Rah-e-Huda – Kia Ilham aor Wahi Jari Hai




Rah-e-Huda – Kia Ilham aor Wahi Jari Hai

راہ ھدیٰ ۔ کیا الہام اور وحی جاری ہے

Rah-e-Huda | 17th July 2021

ہم سے نبھانا گیا خدا ہے جو نے بابا نوں جانوڑاں سم سم اللہ الرحمن الرحیم بسم اللہ الرحمن الرحیم نذر الرحمن سلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم سے آپ کی خدمت میں عظمت والدین کی خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں ہیں نظریں جب بھی اللہ تعالی کی طرف سے کوئی ماموں آتا ہے تو ہمیشہ عموما دو گروہ ایسے سامنے آتے ہیں جو اس معمول کو اس نبی کو کے ساتھ ان کا تعلق ہوتا ایک ایسا گروہ ہیں جو اس معمول کو اس نبی کو رسول کو فوری طور پر قبول کر لیتا ہے چاہے حق کے راستے کی تلاش میں لگاتے ہیں ان کے دل میں سوالات ہوتے ہیں ان کو کچھ چیزوں کی وضاحت طلب ہوتی ہیں تو اس سلسلے میں بہت سارے سوالات ان کے دل میں ہوتے ہیں اسی طرح ہم جماعت احمدیہ مسلم حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کو اس زمانے کا وہ مسیح موعود سمجھتے ہیں وہ امام مہدی مانتے ہیں جس کا ذکر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ زمانے اس زمانے میں آئے گا اور نازل ہوگا اور اس کو ہم قبول کرتے ہیں لیکن جس میں نے کہا ایک گروپ ایسا ہے جو جماعت کے مسلماں ہیں جن کا تعلق نہیں ان کے دل میں بہت سے سوالات ہیں کہ آیا حضرت مرزا صاحب وہی مسیح ہیں جن کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا تھا کہ نہیں تو اس کے لئے ہم نے جماعت احمدیہ کے کبھی بھی اس سلسلے میں کوئی میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے خوف ہے کہ وہ ہم سے رابطے میں ایک اچھی اور بری یہ پروگرام ہے جس میں آپ اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں اور خوشی ہو گی کہ آپ اس پروگرام میں شامل ہو رابطہ ہمارے ساتھ کر سکتے ہیں ہیں ٹیلی فون کے ذریعے اس کے لیے فون نمبر کی ڈیٹیل سے وہاں پر آپ کو نظر آتی رہیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے لیے مزید سہولت ہے تو شک میں ٹیکس میسج کردیں اور ہم سے سوالات کریں ہمیں بہت خوشی ہوگی تاکہ ہم آپ کے سوالات کے جوابات دے سکیں جواب دینے کے لئے ہمارے ساتھ حصوں میں ہمیشہ کی طرح ہمارے ملک میں آنے سے اصلاحی سے خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں پروگرام مکرم صاحب فی مفکر فضل الرحمان صاحب کے اسٹوڈیو میں اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اور اسی طرح ظلم ہمارے ساتھ ٹیلیفون لائن پر عمل ہونگے مکرمہ شمشاد احمد صاحب شمشاد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیکم آج ہم اپنے پروگرام میں مختلف ایسے سوالات اپنے دل سے کریں گے جو وقتن فوقتن مختلف پہلوؤں سے جماعت احمدیہ اور بالخصوص بانی سے اصلاح حضرت علی مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے کیے جاتے ہیں ان کو ہم یہاں پہ آپ کی خدمت میں ایک سوال جو عموما ہم دیکھتے ہیں پہلے بھی کیا جاتا ہے آج کل سوشل میڈیا پر بھی ان سوالات کو کیا جاتا ہے اور جب ان کو عبور کرتے ہی رہتے ہیں آپ سے تو وہ کہتے ہیں کہ وحی اور الہام کا سلسلہ کوہ اب نہیں مزید ترقی آج کل کے دور میں اس وقت تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لیکن اب باقی نہیں ہیں اس میں وہ کچھ حوالے بھی بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اس حدیث سے منسلک روپے ایک جگہ پہ آئے گا وہی باتیں کے الفاظ اور اس کو کہتے ہیں تو ممکن ہی نہیں ہے تو آپ سے میری درخواست ہوگی کہ اس پہلے کے مزید گفتگو کو آگے بڑھائیں آپ اگر ہمارے ناظرین کو بتا سکیںزمانے میں بی الہام اور وحی وغیرہ کا تسلسل ہے وہ جاری ہے اور جاری ہوسکتا تھا عطا کی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خداتعالیٰ کی جو صفات ہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات کی طرح ازلی ابدی ہے ہے اور کوئی بھی اس کی ہے وہ یہ نہیں ہے ان میں سے ایک صفت متکلم بھی ہے یہ جیسے ماضی میں ہم کلام ہوتا تھا آج بھی اسی طرح ہم کلام ہوتا ہے اور قیامت کے دن تک کسی طرح خدا تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں سے ہمکلام رہے گا قرآن کریم میں اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر ایک نہیں بتا دو مقامات پر منتقل کرکے جاری کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالی اپنے آپ کو غیب کی خبروں کی اطلاع دیتا رہتا ہے اور اولیاء اللہ تعالی اولیاء اللہ جو ہوتے ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کرتا ہے لیکن جو غیب کی خبروں کی کثرت ہے یہ حضرات اپنے انبیاء کو عطا کرتا ہے قرآن کریم میں فرماتا ہے عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احد الا رسول ہے اور اپنے غیب پر کسی کو غلبہ نہیں دیتا آپ کے جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شریعت مکمل ہوگئی اب قرآن کریم جو ہے وہ قیامت کے دن تک قابل عمل ہے اور اس کی ہدایت کا سلسلہ جاری رہے گا اور جو اس کی ہدایت پر عمل کرتا ہے اللہ تعالی سے مکالمہ اور علم و فضل کر سکتا ہے یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے تو شریعت جو ہے وہ مکمل ہے لیکن خدا تعالیٰ جو ہے اپنے محبوبوں سے اپنے پیاروں سے ہمکلام رہتا ہے قرآن کریم میں سورۃ قدر میں مثلا رمضان میں اور خصوصاً لیلۃ القدر میں اللہ تعالی فرماتا فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور جبرائیل کا اللہ تعالی فرماتا تنزل الملائکۃ تو اگر خدا تعالیٰ نے بولنا نہیں تھا ہم کلام نہیں ہونا تھا تو پھر یہ جو لاکھوں عاشقان توحید رمضان کے سامنے دعائیں کرتی ہیں اعتکاف بیٹھتے ہی ہوتے ہیں اور اللہ تعالی فرماتا ہے اس میں فرشتے بھی اترتے ہیں اور برائی بھی اترتا ہے تو فرشتوں کے نزول کا مقصد کیا خدا تعالی نے بولا نہیں تو خدا تعالیٰ کا جو کلام اور اپنے بندے سے جو کلام کرنے کا ذریعہ وہ تو فرشتے ہے اور اللہ تعالی اس میں فرماتا ہے کہ وہ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ جبریل آتا ہے اور وہ اپنے اپنے جو اس کے پیارے ہوتے ہیں اللہ ان کے ذریعہ ہم کلام ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو اس کی راہ میں ثابت قدمی دکھاتے ہیں اللہ تعالی ان کو تسلی دیتا ہے فرشتوں کی زبانی ی9و فرشتے ان کو کہتے ہیں کوئی غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے اللہ تعالی کی تم لوگوں کے ساتھ ہے دیتے ہیں اللہ تعالی اور روح کے نزول کا وعدہ قرآن کریم میں فرماتا ہے فرماتا ہے رفیع الدرجات ذوالعرش کا روحانی عمل جو ہے بہت بلند ہے عرش والا ہے وہ اپنا روح اپنے حکم کے مطابق جسے چائے اس کے حکم سے اس پر وہ آتا ہے نہ دل کرتا ہے ابھی ساز روح کی تفسیر ابن کثیر اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں اپنی کتاب تفسیر کبیر میں ہے کہ روس سے مراد وہی ہے اور یہ اللہ تعالی کا کلام ہے تو باقاعدہ اللہ تعالی کی کی جو ہے وہ قرآن کریم کہتا کہ نازل ہوتی رہتی ہے یہ کبھی کسی طرح بند نہیں ہو سکتی اسی طرح اللہ تعالی فرماتا ہےمیں مختلف انعامات نازل ہوتی رہتی ہے تمام انعامات کا نزول اس آپ کی امت میں ہونا لازمی ہے اب ہم جب دیکھتے ہیں تو بنی اسرائیل میں عورتوں کو الہامات ہوئے حضرت مریم نے اس پر وحی نازل کی پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے شہد کی مکھی پر بھی اللہ تعالی نے لائیو ہی نہ تھا وہ عربوں کا اللہ رے یہ کیسا ان کے خیر امت ہے نعوذ باللہ کے ججز کے پہلی قوموں کے تو عام لوگوں پر بھی ہوئی اور تم پر بھی نہیں ہوئی حیوانات پر بھی ہوئی لیکن کی خیرات ہونے کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ یہ سلسلہ بند ہوگیا یہ درست بات نہیں کوئی بات نہیں اللہ تعالی خود فرماتا ہے ادعونی استجب لکم اگر وہ بول نہیں سکتا تو پھر دعا کرنے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے انسان کے اندر وہ اگرچہ وہ دے وہ جو ایک حرارت ہوتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے جب چلا رہا ہوں آپ نے یہ تو مثال دیکھا جائے تو مثال ہے کہ آپ کسی گھر کے پاس جائیں اور دروازہ نہ کریں اور بتاؤ کیا آپ میری کوئی بات نہیں بنتی اسی طرح اب ہو جائے گا میں چند ایک احادیث کا تذکرہ ذکر اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا کہ وہ جو جبرائیل جو آنکھ تو ان کو پریشان فارما کی حج بیان کر تیرے ساتھ ہے اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی پر نازل نہیں ہو سکتا تھا تو بھی لانا اور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حضرت حسان بن ثابت کے متعلق یہ کیسے فرمایا اور بعد میں صحابہ نے حضرت حسان بن ثابت سے پوچھا تھا کہ بالکل جبریل کی تائید میرے ساتھ تھی پھر اسی طرح بہت حدیث مشہور ہے کہ جبرائیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دین سکھانے آئے اس میں بہت سے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے حضرت عمر کی روایت ہے انہوں نے ایمان کیا ہے نماز کیا ہے سوال کیا اس میں موجود تھے کہ انسان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ جانتے یہ سفید لباس میں کون سا ہوتا تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ہمیں تو نہیں آیا تھا تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جبرائیل صفا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول فرماتے تھے لیکن دوسرے دین اور شریعت کے لیے کے بارے میں تو اعلان فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اس پر بھی نازل فرمائے گا حضرت مسلم کی حدیث ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ جب وہ دجال کے ساتھ آپ کا ہوگا تو فرمایا اضافہ لا الہ الا اللہ کرے گا کے بغیر وہ کس طرح آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے محفوظ ہیں جب انسان نے اعلان فرمادیا کہ اس آنے والے موعود کو خدا تعالی بتائے گا خدا تعالیٰ کی نازل ہوگی تو کس طرح ہم انکار کر سکتے ہیں کہ قلندرانی کلام نہیں ہو سکتی ہے صنم تیرے انکار کی گنجائش نہیں رہتی اور اس کے ساتھ ساتھ میں آپ سے میں پوچھنا چاہوں گا کہ ٹھیک ہے علامات اور اسلامی طور پر بیان کیا کہ قرآن مجید سے بھی چیز ملتی ہے تو شاید ہمارے ناظرین کے لئے غیر جماعتی انتخابات کے لیے یہ میں جانے کے لیے کیا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے بھی تو گزرے تھے آیا اور امی بھی اسی وقت سلسلہ وحی اور الہام کام ملتا ہے نظر آتا ہے اور ایک اور چیز جس میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے نظر سے موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام ہے کہ جو قرآن شریف ازالہ میں آپ نے ذکر کیے ہیںاردو جاننے والے جو زیادہ اس وقت مخاطب ہیں ان میں کوئی دیوبندی ہوگا کوئی بریلوی ہوگا کوئی اہل حدیث ہوگا کوئی شیعہ ہو گا یہ ان سب لوگوں کو مانتے ہیں جن کا میں تذکرہ کروں گا یہ تذکرہ شروع ہوگا میں نے دوسری میں نہیں بلکہ ہر صدی میں موجود ہیں کریں گے شیخ عبدالقادر جیلانی جس کو غوث اعظم کیوں کہا جاتا ہے بلکہ کتاب ہے عمران خان بریلوی لکھی عرفان شریعت اس میں اس بات پر بحث ہونے والی خوب اٹھائی ہوئی ہے کیا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی بڑے ہیں جو صدیق اکبر نے ہی حضرت مجدد الف ثانی کے حوالہ جات ہیں ماموں شافعی رحمہ اللہ کے ہیں مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ عبدالوہاب شعرانی خواجہ میر درد ہی مجھے سارے مرگ انبوہ ہیں جو نہ صرف وحی و الہام کے قائل تھے بلکہ انہوں نے اپنے مشاہدات کو نوجوان پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی اس کو بھی بیان کیا ہے کہ سحری کے سرتاج صوفیان کو کہتے ہیں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب فتوحات مکی r0man آتے ہیں کہ طنز القرآن عالم تھا کہ قرآن کریم کا نزول کون ہیں محفوظ لاہوتی اس کے پرانے محفوظ ہے پھر کون ہوتا ہے یہ اس لیے کہ اولیاء کو بھی قرآن کریم کا مزہ چکھ لیا جائے اور اس کی وحی ہوتی ہے پھر وہی کا بھی تذکرہ کیا ایسی کتاب جو ایک مثال دیتا ہوں اس کتاب میں سے فتوحات مکیہ میں سے معراج روحانی ھوا ان کو اس کا تذکرہ کرتے ہیں کہتے ہیں اللہ علیہا-1 یہ آیت بھی یہ الفاظ بھی یہ وہی بن ازور کو کیسے آتی ہے کتاب فتوح الغیب کا بیان کر رہے ہیں کہ لازمی کو بتایا کہ ایک مثالی بہت ساری مثالیں کے ناصرف یہ کہ الہام اور وحی کا سلسلہ بند کیا اور یہ بہت دلچسپ ہے ویسے مثال بیان کر رہے ہیں جس بزرگ کہتے کہتے ان میں سے ایک چاول کا کیا جاتا ہے دیکھ کیسی ہے تو ہر چیز بیان کیے جا رہے ہیں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں تو میں انسان اگر خدا تعالیٰ کی محبت میں اس کی راہ میں ترقی کرتا ہے اس کا پیاسا بن جاتا تو پھر کیا ہوتا ہے کہ وہ نبی اور رسول صدیق کا وارث ہو جاتا ہے اسی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے محبت میں چلا جاتا ہے تو پھر تو خوابوں کو مخاطب کیا جاتا ہے کیسے میں بیان نکل جاؤ لگائے نہ تو آج ہمارے ہاں ایک مریض پر فائز ہیں تو اس کی یاد میں چھپا ہے چور چور ہی برس میں یعنی سنہ1966 کہلاتے ہیں ان کے گھر میں بیٹے کی پیدائش ہوتی تھیں تو ان کو الہام وسلم رجم کی آیت نمبر 8 اس پر اپنے بیٹے کا نام محمد یار کا جو شاہ محمد یحییٰ کے نام سے مشہور ہے وقت ملا جب سے 12 ربیع الاول شافعی رحمہ اللہ کے دور میں ان کے شریر وہاں تک جاری تھی اور ان کے مخالف بادشاہوں نے آپ کو تنگ کیا تو امام شافعی کی روایت لکھی ہے کہ آپ نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہیں آپ کیا ہے آپ کو مخاطب کرکے کہتا ہےبعض لوگوں نے کہا ہے کہ ہست قرآن در زبان پہلوی کے اس کو تو پرانے کریم سمجھے اس میں مختلف مدارج کا تذکرہ معرفت کی باتیں تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ نومبر سنہ ملازمین خواب وحی حق واللہ اعلم بالصواب بیان کر رہا ہوں یہ کل تو نہیں ہیں یہ خواب نہیں ہیں یہ دکھ بندیاں نہیں ہیں اللہ جانتا ہے یہ تو وہی حق ہے اسی طرح امام حضرت خواجہ میر درد کے بے شمار ان کی کتاب المعلم کتاب حسن صادق2018 فخر مریم علیہ السلام کا اللہ تعالی کے ساتھ ایک مکالمہ سورۃ المائدہ کے آخر میں درج ہے ہے وہی الفاظ ان میں سے حضرت خواجہ میر درد پر بھی نازل ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کے والد کی شناخت کے مصدر ہم نے تجھے لوگوں کےلیے نشان بنایا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کیا فرمایا رب تعالی نے خداسے مخاطب ہو گا تعالیٰ علیہ سلام کا جواب تو وہی انڈیا اس پر خدا کی مار کہاں تک درست ہے اس کے ساتھ ان کے دل میں جو بھی امت کے لیے پیدا ہوئے فوری طور پر یہ دعا کی انتہا جن میں سے چند مثالیں بیان کی ہیں صرف اسی کی مناسبت سے اس حدیث سے ایک گانا دیکھ کر ایک چیک کر سکتے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے مجھ سے فرمائے ان کے لیے کہ اگر تھوڑا سا تو نظر آتا ہے ایک نہیں کئی مثالیں ہیں جس ہم نے بہت بری چیز کو جاری رکھیں گے ین آپ سے درخواست کرنا چاہوں گا کہ اگر آپ کے پاس بال ہو یا یہ آپ کی کوئی بات ہے تو ہم سے رابطہ کریں فون لائن پر ہمیں بہت خوشی ہوگی کہ آپ کا سوال اس میں شامل کریں کہ ٹیکسٹ میسج بھی کر سکتے ہیں تفصیلات آپ کو نظر آرہی ہوگی ایک فون کال پر ظلم ہمارے ساتھ ہیں جن کو میں استعمال کرنا چاہتا ہوں غلام فاروق صاحب ہیں جن میں سے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ حافظ صاحب آپ کو آواز آرہی ہے اسے سے ٹھیک ہے شاید ابھی لائن نہیں ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں ہم اپنی گفتگو کو یہ آگے بڑھاتے ہیں اور مذاہب میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہوں گا گفتگو کا ایک اور عجوبہ سکتی ہے اور ہمارے غیرت مند افراد جو کرتے ہیں وہ لفظ لیں اور بروزی کا ہے اور اس سلسلے میں جو اعتراض کرتے ہیں کہ یہ جو لفظ کا اور بروزی کا جو مومن الزامات کے سلسلے میں بات کرتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے سلسلے میں بھی ہماری بات کرتے ہیں تو غیر سے جماعت افراد کہتے ہیں کہ یہ الفاظ جو آپ استعمال کر رہے ہیں یہ تو اسلامی الفاظ ہی نہیں یہ تو دیگر مذاہب میں سے لیے گئے ہیں تو آپ سے شمشاد سے میرا سوال یہ ہوگا کہ آپ آزاد کرنے کے آیا یہ الفاظ سے کیا مراد لیتے ہیں اور آئی الفاظ ہیں ہیں یا نہیں نہیں ہاں جی یہ ہے کہ یہ کہنا کہ یہ اصطلاحیں انجلی اور بروزی کی یہ اسلامی اصطلاح نہیں ہیں یہ آدمی علم کا نتیجہ ہے ہے ورنہ اس ان باتوں کی نسلوں کی بنیاد قرآن کریم میں موجود ہے اور متعدد بار گانا مت نے یہ بہت وضاحت کے ساتھ یہ باتیں بیان کی ہیں کہ جن کس کو کہتے ہیں اور بروس کس کو کہتے ہیں اس کی اقسام ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ نہ ہے یہاں تک کہ قرآن کریم کو دیکھتے ہیں جو قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلم تقتلوہم ولکن اللہ قتلہمان کی ہے وہ تو نے نہیں پھینکی وہ اللہ نے پھینکی ہے یہاں اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو بھی اپنا قرار دے رہا ہے اور صحابہ کے فیل کو بھی اپنا قرار دے رہا ہے ہے اسی طرح ایک اور جگہ پر سورہ فتح میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ان اللہ زین ایوب بھائی ہونے کا الزام حیوان اللہ یا اللہ فوق ایدیھم ہے کہ وہ لوگ جو تیری بات کرتے ہیں وہ اللہ کی بیعت کرتے ہیں اور اس کے ہاتھ کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے اب یہاں واضح طور پر اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنا گویا اللہ کی بیعت کرنا ہے اور وہ صحابہ جن کے ہاتھ کے اوپر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ رکھتے تھے بیٹھ کے وقت اسحاق کو یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو اللہ تعالی اپنا حق قرار دے رہا ہے ہے اب یہ اکانومی ہے کیا حضور صلی اللہ وسلم کے بارے میں یہ صحابہ کے بارے میں ان الفاظ کو دیکھتے ہوئے کوئی نعوذباللہ میں ڈالنے کے الزام لگا سکتا ہے کہ آپ نے کوئی خدا ہونے کا دعویٰ کردیا اپنی وہی میں یا صحابہ کے خدا ہونے کا دعوی کردیا ہے بالکل نہیں نہیں اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی جہاں لفظی اور معنوی استعمال فرمایا ہے بالکل ہی معنوں میں استعمال فرمایا ہے جن معنوں میں اللہ کا نام حضور صلی اللہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے بارے میں استعمال کیا گیا ہے ان کا مطلب کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے وجود میں اس طرح فنا ہو گئے کہ اپنا کچھ باقی نہیں رہا اور خدا کی مرضی آپ کی مرضی ہوگی یہی کہتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اہلیہ کے ساتھ تھی کیونکہ جب تک یہ نیا حضور صل وسلم کے بعد اب کوئی خدا کے اندر فنا نہیں ہو سکتا جب تک وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ عنہ ہو جائے اور آپ کی پیروی نہ کرے خدا کی محبت حاصل نہیں کر سکتا یہ بھی قرآن کریم نے فرمایا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہی معنوں میں بلاؤز کا لفظ استعمال فرمایا ہے کہ میرا کچھ نہیں رہا اب مکمل طور پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کے مطابق کی رضا کے مطابق آپ کی شریعت کے مطابق آپ کا ہر عمل قرار دیا ہے اسلام کے اندر باقی بزرگان یا یہ قوالیاں گزرے ہیں وہ اس اصطلاح کو استعمال کرتے تھے ظل اور بروز کی تو اس معاملے میں یاد رکھنا چاہیے کہ نہ صرف استعمال کرتے تھے بلکہ پوری وضاحت کی ہے کہ بھروسہ اس کو کہتے ہیں دل کس کو کہتے ہیں اس سلسلے میں چند مثالیں دوں گا گا مبارک علی صاحب انہوں نے اس علم کی شرابی تحریر کی ہے اب یہ کتاب خزائن اسرار علم اس میں انہوں نے پورا ایک چیپٹر بندہ ہے پورا باب ہے جس کا عنوان ہے کہ اٹھارہ مراقبہ مسئلہ بروز اور مسائل کے بیان میں یہ پورا چیپٹر اس کے اندر یہ ہے جو اسی مسئلہ کے بارے میں ہے کہ روس کیا ہوتا ہے کیسے بنتا ہے نہ پھر حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ وسلم کی کس نے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بروز کی کی قسمیںفرما رہے ہیں حضرت امام مہدی علیہ السلام جو ہیں وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بروزی طور پر مکمل اتفاق کرتا ہوں گے وہ آپ کی نسلوں گے آپ کی طرح ہوں گے پھر اسی طرح خواجہ غلام فرید صاحب مزید 13 مقابیس المجالس و اشارات فریدی کے نام سے معروف ہے اس میں فرماتے ہیں کہ حضرت آدم صفی اللہ سے لے کر خاتم النبیین آیت امام مہدی تک حضور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بارے میں یہاں پر فرماتے ہیں کہ آپ نے حضرت آدم علیہ السلام نے کیا ہے اور پھر آپ نے اس کے بعد دیگر انبیاء کا ذکر کیا اس کے بعد لکھتے ہیں کہ پانچ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر امام مہدی تک جتنے انبیاء اور اولیاء قطب ہوئے ہیں تمام روح محمد کے مظاہر ہیں اور روح محمدی نے ان کے اندر بروز فرمایا ہے ہے کہ نہ صرف اس کا ذکر کرکے فرمایا کہ حضرت آدم سے لیکر اور حضرت امام مہدی علیہ السلام تک پہلے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی اور بعد میں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح پھر مدرسہ دیوبند کے دارالعلوم دیوبند کی زبانی ہی مولانا قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں کہ انبیاء میں جو کچھ ہے وہ اور بھی ہیں یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کے باقیات پہلے بھی اور بعد میں آگاہ رائے وہ بھی آپ کا ہی دن ہوگا پھر مولانا قاسم نانوتوی صاحب کے لیے گئے ہیں قاری محمد سعید صاحب انہوں نے آنے والے مسیح موعود کی شان کے بارے میں لکھا ہے کہ جب مسیح علیہ السلام دوبارہ آئیں گے تو وہ نہ صرف یہ کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اور بروز ہوں گے بلکہ مکمل طور پر شان خاتمیت رکھتے ہوں گے وہ لکھتے ہیں ان کی کتابیں تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام اس کے صفا 229 بے وفا لکھتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ جب خاتم تجعلین کا اصل مقابلہ تو خاتم النبییین سے ہے مگر اس مقابلے کے لیے نہ حضور صلی اللہ وسلم کی دنیا میں تشریف لانا مناسب نہ صدیوں باقی رکھا جانا چاہیے انسان شکست دجالیت کی صورت وجود اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ اس جان اعظم کو نیست و نابود کرنے کے لئے امت میں ایک ایسا خاتم المجددین آئے جو خاتم النبیین کی غیر معمولی کے اندر جذب کئے ہوئے ہو ہو اور ساتھ ہی خاتم النبیین سے ایسے مناسب تھی تاہم رکھتا ہوں کہ اس کا مقابلہ بھی نہیں خاتمننبین کا مقابلہ ہوں اب یہاں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ جو دجال ویسے بہت سارے ہوتے رہے ہیں لیکن آخری دور میں دب جائے گا وہ بہت بڑا اعظم ہوگا جس کو وہ لکھتے ہیں کہ اعتماد دجالین ان کا مقابلہ کرتے ہیں کہ حضرت رسول پاک وطن واپس آئیں گے نہیں اور میں کے جوہر دکھانے والے مسیح موعود ہوں گے وہ اس کا نام تجعلین کا مقابلہ کریں گے تو ان کا مقابلہ کرنا گویا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے تو وہ حضورصلی اور قرار دے رہے ہیں آنے والے مسیح موعود کو اسی طرح بریلوی بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم کی دو باتیں ہیں ہیں اور یہی وسلم کی شان ہے لکھتے ہیں کہ یہ نشان میں سب سے بڑا نبی وہ ہے جس کی ایک دوسری قسم کی ہر قسم کی بات بھی ہوگی اور وہ اس طرح ہے کہ مراد اللہ تعالیٰ کی دوسری باسط میں یہ ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانے کا سبب ہو اور اس کی قوم خیر امت ہو جو تمام لوگوں کے لئے نکالی گئی ہو لہذا اس نبی کی پہلی بات دوسری بات کو بھی لیے ہوئے ہو گی یعنی گویا اس میں آپ نے واضح طور پر بیان کر دیا کہ آنے والا میسیج ہوگا وہ اور مسجد معاویہ علیہ السلام و حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا حل اور بروز ہوگا اور گویا اس کی صورت میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بات ہوگیانشاءاللہ گفتگو کو آگے بڑھاتے لیکن اب اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں نظم ہم اپنے جوان ذریعے ان کے سوالات کو بھی ساتھ ساتھ ضرور شامل کرنا چاہتے ہیں مثال کے طور پہ میں سوالات جو میسج کس سورۃ میں وسیم صاحب جن سے و ہ مل گئی اور روح القدس کے حوالے سے سوالات ہم تک پہنچ چکے ہیں اور ان کو ہم پروگرام میں شامل بھی کریں گے اسی طرح کالج کی مرضی شامل ہیں عبد الرشید ترابی کیسے اور غلام فاروق صاحب جن میں سے اور ابھی ہم نے ان سے لائن پیٹ گیا تو نہیں ہو تو میں دوبارہ سے پوچھوں گا غلام سرور صاحب سلام علیکم آپ کو میری آواز آرہی ہے ہے اب مجھے آپ جی اپنا سوال کر دیں دی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی اس وقت مدینہ میں کیا صورتیں کس طرح کی حکومت کی واضح اور مسلمانوں کی تعداد کیا ہوگیا علامہ صاحب سے سوال ہی مل گیا آفیس میں آپ سے بات کرو ایک سوال یہ ہے کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی تو اس وقت مدینہ میں کونسا نظام ہے اور اس طرح مسلمانوں کی تعداد کے حوالے سے پوچھنا چاہتے ہیں وہ کتنی تعداد تھی تو سب سے منظر عام پر صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اس میں پہلی بیعت عقبہ اولیٰ کہتے ہیں جس میں بارہ کے قریب تعداد بتائی جاتی ہے اسی طرح پھر اگلے سال مزید لوگ ہیں اور ان کی تعداد 70 بتائی جاتی ہے جنہوں نے آج اور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو یہ تو وہ تاریخوں میں آتا ہے اس کے چند ایک مسلمان ہوں گے جب حضور صل وسلم کی ہجرت سے پہلے پہلے لیکن باقاعدہ جو مردم شماری ہوئی ہے وہ غزوہ بدر کے بعد ہوئی ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد پانچ سو کے قریب جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم دم شماری کرائی ہے تو پندرہ سو کے قریب دی غزوہ بدر کے بعد جو وہاں کا نظام رائج تھا وہ کوئی باقاعدہ اس طرح حکومتی قوانین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے نہیں تھے وہ قبائلی نظام جو ان کے قبائل کے اندر ہر قبیلے کا ایک کردار ہوتا تھا جو ان کے جھگڑے ہوتے تھے ان کے مطابق فیصلہ وغیرہ کرتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو باقاعدہ ایک معاہدہ ہوا ہے تمام قبائل کے ساتھ یہود اور جس نے مدینہ میں بسنے والے تھے اور وہ ریاست مدینہ کی بنیاد جو ہے وہ ان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے رکھی گئی تھی اور پھر اس میں شرائط رکھی گئی تو وہ شرح تحریر کی گئی اور ان کے مطابق کوئی باہر سے دشمن حملہ کرے گا تو کیسے دفاع کرنا ہے کس طرح آپس میں رہنا ہے اگر کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو کس کے پاس آنا وہ باقاعدہ شرائط کی صورت میں اور اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ باقاعدہ جو مدینہ کا نظام ہے وہ قانون کے اعتبار سے وہ ان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے یہ مٹی پایا اس سے چلتا تھا اس طرح سے ہیں وہ نظام اخراج تھا ٹھیک ہے اللہ حافظ ہے اس کے بعد ہم ایک دوسرے کا لباس ہیں یونائیٹڈ کنگڈم سے یوکے سے مقرر عبدالرشید صاحب ان کو ملنا چاہیے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ عبدالرشید صاحب یوکے سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ علیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہیں لیکن ہو کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بھائی صاحب یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بڑا بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام ہے کیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف لانے کے درمیان کتنے نبی آئے تھے اور ان کی کیا کیفیت تھی اس بارے میں وضاحت فرما دیں جزاک اللہ احسن الجزا قاسم اویسی صاحب بہت شکریہ آپ کے سوال کا جواب کی اجازت ہے وہ عالمی نبی کے طور پر ہوئی ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل بھی نبی تھے آپ کے دوسرے ہاتھ بھی نبی تھے صاحب کی اولاد میں سے یعقوب یوسف آباد میںعلیہ السلام کی اولاد میں سے جس اولاد میں سے حضور صلی وسلم بعد میں پیدا ہوئے ہیں اس میں سے کوئی نبی نہیں گزرا ہے تو میرے علم کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کوئی رسول نہیں تھا اسماعیل علیہ السلام کے بعد ایک نبی ہیں ٹھیک ہے پھر اسی طرح ڈاکیہ سوالات ہیں وہ کبھی ہم شامل کرنا چاہیں گے اور نہ آپ سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ آپ کے بھی کسی قسم کا کوئی سوال ہے یہ آپ فون کرکے آپ کو بہت خوشی ہوگی جیسا کہ میں نے کہا کہ اس قیام کا مقصد یہی ہے وہ اداکار جو حرم سے معافی لکھ دو سوالات ہیں ہم تک پہنچاۓ ہم سے گفتگو کریں اور پھر جو کسی قسم کی اگر آپ ہی وہ ہم دور کرنے کی کوشش کریں گے اللہ کے فضل سے جو ہے وہ میں ٹیکسٹ میسج کرکے صورت میں ملا ہے جن میں سے ہیں وسیم صاحب ہیں جو سوال کرتے ہیں اور کچھ نہیں کہ روح القدس جو اکثر استعمال کرتے ہیں اس سے کیا مراد ہے اس سوال کے ساتھ میں خاص کرم شمشاد قمر صاحب سے کے ساتھیوں آپ اس سوال کا جواب دے سکے وسیم صاحب کا کہ روح القدس سے کیا مراد ہے ہے بات یہ ہے کہ روح تو زندگی عطا کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سے ان اللہ تعالی جب کسی چیز میں اپنی روح پھونک دیتا ہے تو وہ چیز زندہ ہو جاتی ہے ہے اب اس میں دو چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے ایک ہے جسمانی طور پر کسی کا زندہ ہو جانا لیکن جب جسمانی طور پر زندہ ہوتا ہے اور وہ جسمانی طور پر انسان کہلاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی نظروں میں وہ بھی انسان نہیں بنتا اس لیے کہ جو انسان جس مقصد کے لئے خدا نے پیدا کیا تھا جب تک وہ اس مقصد کو دیکھتا نہیں اس کو سنتا نہیں اس کو پہچانتا نہیں اس کے مطابق بولتا نہیں ذکر الہی نہیں کرتا کتا تو اس وقت تک خدا کی نظروں میں کوئی انسان انسان نہیں ہیں ہیں اس لئے اس کے اندر دوسروں کا فون کا جاننا ضروری ہوتا ہے ہے اب جسم پیدا کر دیا اس جسم کو پیدا کرنے کے بعد اللہ اس میں روح ہوتا ہے تو جسم زندہ ہوگیا بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کے بعد جو دوسری روح ہے کہ وہ اس کی روحانیت کو زندہ کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے ہے تو وہ پھر اللہ تعالی ایکس کو روح القدس فرماتا ہے وہ اپنے انبیاء کے اوپر نازل کرتا ہے یہ دراصل حضرت ابراہیم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آتے ہیں وہ یا ان کے اضلاع ایسے ہیں جو پاکیزہ وہی لے کے آتے ہی اس غزل کو پھر آگے پھیلاتے ہیں اس میں مدد کرتے ہیں تو وہ ضرور جو ہے وہ جسمانی طور پر ضرور ہے اس کو تو انسان اپنے اعمال سے گندا کر دیتا ہے غلط استعمال کرتے ہیں تو اپنی روح کو بھی خراب کرتا ہے لیکن وہ تو پھر اس کے بعد خدا تعالی کی طرف سے پاک ہو آتی ہے میرا کہنے کا یہ مقصد ہے کہ پہلے یہ بات نہیں ہوتی وہ بھی باقی ہے لیکن وہ انسانیت صرف میں ہوتی ہے جو دوسری روح آتی ہے خدا کی طرف سے وحی لے کر اس کا پیغام لے کر اس کے نیک بندوں پر اترتی ہے ہے اس نے انسانوں کا دخل نہیں ہوتا ہے اس کو حلال کہا جائے گا ابراہیم علیہ السلام کو اسی لئے ان کو تو کہتے ہیں اس لیے میں جو عرض کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جب انسان جسمانی طور پر تو زندہ ہو گیا لیکن اس کا جسمانی طور پر زندہ ہونا ایسے ہی ہے جیسے حیوانوں کا زندہ ہونا ہے ان کی بھی آنکھیں ہیں انسان کبھی آنکھیں برستی ہیں ان کے بھی کہا نہیں انسان کے بھی کان ہوتے ہیں ان کی زبان ہے انسان کی زبان ہوتی ہے لیکن انسان کی زبان آنکھ کان وغیرہ میں فرق ہے اس سے جو حیوانوں کو عطا کیا گیا ہے حیوانوں کو کسی اور مقصد کے لیے دی گئی چیزیں انسان کے اندر یہ چیزیں کسی اور مقصد کے لیے پیدا کیا انسان اشرف المخلوقات ہے عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے باقی چیزوں کو انسان کے لیے پیدا کیا گیا ہےپنجاب کی طرف سے بھی اس کا ایک ایک لمحہ بن جاتا ہے اس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے جو قوم متحد ہو جاتی ہے روحانی طور پر اس طور پر مردہ قوم کو پاکیزگی عطا کرنے کے لیے ان کی روح کو گندے کام کرنے کے لئے پھر وہ لوگوں کو دہراتی ہے وہ اپنے نبی کے اوپر اللہ آتا ہے پھر نبی کے ذریعے دوسرے لوگوں کو جو اس کی طرف آ جاتے ہیں سن لیتے ہیں جو اس کی طرف کام کرتے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے نشانات کو اس کو بیان کرتے ہیں تو وہ پانچ ہزار روپے نون کے جسم کو بھی ان کی روح کو بھی پاکیزہ کر دیتی ہے اور اس کو زندہ کر سکتی لیکن جو روح القدس کی آواز پر کان نہیں دھرتے اس نبی کی آواز پر جو کل مطلب ہوتا ہے وہ بھی بن جاتا ہے اس کی آواز پر کان نہیں رکھتے تو ان کی آنکھیں ہیں کہ ان زبان ہونے کے باوجود اللہ فرماتے ہیں عثمان بکم عمیون فہم لا یرجعون ہو کہ یہ بہرے ہیں گونگے ہیں بلکہ جسمانی طور پر تندرست برے نہیں ہوتے لیکن کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے روحانیت پر نہ دیکھتے ہیں نہ سننے کی کوشش کرتے ہیں نہ اس کو بیان کرتے ہیں تو پھر وہ خود سے نہ بول رہے ہوتے ہیں نہ سن رہے ہوتے نہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں لاہور قلوب لا یفقھون ابی ان کے دل تو ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں سوچتے نہیں لائے اور اللہ کے حکم سے نہیں ہیں لہٰذا ان کے بیان کے کان ہیں ان سے ملتے نہیں اور لا کا کلام میں یہ بالکل چوپایوں کی طرح ہیں بلحاظ لو بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں تو اللہ تعالی ایسے انسانوں کو بظاہر جسمانی طور پر تو انسان ہیں لیکن خدا فرمائے گا آنکھیں نہیں ہیں نہیں ہیں ان کی زبان نہیں ان کے دل نہیں ہے یہ بالکل حیوانوں کی طرح ہی چوپایوں کی طرح ہیں ان سے بھی بات کرکے چوپائے تو کم از کم دس منٹ تک کے لیے پیدا کیے ہیں اس کو پورا کرنے کے لئے انسان ہوتے ہوئے تو سب کو پورا نہیں کر رہے تو خدا اس کو انسان کو انسان نہیں سمجھتا اس کو زندگی نہیں سمجھتا اس پاکیزہ زندگی دینے کے لیے ایسے لوگوں کو اللہ تعالی آپ کو منتخب کرتا ہے ان کے اوپر جو روح اترتی ہے جو فرشتہ اترتا ہے جو ہے اس کو روح القدس کہیں گے وہ پاکیزہ روح ہوتی ہے اس پر انبیاء علیہم السلام پر اترتی ہے اور کولمبیا کے ذریعے ایسا کلام عطا کیا جاتا ہے جو اس قوم کے لوگوں کو پاکیزہ کرتا ہے اور پھر قوم کے اندر ایک نئی روحانی زندگی پیدا ہوجاتی ہے جس طرح وہ لوگ جو جسمانی طور پر تو زندہ تھے لیکن روحانی طور پر ہوتے ہیں تو ان میں یہ روح القدس جب ان کی جاتی ہے خدا کی طرف سے اس کے نبی کے ذریعے سے تو وہ لوگ جسمانی طور پر زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی طور پر بند ہو جاتے ہیں وہ قومیں جو جسمانی طور پر زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی طور پر مردہ دل تو وہ قوم روحانی طور پر زندہ ہو جاتی ہیں اس لئے انبیاء جاتے ہیں تو وہ انہیں مردوں کو زندگی عطا کرتے ہیں اور یہی وہ پاکیزہ روح ہوتی ہے جو ان کاموں کے اندر ایک نئی زندگی کی روح نکلتی ہیں کہ نئی زندگی کا آغاز کر دیتی ہے اور وہ ہے روزہ دیکھا اور میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے یوٹیوب کو یہ بات کر رہے ہوں گے ہم چلتے ہیں سوالات کے مختصر میں پروگرام وہ ایک علیہ السلام بھی کیا جاتا ہےاسلامی لٹریچر میں اس کی مثالیں مل جاتی ہیں اس بات کو سمجھنے کے لئے دوسری اہم چیز جو مسئلہ روز سے اس کو سمجھنا ضروری ہے جس طرح ہمارے کرم شاہ صاحب بیان کر دیا ہے تو جب اس قسم کے الہامات مرزا صاحب علیہ السلام پر نازل ہوئے تو اس کے تین مطلب ہو سکتے ہیں ایک نعوذباللہ مرزا صاحب کو دیا گیا ایک محمد ابن عبداللہصل ہیں دوسرا مطلب اس الہام کا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک محمد تو وہ تھا جو مکہ میں پیدا ہوا دوسرا محمد وہ ہے نعوذ باللہ جو قادیانیوں پیدا ہوا حقیقت یہ ہے کہ ہم ان اردو مفہوم کو درست نہیں مانتے ہیں تیسرا مفہوم ان الہامات کا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا جب غلام آقا کا رنگ اختیار کرتا ہے تو جو اس کا نام دے دیا جاتا ہے اس قسم کا ہے یہ کریم میں موجود ہیں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس کو حضور نے کنکریاں پھینکنا ہمارا عزیز میاں قوال اللہ میرا مالک نے جو حقیقت اللہ نے پھینکی تھا اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور صل وسلم نے صحابہ سے بیعت لی ہے یا نہیں تھا کیا حضور صلی وسلم کی محبت میں کیوں ہو گئے تو اللہ نے اپنا نام محبت سے دیا ہے اسی بات کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے میں کل ان کنتم تحبون اللہ اللہ سے محبت کرنی ہے تو محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کی اتباع کرنی تو صرف ہوتے ہیں تو نہیں تشریح میں قبول نہیں انمول مثال دے تو میں اسے وقت کی مناسبت سے ایک دو مثالیں دیتا ہوں ہمارے برصغیر میں بڑے ہی مشہور برے ہیں خواجہ میر درد دہلوی آپ پر بکثرت قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں نے ایک کتاب کا علم کتاب کا نام کتاب ہے اس نے بارہ کے قریب پر 12 سے زائد ہوئے علامات ہیں جو قرآنی آیات پر مبنی ایک خاص بات یہ ہے کہ میں تو پر جانے والے ہو جانے والے انتہائی دلدادہ ہیں خان صاحب بریلوی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے والدین کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے کئی دفعہ دیکھا ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں کی کھویا ہوا سا نوجوان خوش موجود ہوتا ہے وہ بار بار یہ آیت پڑھا ہوتا ہے کہ اصل نہ کہ رحمت اللعالمین تو یہ کتاب لکھا ہوا ہے اس کے علاوہ ہمارے برصغیر میں بڑا ہی مشہور فرقہ ہے جو مخالفت میں پیش پیش رہتا اہلحدیث کے بڑے جید عالم گزرے عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ ان پر تو بکثرت ایسی آیات نازل ہوئیں جو حضور صلی وسلم کو خاص طور پر مخاطب کرکے کی گئی تھی مسابقہ یونیورسٹی کالج ذرائع سے حوالہ جات دیں ایسے مواد کو مخاطب کرکے الم نشرح لک صدرک علی اہلسنت والوں نے ان بزرگوں پر یہ اعتراض کیا کہ بھی آپ کی بیٹے تھے ان کے سامنے افراد پیش ہوا وہ اعتراض پیش کرنے والے ہمارے حلقے موجود تھے اور ان کے بیٹے نے جو اہلبا ہر کمال محمد است جو کچھ میں پیش کر رہا ہوں گے تو حضور صل وسلم کے کمال کا ایک قطرہ ہے اپنی بات کو اسی اسلام کے بڑا ہی پیارا ہے اس پر اثر لگتا ہے ختم کرتے ہیں تو وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام محمد دل بھر میں آئے جو ہے وہ پیشہ ہے اسی سے ہم نے پایا ہے اگر آپ مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے ان الہامات وہ علامات مریدین الفاظ میں حضور صلی وسلم کو قرآن حکیم مخاطب کیا گیا ہے اگر ایسی ہی کیا ہے ہم سے جدا نہیں ہے یہ تو دونوں کو یکجا کرنے والی بات ہمیشہ کی طرح ہیں بالکل ایسے نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی گہرائی بیان کیا کر اس کو انسان روز کا مطالعہ کریں تو یہ چیز سامنے آتی ہے کیونکہ بہت کم رہ گیا ہے لیکن ہماری کوشش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ ناظرین کے سوالات کیے تھے ایک صاحب ہے کہ بہت مختصر اس سے آپ جواب دے دیں انڈیا سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ قرآن میں حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر کثرت سے ملتا ہے لیکن حضرت ہارون علیہ السلام کو بہت کم ملتا ہے تو اس کی وضاحت اور کیا حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے تھے تو یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ملتا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی نے آنحضورصلی دیا ہے اور حضرت موسی علیہ السلام شرعی نبی تھے اسی طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے اور اللہ تعالی فرماتا ہے انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایسا ہی رسول بھیجا ہے جیسا کہ ہم نے پھر ان کی طرف رسول بھیجا تھا اب جو واقعات ان کے رسول پاک صل وسلم کی عمر تو قیامت تک رہے گی اور حضرت محمد مصطفی صلی وسلم کو چونکہ حضرت موسی کا مسئلہ قرار دیا گیا اس لیے حضرت موسی کی جو امت میں باقاعدہ گزرے مجھے ان کی تفصیل ضروری تھی لہذا اللہ تعالی نے ان کی تفصیل بیان کر دیں اور آنحضور صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت بنی اسرائیل کی حضرت موسی علیہ السلام کے ذریعے جو تعلیمات رہی تھی ان کے دل کل پوچھ لو پہلے چلے گئے ان کے دل کو خراب ہو جائے گی تو اس کی تفصیلات کافی ہیں لیکن آپ نے فرمایا مختصر بتاؤ تو یہ میں اتنا ہی بتا دو کہ وہ چونکہ تفصیلات اس نے قرآن کریم میں بھی ہیں احادیث میں بھی ہیں کہ کیا مشابہ تھی اس لئے ان کو تفصیل سے بیان کرنا ضروری تھا دوسری بات یہ کہ کیا وہ حقیقی بھائی تھے جہاں تک پہنچانے کے لیے تو ہم دیکھتے ہیں تو وہاں تو حضرت موسی علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ اصل میں تو حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا لیکن حضرت موسی علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا کے بعد علی وزیر من اھلی ہارون اخی اشدد بہ ازری معاشرے کو فیملی میرے گھر والوں میں سے کوئی میرا مددگار مقرر کردے اور یعنی میرے بھائی ہارون کو مقرر کردے اور اس کے ذریعہ سے میری کمر مضبوط کر اور اس کو میرے اس معاملے میں شامل فرما دو اس دعا کے نتیجے میں اللہ تعالی نے حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی مقرر فرما دیا تھا لیکن اصل نبی حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام آپ کے صابن بھی تھے اور قرآن کریم میں چونکہ یہ بیان فرمایا ہے کہ وزیراعظم نااہلی کے آپ کے گھر والوں میں سے اہل والوں میں سے اور حضرت ہارون کو اپنا بھائی قرار دیا ہے لہذا میرے خیال کے مطابق قرآن کریم کی اس آیت کا جملہ لکھیں تو پھر یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے حقیقی بھائی تھے صاحب آپ کے جواب کا اور اسی طرح باقی بیلٹ منصور صاحب مکرمہ فیصل کالونی سے بہت بہت شکریہ جزاکم اللہ احسن الجزاء کہ آپ اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر یہاں آئے اور پروگرام ہمارے سوالوں کے جوابات آپ کو بھی رمضان بہت مشکور ہیں جزاک اللہ کے اس پروگرام کو دیکھا اور اپنے سوالات یہ ہیں اور یہی چاہتے بھی ہیں جو کہ جس انداز میں کہا کہ جماعت احمدیہ کے پہلے دن سے یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے نزدیک وہی مسیح اور وہی مہدی ہیں جن کا ذکر فرمائی تھی اور میری یہ خواہش ہے میری یہ دعا ہے کہ ہمارے تمام مسلمان بھائی بھی آپ کی سچائی جو پہچان سکے اس کے لئے کوئی سوالات ہیں تو وہ ضرور کریں مختلف ذرائع کے ساتھ رہتا تھا ایک ذریعہ ہے جو کہ اگلے ہفتے پھر دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا وہ ٹائم شام چار بجے کے مطابق میں بہت خوشی ہوگی اگر ہم اگر آپ ہمارے ساتھ شامل ہو کے پروگرام کے لئے میں آپ کا بہت مشکور ہوں جزاکم اللہ احسن الجزاء اللہ حافظہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں

 24 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: