Rah-e-Huda – Mazhab ki Zaroorat aor Ahmiyyat




Rah-e-Huda – Mazhab ki Zaroorat aor Ahmiyyat

راہ ھدیٰ ۔ مذہب کی ضرورت اور اہمیت ۔ دہریت اور لادینی کا جواب

Rah-e-Huda | 21st August 2021

سے نبھایا راہ خدا ہر یہی ہے جو ان بالوں جانا گا ہم تو ہم یہی ہے ہے ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ پروگرام را ہے جو آج 21 اگست 2019 کو ایم پی اے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے قیمتی وقت کے مطابق شام ساڑھے چار بجے آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے یقینا آپ نے لیا ہوگا کہ اس پروگرام کا عام طور پر وقت چار بجے ہوتا ہے شام کو لکھیں انشاءاللہ یہ ساڑھے چار بجے ہفتے کے روز آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا پروگرام راہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے یہ پروگرام لائف ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے ذہن میں یہ آپ کے کسی جاننے والے کے ذہن میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں کوئی سوال ہو تو آپ اس پروگرام میں سوال کرسکتے ہیں اور اس کا جواب حاصل کر سکتے ہیں یہاں میں یہ بات بھی ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ جماعت احمدیہ مسلمہ دراصل مولا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق دراصل اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دور ہے اس لیے جماعت احمدیہ کے جو بھی تعلیمات پیش کرتی ہے وہ دراصل اسلامی تعلیمات ہیں ہیں لیکن جس طرح ہم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ ایمان ثریا تک چلا جائے گا تو یہ وہ دور ہے آج کے پروگرام کا آغاز کرتے ہیں یہاں لندن سٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ موجود ہیں مکرم حافظ سید مشہود احمد صاحب جب کہ نشریاتی رابطے کے ذریعے ہمارے ساتھ ہیں گانا سے مکرم ساجد محمود صاحب صاحب سے جا رہا ہے اور جتنی زیادہ مادیت لوگوں میں آتی جارہی ہے تو لوگ اس طرح کے سوال کرنے بھی شروع کر دیتے ہیں کہ یہ مذہب کی ضرورت کیا ہے اور مذہب نے اس دنیا میں انسانیت کو دیا ہی کیا ہے چنانچہ ہم کوشش کریں گے کہ ان بنیادی سوالات کا آج کے پروگرام میں جواب دیں لیکن اس کے علاوہ بھی محرم الحرام یا کسی اور موضوع سے تعلق رکھنے والا آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو آپ اس پروگرام میں ضرور پیش کریں محترم ساجد صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں چاہوں گا کہ آج کے پروگرام کے آغاز میں آپ ہمارے ناظرین اور سامعین کو ان بنیادی سوالات کا جواب دیں کہ مذہب نے دنیا کو کیا دیا ہے اور مذہب کی کیا ضرورت ہے ہے جزاکم اللہ احسن الجزاء جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ مذہب کی ضرورت کیا ہے اور مذہب نے آخر دنیا کو دیا گیا ہے تو سب سے پہلے بات تو یہ ہے کہ مذہب کا مطلب کیا ہے مذہب عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے راستہ اور ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ وہ تحریک جس سے خدا تعالیٰ کی رضا اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے چنانچہ اس لحاظ سے دنیا کا ہر مذہب جو آیا اور ہر نبی نے جاری کیا تو ایک ہی بنیادی مقصد تھا کہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے طریقہ یہی وہ انسانوں کو بتائے جائیں خدا کی رضا کیسے حاصل ہوگی یا خدا تعالیٰ سے پوچھا جائے گا تو خدا تعالیٰ کی رضا اس طرح حاصل ہوگی کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ میں نے احکامات دیے ہیں انہوں نے تو میری رضا حاصل ہوگی میں نے تمہیں منع کیا ہے ان سے منع ہو جاؤ گے تو میری خوشنودی رہا ہے وہ تمہیں حاصل ہوگی تو خدا طلاقتو اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ جتنے بھی خدا تعالیٰ نے احکام بنی نوع انسان کو دیے ہیں یہ ہم سے خدا تعالیٰ نے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان احکام پر عمل کرنے کے نتیجے میں ایک طرف نہ صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے بلکہ ان احکامات پر عمل کرنے کے نتیجے میں وہ انسان کو خود زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے اور خود اس میدان میں اس کو زیادہ نفع چیزیں ہیں وہ نظر آرہی ہوتی ہیں مثلا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میری باہر کرو میری پرستش کرو نماز جو ہے وہ پڑھنی ہے تو نماز پڑھنے کے نتیجے میں ایک طرف نہ صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی بلکہ اس کا ایک اور عظیم الشان انسان کو فائدہ کیا ہوگا کہ انسان کے دل میں سکون آئے گا اس کی زندگی میں جو ہے وہ امن آئے گا اور ان سے محفوظ رہا ہوگا اسی طرح روزہ ہے خدا تعالیٰ کی خاطر انسان روزہ رکھتا ہے تو روزہ رکھنے کے نتیجے میں نہ صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول ہے بلکہ روزے کے نتیجے میں انسان کو ذاتی تو فائدہ پہنچ رہا ایک طرف اس کی جسمانی سے ہے وہ اچھی ہو رہی ہے دوسری طرف روحانیت سے وہ اس کی بڑھ رہی ہے اخلاقی کو تو اس کی بڑھی ہیں صبر اور برداشت کا مادہ جو ہے وہ بھی پیدا ہوتا چلا جا رہا ہے تو جتنے بھی اس طرح کے احکامات ہیں وہ سارے کے سارے احکام ایسے ہیں کہ جن کو عمل پیرا کرنے کے نتیجے میں ایک طرف اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے تو دوسری طرف انسانوں ہے وہ انہی امور کو سرانجام دینے کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ کو حاصل کر رہا ہوتا ہے انسان کو خدا سے لینے کے بعد یہ ہے وہ کس طرح کے ہیں ذہنی صلاحیتیں ہیں جسمانی صلاحیتیں ہیں روحانی صلاحیتوں اور اخلاقی صلاحیتیں ہیں جتنے بھی چلتے ہیں اللہ تعالی کی طرف سے تمام کے فوائد کے لئے استعمال ہوتے ہیں خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو منع کیا ہے وہ اس وجہ سے منع کیا ہے کہ ان صلاحیتوں میں سے کسی ایک صلاحیت کو نقصان پہنچتا ہے یا ایک سے زیادہ صلاحیت کو نقصان پہنچتا ہے تو جتنے احکام انسانوں کو خدا تعالی نے دیے ہیں جو مذہب کا خلاصہ ہے ان کا فائدہ ہے اور اس کے نتیجے میں خدا کا نقصان کوئی نہیں ہے بلکہ اس کا نقصان بھی ہے وہ انسانوں سے ہے نہ کہ خدا تعالیٰ اس امر کو بیان کرتا ہے قرآن کریم میں قلعہ قاسم باغ والی ہے کہ اگر کوئی جان اگر کوئی انسان خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے گا تو اس کا فائدہ اسی انسان کو ہے اور حقوق العباد کیا چیزیں بندوں کے حقوق ادا کرنا عقل یہ ہمارے سامنے رہنمائی کرتی ہے کہ اگر ایک انسان دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں انسان سے محبت کرتا ہوں ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ اس انسان کی اولاد سے انسان دشمنی کرے تو محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان کی اولاد اور اس کے بچوں سے بھی وہ ہمدردی کی جائے اور اس سے محبت کی جائے یہی حال خدا دل ہے خدا ہمارا خالق ہے خدا تجھ کو ہمارا مالک ہے تو خالق اور مالک خدا کا یہ مخلوق ہے بنی نوع انسان یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ ایک انسان بنو انسان کو تکلیف پہنچائے ان سے دشمنی کرے ان کو طرح طرح کی جو ہے وہ اذیتیں پہنچائی جائے اور دوسری طرف دعوی کرے خدا تعالیٰ سے راضی ہو جائے ممکن نہیں ہے تو بنی نوع انسان کی ہمدردی خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کا مجھے ہے تو دوسری طرف کیا ہوگا کہ جس کے نتیجے میں انسانیت کے لیے فائدہ مسئلہ والدین کے حقوق ہیں میاں بیوی کے حقوق ہیں دوستو کے حقوق ہیں اسی طرح بعض جو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھنے والے ہیں یتیم ہیں وہی بے بس ہیں دوسری قسم کی مخلوق ہے تو تمام کے تمام کیان پر عمل کرو گے تو نہ صرف تم خوش رہو گے نہ صرف تمہاری اولادیں خوش رہیں گے نہ صرف تمہارا معاشرہ کچھ رہے گا بلکہ دوسری طرف اپنی خوشی ہے جو انسان کو حاصل ہو رہی ہوتی ہے انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھنا چاہتا ہے لیکن دنیاوی امور میں ہم دیکھتے ہیں کہ جتنی مرضی ترقی کر لی جائے وہ انسان کوئی نہیں ہو سکتی ہے خوشحالی صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے پیش آئے نصیب ہوتی ہے جتنا ایک انسان کو داخلہ کے قریب آتا ہے جتنا اس کی رضا کے حصول کو پانے کی کوشش کرتا ہے اتنی زیادہ تر ہے جو انسان کو چھوڑیں جو ہے وہ نصیب ہوتی ہے اور یہی عمر ہے دنیا کی ہر ایک نبی نے پیش کیا ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر موجودہ زمانے تک اور یہی مذہب کا وہ خلاصہ ہے ہمارے پیارے امام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں صاحب جس طرح محترم ساجد محمود صاحب نے بڑے تفصیل کے ساتھ لیکن 12 ہمارے پاس تو مختصر وقت ہوتا ہے مذہب کی ضرورت اور مذہب نے انسانیت کو کیا دیا ہے اس بارے میں ہمیں بتایا ہے میں آپ کو ہے جو اس وقت آپ کی خدمت میں براہ راست پیش کیا جا رہا ہے آپ اس پروگرام میں ہم سے سوالات پوچھ سکتے ہیں اور سوال کرنے کے دو طریقے ہیں ایک ہمارا معروف واٹس ایپ نمبر ہے جو آپ کو اس پروگرام پر نظر آتا رہے گا اگر آپ نے وائس میسج میں اپنا سوال بھیجنا ہے یا تحریری سوال بھیجنا ہے تو ہمارا واٹس ایپ نمبر استعمال کریں لیکن اگر اس پروگرام میں ہیں تو اس ٹائم پے ہم سے رابطہ کریں محترم حافظ مشہور صاحب جس طرح کے مذہب کی ضرورت کے بعد بارے میں گفتگو ہو رہی ہے دیکھیں ہم تو اسلام کے نمائندے ہی بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم اسلامی تعلیمات کا ذکر کر رہے ہیں اور یہ ہمارا کام ہے اگر اس بات کو ذہن میں رکھا جائے تو ہم یہ کس طرح ثابت کریں گے لوگوں کو کہ جو اسلامی تعلیمات ہیں وہ اب عالمی تعلیمات ہیں جبکہ ماضی میں جو تعلیمات آئی ان کی یہ حیثیت یہ مقام اور مرتبہ نہیں رہا اس کے بارے میں جاننا ہے تو ہم اس سے کہیں گے کہ اپنا تعارف کرواؤ تو وہ اپنا تعارف کروائے گا ہم نے اس پر بنا کرتے ہوئے اس کا تعارف حاصل کرنا ہے اس کو ماننا ہے اسی طرح سے اگر ہم انبیاء کی تاریخ کو دیکھیں ان کی کتب کو دیکھیے ان کے مزاح کو دیکھیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہے ان کا دعویٰ کیا ہے ہے قرآن کریم اس معاملے کو بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے انبیاء کا نام لے کر اللہ تعالی فرماتا ہے الحمید خان خلیفہ کے ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو حضرت صالح کو ثبوت کے ساتھ مختص کر دیا فرمایا اس کی طرف ان کا بھائی ہم نے بھیجا ارسلنا نوحا الی قومہ منو کو اس کی قوم کی طرف بڑے مذاہب ہیں وہ عیسائیت و یہودیت ہو اس کے بارے میں قرآن کریم نے اور ان کی اپنی کتب میں بھی ملاحظہ کیا وہی ہے اللہ نے فرمایا حضرت موسی علیہ السلام کو اس بالا فرعون ہوتا فرعون کی طرف جا تو وہ سکسی کرتا اور مقصد کیا تھا کہ مصر میں جو بنی اسرائیل میں موجود تھے ان کو بیت المقدس کی طرف لے کر جانا ارض مقدسہ کی طرف لے کر جانا اور یہ پیغام اب رونے پر لکھے گئے انور سلمان بنی اسرائیل کے بنی اسرائیل کو میسج بھیجو تو حضرت موسی علیہ السلام کے جو مدمقابل شخص تھے وہ فرعون تھا اور کام آپ کا اپنی قوم کو میسر بھی کروانا تھا تھا جائے جو اس آیت کے بانی ہے یہ دوسرا بڑا مذہب ہے یہودیوں کی بات کریں تو تو تو ان کے بارے میں قرآنی آیات اور رسول اللہ بنی اسرائیل کے بنی اسرائیل کی طرف حصول اور جو عہد نامہ جدید ہے اس میں حضرت اسلام نے بھی کئی دفعہ میں تو شریعت کو منسوخ کرنے نہیں آیا میں اس کو اس پر عمل کروانے آیا ہوں اس کی باتوں کو مکمل کرنے آیا یا یہ کہا کہ میں بنی اسرائیل کی غفلت ہیں تو ان کا دعوی مخصوص اقوام تک کے لیے تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوائی نہیں ہے کہ میں صرف عرب کے لئے آیا ہوںجو لوگ بھی اور بعد میں آنے والے لوگ بھی انہیں رسول اللہ ہی کم جمیع میں تم سب کی طرف خدا تعالی کے رسول بن کر آیا ہوں ہو تو دعوتوں آنحضور صلی وسلم کا علم نبی ہونے کا ہے ہے اگر شریعت کو دیکھیں تو قرآن کریم جو ہے وہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ تا قیامت رہنے والی محفوظ شریعت ہے ہے وفات سے پہلے سورہ مائدہ کی وہ مشہور اہل ہوئی الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم میں نے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر مکمل کر دی ہے اور وہ نعمت کیا ہے کہ میں آج تمہارے لئے اسلام کو بطور دین تا قیامت کے لیے چل چکا ہوں اور اس بات پر قرآن کریم میں جا بجا دیے ہیں فرماتا ہے کہ ان الدین عند اللہ الاسلام دین ہے تو اسلام ہے یہ نہیں روحانی معاشی اخلاقی اور طرح کی اقدار کو اگر کوئی کتاب ایڈریس کرتی ہے تو وہ قرآن کریم ہے الاسلام دینا فلن یقبل منہ اب قرآن اسلام اسلم کے علاوہ کوئی اور کوئی دن خدا تعالی کی نظر میں ہے تو یہ ہے اور کوئی دن خدا کی نظر قبول نہیں کیا جائے گا  گا کیا اچھا اب اگر تھوڑا سا تقابلی جائزہ لیں پرانی کتب کا ان کی تعلیمات کا اور قرآن کریم کے ساتھ اس کا موازنہ کریں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جو پرانی تعلیمات پرانے صرف تھے چونکہ وہ عالمی نہیں تھے مخصوص اقوام کے لیے تھے تو ان کی تباہی کو ان کی ضروریات کومدنظررکھتے خدا کے احکامات دیے تھے تھے تو رات جو حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہوئی کیونکہ بنی اسرائیلی ایک لمبا عرصہ قصہ فرعون کے زیر عتاب رہے اور غلامی کی زندگی گزارتے رہے جس کے نتیجے میں انہیں بجلی پیدا ہو گئی تھی اور اس بزدلی کا اظہار انہوں نے ایک جگہ نہیں کی جگہ کیا کرانے کے لیے ان کی اپنی کتب بھری پڑی ہیں بتوں سے ملی تھی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ارض مقدسہ خدا کا وعدہ داخل ہو جاؤ تو نے داخلے سے انکار کر دیا اور کہا اذھب انت وربک فقاتلا نہیں جا رہے ہیں اگر اتنا ہی یقین ہے تو آپ اور آپ کے خدا دونوں جہری ختم ہو جاتا ہے بلال میں داخل ہو جائیں گے تو اس ضرورت کو کہ ان میں شجاعت پیدا ہو خدا تعالی نے ان کو احکامات دے دیئے کہ جان کے بدلے جان ان گنت آنکھوں کے بدلے جو ہے اس پر اللہ تعالی نے بہت زور دیا تاکہ ان کے اندر پیدا ہو شجاعت پیدا ہو اور قرآن کریم نے بھی اور بائبل نے بھی اس بات کو کثرت کے ساتھ بیان کیا ہم سے خروج باب 21 آیت نمبر 325 میں یہی الفاظ ہیں کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ کے دانے کے لئے بھی الفاظ بیان کئے یے اچھا ہوا یہ کہ جب ان کو تعلیمات سختی کی ملی تو چودہ سو سال بعد خدا تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو یہ لوگ سختی کس قدر عادی ہوچکے تھے کہ نرمی کا پہلا بینک ولی تھے تو ان میں نرمی کے عنصر کو پیدا کرنے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام نے جو تعلیم دی گرمی کی تعلیم تھی آپ سے میں بیان کیا ہے فرمایا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اسے دوسرا گال بھی پیش کردو اتنا ہی لینا ہے دوسرا بھی پیش کردو اسی طرح کوئی تمہاری چادرچھین لے تو اسے کمیز لینے سے نہ روکو کو کا مطلب یہ تھا ان کو یہ سمجھا جا رہا ہے کہ درگزر کرنا بھی کوئی چیز ہوتی ہے لیکن یہ بھی دینی تعلیم نہیں ہے آج اس طرح ہی نہیں سکتا لیکن ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں بیس سال پہلے امریکہ میں حملے ہوئےکی کا انتقام لینا ہے ہے لیکن ساتھ فرمایا یا اللہ جو کوئی معاف کردے اصلاح کو مدِ نظر رکھیں تو اس کا جو اللہ تعالی کے نزدیک ہونے کی مثال دیں وہ بیان کر کے پھر میں اپنی گفتگو ختم کروں گا دیکھو اگر ایک ملازم ہے تمہارا ہے اس سے غلطی سے کوئی گلاس ٹوٹ جاتا ہے ہے تو یہاں پر یہ نہیں ہے کہ اس کو تمیز نہیں کرنی ہے اس کو زمانہ ڈالنا ہے اگر غلطی ہو تو معاف کر دو اور جان بوجھ کر رہا ہے ہے اس کو معاف کر دینا اس کو جرم کرنے پر دلیل کرے گا اس لئے اس کے ہاتھ روکنے کے لیے اسے سزا دو نہ ڈالو تو اسلام نے تعلیمات دی ہیں وہ بڑی بیلنس پر ایسے تعلیمات پر عمل ہو سکتا ہے بہت شکریہ حافظ مشہور صاحب اس وقت مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ آپ کی طرف سے ہمیں سوالات موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں میں پہلا سوال جو عرف زمان صاحب نے بنگلہ دیش سے بھیجا ہے وہ لے کر ساجد محمود صاحب کی طرف جانا چاہوں گا صاحب عارف و زمان صاحب کا ایک سوال میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کیا توحید ہر مذہب کی بنیادی تعلیم ہے تو اس بارے میں آپ ہمارے بھائی کو کچھ رہنمائی کردیں z0ya بنیادی طور پر دو ہی سے لے کر آیا ہے پہلا حصہ جیسے پہلے میں نے ذکر کیا حقوق العباد والا ہے اور دوسرا پہلا حصہ حقوق اللہ والا اور دوسرا حصہ حقوق العباد والا ہے تو ہر نبی نے اپنے زمانے میں بنی نوع انسان کو یہی تعلیم دی ہے جہاں تک ان کا دائرہ تھا اصلاح کا کہ اس کائنات کا خالق اور مالک کے خدا ہے اور تمہارا یہ فرض ہے کہ اس خدا کے آگے جھکاؤ اپنے آپ کو اور اسے خدا کی عبادت کرو اور اس کی پرستش کرو اور خدا نے حکم یہ دیا ہے کہ جو مخلوق میں نے پیدا کی ہے ان کی حکومت نے تمہاری ذمہ واجب الادا ہیں وہ بھی ادا کرو تو ہر مذہب کا خلاصہ جو ہے وہ یہ ہے کہ آپ پھر ساتھ ہوا کیا کہ جوں جوں وقت گزرتا چلا گیا تو انہیں مذاہب کے بعد میں آنے والے علماء نے ان مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں آہستہ آہستہ بگاڑ پیدا کرنا شروع کر دیا مثلا عیسائیت ہے حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق واضح طور پر قرآن کریم جو ہے وہ ان کی گواہی ذکر ہے کہ جب اللہ تعالی یہ پوچھے گا کہ کیا تم نے بنی نوع انسان کو اپنے پیروکاروں کو تعلیم دی تھی کہ اللہ تعالی کے علاوہ تمہیں اور تمہاری ماں کو معبود بنایا جائے تو آگے سے جواب بھی یاد کر رہے ہیں خدا میں نے تو ایسا نہیں کہاں کہاں تعلیم دی ہے وہ یہی تھی کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا ہے اور میں اس تعلیم پر اپنی قوم میں نگران رہا جب تک میں موجود رہا فلما توفیتنی جب تو نے مجھے وفات دے دی اس کے بعد کے حالات کا مجھے علم نہیں تو تثلیث کا عقیدہ بھی حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے بہت بعد پیدا ہوا ہے اور بگاڑ عیسائیت میں جو ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پیدا ہورہا ہے تو یہ ایک بہت بڑا مذہب ہے دنیا کا وہ ہمارے سامنے رہنمائی کر رہا ہے کہ ابتدا میں خدا تعالیٰ کی عبادت اور خدا کا ایک ہونا اور خدا تعالیٰ کی توحید کی تعلیم میں ہر نبی نے چلایا ہے ہاں میں مذاہب کے بگاڑ کے نتیجے میں پھر جو ہے وہ تو خدا کی طرف گئے وہ توجہ بھی ہندو ازم میں بھی یہی ہے کہ اللہ تعالی کی پرستش کی طرف اپنے اپنے زمانے میں جو ہوتا رہا ہے ان کے پیشوا اور مذہبی رہنمائوں وہ دیتے رہے بعد میں جب تعلیمات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے تو پھر انہوں نے آکے وہ ایک سے زیادہ خدا کی طرف گئے وہ دن بہت شکریہ ساجد صاحب کا نام ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اس وقت اسلامی مہینوں کے اعتبار سے محرم الحرام کا مہینہ گزر رہا ہے تو میں اس وقت سکرین پر دیکھ رہا ہوں کے چند سوالات اس نوعیت کے بھی ہیں حافظ محمد سعید صاحب ہمارے بھائی ہیں خواجہ عبدالمومن صاحب نوے سوال پوچھتے ہیں شیعہ دوست محرم میں ماتم کرتے ہیں اور تعزیہ نکالتے ہیں کیا یہ اسلامی طریقہ عمل ہے اور مزید بتاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا اس بارے میں کیا موقف ہے یا کوئی طوفان ہے ہے ہم تو قرآن کریم کو دیکھیں گے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو دیکھیں گے کریم تو جا بجا یہ کہہ رہا ہے جب کسی پر تکلیف پہنچتی ہیں ہیں تو وہ اللہ تعالی کہتا ہے وہ بشیر صاحب میری بشارت اس کو دینی ہے صبر کرنے والوں کو اور کیا فرمائے اللہ دین اصابتہم مصیبۃ قالوا انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالی کی طرف سے ہیں ٹھیک ہیں ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیںبلقیس صلوۃ ہی سلامتی ہے اور رحمت ہے اور لائک اور یہ ہدایت صبر کرنے والوں کو اللہ تعالی ہدایت یافتہ کہہ رہا ہے ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک نہیں مدد اور اس کے ساتھ جنگ ہوئی غزوات ہوئے اسلم کے پیارے بھی شہید ہوئے تھے ہی میں شہید کا جنازہ پڑھایا درج کرکے پڑھ لیا لیکن دس میں بھی حضرت حمزہ کا جنازہ پڑھایا سیدالشہدا کہاں ہے ہے حضور صل وسلم نے تو وہاں پر تازیانہ نکلوائے آئیے ماتم بھی نہیں کروایا آیا جب کہ یہ رواج تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا تھا تو عورتیں اپنا منہ پیٹتی تھی اپنے گریبان چاک کرتی تھی مٹی تھی اس نے منع کیا کیا صبر کی تعلیم دی کہ جب میاں صاحب نے تو صبر کرنا ہے مجھے یاد آگیا حضور صل وسلم کی قبر کے پاس سے گزرے ایک ماہ کے بچے کی وہ بیان کر رہی تھی اسلام نے اس کو کو کہا تلقین کی کہ صبر کرو اس نے جواب بڑا نامناسب سے بھی حاصل نہیں چلے گا کہ صبح بتایا گیا کہ حضور صل وسلم کی جنہوں نے یہ بات کی ہے تو وہ نادم ہو کر اصل مسئلہ درپیش تھا اس نے فرمایا الصبر عند الصدمۃ سب سے پہلے جو ہے وہ صبر کر لینا اس کا اجر و ان کی اپنی کتب میں دیکھ لیں ایک اور یاد آرہا ہے اور نہ ہی تمام الجاہلیہ بڑا مشہور حوالہ ان کا کے نوحہ کرنا نوحہ خوانی کرنا یہ جہالت کے اعمال میں سے ایک عمل ہے تو ان کی اپنی بہن کا رہے ہیں جو ماتم کر رہے ہیں قرآن کریم اور آنحضور صلی وسلم کی سنت سے ایسی کوئی بات نہیں اور ان کی اپنی کتابیں کی تردید کر رہی ہیں ہے بلکل ٹھیک حافظ مشہور شہر اسی نوعیت کا دوسرا سوال ہے وہ میں موسم ساجد صاحب کے سامنے پیش کر دیتا ہوں ساجد صاحب ہمارے بھائی ہیں نجب الدین صاحب کر آل انڈیا سے وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں میں ان کا سوال آپ کے سامنے پر دیتا ہوں پھر مجھے امید ہے کہ آپ ثابت کر دیں گے وہ کہتے ہیں کہ عاشوراء کے روزہ کی اہمیت کے متعلق متعدد احادیث موجود ہیں جماعت احمدیہ کو کس حد تک آمد اہمیت دیتی ہے ہے اس کو پڑھتے ہیں اورآنحضرت ہیں تو ہمیں کثرت کے ساتھ حضور کا روزہ رکھنے کا ذکر ملتا ہے صرف عاشورہ والا نہیں اور بہتر ایام میں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھا کرتے تھے مثلا جمعرات کو بھی رکھا کرتے تھے سوموار والے دن بھی رکھا کرتے تھے اور اسی طرح اور بہت کثرت کے ساتھ ہیں رمضان مبارک بے وفا ہے تو اس میں حضور نے کیا ہے اور امت کو تلقین کی ہے وہ ہر روز والی ہے اس کے علاوہ نفل اگر کسی انسان کا جو ہے وہ استطاعت ہے اور وہ رکھنا چاہتا ہے تو روزہ رکھنے کے نتیجے میں اس کو واقعی روزے کے فوائد ہوں گے نفلی روزے کا ثواب ہو گا اور خدا تعالیٰ کی طرف جو ہے اس کا ایمان اور اس کی روحانیت جو ہے وہ پڑے گی لیکن اصل فوکس اور اصل بنیاد ہے اور رمضان المبارک کے روزے ہیں باقی جتنے بھی خواہش والے ہی کھایا شور ہے یا جمعرات والا ہے یا سوموار والے آیا باقی زندگی کے اور بازار کے دوران جو الزامات ہیں وہ سارے کے سارے نوافل کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے سو فیصد فوکس نہیں کیا جا سکتا جیسے خدا تعالیٰ نے رمضان کے مبارک رمضان المبارک کے روزے فرض کئے گئے ہیں ہیں حاجی صاحب حافظ محمود صاحب آپ کے سامنے جو مثال پیش کرنا چاہوں گا وہ ہمارے بھائی ہیں عبدالسمیع صاحب یہاں لیورپول میں رہتے ہیں انہوں نے یہ سوال بھیجا ہے یہ کہتے ہیں کہ شہداء کی کئی اقسام ہیں اگر کوئی غیر مسلم بھی اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے یا پھر کسی وغیرہ سے وفات پا جائے تو کیا وہ بھی شہید ہو گا اور وہ اس سوال کو آگے بڑھانے یہ بھی پوچھنا چاہ رہے ہیں اور اگر اس کا جواب ہاں میں ہے وہ خود ہی اس کا جواب دے کر مکر کے آگے وہ مزید پوچھنا چاہ رہے ہیں تو پھر کیا وہ بھی جنتی ہوگا کیونکہ شہید کے بارے میں تو یہی تعلیم ہے کہ وہ جنتی ہے یا نہ ہو گا اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے کسی انسان کے ہاتھ میں یہ معاملہ رکھا نہیں ہے تو اس لیے ہم اس پر کوئی فتوی نہیں دیں گے جو خدا تعالی نے باتیں بیان کی ہیں ہم اس کو آپ کے سامنے پیش کر دیتے ہیںلائٹ فروعی و شرع کا بھی ہیں وہی خیر و ما دون ذالک لمن کے جو ہے وہ شرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ اگر کوئی خطائیں کسی سے ہوئی ہے غلطی اثر دہلوی اس سے سرزد ہوئی ہے تو اللہ تعالی الرحیم حیدر کر سکتا ہے شکر اللہ جائے گا تو تو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ جو آدمی شہید ہوا ہے اس کے اعمال کیا تھے اس کے اطوار کے ہاتھ سے اس کی پریکٹس کیا تھی انا مل اعمال بنیات ان کے اعمال کی نیت کی تھی وہ نیتوں کا فیصلہ کرنا ہے کر سکتا آپ کر سکتے ہیں کہ یہ بات ضرور ہے اللہ تعالی نے مختلف مذاہب کے لوگوں کا نام لے کر بیان کیا ان الذین امنو والذین ھادو نثار مومن ہوئے جو یہودی ہوئے عیسائی ہوئے صحابی ہوئے ہے لیکن معاملہ اللہ پر اللہ کی توحید پر اللہ کی باتوں پر ایمان لاتا ہے ہے ولیوں مال آخری اور آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہے اور اگر ایک اور شرط لگائی وہ عام لہسن اور مناسب حال نے کمال کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے لاہور میں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ولاخوف علیہم ولاہم یحزنون ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے تو معاملات کی جتنا بھی فیصلے کی نثار خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں جانتا ہوں بہت بہت شکریہ حافظ صاحب اگلا سوال جو ہماری بہن سمرا ملک صاحبہ نے امریکا سے ایسے ہی بھیجا ہے وہ میں ساجد محمود بھٹی صاحب کے سامنے پیش کر دیتا ہوں ہماری بہن نے جس طرح سوال کیا ہے میں اسی طرح پیش کروں گا وہ یہ کہتی ہے کیا یہ بات درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کی بنیاد یعنی جماعت احمدیہ کی بنیاد 1880 98 رکھی تھی لیکن نبوت کا دعوی 1891 98 کیا تھا اور وہ کہتے ہیں اگر یہ بات صحیح ہے تو انہوں نے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جماعت کی بنیاد کس بنا پر رکھی تھی ساجد صاحب ہماری بہن سمرا ملک صاحب کو بہت پہلے ہی شروع ہو گیا ہوا تھا اور یہ 1808 کی دہائی میں 1965 کے لگ بھگ کرتا ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے سلسلہ وحی الہام ہوا ہے جو حضور کہ میں معمول کا الہام ملتا ہے وہ چار سو اسی کی دہائی میں 1882 کے لگ بھگ اور آپ نے جو مشہور زمانہ اپنی کتاب لکھی ہے شارع ابراھیم ہیں اللہ تعالی نے آپ کو حاصل کیے ہیں اور وہ اپنی اس کتاب میں درج کی ہیں ان میں سے اٹھارہ سو اسی کی دہائی کی ہونگے کوئی ستر کی دہائی کی ہوں گے اس کی دہائی کے ہوں گے تو جو الہ آباد میں ملتی ہیں انعامات کے اندر ہی ہیں ایسے بعض الہامات ملتے ہیں کثرت کے ساتھ اس میں خدا تعالیٰ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول کے الفاظ سے یاد کر رہے ہیں مثلا حضور کو ہے خدا تنہا کیا حال ہے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں خدا کی عظمتیں اللہ فی حلل الانبیاء کہ یہ خدا کا پہلوانوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے انبیاء کی صفات اس کے اندر میں ہے اور پوری دنیا کے ساتھ اس کا مقابلہ ہوگا فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے الحمد بتایا دنیا میں کن ذرائع پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن یہ جو بھوکے ہیں ان کو کھانا کھلاو تو خدا کے نبی کے الفاظ کے ساتھ حضور کو یاد کر رہے ہیں خدا تعالیٰ اور رسول کے الفاظ کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کر رہے ہیں خدا تعالی نظیر کے الفاظ کے ساتھ مقدس مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کر رہا ہے اور جو انبیاء ہیں ان کے نام اور مسیح موعود علیہ السلام کو دیا جا رہے ہیں 8889 ہے 1998 حضرت موسی علیہ السلام کا بیان لینے کا تو کسی زمانے میں کوئی رابطہ ہی نہیں تھا بلکہ اس سے بہت پہلےتیری بات کریں گے اصل میں یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق کیا وہ تیری بات کر رہے ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی نگرانی کے تحت کر رہے ہوں گے تو یہ بات کا سلسلہ حضور نے بطور مامور کیا ہے جب خدا تعالیٰ نے حضور پر انکشاف کیا ہے کہ اب تو صرف ماموں والا نہیں ہے بلکہ وہ مامور جو امت محمدیہ میں آنا تھا امام مہدی کے نام سے اور مسیح موعود کے نام سے وہ خدا تعالیٰ نے تجھے بنایا ہوا ہے تو اس دعوی مسیحیت اور مہدویت کو جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو ہے وہ 491 کیا ہے اور وہ جو آپ کی جماعت میں لوگ گھر کے بیان کو بتایا انہوں نے تسلیم کیا ہے مسلمانوں کی اکثریت نے جو ہے وہ حضور کی مخالفت کی ہے لیکن خدا کے سامنے پیش گوئیوں کے مطابق بڑے زور اور حملوں سے حضور کی تائید کی اور حضور کی وفات سے پہلے کئی لاکھ لوگ جو ہیں وہ حضور کی جماعت میں داخل ہوگئے بہت بہت شکریہ ساجد صاحب اس وقت ہمارے ساتھ ہمارے گھر کال موجود ہیں میں ان سے بات کرنا چاہوں گا گا محمد عبدالرشید صاحب لندن سے اور انشاء اللہ اس کے بعد ہم غلام فاروق صاحب سے بھی بات کریں گے جو ہمیں جرمنی سے کال کر رہے ہیں تو محمد عبدالرشید صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محمد عبدالرشید صاحب کیا آپ کو ہماری آواز آرہی ہے ہے اچھا ٹھیک ہے پھر ہم اپنے گھر سے بات کر لیتے ہیں جو ہیں غلام فاروق احمد صاحب اور جرمنی سے وہ ہم سے بات کرنا چاہ رہے ہیں اسلام علیکم غلام فاروق احمد صاحب صاحب غلام فاروق صاحب کے آپ کو میری آواز آرہی ہے ہے مجھے یہ بتا رہی ہیں یہ بھی ہو رہے ہیں مثلا لبنان نصرت صاحبہ نے جرمنی سے ہی سوال بھیجا ہے لیکن کیونکہ اسکا تعلق ہمارے آج کے موضوع سے نہیں ہے اس لیے شاید ہمیں اس پروگرام میں شامل نہ کر سکیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ہیں اور انہی میں سے ایک سوال لے کر میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا اگر یہ بھی عارف زمان صاحب نے سوال بھیجا ہے اور بڑی بنیادی نوعیت کا یہ سوال ہے سوال یہ ہے کہ ہم ہی والے ہیں ان کے بارے میں یعنی دوسرے مذاہب والوں سے ہم نے کیا سلوک کرنا ہے ان کے ساتھ ہمارا رویہ رہے گا قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں اس بارے میں کیا رہنمائی ملتی ہے امام جو مخلوق ہے وہ خدا تعالیٰ برابر پیدا کی ہے اور مذہب کا جو معاملہ ہے اس کو خدا تعالی نے کسی کے اوپر پوسٹ نہیں کیا تو نہیں ہے ہے فرمایا لا اکراہ فی الدین کے دین کے معاملے میں کوئی جگہ نہیں ہے کی طرف سے ہے تو بنتا ہے اس کے ایمان کا فائدہ اس کو دیا جائے گا جو کوئی کوئی کفر کرتا ہے تو اس نے کچھ نہیں کرنا اگر تو مسلمان حکومت ہے اور نہ آیا جو ہے وہ غیر مسلم اس کے نیچے تو حضرت صاحب کے خطبوں کا ایک سلسلہ پیش کر رہے ہیں میرے سامنے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی غزوات وہاں پر موجود جو مسلمان حکمران تھے ان کے رویوں کے بارے میں ضرور بیان کریں یہ مستحق بیان کر دیتا ہوں حضرت عمر کے دور میں جب اسلامی ہیں جو کمانڈر تھے ان کو حکم ہوا کہ یہ دیکھنا چھوڑ دیں اور آگے چلے جائیں آئی تو چونکہ جزیہ لیا جاتا تھا یہ ٹیکس لیا جاتا تھا اس بات پر ہم آپ کی حفاظت کریں گے آپ کے حقوق کی بات کریں گے آپ کو جو بنیادی سہولیات ایک معاشرے میں ملنی چاہیے ہو ہم آپ کو دیں گے لیکن جب مسلمانوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی جانا پڑا مسلمان آرمی کو تو انہوں نے ٹیکس واپس کردیںایسا نظام قائم کیا جائے کہ خاص طور پر بنی نوع انسان کو اس سے فائدہ پہنچے یہاں میں ناظرین کے سامنے خاص طور پر ان ناظرین کے سامنے جن کا جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں ہے یہ بات بار بار دہرانا چاہتا ہوں ہمیشہ دور ہوگا کہ جماعت احمدیہ ایک امام کو مانتی ہے اور یہ امام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق جماعت احمدیہ میں موجود ہے اور یہ خلافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہنا ہے اگر آپ حقیقی معنوں میں جو رکھتے ہیں اور جاننا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا موقف رکھتی ہے تو اس کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ کم از کم ہفتہ میں ایک دفعہ سید معمہ نہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو خطبہ جمعہ جمعہ کے روز ارشاد فرماتے ہیں وہ ضرور سنیں آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ اس وقت دنیا میں کوئی مذہبی لیڈر خاص طور پر مسلمان لیڈر بنی نوع انسان کی فلاح اور بہبود کے لئے نہ صرف یہ کہ صرف باتیں کر رہا ہے بلکہ عملی طور پر کوشش کر رہا ہے تو وہ صرف اور صرف امام جماعت احمدیہ یہی مشہور محمد عبدالرشید صاحب سے بات تو نہیں کر پا رہے لیکن ان کا سوال ہمارے پاس موصول ہوگیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ کے سوال کا جواب ضرور دے دیں یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہلے سے مل چکی تھی اور کیا حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کوئی نبی آیا تو مختلف سوال ہے لیکن چاہتا ہوں مختصر وقت جواب دے دیں اس کے بارے میں باتیں کریں لیکن ایسی روایات باہر موجود ہیں خدا تعالی نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کی طرف سے ایک بڑا واقعہ تھا کروانے کا باعث مل جائے گا آپ کی طرف اشارہ کریں جزاک اللہ کا جواب علامہ فاروق احمد صاحب بیان کا سوال بھی ہمیں موصول ہوگیا ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ سوال میں ساجد صاحب کے سامنے پیش کروں ساجد صاحب ہمارے بھائی آپ فون نہیں اٹھا رہے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کی شریعت کا عرصہ نزول کیا ہے یعنی وہ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ جس طرح ہم عام طور پر بیان کرتے ھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جاز ہونے والی شریعت قرآن کریم 23 سال کے عرصے میں نازل ہوئی ہے تو کیا اس طرح کی کوئی بات حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہونے والی شریعت کے بارے میں بھی پائی جاتی ہے ہے سال پہلے کا ہے اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام سے چودہ سو سال پہلے کا ہے اور حضرت موسی علیہ السلام پر جو کتاب نازل ہوئی ہے جو تھی وہ تو راج راج کے نفاذ کے ساتھ ہی ہے تورات کے الفاظ ہی استعمال ہو رہے ہیں قرآن کریم نے معین سال تو اس طرح بیان نہیں کیے لیکن اتنی بات یہ ہے کہ بائبل جب ہم پڑھتے ہیں تو اس میں کم از کم اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ علیہ الصلوۃ والسلام کا فوت ہوئی ہیں تو ان کی عمر جو ہے وہ ایک سو بیس سال ہے تو ظاہر بات ہے کہ جب خدا طرح نے آپ پر وحی الہیٰ کا سلسلہ شروع کیا ہے اس زمانے سے لے کر پھر وفات تک وہ ہو جاتا ہے جس کا اثر ان میں جو ہے وہ پر کوئی نہیں پڑھا تھا زمانہ جو ہے حضرت موسی علیہ السلام کا وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ہزار سال پہلے کا ہے ایک اور سوال بھی میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اصل میں ہمارے بھائی جو عارف زمان صاحب ہیں انہوں نے بنگلہ دیش سے ہمیں چند سوالات بھیجے تھے لیکن اس سوال کا کیونکہ آج کے موضوع سے بڑا گہرا تعلق ہے تو میں چاہوں گا اس کو آپ ضرور جواب اس سوال کا ان کو بتائیں وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ جو بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے وہ ایسا کیوں کرتی ہےگے اس سوال کے جواب کے طور پر فرض ہے کہ جماعت احمدیہ یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ دنیا میں جو مذاہب پائے جاتے ہیں وہ مذاہب اصل میں کسی نہ کسی نبی کے ذریعے خدا طرح شروع کیے تھے کوئی مذہب ہے وہ آج سے دو ہزار سال پہلے کا ہے کوئی تین ہزار سال پہلے کا ہے کوئی چار سال پہلے کی ہے جو مختلف گزشتہ زمانوں میں مختلف زمین کے حصوں میں جہاں جہاں آبادیاں تھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کے آپس میں تعلقات نہیں تھے تو خدا تعالیٰ نے وہاں پر رہنمائی کرتی ہے کوئی گواہی دینے والا آیا ہے تو مختلف مذاہب جو ہے مختلف اقوام کی طرف سے داخل ہوئے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعلق نہیں تھا لیکن جب زمانہ ایسا گیا کہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ میری جو ہے وہ شروع ہوگیا اور دنیا اس حد تک آپس میں رکھ لو اور سائل کے ساتھ میں آپس میں جوڑ گئی کہ ایک جگہ کا انسان دوسری جگہ آسانی کے ساتھ جا سکتا تھا تو خدا تعالیٰ نے پھر عالمگیر نبی بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عالمگیریت دی ہے تو جماعت یا جو بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد کرتی ہے وہ یہ نہیں کہتے کہ دوسرے مذاہب ابتدا سے جھوٹے تھے اس بات کو بتانے کے لئے کہ وہ سارے کے سارے مذاہب ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ان کی بنیادی تعلیمات نے تو بنیادی تعلیمات ہی نظر آتی ہیں کہ اللہ کی عبادت کرنی ہے اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنی ہے ہر مذہب کی تعلیم بھی یہ نظر آتی ہے کہ ہمیشہ تم نے سچ بولنا ہے ہمیشہ تم نے دیانتداری سے کام لینا ہے اور اس کا خیال رکھنا ہے کرنی ہے تو جتنے بھی حقوق العباد ہی نظر آتی ہیں کسی نے تھوڑی زیادہ آتی ہیں کسی میں اور زیادہ ہوتی ہیں لیکن اس صورت میں رہا ہے وہ خدا تعالیٰ اپنے قرآن کے میڈیا کو حاصل کی ہیں تو مزہ آپ کی خوبیاں جو ہے جب بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد ہوگا اور لوگ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں گے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا میں پیار پڑے گا لوگوں میں محبت بڑھے گا دونوں میں ایک دوسرے کے ساتھ جو ہے وہ محبت والی کیفیت پیدا ہو گئی اور دشمنی اور نفرت اور ایک دوسرے کے ساتھ جو بغض اور حسد والی کیفیت ہے وہ دور ہونا شروع ہوجائے گی اور اسی مقصد کے لئے جو ہو یہ جماعتی اجلاس اس کا انکار کردیا بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد شکریہ ساجد صاحب کا نام اگر آپ حقیقی معنوں میں جو کرنا چاہتے ہیں اور ان باتوں کو جاننا چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے عقائد کیا ہیں تو سب سے بنیادی بات تو یہ ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق دنیا میں آئے ہیں اور جس طرح ان پیشگوئیوں میں ذکر تھا تھا کہ مسیح موعود اور امام مہدی آئیں گے اور امت مسلمہ جو حقیقی اسلامی تعلیمات کو بھلا بیٹھے گی اس کی دوبارہ گویا نشت ثانیہ کریں گے تو یہی بنیادی بات ہے جماعت احمدیہ کر رہی ہے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی زندگی میں یہ کام کیا اور آپ کی وفات کے بعد خلفائے احمدیت بھی دن رات یہی کام کر رہے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ اس بات کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ بہت سی بنیادی باتوں کے بارے میں جماعت احمدیہ کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اسی طرح کے بہت سے پروپیگنڈا زمیں ایک جو غلط باتیں پھیلائی جاتی ہے کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جماعت احمدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے خاندان کے بارے میں غلط نظریات رکھتے تھے یہ بات حقائق کے بالکل خلاف ہے ہے آج اس بارے میں مشہور تھوڑا سا بتا دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہل بیت حضرت امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہ کا کیا مقام و مرتبہ بیان فرمائیں اور کس طرح اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا ان کے ساتھ وابستہ ہر ایک کی سے آپ کو محبت ہوتی ہے مسیح موعود اسلام کا ایک فارسی کا شعر ہے تو جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کو دل وجان کے جمال پر فدا ہوںسمجھتا ہوں تو یہ بات حضور صلی وسلم سے محبت کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے ہے محرم کے دن ہی محرم کے دنوں سے ایک واقعہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات سے وابستہ ہے جو بہت ہی پیارا واقعہ ہے حضور صلی اللہ آپ کے اہل بیت سے محبت کا اظہار کیسے ہوتا ہے ہے وہ دلوں کو گرما دیتا ہے ہے جنسی ہمارا سلام باغ میں ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے محرم کے آغاز کے دن پیدا ہوتے پہلا عشرہ کے دن تھے آپ کی بیٹی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور ایک بیٹے کھیل رہے تھے وہ کوئی چیز لے کر آئے کہ ابا ہم نے دیکھو یہ چیز بڑی ہے ہے مسکرانے میں تمہیں بتاتا ہوں ہو اور اپنے ساتھ بٹھا لیا اور محرم کی رات تھی جو دلخراش واقعات تھے حضرت مسیح موعود سامنے بیان کرنا شروع کی ہے ہے اور بیان کرتے جاتے تھے اور آپ کی آنکھیں ہیں اور اہل بیت کی محبت سے جو منہ سے چلی آتی تھی آپ اپنی انگلیوں سے اپنے آنسو پونچھ کر چلے جاتے تھے تھے حضرت صاحب نے فرمایا آیا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا گیا یا بھوکا پیاسا شہید کیا کیا حضور نے فرمایا اس دن آسمان سرخ ہو گیا چالیس روز کے اندر قاتلوں ظالموں کو خدا تعالی کے غضب نے پکڑ لیا اور کوئی عذاب آیا کسی پر کوئی یزید کے بارے میں بار بار کہتے تھے کہ پلیز ہے چھوٹی سی بات ہے ہے محرم کے واقعے کو اپنے بچوں کے ساتھ بیان کرنا ایک تو حضرت مسیح موعود اسلام کے عشق غمازی ہے دوسرا ان بچوں کے ذہنوں میں بھی آنحضور صلی وسلم اور آپ کے اہل بیت کی محبت کو دل میں پیدا کرنا ہے اور یہ واقعہ جو مرضی تک پہنچا ہے یہ ہمارے دلوں کو بھی کرنا ہے ہمارے دل میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو نواز شریف کی شہادت تھی اس کے غم کو محسوس کرنے کی توفیق دے حرم امام حسین کے دور میں حضور کو اطلاع ملی کہ کسی نے کسی احمدی نے حضرت امام حسین کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے ہیں ہیں اسی موسم کو بہت دکھ ہوا ہوا اور حضور نے ایک اشتہار شائع کیا تبلیغ کے نام سے اور حضور نے اس میں میں کیا کیا یزید کے بارے میں کہ وہ ظالم تھا اس میں ایک بہت بڑا کام کیا ہے اس میں منانا صفات موجود نہیں تھی پھر حضور میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شان تحریر کے بارے میں جو کلمات کہتے ہیں وہ سننے کے لائق ہے میں وہ الفاظ حضور کے الفاظ میں پڑھتا ہوں مجموع اشتہارات جلسوں میں اس کا ذکر کیا ہے حضور فرماتے ہیں حسین رضی اللہ انہوں طاہر مطہر تھا تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالی اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران جنت میں سے ہے اور ہر ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلیمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم آسماں معصوم کی ہدایت کی دعا کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی جو فرماتے ہیں تباہ ہوگیا وہ دن دنحضور نے اپنی جماعت کو بتایا کہ یہ عقیدہ ہے یہ محبت ہے جو میرے دل میں اہل بیت کی ہونی چاہیے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں بیان کیا کہ وہ صرف ان وسلم کی جسمانی اولاد نہیں بلکہ روحانی اولاد میں ہیں اور کیوں نہ ہوتا کہ حضور صل وسلم کی دعائیں تھیں جنہوں نے آپ کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ آپ کو اور آپ کے بھائی امام حسن رضی اللہ عنہ کو علیہ وسلم نے بحث کے سردار عنہا سے دردانہ ہے اور جو مقام آپ کو ملا اسلم کی گود میں آنے کا اسلم کے وجود سے متحرک ہونے کا وقت آتا ہے کسی کو دیتا ہے بہت بہت شکریہ حافظ مشہود صاحب بار بار اس بات کا اظہار کرتے ہیں اور اس حقیقت کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام جن کا دعوی یہ ہے کہ میں نے جو کچھ بھی پایا ہے وہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر اور آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پایا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نہ صرف آپ کی کوئی تحریر یا آپ کا کوئی عمل یا ذات باری تعالی کے خلاف ہوں اور یہی وہ بات ہے جو جماعت احمدیہ اپنی ابتدا سے لوگوں کو بیان کر رہی ہے اور لوگوں کو اس طرح بلا رہی ہے کہ دیکھیں بنیادی بات یہ ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ زمانے میں ایک مسیح موعود اور مہدی معہود کے آنے کی خوشخبری دی ہے ہے تو ہم تو ماننے والوں میں سے ہیں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے داغ فرمایا کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی ان کے مطابق اس دنیا میں تشریف لائے ہیں کہ اس بات پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ہمارے مخالفین کو اختلاف ہے کہ وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو وہ مسیح موعود اور مہدی نہیں مانتے ٹھیک ہے لیکن اس کے سارے ماننے والے ہیں کہ ایک مسیحی ہم اور امام مہدی نے آنا ہے اب جو لوگ اختلاف رکھتے ہیں جماعتیں حدیث ہے ان کے لیے کھلا میدان ہے جو پیش گوئیاں موجود ہیں ان پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ لے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آسمان سے زندہ سلامت حضرت مسیح ناصری نہیں آنا ہے جو دو ہزار سال پہلے اس دنیا میں آیا تھا تو ٹھیک ہے آپ اس کوئی آسمان سے اتارنے کے لیے دعائیں کریں لیکن اگر ایسا ممکن نہیں ہے اور یقینا ممکن نہیں ہے تو آج نہیں تو کل آپ کون ہیں تو آپ کی نسلوں کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ جس نے آنا تھا وہ آج چکا ہے اور وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام ہیں اور ان کی وفات کے بعد خلفائے احمدیت کا سلسلہ سچائی پر مبنی سلسلہ ہے تمام لوگوں کا پروگرام میں بھی اسکرین پر دو نام دیکھ رہا ہوں خالد محمود صاحب اور پرویز صدر صاحب جن کے سوالات اس پروگرام میں پیش نہیں کر سکا انشاء اللہ ہم آپ کے پروگراموں میں شامل کریں گے حافظ سعید صاحب آپ کا بھی بہت بہت شکریہ اور ساجد محمود صاحب صاحب آپ کا بھی بہت بہت شکریہ انشاءاللہ اگلے ہفتے کے دن جی ایس ٹی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے اور لندن وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے ہم تھے یہاں لینڈ اسٹوڈیو سے پروگرام رادھا کے ساتھ حاضر ہوں گے اس وقت تک کیلئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں دل سے ہے خدا میں ختم

 213 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: