماری غلام رسول غلام ہے کہ جن سے اسلام نے فرمایا ہے تو اس کے بارے میں آپ کے دل میں اسلام کا اعلان کے اگلے حصے میں مرا اک ہمارے غلام کے مارے غلاموں کی غلامی بات یہ ہے کہ حضور صلی علیہ وسلم نے فرمایا کے دشمن سے ملنے کی خواہش مت کرو لیکن اگر مل پڑھو تو پھر جان لو کہ تلوار کے سائے تلے جنت ہے تو نبی کا آزمائش کی جائے لیکن جب دشمنوں کے اوپر آزمائش میں ڈال دیتا ہے تو پھر اللہ تعالی انجام کار اس کو فتح عطا فرماتا ہے تو یہ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تھا لیکن اگر زار کر دی گئی تھی حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا یہ نہیں کہتا کہ مجھے ڈال کے دیکھ لے لیکن اگر کبھی دشمن نے مجھے اپنے ڈالا تو دیکھ لیں گے کہ آپ مجھے نہیں جلائے گی اور دوسری بات یہ کہ جنگ کی مخالفت کی آگ بھی ہوتی ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کلام اوقات 2018 للہ رب العالمین کے دشمن جب کبھی بھی جنگ کی مخالفت کی آگ جلائی اللہ تعالی نے اس کو ٹھنڈا کردیا انجام کا دشمن کو اللہ نے ناکام کیا یہ آج تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی دشمن نے ہمارے لیے مخالفت کیا جائے ہے جتنا بھی ہمیں آگ میں جلانے کی کوشش کی ہے اور ختم کرنے کی ہمیشہ اس آگ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور ہمیں اس آگ سے نکالتا ہے تو مخالفت ناکام ہوتی ہے اب کس حد تک مخالفت کا لیبل چلا گیا ہے لیکن اس آگ لگانے والے آگ لگاتے چلے جا رہے ہیں دوسری طرف اللہ تعالی اس آپ کو ہی ہمارے لیے گلزار بنا تا چلا جارہا ہے یعنی جو مخالفت کرتے ہیں مخالفت کے نتیجے میں ہم دنیا میں پھیلتے چلے جا رہے ہیں اور ہمارے لئے گلزار گلزار کرتے چلے جا رہے ہیں تو یہ مطلب ہے کہ اگر تم اجازت نہیں ہمیں ستاؤ گے اتنی ہی تکلیف دو گے گزارا کرتا چلا جائے کام دے رہی ہے جسے کھانے سے اور پودے اور درخت پھل وغیرہ نکلتے نکلتے ہیں تو اللہ تعالی اس کے نتائج ہمارے حق میں زہر ثابت کرتا ہے تو ناظرین کرام ہمارا پروگرام یہاں یہ سوالات آئے ہیں آئے تھے مبارکباد سے ہی یہاں سے لاہور سے ہیں اس طرح خان صاحب ہیں وہ کیسے قاری صاحب حیثیت سے ہم اپنے آپ کے ساتھ ہم نہیں کر سکے تو بعد میں جب ان شاءاللہ ہماری سیریس آئے گی تب بھی آپ مصروف سے رابطہ کر سکیں گے تب بدلے گا انشاءاللہ کا سایہ آپ پر اپنا عذاب قبر اس کا بہت شکریہ ادا کرنا کسی طرح سے شکریہ تو تب خدا کی خدمت میں پیش کیا جائے گا تو تب تک کے لئے اسلام علیکم رحمتہ اللہ و برکاتہ ہم تو رہے تھے ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں

 84 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: