Showing Patience and Gratitude Towards God at a Time of Difficulty (Urdu)




Showing Patience and Gratitude Towards God at a Time of Difficulty (Urdu)

مشکل کے وقت صبر اور دعا کرنا

Uploaded on Mar 8, 2009

کیا کیا سوال میرے بھی ہےبیٹا کہتا ہےمیرا بیٹا کہتا ہے کہ جب بھی آپ حادثے کی بات کرتی ہیں یہ کہتی ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل کیا ہوا کہ جان نہیں گئی صدقہ دیں اور نفل پڑھیں اچھے والے صحت مند ہسپتالوں میں پہنچ گئے کار تباہ ہوگئی اس میں شکر کہاں سے آگیا شکر اور صبر کی فلاسفی کیا ہے ایک تو میں چاہتا ہوں کہ ایسی نصیحت ہے جو غم کے وقت کی جاتی ہے لازمی کرنی چاہیے وہ فائدہ لوگوں کو علم نہیں کہ انہیں زیادہ قریب آئیں خیالات آتے ہیں پس منظر ہے وہ بچپن ہی سے بچوں کے دل میں کھول کر داخل کرنا چاہیے اس کے ساتھ چلیں گے اگر بچپن ہی سے آنے لگے جس سے زیادہ خوش قسمت ہو اور ہم ہیں جو انسانوں کو بدل جاتا ہے اور یہی وہ مضمون ہے جس کی کمزوری کے لیے اپنی کمزوریوں کی نظروں کے لئے اوپر دیکھا کرو کہ مجھ سے بہتر فلاں فلاں کرتا ہے تو اس سے کم کریں گے گے اس کے بعد دوسری باتیں اور بھی ہیں شکر کیا کہ ان کی جان تو بچ گئی یہ اس طرح کہنا چاہیے تھا کہ یہ حادثہ تو ایسا تھا کہ انسانی کمزوری کے نتیجے میں کیا گیا ہے اس کو رونے لگ جائیں تو واپس نہیں آ سکتا کتا اور جو بچ گیا ہے اس کو شیئر نہ کریں تو اللہ کی رضا بھی ہاتھ سے گئی گی اس لیے یہ مراد نہیں ہے کہ حادثہ بحیثیت مجموعی کے قابل شکر بات ہے ہے بلکہ یہ پہلو قابل شکر ہے کہ اللہ تعالی نے اس نقصان پر رونے سے بچا لیا ہے جو سب کو ہوتا ہے مرا والے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس وقت ان کا صدمہ کو کم ہوجاتا ہے لیتے ہیں تو یہ جمعہ کو ملتا ہے کہ ہم بھی تو غائب کر لوٹنے والے ہیں جائے گی جو کچھ آتا تھی وہ اللہ ہی کو سب کچھ سمجھ نہیں آتا ہے گھر سے نکل آئے اور یہ وہ مضمون ہے جس کو غالب پر رضامند ہوا ہے اس کو بہت اچھا لگا کرتا تھا جاندی اب تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا جان بھی جاتی ہے تو پھر بھی شکر کا معاملہ تھا اللہ تعالی نے اس حالت میں اٹھا لیا یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ ایک طرف کسی بیماری کے دکھ میں جان دیتے تھے کتے ایسے بد انجام کو پہنچے جانتے تھے جو دنیا کے لئے اور اپنے بھی ہے آئندہ کے لئے خوف کا مقام رکھتا ہے ایسی بیماریوں میں پڑھتے ہیں جو شکل اختیار کر جاتے ہیں ہیں لکھنے والوں کو بھی تبدیل ہو جاتی ہیںاور ہاں اور اللہ کی رضا حاصل ہو کر آئندہ کے لئے زیادہ بہتر زندگی کی ضمانت ملتی ہے جب بچہ فوت ہوا میں دوجا ہوئے تو الحمد للہ کہنا تو خیال ہے وہ تھی فرصت کے مالک تھے اور بہت تقریر میں وہ مقام تھا تھا اس لئے کہ میں خدا کا شکر ادا کرو پہلے اپنے نفس کا محاسبہ شروع کر دیا کہ میں جو مجھ سے الحمد ہوگا کیا میرا دل اس کی گواہی دے گا تھی اسے منہ کی باتیں ہیں ہیں اسے سن کر کچھ دیر کے لئے سکتے میں آگیا ہے اور پھر جب نسبت اور کیا تو پتہ چلا کہ اس کے باوجود بےانتہا شکر کے مقام آتا ہے زور سے الحمدللہ ٹوٹی ہے  یہ تو مختلف زاویے ہیں اس بت کعبہ کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں ان سے انسان کے جذبات میں فرق پڑتا ہے کبھی تم کو زیادہ آ جاتا ہے کہ مرنے لگتے ہیں اس لیے آپ بچے کو ذہین بچہ ہیں ماشاء اللہ اس کو پیار کے ساتھ سمجھا کریں اور وسیع تر دنیا کا نقشہ سمجھا کر اس کے متعلق بات ہو جائے گی انشاء اللہ میری ایک نئی کتاب جو صبح ہونے والی ہے آخری مراحل پر ہے وہ اس کا ذکر ہے کہ مظفر ہر حال میں نے اس پر کچھ روشنی ڈالی ہے اور اس وقت نظر سے جودہیا خاص طور پر تنقید کرنے والا ہے ہے اس کو یا اس کا دل مطمئن کیا جائے اس کی زبان بند کیا جائے اور میں امید رکھتا ہوں

 180 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: