Rahe Huda – Ahmadiyyat Par Hone Wale Aiterazat K Jawab – Chanda Ka Nizam




Rahe Huda – Ahmadiyyat Par Hone Wale Aiterazat K Jawab – Chanda Ka Nizam

Rah-e-Huda | 1st August 2020 – London United Kingdoms

قلات اس سے نبھا گیا خدا یہی نہیں ہے تو نبھانا لو جان شمس دعا یہی بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ برطانیہ میں آج عید العزیزیہ کا دوسرا دن ہے جب کوئی چاند اور ممالک میں آج عید الاضحی کا آج پہلا دن ہے اور سب سے پہلے تمام ناظرین و سامعین کی خدمت میں بہت بہت عید مبارک اور یقینا اس پروگرام کو سننے والے کی ناظرین کی خواہشوں کی اور ہماری بھی یہی خواہش ہے تو اسی کے مطابق اس پروگرام کے توسط سے پروگرام رہے ہیں خدا کی ساری ٹیم کی طرف سے سیدنا امام حسن حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھی ہم سب السلام وعلیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اور عید مبارک پیش کرتے ہیں ناظرین کرام یہ پروگرام برا ہوتا ہے جو آج یکم اگست سن دو ہزار بیس ہفتے کے روز جی ایم ٹی وقت کے مطابق شام چار بجے ایم پی اے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے آپ کی خدمت میں براہ راست پیش کیا جا رہا ہے یہ آپ کا پروگرام ہے یعنی اس پروگرام میں آپ کے سوالات جو آپ اسلام کے بارے میں انا کریم آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جماعت احمدیہ عقائد جماعت احمدیہ کے بارے میں کرنا چاہتے ہیں ان پر گفتگو کی جاتی ہے اور آپ کے سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں کرنے کے دو طریقے ہیں ایک تو ہمارا واٹس ایپ نمبر ہے جو پروگرام کے دوران آپ کو اسکرین پر نظر آتا رہے گا اس کو نوٹ کر لیں اور بے شک تحریری اپنا سوال بھجوائیں یا وائس میسج کے ذریعے اپنا سوال بھجوائیں ہم اس پروگرام میں آپ کے سوالات کوضرور شامل کریں گے اگر آپ خود اس پروگرام میں بات کرنا چاہیے تو ہمارا لینڈ لائن نمبر نوٹ کر لیں پروگرام میں خاکسار کے ساتھ شامل گفتگو ہوں گے یہ ہالینڈ اسٹوڈیو میں مکرم منصور احمد ضیاء صاحب جب کہ اسے ہمارے ساتھ شامل ہوں گے مکرم ساجد محمود بھٹی صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حاجی صاحب وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ رہبر کی عید منائی ہے آج عید منا رہے ہیں گانا میں گانا میرا یار کال آئی تھی عید کا دوسرا دن ہے اے صاحب جس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ انہوں نے اپنے ایک منظوم کلام میں فرمایا تھا کہ اثر ہو یہ سر ہو تنگ یہ کی آسائش ہو کچھ بھی ہو بند کر دعوت اسلام نہ ہو اسی ہدایت کو اسی اصول کو اپناتے ہوئے آج عید کے دن بھی ہم کوشش کریں گے کہ لوگوں کے جو بھی سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں ان کو آپ لوگوں کے سامنے پیش کریں اور پھر ان کے جوابات اور آج پہلا سوال جو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا یہ گزشتہ پروگرام میں ہماری ایک بہن راشدہ صاحبہ نے کینیڈا سے بھیجا تھا اور وہ یہ کہتی ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا میں خاص طور پر جماعت احمدیہ کے مالی نظام کے بارے میں یا اُن شہیدوں کے بارے میں بہت زیادہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے میں اسی سوال کو زیادہ مزید وسیع کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں کہ تو یہ بتائیں کہ جماعت احمدیہ میں جو مالی نظام ہے اس کی کیا حکمت ہے دوسرا خاص طور پر یہ ہمارے ناظرین و سامعین کو بتائیں کہ کیا آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زکوۃ ادا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے یا دیگر معنی قربانیوں کا بھی ذکر ہے صدقہ خیرات کا بھی ذکر ہے جو میں چاہوں گا ہیں اور آپ ناظرین کو اس کے بارے میں رہنمائی کردیں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم عمران خان صاحب اس سوال سے ہماری بہن نے کیا ہے اس کے جواب کے حوالے سے عرض ہے جو بھی نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے بنیادی مقصد یہ وقت ہے کہ لوگوں کو نیک بنائے نیک بنانے کے لیے جو مختلف تاریخ دانوں نے بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک بنیادی طریقہ یا نفع کی ناچے سورہ آل عمران میں دو چوتھا پارہ شروع ہورہا ہے جس آیت سے وہ آیت یہ ہے کہ لعنت لال نعت الماری فرمایا کہ نیکی ہرگز تم لوگ حاصل نہیں کر سکتے چیزیں خدا تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہ کرو جن سے تم محبت کر نیکی کا حصول ہے خدا قرآن پاک میں کر یہی وجہ ہے کہ جب ہم قرآن کریم پڑھ سکتے ہیں یہ سب سے زیادہ ایسی آیات ہیں جن میں علم پاک اور مال قربانی کا جانور ہے جو ذکر ہے اللہ کی سورہ بقرہ کی جو ابتدائی آیات میں جس میں مومنین کی علامات کو داخلہ امتحان کی علامات بیان کر رہا ہے بنیادی علامت یاد آتی نہیں ہے پیار کر رہے ہو ہمارا ہومیوپیتھک کی حقیقی خدا تعالیٰ کی نظر میں وہ ہے چیزوں میں سے خدا تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں جو ہم نے ان لوگوں کو ادا کی ہوئی ہے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بھی صاحب کے دو قسم کے ہم کہ چہرے کے مالک بن گئے ایک آج کا سر کے ساتھ ذکر ہے لیکن زکوۃ کے حوالے سے ہم میں سے ہر ایک کو پتہ ہے کہ یہ صاحب حیثیت لوگوں سے جو متبادل تمام اتفاق ہوتا ہے ہمیں رب کا ہوتا ہے لی جاتی ہے جب ایک حد تک ان کے پاس مال جمع ہوتا ہے نصاب کے مطابق ہے پھر ان پر مخلوقات جو ہے وہ خراب ہوتی ہے قرآن کریم نے جو مضمون بیان کیا ہے وہ تو یہی ہے کہ نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے اللہ کے راستے میں تو کیا اگر صرف زکوۃ سمجھ لی جائے کہ یہی مالی قربانی ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ جو اکثریت اور باقی ہے جو مکتب وہ لوگ بلا ان تمام برکات سے محروم ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی بات کریں گے مال جہاد میں اس کا درد صحابہ کو ترقی اور اتنی اردو تقریر اور تحریر کیا کرتے تھے اس موقع پر عورت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ہیں وہ اپنے گھر کا آدھا سامان لے گیا جنگ تبوک کب ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس لیکچرر کو استعمال کے ساتھ جو ہے وہ جمال اللہ کرے گا بشارت ہے صحابہ کی قربانیاں کی اپنی اپنی توفیق کے مطابق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے کی جنگ میں ایک ہزار اشرفیاں پیش کی 950 اٹھائے اور پچاس بڑے ہیں وہ صدر کے لیے وہ اس کثرت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمایا کرتے تھے اس زمانے کے مخالفین ہیں کوئی بات نہیں آیا کرتی ہیں یہود کا اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے فقیروں بناؤ کے ہر وقت دعائیں مانگتے رہتے ہیں اور جلنے کے متعلق اپنے صحابہ کو بتاتے رہتے ہیں تو گویا ایسے لگ رہا ہے کہ اللہ کریم ہے فلم محتاج ہے اللہ تعالی خیر ہے فوائد ہیں وہ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں وہ زیادہ برکات میں ہیں وہ قرآن کریم چندہ دینا قرار دیا چلا فرماتے ہیں سورہ بقرہ میں یہ منظر لادے یو کر اللہ حسن یوسف ہو قصیرا یہ کون ہے تو اللہ تعالی کو قرض حسنہ دے اس کو اس آدمی کے لئے جو چند دے رہا ہے خدا تعالیٰ کی بنائی ہے وہ پڑھائی کہاں کے تھے اسی صورت میں اللہ تعالی نے علم میں اضافہ کی مزید تشریح اور جگہ بیان کی خدا تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرتے ہیں تین برس بعد ثناءاللہ فرمایا ان کی مثال سے ایسے دانے کی طرح ہے جو زمین میں بویا جائے اور اسے سات بالیاں ہوں گے الاسم بلاتینی اقبال ہر بالی میں ہر رستے میں ایک سو دانے اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کے راستے میں اگر کوئی ایک روپیہ خرچ تو خدا اس کو پکارتے رہے کہ 7 سے 8 کلاس رزلٹ آئے گا سات سو روپیہ اٹھائے خود اللہ کی رضا کی خاطر اخلاص کے ساتھ ایک انسٹال ایک سو روپیہ دے رہا ہے تو اس وقت کے مطابق اللہ تعالی یہ شعر اس کو دے رہا ہے کہ کوئی اس طرح چار بجے اسکول اٹھائے گا اور اس کا علاج ہے دارالافتاء اور یہی بات نہیں رکھتی بلکہ فرمایا واللہ ہو جائے کوئی مائع ہوں الحقنی وہ خدا جو وعدہ کر رہا ہے وہ خدا تو اور بھی کئی گناہ زیادہ بڑھ کر تو بعض خدا تعالیٰ اسی دنیا میں انسان کو زیادہ مار سونگ اور پھر اور زیادہ جو ہے اس کے اجزاء ہیں مقابلہ آخرت اسی طرح مالک قربانی کا ایک فائدہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے نفس کی تربیت ہوتی ہے اس کے خاندان کی اس کے بچوں کی جو ہے اس لحاظ سے تربیت ہو رہی ہوتی ہے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ مالی قربانیاں کے سورہ توبہ میں اللہ تعالی یہ مضمون بیان فرمایا ہے ابو الحسنات کا تنگ فرمایا کہ اے نبی ان لوگوں سے سرکاری آکر مالک اور بانیان سے لوگ ایک فائدہ کیا ہوگا آگے کی پروفائل بیان کی ایک فائدہ طاہرہ وقاص پانی کے نتیجے میں نبی تو ان کے دلوں میں پاکیزگی پیدا کر ان کو متحرک بنائے گا ایک اور آیت میں خدا تعالیٰ نے اس کا فائدہ بیان کی آیات پر لاگو پانی کے نتیجے میں خدا تعالیٰ جو ہے وہ تمہارے گناہوں کو بخش ایک اور آیت میں تو سورہ بقرہ کی ہے اللہ تعالی نے ایک مضمون بیان کیا کہ وہ لوگ جو مالی قربانیاں کرتے ہیں ان کو خدا تااللہ پریشانیوں سے بچا لیا کر صاحب سے بچالیا کرتا ہے چنانچہ فرمایا و لا خوف علیہم جانور کے ایسے لوگ جو اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کے راستے میں مالی قربانیاں کرتے ہیں اس کے علاوہ حاصل کرنے فرمایا کہ نہ ہی ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے سورۃاللیل میں خدا تعالیٰ نے مضمون بیان کیا کہ جواب کرتا ہے اور تقوی اختیار کرتا ہے اور نیکی کی تصدیق کرتا ہے میں افسانوی نثر ضرورت شادی ادا کریں گے اس کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں گے پولیس ہو تم ہی وہ یاد کر دیں گے تو یہ آیات قرآن کریم کی ہماری رہنمائی کر رہی ہیں کہ بہت زیادہ قاتل ہماری قربانی کی طرح لڑکی ہیں اور انہیں برکات کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کثرت کے ساتھ مالی قربانیاں کرتے اس میں میری گزارش ہے کہ ایک طرف توجہ دینے والے ہیں برکات حاصل کر رہے ہیں تو دوسری طرف یہ کتنی خوش نصیبی والی بات ہے کے ذریعے عالمگیر تبلیغ اسلام ہو رہی ہے کتنے ممالک میں قرآن کریم کے تراجم شائع کی جا رہی ہے کی برکت سے ہزار ہا مبلغین کے ہیں وہ دنیا کے مختلف ممالک میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں بیان مبلغ ہیں جو ہے وہ مختلف جامعات میں وہ تیار ہو رہے ہیں یہ پیغام پہنچایا جا رہا ہے یہ ہماری خوش قسمتی ہے آسان ہے جو خدا کے لئے ہمیں اس اور اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ پر جو مجموعہ اشتہارات جلد 3 میں حضور نے مال کی قربانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ نصیحت کی تھی فرمایا کہ عزیزو جو زور کے ابو بھی پڑھ دیتا ہوں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے پھر اس کے بعد وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں پیسے کے برابر نہیں ہوگا تو موجودہ زمانے میں ایک پیسہ گویا کہ کرنا آئندہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب دنیا کی بڑی بڑی حکومتی ادارے اہمیت میں داخلہ میں داخل ہوں گے جن کے وجہ سے ٹرین میں ہی بلیو نے عرب میں عمارت میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی مالک قربانی کی اہمیت اجر اور ثواب اور مقام اور مرتبہ جو موجودہ زمانے میں مل رہا ہے اور تم اس نام کے اعداد کے مطابق بعد میں آنے والوں کو توفیق اس کا نہیں ان کی زندگی میں نظر آیا وہ یہ تھا کہ ساری زندگی ہی اللہ تعالی کی راہ میں خیرات اور مالی قربانی میں گزر گئی اور دوسری طرف ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ جماعتیں ہیں اس سوال کو اپناتی ہے تو پھر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ چند ایک بہت زیادہ وصول کرتے ہیں یہ چندو کی تحریکات کیوں کرتے ہیں ہم اس کی کرتے ہیں کیونکہ یہی ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے اور یہی اللہ تعالی کا حکم ہے جو جگہ اس نے قرآن کریم میں ہمیں دیا ہے موسم لیکن ایک اور سوال جواب نے سوشل میڈیا سے لیا میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا تھجے کہتے ہیں کہ یہ ٹریڈمارک ہوگیا نا اور یہ کروانی ہے گویا ہمارا ہمارا اسلام آ ہے اس میں نام کسی کو داخل ہونے دیں گے سونے کی کوشش بھی کرے گا تو وہ مجھ کو نکال دیں گے یہ سوال یہ کیا جاتا ہے یا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ وہ تمام اصطلاحات جو اسلامی اصطلاحات کہلاتی ہیں وہ کیوں کہ اسلامی اصطلاحات em8nem دیو کو استعمال نہیں کر سکتی اور آپ کی علم ہوگا کہ ابھی رزلٹ ی1 پنجاب اسمبلی پاکستان کی پنجاب اسمبلی میں بھی اس طرح کی بلایا گیا ہے کہ ان ٹائٹل کو نفسیات نوٹ کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ نہیں لگانا تو ذرا اس موضوع کو واضح کر دیں کہ کیا یہ جو اصطلاحاتی اسلامی یہ کہ کسی کی جاگیر ہو بھی سکتی ہیں کہ نہیں اللہ بہت شکریہ اسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کیسا سوال ہے کہ جو نائنٹین سیونٹی فور کے بعد سے ہمارے اوپر یہی الزام لگایا جاتا ہے جماعت احمدیہ کے اوپر کہ چونکہ ہم نے ان کو غیرمسلم قرار دے دیا اس کی بھینس دیکھیں کیا ہے کیونکہ ہم نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے اس لیے یہ اس بات کی ہرگز نہیں اور ہماری یہ پیٹ اصطلاحیں ہیں جیسے آپ نے ذکر کیا سوال میں تو کوئی اور شخص نہیں استعمال کر سکتا لیکن سب سے پہلے لفظ بیٹی پر غور کریں کہ پیٹ ہے کیا چیز کوئٹہ گلیڈی ایٹر کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص کوئی ایجاد کرتا ہے کوئی دوائی یا کوئی نئی چیز ایجاد کرتا ہے تو وہ فورا اپنا ٹریڈمارک اس کو رجسٹر کرا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ میرے علاوہ کوئی نہیں استعمال کرے گا یا اگر کوئی اور استعمال کرے گا تو وہ میرا نام لے گا میری اجازت سے استعمال کرے گا ترکی اسلامک اب ہم یہ دیکھیں کہ کیا مذہب میں ایسا کوئی اجازت نامہ لینا پڑتا ہے یا مذہب بھی اجازت نامہ کا محتاج ہے کہ وہ پہلے اجازت لے کہ یہ والی اصطلاحات کا استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں جب ہم اس مقصد کے لیے قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو قرآن کریم بہت واضح انداز میں شروع ہوئی یہاں سے کرتا ہے کیا سورہ فاتحہ کی بسم اللہ کے بعد جو پہلی آیت ہے کہ الحمد للہ رب العالمین اس تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو رب العالمین جو تمام جہانوں کا رب ہے یہ نہیں فرمایا کہ اب مسلمین کے مسلمانوں کا رب ہے قرآن کریم نے جس جگہ سے آغاز کیا وہ تمام لوگوں کو اختیار دے دیا اللہ تعالی نے کہ تم اس کو سب کہہ سکتے ہو تو تمہارا رب ہے وہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ وسلم ہمارے ہیں اور کوئی اور نبی کو نہیں لے سکتا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا لیکن ان کی طرف آتے ہیں قرآن کریم فرماتا ہے وہ ارسلناک الا رحمۃ للعالمین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے رحمت اللعالمین بنا کے بھیجا ہے تمام دنیا کے لیے پھر رحمت المسلمین فرمایا تمام دنیا کو شامل کر دیا تھا اس میں یہودی ہی خواص آئی ہیں اس میں ہندو ہیں جو بھی وضع والے ہیں تمام دنیا اس تو مجھے وہ ایک ان کی اسی ان حرکات کی وجہ سے خدا ہمارا یہ اصلاحات ہماری مجھے جو سکھ شاعرہ کا شعر یاد آگیا وہ نور مہندر سنگھ کو کہتے ہیں عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں سری لنکا محمد صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں ہے تو دیکھیں وہ کہتے ہیں کہ مسلمان صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی اگر کوئی اور لینا چاہتا تو آپ لوگوں کو آپ لوگ اس سے جاری کیوں ظاہر کرتے ہیں بات اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس طریقے سے ٹکرانا شروع کریں تو ہم اس کی ایک پوری ہسٹری قرآن کے نسخے بتائے گی کہ وہ اصطلاحات جو یہود کے زیر استعمال تھی وہ اصطلاحوں دیا کہ جو بنی اسرائیل میں جو یہاں ہے ان کے زیر استعمال وہی اصطلاحات مسلمان استعمال کرتے ہیں سب سے پہلے مسلم کستلی مسئلہ حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے استعمال کیا گیا گانا ہر مسلمان کے مسلمان کون تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام اگر آج یہودی یا عیسائی کہنا شروع کردیں کہ ابراہیم علیہ السلام مسلمان تھے آپ لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے نبی تھے تمہارا نام اپنا نبی کو مانتے ہو تو ہمارے نبی تھے آگے دیکھیں ملت ابیکم ابراہیم ہو سماکم المسلمین کہ اپنے باپ ابراہیم کادین عاصمہ کو مسلمون مسلمون وہ پہلے پہل یہ ہستی تھی جنہوں نے تمہیں مسلمان کا نام تو میں دیا اس سے آگے چلیں میں کریم کی ہر سورت سے مہربان رحمت یہودی اٹھتا یہ کہیں ہمارے نبی نے بسم اللہ الرحمن الرحیم سب سے پہلے استعمال کی حضرت سلیمان علیہ السلام وہ ہمارے نبی ہیں تو اس وجہ سے آپ لوگ نہیں استعمال کر سکتے ہیں کیا ان کا وہ کس جگہ درخواست جمع اور پیٹرن کمپنیاں اس کو پینٹ کرنے کے بعد کس طرح اس پر ایکشن کریں گے اور کون جھوٹا سکے گا کیونکہ وہ ثبوت دیں گے کہ دیکھیں قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت ابراہیم حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کو جب خط لکھا تو اس کو لکھا تھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہاں سے آغاز کیا تو کہاں تک جائیں گے آگے دیکھیں مسجد کا لفظ دیکھیں کے کہتے ہیں کہ مسجد کا لفظ کوئی او یہ مقام اس کو میں اپنے رب کا خوف نہر نہیں کر سکتا یہ مسجد کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں تقریب میں دیکھیں کیا ہے قرآن کریم بڑا واضح فرما تا ہے کہ جو ابتدائی اصحاب کہف تھے ابتدائی لوگ تھے سب سے پہلے انہوں نے مسجد کا لفظ استعمال کیا اور جب ان سے پوچھا جب مشورہ کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ اس جگہ پر ہم ایک یادگار بنائیں گے تو انہوں نے کہا کہ یادگار بنائیں گے بلکہ لعنت خزانہ عالیہ مسجد ہم یہاں پر مسجد بنائیں گے ان کو اگر وہ کہتے ہیں کہ مسجد کہ لفظ ہمارا ہے اور ہم نے استعمال کرنا آپ لوگ کیوں کرتے ہوئے ان کے پاس کیا جواب ہوگا اور آگے دیکھیں کہ مسجد کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے معنوں میں استعمال کیا قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک مسجد تھی جو صرف اور صرف تکلیف دینے کے لیے اور فتنے کا مشورہ کرنے کے لیے بنائی گئی اور اس کو پھر بعد میں گرا بھی دیا گیا اسلام کے حکم سے قرآن کریم میں یہ کہتا ہے کہ اس کے باوجود مسجد ہی کہیں گے مسجد ضرار کہاں یار مسجد ہے جو تکلیف دینے کے لیے بنائی گئی اس کے باوجود قرآن نے یہ آزادی زمیر کا آزادی اظہار رائے کا یہ حق کس نے چھینا ہے تو اس کو مسجد نہ کہا جائے اس کو کلیسا کہہ دیا جائے طریقہ تو یہ جو کہتے ہیں کہ کوئی ہمیں یہ ایسی مثال دیں کہ کسی غیر مسلم نے استعمال کیا ہو یہاں تو قرآن کریم کے اندر سے اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ اندر جو ہمارے گزشتہ ماہ ہی گزرے ہیں انہوں نے استعمال کیا قرآن کریم کا فروغ دے رہے ہیں کہاں تک جائیں گے ویسے آپ نے ابھی ذکر کیا حسن علیہ السلام کی اصطلاح ہے اور یہ صرف اور صرف انبیاء علیہ السلام کے لئے اسلام آباد آئیں گے تو غلط ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ لگائیں اسلام کا مطلب ہے کہ سلامتی ہو تو سلامتی تو ایک ایسی دعا ہے کہ جو ہر کوئی اپنے لئے کرتا ہے مثلاً ایک شخص نے نماز کا بھی نہیں پڑھی ایک شخص نے قرآن کریم نہیں پڑھا ایک شہر سے ہجرت نہیں کرتا عید کی نماز پڑھنے جاتا ہے جمعہ کی نماز کو بھی پڑھا جاتا ہے تو جب وہ نماز پڑھتا ہے اور اتحیات للہ وصلوات وطیبات و السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس کے بعد جب یہ کہتا ہے السلام علیکم نا تم پر سلامتی ہو تم غلط کام کرنے کے باوجود نماز پڑھنے سے اس کو یہ حق میں جاتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں سلامتی تو یہ کون ہوتے ہیں کہ اس لعنتی کو محدود کرنے والے کیا یہی اسلام کا لفظ کسی اور کے ساتھ نہیں لکھ سکتا اللہ کا لفظ کسی اور کے ساتھ نہیں لکھ سکتا کیوں نہیں لگ سکتا سکتا ہے قرآن کریم قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے اللہ تعالی ایسے لوگوں سے راضی ہوگا جو جنت میں جائیں گے اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے اور آگے لکھا ہے کہ یہ مکان کس کو ملے گا جس طرح آپ نے یہ بات ساری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے دیکھنا بات یہ ہے کہ جو ہمارے مخالف بات کر رہے ہیں جو یہ دعوی کر رہے ہیں وہ خود ان کے خلاف چلے جاتے ہیں صرف جب وہ بات کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو اگلے ہی سانس میں اس بات کا ذکر کرنے پر مجبور ہے کوئی کیونکہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے آنا ہے تو یہ بھی سوال پیدا ہوگا کہ جب حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام آئیں گے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب وہ نبی تھے تو نبی رہیں گے تو پھر ان کو ماننے والے ان کی صحبت اختیار کرنے والے کو حساب نہیں ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تو ان کو کیا رضی اللہ انہوں نے تو یہ بے شمار باتیں ہیں جو سوچنے سے بنیادی عقل سے تعلق رکھتی ہیں لیکن جس طرح ہمیں نظر آتا ہے کہ انبیاء کی مخالفت کرنے والے جب اپنی مخالفت میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں تو ان کو بنیادی باتیں بھی عام فہم کی باتیں بھی ان کو سمجھ نہیں آتی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ واقعی اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان کرتا ہے ہم اچھا یہ ایک سوال میں لے کر محترم ساجد محمود صاحب کی طرف جانا چاہوں گا ساجد صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ وعلیکم السلام اچھا جی یہ ہمیں ایک سوال موصول ہوا ہے دراصل یہ دو مختلف سوالات ہیں لیکن میں ان کو کمپائل کر دیتا ہوں اور وہ اس نے والے یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں انہوں نے اپنا نام نہیں بتایا ہے لیکن سوال بڑا واضح ہے تو میں آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں کہ کیا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی آنے والے مجدد کے بارے میں پیشگوئی کی تھی اور اس سوال کو دوسرا سوال ہے اس کے ساتھ ملا کے نیو بیان کرنا چاہوں گا کہ ان کے نزدیک سوال کرنے والے کے نزدیک تمام انبیاء کا طریقہ کار رہا ہے کہ وہ آنے والے نبی کی پیش گوئی کرتے ہیں تو کیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے بھی کسی آنے والے نبی کی پیش گوئی کی تھی جی اس سوال کے جواب کے حوالے سے یہ عرض ہے کہ سب سے پہلے تو ہم حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کیا حضور نے اپنے زمانے سے لے کر قیامت تک کے زمانے تک تمام امور کی بابت روحانی مصلحین اور انبیاء اور صلحاء بیان فرمایا ہے تو اس طرح تو اس حوالے سے ہمیں ایک ملتا ہے ایک تفصیلی حدیث جو مسند احمد بن حنبل میں ہے جو رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اس وقت نیا زمانہ ہے نبوت کا خدا طلحہ آئے گا یہ زمانہ بھی قائم رہے گا میرے بعد جو ہے وہ خلافت علیٰ منہاج نہ ہوں گے بعد ملوکیت یعنی بادشاہ کا زمانہ ہوگا جو عرصہ بادشاہ ہوں گے زمانہ کی جب تک خود اللہ چاہے گا وہ رہے گا اور جب خدا اس اس کو بھی اٹھا لے گا پھر اس نے بادشاہ کے بعد ایک انتہائی جابرانہ بادشاہ کا زمانہ ہے وہ شروع ہوگا آخر میں حضور نے فرمایا کہ کون خلافت علیٰ منہاج النبوۃ مسلمانوں کے بعد پھر کیا ہوگا کہ آخری زمانے میں جس کی مزید تشریح و حدیث میں ملتی ہے اسلام لائے گا اور حضور نے یہاں پہ کیا فرمایا کہ خدا تعالیٰ اس عظیم آپ کو شروع کرے گا جو خلافت راشدہ ہوگی اور نبوت کے نقشے قدم پر گیا وہ خلافت ہے وہ جاری ہو اور اس روایت میں یہی آتا ہے کہ اس کا تھا کہ خاموش ہو ہمیں خلاصہ کیا ملا اجرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق میں خادم اسلام اسی نبی اللہ نے آنا ہے ایمان کو ایمان کو سنایا سے نیچے دوبارہ دنیا میں قائم کرنا ہے پھر اس کی وفات کے بعد خلافت کا عظیم الشان سلسلہ ہے وہ جاری ہے الوسیط پڑھتے ہیں اور اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب میں صرف پانچ منٹ اس میں حضور نے مجھے دیر کے حوالے سے ایک مضمون بیان کیا ہے نے اپنے آپ کو کہا کہ وہ آپ مجددیہ شادی کے بعد بھی ہیں اور مجدد الف آ کر بھی ہیں یعنی کہ یہ دو ہزار سال ہے اس کے بھی آپ یہی وہ مسجد ہے اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا وجود جو ہے وہ صرف ایک صدی کے مجددین کے طور پر نہیں ہے بلکہ اسلام کا وجود ایک ہزار سال کے بعد دو اور وہ تقدیر کا سلسلہ پھر خلافت کے ساتھ شروع ہوا الخلافۃ کہتے ہیں جو ہے وہ سارا شریعت کا بنیادی مقصد اور پیغام جو ہے وہ پھر ان سے تمہارا شکریہ ساجد صاحب یہ کام جس طرح ساجد صاحب نے بھی بیان کیا دیکھیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا بنیادی دعویٰ کیا ہے آپ کا تو بنیادی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق دنیا میں تشریف لائے ہیں کا نبوت کا دعویٰ ہے چاہے آپ کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے آپ کا امام مہدی ہونے کا دعوی تو داؤ دراصل ان گویا فرمائی تھیں جن کے مطابق ایک دو باتیں ابھی کتوں کو چھپاتے ہیں آپ نے اعلان کیا ہے اور جس طرح ساجد صاحب نے بھی بیان کیا ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے بارے میں اور آپ کے بعد کے زمانے کے بارے میں آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کیا رہنمائی فرمائی ہے اور وہ رہنمائی بڑی واضح ہے کہ آپ خلافت امویہ کا سلسلہ جاری ہے جو انشاءاللہ تاقیامت جاری رہے گا ایک اور بھی یہاں گزارش عرض کرتا چلوں ہوتا نہیں جو جماعت احمدیہ کے اوپر لگائے جاتے ہیں اور ایک جو بڑا بہتان ہے اور وہ اس کا بیان کرتے ہوئے بڑی حیرت ہوتی ہے ہر تصویر سے ہوتی ہے کہ جامیہ لگایا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کے اکابرین جو ہیں وہ اپنی کتب کو اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے جماعت احمدیہ تو ہمیشہ یہ بیان کرتی ہے اس پروگرام کے ذریعے ہمیشہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ سے گزارش ہے کہ اسلام ڈاٹ آف جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائیٹ ہے جماعت احمدیہ کا تمام لٹریچر ٹیچر اس پر موجود اور خاص طور پر جو بنیاد ہے قرآن کریم احادیث نبویہ اور پھر کتب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جو میں دوبارہ رپیٹ کر رہا ہوں کہ ہم کبھی نہیں چھپاتے بلکہ ہم تو لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ امام الزمان کا کلام ہے یہ روحانی خزائن ہیں ان کو پڑھیں بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے جب ہم ان کتب کی اشاعت کرتے ہیں تو ہمارے اوپر پابندی لگائی جاتی ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ان کتابوں میں تو ہر حکومت کو چاہیے کہ ان کتابوں کو خود عام کریں تاکہ لوگ خود دیکھ لیں کہ ان میں کیا ہے ان عظیم ہے کہ جماعت احمدیہ اپنے عقائد کو چھپاتی ہے یا اپنی کتب کو چھپاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمدیہ تو اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم اور قرآن کریم میں صرف عربی زبان میں نہیں اردو میں ترجمہ کرکے دنیا کے کونے کونے تک جماعت یا پہنچا رہی ہے اور پھر احادیث نبوی اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں احادیث کی مزید تفصیل ہے وہ بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں تک پہنچائے لیکن جن لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ میں سچ لکھا ہوا ہے وہ ان پر پابندی لگاتے ہیں ورنہ جو لوگ جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے اور سچ لوگوں تک پہنچا ہیں تو وہ کبھی بھی اس پر پابندی نہیں لگائی گے منصور صاحب سوالات بہت زیادہ ہیں لیکن ان باتوں کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے جو کہ دیکھیں کیسی ٹھیک ہے ہم تو خود احمدیوں کو کتب کے بچوں کو کہتے ہیں کہ یہ کتابیں پڑھ لو اپنے اپنے مردوں کو کہتے اپنی عورتوں کو کہتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ وہ روحانی خزائن ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس دنیا میں لوٹ آئے ہیں ایک اور سوال جو آیا ہوا ہے یہ بھی ہماری ایک بہن نے بھیجا ہے جو پچھلے سلمان کے ساتھ تھا لیکن سوال کے دو مختلف حصوں سے آ گیا تھا تو اس کو میں نے ایک کمبائنڈ کر دیا وہ ایک خاص طور پر جو تفسیرکبیرمیں ایہء والا پایا جاتا ہے جو دراصل بائبل تھے یہ حوالہ دیا گیا ہے پہلے میں وہ حوالہ پڑھ دیتا ہوں پھر میں آپ کے سامنے سوال رکھوں گا یہ بائبل کی پہلی کتاب ہے عہد نامہ قدیم کی پیدائش باب نمبر 17 ہیں اور آیات بھی سرائیکی سے اردو ترجمہ یوں ہے کہ اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی کی برکت دوں گا اور اسے رومن کروں گا اور اسے بہت بڑا ہوگا اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤ گا تو ہماری بہن جو سوال کرنا چاہ رہی ہیں سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اس خبر دی تھی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے بارہ سردار پیدا ہوں گے وہ بارہ سردار کون سے تھے اصل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ ہو یہاں پے یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نعت شریف لاتے وہ پیشگوئیاں جو پہلے انبیاء کی پیشگوئیاں تھی وہ پوری نہ ہوتی جن میں سے کئی پیشوا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک پیش گوئی یہ ذکر فرمائی کے پیدائش میں یہ جو بائبل میں جو پہلے جو کتاب پیدائش لکھا ہوا ہے اس میں پیدا ہوگئی بارہ سردار پیدا ہوں گے اور پھر ان بارہ سردار کی آگے نسل پیدا ہوگی اس میں در سوریہ بیان فرمانا چاہ رہے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت اسماعیل علیہ الصلاۃ و السلام کی نسل میں سے ہیں کہ بائبل میں یہاں پے یہ حوالہ موجود ہے اس کے چند باب چھوڑ کے یہ بھی موجود ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی نے بارہ بیٹے عطا کیے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا گیا تھا کہ میرے بیٹے اسماعیل کو کینسل سے بارہ سردار پیدا کروں گا وہی بارہ سردار صاحب اور ان کے بیٹے تھے جو اپنی اپنی قوموں کے سردار بنے اور ان سے قومی پھیلی اور ان کے ان کے نام بھی لکھے ہوئے بائبل میں آگے تفصیل کے ساتھ بیان کیا نام ہے وہاں بھی پڑھ دیتا ہوں کے لکھا ہے کہ قید اردبیل میشہ مسما معاش دوما عود پورن بش کی ماں اور مقدمہ یہ بارہ نام جو اس میں لکھی ہوئی موجود ہیں تو دراصل ان سے پھر آگے نسل چلی اور یہ ساری جو ان کے بیٹے تھے یہ سب کے سب عرب اور عرب کے آس پاس کے علاقوں میں چلے گئے اور حجاز کے علاقے میں جو گئے تھے وہ اب تو روزہ دار تھے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی نسل میں سے ہیں انہی سے پھر جو قریش کا قبیلہ جو سید تو یہ اس پیشگوئی کا کہ آنحضرت صلی وسلم کی پیدائش کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا اور یہ کہ اس کو غم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے بھی مستحق پھر دوبارہ یہ حوالہ بتا دیں کہ کئی دفعہ انسان بیان کر رہا ہوتا ہے تو سننے والوں کو حوالہ یاد نہیں رہتا تو جو ہمارا سوال تھا وہ پیدائش باب 17 آیت 20 اور 21 کے حوالے سے تھا اور آپ نے جو اس کی وضاحت کی ہے اس کا حوالہ ناظرین کو دوبارہ بتا دیں نہیں ہے لیکن میں نے وہ صرف اس لیے وہ الفاظ میں نے اٹھ کر لیے تھے لیکن صرف اگر کوئی بھی وہ دیکھنے والا دیکھے گا صرف دو یا تین بار چھوڑ کے تسلسل میں چل رہا ہے اسی کا تیسرا باب ہے جس طرح آپ کے بعد 2019 میں آپ کے اندر موجود ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے اسی عہد نامہ قدیم کی پیدائش کتاب ہے اسی کے اندر ان بارہ بچوں کا بھی ذکر مل جاتا ہے اور غالبا کیونکہ عام طور پر بنی اسرائیل کا ذکر ملتا ہے جو حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے آگے پھر وہ آئے ہیں علیہ السلام کے بیٹوں کا ذکر ملتا ہے تو لوگوں کو علم نہیں ہوتا ایسے لوگوں نے استعمال کیا اور بالکل ان کا حق بنتا ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے ہر سوال کو اس پروگرام میں اس کا جواب دیں میں پھر اس بات کی طرف بھی آپ کو توجہ دلانا چاہوں گا کہ جماعت احمدیہ پر بے شمار الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے وہ لوگ جو جماعت احمدیہ کے بارے میں دنیا کو لیکچر دیتے پھرتے ہیں وہ اس بات کی بھی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ دیکھو اگر کسی آندھی سے تم نے بات کرنی ہے تو ختم نبوت کے بارے میں بات نہ کرنا کے بارے میں بھی بات نہیں کرنا اگر بات کرنی ہے تو ڈائریکٹ مرزا صاحب کی ذات کے بارے میں بات کرنا یا آپ کی تحریرات کے بارے میں بات کرنا تو سب سے پہلے سوچنے والی بات تو یہ ہے واقعی اسے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک واقع حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام زندہ جسد عنصری کے آسمان پر موجود نہیں ہے کیونکہ جماعت یا کے سامنے آپ کبھی بھی ثابت نہیں کر سکے اور نہ کر سکے کہ کہ یہ حقیقت کے برخلاف بات ہے اور دوسری بات یہ کہ جو ختم نبوت کے معنی جماعت احمدیہ بیان کرتی ہے دراصل وہی حقیقی معنی ہیں اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور جو لوگ پڑھے لکھے ہیں مطالعہ کرتے ہیں تو اس بات کا علم ہے کہ خود علمائے اسلام اس بات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ خاتم النبیین سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ بعد میں کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آقا مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام سب سے اعلی و ارفع ہے آپ نبیوں کی مہر ہیں اور آپ مقام و مرتبے کے لحاظ سے سب سے بلند و بالا ہیں باہر پروگرام کو آگے کی طرف لے کے چلتے عارف زمان صاحب کا ایک سوال لے کر آئیں ساجد صاحب کی طرف جانا چاہوں گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہاں ورحمتہ اللہ ساجد صاحب عارف زمان صاحب یہ سوال پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ احادیث اور آثار میں ملتا ہے کہ ان کی تکفیر کی جائے گی تو وہ پوچھنا یہ چاہتا ہے کہ یہ کون سی احادیث کے آثار ہیں جن میں ملتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی امام مہدی علیہ السلام کی تکفیر کی جائے گی جی جہاں تک کا حدیث کا تعلق ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مضمون سے بیان کیا ہے امت پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب بھی ہم عیسائیوں کے مشابہ ہیں جو یہودیوں پر جو خدا تعالیٰ کے غضب نازل ہوئے ہیں ان میں سے ایک بنیادی وجہ یہ تھی زمانے میں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی مخالفت کی ان کو قتل کے مقدمہ چلائے اور اسے ان پر وہ خدا تعالیٰ کے غضب کے ہیں تو جیسے انہوں نے اپنے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی تو مخالفت کی ہے اور ان پر یہی والی احادیث وہ ہماری رہنمائی کرتی ہیں کہ آخری زمانے میں جب مسلمان کہ جیسے وہ جانا ہے تو وہ کب اس طرح کا زمانہ ہے کہ جب امام مہدی اور مسیح ہے اور اس کی مخالفت کو اس طرح کریں گے اور اس نتیجے میں جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اسی طرح میں جو سورہ اخلاص اخلاص میں نے تو اس کی خود اللہ نے جو خلافت پیار کرنے والے ہیں اس نے فرمایا یہ جو ان کے لیے کمال کی ہے کہ جو ان کے انکار کرنے والے ہیں اس لحاظ سے خدا تعالیٰ کی نظر مقابلہ ہو مومن اور مسلم والا نہیں ہوگا تک آثار واضح تعلق یہ جو ہمارے بھائی پوچھ رہے ہیں حسرت سے جو گزشتہ علماء ہیں انہوں نے یہ مضمون اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے اس میں سے مسلمان ایک علامہ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اڑتی سحری میں ان کی اوقات نہیں ہے بہت مشہور و معروف سکالر ہیں تاریخ اسلام وہ تصوف میں ان کا نام ہے اوقیہ میں ان کا حوالہ ملتا ہے مہدی آئیں گے اداکارہ حاضر امام المہدی و امام مہدی کا ظہور ہو دنیا میں آئیں گے ایسا نہ ہوا دو مہینوں کے اندر فقہاء تو انہوں نے اردو کی ایک بیان کیا جائے تو اس وقت اس سے بڑے دشمن ہوں گے وہ اس زمانے کے علماء اور فقہاء ہو آگے خاص طور پر آثار اور حضرت علی علیہ السلام کے فرمان ہماری اس بات کی طرف رہنمائی فرما رہے ہیں کہ آنے والے امام مہدی ابن مریم کے مخالفت بھی ہوں گے لگیں گے اور ان کی شدید ترین بائیکاٹ بھی کیا جائے منصور صاحب اگلا سوال لے کے آپ کے سامنے ڈاکٹر خالد محمود صاحب پوچھنا چاہ رہے ہیں جو حکومت کو ٹیکس کیا جاتا ہے کہ وہ بھی زکوۃ ہے کیونکہ ٹیکس بھی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استرا ایک ٹیکس کی کوئی ضرورت نہیں تھی تو زکوۃ ہی ذات کی طرف سے دو قسمیں آپ سمجھنے کے دو ہی قرآن کی رو سے پتہ لگتا ہے کہ میں بھی پڑھی گئی تھی جس سے پتہ لگتا ہے کہ زکات ہے کیا چیز صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خود زمین میں صادق طاہر یہاں کے ایک محمد صلی وسلم ان کے اموال سے زکوۃ لے تو اس کے دو فائدے ہوں گے نمبر1 ان کی تدفین ہوگی ان کے ان کے دل کی پاکیزگی ہوگی اور نمبر دو تزکیہم بہا تو اس کے ذریعے ان کو ترقی دے گا ان کی معاشی ترقی ہو گی ان کی معیشت ترقی کرے گی تو یہ بھی اس قرآنی آیت سے یہ نکلتا ہے کہ کراچی میں جو زکوۃ ہے وہ اسٹیٹس بھی ہوتا تھا اور ساتھ ہی یہ تیرے قرب کا ایک ذریعہ بھی ہوتا تھا اور آج کل کے دور میں چونکہ حکومت ٹیکس لیتی ہے وہ چیزیں جن پر حکومت پہلے سے ٹیکس لے لیتی ہے مثلا آفاق ہم پلہ میں یہ سمجھ لیں کہ تجارت جس پر حکومت پہلے ٹوئنٹی پرسنٹ یا پھر 10 لے رہی ہے اب حکومت کے ٹیکس نہ لے تو اس صورت میں تو زکوۃ کیا کیونکہ وہ تھوڑا ٹیکس ہے صرف 25 پرسنٹ ہوتی ہے اور وہ بھی سال گزر ایک سال گزرنے کے بعد لیکن حکومت پہلے ہی ٹوائلٹ پیپر سے بہت زیادہ ٹیکس لے لیتی ہے حکومت بہت زیادہ ٹیکس لے لیتی ہے تو ایسا مال پر حکومت نے ٹیکس لیا ہو وہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوجایا کرتا ہے کے حوالے سے زکوۃ میں زکوۃ کی جو یہ کہ کے اعمال ظاہر پر زکوۃ تجارت ہے کوئی زمین کا جو عشر وغیرہ ہوا کرتا تھا تو اس پر کیونکہ حکومت لے چکی ہے اس لئے اس پر زکوۃ نہیں ہوگی وہ اسے مسلمان ہیں اور یہ بھی میں اپنے ناظرین کے لئے ذرا سی وضاحت کردوں کہ زکوۃ کے دراصل دو قسم کے لوگ کہلاتے ہیں کمال ظاہر کہلاتا ہے ظاہر کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو پراپرٹی کی شکل میں یا واضح حکومت کے علم میں ہے اور ظاہری طور پر نظر آنے والی چیز ہے جنات ہیں اس طرح تجارت جو نظر آتی ہیں حکومت کو یا مویشی ہیں تو اس پر حکومت ٹیکس لیتی ہے باطن وہ مال ہے کہ جو آپ سیون کرتے ہیں اور آپ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہو رہا ہے کیا آپ نے زیور بنایا اور زیور کو آپ نے بطور طنز کہ لیں اسے پکڑ لیا اور تقریبا اس کے اوپر اگر ایک سال گزر جاتا ہے اور ساڑھے سات تولہ سونے سے زیادہ وہ زیور پڑا ہوا ہے موجود ہے تو اس صورت میں بھی اس پر زکوۃ ہوگی ہماری بات نکل آتا ہے اور یہ اس مال کی زکاۃ کا حکومتی ٹیکس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اگرچہ آپ نے حکومتی ٹیکس دینے کے بعد آپ نے یہ جو مال ہے یہ سب کیا ہے اس کے باوجود آپ نے اس مال کی زکوۃ جو ہے وہ دینی ہے اور اس کے لیے مسیح موعود علیہ السلام کا فرمان ہے کہ زکوۃ کا جمال ہے وہ ہمارے پاس آئے گا ہمارے مفتی مسیح کے پاس کا 30 مریم نواز کا تو بعض لوگ یہ بھی سوال پوچھتے ہیں کہ مثلا کے ہم کسی کو اپنی مرضی سے زکوۃ دے سکتے ہیں کہ نہیں تو اس حوالے سے میسج کر دیں یہاں تک کہ وہ کون سی ہیں پائے گی اور اگر کوئی ضرورت مند ہے تو آپ خلیفۃ المسیح کی خدمت میں لکھیں کہ فلاں شخص ضرورت مند ہے تو ہم اس کو زکوۃ دینا چاہتے ہیں ہیلپ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی عزت نہیں جائے گی پھر خلیفۃالمسیح سسٹم کے تحت اس کو فروخت کرکے اس کی اور زکوۃ کی رقم ہے وہ ان کو مل جائے گی اور یہی جو کہ بعض لوگ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے پاس ہونا چاہیے تو دیکھیں جو نمائندہ رسول کا جو نبی کا نمائندہ اس کے پاس جائے گا کیونکہ قرآن کریم میں واضح کیا گیا کہ نمو علیہم صدقۃ من گیم اسلم آپ سے وضاحت کے ساتھ اس بات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے کہ جو نظام زکوٰۃ ہے اور اسے یہ بھی لوگوں کو سامنے آگیا ہے کبھی یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ جماعت یا تو یا زکات کا ذکر نہیں کرتا لیکن جماعت احمدیہ میں یہ نظام بڑے بھرپور طریقے سے اور قرآن اور سنت نبوی اور احادیث کی روشنی میں قائم ہے اور اس پر بھرپور طور پر عمل کیا جاتا ہے اگلا سوال لے کر جو ہمارے بھائی تنہا وہ آج سہیل صاحب کا لندن سے ہے میں ساجد صاحب کی طرف جانا چاہوں گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ساجد صاحب جو ہمارے بھائی ہیں طلحہ صاحب وہ خطبہ الہامیہ کے حوالے سے یہ سوال پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گویا اس میں یہ فرمایا ہے 3 تین جگہوں کا تین شہروں کا قرآن کریم میں ذکر ہے ایک مکہ کا دوسرا مدینہ کا اور تیسرا قادیان کا تو وہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ہم کس طرح اپنے غیر اہم بھی لوگوں کے سامنے اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں مکہ مدینہ اور قادیان کا ذکر ہے جو بھائی ہمارے یہ جنہوں نے یہ سوال کیا ہے اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ظاہری طور پر فرمایا کہ جو ہمارے پاس داری قرآن کریم ہے یہ والا مضمون ہے وہ بیان ہوا ہے اور قادیان کا باقاعدہ اس میں اصل یہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شہر ہے میں نے اپنے بھائی کو قرآن پڑھتے ہوئے دیکھا اور اس میں قادیان کا لفظ ساتھ آیا اور حضور نے اس کے ساتھ فرمایا تو نکاح گورکش کیا بات ہے نور اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے وہاں کے بیان کی اور جو چیز کشمیر ہوں خواب میں ہو اس کی تعبیر کی جاتی ہے اس کی عربی صورت میں بات کا تو اس کو اپلائی نہیں کیا جیسے سورہ یوسف اگر آپ پڑھیں اور یوسف علیہ السلام کے خواب کا ذکر ہے ابتدا میں ہی اس میں انہوں نے چاند کو اور عزت دار ستاروں کو رسول کو دیکھا اور کہا یہ کہ الساجدین کہ میں نے ان کو اپنے وہ سجدہ کرتے ہیں ظاہری طور پر گزاری چاند اور سورج اور گیارہ ستارے انسان کو سجدہ کر لوں اور خدا تعالیٰ مضمون بیان کریں آپ کی یہ ساری خدائی تو کیا اس کو مزاح کے اس بار کریں گے تو نعوذباللہ حضرت یوسف علیہ السلام نے عام ہونے کا خدا ظاہری طور پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا بلکہ اس اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ والا رکشہ ہے اس میں بھی یہ نہیں ہے کہ ظاہری طور پر قرآن کریم بلکہ مراد اسی کیا ہے کہ آنے والے موعود نے قرآن کریم کے صحیح رنگ میں معارف اور معنی اور متعلق نئی حکومت آنے تھے فنی تعلیم سے دنیا کو روشناس کرانا ہے اس کو جو ہے وہ گئی ہے کہ اس زمانے میں قرآن کا صحیح علم قرآن کی صحیح معرفت قرآن کی صحیح سمجھ جس کو وہ آدمی ہے جو قادیانیوں کی بستی میں رہنے جس طرح سراج صاحب نے بھی ذکر کر دیا ناظرین اور میرے تمام وہ بہن اور میری بہن جو خاص طور پر جن کے سامنے اس طرح کے سوالات پیش کیے جاتے ہیں جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے آپ کی کتب سے ہے تو یہ ان سب کے لئے میں عرض کر رہا ہوں اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کے لئے بھی محسوس کر رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی تحریرات کو بلکل نہیں چھپاتی کیا ہمیں اجازت دیں ہم ہر ملک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کو چھاپیں گے اور لوگوں تک اس کو پہنچانے کی کوشش کریں گے اور آج کل کے جدید ذرائع ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے یہ تمام تحریرات الاسلام ڈاکٹر موجود ہیں بلکہ اب تو ہم ایک قدم اور آگے بڑھ گئے ہیں مختلف صورتوں میں یہ تحریر کی صورت میں بھی موجود ہیں اور ان کتب کی آڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے اگر آپ کے پاس پڑھنے کا ٹائم نہیں ہے تو آپ وہاں سے آڈیو بھی سن سکتے ہیں اور اس سے آپ کا وقت بھی بدل جائے لیکن اصل بات یہ ہے کہ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ و السلام کی تحریرات کو دنیا میں زبردست اضافہ لانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ تحریرات دراصل سنت نبوی کی مزید وضاحت کرتی ہیں یہ تحریرات قرآن کریم شیر ہیں جن کو ہم دنیا میں پھیلانے کی کوشش ساجد صاحب ہمارے ریگولر ہیں آج انہوں نے تحریری سوال پیش کیا ہے میں چاہتا ہوں اس کو ضرور شامل کریں عبدالرشید صاحب برطانیہ سے وہ پوچھتے ہیں پاکستان میں جو قانون بن گیا ہے کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ نہیں مانے گا ہے کیا اس کو قرآن اور حدیث میں یعنی اس قانون کا قرآن اور حدیث میں کوئی ذکر ملتا ہے سندھی بسم اللہ رحمان رحیم دیکھی جو یہ وہ بات ہے کہ جس کے لئے جماعت احمدیہ گزشتہ ایک سو تیس سال سے یہ اعلان کر رہی ہے اور مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے جو دعوے کی بنیاد ہے وہ اسی کے اوپر رکھیں کہ جس نے آنا تھا جس کسی کے آنے کی پیش گوئی تھی اس عیسی کی وفات کا ذکر قرآن کریم سے ملتا ہے قرآن کریم کی آیات ہیں وہ اس کے اوپر گواہی دے رہی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور ان کا دعوی تھا کہ اب میں آپ کا مسئلہ بن کر میں دنیا میں آیا ہوں اور دنیا کی ہدایت کا سامان ہوگا تو اور فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ ثابت کرتے اور جماعت احمدیہ بڑی دیر سے یہ اعلان کر رہی ہے ایک شخص سے یہ ثابت کر کہ مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور آج تک زندہ ہیں میں اپنی تمام کتابیں جلا دوں گا میں اپنی تمام الزامات کو جھوٹا قرار دے دوں گا لیکن یہ شخص ثابت آج تک نہیں کر سکا یہ نسیم اسلم کا آج بھی اسی طرح سب کے لئے موجود ہے اسی لئے آپ آپ نے بھی اس کا ذکر کہ اب جو مولوی ہیں انہوں نے مولوی حضرات انہوں نے اس کے اوپر بات کرنی بند کر دی ہے انہوں نے یہ شروع کردیا کہ اب ہم بجائے اس کے کہ وفات مسیح پر ان سے بات کریں کہ ساتھ زندہ ہے یا فوت ہوچکے ہیں ہم اس سے بات نہیں کرتے چاچو کے ان کے پاس زیادہ مضبوط ہے خط میں بات کریں گے کہ نبی نے آنا ہے یا نہیں آنا بات کریں گے تو اسی موسم کی تحریرات پر ذات پر تو یہ ان کا یہ قدم لینا جو اس کے ان کو بھی پتا ہے کہ عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور اس کے قائلین صرف ہم نہیں ہے بلکہ گزشتہ امت میں سے اگر ہم نکلے تو کثرت کے ساتھ لوگ ملیں گے کہ جو فاتحہ مسیح علیہ السلام کے قائل تھے سب سے پہلے تو یہ دیکھیں مثلا جو صحابہ کا سب سے پہلا اجماع تھا صرف میں اگر اس کی مثال دے دو کہ ان کے دور میں یہ بات ایک طرح سے تم سب لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ انسان وفات نہیں پا سکتے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے سوچنا شروع کر دیا کہ اس مال کی حفاظت بہت پہلے ہو چکی اتنی جلدی افاقہ نہیں ہو گی بلکہ ظلم رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بھی تلوار ہاتھ میں سوچ کر یہ کہنا اعلان کردیا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ محمد صلی اللہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو میں ان کی اس گا اور یہ اعلان کرکے تمام صحابہ خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا بن چکا تھا کوئی بولنے کی ضرورت نہیں کر رہا تھا کہ اس کی وفات تو اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لاتے ہیں اور آ کر تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہیں سب سے پہلے اس ملک کے پاس جاتے ہیں دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اللہ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا اور اس کے بعد صحابہ کو ایڈریس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دیکھو تم میں سے جو شخص محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا تو یاد رکھیں کہ محمد صلی وسلم کا چکے ہیں اگر کوئی شخص اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا تو یاد رکھو اللہ زندہ ہے اللہ ہمیشہ رہے گا اور اس موقع پر ہونا چاہیے جو ہے وہ تلاوت کی الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رسول سب سے پہلے تمام گزشتہ انبیاء وفات پا چکے ہیں مجھے یہ بتائیں کہ کیا حضرت عیسی علیہ السلام میں آتے ہیں یا آئندہ میں آتے ہیں اردو سحر کافی سارے سوالات آرہے ہیں اور عبدالرشید صاحب کے بھی اور سوالات بھی ہیں عارف زمان صاحب کے سوالات بھی ہیں اور بھی کچھ سوالات ہیں لیکن اس وقت پروگرام کا وقت اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے نام جس طرح کے بار بار ہم اس بات کا ذکر کریں کہ بہت آسان بات ہوتی ہے کہ کوئی بھی کیسے اٹھے اور کہیں سے بات کو لے کر بغیر اس کا مطالعہ کیے بغیر وہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرے اس بات کی ضرورت ہے کہ خود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ و السلام کی تحریرات کو پڑھا جائے آج بھی آپ کے سامنے ایک حوالہ پیش کروں گا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو بنیاد اور فرمایا ہے وہ یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام رہے جس طرح تمام انبیاء اس دنیا میں آئے اور وفات پا کر چلے گئے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا ہے اور خود قرآن کریم بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے چنانچہ اس ضمن میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی کتاب میں آپ کی کتب شائع ہیں وہ ایک مجموعہ کی صورت میں ہی روحانی خزائن کے نام سے تو یہ روحانی خزائن کی جلد نمبر 15 ہے اور اس میں کتاب ہے تریاق لوک مجھے امید ہے یہ کتاب کا اسکرین پربھی دکھائی گے اور یہ تریاق القلوب کتاب ہے یہ 28 اکتوبر سنہ 1902 کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے شائع ہوئی ہے اس میں جو حوالہ ہے اسلام روحانی خزائن جلد نمبر 15 کے صفحہ نمبر 451 پر یہ فرما رہے ہیں شخص تمام احادیث قرآن شریف کا تب بھی کرے گا اور تمام لغت کی کتابوں اور ادب کی کتابوں کو غور سے دیکھے گا اور اس پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ یہ قدیم محاورہ لسان العرب ہے کہ جب خدا تعالی فائل ھوتا ھے اور انسان فول نہیں ہوتا ہے تو ایسے موقع پر لفظ توفی کے معنی ایسے موقع پر لفظ توفی کے معنی بجز وفات کے اور کچھ نہیں ہوتے اور اگر کوئی شخص اس سے انکار کرے تو اس پر واجب ہے کہ ہمیں حدیث یا قرآن یا فن ادب کی کسی کتاب سے دیکھا وے کہ ایسی صورت میں کوئی اور معنی بھی توفیق آجاتے ہیں اور اگر ایسا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو صحیح سے پیش کر سکے تو ہم بلا توقف اس کو پانچ سو روپے انعام دینے کو تیار ہیں یہ ایک سو اٹھارہ سال پرانی بات ہے اس وقت پانچ سو روپے کی بھی بہت پیاری تھی اور آگے فرمایا دیکھو حق کے اظہار کے لئے ہم کس قدر مال خرچ کرنا چاہتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتا یہ تمام سوالات لوگوں کے لئے آج بھی موجود ہیں نکالیں قرآن کریم سے ثابت کریں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کیسے ممکن ہے کہ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر آج تک زندہ ہیں انشاءاللہ ایک ہفتے کے بعد پھر آپ کے سامنے اس پروگرام کو لے کر حاضر ہوں گے اس وقت تک کے لئے اجازت دی ہیں ایک دفعہ پھر آپ سب کی خدمت میں عید مبارک اپنی پینل ممبران کا بھی شکر گزار ہوں اور نہ آپ کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں کہ آپ ہوئے اگلے پروگرام تک کے لئے السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں موصل انو قدیم دل سے ہی خدا میں سنی

 40 total views,  4 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: