Rahe Huda – Ahmadi Muslim K Khilaf Jhoote Propegenda Ka Jawab – Zafarullah Khan R.A




Rahe Huda – Ahmadi Muslim K Khilaf Jhoote Propegenda Ka Jawab – Zafarullah Khan R.A

Rah-e-Huda | 3rd October 2020 – London United Kingdoms

اسلام سے نہ بھاگو راہے ادا کیے ہیں یہ so6 نبھانا لو جان ڈوریمون مسور یہی بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ یہ پروگرام را ہے جو آج ہفتے کے روز جی ایس ٹی وقت کے مطابق شام چار بجے آپ کی خدمت میں ایم پی اے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے براہ راست پیش کیا جا رہا ہے جماعت احمدیہ کے بارے میں اسلام کے بارے میں قرآن کریم کے بارے میں مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جماعت احمدیہ کے عقائد کے بارے میں آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو آپ کو چاہیے کہ آپ اس پروگرام میں پی الگ کا مترادف کیا جاتا ہےش کریں یہ پروگرام آپ کے سوالات سے ہی چلتا ہے اور سوالات تو یہ ہے کہ آپ براہ راست ہمارا لینڈ لائن نمبر نوٹ کریں جو اس وقت آپ کو اسکرین پر نظر آرہا ہوگا اور خود اس پروگرام میں اپنا سوال پیش کریں جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہمارا واٹس ایپ نمبر بھی اس پروگرام کے دوران یاد نے تقریبا ایک گھنٹے تک آپ کو مسلسل اسکرین پر نظر آئے گا آپ اس کو نوٹ کریں اپنا تحریری یا وائس میسج کے ذریعے سوال ضرور بھجوائیں حرام آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام نے دعویٰ فرمایا اور گزشتہ ایک سو اکتیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جماعت احمدیہ اسلام کی تبلیغ کا کام ساری دنیا میں کر رہی ہے اسی پیغام کے ساتھ آج کے اس پروگرام کا آغاز کرتے ہیں یہاں لندن سٹوڈیو میں نصیر قمر صاحب جب کہ نشریاتی رابطے کے ذریعے ہمارے ساتھ ہی محترم عبدالسمیع خان صاحب آپ دونوں مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں اور عبدالسمیع خان صاحب آج گفتگو کا آغاز میں آپ سے کرنا چاہوں گا پرانا ہے لیکن رنگ نیا دینے کی کوشش کی گئی ہے ایک طرف جماعت احمدیہ کی جوائنٹ آپ ہیں خاص طور پر حضرت بانی جماعت احمدیہ اور اسی طرح خلفائے احمدیت ان کے بارے میں لوگ اعتراض کرتے ہیں لیکن گاہے بگاہے یہ بھی گزرا ہے کہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات جنہوں نے عالمی سطح پر خدمت اسلام کے اہم کام سرانجام دیے ہیں ان کے اوپر بھی الزام لگا کر گویا مخالفین کو جماعت احمدیہ سے متنفر کیا جاتا ہے میں اشارہ کر رہا ہوں تاریخ کو بگاڑنے کی اور تاریخ کو غلط رنگ دینے کی تو اعتراض کیا جاتا ہے وہ حضرت سر چودھری محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ پر کیا جاتا ہے اور کیا جاتا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی انہوں نے نماز جنازہ ادا کی اور پھر اعتراض موقع پر جب ان سے پوچھا گیا تو گویا حضرت چودھری صاحب نے یہ کہا کہ مجھے غیر مسلم ممالک کا مسلمان وزیر یا مسلم لیگ کا غیر مسلم وزیر سمجھنے تو کچھ اس بیان کی بھی وضاحت کردیں اور اس بات میں کیا حکمت ہے اس کی وضاحت کر دیں یا رسول اللہ اور ہمارے گھر میں بھی مذہبی رویوں کی تعداد کا کاروبار آپ لوگوں نے بہتر فرقوں میں مل کر جماعت اسلامی اور غیر مسلم قرار دے دیا ہے اور مملکت اور کافر اور جہنمی ہیں جنازہ پڑھنے کا ثواب الگ بات ہے السلام نے اس فیصلے سے جو نتیجہ میں کالا ملک علاج کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک رہتا پہنچائیں خدا کا واسطہ محترمہ والا لیکن اس کے باوجود کہ میرے یار سمجھتے ہیں مجھے جنازہ پڑھنے کا طریقہ اور مقصد اس کا حساب کرنا محمد ظفراللہ خان صاحب جنازہ کے ساتھ ہے اور جنازہ نہیں پڑھا جو فہد مصطفیٰ اس کی امامت کر رہے تھے وہ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب کو آپ سمجھتے ہیں علماء کا مقصود یہ ہے کہ دراصل نماز جنازہ میں شامل ہوتے ہیں یہ شور مچاتے میں قدم کے طور پر لیا ہے اس موقع پر فساد کیا جا سکے اس کے بعد میں فساد کیا کراچی جلسہ استراحت کی کیا ہو رہا تھا فساد کیا کے کافر کیا حق ہے تو مرنے کا جلسہ بھی کریں اور صحت تندرستی ہزار نعمت ہے خان صاحب نے تو اور ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے اس کے بعد میں شمولیت نہیں کی چھا گیا کہ آپ نے توجہ کیوں نہیں پڑھا تو آپ نے جواب دیا کہ میں نے بتایا ہے صاحب کا جواب ہے محمد کر رہے تھے وہ مجھے سمجھتے تھے اور میں اس علاقے کی نماز کس طرح ادا کرسکتا ہے یہ سوال مولانا مودودی جماعت اسلامی کے بانی چئیرمین ہیں اور یہ پھول محمد خان کا پروگرام صاحب جماعت اسلامی صبر اور بڑے لیڈر ہونا چاہیے بغداد حلال یا قائد اعظم کے نماز پڑھنا ضروری نہیں تھا اور ہم نے زنانہ پردہ ہوتا ہے اور اگر امت مسلمہ کے چند لوگ ہے کبھی دل کی بات ہے کہ جب آدم کا جنازہ عورتوں نے پڑھا تھا جو اس میں موجود ہیں نو کراچی کی لاکھوں عوام اس وقت گھروں میں تھی آپ کے نواح میں موجود نہیں تھی انہوں نے نماز نہیں پڑھا اپنے گھروں میں تھے اور کراچی سے مار تھے انہوں نے بھی ہر اس بات کا غلط بات سمجھ آتی ہے شاید یہ لوگ سمجھتے ہیں ہمارے زیادہ حال چال ہیں اور پھر ان کو بولتے ہیں اور واقع ہے گوگل اسلام میں جماع کرنے کے بعد میں تھے ان کو کافر کہنا وہ مصنوعی کرافٹ آپ نے قسم خان صاحب الحدیث فقہ کے بہت بڑے امام ہیں کتابوں کے مصنف ہونے اور مسلمانوں اور اسلام کے معاملہ میں دعا فرمائی اور وہ قبول کیجئے سرکوبی کی جائے ہمارا اس سے بات کرکے دعا کرنے میں کوئی اعتراض نہیں رسم ہے اور ہم اس کے پیچھے ادا کریں گے تو ہم مسلمان اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والا پاکستان بہت بہت شکریہ عابد حسین خان صاحب جس طرح آپ نے بڑی تفصیل بیان کر دیا وہ لوگ جو اعتراض کرتے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب اس موقع پر جب حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات ہوئی ہے تو ایک صدمے کی حالت میں تھے اور جو تصویر بھی ملتی ہے تاریخ میں اس میں وہ غم نظر آتا ہے اور یہ بھی تاریخ میں پڑھنے کو کہا چودھری ظفر اللہ خان صاحب جب حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات ہوئی ہے تو اس موقع پر وہاں موجود رہے اور تمام دیگر معاملات میں آپ شامل ہوئے اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب کو جو لگاؤ تھا قائد اعظم محمد علی جناح سے اور پاکستان سے اور اس کے لیے انہوں نے خدمات کی ہیں ان سے کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا اور یہ اس قسم کے الزام لگا کر لوگوں پر یہ آپریشن دینا محض آپ کی دشمنی تو ہوسکتی ہے لیکن اس میں حقیقت کوئی نہیں ہے نام آپ کے سامنے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ پروگرام راہ خدا ہے جس میں آپ اے خدا کے علم میں ہے کہ کئی دفعہ لوگ یہ پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن ایک سے ہوتی ہے کہ کس طرح سوال کیا جائے ان لوگوں کی وجہ سے اتارنے کے لیے اس کرنا چاہ رہا ہوں کہ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو تکلف کریں اور انشاءاللہ ہم کوشش کریں گے کہ آپ نے اس پروگرام میں آپ کے سوالات کو شامل کریں نصیر قمر صاحب ابو ایک مصرع عنہ کے ہم پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں وہ مسکرا مجھے اگلا سوال پوچھتے بہت یاد آ رہا ہے الزام یہ لگایا جا رہا ہے جماعت احمدیہ ہم پاکستان میں جماعت احمدیہ کے ساتھ دیگر ممالک میں بھی ظلم و ستم اور جو مرضی کہتے ہیں لوگوں کو تکلیف یہ ہے کہ ہم باہر ممالک میں جا کے ان مظالم کا ذکر کرتے ہیں اور پھر الزام در الزام یہ لگایا جارہا ہے کہ دراصل ہم یہ جھوٹ بولتے ہیں اس میں کوئی سچائی نہیں ہے اور اس جھوٹ بولنے کے نتیجے میں گویا ان ممالک میں ہم دنیا ملتی ہیں اور ہم پڑھ لینا چاہتے ہیں میں چاہوں گا کہ وہ ناظرین کے لئے اس الزام کی تردید کردی اور وضاحت کردیں کہ جو سمجھتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے بہت ہی اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا سادہ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں پہ احمدیوں کے جو بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور قانونی طور پر قانون کا سہارا لے کے طلب کیے جارہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا ذکر جب باہر کے کرتے ہیں اور اس پر بڑا زور دیتے ہیں بات یہ ہے کہ آج کل تو اس ملک کے اندر بھی اور انٹرنیشنل بھی ایسی تنظیمیں ہیں ایسے ادارے ہیں وہاں ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں خاص طور پر جو ایسے ادارے جو بنیادی انسانی حقوق کے پھلوں سے مختلف ممالک میں جو ذیادتی ہوتی ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب یا غیر مذہب تعلق رکھنے والے افراد سے ہو اس پر نظر رکھتے ہیں اور اس کو اس کو شمار کرتے ہیں اس کا ذکر کرتے ہیں موجود ہے اور پھر ووٹ صورت کرتے رہتے ہیں ہمارے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو یہ خیال کہ یہاں کے باہر بیان کرتے ہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہاں آپ جب کوئی اگر ہم سے پوچھے کی تفصیل تو جو تفصیل ہے جو ہمارے علم میں ہوتی ہے وہ اس کا ذکر کرتے ہیں اور وہ ہمارا حق ہے لیکن حیرت ہوتی ہے کہ آپ بھی تو تکلیف محسوس کرتے ہیں کہ جب باہر جا کے ان کی باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو ملک کی بدنامی ہوتی ہے لیکن جو ظلم کیے جا رہے ہیں اس سے انہیں خود سے شرمندگی نہیں ہوتی کہ ہم وہ کام نہ کریں جس سے ملک کی بدنامی ہو آج کل تو وہاں پر تو بہت ہی عام مسئلہ ہے کہ وہ ایک صاحب ہیں وہ کچھ لوگ کہتے ہیں چور ہیں اور وہ کہتے ہیں چور ہیں تو ان ساری دنیا کو کیوں بتاتے ہو کہ ہم چور ہیں اس کی بدنامی ہوتی ہے حالانکہ شکریہ جائے نہ کیا جائے آج کل کے ذرائع سے ہیں رسائل کے اور میڈیا کے ساری دنیا کو پتہ ہے لیکن اس بات کی طرف یہ کام نہیں آتے ہیں کہ ہم وہ کام ہی نہ کریں جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور جہاں تک ہمارا تعلق ہے دو بہت سارے ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کا ذکر ہی نہیں کرتے اور املا وہاں پر میڈیا میں بھی پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا ہی نہیں جاتا کبھی کوئی خبر دے دیتے ہیں اور وہ خبریں ایسی ہوتی ہے جو چھپا نہیں سکتے زندہ انسانوں کے ساتھ جو آپ سلوک ہو رہا ہے کے ساتھ وہ تو ایک طرف ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے مساجد پر حملے ہوتے ہیں گھروں پر حملے ہوتے ہیں آگے لگائی جاتی ہیں لوٹ مار کی جاتی ہے احمدیوں کے جو کاروباری افراد کھلے عام اور تلقین کی جاتی ہے آگے جی کی جاتی ہے بائیکاٹ کے لیے کہا جاتا ہے قتل تک کے لیے لوگوں کو بھرا جاتا ہے تو نہیں دی جاتی ہے اور وہ اپنے اشتہارات میں اپنے جو بھی اس نمبر دیتے ہیں کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ کرو اور کوئی کام بھی نہیں ہوتی یہ باتیں کہ ہم تو تعلیم اور تربیت کے نتیجے میں جو ہے مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں دی اور پھر اس کے بعد خلافت احمدیہ کی ادا تربیت اور رہنمائی کے نتیجے میں ہم تو نہایت صبر اور برداشت کی جس کو ہم بچھڑے ہوئے اور عملی تربیت کا نتیجہ ہے گھروں کو آگ لگا دی جائے بڑی بے دردی سے شہید کر دیا جائے مساجد پر حملہ کردیا جاۓ لیکن عملی خاموشی سے اللہ کے حضور اپنی فریاد کرتے ہیں اور انفرادی طور پر جوان بیٹیوں کے ساتھ بہت جگہوں پر زیادتی ہوتی ہیں طلباء کے ساتھ ہوتی ہیں مختصر جواب میں ہوتی ہیں ملازمتوں میں ہوتی ہیں کریں کوئی نہیں اور احمدی اس تربیت کے نتیجے میں اس کو معاذ اللہ کی خاطر صبر سے برداشت کرتے اور بعض جماعت کے نظام کو بھی وہ نہیں بتاتے کہ ٹھیک ہے ہمیں تو تعلیم صبر کریں گے ہمارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے وہی جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے صبر کریں ہم اس خبر کا اللہ اللہ بابر کی بنیاد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اللہ کے ساتھ تعلق میں ابھی کل کے خطبہ میں حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پھر اب جماعت کو یاد دلایا کہ مخالفت نہیں ہو رہی ہے بڑی شدت ہو رہی ہے اللہ کی طرف توجہ کریں تو یہ ہے کہ اگر میں سیاست اور فرمایا اور جب بڑھ گیا شور و غوغا میں یہاں ہوں گے یار نہ امی اور یہ جماعت کا نمونہ ہے ہم تو انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ کا جو مضمون ہے جو سنت انبیاء ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے باوجود کے بعض اوقات بعض جگہوں پر بعض عالمی اداروں نے یہ تنظیموں نے یہ کوشش کی کہ ہم اس ظلم و ستم کے بیان میں پاکستان کے خلاف کوئی بات کریں تو خلافت احمدیہ نے ہمیشہ یہ تعلیم دی اور بڑی وضاحت سے کہ انہوں نے پیغام دیا کوئی بات نہیں کریں گے ان ظالمانہ واقعات کے خلاف ہے کر رہے ہیں ان کی رپورٹنگ تو ہو رہی ہے لیکن ہم اس کے نتیجے اس کے اوپر کسی قسم کی قدغن لگانے پابندیاں لگانے یا عوام الناس کے لئے تکلیف پیدا کرنے کا ہرگز سوچ بھی نہیں سکتے چوہتر میں ابھی تک تربیت میں گانے لگاؤ جب یہ ظالم ہوئے امریکہ میں ارے او میری کا نام حدیث میں ایک پریس کانفرنس کی اپیل کی آواز اٹھائیں کہ یہ ہو رہا ہے وہاں پہ آپ کو کسی نے کہا کہ کیا آپ یہ مطالبہ کریں گے کہ امریکہ جو ہیں وہ پاکستان پر پابندیاں لگانے سے ہمارے برادر مظفر مرحوم کی وائف امریکن تھے وہ اس پریس کانفرنس کو کاٹ کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ وہ ایک بار پھر سے نوایم دی ہیں ایسی خلافت کی تربیت اور جماعت کی تربیت میں سیاسی تھی اور کام ہر گز کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ ہم یہ کہیں کہ وہاں پر ملک کے اوپر کوئی بنیا لگائی ہے یہ جو ظالمانہ اقدامات ہیں جو ظالمانہ حرکات ہورہی ہیں کہ میں ان کے گھروں پر حملے ہو رہے ہیں بلوغت کی جا رہی ہے اس کو روکے عوام کے خلاف عوام کا اس پر کوئی قصور نہیں ہے کچھ فتنہ یہ کتنا پیدا کر رہے ہیں ہم تو جماعت احمدیہ کی ساری تاریخ دیکھ لیں ایسا ہوا ہے ہمارے ان بھائیوں کو شہید کیا گیا ان کے گھروں کو ان کی پراپرٹیز کو جلایا گیا اور نہایت ظالمانہ شرابی ہوا ہے کہ ہم نے کو جو سن کر کسی کی نعش کو میت کو سڑک پر رکھے سڑک بلاک کی ہو ایک مثال ایسی نہیں اور لوگ حیران ہوتے ہیں اب یہ لاہور میں جو واقعہ ہوا تھا ایک دن میں تقریبا سو شہادت ہو رہی تھی جماعت کا رد عمل تھا اور ان کے ہاں آپ نے ایک آدمی کا کوئی واقعہ ہو تو اس کے اوپر ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے جو ہماری تو تاریخ اس بات کی شاہد ہے ہم تو ملک کے اندر بھی کوئی ایسی حرکت نہیں کرتے جس سے ملک کی بدنامی ہو اور میڈیا اس کو اچھا لگے کہ یہ دیکھنی ہو گیا بلکہ ساری شہادتوں کو ہم معذرت کے ساتھ برداشت کیا اس لئے کہ میں تعلیم پائی تھی ہمارے آقا کی تعلیم دی تھی ہمارے خلیفہ المسیح کی تعلیم دی تھی میں نے تو یہ ہے ہمارا نمونہ اور یہ نظام نہایت بے ہودہ ہے اور یہ کہنا کہ میں حصہ لینے کے لیے کیلئے بات یہ ہے کہ ہے سکھوں کی تعداد میں ہیں وہاں سے نکلے گنتی کے چند دن کے بس میں تھا جو کچھ اختیار میں تھا کچھ اپنے وہ جو باہر نکلنے کے لئے جو ان کے پاس اگر کچھ پیسے تھے تو وہ کوشش کرکے نکلے جو برداشت نہیں کر سکتے تھے ابھی وہاں پر لاکھوں عوام بھی ہے جو ذہن کو برداشت کر رہے ہیں اور ہجرت کرنا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو غلط ہو میرے سامنے تو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا نمونہ موجود ہے جب وہاں پر مکہ میں صحابہ کی زندگی اجیرن کر دی گئی تو کچھ لوگ گنتی کے چند لوگ جو ہے جو وہاں سے ہجرت کرکے تو حبشہ کی طرف چلے گئے اور جب وہاں پہنچے پہلے تو بڑے خوش تھے کہ یہاں سے نکل گئے مشرکین کا خیال ہوا کہ یہ کیا اور وہاں پہ ہوتا تو کیا اور وہاں جا کے وہاں کے بادشاہ کو کہنے لگے یہ ہمارے آدمی تھے آپ کے پاس آگئے ہیں وہ ایک ایماندار مجھ سے مذاق اس سے پوچھا کیا ہوا بات سنیں یہ میرے ملک میں امن سے رہیں گے کچھ عرصہ بعد اب یہاں کی ایک قسم کی آزمائش کرلی تھی ٹھیک ہے تو ہماری وہ ثابت وان بستیوں کے ساتھ ہے جو اس وقت کے ظالموں کے ظلم سے بچنے کے لئے ہجرت کرکے ایک دوسرے ملک میں گئے تھے کہ وہ ان کے ساتھ مشابہت اختیار کر رہے ہیں اور یہ خدائی تقدیر ہے جو اس بات کو کھول رہی ہے کہ کون حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے نقش قدم پہ ہیں قدم پہ ہے اور کون وہ ہے جو ان کے مخالفین کے نقش قدم پر ہے اور وہ جو ہم نے پہلے ذکر کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ 72 ایک طرف ہوگی اور ایک طرف ہوگا تو لوگوں نے پوچھا تھا صحابہ رضی اللہ عنہ کون ہوں گے آپ نے فرمایا تھا ما انا علیہ واصحابی وہ اسی طریق پر کار بند ہوں گے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں بلکہ ہمارے لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بہت ہی بات سن رہا ہے کہ ہماری تم صحابہ کے ساتھ خدا کی خاطر کیا کرو اب کیا کیا ہمارے پاکستان میں کیا کرتے ہیں کہ بغاوت کی ہے کوئی بدکاریاں کے واقعات ہو رہے ہیں ظلم یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ اور حیرت یہ ہے کہ وہی کلمہ وہ پڑھے تو ٹھیک تو یہ دل آزاری ہوتی ہے بلکہ ہمارے ساتھ نہیں دشمنی دشمنی اس کلمہ کے ساتھ ہے ورنہ دیکھیں امریکہ اس دنیا سے ملک میں ان ملکوں میں بھی آپ دیکھتے ہیں پاکستان میں بھی بعض دفعہ سائیں جو ہیں وہ مسلمانوں کے گھروں میں آتے ہیں تو وہ بھی سلام ہے سلام علیکم اور وہ ان کو خوشی ہوتی ہے اور اس نے ہمارا ہمارا ایک شعر اپنایا اسلام علیکم جناب شیعہ جو آپ کے اپنے ہوں جن سے آپ کو اتنی محبت ہو اگر کوئی غیر ان کو اپنا تو خوشی ہوتی ہے ان ملکوں میں بھی جب کوئی عیسائی یا دوسرے لوگ کہتے ہیں اسلام علیکم کہتے ہیں ماشاءاللہ کہتے ہیں جزاک اللہ لفظی کے لیے تو خوشی ہوتی ہے کہ انہیں ہماری ایک بات کو اپنایا ہے بالکل ٹھیک ہوں خوش ہوں میں آپ جو مرضی سمجھ ہے جو اسکی خوش ہوں یہاں سے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں جس پر رسول اللہ نے تعلیم دی تھی اس میں ناراض ہو رہے بلکہ چینی سب جس طرح آپ نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے ہم نام کو بھی بہت زیادہ اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ضرور آپ جستجو کریں ضرور تحقیق کریں اور ہر پہلو سے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں اور سوچیں اس پہلو سے کہا جو جماعت احمدیہ کے ساتھ ہمارے مخالفین کر رہے ہیں لیکن تاریخ میں وہ کس کے نمونے سے زیادہ جاتی اور پھر ظلم و ستم کے باوجود جماعت احمدیہ جو نمونہ پیش کر رہی ہے وہ کس کا نمونہ ہے آپ کو یہی نظر آئے گا کہ جماعت احمدیہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپناتے ہوئے نظر آتی ہے اگلا سوال لے کر محترم عبدالستار خان صاحب کی طرف جاؤں گا اور دوسری خان صاحب ہمارے ایک بھائی ہیں میر صاحب پاکستان سے یہ سوال کر رہے ہیں یہ بھی بار بار کیا جانے والا سوال ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ ضرور اس کا جواب دیں تاکہ اگر کسی ہمارے بھائی کو کوئی غلط فہمی ہے تو وہ دور ہو جائے وہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کیسے ہوئی طلاق کے بارے میں مختصرا بتا دیں کملا جاوے علماء کی غلط فہمی ہے اس کو دور کرنا ضروری ہے کے آخری وقت نے حالات کو وہی لوگ بتایا جو اس وقت موجود ہے ہمارے مخالف کلام موجود ہے نہ کوئی قانون موجود ہے مسلم حمل اسلام کے ہر والے ڈاکٹرز وہاں موجود ہے آپ اپنے ہی تاریخ کو مسلسل اسلام نے آخری دفعہ سیر کی ہے لاہور میں مقیم تھے اور آپ اپنا ایک مضمون لکھ رہا ہے پیغام مومنوں کے نام سے آپ نے رابطہ کیا اللہ کی طبیعت ٹھیک ہے صبح کو آپ کی وفات ہوئی حدیث کی رات کو جب آپ سے آپ سے رابطہ اس نے اپنی کتاب کا منصوبہ مکمل کرلے رات کو سوتے وقت آپ کو پوری ہوگی اور آپ کو پڑھانے میں تکلیف کے سال کے سرد اور اس سال کی آپ کو پہلے تو آپ کو محسوس ہوا کہ اس علاقے ہیں جن کی وجہ سے آپ کو ختم ہوگئے تھے ان کو بلایا گیا پھر بعد میں باہر سے بھی آتی ہے عصمت کی تجارت کا چار دفعہ ہم سے وہ دل اسلام حال ہے اور آپ کی طبیعت تمہاری مرضی ہوگی یا صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے گھر کا خواب میں بستر پر لٹا فجر کی نماز پڑھے محبت تم سے نفرت ہے شاپنگ کیا بات ہے نوشکی عالم کا بھی پوچھتا ہے کہ کیا فجر کا وقت ہوگیا ہے اس کا نام کتنا ہے پورا نام رکھا ہے لکھنے والا کام ہے جو آپ گھر سے نماز پڑھے پھر وہ چلا گیا پھر نماز شروع کیا پھر پوچھا کیا فجر کا وقت ہوگیا ہے آپ نے نماز پڑھی وعدہ آپ کے ساتھ میں ہوں جو تنفس نظام تنفس گیا تو آپ نے فرمایا وقت آگیا ہے جس کی میں پتا کرتا تھا اور آپ نے یاد ہونا چاہیے اور آپ صلعم نے انہیں پانچ میں نے تو میں بات نہیں کر رہا ہوں ابھی میں اس بات کی ہے لیکن اس وقت پانچ میں آپ نے اپنی کتاب الوصیۃ لکھیں الہام کی طرف سے تھا کہ میری زندگی کی ادویات فلم سال باقی رہے جب آپ لاہور کچھ ملا تو آپ کو مار رہا تھا رہے موسم اس کو قریب کرنے کا وقت الماتریدی بنا اردو میں اسم استعمال ہوتا ہے کام کرنے والا اور موت میں تقریر آخری مرتبہ جواب الفاظ ہی تو تھے اللہ میرے پیارے اللہ اللہ میرے پیارے اللہ اور قریب 20 مئی کو صبح دس بجے سات میں اس موقع پر جو ہمارے مخالفین کا خاتون کے مشہور سیاسی مناصب کی مما وہ حادثے میں اب اجازت ہے اس لئے ان کی لاشوں کا انبار لگا دیا جائے اس موقع پر ڈاکٹر صدر لائن کو بلایا وہاں اور مسلم باغ لا صلاۃ و سلام ان پر لازمی ہے اور نہ ہی اسٹیٹس وعدہ سے نہیں بھائی اور آپ کے علاج کرنے والے اپریل کے اجلاس میں اچھے ہیں دوسری طرف سے جمعہ جماعت کے باہر کھڑا ڈال رہا ہے اور نعرے لگا رہا ہے جنازہ نکالا ہے اپنے دلوں کو پہنچا رہے تھے خدا کے ماننے والوں کا رویہ ہوا کرتا ہے اس موقع پر اللہ جانتا ہے آپ نے کوئی آواز بلند ہے اور شام کو اور تمام اہل اسلام کو مبارک کو ریل گاڑی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ صحابہ نے کندھوں پر اٹھایا کریں عملے نزد تبلیغی 48 میں حضرت مسیح موعود اسلام الحق کے ساتھ اس جگہ پر وہاں دفن کیا گیا ہے آپ کی قبر کو اسی زندگی ہے کہ ان کے پاس طلاق کا بیان لے جایا مسیح الاسلام پر دفن کیا ہے پروپیگنڈا ہائی کا دوسرا راستہ استاد سے متعلق ان کے پاس کوئی ثبوت ہے بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں اسلام کے متعلق صرف ایک بات کرو آپ کے مخالف کرنا چاہیے ہمیں تو پہلے تھے اور اسلام آباد روم کے نہایت بڑے عالم رستہ فارمولا اقبال کی زندگی اور تنہائیاں تمہارا ساتھ جب وہ خراج تحسین پاگل مسلمان اسلام کے بہت سے لوگوں کی طرف سے پیش کیا جائے گا بہت بہت شکریہ حسن خان صاحب اوکے سمی خان صاحب نے مختصرا لیکن تمام ضروری اور اہم باتوں کا ذکر کرتے ہوئے جس طرح حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے حالات اور ایسے ایسے ثبوتوں کا ذکر کیا ہے جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے مجھے امید ہے کہ ہمارے ناظرین کو اس سے فائدہ ہوگا اس وقت ہمارے ساتھ دو قول موجود ہیں ہم کوشش کرتے ہیں پیر حبیب صاحب لندن سے پہلے مجھ سے بات کر لیتے ہیں السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ نصیر صاحب السلام علیکم رحمت اللہ جی بہت خوب میں صرف یہ اعتراض کیا تھا انہوں نے خان صاحب ہم صرف یہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے رپورٹ میں یہ بات ممکن ہے کہ مطلب کافر کا دیا ہوا ہے مجھے بن سکتی ہو بند کریں شکریہ آپ نے مجھے یہ سمجھ لیں کہ یہ مسلمانوں کو مت کرو مسلمانوں اور غیر مسلموں یہ بالکل الزام ہے ان پر کوئی آبیانہ یہ کس کی نظم ہے ہمیں کچھ نہ پڑھنے پر جب خدا کے واسطے اسلام کو چھوڑا ہے قائداعظم ہے گڈو کہہ رہے تھے کہ ہم نے کبھی اختلاف نے فرمایا ہے کہ ہم فیس بک کو ایک مسلمان کے لئے طلب کیا جائے جس میں علاقے میں مسلمانوں کی قربانیاں نہیں اسی کتاب کو اٹھا رہے اس میں نہ صرف ایک دوسرے لیڈروں کو بھی کہا گیا ہے اردو کاروان احرار کو اپنی مدد کے رات کے وقت نبی فرمایا خدا کا پاکستانی پاکستان پر کام کریں یہی بات قرآن کی آیات نازل ہو جاتی ہیں کہ بھی میں نے دیکھا ہے کبھی پوچھتے ہیں کیا صرف کرتے ہیں قرآن کی تفسیر کرتے ہیں وہ حضرت سلام پانی کو یہ الہام ہوا ہے نہ شریف میں غلام مصطفیٰ ہوں یہ یا کیا کرتے ہو آپ مجھے تڑپانے کی کرتی ہیں یا کرنے کی ملی ہے اس کے کوئی غم والا اللہ کا ادراک جب پڑھنے لگا شرکاء بالکل ٹھیک ہے باقی ہے بابرہ شریف صاحب آپ کی رپورٹ ہمیشہ بہت طویل ہوتا ہے اور رہے ہیں اور یہ بات جس طرح آپ نے ذکر کیا بار بار یہ جامعۃ الازہر آ جاتے ہیں لیکن جس طرح کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا اور خلفائے احمدیت کا بھی یہ طرز عمل ہے ہم تو اسی کو فالو کرتے ہوئے جب بھی یہ ذمہ داری جائیں گے ہم اسی طرح ان کے جوابات دیں گے نہ صرف صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ ہمارے پاس دوسرے ہمارے ریگولر ہیں وہی محمد عبدالرشید صاحب لندن سے ہم اس سے بات کر لیتے ہیں محمد عبدالرشید صاحب جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بھائی صاحب بڑا شاندار پروگرام ہے آپ کا بہت مفید ہے اللہ ہدایت سمجھا جائے دو سوال ہیں پہلا سوال یہ ہے جی کہ سورۃ بنی اسرائیل میں 111 نمبر آیت میں حضرت مصلح موعود نے نوٹ لکھا ہے یعنی عیسائیوں کی جو یہود کا حصہ ہیں اور صفت رحمان کے منکر ہیں ان کی کتابوں میں بسم اللہ لکھی ہوتی ہے مگر ایمان کا لفظ اس میں نہیں لکھا ہوا ہوتا کاٹا ہوا ہوتا ہے کیونکہ وہ رحمان کی صفت کو اس صفت کفارہ کو رد کرتی ہے اس بارے میں جہاں بھی کہیں او صاحب کیا سورۃ نساء میں ہے سورج میں ہے صورت میں ہے سورہ بقرہ میں ہے سنورنے ایک ماننے ہے وہاں اللہ تعالی نے اپنی دو صفات عزیزان حکیمہ کو استعمال کیا ہے برائے کرم اس کی وضاحت فرما دیں تاکہ لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا کہ مولانا حسن رضا بہت بہت شکریہ عبدالرشید صاحب آپ کے دو سوالات ہیں پہلا سوال میں عبدالسمیع خان صاحب سے کے سامنے پیش کر دیتا ہوں محترم عبدالستار خان صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہمارے بہت پیارے دوست محمد عبدالرشید صاحب اسرائیل کی آیت نمبر 111 کے حوالے سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیسائی خدا کی صفت رحمان کو نہیں مانتے اور وہ بائبل میں ان کی دیگر کتب میں اس میں خدا تعالی کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن صفت رحمانیت کا وہ لوگ ذکر نہیں کرتے تو میں چاہوں گا کہ جو ہمارے بھائی محمد عبدالرشید صاحب ہیں ان کے سوال کے اس پہلو کا جو ہے وہ آپ جواب دے دیں اعلان ہے اس پر محدث کی ہے معہد انسانوں کے اللہ تعالیٰ انسانوں کے گناہ نہیں بن سکتا اس نے لڑکا زنا کیا اور بیٹا انسانوں کے گناہوں کی خاطر مصلوب ہوا پنجاب پولیس سپنا کے بتاتی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے اپنوں کے بغیر ہمارے لئے سارا کچھ ادا کیا سزا بھی کر سکتا ہے لیکن مخصوص کرنا اس سے بہت اعلی سے تھا اور اس پر کوئی پابندی یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسانوں کے پاکستانی صدقہ تھا اور اس نے گناہوں کے انسانوں کے گناہوں کی بخشش کی خاطر پڑھایا ملا کو جو ہے ہند میں رکھا کوئی سائل اگر ہم ان کے منکر ہے سورۃ بنی اسرائیل میں بار بار ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالی رحمان ہے اس امانت ایمان لاؤ اللہ تعالی کی بخشش خدا تعالیٰ ہمیں معاف فرما دے گا تفسیر نے کی ہے سورۃ بنی اسرائیل کی تفسیر ماثور ملحق بہت بہت شکریہ عابد حسین خان صاحب نسیم کے منصب ہمارے جو بھائی محمد عبدالرشید صاحب ہیں انہوں نے جو دوسرا سوال کیا تھا وہ سورہ حشر سورہ بقرہ سورہ نور سورہ لقمان کے حوالے سے اور بھی جگہ کا ذکر کیا کہ یہاں خدا تعالی کی دو صفات ہیں عزیز نہ کی ماں ان کا ہمیشہ ایک ساتھ ذکر آتا ہے تو اس بارے میں کچھ ان کی رہنمائی کردیں قرآن کریم میں یہ جو بعض آیات کے آخر پر اللہ تعالی کی صفات کا ذکر ہوتا ہے اس بات کا ان آیات کے مضمون کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے اس طرح یہاں پہ ہم نے ذکر کیا کہ عزیزان قیمہ آیا ہے کو اس میں اور کرنا چاہئے کہ لفظ عزیز کے ساتھ اس آیت کا یہ اس مضمون کا بہت گہرا تعلق ہے جو اللہ تعالی نے جس کا اظہار بظاہر بہت لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیسے ہوگا یا عموما مستقبل کی کوئی بات ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالی اپنا آتا ہے کہ میرے میں غالب ہو اور صاحب عزت ہو اور یہ بات ایسے ہو کے رہے گی کیونکہ میرے اوپر کوئی غالب نہیں آسکتا اور پھر آیات میں جو مضمون ہے اس کے ساتھ خدا کے حکیم ہونے کا بھی ایک بہت گہرا تعلق ہوتا ہے اس لیے اس بات کو دہرایا جاتا ہے کہ اس کے ان آیات کے مضمون کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالی کی صفت حقیقت کو سامنے رکھیں تو آپ کو 8126 سمجھ آ جائیں گے اور کیا ہم ایک ایسی ذات کو بھی کہتے ہیں جو بہت پکّا اور مضبوط کام کرنے والی ہے تو عزیز اور ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے علمائے کرام نے ان آیات پہ جہاں پہ آیا ہے مضمون وہاں پر خاص طور پر اس پر روشنی ڈالی ہے اور دوسرا برائے مہربانی اور پھر اس کے بعد حضرت مسیح کھانے سے دولتالہ میں اس تنظیم نے بھی یہ صفات الہیہ کے متعلق جو وضاحت فرمائیے تھے ان میں بھی ان مضامین کو چین سے بیان کیا گیا ہے اگر کوئی ایک معین آئے تو بیان کرتے تو اس کے حوالے سے دیکھا ذکر کیا جا سکتا ہے تو ٹھیک ہے نہیں رکھتا ہے کے بعد اللہ تعالی کی صفات کا ذکر آتا ہے ان صفات کا ان آیات میں مذکور مضامین سے بڑا گہرا تعلق ہے ہمارے بھائی عبدالرشید صاحب بہت بڑے تحقیق طلعت نکال کے لاتے ہیں اور اس سے بڑے فائدہ ہو جاتے ہیں ہمارے سامنے دیکھ اگلا سوال جو ہمارے بھائی احمد رفیق صاحب کا ہے شیخوپورہ سے اور یہ ہمیں محترم عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اور دوسری خاص بات مارے بھائی احمد رفیق صاحب لکھتے ہیں کہ ایک غیر احمدی دوست کا سوال ہے اور سوال یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جھوٹا مدعی نبوت سے جنگ کرنا میں ان کا سوال آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں امید ہے کہ آپ سوال پر بھی تبصرہ کردیں گے تو احمد رفیق صاحب کے غیر ملکی دوست کا سوال یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جھوٹے مدعیان نبوت سے جنگ کرنا اور مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابوبکر کا لشکر کشی کرنا کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ جھوٹے مدعیان نبوت کا قلع قمع کر سب سے ضروری عمل ہوا کرتا ہے اور ہر مسلمان کا اولین فرض ہوتا ہے جزاکم اللہ خیرا مثالیں سمیت ہمارے بھائی کو علماء کی طرف سے غلط فہمی ہوئی ہے یہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی آزادی کے خلاف ہے میڈم حقائق آپ کے سامنے ڈرامہ اس نے یہ بات اور تفسیر کے ساتھ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس کی انگلش کرکٹر آیا ہے مدینہ میں آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کے ساتھ اسے ملنے کے اس میں پہلی بات آپ سے ہے آپ نے نبوت میں شریک کر لیں آپ کے ساتھ بات کرتے ہیں شفقت رسول اللہ آپ نے بہت اور دوسری بات اس سے پہلے کہ اچھا پھر کر لینا آپ نے نصیحت کر جائیں گے جب آپ کی بات ہو جائے گی میں آپ کا خلیفہ بن جاؤں گا انشاء اللہ خدا کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر کھڑا ہوا اس کا اندازہ لگایا اور فرمایا یہ بھی دے واپس چلا جائے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم وہ بغاوت کا اعلان کیا عورت دوسرا والا پیسے بھی پتہ ہے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیرت کے ہاں اللہ کا رسول تسلیم کرتا ہوں کیا آپ مجھے بھی اللہ کے رسول صلی فل اللہ کا رسول تسلیم کرتا ہوں کیا آپ مجھے بھی اللہ کرو تسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دعوائے نبوت کیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف کوئی کروائے واپس چلا جاؤں گا حافظ ابوبکر بیٹھا اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں طرف سے مشکلات میں گھرا ہوا اور مختلف ابو الذکا کس جا رہے تھے اور مسلمانوں کا فرق ہے اور اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے 12 کرکٹ کی تاریخ میں مدینہ پر حملہ کرکے مسلمانوں کو دے دو رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بھی ملتا ہے باغی کے خلاف قدم اٹھایا فرمایا ہم اس پر حملہ آور ہوں گے اور اس کا مقابلہ مدینہ سے باہر کریں گے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور مدینہ سے باہر اس کا مقابلہ ہوا بولا مسلمانوں کو نقصان نہیں ہوا میرے ساتھ رہو تقریر کرنی ہے کتاب و سنت سے ثابت ہے کہ وہ لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوا نہیں آرہا تھا ابوبکر نے اس موقع نہیں دیا کہ آپ آن لائن ہو لتا بھارتی حکومت اسلامی اتحاد کے طور پر کام کرتا ہے فرمائیں فرمائیں حضرت محمد اخلاق نہیں ایک آپ کا ای میل مسلمانوں کو کامیاب کیا مراد کیا ہے عابد حسین خان صاحب ناظرین کرام بہت زیادہ ضروری یہ امر ہے کہ مخالفین مختلف باتیں تاریخی بات ملک آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں لیکن میں یہ چاہیے خاص طور پر وہ میرے بھائی اور میری بہنیں جو تحقیق کرنا چاہتے ہیں جائے کہ ان حوالوں کو چیک کیا جائے ان بیانات کو چیک کیا جائے خاص طور پر تاریخ اسلام سے تعلق رکھنے والے ایسے واقعات کی ایسی باتیں وہ تو آپ بڑے آرام سے آج کل کے دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے بھی ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں خاکسار کے آپ یقیناً ہمارے موقف کو سنیں لیکن کم ازکم تاریخی حوالوں کو تو جا کے چیک کر سکتے ہیں کہ اصل باتیں کیا ہیں لیکن میں آپ کے سامنے یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے ذہن میں جماعت احمدیہ کے بارے میں کوئی سوال ہو یا ہمارے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے ہو تو ہماری آفیشل ویب سائٹ اور میں یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ ہماری ویب سائٹ نہ صرف اردو زبان میں برکی انگریزی زبان میں بلکہ دیگر زبانوں میں بھی موجود ہے اور چونکہ بھی دیگر زبانوں کا ذکر ہورہا ہے اس لئے میرے سامنے جو ہمارے بھائی رجسٹرڈ ہیں جو برطانیہ سے اپنا سوال کر رہے ہیں ان کا سوال آ گیا ہے اور وہ پیلمبر نصیر قمر صاحب کے سامنے پیش کروں گا نصیر قمر صاحب ہمارے بھائی رچرڈ اور مجھے پتا ہے کہ پروگرام کی ٹرانسلیشن ہو رہی ہے تو انگریزی زبان میں یہ سوال اور اس کا جواب ہمارے بھائی تک پہنچنا ہوگا اور یہ کہہ رہے ہیں وچ ازدا بیسٹ میں 20 جولائی یعنی وہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ روحانیت کے طور پر یا روحانی زندگی گزارنے کے لیے کیا بہترین طریقہ ہے قرآن مجید بہت ہیں عظیم الشان کامل اور مکمل کتاب ہے اور اس سوال کا جواب قرآن مجید میں مذکور ہے دکھی روحانیت کا تعلق ساختہ اصولوں سے نہیں ہوتا انسانیت کا تعلق یہ ہے کہ اللہ سے تعلق ہو اور وہی حقیقت میں ایک روحانی شخص ایک شخص روحانیت بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے ساتھ تعلق ہو اس کا یہ جواب دیا ہے صبح ومن احسن من اللہ صبغہ بالکل اسی ہونی الفاظ میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے جو مصر کے پوچھ رہے ہیں کہ سب سے بہترین طریقہ کیا ہے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ تم اللہ کے رنگ اختیار کرو صبغت اللہ ومن احسن من اللہ صبغۃ اور اللہ کے رنگ کو اختیار کرنے سے زیادہ اچھی چیزوں کیا ہو سکتی ہے تو یہی بات ہے کہ آپ خدا پر ایمان لائیں اور خدا کی صفات کو اپنائیں بے شمار صفات ہے کریم قرآن مجید میں ان صفات کا ذکر فرمایا گیا اور پھر قرآن مجید میں ان صفات کے جو تقاضے ہیں ان سے انسان اللہ کی کس صفت کو اختیار کر سکتا ہے اس کی رہنمائی بھی ہیں میں ابتدائی طور پر مثال کے طور پر وقت کی نیت سے دو تین باتیں عرض کرتا ہوں کھاتہ میں چلانے اپنی چند صفات کا ذکر فرمایا ہے اور بنیادی طور پر چار صفات کا ذکر فرمایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تفاسیر میں امہات الصفات کے طور پر پیش اور ان میں سے بھی پھر دو جو ہے وہ ان دو انچ ان کا بھی ایک خلاصہ ہیں وہ کیا ہے رب العالمین قرآن الرحیم مالک یوم الدین رب العالمین کی صفت کا رنگ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان تمام بنی نوع انسان سے تمام اس یونیورسٹی سے اس کائنات سے کائنات میں موجود ہر چیز کے ساتھ اپنا ایک ہلو قائم کرے جو اللہ تعالی کی ربوبیت کتاب قائم ہوتا ہے یعنی بلاوجہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے اس کی ہمدردی کرے اس کی نشونما کرے لاہور کا مضمون ہے اور الرحمن یہ ہو نہیں سکتا اب یہ تعلق تمام قسم کے رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹا کر اور اعتقادی یا عملی فرقوں کو مٹا کر سے ایک جیسا تعلق قائم نہیں کرسکتے جب تک خدائے رحمان کے ساتھ اپنا تعلق نہیں جوڑ دے ہر ایک پر رحم کرنے والا ہے اور بے انتہا رحم کرنے والا ہے اور بن مانگے رحم کرنے والا ہے یعنی آپ کی ہمدردی کا دائرہ اتنا وسیع ہو کہ دوسرا آپ سے کچھ مانگے یا نہ مانیں گے آپ کی طرف رحمت آپ کی رحمت اور شفقت اور مہربانی سے حصہ پانے کے لئے کوئی التجا کرے یا نہ کرے اس کے ساتھ محبت اور پیار کا رحم کا شفقت کا سلوک کریں رحمانیت کی صحت کو بنانے والے ہوں گے قرآن مجید میں اس کی مزید تفصیلات میں محبوب ہیں اسی طرح رحیم اللہ تعالی کی صفت ہے کہ جب آپ اللہ تعالی کی رحیم کی صفت کا یہ تقاضا ہے کہ جب کوئی اس سے کوئی رحم مانگتا ہے اللہ تعالی اس کے اعمال کو ضائع نہیں کرتا بہترین جزا دیتا ہے کیا مجھ سے بڑھ کر دیتا ہے آپ کے پاس کوئی دستِ سوال دراز کرے تو آپ بھی اس کو ساتھ رحم کا سلوک کریں اسی مضمون کو دوسری جگہ مسائل آتا ہے وہ بنعمۃ ربک فحدث کے بیان فرمایا قرآن مجید نے بڑی تفصیل سے اللہ تعالی کی صفات اور کس طرح ان صفات کے رنگ اپنایا جا سکتا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں جماعت کے قیام کا مقصد اللہ تعالی کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے اور تمام بنی نوع انسان کو خدائے واحد کی طرف بلانا ہے اس لیے ہمیں اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اور آپ کے مقدس خلفائے کرام نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنے خطبات میں خطابات میں صفات الہیہ کے مضمون مختلف پیرایوں میں بیان کرکے اور اس کے تقاضوں کو بیان کرتے ہوئے ہماری رہنمائی فرمائی ہے تفصیلات معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اپنی آسانی کے لئے تو میں کروں گا اگر تم مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہے روحانی خزائن کے نام سے آپ کے خلفاء کے خطابات غلط بات ہے ان میں سے بہت سارے چھپے ہوئے ہیں انگریزی میں ہے ان کو پڑھیں تو اس سے ان شاء اللہ ان کے ذہن میں وہ ان کو وہ آسانی پیدا ہوگی کہ کس طرح اللہ تعالی کی صفات کا تو جو ہے وہ اپنے رنگ میں اختیار کر لینا آپ نے ذکر کیا اصل طوطے صالحین کا یہ مضمون ہے نہ اور وہ صحبت صالحین کی نظر آئے ہیں مطالعہ قرآن متعلق احادیث اور مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیوں کہ آپ کے اوپر اللہ تعالی کے فرشتوں کا نزول ہوا تھا اور آج کل ہمارے لئے رہنمائی کے لیے سیدنا ابو امامہ نہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبات جمعہ یا دیگر جو بھی آپ رہنمائی فرماتے ہیں وہی ہمارے لیے لائحہ عمل ہے اور یہی ہماری روحانی ترقی کا باعث بنتا ہے اور ہم اس کے گواہ ہیں اس پر ندیم انجم صاحب ہیں سیالکوٹ سے وہ پروگرام کی پسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس بات کا ذکر کریں کہ ان کی فیملی ممبرز ہیں اس پروگرام کو بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں ہمارے غیر مبین بھائی ہیں جنہوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے اپنا نام بتائے بغیر کہ وہ جماعت احمدیہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ رہنمائی جاتے ہیں میں نے اپنے بھائی کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا کہ اسے بار بار ذکر کیا ہے ہماری ویب سائٹ ہے اسلام دفع پاس لے جائیں ہمارا جو کانٹیکٹ نمبر ہے اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنے وقت کے امام کی بات کیا تھی وہ زندہ ہے یا فوت شدہ چھوٹے سے کیا فرق پڑتا ہے کرنی ہے اور ہمارے امام ہیں سیدنا ابوامامہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام جو بانی جماعت احمدیہ ہیں ان کے پانچویں خلیفہ ہیں تو وہ آپ کو مل جائیں گے وہاں رابطہ کریں کے آپ اپنی بیوی کا خط لکھ سکتے ہیں وہ بھی موجود ہے اور پھر جہاں کیا موجود ہے کیونکہ آپ نے کوئی ڈیٹیل تو وہاں پہ دنیا کے ہر ملک میں ہر جگہ پر اللہ تعالی کے فضل وکرم کے ساتھ جماع موجود ہیں آپ لوگ وہاں جاکے بھی رابطہ کر سکتے ہیں مجھے امید ہے کہ میرا یہ جتنا بھی ہے جواب ہے اس سے آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا اگلا سوال لے کر محترم عبدالستار خان صاحب کی طرف چلتا ہوں اب دوسری خان صاحب ہماری بہن ہے راشدہ صاحبہ کینیڈا سے سوال پوچھ رہی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ آج کل مولوی اور مرتدین وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی جو تعداد ہے وہ اتنی زیادہ نہیں ہے اس حوالے سے وہ مزید رہنمائی چاہتی ہیں تو آپ پلیز ان کی حیض اللہ پاک ہے اگر ساری دنیا میں ہم تمہاری ہیں اتنا خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے شہزادہ قانون سازی اتنے زیادہ ہمارے خلاف جلسے اتنے زیادہ ہمارے خلاف پابندیاں لگانے کی کیا ضرورت ہے فضل ہے کہ ہم دنیا میں اور ہر سال ہمارے امام خامی سے جڑاوالا دراصل جلسہ سالانہ پر لعنت کرتے ہیں ممالک میں جمع کرلیں اور ٹانگیں hai 200 کے نام جماعت کی کتابوں میں جماعت کے رجسٹر ہماری کتابوں میں چھپے ہوئے آپ سارے نام تو نہیں لے سکتا اللہ تعالی کے فضل سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں نئے لوگ جمعہ میں شامل ہورہے ہیں کہ سال بھی حضور نے فرمایا جلسہ سالانہ پیدا تو نہیں ہوا تو میں اس کی وجہ سے لیکن مجھے اس کی یاد میں تقریب منعقد کی جائے گی وفا کی مثال بھی تو سوا لاکھ نہیں لوگ بیٹھ کر کے جمع کامیابی حاصل ہوئی ہے اور وہ ساری باتیں بتاتے ہیں کہ اس طرح کی مشکلات سے گزر کر اپنے شامل ہوتے ہیں کر لیا کے جلسوں میں جاپان تازہ کریں کہ مولوی کتنا جھوٹ بولتے ہیں نادرا کے دفتر کے جلسے میں جماعت میں شامل ہونے والوں کی تعداد بھی اس میں جرمن اور اوکے اسلامی جماعت کی تعداد 40 زیادہ ہوتی ہے دونوں ملکوں میں یہ منی کہاں سے آجاتے ہیں اور یہ سارے تو نہیں آتے ستار عادل گانا اللہ تعالی کے ممالک کی تعداد کتنی ہے ہوگی ماں کے دل سے جو بہت بڑے مراکز پر حملہ میں دعا کرتا ہوں نہ مجھ کو لوٹا دو وہ اپنے اساتذہ کی تعداد میں ہیں تھانہ میں موجود ہو میں سالہا سال کا زمانہ نہ کوئی پانچ ہزار افراد شریک تھے جب میں ہم پاکستانی مبین ملک شادی سونگ باقی سارے کے سارے مقامی لوگ بھی نہ آمین سے انگریزی بولنا ہے اپنی مقامی زبان میں بول رہے تھے تقریر پشتو مقدمہ ساتھ ساتھ ہو رہا ہوں اب میں کیا کروں میں انتظار ہے میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ ارسال کرتا ہوں اور جب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اس میں فلائٹ ہے 2008 میں حضرت لاکھ لوگ جماعت نام دیا تھا موجودہ آبادی انگلش سمجھتے ہیں وہ کلمہ پڑھتے ہیں ہونہار محبت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں مگر آپ ہمارے بھائی بھی ہوتے ہیں بھائی بھی ہوتے ہیں اپنی زبان میں ترانہ پڑھتے ہیں مسلمان کا کلام پڑھتے ہیں السلام پر درود بھیجتے ہیں یہاں جامعہ ملیہ انٹرنیشنل اس کا تعارف کرا دیتا ہوں اس میں پڑھانے پہ اور یہاں 25 ملکوں کے 208 لڑکے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اب بھی نئے سال کے داخلے ہوئے اس کے علاوہ اور جو دو فوٹو لڑکے ہیں یہ سارے کے سارے طریقے ہیں اور مختلف لوگوں سے آکر یہ ملک اسلام سے کرتے ہیں آپ ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہم پر سایہ کر اسلام ادھار کیا ملک بھر سے لاکھوں کروڑوں میں تو جا چکی ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے مولوی منظور احمد صاحب نے تمام بیان دیا تھا چاند پر بھی چلا جائے تو ہم اس کا تعاقب کریں گے نام رکھنے والا جانور اور پرندے ہمارا پیچھا ہوگا کیونکہ موت کا تعاقب کرنا میں نکلا تھا السلام علیکم سر انشاءاللہ ٹائم پر میں خدا کی توحید کے لال جائیں گے نعت مصطفی صل اللہ علیہ وسلم بہت بہت شکریہ عبدالسمیع خان جس راستے میں خان صاحب نے بہت دلچسپ انداز میں کچھ قواعد پیش کرکے آپ کے سامنے اس بات کا اظہار کیا یہ پروگرام اور ایم پی اے کی جو نشریات ہیں یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکی ہیں بلکہ مختلف زبانیں بولنے والے اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ سے وابستہ ہیں نصیر صاحب بہت کم وقت رہ گیا دیکھنا چاہتا ہوں ہمارے بھائی آجا عبدالقیوم صاحب ہیں ان کے سوال کا جواب دے دیں وہ کہتے ہیں کسی زمانے میں حیات و وفات مسیح مناظرہ ہوتے تھے لیکن اب یہی ہے کہ تو ان کے پاس دلیل موجود نہیں ہے اور ابو مایوس ہو گئے ہیں اگر موسی نے آنا تھا تو آ جانا چاہیے تھا اگر کوئی زندہ ہوتا تو تم سے رابطہ عالم ہے تو ان کو تھا کہ اب دعائیں مانگیں کو بھیج دیا تھا کہ فیصلہ ہو جائے اور آپ جتنے مرضی خادم حسین آیا تھا کہ دو سال نہیں گزرے کہ لوگ مایوس ہو جائیں گے ابھی تو دوسری صدی شروع ہوئی ہے جماعت احمدیہ کی اور لوگ مایوس ہو چکے ہیں لوگ کہتے ہیں ان میں اندر ہی اندر یہ باتیں چل پڑی ہیں کہ کوئی نہیں آنا مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے قرآن و حدیث سے اور دیگر شواہد سے تاریخی شواہد سے طبی شواہد تھے کسی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح بن مریم جو ناصر میں پیدا ہوئے تھے وہ بھی زندگی گزار کر سیاسی شخصیت ہو چکے ہیں اور جب ان کے آنے کی بات کی جاتی ہے تو اس سے مراد ان کا احساس ان کا آنا نہیں بلکہ ان کے نام پر اس کے خوابوں پر امت محمدیہ میں ایک آنے والے موعود مسیح کا ذکر ہے جو اسی طرح محبت کا پیغام لے کے دنیا میں آئے گا کو اسلام کی طرف بلائے گا اس لئے آپ لوگ وہاں میں دیکھ رہے ہو اس کو مایوس ہو کر اور اس لیے بات برداشت کرنا بہت بہت شکریہ نصیر قمر صاحب جس طرح آپ نے ذکر کیا دراصل یہ وہی باتیں ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہم آج پورے ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ لوگ مایوس ہو رہے ہیں اصل حقائق وہی ہیں جو حضرت بانی جماعت احمدیہ نے بیان فرمائے اسی کے مثل آپ کا بہت بہت شکریہ عبدالسمیع خان صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ بہت شکریہ ناظم الدین صاحب آپ کا سوال بھی نہیں پوچھ سکے عارف زمان صاحب عبدالرشید صاحب اور بھی نام ہیں آپ کا پروگرام میں سوال کریں پروگرام میں آپ کا سوال ضرور شامل کریں گے اگلے ہفتے لندن سٹوڈیو سے انشاءاللہ پھر حاضر ہوں گے اس وقت تک کے لئے اجازت دیجئے السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہتے ہیں مسلما نو قدیم ہم تو رکھتے ہیں قدیم دل سے ہے خدا میں ختم بخاری سلیم

 30 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: