Rah-e-Huda – Khatme Nabuwwat Ki Haqeeqat




Rah-e-Huda – Khatme Nabuwwat Ki Haqeeqat

راہ ھدیٰ ۔ ختم نبوت کی حقیقت اور خاتم النبیین

Rah-e-Huda | 1st May 2021

سے نبھانا گو خدا نہیں ہے اس وجہ سے نبھا لو جان گا رمضان م یہ نہیں ہے ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور ہے یہ آپ کے اعلی مقام و مرتبہ کو ظاہر کرتا ہے لیکن امت مسلمہ کی وجہ سے اس بارے میں اختلاف میں یا ایک غلط فہمی میں مبتلا ہوچکی ہے اور امت مسلمہ عام طور پر یہ سمجھتی ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ ہمارے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی نہیں آسکتا کتا لیکن ایک طرف تو وہ لوگ یہ کہتے ہیں لیکن جب ان سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا جو آج سے تقریبا دو ہزار سال پہلے دنیا میں آئے تھے کہ انہوں نے دوبارہ دنیا میں آنا ہے تو اسی سانس میں وہ اس بات کو دہراتے ہیں کہ ہاں ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور پھر جب وہ ایک غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے بعد کوئی اور غلط فہمیوں کا بھی شکار ہوتے چلے جاتے ہیں نام پروگرام راہ خدا ہے اور آج کا پروگرام اور آئندہ چند پروگرام آپ کے سامنے اسٹوڈیو سے پیش کیے جائیں گے اور ہم اسی موضوع کو جاری رکھیں گے جوگذشتہ پروگرام میں قادیانیوں سے شروع کیا گیا تھا اور اس کی برکات اس وقت دنیا کے حالات ہیں ہر کسی کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے انڈیا کے بھی حالات کو ووٹ کی وجہ سے کچھ اچھے نہیں ہیں اس لیے آئندہ چند دن پروگرام کے سامنے منڈیوں سے پیش کیے جائیں گے آج کے اس پروگرام میں یہاں اختصار کے ساتھ لندن سٹوڈیو میں شامل گفتگو ہوں گے محترم فضل الرحمن ناصر صاحب جب کہ ان شاء اللہ گانہ سے ہمارے ساتھ سکائپ کے ذریعے ہو گیا محترم ساجد محمود صاحب جس طرح کے خاکسار نے عرض کیا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی بھی آئے ہو قرآن کریم کا کوئی بھی لفظ ہو اس کو ہم معنی سمجھ نہیں چاہیے وہ معنی کرنی چاہیے کہ جو خود قرآن کریم اس کی تائید کرتا ہوں اور قرآن کریم میں جو دیگر مضامین بیان کیے گئے ہیں وہ بھی اس کی تائید کرنے والے ہو چنانچہ ہمیں خود ہی نظر آتا ہے کہ ایک طرف اللہ تعالی قران کریم میں امت مسلمہ کو یہ دعا سکھائی ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم اور پھر اس کے پیش نظر جب انعامات کا ذکر کیا جاتا ہے جو امت مسلمہ یا سابقہ امتوں پر نازل کیا اللہ تعالی نے قرآن میں انبیاء کا سونا بھی صدیقین کا آنا بھی صالحین کا آنا بی اور شہزاد کا بھی ان باتوں میں ہونا ثابت ہے اگر اسی پہلو کو مدنظر رکھیں تو پھر یہ لازم ہے کہ امت مسلمہ میں بھی انہوں نے جس میں آنے والے کی پیش گوئی ہے وہ انہیں پیش گوئیوں کے مطابق آئے لیکن وہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض یاب ہوکر نبوت کا درجہ پائے یہی وہ عقیدہ ہے جو دراصل جماعت احمدیہ رکھتی ہے اس کا آغاز کریں گے لیکن جیسا کہ خاکسار نے عرض کیا ہے یہ پروگرامجو اس پروگرام کے دوران آپ کو اسکرین پر نظر آتا رہے گا اس کو ضرور نوٹ کریں اور اپنا تحریری سوال یا وائس میسج کے ذریعے کوئی سوال بھجوانا چاہیے تو ضرور ہمیں بلوائیں دوسرا ہمارا لینڈ لائن نمبر ہے اور یہ میں عرض کرتا چلوں کہ اگر آپ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو اول تو ہم آپ کا انتظار کریں گے دوسرا یہ کہ ہم آپ کو کال بیک کرکے آپ کو لائیو لے لیں گے اور آپ اس امید کے ساتھ کہ آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو اگر آپ جماعت احمدیہ سے نہیں تعلق رکھتے تو یہ وہ پلیٹ فارم ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ نے اپنے اعتراضات کو پیش کرنا ہے اگر ذہن میں کوئی الجھن ہے تو اس کو دور کرنا ہے اس بات کی ضرورت اور اہمیت اس وجہ سے ہے کہ جماعت احمدیہ دعوی کرتی ہے کہ وقت کا نبی وقت کا امام وقت کا مسیح موعود امام مہدی عج کا ہے اب سننے والوں اور دیکھنے والوں کا یہ فرض ہے کہ اس کی بات کو سنیں جانچیں پر ہے ہے اور اللہ تعالی سے پوچھیں اور پھر ایمان لائے اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے فضل الرحمن صاحب ہم سب سے پہلے ساجد محمود صاحب کی طرف چلتے ہیں اور ان کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہوں گا سب دیکھیں گے یہاں تک کہ خاتم النبیین کے ختم نبوت کا جب بھی سوال آئے گا قرآن کریم کی بات کرتے ہیں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتے ہیں اور فریقین نے اس بات کا بھی ذکر ہے جو عام طور پر غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے کہ وہ تمام امت مسلمہ کا یہ اتفاق ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا یہ تمام باتیں قرآن احادیث اور صلحائے امت سے ثابت نہیں ہوتی چنانچہ اسی بات پر گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور آپ سے چاہتا ہوں کے آپ یہ بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم میں خاتم النبیین کہہ کر پکارا گیا ہے جس کا ترجمہ ہمارے غیر احمدی بھائی آخری نبی کرتے ہیں ہیں ہمارے نزدیک عربی محاورے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس لفظ کے حقیقی معنی کیا ہو گے عمران صاحب قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے خاتم النبیین کہہ دو اگر ہوا ہے ہمارے مسلمان بھائی بھائی ہیں وہ خاتم النبیین کا ترجمہ کرتے ہیں سب سے آخری نبی ایسا نبی جس کے بعد کسی اور نبی نے نہیں آنا اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف ہمارے غیر احمدی مسلمان بھائی ترجمہ تو یہ کرتے ہیں کہ سب سے آخری نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان الفاظ مطابق دوسری طرف ان تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آنا ہے کہ آج تمام شیعہ امام اہلسنت کی نشانی بریلوی دیوبندی ہے تمام اہل حدیث ان سب کا اس بات پر متفق عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے آنا ہے اور وہ اللہ کے نبی تھے اب اگر خاتم النبیین کا ترجمہ یہ سب سے آخری نبی اور آج بالفرض ان کے عقیدے کے مطابق حضرت مسیح نبی اللہ تشریف لے آتے ہیں تو پھر سب سے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے کہ نعوذباللہ خاتم النبیین کا ٹائٹل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں رہے گا بلکہ یہ ٹائٹل تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلا جائے گا اگر ان کے عقیدے کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ ان کا اپنا ترجمہ ان کے اپنے عقیدے کے ساتھ جو ہے وہ سو فیصد تعداد ہے اختلاف ہے اس سے جو ہے وہ قابل قبول نہیں ہے نمبر پہ الفاظ عربی الفاظ ہیں اور قرآن کریم آخرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئے اگر خاتم النبیین کا ترجمہ آخری نبی ہے تو سب سے بڑھ کر عربی زبان جاننے والے تو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عربی زبان کے محاورے کو سب سے زیادہ جواب بھی جانتا ہے وہ اب ساربان حضرت آدم ہوتا کہ زمانےگانا ایسے فضیلت ہے تو اس عقیدے کے مطابق کیا بنے گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت ابوبکر سے اعلیٰ اور افضل ہیں اس کے بعد آئے اس عقیدے کے مطابق یہ اس اصول کے مطابق یہ تسلیم کریں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت عباسیہ اور افضل ہیں حضرت علی پہلے دنوں کے بعد میں آئے چوتھے نمبر پر تو اس اصول کے مطابق یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلے دنوں سے اعلیٰ اور افضل ہیں مجاہدین نے لی اولی اعلی نے تو ماننا پڑے گا کہ دوسری صدی کا مجدد پہلی صدی کے مجدد سے افضل ہے تیسری صدی میں موجود ہے وہ پہلے دوسری وکٹ مجددین سے افضل ہے اسی طرح شیعہ کے نمائندہ ہیں پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے دوسرے امام ہیں وہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اس اصول کو اگر تسلیم کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت حسن نے ہیں وہ بعد میں آئے تو حضرت علی سے افضل ہو گئے حضرت امام حسین تیسرے نمبر پر آئے ہیں تو پہلے دونوں ائمہ نے حضرت امام حسن اور امام حسین امام علی رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ افضل ہیں چوتھے نمبر پر ایمان لانا بھی دینا رہے ہیں تو اس اصول کو درست تسلیم کرنے کی صورت میں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت امام زین العابدین پہلے تینوں ائمہ سے افضل ہیں جب کہ کوئی اس طرح وہ تسلیم نہیں کرتا اگر یہ اصول ایک مقبول ہے آخر اس دنیا نے کسی روز فنا ہونا ہے تو اس صورت میں وہ انسان جو سب سے آخر میں دنیا میں پیدا ہوگا اس کے متعلق یہ عقیدہ بنانا پڑے گا کہ وہ اس سے پہلے کہ تمام عربوں ارب انسانوں سے اعلیٰ اور افضل ہے انسانوں میں جن میں انبیاء اور آخرت میں ہماری رہنمائی کریں کہ زمانے کے لحاظ سے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری نبی سمجھا جائے تو اس میں کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو قبول نہیں کیا اور یہ ترجمہ ان کے اپنے عقیدے کے خلاف ہے اب بات یہ ہے کہ اس کا پھر صحیح ترجمہ کیا ہے صحیح طرح ایک تو یہ ہے کہ زمانے کے لحاظ سے آخری بار سے حضرت نہیں تھا آخری کا مطلب مقام اور مرتبے کے لحاظ سے استعمال ہوتا ہے آخری اور اس کے معنی یہ لفظ آپ پر بھی ہے وہ اعلیٰ اور افضل کے معنوں میں بھی استعمال ہوا کرتا ہے اور یہ زبان کا محاورہ ہے مثلا اردو نے ہم کہتے ہیں کہ ایک عدالت جو ہے وہ تحصیل کی سطح پر ہوتی ہے اس سے بڑی عدالت نے بے نظیر کی صبح ہوتی ہے اس سے بڑی عدالت جو ہے وہ صوبے کے لحاظ سے ہوتی ہے ملک کے سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ ہے وہ سب سے آخری عدالت پہنچ گئی ہے سپریم کورٹ ہے تو آخری کا لفظ ہے وہ والی عورت کے معنوں میں استعمال ہوا ان معنوں میں ہم آخرت کی مانتے ہیں کہ تمام انبیاء سے اعلیٰ اور افضل ہیں اور دوسرا خاتم الانبیا خاتم النبیین ہے عربی زبان کا محاورہ ہے جب ہم احادیث نے ہیں اور عربی زبان کا استعمال دیکھتے ہیں کثرت کے ساتھ ہمیں بیسواں ایسی مثالیں ملتی ہیں جس میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے قدم اور آگے ایک گروہ انسانوں کا ایک خاص شعبے کا استعمال ہوا ہے کبھی مفسرین استعمال ہوا ہے کبھی محدثین آیا ہے کبھی اس میں اولیاء آیا ہے کبھی اشعار آیا ہے اس میں ہر جگہ پر جہاں پر خاتون کا لفظ استعمال ہوگا کسی ایک جگہ بھی زمانے کے لحاظ سے آخری کے معنوں میں استعمال ہوگا مثلا چند مثالیں نے اس وقت میں پیش کر دیتا ہوں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق ہے وہ خاتم الاولیاء کہا گیا کہ اولیاء کا خاتون اسی طرح حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ کے شاہی محل کے پیشوا تھے ان کے متعلق درخواست موصول ہوئے کہ خاتم الاولیاء اسی طرح ابن عربی حضرت محمد بن عربی رحمتہ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اسلام میں ان کا مطلب بھی یہی ٹائٹل استعمال ہوا خاتم الاولیاء اسی طرح جو شعرا کے لحاظ سے ہے اب آتی بہت بڑے عربی زبان کے شاعر تھے ان کے لیے فاطمہ زہرا کے الفاظ استعمال ہوئے ابوتمام ایک بہت بڑے شاعر تھے ان کے لئے فاطمہ زہرہ کا لفظ استعمال ہوا حبیب شیرازی صاحب کو ایران میں بے وقعت موشہرہ گیا اسی طرح خانعربی زبان کے استعمالات میں 13 استعمالات پر غور کریں اگر خواتین کا مطلب ہے سب سے آخری جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو فرمایا کہ خاتم الانبیا خاتم الاولیاء کے نبیوں کا اولیو کا خاتمہ نگ مراد اگر یہ ہے کہ سب سے آخری ویلے ممکن نہیں ہے ان کے بعد ہزارہا اولیاء لائے ہیں یہ بھی مانتے ہیں کہ سنت بھی مانتے ہیں اس کو مانتے ہیں جب وہ طیب و طاہر گیا خاتمہ اور اس کے بعد بے شمار چھوڑ آئے ہیں جب ایک شاہ عبدالعزیز صاحب کو کہا گیا تمام مفسرین ان کے بعد میں بے شمار پسند آئے ہیں اسی طرح جب خاتم المحدثین کہا گیا ان کے بعد میں شمار کیا جائے کہ یہ عربی زبان کا استعمال ہماری رہنمائی کر رہے ہیں کہ زمانے کے لحاظ سے آخری کے معروف اس طرح استعمال نہیں ہوتا جبکہ اعلیٰ اور افضل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے نا اس لیے اسے دیکھے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہوا کہ تم راتوں میں چھوٹی کالی رات کسی کو خادم نسرین کہا جائے گا تو مسکرا دوں گا عظیم الشان ہے جو ہے اس میدان میں سر اور اسی طرح فاطمہ دیسی کے محدثین میں سب سے بڑا محدث ہے بہت بہت شکریہ ساجد صاحب آپ نے بہت اہم مثالیں ہیں یہاں پیش کی ہیں مجھے آج کل کی بھی کچھ مثالیں یاد آ رہی ہیں آج کل بھی عرب میں مختلف جو پروڈکٹ بنتی ہیں اس کو یہ ثابت کرنے کے لیے بیسٹ پروڈکٹ ہے اس کو خاتم کا نام دیا جاتا ہے کہ یہ اصول کی بیسٹ پروڈکٹ ہے جو آج کل بھی عرب معاشرے میں بیکری ہیں تو اس طرف بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ لفظ خاتم النبیین دراصل عربی زبان کا لفظ ہے یہ اردو زبان کا لفظ نہیں ہے نام آپ کے سوالات ہمارے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور فضل الرحمان صاحب میں چاہتا ہوں کہ ہم پہلے اعظم کے سوال ہی لے لیں اس وقت میرے سامنے جو ایک نام ہیں وہ عبدالشہید نصیر الدین صاحب کا ہے اور برطانیہ سے وہ اپنا سوال پیش کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں ہیں کہ جو غیر احمدی لوگ ہیں ان کا یہ موقف ہے کہ سبھی سو چوبیس میں یعنی دراصل وہ بات کر رہے ہیں کہ انیس سو چوبیس میں جو عثمانی سلطنت تھی یا اسلامی خلافت کا دور تھا وہ ختم ہوا تھا جس کو اس نے بھی کہتے ہیں تو اس حوالے سے اب سو سال کا جو گزرے گا تو غیر احمدیوں کے نزدیک ایک مجدد جو ہے وہ دنیا میں آئے گا اور اس کی بیگم کو ہی مشہور حدیث بناتے ہیں جس میں ہر صدی کے سر پر مجدد آنے کا ذکر ہے تو ہمارے سوال کرنے والے بھائی یہ سوال کر رہے ہیں میں ان کا سوال اسی طرح پیش کر رہا ہوں لیکن اس کی وضاحت کر دیں گے کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو خلافت احمدیہ کا کیا مقام ہوگا تو یہ ہے کہ یوں تو ہر انسان کو خدا نے جس زبان دی ہے وہ دعویٰ کرسکتا ہے لیکن جو خدا پر ایمان رکھنے والے خدا کا خوف رکھنے والے لوگ ہیں بہرحال ان کے ایمان کی بنیاد یا قرآن ہوتا ہے یا سنت یا حدیث حدیث اب یہ جو دعوی کر رہے ہیں کہ 24 تک خلافت رہی اب اس کے بعد ایک سو سال کے بعد 2024 میں ایک نیا آئے گا یہ خیال نہیں ناممکن ہے چند لوگ یہ سمجھتے ہو کہ دل والے دلہنیا لے جائیں گے ہر بندہ اپنا کوئی عقیدہ بنا کر خوش بھی ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ پر آئندہ ظاہر ہونے والے جو حالات تھے ان کو بڑی اس طرح روشن کیا ہے کہ حدیث کی کتابیں پڑھیں تو سیکڑوں صفحات ایسے لگتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے باہر ہونے والے ایک ایک سال ایک بار بڑے واقعہ کا ذکر کرتے چلے جاتے ہیں کہ ہزاروں سال آپ کے ایک ہزار سال کے بعد بلکہ اس کے بعد کے حالات بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پر آیا حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ روایت ہے کہ حضور صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون باتوں کو ماشاء اللہ ان کو نہ کہ مسلمانوں میں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے اندر نبوت رہے گی جب تک اللہ چاہے گا اس کا علاج بتائے گا گااس کے بعد کیا کیا ہوگا پھر فرمایا کہ جو معیار فوائد ہیں جو کانٹے والی ہو فیکون ماشاءاللہ پھر وہ رہے گی جب تک اللہ تعالی جائے گا یار خواں حافظ اللہ تعالی اس کو بھی اٹھا لے جائے گا پھر ایک سخت جابر بادشاہ ہیں ہفتہ کو ماشاءاللہ ہو رہیں گے جب تک اللہ تعالی سے آئے گا پھر تو اس کو بھی اٹھا لے گا اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی تو بیان سے پہلی بات تو یہ پوچھنا تھا کہ یہ خلافت عثمانیہ جس کو پیش کر رہے ہیں اس میں سے کون سی خلافت ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جس کو وہ کہہ رہے ہیں کہ خلافت عثمانیہ جو ہیں وہ انیس سو انیس سو چوبیس میں ختم ہوئی ہے تو یہ تو دنیا کے بنائے ہوئے چیز ہے اور یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کیا کبھی انہوں ہونے کا دعویٰ بھی کیا کہ نہیں کیا اور پھر ہر انسان ہر جس کو اللہ تعالی کوئی کسی مقام پر فائز کرتا ہے وہ اپنے کاموں سے پہچانا جاتا ہے انہوں نے کیا قائدین کے کام کیے 19ویں صدی کے عقیدے اور انیسویں صدی کے شروع میں جس طرح اس آیت پر رہی تھی سارے ہندوستان میں دنیا کا بڑا طبقہ اس آیت کو قبول کرتا چلا جا رہا تھا تھا اس دور میں بلکہ بعض مسلمان ایسے تھے جو پناہ لینے کے لیے ترکی گئے ہیں اور ان کو وہاں سے بھگا دیا گیا تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کیا اس خلافت کے اندر جس کو وہ پیش کر رہے ہیں کیا کسی الہی سلسلے کی اس کے اندر نشانی پائی جاتی ہے یا نہیں جاتے جماعت احمدیہ جس دعوے کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے وہ یہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے کہ جب ایک زمانہ ایسا نہ تھا مسلمانوں پر کہ دنیا میں اسلام آباد جانا تھا اس آیت میں پھیل جانے تھی اور بے شمار اس کی علامتیں اس وقت اللہ تعالی نے دوبارہ من خلافت علی منہاج نبوت کانفرنس کی جماعت احمدیہ کا جو خلافت ہے وہ اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایک مسئلہ نبی اللہ دنیا میں آیا آیا جب وہ دنیا سے فوت ہوا ان کا پہلا خلیفہ ہوا اور دوسرا اس طرح واپس ہوا اور آج ہمارے اندر خلافت خامسہ اللہ تعالی کے فضل سے جاری ہے اللہ تعالی ہمارے امام کو لمبی زندگی عطا کرے تو سلامتی عطا فرمائے جو کام ایک سو پینتیس چالیس سال میں جماعت احمدیہ نے کی ہیں تمام دنیا میں اسلام کو پھیلانے کے لیے تسلیم کے لیے وہ خود گواہی دے رہے ہیں کہ اس زمانے کا موجد کون ہے اور مجددی تو اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب خلافت نہ ہو جب خلافت خلافت کا درجہ مجددیت سے بلند ہے اور موجودہ دنیا میں ایک سے زیادہ بھی ہوتے رہے مختلف اور سینکڑوں کی تعداد میں مختلف کتابوں کے نام ملتے ہیں تو جب خلافت موجود ہے تو اس کی موجودگی میں کسی اور مجدد کا کوئی خیال نہیں آتا بلکہ خلیفہ خود ہی موجود ہوتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہوتا ہے بالکل ٹھیک ہے جو آپ نے خلافت علی منہاج النبوہ والی حدیث سے پڑی ہے جب انسان اس حدیث کو آج بیٹھ کے پڑھتا ہے ہے اور تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ سارے معاملات آپ کو دکھائے جا رہے تھے اور آپ ان کو لوگوں کے سامنے بیان کر رہے تھے اور جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ اب تو دور ہے خلافت علی منہاج نبوت کا تو مسجد جو بھی آئے گا وہ دراصل اسی سیڑھی پہ چڑھ کے آئے گا جو خلافت علی منہاج نبوت کے تابع ہوگا تو یہ بڑی بات ہے جس میں لوگوں کو غور و خوص کرنا چاہیے بہت سارے سوالات آپ لوگوں کے آنے شروع ہوگئے ہیں اور مجھے خاص طور پر بتایا گیا ہے کہ آپ ہمارے بھائی ہیں جن کا کراچی پاکستان سے تعلق ہے اور وہ حالات کی وجہ سے اپنا نام بھی نہیں بتانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہم درد کے بارے میں تحقیق کر کے اب تمیز ہو چکی ہیں ہیں ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اپنے اس بھائی کے لئے اور جو کوئی بھی ہمارا بھائی ہے بہن جو جماعت احمدیہمیں اصل بات آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کبھی بھی یہ نہیں کہتی کہ بغیر سوچے سمجھے آپ جماعت میں داخل ہوجائیں بلکہ ہم تو خاص طور پر اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ دنیا کا بنانے والا اس نظام کو چلانے والا اور وقت کے امام کا معاون و مددگار اللہ تعالی کی ذات ہے اس لیے آپ نے اللہ تعالی سے پوچھ کے رہنمائی لینی ہے اور پھر اس جماعت میں داخل ہونا ہے اللہ تعالی میرے بھائی کو بھی استعمال کرے اور ایسے لوگوں کو بھی جماعت میں شامل ہونا چاہتے ہیں ہیں اور اگر جو سوال ہے وہ میں لے کر ساجد صاحب کی طرف جاؤں گا یہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا سوال ہے ساجد صاحب السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اتوار السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جس میں آپ کے سامنے ایک ایک کر کے دو سوالات پیش کروں گا لیکن پہلا سوال میرا یہ ہے جو میں نے آپ کو کوئی غیر شرعی نبی ہے احادیث میں ملتا ہے سکتا ہے تو جماعت احمدیہ میں ہی ہوگا یا باہر سے بھی آ سکتا ہے میرے بھائی کو اس بات کا تعلق ہے تو قرآن کریم جو مضمون ہمیں بتا رہا ہے وہ یہ ہے اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ وہ اللہ تعالی سب سے بہتر جانتا ہے کہ اس زمانے میں اس موقع پر اس علاقے میں اپنے رسول کو بھیجے گا اور اس وقت ضرورت ہوگی تو ہم قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق یہ نہیں مانتے کہ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ہے دروازہ نبوت کا کھلا ہوا ہے کہ اس زمانے میں آنا ہے وہ اللہ تعالی کو بہت ربط ہے اسے پڑھتے ہیں تو وہاں پر شروع میں بسم اللہ الرحمن صاحب نے جو بے شک یہ حدیث اس حدیث میں ہے کہ راشدہ کا سلسلہ چلتا ہے اس کی ملکیت ہے اور بعد میں جابس ان حملوں کی تعداد زیادہ ظلم و ستم کرنے والی ہے یہ سارے ادوار میں بتائے اور اس کے مطابق یہ سارے ہیں وہ پورے ہوئے گذشتہ 13 سالوں میں ان تمام ادوار کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس محنت کو اور خلافت علی منہاج النبوہ کے ان ادوار کے بعد پھر خدا تعالیٰ خلافت قائم کرے گا اور اسے خلافتیوں منہاج نبوت کے ہوگئی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے امام مہدی آئے گا آئے گا نبی آئے گا اور اس کے طریق پر خدشات لاحق تھے وہ خلافت کا سلسلہ جاری کرے گا حدیث جس کے الفاظ یہ سنا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوگئے تو اس حدیث میں ہمارے لیے بڑی واضح رہنمائی ہے کہ امام مہدی کے آنے کے بعد قیامت تک جو ہدایت کا سلسلہ ہے اور روحانیت کا سلسلہ ہے وہ جماعت احمدیہ کو چھوڑ کر کسی اور جگہ پر ہے وہ ہدایت کا سلسلہ نہیں ملے گا انہی لوگوں میں ہدایت کا صلہ ملے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس امام مہدی کون سی اللہ کو مان چکے ہوں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں پر قدرت سانیا کی پیش رفت کتاب الوسیط میں وہاں انہوں نے فرمایا ہے کہ میرے جانے کے بعد وہ خود رسانی آئے گی اور اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا تو یہ سلسلہ خلافت علی منہاج النبوہ والا یا قدرت سانیاں والا سلسلہ جو ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک وہ چلا جائے گا آگے خدا تااللہ حکیم ہے خدا تعلیم ہے کسی زمانے میں اگر ضرورت ضروری سمجھتا ہے تو وہ ان اشاروں کے مطابق اسی سلسلے کے اندر جو ہے وہ مزید رہنمائی کے سناؤ کیا کر سکتا ہے ہے ہم آپ کے پاس دوبارہ آتے ہیں آپ کی آڈیو میں تھوڑی سی بڑھا رہی ہے امید ہے اس دوران وہ ٹھیک بھی ہو جائے گی حضرت صاحب میں آپ کے سامنے ہمارے بھائی محمد سعید صاحب جرمنی سے ان کا سوال ہے وہ پیش کردیتا ہوں میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہ سوال دراصل محمد سعید صاحب صاحب دوسروں کی طرف سے کر رہے ہیں اور ہمارے سامنے بھی یہ بے شمار دفعہ بات ہوتی ہے غیر احمدی اعتراض کرتے ہیں کہ احمدی احباب کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ کے الفاظ سے مراد مراد ہم سے تو پڑھا بھی نہیں جاتا کہ مرزا غلام احمد لیتے اس کا وہ جواب جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا تھا وہ تو یہی ہے کہ اس جس آدمی کے بارے میں کوئی شک ہے وہ مسلمان ہے یا نہیں اس کلمہ سننے کو ہمارا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہاللہ محمد رسول اللہ کی بجائے کچھ اور پڑھیں تو بڑے خوش ہوں گے اور بڑی وہ اس کے لئے نہ صرف قانون بناتے ہیں بلکہ ظلم و جبر بھی کرتے ہیں ہماری مسجدوں پر لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کا ہوتا ہے یہی بیٹے بھی ہیں آگے اور اس کے علاوہ یہ کہ آج کے زمانے میں ایسا دعویٰ کرنا تو ایسے ہی پاگل پن نظر آتا ہے جماعت احمدیہ کی اپنی ویب سائٹ پر موجود ہے کسی ایک صفحہ کے اوپر کسی کونے میں یہ لکھا ہوا دکھا دیں جو یہ کہہ رہے ہیں سوائے الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کے نہ کسی کتاب میں کوئی چیز ملے گی نہ کسی لٹریچر میں نہ کسی سہارے نہ کسی مسجد کے اندر لکھا جائے گا اپنی خواہشات ہیں ہمارا کلمہ توحید ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ اور اگر کسی کو یہ شک ہے کہ نہیں ہم اوپر سے پڑھتے ہیں میں یہ ضروری ہے وہ حدیث سناؤں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک بہت ہی پیارے صحابی بہت ہیں پیارے وجود حضرت اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور صلی علیہ وسلم نے جب ایک مہم پر روانہ کیا تو اس مہم کے دوران ایک ایسے شخص کو انہوں نے قابو کیا جس کو نہ صرف قتل کردیا بلکہ اس واقعہ کو حضور صلی وسلم کے سامنے پیش کیا کہ میں نے بڑی مشکل سے کابل کو قابو کیا تھا لیکن اس سے بچنے کے لئے کلمہ پڑھ لیا تو یکدم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تو آپ کا کل رقبہ اللہ کل کتنی بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایسا نہ کیا تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا کہ دل سے پڑھا تھا کہ پھر پڑھ رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان ہوا تھا مجھے اتنی بڑی غلطی ہوئی تو میں اپنے مسلمان بھائیوں سے اپنے اندر ہی دوستوں سے کہتا ہوں ہو کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں گزرنے والے اس واقعہ پر غور کر جو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے تھے اور ہر اس شخص کو جو اشارتاً بھی اپنے اسلام کا اظہار کرتا تھا اس کو حضور صلی اللہ وسلم نے مسلمان شمار کیا تو یہ تو اعتراضات ہیں ان کا اس کے علاوہ کوئی حل نہیں کہ خود یہ دیکھیں بالکل بہت ہی برمحل یہ واقعہ سنایا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کل کے علماء جو میڈیا پر آکر مختلف ایک دوسرے کی قتل و غارت کی تعلیم دیتے ہیں کہ جیسے گویا اسلام کے نزدیک ہی ہے لیکن پتہ نہیں ان کو کیا ہو جاتا ہے ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو دراصل رحمت اللعالمین تھے ہاں آپ نے جرگے کی ہیں لیکن خود قرآن کریم سورہ حج کی آیت نمبر 140 سے واضح ہوتا ہے کہ وہ تو دفاعی جنگ تھی تھی ان جنگوں کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن اس کے اس نعرے کا ذکر نہیں کیا جاتا جو فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لگایا کہ لا تثریب علیکم الیوم یہ لوگ جو آپ کے دشمن تھے ان کو معاف کر دیا گیا اس بات کی طرف غور و فکر کی ضرورت ہے اور اب میں اگلا سوال لے کر جو ہمارے ایک بھائی محمد عمران صاحب جن کا جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں ہے لیکن وہ جھنگ پاکستان سے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے بحث والا بھیجا ہے وہ میں ساجد صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا ساجد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں نے جس طرح ذکر کیا جن سے ہمارے بھائی ہیں محمد عمران صاحب ان کا سوال یہ ہے کہ ملفوظات میں مرزا صاحب نے کہا ہے کہ ایک زندہ علیکم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو سوال یہ ہے کہ یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ حضرت علی کو مردہ کیوں کہا گیا آپ پلیز اس حوالے کی وضاحت کرتے ہیںمسلمانوں میں روحانی معنوں میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی نام زندہ ہے حضرت علی کا مقام بھی زندہ ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام بھی ہے زندہ ہے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام یہ ہے وہ ہم لیتے ہیں بہت شکریہ ساجد صاحب فضل الرحمان صاحب ہمارا اگلا سوال ہے وہ میں آئرلینڈ سے موصول ہوا ہے اور ہمارے بھائی ہیں مبشر بٹ صاحب انہوں نے بھیجا ہے کیا انبیاء کی توہین کی کوئی سزا ہے ہے اگر یہ کہا جائے کہ جادو ہے ہے اور فضائی بھی ہے جہنم ہم میں اتنی بڑی سزا ہے کہ انسان نہیں سکتا نہیں سکتا اللہ تعالی نے اپنے ذمے رکھی ہیں اور پھر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ انبیاء کی ہمیشہ مخالفت ہوتی رہی رہی خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ صرف مخالفت ہوئی بلکہ آپ کے سامنے آکر یے سب کے سامنے حاضر ہوا اور اس نے جس طرح کی گفتگو کی وہ حدیث میں لکھی ہوئی ہے اگر سزا ہوتی تو سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو سزا دیتے ہیں مجھے پھر مدینہ کے اندر کتنے یہودی تیرے ہتھ کی وجہ سے سوال کے جس کے واقعہ کو قرآن کریم نے بھی کوڈ کیا ہے کہ جس نے ایک موقع پر یہ کہا نعوذباللہ من ذالک نعوذ باللہ من ذلک کے 10 سے واپس آ کر کے مدینہ کا سب سے معزز شخص کو اپنے آپ کو یہ سمجھا تھا مدینہ سب سے ذلیل ترین شخص کون غالب کا شعر ہے اس کا رسول اللہ سے غصہ وہ اس کو نکال دے re قرآن نے خود اس کا کوڈ کیا ہے ہے اور پھر حدیث میں یہ بھی پڑھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جنازہ بھی پڑھی اس کو اللہ تعالی نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائیں بڑا سعادت مند بیٹا تھا نہ صرف یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی جب پہلے تو اس نے کہا کہ اللہ کا دین ہے تو مجھے یاد آتے عبداللہ نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ میں اپنے باپ کا سر قلم کر دوں تاکہ مجھے اگر کسی اور کے ذریعے یہ آپ کہاں ملیں گے انہوں نے مجھے غصہ آ جائے مجھ سے بدلہ لینا ہے حضور صلی علیہ وسلم نے اس کو بھی اجازت نہیں دی پھر جب وہ فوت ہوتا ہے تو بیٹے کے دل میں اپنے باپ کی ہمدردی آتی ہے تو وہ حضور صل وسلم کے پاس آتے ہیں تو حضور اپنی قمیض دیتے ہیں کہ یہ اس کو بطور کفن کے اخلاق و عادات کا ذکر ملتا ہے کہ وہ شخص ایک رنگ میں اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا تھا یعنی وہ ہونے کی کوشش کی ہے یا منافقین کا سردار تھا وہ کچھ نہ کچھ اس کا اسلام کی طرف ذہن میں اس طرح کا رجحان تھا کہ اس کی منافقت کہا جاتا ہے لیکن کسی ایک جگہ پر بھی ذکر نہیں ملتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کوئی بھی ہو بلکہ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے اور پھر یہ اکیلا نہیں تھا مدینہ میں تھے دیگی کے خلاف وعدہ خلافی کی باغیوں کو قتل کروایا گیا ان کے تورات کے فیصلوں کے مطابق جو انہوں نے ہی تو لکھا ہوا تھا ان کے مطابق فیصلہ نافذ کیا گیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک منافق کو بھی یا کسی ایک یہودی کو بھی جو لوگ آپ سے غصہ کرتے ہیں ان کو کبھی تک سزا نہیں دی انھوں نے تو ہمیں ہی نمونہ نظر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسا موقع ضائع نہیں جانے دیتے تھے جس سے کسی بندے کی اصلاح ہو جائےحاجی صاحب اگلا سوال جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا وہ ہمارے بھائی ابرار احمد صاحب کا ہے ہے ہمارے ساتھ موجود ہیں پر موجود نہیں ہے ٹھیک ہے کوئی بات نہیں فضل صاحب میں آپ کے سامنے یہ سوال پیش کر دیتا ہوں یہ ہمارے بھائی شیخ ہمایوں کبیر صاحب کا ہے انڈیا سے وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر خلیفہ خدا بناتا ہے تو کس طرح اس کی تفصیل بتا دیں zeetv2015 اسلام میں بڑی واضح ملتی ہے بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی جہاں تک خلیفہ کا تعلق ہے آدم علیہ السلام کو خلیفہ قرار دیتا ہے اور اس کے علاوہ ہے قرآن کریم نے خلیفہ کی اصطلاح تمام انبیاء کے لیے استعمال کی حضرت داؤد علیہ السلام کو فرمایا داود انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ان کا یہ سوال ہے کہ جو نبوت کے بعد خلافت جاری ہوتی ہے کیا وہ بھی خلافت قائم کرتا ہے ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا ہی بناتا ہے اور جماعت احمدیہ تو عملی اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد کی وفات کے بعد جس طرح کے حالات تھے دنیا نے بڑی خوشیاں منائی مخالفین نے ڈھونڈنا کے بھی کیے تھے کہ اب یہ سلسلہ ختم ہوا اگر یہ سلسلہ انسانی ہاتھوں کا کے ہاتھوں سے بنا ہوتا کتا تو اس میں کوئی شک والی بات ہی نہیں تھی کہ حضرت مسیح موعود صاحب کی وفات کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجاتا عطاء بن ابی رباح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات کے قریب الروسیات رسالہ لکھا اور اس میں فرمایا کہ میرے بعد کیا ہوگا بھی نہیں جو بات کی ہے بہت اسلام میں رکھی تھی کہ جس طرح موسی علیہ سلام کے بعد ایک انکا خلیفہ ہوا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ تکلیف ہوئے اسی طرح اللہ تعالی اس میں بھی ایک قدرتی ثانیہ جاری کرے گا تو جماعت احمدیہ میں بھی یہی ہوا کہ باوجود مخالف حالات کے بعد مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد خلیفہ اول کا انتخاب ہوا وفات ہوئی تو سمجھا کہ آپ مجھ سے بہت بڑے یقین سے ایک تھے بہت بڑے عالم تھے ان کا ایک علمی روپے تھا اس وجہ سے جو ہے یہ خلافت ان کے در کبھی دربدر نہ خلافت دی تھی تو چلنے والی نہیں تھی اگر اگر یہ دنیا کا کام ہوتا تو اس میں کوئی شک والی بات نہیں تھی کہ خلیفۃ المسیح الاوّل کے بعد طلاق ہو جاتی ہے لیکن خدا تعالی نے جماعت احمدیہ کو حضرت علی ابن موسی ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر اکٹھا کر دیا 25 سال کے نوجوان تھے لوگوں نے کا بچے کے اپنے خلاف چلی گئی آپ نے بھی بالیدہ ہو گئے چلنے والا نہیں 52 سالہ دور خلافت مسلم وزیر اطلاعات ہوگا غیر احمدی دنیا کے بڑے بڑے سیاسی مدبر بڑے بڑے لیڈر یہ سب اس بات پر اصرار کرنے پر مجبور ہو گئے کہ مرزا محمود کا مقابلہ نہیں ہوسکتا ہے پھر ہنسا نئیں اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوتی ہے دنیا نے اتنی مخالفت کی اندرونی طور پر پاس کھڑے ہوئے صرف تمہاری رحمہ اللہ کا انتخاب ہوگیا اس خلاف اس میں کوئی شک نہیں کہ شاید آپ کو حدیث اگر خلاف ہے تو خلافت کے انتخاب کے لیے مشکل ہوتا رہا ہوں سیکھنے کی تھی ایک مشورہ سے خلافت اللہ تعالی عنہ کے خلافت قائم ہو گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ انہوں نے اپنے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ایک نصیحت کا ذکر ملتا ہے لیکن وہ بھی ایک مشورہ اس کے پیچھے بھی نظر آتا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے بعد بھی ایک حد ہوتی تھی تو ایسے لگتا ہے کہ یہ مومنین کو ہیں اللہ تعالی ایسے رہنمائی کرتا چلا جاتا ہے جس سے ازخود اللہ تعالی ان کو ایک ایسے ہاتھ پر ٹک کر دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی گواہی ساتھ شامل ہو جاتی ہے کہ یہ انتخاب خدا کا ہے اور پھر اس کے ساتھ صرف ایک اور بعد میں آؤں گا میں صرف اشارہ کر دیتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی خلافت دیکھ لیں بلکہ اس سے پہلے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت دیکھ لیں تھے کہ کون کون خلیفہ ہوگا اور بعض شعبوں سے اس کی تائید بھی ہوتی تھی اسی طرح جماعت احمدیہ کے اندر خلاف فیصلہ کیا ہوا اس کی بھی الہ آباد سے واضح وجہ سے بارش ہوتی رہی ہے نظر نہیں آتا ہےجس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ ظاہری طور پر وہاں افراد جمع تھے لیکن دراصل یہ انتخاب اللہ تعالی کا تھا اور اللہ تعالی کی تائید و نصرت سے ظاہر کرتی ہے کہ واقعی وہ اس کا بنایا ہوا خلیفہ ہے ہم ساجد محمود بھٹی صاحب کی طرف چلتے ہیں اس امید کے ساتھ کہاں سے ہمارا رابطہ بحال ہوگیا ہے مجھے نظر تو نہیں جناب حاجی صاحب عبدالسمیع صاحب ہیں لیورپول سے ان کا سوال ہے قرآن کریم میں ایک جگہ آتا ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ ل ہے جس کا تعلق ہے لا نفرق بین احد میں رسول ہیں تو اس میں مراد یہ ہے کہ ایمان لانے کے لحاظ سے ہم کسی نبی میں کوئی تفریق نہیں کرتے یہ کہیں گے کہ فلاں نبی پر ایمان لے آتے ہیں اور فلاں نبی کا انکار کر دیتے ہیں اور جہاں تک ایمان لانے کا تعلق ہے وہ تمام کے تمام انبیاء پر ایمان ہے وہ ضروری ہے اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا امی نوں بلا ہے اور اسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور تمام کے تمام انبیاء پر ایمان لاؤ تو منصب نبوت کے لحاظ سے تمام کے تمام انبیاء برابر ہیں ایمان لانے کے لحاظ سے تمام کے تمام انبیاء برابر ہے جہاں تک دوسری آیت کا تعلق ہے وہ آپ خدا تعالیٰ انبیاء کا مقام اور مرتبہ کا ذکر ہے اسی لیے وہ اپنے الفاظ آتے ہیں فضیلت والے پھول کر رسولوں فضلنابعضھم العباس یہ انبیاء تھے ان میں سے بعض کو ہم نے بال پر فضیلت دی تو اس آیت میں مقام اور مرتبہ یہ وہ ذکر ہے لیکن میں نے خدا کا نام لیا جائے کہ فلاں بھی اس طرح رکھنے والے تھا اور پلانا بھی فیصلہ انبیاء پر فضیلت تھی فضیلت کا اظہار قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ نے جہاں پے حضور نے فرمایا خاتم نبی یہ نبی جو ہے وہ انبیاء کا سردار ہے انبیاء میں سے سب سے اعلیٰ اور افضل بھی ہے تو دوسری آیت میں تل کر روس اللہ فضلنا بعضہم العباس وہ انبیاء کے مقام اور مرتبہ کا ذکر ہے اور اس کا اشارہ میں بڑی وضاحت سے صحیح بخاری کی گنگا جمنی حدیث ہے اس میں بھی ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر جا رہے ہیں پہلے آسمان پر پہنچے تو حضرت آدم ہے دوسرے جاتے ہیں تو حضرت عیسیٰ اور یا ہیں اسی طرح حضور آگے مختلف آسمانوں پہ بنتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ تمام انبیاء سے اوپر اندر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جاتے ہیں جو مقام اور مرتبہ الگ ہے یہ مال آنے کے لیے سارے نبی برابر ہے بہت بہت شکریہ ساجد صاحب فضل الرحمن صاحب ایک بڑا اہم سوال ہے جو موضوع ختم نبوت کے لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے اور خاص طور پر ہمارے مخالفین بھی اس کو مختلف پیرائے میں بار بار پوچھتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ قدرت سے آپ اس کا جواب دے دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے لانبی آبادی کے میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اگر حضور کے بعد بھی نبوت کا دروازہ کھلا تھا تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے ہے جہاں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لانبی آبادی اس کی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بشارت دی اور پھر یہ بھی فرمایا کہ لیسبین میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ایک تو لگتا ہے کہ جب حضور صلی علیہ وسلم یہ فرما رہے ہیں کہ لا نبی یا بعدی اس سے مراد ہے کہ میں نے فورا بعد کوئی نبی نہیں اور بعض ایسی حدیثیں بھی ملتی ہیں محسن جو حدیث لانبی آبادی کے حوالے سے پیش کرتے ہیں اس حدیث کو دیکھے جائیں تو اس میں یہ بھی ایک حدیث ایک اس کی اطلاعات ملتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک دن کے موقع پر یہ فرمایا تھا ان کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بناتے ہوئے کہیں اعلی ہمارا نبی ان تکون منی کا خارج ہونا موسی رہنا کا رستہ نبی ہے کہ تیری میری اس وقت میرے ساتھ ایسی ہے جیسے حضرت ہارون علیہ اسلام نے کو اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا مقام بنایا تھا لیکن وہ نبی تھے تو نبی نہیں ہے اس موقع کا یہ حدیث ہے جسےپیار والا کیسا بات یہ کہ کس طرح ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی خطرہ نہیں ہو گا اور جب کہ ہلاک ہوگا صلاح قصر اور اس کے کرتے ہوئے حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی امام بخاری کی شرح لکھنے والے کہتے ہیں مانا خوفناک ایس آباد ہو یا ملک کو مسلمان ملکوں ہوا کہ اس حدیث کا مطلب ہے ناکہ حیدرآباد ہو کا مطلب یہ ہے کہ اس جیسا کہ سر جتنی بڑی اس کی بادشاہت تھی جیسے اس کی شان و شوکت تھی اس کی شان و شوکت والا کوئی قیصر اس کے بعد نہیں ہوگا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر کوئی جواز نہیں سوائے علی کے اور نہ ہی کوئی تلوار ہے سوائے علی کے اس میں بھی ادھر شام کی طرف ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا عزت بعد ذلت کے فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں پیدا کرنے کے بعد مسلمانوں نے کہا یہ جاتا ہے کہ میں صرف یہ بتا رہا ہوں کہ زور دیتے ہوئے اتنا بڑا مسئلہ گھر لینا جس کی قرآن میں کوئی بنیاد نہیں سارا قرآن پڑھنے کی کوئی ایک آیت بھی اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا بلکہ بعض آیات قرآنی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ خیال باز پرانی کو بھی تھا جو یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد لوگوں نے سمجھا کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو یہ غیر مسلم قوموں میں یا غیر ایسی قومیں یہ خیال رہا ہے جو انبیاء کی مخالفت کرتی رہی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ پر یہ محاورہ استعمال کے علاوہ پڑھنا چاہتا ہوں تاکہ بعد مزید کھل جائے اور نے حضرت مسیح موعود اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ خود نبی نے آئے گی اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں مگر سوائے اس کے جو آپ کی نور سے منور کیا گیا اور آپ کا وارث بنایا گیا اور فرمایا جان لو کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت تو ازل سے قائم ہے اس حدیث کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میں تو اس وقت بھی خاتم نبین تھا جب کہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی اور پانی کے گانے کیچر کی شکل میں ہو یا زندگی تو یہ جو ہے آپ کی ایک عظیم الشان نبوت کا مقام ہے شریعت والی نبوت کی کا مقام ہے آپ کس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ اب دنیا میں اس کا نبی دنیا میں کوئی نہیں آئے گا گاشکر گزار ہوں اور آپ سے میری یہی درخواست ہے کہ اپنے سوالات ضرور بھیجا کریں سمرا ملک صاحب ہیں امریکہ سے ان کا سوال بھی ہمیں مل گیا ہے نجم الدین صاحب میں انڈیا سے مل گیا ہے اگر میں کوئی نام مس کر گیا ہوں تو آپ کا سوال بھی ہمیں مل گیا ہے انشاءاللہ کوشش کریں گے اگلے پروگرام میں آپ کا سوال ضرور شامل کریں اگلے ہفتے بھی اسی وقت ہم اس پروگرام کے ساتھ حاضر ہوں گے ضرور اپنے سوالات پیش کیجئے گا فضل الرحمان صاحب آپ کا بھی شکریہ اور اگر ساجد محمود صاحب ہوئی سن رہے ہیں تو آپ کا بھی شکریہ اور ناظرین کرام خاص طور پر وہ لوگ جو جماعت احمدیہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے خاص طور پر میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو رمضان کا بابرکت مہینہ ہے اور یہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اس مہینے میں فرشتے زیادہ دہ خکولی تہ دعا کے مواقع پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور ایسا ماحول بنا ہوتا ہے کہ ہمارا بھی رجحان زیادہ دعا کی طرف ہوتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے احمدیت اور جماعت احمدیہ اپنے مخالفین کو ہمیشہ یہ کہتی ہے کہ اگر جماعت احمدیہ کی صداقت کے بارے میں آپ نے جانا ہے پوچھنا ہے تو اللہ تعالی سے پوچھا اللہ تعالی آپ کی رہنمائی کرے گا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتاب حقیقت وہی میں تحریر فرمایا ہے اور وہ اقتباس میں یہاں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا آپ علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں افسوس کے حال کے نادان مسلمانوں نے نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نکلتی ہے نہ تعریف گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس پاک میں اور تکمیل نفوس کے لیے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھانے آئے تھے حالانکہ اللہ تعالی اس امت کو یہ دعا سے کھاتا ہے اس دن الصراط المستقیم صراط الذین انعمت نبیوں کے وارث نہیں اور اس نام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سے کرائی گئی پھر آگے فرماتے ہیں یہ کس قدر ظالم ہے جو نادان مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت مقالمہ مخاطب حال ہیں ویسے بھی نصیب ہے اور خود تیزی سے بڑھتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اسرائیلی نبیوں کے مشابہ لوگ پیدا ہوں گے اور ایک ایسا ہوگا کہ ایک پہلو سے نبی ہوگا اور ایک پہلو سے امتی وہی مسیح موعود کہلائے گا ناظرین کرام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اسی نبی ہونے کا دعوی کیا ہے جس کی پیشگوئی ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی حقیقی قرآنی اوراق اور مولانا فضل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کو بھی اس بات کی توفیق دے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی تحریرات کو پڑھے تو سہی اور پھر اس پر غور کریں اللہ تعالی آپ سب کے ساتھ ہو اگلے پروگرام تک کے لئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دین ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا قدیم سے ہی میں ختم کرے علی لی

 55 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: