Rahe Huda – Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pbuh – Aiterazat K Jawab




Rahe Huda – Maseehe Maood Mirza Ghulam Ahmad pbuh – Aiterazat K Jawab

Rah-e-Huda – 25th January 2020 – London UK

ہم نہ بھائی ہیلو نہیں ہے تو نبھانا لو جان گوگل ہم سوری بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جی ایم ٹی وی کے مطابق شام کے چار بج چکے ہیں اور آج ہفتے کے روز ہے ریسلنگ 2020 انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے اس وقت یہ پروگرام راہ خدا براہ راست آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے قارئین کرام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اس دنیا میں تشریف لائے آپ نے نبوت کا دعوی فرمایا اور آپ نے یہ بات بھی واضح فرمائیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام جس طرح کی سنت یا ہے اسی کے مطابق دنیا میں تشریف لائے اپنا کام انھوں نے مکمل کیا اور خاص طور پر اللہ تعالی نے ان کے ساتھ ایک جو فرمایا وہ یہ سلوک تھا کہ اللہ تعالی نے معجزاتی رنگ میں حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کی موت سے بچایا یہ ساری باتیں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے دنیا کو بتائیں اور بالکل اسی طرح بیان کی جس طرح قرآن بیان کرتا ہے یا احادیث گزشتہ تین پروگرام اور آج کا پروگرام جو ہے وہ ہم وفات مسیح کے بارے میں ہی کر رہے ہیں لیکن آپ کو یہ یاد رہے کہ یہ پروگرام راہ خدا جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں ہے اس بارے میں سوال ہو آپ سے سوال کیا ہو تو آپ یہاں ہمارے سامنے پیش کر سکتے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ آپ کے سوال کا جواب اپنے پروگرام میں شامل کریں ہم سے رابطہ کس طرح کرنا ہے اس کے دو طریقے ہیں اگر تو اپنا تحریری یا وائس میسج کے ذریعے سوال بھجوانا چاہتے ہیں تو ہمارا واٹس ایپ نمبر ضرور نوٹ کریں جو پروگرام کے دوران آپ کو اسکرین پر نظر آتا رہے گا لیکن اگر آپ خود براہ راست ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ نے ہمارے لائن نمبر پر رابطہ کرنا ہے آج کے پروگرام کا آغاز کرتے ہیں یہاں لندن سٹوڈیو میں خاکسار ہیں مولانا نصیر احمد قمر صاحب اور مولانا حافظ سید مسعود احمد صاحب جبکہ گانہ سے ٹیلی فون لائن کے ذریعے ہمارے ساتھ شامل ہوں گے مولانا اسعد محمود صاحب ہم گزشتہ تین پروگراموں سے بات کر رہے ہیں اور ہمارے جو سوال کرنے والے ہیں وہ کئی دفعہ کیوں کہ ایک تحریروں کے سامنے آجاتی ہے یا کوئی انسان کے سامنے ایسی بات پیش کر دیتا ہے کہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس کے سوال کو بھی دوبارہ یہاں پیش کریں اور جواب دیں جہاں سے ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت بانی جماعت احمدیہ نے خود اپنی تحریرات میں اس بات کا ذکر فرمایا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام گویا قیامت مقیدہ تھا آسمان پر زندہ ہیں تو بعد میں یہ کیسے ممکن ہوا کہ انہوں نے یہ دعویٰ فرما دیا تو اس کی اباحت کر دیں یہ سوال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی آپ سے ہوا اور آپ کی ساری رات کا لفظ آپ نے بولا ہے یوں لگتا ہے جیسے کہ تم کتنی جگہ پر آپ نے حیات مسیح کا ذکر کیا ہے نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف اسلام کی جو پہلی بڑی تصنیف میں نے آپ کو دیا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کل پہ اس میں اکیلے کا جواب مسلمانوں کا عقیدہ ہے اس کا ایک ذکر فرمایا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جب یہ سوال کیا گیا جو جو آپ نے عطا فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ کافی ہونا چاہیے آپ کی ذات پر آپ کے عمل پر اعتراض کیا گیا اور آپ نے خود اس کا جواب دیا ہے وہی بہترین جواب ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں اور یہ حال ہو اللہ پڑھ رہا ہوں اعجاز احمدی سے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تصنیف ہے زمانہ نزول مسیح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 112 سے یہ بات شروع ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کا دعوی کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسی علیہ السلام کے آنے کا اقرار موجود ہے فرماتے ہیں نادانو اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو یار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعوی ہے کہ میں عالم الغیب ہو تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور اس فوت ہوگیا ہے تب تک میں اسی عقیدے پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہیمی لکھا ہے جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدہ سے باز آگیا میں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا اور مجھے نور سے بھر دیا اس رسمی عقیدے کو نہ چھوڑا بلکہ اسی براہین میں میرا نام ایسا رکھا گیا تھا اس کتاب میں بعض علامات کا ذکر فرمایا ہے اور انھیں ان علامات میں آپ کا نام رکھا گیا تھا کیا فرماتے اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تمہیں کس نے تسلیم کرے گا اور مجھے بتایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ وہ الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین حق کے لیے وظیفہ والدین پلے تاہم ہم جو براہین احمدیہ میں کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی میں نے وجہ اس حور کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسی کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا میری کمال سادگی اور فورم پر یہ دلیل ہے کہ وہی حال ہیں مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر میں نے اس عقیدے کو جبراً میں لکھ دیا میں خود تھا جو کرتا ہوں کہ میں نے باوجود پولیو ہیں جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکہ اسی کتاب میں عقیدہ لکھ دیا پھر بارہ برس تک ایک زمانہ گزرا ہے بالکل اس سے بے خبر رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے ابراہیم میں مسیح موت قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسی کی آمد ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا بزرگ تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تو باتوں سے اس بارے میں علامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے حکمت عملی میری سچائی کی ایک دلیل سادگی اورعدم بناوٹ پر ایک نشان تھا ایک بار انسان کا ہوتا اور انسانی منصوبہ اس کی جگہ ہوتی تو میں براہین احمدیہ کے وقت میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مسیح موعود ہو مگر خدا نے میری نظر کو پھیر دیا میں براھیوہی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی فرماتے ہیں کہ خالی مجھے بد نام ہے کہ میں میں نے باوجودے کہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا بارہ برس تک قید اور کیوں نہ کیا اور کیوں براہی میں خدا کی وحی کی مخالفت لکھ دیا کیا یہ امر قابل نہیں آیا ایک بے معنی نہیں کہ براہین احمدیہ کی سے بھارت کو تو پیش کرتے ہیں جو میں نے معمولی اور رسمی عقیدے کی رو سے مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کیا ہے اور یہ پیش نہیں کرتے کہ اسی براہین احمدیہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی موجود ہے یہ ایک لطیف استدلال ہے جو خدا نے میرے لئے براہین احمدیہ میں پہلے سے تیار کر رکھا ہے آپ فرماتے ہیں کہ وہ علامات جو میری بخوبی زمانے میں مجھے موت قرار دیتے ہیں ان کی نسبت کیوں کر نہ ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کا احترام ہیں کیونکہ اگر وہ میرا افترا ہوتے تو اسی ابراہیم میں ان سے فائدہ اٹھاتا اور اپنا دعویٰ پیش کرتا اور کیوں کر ممکن تھا کہ میں اسی برائن میں یہ بھی لکھ دیں تاکہ اس میں دوبارہ دنیا میں آئے گا ان دونوں متناقص مضمون کا ایک ہی کتاب میں جمع ہونا اور میرا اس وقت مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرنا ایک منصف مزاج کو اس رائے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے کہ درحقیقت میرے دل کو مسیح موعود ہونے کے بارے میں براہین احمدیہ میں موجود تھی اس لیے میں نے ان متناقص باتوں کو برائی میں جمع کردیا اگر براہین احمدیہ میں فقط یہ ذکر ہوتا کہ وہی اس میں دوبارہ دنیا میں آئے گا اور میرے مسیح موعود ہونے کی نسبت کچھ ذکر نہ ہوتا تو بتائیں جلد باز کسی قدر اس کلام سے فائدہ اٹھا سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا کہ پرانے حملوں سے بارہ برس بعد کیوں اس پہلے کی دو کو چھوڑ دیا گیا ایسا کہنا بھی فضول تھا کیا یہ بڑا پیارا لگتا ہے کیونکہ انبیاء اور مولانا امین صرف وہی کی سچائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں اپنے اجتہاد کے کس اور خلاف واقعہ نکلنے سے وہ محفوظ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ ان کی اپنی رائے ہے کہ خدا کا کلام تاہم عوام کے آگے یہ دھوکہ پیش جا سکتا تھا مگر اب تو اسے پہنچا کر اس کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ اسی بیان مدینہ میں اظہار اور سے بارہ برس پہلے جاؤ مجھے مسیح موعود قرار دیا گیا ہے یہ بہت بنیادی نقطہ ہے امین بھائی کی سچائی کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور وہ اسی کی پیروی کرتے ہیں اور وہی بات کرتے ہیں جو خدا کی طرف سے ان کو کہو لیکن جو بات آپ نے اتحاد کا تعلق ہے اس میں غلطی ہو سکتی واقعات جو ہے یہ قرآن مجید سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کے سایہ قول صفحہ اول حاکم میانوالی ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے مقامی اور بعد مدینہ میں بھی کل قریب آ کر ہمارے مدینہ میں بھی اگر صلی اللہ علیہ وسلم کو کرکے نماز پڑھتے تھے ظاہر ہے وہ آپ اپنی مرضی تو نہیں کرتے تھے اللہ تعالی کا کوئی الہام کو ہدایت تھی اس کی تعمیر میں آپ کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالی نے فرمایا پہلے فول وجہک شطر المسجد الحرام اہلیہ اور قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ بعض کم علم جو میری نظر نہیں رکھتے اور سطحی علم رکھتے ہیں وہ اعتراض بھی کریں گے معاملہ رحمتہ اللہ کا نور ہے اس وقت بھی ہوا کہ یہ لوگ مرتد ہوگئے اور آج بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور غیرمسلم بھی کہتے ہیں کہیں اس وقت پہلے یہودیوں کو خوش کرنے کے لئے ادھر اپنے وطن کی پرانی محبت یاد آئی تو اس کو روک لیا ہے کیا کہ اللہ تعالی کی وہی کتابیں اور جب اللہ تعالی کی وہی نے آپ پر بڑی وضاحت سے بات ہو لدی فرمایا کہ اب کھلا لینا مجھے بتا دیا ہے بڑی وضاحت سے اور وہ سارے دلائل بھی سمجھا دیے ہیں قرآن و حدیث سے اور آپ نے ان کو پیش بھی فرمایا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں وعدے کے موافق دوا ہے اور ہونے کا اعلان فرمایا اس میں آپ کی اپنی ذاتی خواہش جیسے اللہ نے آپ کو بتایا میں اپنے عزت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ابن مریم مر گیا یا قسم داخلہ جنت ہوا محترم کیسے ختم ہوگا حوالہ دوبارہ بتا دیں آپ نے کہاں سے پڑھا ایک ہی دفعہ ہمارے نزدیک پوچھتے ہیں مسیح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 112 سے حوالہ شروع ہوتا ہے ہے ناظرین کرام جو بھی حوالے یہاں پیش کیے جاتے ہیں وہ کوئی ڈھکے چھپے حوالے نہیں ہیں آپ ان تک خود رسائی حاصل کر سکتے ہیں جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹ ہے الاسلام ڈاٹ کام مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب اور دیگر تمام کتب جماعت احمدیہ کا لٹریچر ہے یہاں موجود ہے اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم کے تراجم ہے قرآن کریم نے جو تفاسیر ہیں وہ بھی یہاں موجود ہیں اس ویب سائٹ کو وزٹ کیجئے گا اگلا سوال کرنا چاہوں گا مکرم ساجد محمود صاحب سے اسلام علیکم ساجد صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ متفرق باتیں ہم نے کی ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے لیکن میں خاص طور پر چاہوں گا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں بھی اس طرف توجہ دلائی ہے تو اسی سے متعلق میرا سوال ہے کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام میں کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی تھی اور یہ بھی ضرور بتائیں کہ ان مماثلتوں کا کیا تعلق ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کشمیر میں تشریف لائے جزاکم اللہ برہان شاہ صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہندوستان میں جو حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کی نشانیاں بیان کی ہیں ان میں سے ایک حصہ تو وہ ہے جو ان دو کتاب آدمی ہیں ان کی آپس میں مل جاتے ہیں یعنی حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کے جو خطاب عیسائیت کی کتابوں میں ان کے القابات میں آتے ہیں طبیعت ہی دونوں کی زندگیوں کے اس میں بتاتے ہیں اور ان کی تعلیم کے متعلق پیش آتے ہیں چنانچہ سب سے پہلے جو السلام علیکم کی کتابوں میں ہمیں یہ ذکر ملتا ہے کہ ان کا نام ہے وہ تھا کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے الصلاۃ والسلام کا جو ہے وہ اناجیل میں نام ایک جنرل رقبہ نور ہمیں نظر آتا ہے ان کا مطالعہ کریں تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک نام استاد ہمیں ملتا ہے ایسا ہی بدھ مت کی کتابوں میں حضرت بلال سلام کا ایک نام ہمیں استاد نظر آتا ہے حضرت عیسی علیہ السلام کا ایک نام مبارک ہمیں نظر آتا ہے اور بدھ مت کی کتابوں میں حضرت داتا علی ایک نام کیا ہے اسلام کا ایک لقمہ بیٹا پہلے بادشاہ بھی آتا ہے ہمیں نظر اور حضرت داؤد علیہ السلام کو بھی بدھ مت کی کتابوں میں بادشاہت آ گیا ہے ان کا ایک ٹائٹل نجات نہیں گایا اور نجات دینے والا جو بیان ہوا ہے انار کا بعد کے علاوہ اگر ہم واقعات دیکھیں تو جیسے انجیل میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان نے آزمایا عورت کی حالت نہیں بلکہ اس تجربہ ہے اسی طرح گدھوں کی جو کتابیں ہیں اس میں بھی حضرت موسی علیہ السلام کے متعلق اسی طرح پاکستان نے ان کی آزمائش کی تھی اور شیطان پر حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تھا اس کی اطاعت نہیں کی تھی اسلام کے متعلق ذکر آتا ہے کہ انہوں نے چالیس روزے رکھے اسی طرح کا ذکر بالکل حضرت موسیٰ علیہ السلام ہے کہ انہوں نے بھی چالیس روزے ہیں اسی طرح ایک دیگر بڑا معروف ہی ملتا ہے انجیل میں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے پہاڑی واضح اور اسی طرح کا ذکر جو ہے وہ ثبوت علیہ السلام کے متعلق ہمیں ملتا ہے تمہاری بات کا اسی طرح ایک اور بات کی تمثیلات میں کلام اعلی حضرت اسلام کس کے ساتھ کیا کرتے تھے اور اسی طرح کی تمثیلات جو ہیں وہ ہمیں بھٹو کی کتابوں میں حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق ملتی ہیں پھر جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ پیدا ہوئے تھے اور نبوت کے متعلق ان کی بن باپ کے وہ پیدائش ہوئی ہے یاد کے علاوہ اگر ہم تعلیم کا پہلو نئی تعلیم بھی دونوں کی ہمیں مشتاق نظر آتی ہے کہ پیار کرنا ہے یہ بات کرنی ہے لعنت سے پرہیز کرنا ہے صادق آباد فیصل آباد میں شادی شمشاد ہیں اور اسی طرح ان کی تعلیمات اخلاقی تعلیمات میں مشابہ ہیں یہ آئی کہ میں اہم امر کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ توجہ یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاقوں کی طرف آئے ہی نہیں آپ کے ساتھ یہ مذاق نہیں وہ جیسے اور حضرت آدم علیہ السلام کے روضہ کے ساتھ اس طرح کے مشابہ نظر نہیں ملتی گدھوں کی کتابوں میں ابراہیم علیہ السلام کی نہیں ملتی حضرت نوح علیہ السلام کی نہیں ملتی لیکن حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی یہ شعبے میں ہیں وہ ہمیں بڑی کثرت کے کتاب ہے وہ ہماری توجہ اس بات کی طرف بلاتا ہے کہ ناظمہ جیسے اور بہت سارے کرائے ہم نے پہلے پروگرام میں ذکر کئے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تھے ان علاقوں میں جب وہ آئے ہیں تو پھر یہ مذاق نہیں ہے ان کی تعلیمات میں ہم کسی ایک بار یہ ہے کہ یہ کہتے ہیں یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت گوتم بدھ جو حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام سے تقریبا پانچ سال پہلے آئے تھے انڈیا میں کہ جو مریض ہے اس کی زبان آئے گا اس کے اصولوں پر اس کی اخلاقی تعلیم کے زوال آئے گا اور اس دوا کو دور کر اور بتائے گا اور ان کا عقیدہ ان کی کتابوں میں ذکر ملتا ہے وہ میڈیا سنسکرت کا لفظ ہے اس کے معنی سفید کے ہیں اور مسیح کا لفظ ہے منہ سے نکلا ہوا ہے یعنی مٹی کو سیاست کرنے والے ہیں یہ تو شادی کے لیے آ رہی تھی کہ بدھ مت کے زوال کے زمانے میں ایسا مسیحا آئے گا جو سرخ و سفید رنگت والا ہوتا ہے تقریبا پانچ سال کے بعد یہ وہ زمانہ ہے جو ہر چیز علیہ السلام کا زمانہ ہے السلام جب ہجرت کرکے ایک امیر اور انڈیا کے علاقوں کی طرف آئے ہیں تو وہ تو نے اس پیش گوئی کو عرب کی حالات ہوتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح ایک اور بدھ مت کی کتابوں میں ذکر ملتا ہے کہ عورت دودھ کا ایک شاگرد تھا جس کا نام ہے وہ رہا تھا اور یہ کیا تھا اور یہ وہی ہمیں ذکر ملتا ہے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کی وہ روح اللہ اسی طرح اور تم کو تم بن کے ایک چھوٹی عمر کا ذکر ملتا ہے جس کا نام کیا تھا اور یہ لفظ ہے یہ سے نکلا ہوا ہے اور چھٹا میرے گھر والوں میں حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام چھٹی صدی میں عدت گوتم بدھ کے بعد ہی وہ پہلے ہی اس علاقے میں وہ تو نے بھی دیکھی حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے اندر تو وہی باتیں انہوں نے اپنی کتابوں میں ذکر کر دیں اور بجائے حرکت کی صلاحیت کیونکہ ان میں بدھا کے آنے کا علامات علیہ السلام کی طرف منسوب کر مجھے انگلش آتی اور پھر انکار کیسا علیہ السلام کے القابات تعلیمات اور ان کے واقعات میں پورا ہونا واضح اشارہ دیتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام کی لاکھوں کی طرف بہت بہت شکریہ ساجد صاحب آپ نے نہایت تفصیل کے ساتھ خود بدھ مذہب کی کتب کے حوالہ سے بھی اور خاص طور پر جو نام میں مشابہت تھی پھر واقعات میں مشابہت اور تعلیمات میں مشابہت ہیں ان کا آپ نے ذکر کر دیا ہے محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے بلکہ یہ جو ہمارے بھائی ہیں کامران احمد صاحب راولپنڈی پاکستان سے انہوں نے پروگرام شروع ہونے سے پہلے اپنے سوال بھیج دیا تھا تو میں چاہوں گا کہ ہم ان کے سوال کو ان کے سوال کا جواب ان کو دیں وہ کہتے ہیں کہ ایک حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو امام مہدی نماز پڑھا رہی ہوں گے تو وہ اس حدیث کی وضاحت چاہتے ہیں گانے جی بسم اللہ الرحمن الرحیم احادیث میں آ جائے تو یہ بات بھی ہمیں بعض جگہ پر نظر آتی ہے ویکس قرآن کریم اور احادیث مبارکہ جو حاصل کی ہیں صحیح مسلم کی اور دیگر کتابوں کی دکان میں بھی یہ بات لکھی ہوئی ہے جماعت احمدیہ کے اس بارے میں یقین ہے اور مادی دونوں ایک ہی موجود ہیں میں اس بارے میں ایک بہت ہی مشہور حدیث ابن ماجہ کی ہے اس میں مہدی و عیسیٰ دیہی ایسا ایسا ہو گے میرا خدا کی ذات کے ساتھ بیان کر دینی چاہیے ہے کہ انبیاء کے مختلف نام ہوتے ہیں سکتے ہیں قرآن کریم میں حضور صلی وسلم کے کئی نام آئے اسلم کر وہ بھی کہاں گیا رحیم بھی کہا گیا احمد بھی کہا گیا محمد بھی کہا گیا بشیر نظیر اور اس دن سے آپ کے دوسرے نام آئے اسی طرح ہی آنے والے کے دو نام وآلہٖ وسلم نے رکھے ایک نام مسیح تھا دوسرا مہدی تھا ایم بی اے ہیں ان سب کو خدا تعالی نے ماما جی کہاں ہے انبیاء کی آیت نمبر 74 ہے جو رات ہے جس میں اللہ تعالی نے انبیاء کے نام لیے ہیں پہلے حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل حضرت یعقوب اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے نام لیکن فرمایا وجعلناھم ائمۃ یھدون بامرنا سب کو ایمان بنایا ہے جو امام کی جمع ہے یہ خدائی ہدایت دیتے ہیں منع ہمارے حکم سے انہیں ہدایت دیتے ہیں آپ لوگوں کو دعائیں دیتے ہیں ائمہ قلم امام سے ہے یا دو نام علی سے ہے تو جتنے بھی خدا تعالیٰ کے انبیاء ہیں سب امام مہدی تھے اور دیس ہے صحیح مسلم کی بھی اور صحیح بخاری کی بھی جس نے اس نے فرمایا نزول عیسیٰ ابن مریم فیکم وامامکم منکم کو کہ عیسی بن مریم نازل ہوں گے دھوکا نہ کھانا امام منکم و امام بھی اگر تم ہی میں سے ہونگے اور مسلم نے کہا کہ جو ایسا نازل ہوں گے وہ یہاں محکمہ ہی تمہاری مدد کر آئیں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بارے میں بڑی ہی ایک زیادہ سامان والی بات کی ہے تو نے فرمایا ہے کہ دیکھو حدیث میں آیا ہے کہ بابا یوحنا کہ تم نے جاکر اس مہدی کی بیعت کرنی ہے تو میں آپ کے پہاڑ ہیں ان کے ان کو کراس کرنا پڑے اور اپنے گھٹنوں کے بل پر اس کرنا پڑے پھر بھیج اور اس کی بات کرو اور آگے بھی ان کی بہن نہ خلیفۃ اللہ المہدی کہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہیں حضور صل وسلم نے امام مہدی کی بیعت کرنے کا حکم دیا حضرت مسیح موعود اسلام اس مذاق کرتے بیان فرماتے ہیں کہ مہدی کا علم جو ہے وہ کسی دنیاوی علم سے نہیں ہوگا نہیں دینی کسی بڑے عالم سے ہو گا بلکہ اس کا علم جو ہے وہ خدا تعالی سے ہوگا اس کو امام بنایا ہے کہ اس کا علم خدا تعالی سے وہ خدا تعالیٰ سے امید لے کر لوگوں کو آگے ہدایت دے گا کیسی بات ہے مسیح مقتدی بنایا ہے امام کے پیچھے رکھا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ مسیح مسیحیت کی صفت اور موصوف کی اس کے ذریعے آپ نے دجال کو قتل کرنا تھا کسر صلیب کرنی تھی گویا کہ روحانی منازل اور مداری جو ہے یہ کروانا یہ دینا یہ ماضی کی صفت کہتا تھا اور اسلام کا دفاع جو تھا وہ صفت مسیحیت کے کہتا تھا تو اس لیے ان وسلم کی احادیث میں اگر کہیں جاتا ہے جو آتا بھی ہے جگہ پر امامت کرائیں گے تو اس کے پیچھے حقیقت ہے تو وہ شخص ہمیں یہ باتیں یہ سمجھ میں آرہی ہیں کہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بیان کیا کہ ہمارے اشارے ہیں ان باتوں کو سمجھنا ہے اور پھر آنے والے امام کو ماننا ہے نہ نام اگلا سوال جو ہمارے پاس موصول ہوا ہے ہماری کوئی مدد نہ کی ممبر ہیں انہوں نے اپنا نام نہیں بتایا نہیں جس جگہ سے وہ سوال کریں ابھی نہیں بتایا صاحب یہ سوال جواب کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا وہ ایک قرآنی آیت کا حوالہ دے رہی ہیں جہاں ذکر ہے کل نفس ذائقۃ الموت تفصیل بیان کر دی اب میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ یہ سال بہت واضح نہیں ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری بہن کو کچھ نہ کچھ رہنمائی ضرور کیجئے ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں ذکر کرنا چاہ رہی ہو کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے اس کا تعلق توڑنا چاہو تو آپ کچھ اس کی وضاحت کر دیں ذائقۃ الموت تو ایک اٹل حقیقت کے طور پر اس آیت کی ترکیب کوئی دیکھیں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ جو بھی اس دنیا میں سانس لیتا ہے وجود وہ آخر مرتا ہے اور دوسری جگہوں پر اللہ تعالی نے اس مضمون کو بیان فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ وہاں جعلنا لبشر من قبلک الخلد نے آپ سے پہلے کسی انسان کو دائمی زندگی نہیں دی ہمیشہ کی زندگی مفاہمت ہو خالد یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ تو فوت ہو جائیں جنہیں خدا تعالیٰ نے خاتم النبیین بنایا ہے جو رحمت اللعالمین ہیں جو اللہ تعالی کے تمام محبوبوں میں سب سے بڑھ کر ہیں فوت ہو جائیں اور دوسرے جو ہیں ان کو دائمی زندگی دے دی جائے تو یہ ایک اصول جو ہے قرآن کریم میں بتایا کہ کل نفس ذائقۃ الموت ہر ایک کے لئے موت مقدر ہیں اور اسے اس دنیا سے رخصت ہونا ہے تو مسیح علیہ السلام کا یا کسی اور کا بھی استعمال کرنا یہ درست نہیں ہے وہ تو پھر خدائی کی صفات میں شریک کرنے والی بات ہوگی عیسائیوں کے عقیدے کو تقویت دینے والی بات ہوگئی اور ایک استدعا یہ حقیقت کو چھپانے والی بات ہوگی کل نفس ذائقۃ الموت اس طرح دائمی زندگی غیر معمولی لمبی زندگی اللہ تعالی نہیں عطا فرماتا ہے جو بھی دنیا میں آتا ہے وہ فوت ہو جاتا ہے اللہ علیہ وسلم کی زندگی گزار کر اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور انسان جاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بھی ہے فرمایا سے 100 سال کا عرصہ نہیں گزرے گا کہ جتنے علماء پہ ما بہ نفست ان کے الفاظ ہیں کہ جو بھی نفس ہے جو سانس لیتا ہے زندگی میں زندہ ہے وہ ایک سو سال کے اندر اس دنیا سے میں نہیں رہے گا اور تاریخی طور پر بتاتے ہیں کہ اس وقت جتنے بھی جون جن کو لوگ تھے وہ اس وقت اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور باقی سب چلتا ہے چلاتا ہے تخلیق کا بھی اور موت ہوئی اس کا سلسلہ جاری سلسلہ انسان ہوا ہے تو یہ ایک حقیقت ہے اور اس میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا بلند مرتبہ ہے اور صحابہ کا جو عشق تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ حضور بھی کبھی فوت ہوگئے اور بھی کبھی احسان مانتا نہیں کا پیارا فوت ہوجائے تو یقین نہیں آتا یہ بھی چلا گیا یہ اتنا ناز تھا اتنا اچھا تھا اتنا پیارا تھا کہ ہم درد غم گسار ہو میرا تو اللہ تعالی اعلان کے ذریعے صحابہ کو اور مسلمانوں کو بھی بتایا کہ تمہیں بہت محبت ہے اپنے آقا سے لیکن میرا ایک اصول ہے جانا ہے صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ثابت کتنی بے چین ہو گئی ہے وہ ٹین دل مانتا نہیں تھا کہ حضور فوت ہو جائیں گے بے چینی سے اطراف سے عجیب حال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے تلواروں سے کھڑے ہیں کسی نے کہا کہ اسلام فوت ہوگیا فوت نہیں ہوئے پھٹ گئے تھے اسی طرف سے کوئی ایک ہے گزر جائے گا ان سے بھی عرفان میں بڑھے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو الفضل پلازہ نعمت اللہ یکون بین حضرت ابوبکر صدیق کے بہترین انسان ہے سوائے اس کے کہ کوئی نبی ظاہر ہو کیونکہ انہوں نے دوسرے موقع پر آنے والے حکومتی نبی کی بشارت بھی دی تھی تو اس حساب سے قرآن کریم کی حاجت پڑی محمد اللہ رسول کا لقب رسول محمد سلیم رسول تھے اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں تو جب رسولوں کا فوت ہونا ایک سنت ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے ہیں ہیں نعت پڑھی اور فرمایا کہ سنو اگر کوئی محمد صلی وسلم کے بعد کرتا تھا تو جان لے کے آپ کو فوت ہوچکے ہیں لیکن خدا کی عبادت کرتے تھے خدا ہی ہے وہ زندہ ہے اسے موت نہیں آتی تو یہ کل نفس ذائقۃ الموت کی وہ صرف ان تھا اور وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی قرآن کے جو وحی نازل ہوئی تھی اس کا جھوٹا انسان تھا پیار تو سارے پڑھتے تھے اور اس کا جو استعمال فرمایا اسرار معیا پھر ان کو سب کو ایک تسکین ہوتی ہے ان کے دلوں پر اور بٹوہ گھر پر تو مہر کے ہاتھ سے تلوار بھی گر پڑی آپ کہتے ہیں میری ٹانگوں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں تھی ایسا لگا جیسے ابھی ہے تو طریقہ علاج کہ گویا ابھی یاد بزنس میں اپنے بڑے تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر کر دیا ہے تو مجھے امید ہے ہماری بہن جو پوچھنا چاہ رہی ہیں ان کو اس کا جواب بھی مل گیا ہوگا جو وضاحت وہ چاہ رہی تھی وہ مل گئی ہوگی اور یقینا یہ آیت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی ایک دلیل کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے ہم اگلے سوال کے لئے گانا چلتے ہیں اور یہ سوال ہمیں بھیجا ہے عارفوں زمان صاحب نے السلام علیکم ساجد صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ حاجی صاحب یہ بنگلہ دیش سے ہمارے بھائی ہیں عارف زمان صاحب انہوں نے ایک سوال بھیجا ہے میں وہ آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں وہ یہ کہتے ہیں کہ پھیلا تو اس کا ذکر بائبل میں ہے وہاں ملتا ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ یہ پہلا تو اس کا تعارف کروا دیں یہ کون ہے اس کا مختصر تعارف کے لیے پیش کر دی کھانا بنانا پہلا تو جو ہے وہ یہ عادت کی صلاۃ و سلام جب آئے ہیں تو اس علاقے میں یہودیوں کی بنی اسرائیل کی حکومت نہیں تھی بلکہ رومن امپائر تھی رومیو کی گورنمنٹ تھی اور ان کی طرف سے جو اس علاقے وہ پہلا دن تھا تو جب حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام تصدیق آزاد کیا ہے اور یہودیوں نے مخالفت کی ہے اس لئے ان کو مروانے کی کوشش کی ہے تو وہ یہ سارا زمانہ چاہے وہ پہلے گورنر والا تھا کیونکہ عورت کی صلاۃ و سلام کو بچانا تھا تو خدا طرح مختلف ذرائع اپنا ان میں سے کے اسی پہلا دوست کی بیوی بھائی جی یہ تھا کہ اگر اس آدمی کو عورت کی صلاۃ و سلام کو ہمارے ذریعے سے کوئی تکلیف پہنچی اور ہم نے اس کو نام بتایا تو ہمارے خاندان پر بہت بڑی مصیبت آئے گی بیوی سے یہ بات سنی ہوئی تھی دل سے عزت کیس الاخلاق اسلام کا موقع تھا ان کو اچھا سمجھتا تھا شریف سمجھتا تھا اور بے قصور سمجھ رہا تھا تو اس نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام صلیب پر موت نہ ہو روٹی بھی ہوتی سرداروں کا پریشر کا دباؤ تھا اس وجہ سے اس نے حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا تو ہے لیکن پورے ہفتے میں سے اس نے وہ دن اختیار کی ہے اس کو اور جمعۃ المبارک کا بھی جو آخری حصہ ہے عصر کے قریب کا وقت اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو ہے وہ صلیب پر چڑھایا ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جو ہے دن اور اس کے کسی کو وہ صلیب پر لٹکا ہوا نہیں رہنے دیتے تھے اور ان کے عقیدے کے مطابق اگر کوئی اس دن گیا تو ان کی قوم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے اور جو ہفتے کا دن تھا جیسے اسلام میں رات پہلی رات سے شروع ہو جاتا ہے رات پہلے آتی ہے اور دن بعد میں آتا ہے کا تھا کہ جو مسلمان جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کی جو وہ شام تھی وہ آپ بھی شامل تھے اور ایک رات پہلے اور بعد میں آنا تھا علیہ صلاۃ و سلام صرف میں وہ چاند جس کا نتیجہ ہیں وہ شریف کے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی موت نہیں ہوئی دوسرا اس نے یہ کیا ہوا تھا کہ جو حضرت کی سلطنت سلام کے ساتھ جو چوتھی پر لٹکائے گئے ہیں اس لئے اتارنے کے بعد کی ہڈیاں توڑ دی ہیں لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کی وہ ڈی انہیں تھوڑی ہے تو یہ تمام امور اور کریہہ میں واضح بتا رہے ہیں کس کی الصلاۃ والسلام کو تکلیف سے بچا اور یہ خدا تعالیٰ کے منشا کے مطابق ہو رہا تھا اور اس کے مطابق وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوا ٹھیک ساجد صاحب میرے خیال میں وقت کی مناسبت سے ویسے آپ نے کافی تفصیل سے بائبل کے حوالے سے بھی آباد بیان کر دی ہے اور خاص طور پر جو آپ نے پہلے تو اس کی اہلیہ کے جواب کا ذکر کیا ہے وہ بہت اہمیت کی حامل ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں بھی اس بارے میں تفصیل سے تحریر فرمایا ہے اور ہم بار بار اس پروگرام میں اپنے ناظرین کو بتا رہے ہیں انشاءاللہ بتاتے رہیں گے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کو ڈھکے چھپے عقائد نہیں ہیں بلکہ حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے وہی دعوے فرمائے ہیں وہی دعوی فرمائی ہیں جو آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی اگلے سال کی طرف چلتے ہیں مشہور سے ہماری بہن ہے خالد رانا صاحب سے سوال پوچھ رہی ہیں وہ کہتے ہیں کہ سورہ کہف میں ذکر آتا ہے تین سو سال سوئے رہے جس طرح کے سوال کے میں آپ کے سامنے پیش کر دیں تو آپ سے سوال کی وضاحت جس کے بعد وہ سکہ لے کر نکلے کی چیزیں خرید سکیں تو پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ نہیں رہ سکتے تو وہ اس لئے جو مقدمہ کر رہی ہیں قرآنی آیت کا اور اس کو اس بات سے جوڑتے ہیں کہ جس طرح وہ تین سو سال تک زندہ رہے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام دو ہزار سال تک زندہ نہیں رہ سکتے ہیں دے دو وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو زندہ نہیں ہو سکتے پہلی قید تو اللہ تعالی ہی لگا رہا ہے کہ والا فلم ستارہ محبت اون لاین کے جتنے بھی احادیث مقدسہ تھا اس میں اللہ تعالی نے کہا کہ آدم اور اس کی اولاد کے لیے مقدر یہی ہے کہ وہ اس دنیا میں رہیں گے اور اسی دنیا سے ہی انہوں نے اٹھ کر جانا ہے اسی بات کو ذرا ہمیں بھی ان کی اللہ تعالی نے فیھا تحیون وفیھا تموتون 69 جو کہ اسی دنیا میں رہنا ہے اسی میں تم نے مرنا ہے اس دنیا میں تمہاری دوبارہ جو ہے وہ اللہ تعالی اسٹور کرے گا ستمبر حضرت عیسی اسلام کو آسمان پر زندہ رکھ رہے ہیں اور قرآن کریم کی دادی دے رہے اور سورہ کہف کا جہاں تک تعلق ہے وہ زمین سے تعلق رکھتا ہے ہم یہ نہیں مانتے وہ تین سو سال تک جو ہیں وہ 309 سال تک جیو ہزاروں سال سے ہمارے عقیدے نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ دیکھو انبیاء علیہ السلام جب آتے ہیں تو ان کی مخالفت ہوتی ہے ایسی اسلام پر یہ سارا معاملہ چل رہا ہے سورہ کہف کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کا تعلق مسیحیت سے ہے دنیا کے آخری دور میں جب دجال کا فتنہ ظہور پذیر ہو گا تو سورہ کہف کی ابتدائی آیات بھی پڑھنا اور آخری آیات بھی پڑھنا اور ان آیات کو پڑھنے سے ہمیں سائیڈ پے وضاحت کے ساتھ ایک نظر آتا ہے اور آخری آیات میں بھی یہی ساری باتیں میں نظر آتی خدا تعالی کے رسول ہی بیان فرما دیں کہ صورت کے ساۓ سے تعلق ہے گہرا تعلق ہے ذکر کیا جارہا ہے سلام کا تو ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح سے آپ سب مصائب ہیں آپ کے صحابہ پر مصائب ہیں آپ کے والد محترم صاحب آئے اور جو مجھے مشکلات سے گزرے ہیں ایک وقت وہ بھی آیا یہ تاریخی حقائق کی عقلی میں وہ کون سا بھی موجود ہیں وہ نار بھی موجود ہیں جہاں پر یہ ساری تفصیلات بیان کی جاتی ہیں کہ کس طرح سے وہ چار چکر مختلف اوقات میں گزارا کرتے تھے وہ قبرستان تھا وہاں پر قبروں کا یہ تصور نہیں تھا جو آج ہمارے کپڑوں کے تصور ہے بلکہ کچھ سارے بنتی تھی ان لہروں کے اندر کمرے ہوتے تھے کمرے کے اندر مردوں کو لٹایا جاتا تھا پھر اس کے بعد ہر کمرے کے دروازے سے نکلتے تھے اور پھر سٹوری ہوتی تھی پہلی منزل ہے دوسری منزل تیسری منزل تھی لکھا کرتے تھے کہ جیسے ہی کبھی جاپان میں پڑے ہمارے پر اور ظاہر ہے کہ مذہبی منافرت کی بنا پر اور مذہبی مشکلات تھیں اور ان کو اپنے مذہب کے آزادی کا موقع نہیں مل رہا تھا اور شدید مخالفت جان کا خطرہ تھا تو اپنی جان بچانے کے لئے ہی قبرستان میں آگ رہے ہیں اور وہ اس طرح کی کیری کے اندر کے حالات ہے کہ جب فوجی آتے تھے تو باہر جو ہے وہ مجھے پولیس والے آتے تھے تو باہر کتا پوزیشن کرتا تھا جس کو خبردار کیا انگاروں کے بیچ گئے تھے اور اس نوعیت کا نہیں پتا تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں تو یہ پوری حقیقت ہے کہ ہم پاکستان ہے تو جو اللہ تعالی نے ملانے کیلئے میری فرمایا یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنا ایک بندہ بھیجا کس کے ساتھ گیا وہ جا کے دیکھا تو وہاں پر ماحول تھا تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مختلف ادوار ہیں جہاں پر وہ چھپ کر گزارہ کرتے رہے ہیں کرتے رہیں کرتے رہیں اور ایک اور جب یہ آیا کہ خدا تعالیٰ نے کایا پلٹ دی اور سید کہاں پے غائب ہو گیا ہے تو اس وقت جب وہ بندہ گیا ہے وہاں پر جا کے دیکھا تو تبدیل ہوگیا وہ خاموشی سے کیا تم پر اور دیکھا کہ یہاں پر تو ہمارے مذہب کے کا پرچار ہیں آپ ہمارے مذہب کے ماننے والے آگئے ہیں تو یہ 309 سال کا جو حصہ ہے یہ سعید کے اوپر ایک وقت گزرا ہے بڑے مصائب و شدائد لوگوں نے برداشت کیے ہیں تو یہ وہ حصہ ہے جو اس آیت کی ہسٹری سے تعلق رکھتا ہے اور اس سسٹم کو خدا تعالیٰ نے ان سارے معاملات بیان کی اور نہ ہی نہیں مانتے کہ ایک بندے کے افراد تھے ہے اس بارے میں بحث ہو یہ بتائیں کہ کتنے بندے تھے کہ تین چوتھائی کتنا ہوتا ہے عطا اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ رب العالمین اس بارے میں جو ہے ان کی کتنی تعداد تھی اس بارے میں رابطہ بہتر جانتا ہے ماہر المعیقلی تھوڑے لوگ جن کو اس کے گھر کا پتہ ہے ہماری فیملی الحمرا ظاہر ہے اس بارے میں تو لوگوں سے بحث نہ کریں سوائے اس بحث کی بڑی موٹی اور بڑھی اور بڑھی واضح ہو تو خدا تعالی نے بھی اس مہم کو اس طرح سے وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ جس چیز کے بارے میں علماء اور اس کے بارے میں پیسے نہیں کرتے تو جوہر آئینہ میرے سامنے آرہے ہیں جو معاملات ہمارے سامنے آئے ہوئے ہیں جو آپس میں بیان کیا جائے تو بہت بڑی بات یہ بات ہو گئی ہے کہ وہ جہاں جو ذکر ہے وہ ایک اور بات کا ذکر ہو رہا ہے وہاں پے بھی جس طرح عام دنیا سمجھتی ہے کہ گویا وہ چند افراد تھے جو تین سو سال تک ذرا سی بات نہیں ہو رہی بلکہ وہ ایک لمبا عرصہ تھا جو مشکلات کا حصہ تھا اور وہ ان لوگوں نے چھپ کر وہاں گزارا اور اس کی باتیں نسلا بعد نسل وہاں رہتے چلے آئے اسی برس مختلف زاویوں سے سوالات ہوتے رہتے ہیں قرآن کریم کی سورہ نساء کی آیت نمبر 160 جو ہے اس کا ترجمہ یہاں پیش کر دیتا ہے بلکہ جس رنگ میں اعتراض پیش کیا جاتا ہے وہ میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں تو وہ ایسا کرے اور نہیں ہے کوئی اہل کتاب مگر وہ ضرور ایمان لائے گا حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام پر سے پیشتر سوال کرنے والے استعمال کرتے ہیں عتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں یعنی عیسی علیہ الصلاۃ والسلام جب شریف تو سب اہل کتاب ایمان لے آئیں گے کیونکہ سب اپنی تک ایمان نہیں لائے تو اس کی حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام زندہ بھی ہیں اور انہیں دوبارہ بھی آن ہے مکہ سے یہ جو استدلال موذن کیا ہے جو ہمارے بغیر جماعت مجھ سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر بات کو تسلیم کر لیا جائے جو ہم تسلیم نہیں کرتے اور میں بتاؤں گا کہ یہ اس ہدایت سے یہ ترجمہ یہ تشریح لینے درست نہیں ہے بات آگے کرتے ہیں مان لیا جائے کہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ابھی تک زندہ موجود ہونے کا تو پھر میرا سوال یہ ہے کہ اور اس کا جواب ان کی ذمہ بنتا ہے کہ کیا قرآن کریم میں ایسی باتیں ہو سکتی ہیں کہ جو ایک دوسرے سے مخالف اور متصادم ہو ہم پچھلے کئی پروگراموں سے ذکر بھی کر رہے ہیں بار بار ذکر کر رہے ہیں قرآن مجید کی آیات کے حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالی یہ فرماتا ہے کہ عیسی علیہ الصلاۃ و السلام فوت ہو چکے ہیں ان سب نبیوں کی وفات کا ذکر ہے لیکن عیسی علیہ السلام کی وفات کا تو خاص طور پر ذکر ہے اور اللہ تعالی نے یہ آیت میں فرمایا جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس نے اللہ نے وعدہ فرمایا کہ میں تجھے وفات دونگا پھر اضافہ کروں گا اور دوسری طرف حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی اپنی زبان سے یہ دوائیں موجود ہے کہ قیامت کے دن کے بعد اللہ تعالی ان سے یہ سوال کرے گا کہ کیا انہوں نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ اللہ کے علاوہ مجھے میری ماں کی بھی بات کرو تو کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ایسی کوئی بات نہیں کی ملتی نہیں ہوتا ان میں موجود تھا ان کو یہی تعلیم دیتا رہا ہے خدا کی مدد کرو لیکن جب میں مر گیا تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو نگران تھا اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے واضح شواہد کے بعد قرآن مجید میں ایک ایسی ہے زندہ ہے تو قرآن مجید میں پھر یہ جو اختلاف اور تصادم اور تضاد پایا جاتا ہے اس کا جواب ہمارے ان معترضین کے ذمہ ہیں جو یہ خیال رکھتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ بعض محکم آیات کے باوجود جس میں تیس علیہ الصلاۃ والسلام کی وفات کا ذکر ہے اور اتنی واضح احادیث ارشادات نبوی کے باوجود کیوں یہ لوگ مصر ہیں کہ نہیں ہم ساری قرآنی بھائی کو جھٹلاتے ہیں لیکن یہاں سے نکلتا ہے وہاں سے نکل عنہما سے بھی نہیں کرتا ناممکن ہے کہ قرآن کریم میں کسی قسم کی کوئی تضاد پایا جائے کہ اللہ تعالی ایک بات یہ کہ ایک دن فرمائے دوسری جگہ اس کی اس کے ساتھ بات کر رہا ہوں تو کال الحق کا یہ کلام تحقیق پر مبنی ہے جس کے اندر نہ ہو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا ہے رنگ کے ساتھ ہوتا ہے اس میں ایسی باتیں نہیں ہو سکتی ہے کہ اگر غیر اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں بہت ساری اختلاف کی بات ہوتی لیکن یہ خدایا علم غیب کا علم غیب اور عالم شہزادہ کلام ہے اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو ایک دوسرے سے متصادم ہو خدایا صداقتوں سے پوچھا ہے تو اس سوال کا جواب انپیج میں بنتا ہے وہ اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ دو جو ہیں کی ضمیریں ہیں اور موت ہی میں ان دونوں سے مراد انہوں نے یہ لے لی ہے کہ ہر اہل کتاب سرور ایسی پر ایمان لائے گا اس کی موت سے پہلے اور وہ کہتے ہیں چونکہ سامان نہیں لائے میں فوت نہیں ہوئے کے یہ تو ہے کہ حدیث الصلاۃ والسلام ہم مانتے ہیں کہ وہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ وہ فوت ہوچکے ہیں ان کی عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے صبر پر ایمان نہیں لائے تھے کہتے ہیں کہ جب دوبارہ آئیں گے تو پھر سب ایمان لے آئیں گے تو مجھ سے پہلے تو وہ بھی ممکن نہیں ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ فرمایا ہے اور اس علیہ الصلاۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے کہ جعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا لا یوم القیامہ اردو مخالفین کے وجود کو باقی رکھا گیا ہے پھر بھی یہ بات پوری نہیں ہوگی کہ وہ اہل کتاب پر ایمان لے آئے اس کی ایک تشریح کی جاتی ہے کہ عتاب یعنی مسیح پر ایمان لے آئے گا اپنی موت سے پہلے یہ بات بھی خلاف ہے قرآن مجید نعوذباللہ ایسی باتوں کا اعلان فرما رہا ہے جو خلاف واقع ہیں خلاف حقیقت ہیں اور یقین ہرگز نہیں قرآن کریم کوئی بھی بات ایسی نہیں آتا جو حقائق کے تاریخ کی دائمی ابن صدیوں کے منافی ہو میں اس میں کی ضمیر جو ہے نہ ہی میں ہی کی ضمیر آسماں کا واقعہ کی طرف جاتی ہے جو پچھلی آیت میں مذکور ہے جس میں یہود کے اس دعوے کا ذکر تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ناقۃ المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ سید غلام رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے خیال تھا کہ ہم نے سلیپران کو موت مار کے اور ان کا رویہ نعوذباللہ من ہونا ثابت کر دیا ہے اس کو اللہ تعالی نے فرمایا یہ بات جو ہے کہ عیسائی اور یہودی ہر اہل کتاب جو ہے وہ علیہ الصلاۃ والسلام پر ایمان نہ لایا یہودی وہ اس بات پہ ہی مرتا ہے اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول معلوم تھے یہ ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے بات ہی ایسی بات پر ایمان رکھتے ہیں وہ جس کے کا دیا ہوا ہے لیکن وہ جو اس بات کو نہیں مانتے وہ اہل کتاب اسی عقیدے میں مرتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام نعوذباللہ مصروف ہوگئے یا قتل ہو گئے اور وہ ایک جھوٹے نبی کے نام پر اس آیت میں اسی آیت میں میں نا اہل کتاب میں اسی نے آج اللہ تعالی فرماتا ہے ویوم القیامۃ یکون وعلیہ شہیدہ وہ تو اسی عقیدے کو اپنائے ہوئے ہے ابھی تک بھی اپنے مرنے موت کے نعوذ باللہ اللہ علیہ الصلاۃ والسلام چھوٹے تھے اور سلیپر مر گئے نہیں کہتے ہیں کہ وہ لون ثابت ہوگئے عیسائی جو ہے وہ کہتے ہیں کہ تین دن کے لئے صرف سلیپ مرے ملو نی لو اللہ مانتے ہیں یوم القیامۃ والیم شہیدہ کے اس بات کا کردیا گیا وہ تو یہ ایمان رکھتے ہیں لیکن قیامت کے روز مثال ہے سلام ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ تم غلط بات کا یقین رکھتے ہو نہیں مارا تھا مجھے قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے اللہ نے میرا مجھے وفات کبھی وفا دی اللہ جرار فرمایا اور مجھے عزت کا مقام معلوم نہیں خدا کا مقرر ہو تو عمل تو پھر واقع یہ آیت جو ہے حضرت عیسی کی حیات کی نہیں بلکہ کی وفات پر دلالت کرتی ہے کہ علیہ الصلاۃ والسلام میں انہوں نے آنا ہوتا تو یہ ذکر ہوتا کہ وہ دنیا میں آیا کریں گے میں تو نہیں رہا تھا میں تو ابھی تک زندہ رہوں یہ خدا نہ زندہ تم غلط عقیدہ اپنائے ہوئے ہیں بات نہیں ہے کہ قیامت کو یوم القیامۃ یقال ان شہیداں قیامت کے دن وہ خدا کے حضور کے خلاف گواہی دیں گے کہ یہ میرا رفع ہوا میں کھلا کے مقربوں میں سے ہو اور یہ لوگ اپنے دعوائے ایمان میں رکھے اس دنیا سے رخصت ہوئے جھوٹے ہیں کہ نعوذباللہ میں قتل کیا گیا تھا ویسا ہی پر مارا گیا ٹھیک ہو صحت کے ساتھ یہ بات بیان کر دیے کہ یہ ان لوگوں کے اپنے اپنے عقائد کا جس پر وہ قیامت تک قائم رہیں گے اور پھر اس کی وضاحت ہوگی ہم آگے چلتے ہیں ہمارا اگلا سوال ہے وہ ہمارے بھائی اسد حمید صاحب نے کیا ہے اور اس کا جواب لینے کے لیے ہم گا نہ جائیں گے ساجد محمود صاحب سے بات کریں گے السلام علیکم ساجد محمود صاحب اللہ ساجد صاحب جو اگلا سوال ہے وہ بلغاریہ سے ہمارے بھائی ہیں اسد حمید صاحب وہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام واقعہ فا چکے ہیں اس میں عیسی بن مریم کا نام کیوں آیا ہے یہ وہ اسی طرح کا سوال ہے جو بار بار کیا جاتا ہے کہ آپ اس کی وضاحت کریں اور مزید یہ کہ رہے ہیں کہ عیسی بن مریم کا نام کیوں آیا ہے کہ وہ دوبارہ نازل ہوں گے کیا آسانیاں میں آتا کہ عیسی بن مریم کا کوئی مسئلہ نہیں آئے گا تو اپنی آسانی کے لئے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ان کو اس حدیث میں ابن مریم کے آنے کا ذکر ہے اس کی وضاحت کر دیں جزاک اللہ جواب کے لئے عرض ہے کہ اگر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو اپنی صحیح بخاری میں ایک حدیث کوڈ کی ہوئی ہے وہ میں پڑھتا ہوں فرماتے ہیں کہ اگر تم نے فرمایا کہ انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم تمہارا کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم اور وہ تم ہی میں سے تمہارا امام ہوتا تو چونکہ شبہ ابن مریم کے الفاظ سے یہ پڑھ سکتا تھا جیسے ہمارے بھائی کو پڑھا ہے یہ بنی اسرائیل کے ابن مریم نے تو حضرت سلمان ابن مریم یبنی اسرائیل انی بلکہ اسی امت محمدیہ کا ایک فرد ہوگا الموت کو ابن مریم کے ساتھ مشابہت کیوں دی گئی جب ایک وجود کو دوسرے وجود کے ساتھ شامل مشابہت دینی ہو تو سو فیصد اس کا نام لے لیا جاتا ہے ہر کشمیر ہے اس کا کیا جاتا والے امام مہدی اور مسیح موعود کی چونکہ حضرت یوسف علیہ صلاۃ و سلام کے ساتھ انشاء کی وجہ سے ان کا نام لیا ہے وہ کتنے مریم پڑا مثلا ایک مشابہت یہ تھی کہ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے لئے آئے اور حضرت عیسی موٹا کے چودہ 14 تعلیمی اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیونکہ مسئلہ موسی سے چنانچہ اس کی عمر میں جو امام مہدی اور مسیح موعود یا نہ تھا وہاں اس کے بعد 24 لینا تھا تو یہ ایک امام مہدی کے آنے کا زمانہ اس مشابہت میں بیان کر دیا گیا یہ تھی کہ جب حضرت عیسیٰ نے اپنا تو سلامت رہے ہیں جیسے پہلے سوال کے جواب میں بتا دیا گیا تھا کہ دنیا کی حکومت نہیں تھی بلکہ ایک غیر قوم ہے وہ یہودیوں پر حکمران کی امام علی جس کے علاقے میں آئے گا اور جب آئے گا وہاں کے مسلمانوں کی حکومت نہیں ہوگی بلکہ ایک غیر قوم کی حکومت ہوگی چنانچہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام انڈیا میں آئے ہیں تو وہاں کے مسلمانوں کی حکومت بلکہ انگریزوں کی حکومت تھی بعض انبیاء کے چونکہ مخالفین اور دشمنوں نے جنگ مسلط کی گئی ہیں اور ان کو مدافعانہ طور پر تلواریں اٹھانی پڑی ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام جیسے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کا پیغام جو ہے وہ دو اور پیار اور محبت اور دلائل کے ساتھ جو ہے وہ حال ہے جنگ کرنے کی نوبت نہیں آئی تو یہ ایک بہت بڑا پیغام اور علامت اگر صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے امام مہدی اور مسیح کہ اس کو بھی اپنے کام کو اپنے پیغام کو اور تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لیے کسی کے نہیں کرنی پڑے گی کوئی ہتھیار نہیں اٹھانا پڑے گا بلکہ خالصتاً دعاؤں کے ساتھ دلائل کے ساتھ اور ابراہیم کے ساتھ جو ہے اس کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا ایک اور مشاق ہے عورت کی سہاگ رات ان کے بعد خلافت کا سلسلہ چلا اور لمبے عرصے تک جلایا ہے جن کے دو ہزار سال ہو گئے ہیں ابھی بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے وہ اس کے ذریعہ سے وہ جو منکر ہیں آنے والے موعود کی بھی ایک علامتی ہی تھی کہ اس کے مطالعہ کے بعد سنت کون خلافت علیٰ منہاج النبوۃ بہت لمبا تھا بلکہ قیامت تک چلتا چلا جانا تھا اور پھر اس کے خلاف ٹائم نہیں ہونا تھا کہ یہ تمام شعبہ تھے جن کی وجہ سے اجرت اسلم نے بجائے ایک اور بیان کرنے کے آنے والے موعود کا نام ہوا کیا حضرت علی ایک کتاب جو آپ کی سیرت و شہادت حسین ہے ایک ہی جگہ سے اپنی حضرت عیسی علیہ صلاۃ و سلام کے ساتھ 16 مشابہ ہیں وہ بیان کی ہیں اور یہ ساری کتاب یہی بات کا تعلق کیا ہے کیا ہمارے علاوہ کسی اور نے بھی اسی آنے والا موجودہ عیسائیت میں مریم نہیں بلکہ عیسائی مریم کی طرح کا کوئی اور آدمی ہوگا کراچی آمد کے بعد کل مالیت میں بیان کیا گیا تھا سر بتاؤ علامہ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ امت مسلمہ کی ایک بہت بڑے عظیم بہادری میں ان کی وفات یہ 638 میں کتاب قرآن کریم اللہ علیہ کیا ہے کہ واجب آرزو ہو بھی آخری زمانے میں تعلق ہی بدل نہیں آیا یہ مریم ایک اور آدمی کے ذریعہ سے اس دنیا میں آئے گا ایک اور جسم کے ساتھ جنازے کی ابن مریم یبنی کا ایسا نہیں بیان کیا بلکہ اسی امت کا ایک پل شیخ الاسلام کا مسئلہ ہوگا حسن میرے خیال میں آپ نے بہت وضاحت کے ساتھ اور حوالوں کے ساتھ ان کے سوال کا جواب دے دیا ہے جان یہ کرم بار بار آپ کو ہم اس بات کی طرف بھی توجہ دلارہے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد ان کے بارے میں اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو ایک تو یہ ہمارا ٹیلی ویژن چینل ہے اس کو ضرور ملاحظہ کریں خاص طور پر جمعے والے دن سیدنا و امان حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں وہ دیکھنے کی ضرورت کوشش کیا کریں آخر آپ دیکھیں تو کہ جماعت احمدیہ کے تمام کیا فرماتے ہیں کیا کہتے ہیں آپ کو یقینا یہ جان کر جو خاص طور پر جماعت احمدیہ کی مخالفت کرتے ہیں جماعت احمدیہ کے خلاف باتیں کرتے ہیں وہ جب خطبات جمعہ کو دیکھیں گے جماعت یا کے پروگراموں کو دیکھیں گے تو آپ کو نہیں پتہ لگے گا کہ خطبات جمعہ میں محض قال اللہ قال رسول اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کی سیرت پر آپ کے نمونے پر عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے حافظ صاحب ہمارے پاس اگلا سوال ہے وہ سلطنت عمان سے آیا ہے منیر احمد صاحب ہیں آن لائن نہیں دوبارہ ان کا سوال جو ہے وہ آپ کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور وہ سوال یہی ہے کہ وہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ جو دو وجود کا ذکر ہے امام مہدی اور مسیح موعود کا تو یہ علیحدہ علیحدہ ذکر کیوں ہے پھر ایک جگہ ایک دفتر ذکر کیا جاتا ہے اس میں وہ اس بات کی وضاحت چاہی کہ جو ہمارے لئے رہنمائی مل رہی ہے وہ آپ لوگوں کو بتا دیں اس میں سب سے پہلے ایک بات میں عرض کرنا چاہوں گا کہ دیکھیں نام بھی ہو سکتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام نے سیاست میں عضو صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی فرمائی ہے وہ بھی فرمایا وہ مبشر میں رسولی یاتی من بعد اسمہ احمد میں ایک اپنے بعد آنے والے انگلش میں دینا چاہتا ہوں خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ وہ نبیوں کے امام جو آئے گا اس کا نام احمد ہوگا قرآن کریم نے اہل وسلم کا نام احمد بیان کی ہے چوہدری سے پیش گوئی بیان کروائی گئی یہاں پر اور اسلم کا اصل نام تو محمد تھا ہم کیا وہ بائبل میں پیش گوئی میں موجود ہیں بلکہ والے ادارے بھی کوئی محمد الفاظ ہیں کہ آنے والا جو ہوگا وہ محمد ہوگا نام ہے محمد کا سید محمد جوڑا تلفظ تو اس کے ساتھ حاصل کرنا محمد ان کے الفاظ آئے ہیں تو ایک شخص کا نام ہو سکتے ہیں تو نام بھی ہو سکتے ہیں سال کے ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہیں سیرت المہدی میں رکاوٹ کی وجوہات میں پچھلے سوال میں برادرم صاحب بیان کر دی ہیں ہاں یہ کہ یہ آیا کہ کہاں سے ہے ایک بعد میں بات کروں گا مثلا سورۃ جو اذان سے اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا اللہ تعالی کی مدد اور نصرت آ جائے گی اور تو دیکھے گا کہ لوگ دین اسلام میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں لالہ نے حضور صلی اللہ آپ کے صحابہ کو یہ حکم دیا کہ یہ وقت خدا تعالی کی نصرت دیکھنے کا تو ہے لیکن ساتھ ساتھ استغفار بھی ضروری ہے پس بے شک اللہ کے فضل سے ہو رہا ہے لیکن اس پار کرنا اس میں دو مور تھے ایک یہ تھا کہ جو مسلمان ہو چکے ہیں ان کی کمزوریاں بھی ایسا نہ آنے والے ان کمزوریوں کو دیکھ کر جو کمزور ایمان کے مسلمان ہیں ان کے لیے طلاق بن جائے اور جو آنے والے وہ بھی ساتھ بہت سے مسائل لے کر آئیں گے پھر بات نہیں ہوئی اور تعداد بڑھتی جارہی ہے بڑھتی چلی جائے گی تو وہ بھی اپنے قائد میں لے کر آئیں گے اضافہ کا موجود ہے حافی پہلے اللہ تعالی نے فرمایا جب لوگ اسلام میں داخل ہوئے ہیں تو ان میں بھی اکثر موجود تھا کہ وہ مصروف ہوئے معلوم ہوئے کفارہ کا عقیدہ و آثار اور اس کے بعد خدا تعالی نے ان کو اپنے پاس دائیں ہاتھ پر بٹھا لیا تو یہ عقیدہ آ گیا پھر حدیث کے الفاظ جو بخاری کی حدیث دوسری حدیث میں اس میں نام ینوی حسن مریم کے لیے یہ لوگ یہ کون سا پیدا ہوئے شاید آسمان سے نزول ہوگا ان کا پھر اسے مریم کا نام آگیا آسماں نہ جانے کے ایک مغالطہ لگا اور دوسرا عیسیٰ ابن مریم کو واپس آنا بھی تھا تو یہ تمام باتیں ایسی ہوئی جس نے پھر امت کے اندر اس عقیدے کو رائج کیا ہے چلے جاؤ کہ یہ خدا تعالیٰ کی منشاء تھی خدا تعالیٰ کا یہ پلین تھا وہ اس لیے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جو سب سے پہلے سفید متقیوں کی رکھی ہوئی ہے رکھی ہے دل لگی پر ایمان رکھتے ہیں اور غیب ہمیشہ وہ چیز ہوتی ہے جو پر نہ ہوں کمرے میں ہوں پردوں میں ہوں یہ ہے کہ وہ غیب کی باتوں کو اگر تم ایمان لاؤ جائے پھر نتیجہ سامنے آ جاءے ایمان نہ کسی سے خدا کے سامنے کھڑا ہو جاتا اور پھر کسی کو شرط تھی کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا تو ایمان بھی لگایا ہے یہ اصل میں اجر کا موجب بنتا ہے تو اس لیے اللہ تعالی نے یہ سارے معاملات کی ہے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لئے اطلاع ہو امتحان اور اس کے پر جملے شراب نے ذکر کیا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دس کر تو شہادتین میں اسی قسم کے ایک معاملے کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا ہے مگر ایسا آدمی جو تمام لوگوں کے روبرو آسمان سے اتری اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں اس سے کوئٹہ کرے گا وعلیکم سلام اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں کو واضح طور پر نشانہ دکھادیا جاتے جب لوگوں نے کہا بھی کہ جو ہمارے سامنے جا کے آسمان سے کتاب لے کیا لیکن یہ اللہ تعالی کا طریقہ کار نہیں ہے اکرام جس طرح مشہور صاحب نے بھی ذکر کیا ہے کی سنت ہے کہ جب وہ اپنے پیاروں کو اس دنیا میں بھیجتا ہے تو ایمان لانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے ایمان بالغیب لانا پڑتا ہے کی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ہماری نظروں کے سامنے نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالی سے پوچھنا پڑتا ہے اور پھر اللہ تعالی دلوں کو تسلی دیتا ہے ایسے معجزات دکھاتا ہے نشانہ دکھاتا ہے جس سے انبیاء اور خلفاء کی صداقت کا پتہ لگتا ہے نصیر صاحب اگلا سوال جو ہے احمد صاحب نے جمال پور سے پوچھا ہے وہ جنرل نوعیت کا سوال ہے پروگرام میں ہم اس پر گفتگو کر چکے ہیں لیکن اچھا تو پھر ان کی رہنمائی کے لئے آپ بتا دیں کشمیر میں ہے یہ صرف جماعت احمدیہ کا عقیدہ یا کوئی اور اس کے بارے میں مانتے ہیں پھر وہ کہتے ہیں کہ کیا قرآن و حدیث میں اس کا ثبوت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تصنیف مشین پاکستان میں اور بہت ساری دیگر کتب میں بھی اس کا ذکر فرمایا ہے میں نے پچھلے پروگرام نے اسلام کیوں کتب کے نام بتائے تھے ان سب سے کے مطالعے سے بات یہ بات کھل جائے گی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باقاعدہ تحقیق کرکے دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے کہ حسین محلہ خانیار سری نگر کشمیر میں یہ جو خبر ہے یہ ہے دیگر شواہد اور قرائن یہی بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ الصلاۃ و السلام کی خبر ہے آپ ایک لمبا سفر کر کے یہاں پہنچے تھے اس سے ہم نے زمین میں بھی آدم علیہ السلام نے مختلف پہلو سے جو اوپر بیان فرمائے اور اس کے بعد اب بہت سارے لوگوں نے مغربی محققین نے بھی اس تحقیقات کی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں انڈیا کے نام سے بھی بعض کتب ہیں جن میں بعض جرمن محققین بھی ہیں دوسرے بھی ہیں اور انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے اور اس میں سب سے اول جو یہ بات خاص طور پر سلامی پیش کی گئی ہے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے پیش کی گئی ہے دوسرا حصہ اس کا آج کا سوال کا جواب واضح نہیں پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ قرآن اور حدیث میں بھی اس قرآن سے رحیم اسلام نے ویڈیو اور اللہ تعالی نے یہ فرمایا تھا واعوانہم البم37 اقرار میں حضرت مسیح علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ کو ہم نے اونچی جگہ پے جو قرار والی اور چشم والی تھی وہاں پر انہیں عروسی موسی علیہ الصلاۃ والسلام نے کشمیر کی جو جو گراف کی صورت حال ہے اس کی بہت ساری مشابہتیں بیت المقدس اور ساتھیو السلام مبعوث ہوئے تھے اور مشاہدوں کے پیچھے فرمایا ہے اور نگر ہے اس کے بھی جو ہمارے ہیں وہ بھی وہاں پر روشنی میں ہوں میں وہاں پہ جگہ بھی ہے تو اور بھی بہت ساری خوشیاں پہ واپس آکر ہے جس سے پتہ چلتا ہے اور قرآن کریم میں اس کی بنیاد تھی کہ اللہ تعالی نے انہیں اور اللہ تعالی نے کیسی جگہ میں بنا دی یہ کون سی جگہ تھی اور خوبصورت اور اسی طرح کے موسم والی اور اسی طرح کی چشم والی اور یہ کشمیر جل اللہ علمائے اہل حدیث کا ذکر ہو گیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مسیح ہندوستان میں جو دوسرا چیپٹر تحریر فرمایا ہے اس میں قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے سے جو ایک حضرت عیسی علیہ السلام مسیح کے نام میں جو سیاحت کی طرف اشارہ ہے اس میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اگلے سوال کو لے کر ہم گانا چلتے ہیں اور ساجد محمود صاحب سے سوال پوچھیں گے السلام علیکم ساجد محمود صاحب رحمت اللہ صاحب اگلا سوال جس طرح پیش کیا جاتا ہے میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں وہ اس سوال کا جواب تو خود ان لوگوں کو دینا چاہیے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں یہ سوال کرتے ہیں ارے ذرا سی بات تھی جو مطلع شاہ تھی وہ تو ہر قسم سے ہر پہلو سے جائزہ لیتے ہیں وہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ اگر ہیں یہ غلط عقیدہ ہے تو یہ کہاں سے آیا اور اگر حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ نہیں ہیں تو اس بات کا ثبوت کہاں سے ملے گا میں دوبارہ اس سوال کو فریز کردیتا ہوں آپ سے چاہتا ہوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے آسمان پر زندہ رہنے کا غلط عقیدہ کہاں سے امت مسلمہ میں رائج ہوا ہے یہ پوچھا جا رہا ہے یہ ان صاحب اس سوال کے جواب کے سلسلے میں عرض ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب خدا کے فضل سے کثرت کے ساتھ اسلام کا پیغام جو ہے وہ مختلف علاقوں میں پھیلا ہے شرائط کی ایک بہت بڑی تعداد جو ہے وہ اسلام سے باہر اگر کسی مذہب میں ہم دیکھیں گے کہ کیا کوئی ایسا مذہب ہے جس میں حضرت کی صلاۃ و سلام کی زندگی پر زندگی اور آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ کے کھانے کا ذکر ملتا ہے تو وہ صرف اس آیت میں نظر آتا ہے تعداد ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں جب یہ لوگ آئے ہیں تو گو کہ اسلام کی صداقت تو انہوں نے تسلیم کرلی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کا مقام تو شرک کی حد تک پہنچا ہوا تھا خدا کے بیٹے ہونے کا وہ انہوں نے ترک کر دیا کے خیالات میں نہیں آیا کرتی بلکہ ایک محاورہ استعمال ہوتا ہے اردو میں کہرام نکلتے نکلتے ہی نکلے گا اور اللہ داخل ہوتے ہوتے ہی ہوگا تو خیالات ہیں اس میں تبدیلی عزت ہوتی ہے عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ جسم سمیت آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آخری زمانے میں انہوں نے ہی آنا ہے کہ جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور اس میں بھی ابن مریم کے آنے کا ذکر نہیں ملا تو فوری طور پر یہی والا عقیدہ جو ہے ان کا مزید پختہ ہو گیا اسلام کے متعلق اوکے زندہ کرنے کا تو یہ لوگ مسلمان فوری طور پر یہ مان لیتے ہیں کہ وہ ہزار مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے لیکن یہی جب ذکر اجرت حجاب و آخرت میں بلاتے ہیں زندہ کرنے کے لئے تو ان کی آواز سے استجیبو لبیک کہا کرو آواز پر لبیک کہہ کر وہاں پے روانی دے دیا کرتے ہیں آئے ہیں تو یہ اپنے ساتھ یہ والا عقیدہ بھی گھبراتے ہیں اور آہستہ آہستہ جب نسل بعد انشاءاللہ یہ بات چلی گئی ہے جو قرآن کریم میں ایک اصول بیان کیا ہوا ہے کہ جو بھی پھر امام لوگ ہیں وہ نہیں چھوڑا کرتے چلے جاتے ہیں ہاتھ کی بات عطا فرما رہا ہے کہ ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو بہت سارے آگے سے جواب آڈیو ما الفینا علیہ آباء نا کہ ہم تو اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنی اولاد کو پالا ہے اس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو مطلب آدھا دن یہی عقیدہ ہے وہ ان کا اس چلا گیا ہے یہ جماعت احمدیہ نہیں کہتی ہیں بلکہ بعض دوسرے علماء بھیجو فاطمہ اس کتاب کا اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہوا ہے کہ اس آیت سے یہ عقیدہ اسلام کے اندر آیا چنانچہ آٹھویں صدی ہجری میں حضرت امام ابن قیم رحمہ اللہ 1 جی میں ان کی وفات ہوئی ہے انہوں نے اپنی کتاب زاد المعاد میں یہی عقیدہ ذکر کیا ہوا ہے کہ اس آیت سے وہ اسلام ہے پاکستان 2018 کی وفات ہے انہوں نے بھی باقاعدہ یہ ذکر کیا کہ یہ عیسائی فرقوں سے عقیدہ ہے وہ اسلام میں داخل ہوا مولانا ابوالکلام آزاد صاحب ان کے متعلق آتا ہے کہ نصیحت آدمی بغیر ان کی تحریر میں ملتی ہے کہ یہ بلا شبہ یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک اور اسلامی تعلیمات میں نمودار ہوا ہے تو وزارت نے بتا دیا کہ عقیدہ یہ اس آیت والا ہے مسیت والا ہے لیکن بعد میں اس نے آنا ہے اس نے وہ علماء نے اس کو قرآن کی طرف اس کو حدیث کی طرف جبکہ نام قرآن ناطق قرآن کا ذکر کر رہے ہیں اسی کا نہ ہی حدیث ہے اس کا ذکر کر رہی ہے بلکہ اس آیت میں اس آپ کیا کر رہا ہے واپس شکریہ ساجد صاحب بہت بہت شکریہ آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس بات کی وضاحت کر دی ہے افسوس ہمارے وقت کا پروگرام کا وقت ہے وہ بہت تیزی کے ساتھ اختتام کے قریب جا رہا ہے تو میں بغیر کسی تمہید کے اپنے اگلے سوال کی طرف آتا ہوں اور یہ سوال کیا ہے خان صاحب نے جو برطانیہ سے ہمارے ریگولر ہیں انہیں بہت مختصر سی ہے لیکن میں وہ والا بھی آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اور میں چاہوں گا کہ ہمارے ناظرین کے لیے وضاحت کر دیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عربی کتاب ضرور حکم فرمایا ہے میں اس کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں یہ وہی موسی مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لاوے کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور وہ تو میں سے نہیں تو اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام زندہ ہیں اگر قرآنی آیت آیت خلت من قبلہ الرسل جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ان سے پہلے تمام رسول گزر چکے ہیں تو حضرت موسی علیہ السلام کو کیوں یہ عظمت قرار دیا ہے اور جس حضرت موسی علیہ السلام کو زندہ کردیا ہے حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہو سکتے ہیں خواب تفصیل کے ساتھ بیان کر دیں جزاک اللہ آدھا علم بھی بعض اوقات ٹھیک نہیں ہوتا حالات تو مجھے بھول جاتا ہے مہربان تو اگر میں یہ کہوں کہ اگر کوئی شخص ہے کہ لا تقربوا الصلاہ اور اگر ایسا چھوڑ دے تو یہ استدلال کرنا شروع کر دیں یا غیر المسلمین کا اگر لیا جائے اگر ایسا نہ دیکھا جائے تو نماز پڑھنا چھوڑنے کے نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے اس حوالے کا سیاہ ضرور دیکھنا چاہیے السلام نے اس سے پہلے بیانیہ کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں بہت زیادہ کیا گیا ہے آ گیا کہیں آپ کو اور وہ کہہ دیا گیا رولا کے کہیں آپ کو کلمہ سمجھا گیا پھر بعض لوگوں نے آپ کے انسان ہونے سے انکار کر دیا خدا کے ساتھ آپ کو اس پر بٹھا دیا گیا کس نے خدا کا بیٹا بھی کہتی ہے حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہندوؤں کا قبول کرلیں تو آپ دیکھیں کہ کس کا درجہ بلند ہے قیصر سوتا بھی تھے تب نبی نسخہ کے دوران کتاب تھے اور تورات کے بانی جو خدا نے جو کلام دیا وہ ہر طرف سے سلام کو دیے ہیں اسلام نے بھی آکر یہ فرمایا کہ میں تو رات میں نہیں آیا شرم نہیں ہوگا بلکہ میں تو اس پر عمل کرانے کے لئے آیا ہوں باقی ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام زندہ ہیں تو دراصل قرآن کریم کو پڑھنا چاہیے اس پر غور کرنا چاہیے قرآن کریم نے جو مدارس رکھے ہوئے ہیں ان میں سب سے متقیوں کے مدارج وہی سورہ نساء کی آیت نمبر 70 میں بیان ہوئے ہیں میں ان میں سب سے نچلا درجہ حرارت نمبر کا ہے وہ صالحین کا ہے پھر شہداء کا ہے پھر صدیقین کا ہے پھر نبیوں کا اللہ فرماتا ہے کہ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات خدا کی راہ میں شہید کو مردہ کہنا الا لا تشعرون اس بات کا اور ایک دن فرمایا بل احیا عند ربہم یرزقون یہ زندہ ہیں اور خدا کے حضور رقت دیئے جا رہے ہیں ضروری تو نہیں کھاتا جسم کو زندہ نہیں ہے لیکن خدا کو زندہ کردے رہنا روحانی کمالات میں شخص ہے وہ زندہ ہے تو جو صدیق کے مقام پر ہوگا وہ تو لازمی زندہ ہو گا اور جو نبی ہوگا وہ باہر زندہ ہو گا اس کا زندہ ہونا وہ نام ہے جس معنوں میں زندہ نہیں ہے اور یہی فرما رہے ہیں کہ اگر کسی کا زندہ ہونا سمجھا جانا چاہیے تو حضرت موسی علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ السلام کے بارے میں یہ بات بیان کی کہ بعض ایسی احادیث میں ذکر بھی موجود ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہر سال دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں قرآنی معلومات مانتے ہیں لیکن تو پھر اگر ماننا ہے کسی کو کسی کے بارے میں مغالطے لگنا چاہیے تھا تو حضرت موسی کے بارے میں لگنا چاہیے تھا وہ کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ روحانی میں زندہ ہے آسمانوں میں زندہ نہیں ہے تو تقابل کر رہے ہیں اور اگر سب سے زیادہ تھا تو وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی سامنے اس وقت پر مسلسل فرمایا ہے غیرت کی جا ہے ایسی زندہ ہے فون ہو زمین شاہ جہاں عمر اور ایک شعر فارسی زبان کا بھی ہے بنی اگر کسے پائندہ بود ہے ابوالقاسم محمد زندہ رہنا چاہیے تھا تو ابو القاسم محمد وآلہ وسلم کی ذات ہے جو زندہ رہنا چاہیے تھا تو ان تمام معاملات کو دیکھا جائے اور اسی دور میں بیان کردہ نصاب اور اقسام بیان کیا ہے اس پر سجدہ کی آیت ہے فلا تکن فی مریۃ من لقائہ مصائب کربلا حصہ ہے اور مفسرین اس بات کی تشریح کی ہے کہ خدا تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب ہوکر فرمایا ہے کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے بارے میں شک میں نہ رہنا نکاح معراج کی رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ ے اور یہ ملاقات کرانے کے لئے میں وعدہ ہے وہ ہوا ہے میرا آج کی رات کو اور نماز کو چار مکالمہ کس نہیں پتا کہ اسلام پر 40 کیجی حضرت مسلم رضی کے پچاس بہت زیادہ ہے تمہاری مدد کے لوگ ہی رکھیں گے وہ کم ہوتے ہوتے پانچواں گی تو ملاقات کا وعدہ بھی مفسرین کے نزدیک آنا پڑا ہوا ہے اور وہ آسمان پر زندہ ہیں مانا اس اس رنگ میں روحانی طور پر اب زندہ جسمانی طور پر وفات پا چکے ہیں میں تو صرف نظامی کا مختصر سا تبصرہ کردیں ہم نے تفسیر کے ساتھ خان صاحب کے ایک سوال کو ڈیل کر لی ہے وہ بار بار پوچھ لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا کیوں تبدیل کیا کیش ابھی رات والسلام کا معنی ارشاد پڑھ کے سنایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے خدا کی وحی کی پیروی کی ہے اور یہ یا نبی اور مامورین کی شان ہوتی ہے یہ تو ابھی میں نے پہلے جواب میں کربلا کے واقعے کا ذکر کیا اور قرآن مجید نے بتایا ہے پہلے سے بتا دیا تھا کہ سایہ قول صفحہ او یہی جواز وہاں پے معاملہ حل عطا محمد خان والا کے جو کام لوگ ہیں جاھل لوگ ہیں جو بغیر علم نہیں رکھتے سطحی باتیں کرنے والے وہ یہ ضرور اعتراض کریں گے کہ کس چیز نے ان کو اس کے گلے سے پھر آج پھر یہ تھے یعنی برکت ہے دوسرا اسلام نے فرما دیا ہے کتابیں کر رہا ہوں میں آپ کو ایک بات نہ سمجھ نہیں رہی میں ناظرین اس بات کی طرف بھی توجہ ایک جس طرح مشہور صاحب نے یہ جو سرور حق کا جو حوالہ ہے اس کی بڑی وجہ شہرت کیا اور یہاں آپ کے سامنے بیان کیا اکثر جو اعتراضات حضرت بانی جماعت احمدیہ یا آپ کے عقائد پر کیے جائیں شب برات کے ساتھ کیے جاتے ہیں یعنی آپ نے جو بات وہاں بیان کی گئی ہے جس رنگ میں بیان کی گئی ہے اس کو سننے سمجھنے کے بجائے وہاں سے کٹنگ کر کے چھوٹی سی بھارت کو پیش کردیا جاتا ہے تو اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ جب بھی کوئی ایسی بارات آپ کے سامنے پیش کی جائے میں خاص طور پر اپنے امدادی بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی عرض کر رہا ہوں تو فوری طور پر اس عبارت کو جاکے دیکھی اب تو آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہیں آپ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے اسلام ڈاٹ کام پر جائیں اور مسیح موعود علیہ السلام کی اصل کو تب تک آپ کے رسائی مل سکتی ہے وہاں جاکر حوالہ چیک کریں اگلے سوال کو لے کر ہم پھر گانا چلتے ہیں اور ساجد محمود صاحب سے بات کریں گے ساجد صاحب اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نعمت اللہ ساجد صاحب سوال بہت ہی میں اور مجھے پتا ہے اس کی تفصیل بھی بہت ہے لیکن آپ سے گزارش کروں گا کہ مختصر سے وقت میں 35 منٹ میں اس کا ذکر کریں اور میں جاننا چاہتا ہوں کہ احادیث میں یہ بات بیان ہوچکی ہے اور ناظرین کے لئے آپ یہ واضح کریں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور آنے والے مسیح موعود کا حلیہ کیا بیان کیا گیا ہے اور اس سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے شراب خان صاحب وہ کتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ذکر ہے جس میں آنحضرت صلعم نے حضرت عیسی حضرت موسی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا فرماتے ہیں اردو سندری انڈیا میں یہ والا ہے کہ جہاں تک حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر ہے تو فرمایا کہ مروان ان کے بال گُھنگریالے تھے اور ان کا سینہ چوڑا تھا جناح کے یہاں پے حضرت عیسی علیہ السلام کو گدھے ثابت یہ ہوا کہ یہ دنیا پاکستان کتاب احادیث الانبیاء میں ایک اور حدیث میں آنحضرت لڑکی ملتی ہے جس میں حضور نے امت محمدیہ میں آنے والے پیسے کو دیکھا خواب میں لڑکی کو دیکھا ہے اور جس نے کہا کہ دجال کو قتل کرنا چاہتی اسی حدیث میں دجال کی حفاظت کیا کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ االلہ رب العزت ہم سب کو اشارے میں دیکھا گیا مادہ موجود تھا اس کا رنگ گندمی تھا اور سب شاعر ہیں اور اس کے بعد جو ہے وہ سسکتی رہی میں وہاں کے رنگ والے کی وہ ہمارے سر کو سفید ہے کہ ابن مریم نے اس امت میں مسیحی موت بن کے آنا تھا وہاں کی بیان کیا ادا گیا ابن مریم کا ذکر کرتے ہوئے بالوں کا فرمایا جادوگری علی ہیں یا کہ مسیح ابن مریم کس نے اس امت میں آنا تھا اس کے بالوں کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اب سوال یہ ہے کہ اگر اس امت محمدیہ میں اسی حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے جو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے انہوں نے آنا تھا تو پھر آنے والے موعود کا حلیہ تو تبدیل نہیں ہونا چاہیے تھا حکومت میں آکر دجال کو قتل کرنا ہے اور اسلام کو غالب کرنا ہے اس کا رنگ سفید ہو گا اور اس کے بعد بھی رہے ہوں گے لیکن حضور آنے والے مسیح کا رنگ سفید نہیں بیان کر رہے بلکہ گندی بیان کر رہے ہیں اس کے گھر والے نہیں بیان جاری کر کے بارے میں بیان کر رہے ہیں اکٹھے ہوئے میں اختلاف یہ ایک بہت بڑی دلیل بنتی ہے کہ اس امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود اور ہے اور بنی اسرائیل میں جو موسی آیا تھا وہ اور ہے ساجد صاحب گرام آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں جو مختلف طریقوں سے ہماری رہنمائی کی ہے یہ ہمارے لئے قابل فخر ہے اور اس وقت ساجد صاحب نے جو نہایت تفصیل کے ساتھ اور وضاحت کے ساتھ دو مختلف شخصیات کا حلیہ بیان کیا جو دراصل ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے اس کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام جو ان سے دو ہزار سال پہلے دنیا میں آئے وہ کوئی اور تھے اور آنے والا مسیح اور نصیر کامرس ہمارا پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے یہ سارے پروگراموں کا سلسلہ تھا یہ سلسلہ کا آخری پروگرام ہے ہم نے خاص طور پر وفات مسیح کے حوالے سے بات کی آخر میں ناظرین کو کچھ آپ بتانا چاہیے والے سے کیا دیکھنا چاہیے کیا پڑھنا چاہیے تاہم پہلے پروگراموں میں ذکر کر چکے ہیں کہ بہت اہم ہے قران کریم کامل اور مکمل کتاب ہے جو بڑی وضاحت کے ساتھ بڑی شدت کے ساتھ بڑی قوت کے ساتھ تو سلام مسیح بن مریم کی وفات پر خاص طور پر زور دیتا ہے پیار کی وفات کا ذکر فرماتے والوں میں ایک اصولی باتیں بھی ہیں لیکن زیادہ کی تو کوئی استثنیٰ چھوڑتا ہی نہیں اس بارے میں اللہ تعالی کے علم میں تھا کہ آخری زمانے میں یہی بات یہ عقیدہ ایک بہت بڑے فتنہ کی صورت اختیار کرنے والا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا ذکر ہوا احادیث بھی اس بات کو ثابت کرتے ہیں سر اسلام کے تاریخی واقعات کا ذکر ہوا تب بھی شہادتوں کا ذکر ہوا حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے اپنی پیش گوئیوں کا ذکر ہوا وہ ساری اس بات پر بتاتے ہیں ثابت کرتی ہیں کہ وہ ایک بشر رسول تھے انہوں نے اپنے مشن میں کامیابی حاصل کی ہے اور زندگی گزار کر اپنے مشن میں کامیاب ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہے اب سوال ہے بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جس کو قرآن کہتا ہے کہ فوج کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اس بات کو نہیں سمجھتے کہ یہ بات عیسائیوں کو کس قدر تکلیف دینے والی ہر مشکل آسان فرما یا اللہ تیرا قیامت میں ارادہ نہیں پترا جہاز وی تو قیامت تک زندہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ سب میں مدفون ہمارے آقا و مولا صلی وسلم کو یہ زیب نہیں دیتا ہے تو بہت اچھا ہے اور خدا کے لئے غور کریں آیت کے اس صلیبی فتنے کو تکلیف نہ دیں اور اس کے مقابلے کے لیے خدا نے جو زمانے میں مسیحا کی منتیں بھیجا ہے اس کے ساتھ ہوں اس دلیل کو سنیں پڑھے اور فساد ہو کر عیسائیت کے صلیبی فتنے کا مقابلہ کریں یہی ایک ذریعہ ہے جس سے اسلام کو حقیقی معنوں میں پیر صاحب چار پروگرام میں آپ کا ساتھ رہا آپ کا بہت بہت شکریہ شمشاد صاحب آپ کا بھی بہت بہت شکریہ ساجد محمود صاحب آپ کو بھی بہت بہت شکریہ ناظرین کرام آپ کا بھی بہت بہت شکریہ امیج آتے جاتے حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کی ایک تحریر آپ کے سامنے ضرور پیش کرنا چاہوں گا جو آج سے تقریبا سو سال پہلے آپ نے تحریر فرمائی اور آپ نے اس تحریر میں تحریر فرمایا یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا ہمارے سب مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے ہیں نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی مارے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد ملے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آگے تحریر فرماتے ہیں تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبے کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے دن میں آ گئی مگر مریم کا بیٹا حصہ اب کتاب دانشمندان ایک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہوجائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ ایسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی اور بدظن ہوکر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا میں تو ایک تخم ریزی کرنے کے لئے آیا ہوں تو میرے ہاتھ سے وہ تو بویا گیا اب وہ پڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو روک سکے ناظرین کرام سوچنے کی بات ہے غور کرنے کی بات ہے دیکھنے کی بات ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں آپ کی جو دشمن موجود تھے وہ یقینا اس دنیا سے فوت ہوچکے ہیں اور اگر حساب لگایا جائےتو ان کی اولاد بھی جو تھی وہ بھی اگر اسی سال کی عمر پائی ہے تو وہ بھی اس دنیا سے گزر چکی ہے ان کی اولاد در اولاد میں سے کچھ لوگ ابھی باقی ہوں لیکن جس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب یہ سخت نومیدی دنیا میں قائم ہو رہی ہے دنیا میں پھیل رہی ہے اور لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کے عقیدے کو آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں کئی علماء نے بھی جو اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ دنیا میں آنا ہے تو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا کلام جی سر آپ نے ارشاد فرمایا تھا آج کے اس پروگرام کے ساتھ یہ اینڈ اسٹوڈیو سے آپ ہمیں اجازت دیں ان شاء اللہ آئندہ کبھی موقع ملا تو پھر حاضر ہونگے ہم تو یہی کہتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا شرک اور بدعت سے ہم بیزار ہیں مختار ہیں سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے جان و دل اس راہ پر قربان ہے دے چکے دل اب تو نہیں آ رہا وہ بھی خدا اور جو اس پروگرام گو ہے ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہیں اللہ حافظ ہم تو رکھتے ہیں تیرے ہیں نوکیا کدی سورۃ رکھتے نو کدی ہیں خدا میں سنی

 60 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: