Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh




Rah-e-Huda – Sadaqate Maseehe Maood pbuh

راہ ھدیٰ ۔ صداقت مسیح و مہدی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام

Rah-e-Huda | 10th April 2021

سے نہ بھا گو را ہے خدا یہی ہے کہ سوچنے بالوں جان گا ہم یہی ہے ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ یہ پروگرام رہا ہوتا ہے جو آج 10 اپریل ہفتے کے روز ایم پی اے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے براہ راست پیش کیا جا رہا ہے پروگرام راہداں جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں پیش کیا جاتا ہے اور اس میں خاص طور پر ہمارے ناظرین اور ہمارے سامنے اپنے سوالات پیش کر سکتے ہیں آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہے جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں اسلام کے بارے میں تاریخ اسلام کے بارے میں جماعت احمدیہ کی تاریخ کے بارے میں تو اس پروگرام میں ضرور پیش کریں کریں سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ایک ہمارا لینڈ لائن نمبر جو اگلے تقریبا ایک گھنٹے تک آپ کو اسکرین پر نظر آتا رہے گا اس کو نوٹ کر لیں اس کے ذریعے براہ راست ہم سے بات کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ اپنا وائس میسج کے ذریعے یا ٹیکسٹ میسج کے ذریعے سوال بھیجنا چاہیں تو اس کے لیے ہمارا واٹس ایپ نمبر زرور نوٹ کر لیں بلی کی جست رہ کے میں نے عرض کیا کہ یہ پروگرام جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں ہے اور بنیادی دعوی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام بانی جماعت احمدیہ کا یہ ہے کہ وہی امام مہدی اور مسیح موعود اور نبی اللہ ہیں جن کے بارے میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی اب دو ہی ممکنہ باتیں ہو سکتی ہیں ایک بات تو یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے دعوے میں سچے ہیں اور دوسرا یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہو سکتا ہے سچے نہ ہو لیکن اس بات کا فیصلہ کون کرے گا اس میں کوئی شک و شبہ نہیں تاریخ عالم اور تاریخ انسانیت اور خاص طور پرتاریخی انبیاء اس بات کی گواہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو بھی دعویدار آتا ہے اللہ ہمیشہ اس کی مدد فرماتا ہے اس کی نصرت فرماتا ہے ہے دیکھنے کی ضرورت ہے احمدیہ احمدیت اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ صلاۃ و سلام کی اللہ تعالی نے تائید و نصرت فرمائی یا نہیں فرمائی دوسرے فرمائی ہے تو پھر یہ لازم ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے اسی بارے میں آج کے پروگرام میں گفتگو کریں گے یہ اینڈ اسٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ گفتگو کرنے کے لیے موجود ہیں وہ کر منظور احمد شاہ صاحب جب کہ سکائپ کے ذریعے گانا سے ہمارے ساتھ ہوں گے مکرم عبدالسمیع خان صاحب آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں رہا تھا اصل بات یہ ہے کہ کوئی سچا ہے یا کوئی جھوٹا ہے یہ ہمیں اس طرح پتہ لگے گا کہ اللہ تعالی کی تائیدات اللہ تعالی کی نصرت اس کے ساتھ ہے یا نہیں ہے میں پہلا سوال جو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو لوگ کچھ پڑھتے ہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ان کو تو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ سورج اور چاند گرہن کا نشان صداقت امام مہدی کی دلیل کے طور پر جانا جاتا ہے تو میں آپ کے سامنے یہ سوال پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ آج ہمارے ناظرین کو بتائیں کہ یہ سورج اور چاند گرہن کا نشان کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے کہ اس کا ذکر ہے اور یہ کس طرح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کے حق میں پورا ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طاقت کے بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم الشان پیش ہوئی ہے اور اس لئے بڑی اہم پیشرفت ہوئی ہے کہ چاند اور سورج گرہن کا تعلق ایسا ہے کہ انسان کا اس کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایامسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے ایک ہزار سال پہلے یہ حدیث کی کتاب میں لکھی گئی اور حضرت امام محمد باقر جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں ان کی زبان سے نکلی ہوئی ہے اللہ نے کسی آدمی کے لیے دو نشان ہے اور زمین و آسمان پر ادا کیا جائے کبھی کسی معمول کے لیے لاہور میں نہیں آئے ان کو ماہ رمضان میں پہلی تاریخ کو اور سورج کو کرنے والے دن میں گرمی لگ جا اور جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا پیدا کیا یہ دو ہزار سال قبل مسیح سے معمور اس نے مصلح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے تقریباً ایک ہزار سال قبل کتابوں میں لکھے گی آپ کے علماء اسلام نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ویسے ہی یہ ساری تفصیل تو موجود نہیں ہیں لیکن چاند اور سورج گرہن کے متعلق اشارات موجود ہیں قرآن شریف کو 2020 میں چاند اور سورج گرہن کے متعلق اشارات موجود ہیں ہیں ہم نے اپنی کتابوں میں درج کیا اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت سے کلاس کا انتظار تھا حضرت امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس وقت آپ سے نکال باہر جاتے تھے یا واپس آتے ہیں انشاللہ کھایا اور مسلمان اسلام کے وقت میں جب انسان باہر ہوگیا پھر الامان انہوں نے ایک ہزار سال قبل بھی نہیں اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا جھوٹا ہے اس کا کوئی اور ہے اس کی سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں سمجھتے ہو فراز کرنا شروع کر دیا ہے محبت کر رہا ہوں جنہوں نے اس کو قبول کیا اور لوگوں کے معنوں میں اضافہ ہوا اور بہت سے لوگوں نے اس کی وجہ سے مسیح موعود کو قبول کرلے لیکن اکثر لوگ بےعلم اسے ٹھیک ہیں اور آدمی ہیں آپ نے اس پر اعتراض اٹھانے شروع ہی اس مسلمان اسلام کی نصرت کے وقت یا اس میں شام کے بازاروں تک وین سب سے پہلے ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس میں بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں پہنچتے یہ روایت کا کام کروائے تھے اور یہ لوٹے چلے جاتا ہے کہ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں اس قدر کی اموات پر معمولی سا بھی آپ کے سامنے رکھنا شروع کر بہت ٹائم لگ جائے میں صرف چند کتابوں کے نام آپ کو بتا دیتا ہوں خدا خود میں سے کن کن لوگوں نے کی مگر انہوں نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے امام جعفر صادق در سے ملا ہے الحمدللہ اللہ تعالی کا کلام فارسی جملہ شاعری کی کتاب ہے الفقہ والحدیث اپنے حلقے کی کتاب ہے اس کے خلاف یہ شمس المعارف کتاب ہے نواب صدیق حسن خان کی کتابیں اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے ہیں اور اس کے ساتھ ہو حسرت دل کی ارمان جن کی نسبت سے نکالا ہوا اس کے بعد بہت سی کتابیں ایسی ہیں جن میں یہ تو نہیں لیکن سورج اور چاند گرہن کا ذکر موجود ہے دین محمد بن علیحروف ابجد کی جو مقدار ہے جس سے عوام الناس کے چند لمحات میں جمع کریں تو میرا یار ہے اور اس سال کا سورج اور چاند گرہن اور خود اپنے آپ کو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اسلامی لٹریچر میں نہیں بلکہ بعض مسلمانوں سے اپیل ہے کہ اس وقت اپنے راستے ہی میں پاک فوج کے لیے میں ہے کہ سورج کے قریب ہو جائے اور اپنے راستے نہیں کیا جا سکا اس کے دل میں ہے کہ سورج تاریخ حجاب چاند نظر آ رہا ہے گرمی ہے کہ سورج اور ستاروں میں نشان دار ہوں گے اصولوں کے اعمال میں ہے سورج قاری عبدالغفور بنگلہ نقش کاروبار اور تفصیل سے بتاتے ہوئے کالا اور سارے چاند خون کی طرح ھوجائے اب اگلا لفظ ہے اس بات کی ہے کہ ہندو مذہب کی کتابیں اے فیصوان میں آسانی ہو گئے تو چاند اور سورج کو اوپن کر کھا لیتا ہوں دراصل خالد آل موبائل پرائز ہے تو نہیں جانتا تھا کہ چاند اور سورج کو راہ پکڑ کر کھا لے جا اور اس کا قومی سالن کر میں یعنی اٹھارہ سو چوالیس میں بات ہے آپ ٹھیک ہے کے اس سال بعد اٹھارہ سو چورانوے میں یہ نشان بنا ہوا ہے اور آخری بات کرنا چاہتا ہوں کہ بندہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے اتنا صحت مند کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب ہے وہ شخص کو کے نزدیک نہایت مقدس اور کتنے ہیں کہ مہاراجہ کرشن ڈاکٹر شریف لائن ہے جب سورج اور چاند اس کے ساتھ ہوں گے اور اس کی صداقت پر جمع لکھیں اور صحابہ کی اپریل کو چاہیے کہ قرآن و حدیث قراءۃ انجیل ہندو مت بدھ مت سب کے سب جواب دے رہے ہیں کہ چاند اور سورج گرہن ہوگا یہ چاند اور سورج میں مختلف شاندار آگے نماز نقشہ کنال tak 111 میں 1993 سے میں انسان بارہویں کا چاند گرہن کی راتوں میں سے تیرہ تاریخ کو اور سورج گرہن کی راتوں میں سے درمیانی بریکٹ ایس کروں گا اور اور بے شمار لوگوں میں سے دبائے اس لیے پیش گوئی میں یہ عرض کرتا ہوں کہ بہت زیادہ ہے مسلماں میں اسی مشہور ہیں اور نہایت مشہور اور مسلمہ کی کلید ہے وہ واحد جماعت کے لحاظ سے روپیہ نکلواتے مسلم المصدر صحیح مسلم حدیث ہے روایت کے سارے جھوٹے نے جھوٹ نہیں بولتا اسے سچ بات کے نکل جاتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے امت مسلمہ کو سن کر دیں اول وقت میں نے مانگی ہے نماز آیات کے مطابق بنیادی اس کے ذہنوں میںاس بات کو سمجھنا چاہتے ہیں ان کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نہ صرف یہ کہ سورج چاند گرہن کا نشان ہوں نہ صرف یہ کہ اس زمانے میں جو کرانے کے لیے میں بھی ایک ذکر آتا ہے ظہر الفساد فی البر والبحر والی کیفیت کا بیان ہو بلکہ ہر قسم کی پیشگوئیاں جو زمانے کے بارے میں مسیحی ہم اور امام مہدی کے بارے میں تھی وہ بڑی آب و تاب کے ساتھ پوری ہوگئی ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جس نے دعوی کیا جائے کیا ہے اس کو مانا جائے بس اک بات ہے ہم تو یہی حسن نظر رکھتے ہیں کہ لوگ بڑی نیک نیتی کے ساتھ اصلاح کے لئے اور حقیقت جاننے کے لیے سوال کرتے ہیں کیونکہ بہت سے ایسے تصورات مسیح موعود امام مہدی کے آنے کے ساتھ امت مسلمہ میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے لوگوں کے ذہن میں مانا خیال پیدا ہوتا ہے ٹھیک ہے آپ کے دعوے کے مطابق ہمارے دعوے کے مطابق حضرت مرزا غلام غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام مسیح موعود اور امام مہدی ہیں تو اب تک غلبہ اسلام کیوں نہیں ہوا اور جب کہ ہم کہیں بھی رہیں گے ایک سو بتیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جزاک اللہ اسم اللہ الرحمن الرحیم آپ جیسا کہ آپ نے شروع میں بات کی اصل یہ بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تمام امت مسلمہ کو ایک طریقہ بتایا کہ اگر تم نے میری صداقت کو پرکھنا ہے تو اسی طریق اور اسی معیار کے مطابق پر رکھو جو کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا جو دیگر انبیاء کو پرکھنے کا معیار ہے مثلا اگر ہم کسی سے پوچھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کس بنیاد پر آپ نبی مانتے ہیں یا گزشتہ انبیاء جو گزر چکے ہیں علیہ الصلاۃ والسلام کو کس بنیاد پر نبی مانتے تو میرے یار بیان فرمایا کہ دیکھو جس بنیاد پہ تم باقی آپ کی صداقت کو پرکھتے ہو میری صداقت کو بھی اسی معیار پر رکھو تو آج ہم جب اس کام کے لیے قرآن کریم میں اس کے لیے سب سے پسندیدہ ہمارے پاس کرانے کے لئے میں تو پرانے کفن کو دیکھتے ہیں تو اس میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا وہ وعدہ ہی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اللہ تعالی نے یہ واضح کیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے یہ ایک طرف ہے اب جب ہم تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ اکثر انبیاء کا انکار ہوا ہے حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کی مثال دیکھ لیں کی مثال دیکھ لیں اکثر انبیاء کا انتقال ہوا ان کو اپنی جگہ چھوڑنی پڑی ہجرت کرنی پڑی اس علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھ لیں اسی لئے اللہ تعالی اسی لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ خلیفہ کی فلم تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ایک اور جگہ فرماتا ہے بل اکثرہم لا یؤمنون کے اکثر لوگ ایمان نہیں لایا کرتے تو قرآن کریم نے ہمارے سامنے بہت کھول کے بتا دیا کہ جب اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے تو اس کا مطلب علمی اور روحانی غلبہ ہوا کرتا ہے اگر کوئی تعداد ان کے ساتھ نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غالب نہیں ہے یا اللہ تعالی انکی نفرت نہیں کرتا یا وہ سچے نبی نہیں ہے اب آپ دیکھیں کہ ایک حدیث قیامت کے دن میں دیکھوں گا ابھی ہے اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہے حکومت میں صرف ایک آدمی مان لیا پھر ایک شخص ایک نبی آتا ہے صرف دو آدمی ایک نبی میں دیکھتا ہوں اس کی امت میں کثیرافراد ہے لیکن ایک نبی ایسا بھی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شخص بھی نہیں ہے ہے تو کیا جس کے ساتھ کوئی شخص نہیں وہ نبی نہیں ہے خدا کی نظر میں ہونا چاہیے تو اس لیے قرآن کریم کے اسلوب کے مطابق ہم نے پر رکھنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سب سے بڑی ہمارے سامنے آتا ہے محمد مصطفی صلی اللہ وسلم اعلان کر دے کہ کل انی رسول اللہ الیکم جمیعا کے میں سب کی طرف رسول تو اندر اسلام پوری دنیا کے لئے رسول تھے آج چودہ سو سال سے اوپر عرصہ ہو چکا ہوں سلم کی نبوت کو اگر یہی معیار لیا جائے جیسا کہ ہمارے بغیر ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کے لئے یہ معیار ہے کہ فورا اس کا غلبہ ہو جائے اگر یہ مان لیا جائے اور آدھی غلبہ ہو جائے تو آگ لگا دی گل بات تو آج بھی اس طرح نہیں ہوسکا مسلمان آج بھی باقی ہیں جو باقی لوگوں کی نسبت کم ہے اس لیے میں آپ سے گزارش کروں گا کہ جب بھی کسی نبی علیہ السلام کی صداقت کو پرکھناآغا بہجت اور برہان کی رو سے ہوگا لیکن آپ نے قربانی فرمائی کہ آج سے ایک وقت آئے گا کہ صرف دنیا میں یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا تو جہاں تک پہلے کا تعلق ہے روحانی غلبے کا اور علمی گلے کا وہ اللہ تعالی کے فضل سے ہو چکا اگلا جوادی غلبہ وہ بھی اللہ تعالی اپنے آپ کو ضرور دیتا ہے لیکن اس کے لئے ٹائم لگتا ہے اس کے وقت لگتا ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے آج جماعت احمدیہ 120 ایک سو تیس سال کے بعد اس اسٹیج پر پہنچ چکی ہے اللہ تعالی کے فضل سے اس کی طرف سے جاری ہے اس کی طرف سفر کہ ہم اللہ تعالی کے فضل سے غلبہ حاصل کریں گے اور جسمانی غلبہ بھی لیں گے اور اسی لئے یہی علامت مختصر سی بات کروں گا میں زیادہ لمبی بات نہیں کروں گا ہرقل قیصر روم کے نے جب ابو سفیان ابوسفیان جب ان کے پاس گئے تو ہر قل نے پوچھا کہ وہ نبی ہے ہے یہ بتائیں کہ اس وہ نبی کی تعداد کم ہو رہی ہے بڑی تعداد کم ہو رہی ہے دیکھیں وہ کیسے روم تھا اور ایک کافر تال بھی کافر کہتے ہیں تھا اس سے بڑا ایک تجزیہ کیا ان کا تجزیہ کیا اس نے کہا کہ صالح ایسے ہی ہوتا ہے اور مومنوں کی جو تعداد ہے وہ اسی طرح سچے نبی کے احساس سے بڑا کرتی ہے اور یہی نشانی کیوں بیان کی ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے جماعت احمدیہ کی تائیدات اور نصرت اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہیں جو اللہ تعالی کے فضل سے تعداد بھی بڑھ رہی ہے یہ بات واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ درخواست گنگ ٹائمز اسلام آباد میں مسلم کمیونٹی پر یہ بھی بہرحال اس کی صداقت کی دلیل ہے میرے سامنے سکرین پر مجھے بہت سارے نام نظر آ رہے ہیں لیکن میں جو لوگ اس پروگرام کو دیکھ رہے ہیں اور ان کے ذہن میں کوئی بھی سوال اور اس سوال پوچھنا چاہتے ہیں ان کو میں بڑے واضح طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ ضرور سوال پوچھیں اور خاص طور پر میرے ایسے سننے والے اور میرے ایسے دیکھنے والے جنہوں نے کبھی اس پروگرام میں سوال نہیں پوچھا آپ ضرور ہمارا واٹس ایپ نمبر نوٹ کریں ہمارا لین نمبر نوٹ کریں ہمیں اپنا وائس میسج کے ذریعے تحریری سوال بھجوانا ہے تو واٹس ایپ نمبر بھجوا دیا گیا ہے جو ہمارے بھائی شیخ ہمایوں کبیر صاحب نے بھیجا ہے انڈیا سے یہ میں موسم عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا اب دوسری خان صاحب کہتے ہیں ہمارے بھائی کی غیر احمدی اعتراض کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام مکہ میں پیدا ہوں گے اور ان میں باقاعدہ حوالہ بھی لکھا ہے کہ سنن ابو داؤد کی انہوں نے حدیث نمبر بھی لکھی ہے 4275 سی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام مکہ میں پیدا نہیں ہوئے تو کیسے وہ مہدی ہوگئے اور وہ مہدی کیسے آگیا کیا اسلام نے ان کے سوالوں کا جواب دیا ہے آپ نے فرمایا گرفتار کیا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی ہے آپ کی خدمت میں آپ کے بعد سے قیامت کی طرف سے ہونے والے ہیں وہ مسیح موعود عج سے متعلق رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے مشرق کی جانب خدا ہوگا اس ادارے سے زیادہ اثاثے ظاہر ہوگیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسری مرتبہ سب کا نمونہ بننے والا تھا اس سورہ میں ذکر ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اس کے لیے سوری اور بھی چلا گیا تو آسمان کو آسمان سے زمین پر واپس لے آئے اس نے فرمایا سلمان فارسی کون سے ہوگا اس بات سےمولانا فضل الرحمن صاحب کا دل السلام علیکم ہوں اور مجھے مسیح موعود کے سارے علامت جس کی تفصیلات سامنے بیان کر رہے ہیں اور آگے بھی بات چلتی ہے اس کو ٹھیک ہیں سب میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اور سوال ہے وہ بھی آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا ہماری بہن راشدہ چودھری صاحب ہم نے کینیڈا سے بھیجا ہے وہ ایک ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ احمدی حضرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ہی نہیں بتاتے ہم نے کوئی مسلمان اسلام کی تاریخ پیدائش کبھی نہیں چھپایا اور میں آج بھی آپ کے توسط سے علم کو بتا دیتا ہوں کہ آپ کی پیدائش جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہ مسلمان اسلام کے زمانے میں کوئی تاریخ پیدائش رکھنے کا رواج نہیں تھا میرے کارڈ میں ہوتا تھا اپنے بستر پر اور اس کا کوئی حساب نہیں تھا اس لئے مصلح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت میں اندازہ لگائے ہیں لیکن آپ کے نخرے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف حوالوں سے قلندروں کو سامنے رکھ کر تاریخ پیدائش ہمارے سامنے آتی ہے وہ 13 فروری 1835 ہم اس میں کوئی شک نہیں ایک تاریخ ہے جو سوال کرتے ہیں کہ موجودہ زمانے کو لے کر وہ ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوتے ہیں آج کل کو ڈیجیٹل دور ہے برصغیر ملتے ہیں لیکن ایسی چیزیں تو پہلے زمانے میں نہیں تھی اور آپ نے اس کی بڑی وضاحت کر دی ہے منصور ہمارے بھائی ہیں عزیز احمد طاہرصاحب وہ یہ سوال پوچھ رہے ہیں یہ برطانیہ سوال پوچھ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جماعت کے مخالفین کو کوئی اعتراض ہے جماعت کے مخالفین بھی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے خاص طور پر اپنے ساتھ مباہلہ کرنے والوں کے لئے یہ سیاسی مخالفین کے لئے بہت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں موت اور تباہی کی بہت خبریں دیتے تھے کہتے تھے کہ تو اعتراض یہ ہے کہ اللہ کے نبی تو کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تو مرزا صاحب اپنی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے ایسا کیوں کرنا پڑا ہوں میں ایک چھوٹی سی گزارش کی تھی اور میں بھی وہی بات کو دوبارہ ہوگا کہ حضرت مسیح وسلم نے فرمایا ہے کہ جب آپ نے مجھے پرکھنا ہے میری سچائی کو تو اللہ منہاج نبوت پر کے یہ دیکھیں کہ پہلے نبی کیا کرتے رہے پہلے نبی کیا جو بھی آپ اگر کوئی میرے اوپر کسی قسم کااللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون یہی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب کفار سے اس رنگ میں کفار نے بہت تکلیف پہنچا ہیں اورآنحضرت صلی وسلم کو صحابہ کو شہید کیا ہے تب و زر قبیلہ تھا جس نے ستر صحابہ کو شہید کیا تو آنحضرت صلی وسلم کے احادیث میں آتا ہے کہ اسلام پورا ایک مہینہ ان کے خلاف بد دعائیں کرتے رہو جو الفاظ ملتے ہیں وہ یہی تھا کہ اس عمر میں گیا خدا ان کو پکڑ کر پھر کفار کے خلاف فرمایا خدا اللہ علیم کی ہے خدا ان کے اوپر اسی طرح کا قحط بھیج جس طرح تو نے یوسف علیہ السلام کی قوم پر جو سات سال کا کہہ دے جاتا ہے اس کے مطابق پھر وہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ وہ کہتا آیا اب کسی تقریب کے مطابق جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھتے ہیں کہ اسی اسلام نے ہرگز جب دوائی نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسے اس رنگ میں بیان کیا ہے کہ گویا کہ جو مخالف میں نے آپ کو خراب ہو جاتے تھے اب تو آپ نے جو اچھے ترین مخالف تھے ان کو بھی معاف کرتے تھے اور اس کی مثالیں سیرت سے دے سکتے ہیں پتہ نہیں ہے اس موقع پر ان کا نمبر اپنے بنیادی بات بیان کر دی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کوئی ایسا خیال آپ سے سرزد نہیں ہوا جو گذشتہ انبیاء کی سنت کے مطابق نہ ہو جس طرح آپ نے مثالیں دیں خدا کو مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بلامبالغہ تھے لیکن جہاں اسلام کے لیے دعا کرنی پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور یہی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنایا ہے اگلا سوال ہمارے بھائی ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا ہے کینیڈا سے اور یہ میں پیش کرنا چاہوں گا عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے عبدالسمیع خان صاحب ہمارے بھائی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی امت میں آئندہ زمانے میں ایک آنے والے امام مہدی کی خبر دی تھی تو اس کو متعدد بار ایس بنابریں اس ابن مریم بھی کہا اس بات ہے اسی لئے آپ نے حضرت عیسی کا نام لیا کیوں کسی اور نبی یعنی حضرت موسی حضرت صفیہ بنت ابراہیم علیہ السلام کا نام نہ لیا یا ان کی مثال بیان نہیں کی کی حال ہے اور بڑے مزاج رکھنے والا سوال ہے اصل بات یہ ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں نصرت صورت میں محمدیہ میں آنے والا تھا اس کے دو بڑے لوگ تھے اس کا کام تھا اور دوسرے مسلک کے زمانے میں بہت غریب ہونا تھا اور یاجوج ماجوج اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصیحت مسیح کا نام بھی ام سلیم کا نام دیا اس میں اشارہ کرنا مقصود تھا کہ جڑی ہوئی اس راستے پر لانے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور جہاد کر محنت کو پڑھایا تھا وہ مسلمان مرد اور عورت پر موجود ہیں اس کے خلاف جو صورت میں موجود ہے اس کے منہ میں خلیفہ بنایا جائے اس میں موسی علیہ السلام کے زمانے میں خلیفہ بنائے موسی آپ نے امت کے پہلے سربراہ تھے اور اس السلام علیکم طبیعت خراب ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا میں حضرت موسی علیہ السلام علیکم سن کر دیا گیا اور آخری زمانے میں جو آنے والا تھا چودھویں صدی میں چونکہ ابھی میسیج آیا تھا اس لیے یہ اس کو مسیح موعود کا نام لیا اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے سولہ قسم کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد جب آنسو لے جا رہا ہے آگے بڑھتا چلا جارہا مشاہدہ کر رہے تھے کہ مسلمان اس وقت نہایت غلط کی حالت میں ہم مسلمانوں کی حکومت ختم ہو چکی ہوگی اور دوسری قوم میں عمران ہوں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلامبلو کام کیا ہے مسلمانوں کی اصلاح کرنا اسلام کو دنیا پر غالب کرنا اور اس آیت کو شکست تسلیم کرنا کرنا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو ساری دنیا میں پہنچانا اس حوالے سے اس کے دو نام لکھے بالکل ٹھیک عبدالسمیع خان صاحب صاحب میں آپ کو یہ عرض کرتا چلوں کہ میں آپ کے سوالات مل رہے ہیں عارف زمان صاحب کی بھی سوالات ہمیں مل چکے ہیں مبشر بٹ صاحب آپ کا سوال بھی ابھی میں اس سوال کے بعد عبدالسمیع خان صاحب کی خدمت میں پیش کروں گا لیکن منصور صاحب آپ کے لیے دو سوالات ہیں جو ہمارے بھائی محمود احمد نے انڈیا سے بھیجے ہیں وہ لگتا نہیں گوگل پر بہت سرچ کی ہے تو اسی لحاظ سے ان کے ساتھ ہیں آپ کے سامنے پیش کر دیں تو وہ کہتے ہیں نمبرایک سوال نمبرایک ہے آپ لوگ کہتے ہیں جماعت یہ کہتی ہے کہ جماعت دنیا کے دو سو دس ممالک میں پھیل چکی ہے بلکہ 212 ہو چکے ہیں جبکہ دنیا میں 193 ملک ہیں یہ 200 والے کہاں سے آگئے اور دوسرا سوال جو میں اس کے ساتھ ہی آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا وہی گوگل 20 ان کا سوال ہے وہ کہتے ہیں کہ جماعت کے کہتی ہے کہ آپ کی آبادی نے جماعت احمدیہ کی آبادی بڑھ رہی ہے موت سے پہلے تو آپ کے شکر گزار ہیں ورنہ ہمارے مخالفین تو یہ بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن حقائق کیا ہیں وہ منصور صاحب ہم جانتے ہیں کہ آپ اپنے سوال بھی کیا پوچھا یہ بالکل درست بات ہے کیا آپ نے جیسے ذکر کیا ہے گوگل پروانوں کے قریب ممالک ملتے ہیں لیکن یہ دراصل اس کا جواب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر غالب آ گیا تھا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو تھا کہ کہیں بہی اور جو ہیں بنوں میں پھرتے ہیں کئی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اس کے ساتھ الحاق نہیں کیا انہوں نے اپنے آپ کو جس رنگ میں نہیں کروایا اس لئے ان کو ووٹ نہیں کیا جاتا لیکن جماعت احمدیہ ہر ایسے ملک کو بھی کاؤنٹ کرتی ہے اس لیے اس لحاظ سے تعداد میں زیادہ 210 211 212 ممالک ہیں ورنہ اگر رجسٹر کیا جائے گی میں کیسے اس نمبر نہیں ہے تو گوگل وہی دکھائے گا کہ یہ نمبر نہیں ہے اس وجہ سے ممالک میں رکاوٹ نہیں کرے گا کیونکہ آجکل ڈیجیٹل دور ہے اب یہ بات کر رہے ہو کہ لوگوں نے بھی سرچ کر لینا ہے آپ ضرور جاکے کریں آپ کو یہ پتہ لگے گا کہ کچھ ممالک انٹری سے اور کچھ تحریر کے نام سے بھی علاقے پائے جاتے ہیں اور اگر ان کو آؤٹ کیا جائے تو یہ تعداد ڈھائی سو کے قریب آتی ہے اور جیسے مزدور کو اپنے بیان کیا جہاں تک دیوانوں کے ممبر کی تعداد ہے وہ بھی وانوں انور بیان کی جاتی ہے دوسرا جو ڈیلیٹ کرو تو وہ مانگتے ہیں اور گہرے دس پندرہ کروڑ گوگل ہمیں نہیں بتا رہا تو وہ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں اصل میں دیکھیں اگرچہ دنیا لفظوں سے بہت ترقی کر چکی ہے ریکارڈ بھی ہر لحاظ سے بہت کمپلیٹ ہوتا ہے لیکن ابھی بھی ہمارے ہیں جن پر کس جہاں پے ہمیں مثلا پچھلے بیس سالوں میں اتنی کثرت کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہمارے پاس نہیں ہیں کہ وہ ان سب کو پرواز کر سکے لیکن آج بھی فائدہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سب سے خلیفہ بنے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جو ہمارے پرانے رابطے ہیں ان کو زندہ کیا جائے اور اس کے لیے ہندوستان میں انڈیا میں بھی اک روز کیا جا رہا ہے اور افریقہ میں بھی اپروچ کیا جا رہا ہے اور احمد موبائل فون بتاتے ہیں کہ جب ہم گئے ہیں ان سے ہم نے پوچھا تو ان کا کے حمایتی تو باقاعدہ دیکھتے ہیں لیکن چونکہ آپآپ کی سب سے بڑی مسجد کس کی ہے اللہ تعالی کے فضل سے جماعت احمدیہ مسجد ہے پھر امریکہ کی جو کمپیوٹر حیض میں حسن نے خطاب فرمایا جو برطانیہ کی پارلیمنٹ ہاؤس میں خطاب فرمایا ہر ایک جگہ پر جماعت احمدیہ سب ہراول دستے میں شامل ہے کہ جہاں پہ اختیار کرنا ہو گا اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تھوڑی تھوڑی ہونے کے باوجود تمام امت مسلمہ کی نسبت اس کا اثر زیادہ ہے اور اس کی وجہ منصبیہ ہم بار بار اپنے سامعین کے سامنے بیان کرتے ہیں تعداد ہماری جتنی بھی ہو ڈیئر کوڈ تو آپ مان گئے ہیں حقیقت کیا ہے یہ تو زمانہ ہی بتائے گا وقت ہی بتائے گا کے ہاتھوں پر جماعت احمدیہ کا ایک رسی میں پرو یا ہونا اور ایک چین میں سے وابستہ ہونا اور ایک امام کے پیچھے چلتے ہوئے خدمت انسانیت اور تبلیغ اسلام کا کام کرنا ہے وہ نمایاں کردار ہے جو اس وقت جماعت احمدیہ کی پوری دنیا میں پہچان ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو خلافت امویہ کے سائے تلے اللہ تعالی کے فضل و کرم کے ساتھ دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اگلا سوال جو ہمارے بھائی ہیں وہ بشر بٹ صاحب کا آئلینڈ ہے وہ موسم عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا اب دوسری خان صاحب مبشر بٹ صاحب آئرلینڈ سے پوچھتے ہیں اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس حوالے سے جماعت احمدیہ کا موقف کیا ہے ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کا اپنے مذہب خدا لعنت کرے ہر شخص کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ پڑھتا ہے اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ہم اس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور جماعت احمدیہ کی نظر میں ہمیشہ ان کو غیر اہم بھی مسلمان کہا جاتا ہے اور اللہ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنا بار بار اپنے مسلمان بھائیوں کا ذکر کرکے اس طرح الفاظ عطا فرمائے اللہ ان کے اپنے دلوں کے مطابق جو شخص مسیح موعود کا انکار کرے گا ماں دی شان قاری محمد کا سایہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے اور اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ جو کسی کو کافر کہے اور وہ کام کرنا ہو تو یہ کفر ہے ہم نے کافر نہیں کہتے لیکن کہا جاتا ہے چوہان نے کافر نہیں کرتے ہمارے کہنے کا مطلب ہے اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ خدا کی نظر میں وہ سب سے مسلمان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تلاوت کرتا ہوں ہم میں سے نہیں ہے مسلمان کلچر کے لحاظ سے معاشرتی لحاظ سے عقیدہ کے لحاظ سے سیاسی لحاظ سے لیکن خدا کی نظر میں تو مسلمان ہے کون ہے یہ فیصلہ بتا دیتا ہے اور اسی طرح زور دیتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں ہم اپنے اسلام کا اقرار کرتے ہیں تم بھی اسی طرح مسلمان سمجھو تمہیں مسلمان سمجھتا ہے کیونکہ تم اپنی بیوی کو طلاق کا حق بنتا ہے ہمارے کے حق میں ہے یہ نصیحت کرتے ہیں اور امام کے منکر ہیں جس کو غلام رسول اللہ نے فرمایا تھا اس کے بعد کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہا میں نہیں چلائیں گے خدا کے نزدیک اور مسلمان قوم کا فریضہ حج ادا کرنا ہے ہم ان کو غیر مسلم ہی تھے محفل حملہ بہت بہت شکریہ عبدالسمیع خان صاحب اس وقت میں اسکرین پر دیکھ رہا ہوں کہ عبدالعزیز صاحب ہیں اور شہزاد صاحب ہیں آپ کے سوالات ہمیں مل چکے ہیں لیکن کیونکہ وہ فقیر نوعیت کے سوالات ہیں اس لیے شاید اس پروگرام میں شامل نہ کر سکے لیکن ایک سوال کے جواب میں سے اکثر لوگوں کا ہے وہ میں ضرور منصور صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا منظور صاحب اس وقت عالمی وبا کی وجہ سے ووٹ کی وجہ سے پوری دنیا میں مختلف ممالک میں ویکسینیشن کا سلسلہ جاری ہے رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے لوگوں کے ذہن میں بہت زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے آج کل جس محفل میں بھی جائیں جس تقریب میں بھی چمکا جماعت یاسراور لوگوں نے بعض لوگوں نے یہ فتویٰ بھی دے دیا بلکہ باز سعودی عرب کے علماء کونسل کہتے ہیں انہوں نے بھی یہ فتویٰ دے دیا ہے کہ روزے کے دوران اگر آپ ویکسین لگوا لیں گے تو کوئی حرج نہیں اسے روزہ برقرار رہتا ہے وہ نہیں ٹوٹتا اور ان کا جو موقف ہے کہ کیونکہ دوائی میں نہیں جا رہی تو چیز میدے میں نہیں جائے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے کو نہیں ٹوٹے گی اور آپ کا روزہ برقرار رہے گا لیکن جب ہم اس سلسلے میں احادیث کی طرف صحابہ کے اقوال کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک اصول جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے بیان کیا وہ بڑا واضح ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ شخص ہی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں آگ لگا دی تھی کہ اللہ ہم حق کو فتح دین کے ان کو دین کی سمجھ عطا کر تو وہ بیان کرتے ہیں کہ الفطر مما دخل داخلہ والا حصہ میں مخرجا کے ہر وہ چیز جو جسم کے اندر آپ کے داخل ہوگی اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا تجھے کتنا سادہ اور آسان اصول سمجھا دیا مجھے یہ بتائیں کہ انجیکشن سے وہ جسم میں داخل ہو رہا ہے تو چیز جس میں جیکٹ کی جارہی ہے اگرچہ وہ میرے تک نہیں پہنچ رہی لیکن آپ کا روزہ توڑنے کا موجب بن جائے گی تو اس میں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے کہ لوگوں کو اس یہ تحریک کی جائے کہ آپ روزے کی حالت میں ویکسین لگائی روزہ نہیں ٹوٹے گا جب گرانے کے لئے فرماتا ہے کہ جو بیماری کی وجہ سے کوئی دوائی لے لیتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس دن کے بدلے ایک اور روزہ رکھ لے ورنہ کر آسمان کی منطق دیکھی جائے تو پھر تو اگر کوئی وٹامنز کا ٹکڑا لگاتا ہے جیسے لگاتا ہے یا کوئی طاقت کا انجکشن لگوایا ہے بلکہ اس کا تو اس کو بھی اس کا بھی روزہ نہیں ٹوٹنا چاہئے اس کے مطابق لیکن ہے اور یہی موقف ہے کہ روزہ اس سے قائم نہیں رہتا تھا اس کا جواب دے دیا ہے ہمارے بھائی تابش احمد صاحب لاہور سے وہ سوال پوچھنے دو ان کے سوالات ہیں پہلا سوال میں عبدالسمیع خان صاحب کے سامنے پیش کرتا ہوں اور دوسرا سوال میں مصور صاحب آپ سے پوچھوں گا اب تو خان صاحب ہمارے بھائی تابش احمد لاہور سے پوچھتے ہیں یاجوج ماجوج سے آج کے زمانے میں کون لوگ مراد ہیں ہیں کہ انہیں یاجوج ماجوج ہے جس میں اسلام آباد میں تو آج کے زمانے سے کیا مطلب ہے کہ بیان فرماتا ہے کہ حق کا اضافہ ہی کیا جو معذور و من سورۃ النساء کی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ جوہر موجود کو کھول دیا جائے گا اور بلندی اور پستی سے پھیلائیں گے ساری دنیا پر قابض ہو جائیں گے اور مغربی علاقوں میں ہیں جنہوں نے اگست کا مل جائے حادثہ سے ترقیاتی اور تقریباً پوری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا اور اس لفظ کے اندر ہیں وہ میں نے بھی موجود ہیں ان کے کاموں سے پہلو تہی کی تمام سائنسی ترقی کیا تمام جہازوں کا تمام کارکنوں کا تمام مرحلوں کا انتظام اگست سے پٹرولیم غیر حسن سلوکی کا پہلا حصہ تھا ادارے کے ساتھ تھا اس گروپ کا حصہ تھا یعنی عیسائی پادریوں کا جنہوں نے ساری دنیا میں مسیح کی تعلیم دی تھی اور ایک خدائی کا اعلان کرنا تھا اور توحید کے مقابلے پر اس وقت کھڑا کر دینا اس کو کہا جاتا ہے جو مرد کرنا استعمال کرتے رہےخاندان کے سربراہ ہے اسی طرح علم ہے اور اسی سے پہلے جب ساری دنیا میں پھیل گئے اپنے اتحاد کے ذریعے اور انہوں نے پوری دنیا پر حکومت سے ہوا نے دونوں گروپوں سے ہوا اور مسلم وآلہ وسلم نے انہیں آزاد سے کام رکھنے کے طریقے سے کلام کیا آج دوستی کرو اللہ علیہ وسلم کافروں سے زیادہ استعمال کرتے تھے ان کے استعمال کے بعد استعمال کرنا ہے خان صاحب نے جب یہ سوال منصب کی حالت میں نے ذکر کیا کہ کتاب احمد صاحب کے لاہور سے دو سوال ہیں تابش صاحب پریشان ہوں گے ان کی طرف سے ایک سوال یہ ہے یہ دوسرا سوال جو ہے کیونکہ ان کے سوال کے نیچے لکھا تھا تو اکثر یہی سمجھا کہ ان کی طرف سے لیکن نہیں یہ سوال بھیجنے والے جو ہمارے بھائی بہن ہیں انہوں نے اپنا نام نہیں بتایا لیکن ان کا سوال جو ہے تو منصور صوابی کے سامنے پیش کر دیتا ہوں وہ سوال نہیں کرنا چاہتے ہیں احمدی احباب غیر احمدیوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھتے غالباً وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ غیر احمدی امام کی اقتداء میں نماز کیوں نہیں پڑھتے تو وہ سب دیکھ لیجئے گا اور ان میں شادیاں کیوں نہیں کرتے کیا یہ سلسلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں شروع ہو چکا تھا یا بعد میں سوال ہے کہ زندگی کے بارے میں اگر دیکھا نہ دیکھا جائے تو سب سے پہلے جو کفر کا فتوی لگانے والے تھے وہ یہ مولوی حضرات تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کافر کہا اور بلکہ جو ہنسی مسلم کا بچپن سے جو واقف شخص جو بعد میں سخت مخالف بھی بنے مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب انہوں نے ایک کاغذ پر فتوی لکھا اور پھر تمام علماء سے دستخط کروائے تقریبا دو سو کے قریب علامات جن سے دستخط کروائے اس بات پر کہ حضرت مسیح موعود اسلام کافر ہے یا مسلمان سے اسی طرح آپ کی جماعت کے ہر فرد کے بارے میں تو یہ ابتدا جو ہے وہ ان کی طرف سے ہوئی تو جو حضرت مسیح وسلم نے فرمایا کہ اگر آپ ہمیں کافر قرار دیتے ہیں اور آپ ہمارے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم ایک احمدی کے پیچھے نماز نہیں ہو سکتی تو دیکھیں حدیث کے مجھے ہر حدیث سے کہتی ہے کہ جو کسی اور کو کافر کہے وہ کفر اس پر الٹ پڑتا ہے اگر وہ کافر نہ ہو تو اس کے مطابق آپ لوگ اس حدیث کے مطابق حاصل کے فیصلے کے مطابق آپ خود کافر ہو چکے ہیں تو یہ تو ایک پہلو تھا کہ جو انہوں نے فتوے لگائے اور انہوں نے یہ کہا کہ ہمارے ہم آپ لوگوں سے شادی نہیں کریں گے یہ ابتدا ان کی طرف سے ہوئی لیکن یہاں میں اپنے ناظرین کو یہ بتانا چاہوں گا کہ دیکھیں ایک حدیث میں آتا ہے جہاں تک نماز پڑھنے کا تعلق ہے وہ شخص کو امام بنا و وہ تمہارے رب کے حضور تو ارے نمائندے ہوتے ہیں یا جو یہ یقین رکھتی ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام حضرت علی کے مطابق زمانے میں تشریف لائے آپ اللہ تعالی کے نبی ہیں مسیح ہیں محبتیں ہیں تو ہم کس طریقے سے ان لوگوں کو امام بنا لیں جو کہ مسیح موعود کو ہمارے عقیدے کے مطابق حوثیوں کو نہیں مانتے تو ہمارے نزدیک بہترین کون ہوگا وہ شخص جس نے مسیح موعود کو مانا تو اس حدیث کے مطابق ہم بہترین شخص کو امام بناتے ہیں جو کہ ہمارے نزدیک امام مہدی کو مانتا ہے مسیح موعود کو مانتا ہے ایک پہلو ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ دوسری دلیلہوگی اس احمدی لڑکی کی کہ جو اس غیرت مندی کے گھر میں ہے وہ سارا دن اس کو یہ الفاظ سننے پڑیں گے تو اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کا اس کے حوالے سے موقف ہے کہ اگر کوئی غیر احمدی لڑکی لڑکا ہے تو وہ تو غیر مرد کے ساتھ شادی کر سکتا ہے لیکن کوئی گندی لڑکی ان کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی تو یہ جماعت احمدیہ کا اس حوالے سے موقف ہے اس کی تفصیل بھی بیان ہو سکتی ہے جس سے آپ نے ذکر کردیا یہ ضلعی انتظامیہ معاملے سے ریلیٹڈ کی بات ہے لیکن آپ نے اختصار کے ساتھ اس کا یہاں ذکر کر دیا ہے ناظرین کرام اسی موضوع پر ہمارے پروگرام کا سلسلہ انشاءاللہ اگلے ہفتے بھی جاری رہے گا آپ ضرور اس کو بھی دیکھیے گا اور آج کے پروگرام میں بھی بڑے بھرپور اور بڑے مختلف نوعیت کے آپ کے سوالات ہمیں موصول ہوئی ہیں ہمیں آپ کا انتظار رہتا ہے اور میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے کہ آپ کے سوالات کو اس پروگرام میں شامل کریں اور اپنے نمبر سے ان کے جوابات لیں آپ لوگوں کا میں بہت شکر گزار ہوں کہ آپ اس پروگرام کو دیکھتے ہیں اور اسی طرح خان صاحب کا بھی شکرگزار ہوں اور آخر پر خود حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے یہ ایک موقع پر ارشاد فرمایا جو آپ کے ملفوظات میں محفوظ ہو چکا ہے وہ میں ناظرین اور سامعین کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا جو بنیادی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے نہیں آنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی جگہ ہیں اس کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی کی تائید و نصرت کس کے ساتھ اس کی ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں جس کا دل صاف ہے ہے اور خدا ترسی اس میں ہے میں اس کے سامنے نے میں اس کے سامنے دوبارہ آنے کے متعلق حضرت عیسی علیہ السلام ہی کا فیصلہ پیش کرتا ہوں وہ مجھے سمجھ آوے کہ یہودیوں کے سوال کے جواب میں کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا آنا ضروری ہے جو کچھ میں نے کہا وہ صحیح ہے یا نہیں ہوتی تو اپنی کتاب پیش کرتے تھے کہ ملا نبی کے صحیفہ میں ایلیا کہا نہ لکھا ہے مسیح انڈیا کا ذکر نہیں مسیح علیہ السلام یہ کہتے ہیں کہ آنے والا یہ یوحنا ہے کرو ان سب کے سامنے فیصلہ رکھو اور دیکھو کہ ڈگری کس کو دیتا ہے یا نہیں فیصلہ کس کے حق میں کرتا ہے وہ یقینا یہودیوں کے حق میں فیصلہ دے گا مگر ایک مومن جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا کے فرستادہ دے رہے ہیں وہ یقین کرے گا کہ مسیح نے جو کچھ کہا اور کیا وہی صحیح ہے درست ہے اب اس وقت وہی معاملہ ہے یا کچھ اور اگر خدا کا خوف ہو تو پھر بدن کام جاوے کرتے ہوئے یہ دعوی جھوٹا ہے افسوس اور حسرت کی جگہ ہے کہ ان لوگوں میں اتنا بھی ایمان نہیں جتنا کہ اس شخص تھا جو فرعون کی قوم میں سے تھا اور جس نے کہا کہ اگر یہ تقاضہ ہے تو خود ہلاک ہوجائے گا میری نسبت اگر تو اسے کامیاب ہو جاتا تو اتنا ہی کہہ دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا خدا تعالی میری دعائیں دیں اور نصرت کر رہا ہے یا میرے سلسلے کو اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ طہ طہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل پہ ہیں خدا میں ختم المرسلیں

 39 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: