Rah-e-Huda – Khatme Nabuwwat Ki Haqeeqat




Rah-e-Huda – Khatme Nabuwwat Ki Haqeeqat

راہ ھدیٰ ۔ ختم نبوت کی حقیقت اور خاتم النبیین ﷺ

Rah-e-Huda | 24th April 2021

میں ختم المرسلیں نعم الجمل سہنی لی اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 24 اپریل 2019 ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور جی ایم ٹی کے مطابق اس وقت سحر کے چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت ہے پروگرام راھادا کا حضرت آدم علیہ السلام کی پیاری بستی سے پروگرام راہ خدا کی ایک نئی سیریز لے کر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے حسب معمول کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے اور لائق ہونے کے ساتھ ساتھ یہ آنٹی بھی ہوگا یعنی ہم اپنی اسٹوڈیوکی ڈسکشن کے ساتھ ساتھ اپنے ٹیلی فون کال ریسیو کریں گے ان کے سوالات گے اور جو علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ پینل میں موجود ہیں وہ ان کے سوالات کے جوابات بھی اسی پروگرام کے ذریعے دیں گے ہمارے ناظرین کے لئے ہماری ٹیلی فون لائنز ایکٹیویٹی ہیں اس کے علاوہ ٹیکسٹ میسجز اور ای میل کی سہولت بھی موجود ہے جن کے ذریعے سے ہم تک اپنے سوالات پہنچا سکتے ہیں ہیں تو ناظرین اگر آج کے پروگرام میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اور اپنا سوال پیش کرنا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس وقت تک تفاصیل مشاہدہ کر رہے ہونگے قادیان دارالامان سے 4 اپیسوڈ پر مشتمل اس سیریز کا یہ پہلا ایپیسوڈ ہے اور اس مکمل سیریز میں ہم فیضان ختم نبوت اور اس کی برکات کے عنوان پر گفتگو کریں گے اور اس بہت ہی اہم مضمون کو اپنے علماء سے سمجھنے کی کوشش کریں گے اور معترضین کے اعتراضات کے جوابات بھی اسی پروگرام کے ذریعے سے دینے کی کوشش کریں گے گے اس حوالے سے اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو آپ ہم سے رابطہ کرکے اپنے سوالات پیش کرسکتے ہیں ہیں حسب معمول اس پروگرام میں ہمارے ساتھ دول معاشرے کی گفتگو ہوں گے پہلے معتارف کروا دیتا ہوں محترم مولانا محمد کاشف صاحب اور آپ کی ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہیں محترم مولانا منیر احمد خادم صاحب میں آپ کا اس پروگرام میں خیر مقدم کرتا ہوں ناظرین کرام اللہ تعالی نے ہر زمانے میں بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے انبیاء مبعوث فرمائے ہیں ہیں اور جب ایک عالمی نبی کی ضرورت پیش آئی اس وقت اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک کامل شریعت عطا فرمائے بھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور مرتبہ تمام انبیاء سے افضل و اعلیٰ ہے ہے اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیوض و برکات کو تاقیامت جاری ہے تاکہ بنی نو انسان قیامت آپ کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہوتا ہے ہے یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ بعض غیر احمدی مخالفین جماعت احمدیہ پر اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر جو الزامات لگاتے ہیں اس میں سے سب سے زیادہ بے حقیقت چوٹ اور افتراء پر مبنی یہ الزام ہے کہ جماعت احمدیہ کا ایک خاتون بھی ہیں جن کے منکر ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا الزام ہے کہ جس کسی نے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو صحیح نیت سے پڑھا ہو گا وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس الزام کی تصدیق نہیں کرے گا بلکہ اس کی تردید کرے گا اور گواہی دے گا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت ہی ختم نبوت کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے والی ہے اور اس پر کامل ایمان رکھنے والی ہےمیرا پہلا سوال محترم مولانا محمد حنیف صاحب سے ہے کہ بعض مخالفین احمدیت آیت خاتم النبیین کے غلط اور بے بنیاد تفسیر کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہی ہے آیت خاتم النبیین کا شان نزول سورۃ الکوثر کی روشنی میں بیان فرمائیں کی درخواست ہے ہے یہی ماہ مقدس رمضان کا مہینہ تھا تھا اور اس وقت سے سو دس سن عیسوی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور قرآن کریم کے نزول کا سلسلہ شروع ہوا ایک طرف مخالفت بڑھتی چلی گئی اور دوسری طرف آپ کی آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہونا شروع ہوا اور مخالفت آہستہ آہستہ رفتار سے بلکہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتی رہی جس رفتار سے جو کفار مکہ تھے یا مکہ والے تھے وہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے آخر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اس مخالفت کے باوجود بھی یہ اسلام کی ترقی کا اور اسلام میں شامل ہونے والوں کا سلسلہ روک نہیں رہا تو انہوں نے اور زیادہ مخالفت شروع کی اور زیادہ مزاحم شروع کیے لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا یہ ہوا کہ سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو اولاد تھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے اس میں مشہور ہیں آپ نہ اولاد دی قاسم طاہر یہ تینوں یکے بعد دیگرے فوت ہوگئیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی نرینہ اولاد نہ تھی اس پر عرب کا جو خاص طور پر مکہ کا جو ماحول تھا کہ جس میں نہ اولاد نہ ہو اس کا سلسلہ آگے نہیں بڑھے گا وہاں پر جو کفار مکہ کے عمائدین تھے ابو جہل تھا انسانوں کی نرینہ اولاد تھی اور بھول تھی اور اگر نہیں تھی کسی کی وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی اور اس پر جو ایک لفظ بولتے تھے وہ عرب کے رواج کے مطابق العیاذ باللہ نعوذ باللہ یہ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اب تک ہیں یعنی ان کی کوئی نہ اولاد نہیں اور اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ وہ نسل یعنی ہوا مذہب اسلام ختم ہو جائے گا اب یہ حالات چلتے چلے گئے چلتے چلے گئے گئے تھے آخر اللہ تعالی نے سورہ ہم نے تجھے کو سرحد فصل رسوا شکرانے کے طور پر نماز پڑھنا پڑھو اور قربانی اور آخر پر اللہ نے ارشاد فرمایا اس میں فرمایا کہ تیرا مخالف تیرا دشمن وہی ہے وہی اولاد مرے گا اور وہی مقتول نسل رہے گا یہ اعلان حضور صل وسلم نے کیا اور سورہ کوثر میں اگر آپ کی کوئی نہ اولاد نہیں تھیمیں ان کی وفات ہوگئی سندھ میں اور پھر آپ حضرات جو نرینہ اولاد کر رہی تھی وہ نہیں تھی آپ جو منافقین تھے کفارۃ کے مسلمان وہ یہ کہنے لگے ایک طرف تو اللہ تعالی کہہ رہے ہیں کہ وہ اب تک کہ تیرا دشمن اب تک رہے گا وہ مخالف رہے گا وہ جو مخالف ہے وہ بے اولاد مرے گا لیکن یہ تو پھر سنو ذرا رہے ہم کو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ہے ہی نہیں وہ لفظ استعمال کرتے ہیں جو کفار مکہ کا استعمال کر رہے ہیں اللہ تعالی نے اس حقیقت کو قبول کیا اور اللہ تعالی نے فرمایا ماکان محمد ابا احد من رجالکم بالکل درست ہے کہ محمد صلی نہیں نہیں یہ بات بالکل حقیقت اب یہی بات پکڑ کے وہ لوگ جانتے تھے کہ جب اللہ تعالی خود کہہ رہا ہے کہ یہ بالغ مردوں میں سے کسی کا یہ واحد نہیں ہے تو اسی کو تو وہ کہتے ہیں جو کفار مکہ کہ ہر یا اللہ تو خود اللہ ہمارا ہے اب اس کے بعد اصل مضمون شروع ہوتا ہے ہے عربی زبان میں لا کے جھولے میں شعبہ اندیشہ اور خرچہ ہوتا تھا لانا کے اس کا ازالہ کیا جاتا ہے اس شخص کو دور کیا جاتا ہے مثال کے طور پر ہم کہیں کے بھی ایک لڑکا موٹر سائیکل پہ آ رہا تھا وہ گر پڑا بڑا آپ جب گڑھا سننے والا سمجھتا ہے پتہ نہیں کیا ہوگیا اس میں خرچہ ہوا ہم کہتے لیکن اللہ کے فضل سے چھوٹے تھے لیکن لا کہ ہم نے یہ سمجھا کہ تمہارے ذہن میں جو بات پیدا ہورہی ہے تسلی رکھ وہ نہیں ہے ہے یہاں اللہ تعالی کہہ رہا ہے محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوا کفارمکہ کہتے چلیں اب اس کا ازالہ اللہ تعالی نے لاکے لاک کردیا یا رسول اللہ کا رسول ہے اللہ کا رسول کا مطلب یہ ہے کہ وہ مومنوں کا باپ ہے ازواجہ امہاتہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں جب وہ میں ٹھہریں تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم روحانی طور پر مومنوں کے بکرے یہ بات اللہ تعالی نے اس سے زیادہ اللہ تعالی نے کیا اللہ کے رسول اللہ وخاتم النبیین کہ وہ ابو الانبیاء ہیں وہ نبیوں کا بھی باپ ہے اس کی مہر کس نبی آگے بننے والے ہیں اور یہ بات اللہ تعالی نے سمجھائی کہ آج تو معلوم نہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا کہ اس کی محبت سے خاتم کے معنی وہ نے مان لیا لیکن سردائی کا لیتے خاتم کے معنی اور ایک اصول تحقیق مصنف کے درمیان قرآن کا ایک حصہ دوسرے کی تشریح بیان کر دیتا ہے ہے تو ہم قرآن مجید میں تلاش کرتے ہیں کیا اس کی تفصیل کہیں اور بیان ہوئی ہے ہے وہ اللہ تعالی نے دوسری جگہ بیان فرمائی الدین ایوبی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا وہ نبی صدیق شہید سالہ اللہ تعالی اس کو بنائے اب یہاں ہم کو خاتم کے لفظ کی تشریح سمجھ آرہی ہے کہ اس کے معنی یو پر اللہ جو اللہ کی اطاعت کرے گا ہیں وہ بحر ہے جو آپ کا روحانی فضل بنائیں گے اور اس کو نبی کہتے ہیںان کی اطاعت کے نزدیک اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب اصل حاضر میں وہ نعمتیں نبی وہ امتی رسول ہیں جن کو اللہ تعالی نے حضرت محمد صل وسلم کی خاتمیت کی برکت سے آپ کی غلامی کی برکت سے آپ کی اطاعت کی برکت سے آپ کے اعتبار سے یہ ظلی نبوت اور رسالت کا مقام عطا کیا کیا اب یہ تصویر کا ایک حصہ ہے اس پروگرام کے ذریعے میں بہت ہی پیارے ساتھ اللہ ہم سب مسلمانوں کی بات کرتا ہوں ان کو میں سمجھاتا ہوں او میرے بھائی ہوں جو ابھی تک جماعت احمدیہ میں شامل نہیں دیکھیں ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایک بات کا ہے کہ ان اخوانی علامتیں الائمۃ المضلین کہ میں اپنی امت کے بارے میں ان ائمہ سے بڑا خوف زدہ ہو جو میری امت کو گمراہ کرتے رکھے شریف کیا گیا اور وہ ہر روز مانگتا تھا ابھی وسماع کے سب سے زیادہ آزمانے میں آگر کوئی شہر ہو گا وہ علماء کہلانے والوں میں ہوگا من این تخرج الفتنۃ و عقائد ان میں سے کس طرح نکلے گا اور ان کی طرف واپس لیا جائے گا اب سوال یہ ہے کہ یہ جو علماء ہے ہے یہ مولوی جو ہے یہ آئمہ جو ہے یہ سادہ لوح مسلمانوں کو دیکھیں میں تھوڑی سی اس کو اور واضح کر کے بتاتا ہوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار مکہ نے کہا تھا کہ جسمانی طور پر نعوذ باللہ یہ اب تک یہ جو مولوی ہیں موجودہ زمانے کے یہ غیر احمدیوں کے مولوی جو اپنے آپ کو مولوی علماء اور مرنا اور پتہ نہیں مفکر اور مدبر کیا کہتے ہیں یہ روحانی طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بنانا چاہ رہے ہیں جو کفار مکہ کو کہہ رہے ہیں یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کی برکت سے آپ کی اتباع اور اطاعت کی برکت سے تو کوئی نبی نہیں آسکتا ماں اور ہم کیا ہم بنی اسرائیل کا ایک نبی آئیں گے ےہئتئ کو لائیں گے وہ امت محمدیہ کے صلح کرے گا استغفراللہ ربی اس سے بڑی توہین میرے آقا محمد صلی علیہ وسلم کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی کا بیڑا غرق کر کے رکھ اطاعت کا بیڑا اس کا فیضان روک کے یہ کہتے ہیں یہاں تو فیل ہوگیا بند اگر وہ ارم تم نے کہا تھا جسمانی طور پر اتر آئیں اور اللہ ہم کہتے ہیں اور روحانی طور پر تھا اور ہم ایسا آئے گا جس کو قرآن رسول کہاں بنی اسرائیل کے لئے اور کہاں آتا ہے اور وہ عورت کے غسل کرے گا عرب اور پھر ان کو پاگل کیسے بناتے ہیں بیوقوف اور حماقت کے رستے میں کیسے ڈالتے کہ وہ دین مصطفیٰ کے آئے گا ارے بھائی قرآن اس کو کہا ہے کہ ہم نے انجیل دی ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور ان کو میں جانتا ہوں گے قرآن کے حقوق اردو کے پہلے وہ گزشتہ ہفتے کوئٹہ اور ان کے خلاف ختم کرو گے کہ بنی ہے یا یا یا یا رسول اللہ کے قرآن سے کس قسم کی باتیں کرکے اور وہ جو حضور کا حصہ تھا کہ یہاں لمحہ میری امت کو غلط استدلال کے ہمراہی کے راستے پر ڈال دیں گے اے میرے مسلمان بھائیو یہ قرآن مجید کے نزول کا مہینہ ہے غور کریں قاری حضرت محمد صلی وسلم کا فیض آپ کی برکتیں آپ کی خاتمیت وہ قیامت تک قائم رہے گی عصر حاضر میں جب آپ کو آپ کے ہیں دشمنان اور یہ دشمن ان کے اشارے پر جو بات عیسائی کر رہے ہیں وہ ان مولویوں نے کہنا شروع کی تو اللہ تعالی نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو بھیجا اور امریکی اعلان کیا وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا سارا دن بھر اس میں ہوا وہ ہے ہے تو ختم کر دیں ساری باتفری مولا ہو پھر آپ فرماتے ہیں میرے اعمال اگر پہاڑوں کے برابر بھی ہوتے اور میں رسول اکرم صل وسلم کی اتباع نہ کر رہا ہوتا مجھے کوئی نبوت نہیں مل سکتی جو کچھ ملا آپ کی اتباع سے آپ کے فخر سے آپ کی برکت سے ملا آج رسول کریم صلی وسلم کے فیض کو آپ کی برکت کو خاتمیت کی برکت کو یہ مخلوق کرنا چاہ رہے ہیں ہیں اور ہزار ہزار سلام سیدنا خضر کا غلام احمد قادیانی محمد صلی کا وہ مقام خاتم النبیین ہم پر واضح کیا کہ آپ ایک مہرہ ہے آپ تصدیق کرنے والے ہیں اور آپ کیا ہو رہا ہے اور رسول اللہ کی اطاعت کرے گا اس کو نبوت کا اعلی مقام روحانیت کا ملے گا اور اسی کو روحانی بیٹا کہتے ہیں اور یہی ہے جو اب طبیعت کے الزام کو باطل اور جھوٹا قرار دیتا ہے اور یہ اللہ تعالی کے فضل سے سیدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی بحث سے پورا ہوا اور ہوتا چلا جائے گا انشاء اللہ تعالی اللہ تعالی سنجیدہ ترین اب کچھ ٹیلی فون کالز کا پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں سب سے پہلے میں بات کرنا چاہونگا سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ اللہ صاحب احب دوبارہ ان سے فون کرنے کی کوشش کرتے ہیں رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ میں اپنے پروگرام کو آگے بڑھانا چاہوں گا اور محترم مولانامنیراحمد خادم صاحب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیت خاتم النبیین کی تفسیر جماعت احمدیہ کرتی ہے قرآن کی دوسری آیات میں اس کی تصدیق کرتی ہے تو ایک دو آیات پڑھ کر آپ ہمیں بتائیں بھائی اس میں رحیم قرآن مجید میں اللہ تعالی نے حضرت آیات حفظ کرتے ہیں نبی نبی کی مہر نے بتایا ہی نہیں وہ اس سے یہ اس کے معنی ہوتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ختم کرنے والا ان بین اور یہ اب آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا کہ وہ الگ بات ہے کہ ایک نبی کو نے آسمان پر بٹھایا ہوا ہے تو ختم نبوت کی کرنیں ٹوٹے گی بنی اسرائیل کے نبی سے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن مجید کا یہ دستور ہے کہ قرآن مجید میں اگر کوئی خاص بات جو اصولی بیان کی گئی ہو اور کم از کم ایسی بات جو کے لئے اس بات کو بار بار مختلف پیرایوں میں پھیر کے بیان کرتے ہیں ہیں اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ قرآن کے ہم نے اس قرآن مجید میں کمی ہر بات کو پھر کا بیان کریں حاصل کرے اللہ تعالی کا ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے معنوں کے لحاظ سے قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی ہے جو یہ بتاتی ہوں کہ کوئی ایک یا دو یا تین یا چار جو یہ بتاتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گاآپ کو سکھائیں اب اس میں دیکھیں بڑی مطلب تعجب کی بات ہے کہ چودہ سو سال میں سارے مسلمان سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سورہ فاتحہ سے یہ بیان فرمادیا کہ دیکھو اس میں ہیں آئندہ آنے والے نبی کا ذکر ہے مثال کے طور پر سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم صراط المستقیم صراط الذین انعمت وہ راستہ حق کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا اب ہمارے بعض مخالفین بھی حرام کے بارے میں مختصرا اشرف علی تھانوی صاحب کا ترجمہ قرآن آسمانوں کے نام یافتہ سے مراد چار گروہ ہیں کون نبی صدیق شہید اور سارے اور وہ انہوں نے شہر کے اندر سورۃ النساء کی آیت نمبر 17 جس میں یہ یہ نے فرمایا اللہ کے جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا المدینہ علیہ وہ ان لوگوں میں ہوں گے ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے نام کے کون لوگ میں نبینا نبیوں میں سے کا انعام بھی ملے گا صدیقین اور صدیق وہاں سے شہداء اور شہداء میں سے اور نیک لوگوں میں سے سے اور وہ حسن اولئک رفیقا اچھے رفیق ہے تو یہ جو قرآن مجید کی آیت ہے جس میں لکھا ہے چار انعام اللہ تعالیٰ فرمائے گا کی اتحاد کی برکت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فیض والے نبی کا کوئی ذکر نہیں ملتا یہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص شان ہے کہ جو آپ کی اطاعت کرے اس کو درجہ نبوت ملتا ہے حضرت موسی علیہ السلام کے بعد کوئی نبی پیدا ہوئے لیکن ان کو موسی علیہ السلام کی پیروی کے نتیجے میں نبوت ملی بلکہ کو الگ الگ اللہ تعالی کی طرف سے وحی و الہام ہوئے اور بتایا گیا کہ آپ کو ادا کرنا بھی ہے لیکن اس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا آپ پر جو کہ جو کام لیتا تو پیروی کریں گے اللہ تعالی نبوت کے نام سے بھی سرفراز کرے گا علامہ رشید رضا ہیں انہوں نے جو ہے وہ تفسیر لکھی ہے اس میں وہ یہ بات لکھتے ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی ہے اس لیے اب صرف تین ہی نہ ملیں گے شہادت کا سوال کیسے کہہ رہے ہو نبوت ختم ہوگئی اور تین حملے قرآن مجید نے تو نہیں کی ہے ہونے بہت سی اسلامی کتابوں میں تحریف کر دی مثال کے طور پر حضرت شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ قرآن مجید تھا اس میں اس نے لکھا کہ ہر لیکن انہوں نے اب جو ترجمہ ان کی وفات کے بعد اس میں تحریف کرکے شائع کیا اس میں لکھا خاتم النبیین کا ترجمہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمہ اللہ کی طرف منسوب کردیا کہ نبیوں کو ختم کرنے والا ایک شخص جس نے ترجمہ کچھ کیا اس کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اس کو غلط ثابت کر دیا تو یہ تو خیر نہیں کی اس کے ساتھ اس کی تشریح کے طور پر سورۃ النساء کی آیت نمبر 70 بہت لمبی تفسیر ہو جاتی ہے ہےایک بھی نہیں ہوں گے صرف پرانے نیکوں کے ساتھ رہیں گے تو اس کا مطلب یہ سمجھا دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کیا فرمایا توفنا مع الابرار دعا کرتا ہے مومن کے ساتھ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جس دن کوئی نئی کمرے میں بھی ساتھ وفا دے دینا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں نیک بنا کر نیکوں میں شامل کر کے بتا دینا اسی طرح ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی نے کیا تھا لیا تھا کہ جب تمہارے بعد کوئی رسول آئے تو تم نے اس رسول پر ایمان لانا اس کی تصدیق کرنا na50 کی مدد کرنی ہے یہ آیت سورہ آل عمران میں ہے تو اس کا مطلب کیا ہوا کہ ہر نبی سے اللہ تعالی نے یہ وعدہ لیا میثاق لیا کرتے پختہ کو کہ جب بھی تمہارے بعد کوئی نبی آئے تو تم نے جو ہے وہ اس کی تائید کرنی ہے اور اس پر ایمان لانا دیکھ لیں پرانے صحیفو میں پہلے انبیاء نے بعد میں آنے والے انبیاء کے بارے میں پیش گوئی کی کہ ہمارے بعد نہ آئے گا ہمارے پاس نہ آئے گا میرے پاس پرانے گا چلا جاؤں گا درۃ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی کہ امام مہدی اور مسیح موعود آئے گا اس کو ماننا اور اس کو میرا سلام کہنا اب کیا انبیاء جو تھے بنی اسرائیل کے یا دوسرے انبیاء تھے یہ ہے وہیں سے لیا گیا تھا تا اگر آیت خاتم النبیین کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہیں تو کیا اللہ تعالی کو غلطی لگی تھی اللہ تعالی کو نعوذباللہ کے بھائی وہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ میں بھی کوئی نہیں آنے والا اور اب میں نہیں رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آئے گا اس پر ایمان لانے میں صرف یہ حوالہ بتا دیتا ہوں کہ یہ بتا رہا ہوں کہ یہ آیت ہے یہ ہے یہ ہے بی اسی نمبر کیا ہے اور جو سورہ احزاب کی آیت ہے یہ آیت نمبر 8 اور 9 ہے تو یہ عربی الفاظ میں صرف ترجمہ پڑھنے لگا ہوں پہلے جو سورہ آل عمران آیت نمبر 82 ہے اس میں یہ ہے کہ جب اللہ نے نبیوں کا میثاق دیا جب کہ میں تم کو کتاب اور حکمت دے چکا ہوں تو پھر اگر کوئی ایسا رسول آئے ہیں تو تصدیق کرنے والا تمہاری باتوں کی ضرورت تو اس پر ایمان لانا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا تو اللہ نے فرمایا تم سے پیار کرتی ہے یہی وجہ ہے سورہ احزاب میں جولیا اس کے الفاظ یہ ہیں ایزا خزاں میں جب ہم نے لیا نبیوں سے ان کا مصداق ملک اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ امن وہ ابراہیم و موسی و عیسی بن مریموہی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہوں نہ کہ وہ جو آسمان پہ بٹھا رکھا ہے بنی اسرائیل کے نبی اور وہ امت محمدیہ کی اصلاح کریں ین انڈیا سے آتا وقاص صاحب نے اپنے سوال بھجوایا ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کو مسیح بن مریم کہاں ہے اس سے کیا مراد ہے میں نے خادم صاحب سے درخواست کرتاہوں چاہتی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود کو مسیح بن مریم کہاں ہے تو یہ میرے نزدیک تو غلط ہے ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود کبھی نہیں کہا کہ مسیح بن مریم علیہ السلام نے اللہ کے دیے ہوئے الہام سے اللہ کی وحی اور الہام سے فرمایا کہ میں نے بنایا اور پھر اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے نتیجے میں فرمایا کہ دیکھو مجھے میرے خدا نے فرمایا کہ ایسی رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اس کے رنگ میں رنگین ہوکر فتویٰ ہے ہے تو مسیح بن مریم اللہ نے آپ کے مطابق فرمایا کہ میں مسیح بن مریم اور آسیہ مسیح مریم کے جو الفاظ ہے اس لئے کہ اس کی لمبی تفصیل ہے اگر صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں تمہارا کتنا اچھا حال ہوگا جب کہ عیسی بن مریم تو میں نازل ہوگا اور وہ تم میں سے تمہارا امام ہوگا تو میں سے ہوگا اے مسلمانوں تم میں سے ہوگا اور تمہارا امام ہوگا بنی اسرائیل ہی نہیں آئے گا یہ ماموں کو ملک میں ہوگا تو مسلمان ہو سکتا ہمارا کتنا اچھا ہو گا کہ تم میں المسیح نمبر ابن مریم نواز ہو گا اور تم میں سے تمہارا امام ہوگا اور ایک الفاظ نہیں ہیں نالہ وہ نازل ہونے والا یہ آنحضور نازل کے لفظ سے جو ان کو یہ شبہ پڑ گیا کہ آسمان سے نازل ہونے والا یہ شعبہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب قرآن مجید میں یہ آیت آتی ہے ہم نے تجھ پر یہ ذکر یا رسول اللہ کیا ہے آخرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مولوی ترجمانی کرتا ہے ترجمانی کرتا ہوں اندر الحدیدہ وہ آسمان سے نازل ہوا سارے یہ کہتے نہیں ہے تو زمین سے پیدا ہوا ہے اور یہ ساری باتیں جو ہے وہ لیکن جہاں عیسیٰ ابن مریم کا ذکر ہے کہ حضور کا نہیں وہ تو آسمان سے ہیں صرف صرف عیسائیوں کے دین کو تقویت دینے کے لیے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جعلی کا حصہ کیونکہ انہوں نے اس قوم کی مدد کی ہے اپنی غلط باتوں سے اللہ تعالی عنہ میں ان کے شر سے محفوظ رکھے بنگلہ دیش سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ امت کی نبوت اور بروزی نبوت کی تشریح ہے میں مولانا حمید صاحب درخواست کرتا ہوں کہ جواب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت میں آئے گا آپ کی امت کے اندر رہتے ہوئے آئے گا اور بروز کو کہ جیسے مثال کے طور پر چاند ہے جو روشنی ہے وہ رقص کر رہا ہوتا ہے وہ بھیج رہا ہوتا ہے اس کی زمین کی طرف یا دنیا کو روشن کر رہا ہوتا ہے کہ روس کا مطلب ہے شاگرد یعنی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگرد ہوں گا اور آپ ہی کی امت کے فیض کو آگے جاری کریگا اپنی طرف سے اور کوئی نئی بات شامل نہیں کرے گا تو جیسا کہ میں نے شروع میں ھی بتایا تھا کہ شیر ہے وہ پیشوا ہمارا کہ حضرت محمد صل وسلم نے نبوت کے جمالات اور فیسکو دنیالما اتیتکم من کتاب وحکمۃ تم جہاں کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ کا کیا مفہوم ہے اس آیت کی روشنی میں مخالفین احمدیت کے اعتراضات کا کس طرح جواب دیا جاسکتا ہے کس بیان فرمائیں درخواست شرافت محمد صاحب نے جو آپ سے عہد اور میثاق لیا ہے وہ مثال اور کیا ہے کہ رسول اکرم 700 میں ساتھ لیا جاتا ہے وہ اصل میں مسلمانوں سے لیا جاتا ہے امت سے میثاقِ لیا جاتا ہے لیکن نبی کی وساطت سے اللہ تعالی امت کے افراد سے تو نہیں چلے گا چلے گا نا نبی سے اللہ تعالی نے کے ساتھ لیا کہ مسلمانوں کو کہہ دے کہ میرے اللہ تعالی نے قبول کرلیا ہے کہ جب بھی امت محمدیہ میں ہے رسول اور نبی آئے گا جو کہ تیری پیش گوئیوں کے اور تیرے کلام کی تصدیق کرنے والا ہوگا تو ہم پر فرض ہے لمحات ہے تو اللہ تعالی نے سورۃ الجمعہ میں فرمایا جو آل محمد کے صحابہ کہ وہ کتاب سے کھائے گا یہاں وہ رات ہے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب سکھا دی جاتے اور ساتھ یہ پیش گوئی فرمادی کہ جو مصدق لما معکم جو اس کی تصدیق کرنے والا ہوگا جو اس کی سچائی ثابت کرنے والا ہوگا جو اس کی حقانیت ثابت کرنے والا ہوگا ان پیش گوئیوں کا مصداق ہوگا جو کہ قرآن مجید میں اس کی بحث سے متعلق ہے جو سیدنا محمد افسر نے اس کے بارے میں پیشگوئی فرمائی اس کا موسم صدق اس کی تصدیق کرنے والا آئے گا تو اپنی امت کو کہہ دے تو اس کے اوپر سرور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتا ہے جو قرآن کی طرف منسوب ہوتا ہے ہے ہے ہے ہے ہے تمہاری مرضی نہیں آتا ہے امام احمد رضا ذریعہ سے مسلمانوں سے وعدہ لیا تھا تم کیوں اس کے اوپر ایمان نہیں لائے کیوں تم نے نظر استغفار سے دیکھا کہ لائن نہیں تھا اور دوسرا اللہ تعالی نے فرمایا نہ ہو تم پر فرض ہے اس کی مدد کرنا یا اپنی بات نہیں ہے کہ تم اپنی مرضی سے محبت کرتے رہنا نہیں قرآن مجید نازل ہو گیا اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو اللہ تعالی نے سیدنا محمد صل وسلم کی حدیث کا مذہب بنا کے بھیجا آپ کی بعثت ثانیہ مرزا غلام ہے اور وہ قرآن کے مصداق ہی کر رہے ہیں اور وہ مدرسے کی پیشگوئیوں کی تخلیق کرنے والے ہیں ہیں ہر مسلمان پر لازم ہے اس طرح اس کا ایمان اسلام پر عمل نہیں ہوگا محمد صاحب شامل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی امت پر ایمان نہیں لاتا یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ پہلی شرط پر ایمان لائے اور دوسرے کا انکار کردے یہ ایک حصہ پر ایمان لاؤ دو سے قائم کر دو یہ تو یہود کا طریقہ ہے اور انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کو تم ان حالات میں تو اللہ تعالی نے قرار دیا ہے کہ یہ لوگ چل رہے ہے وہ مختصر بیان کر کے مصدق کی بات کروں گا کرنے والا ہے ہے رمضان کا یہ مہینہ چل رہا ہے قادیان میں آج رمضان المبارک کی 12 تاریخ 12 رمضان المبارکتیس سال پہلے پہلے 13 رمضان میں جو 11000 کو یہی قادیان کی مقدس زمین تھی اور اسی قادیان کی مقدس مسجد مبارک میں حضرت امام زمانہ امام مہدی علیہ السلام جس کے بارے میں قرآن مجید میں یہ پیش گوئی تھی وہ سال کا رواج نیشنل سونگ یہ والا پیشگوئیاں سے ایک سو اکتیس سال پہلے قادیان میں پوری ہوئی اور امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان تھی اور یہاں سب نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا اس سے بڑا نشان کیا ہو سکتا ہے آپ یہ دیکھیں کیا حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے اس تحقیق میں تھا کہ چاند کو تیرہ تاریخ کو گرہن لگا لیتے کیونکہ حدیث میں صاف لکھا ہے ینگ آصف علی کے ابتدائی حصے میں چاند کو گرہن لگے گا اور سورج کے درمیان حصے میں اور بھی نہیں ہوا تیرہ سو سال پہلے جو پیشگوئی ہمارے عطا محمد صاحب نے کی تھی ہی نہیں وہ پوری ہوئی اور اسی طرح انیس سو سال پہلے حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا سورج تاریخ ہو جائے گا چاند اپنی روشنی چھوڑ دے گا انجیل متا میں فرمایا تھا کہ جب میں اپنی بے ثانیہ گا سو سال کے بعد ایک سو اکتیس سال پہلے اسی قادیان دارالامان کی زمین پر امام زمانہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے اس چاند اور سورج گرہن کو دیکھا تھا میں اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ کہتا ہوں کہ دیکھو یہ رمضان کا مہینہ ہے اس کے اندر اللہ تعالی نے قرآن مجید کو نازل کیا اور امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے لیے یہ کسوف و خسوف مصدق کے طور پر یہ دعویٰ کیا اعلان کیا تو نے میں اور اس کے بارے میں یہ چاند اور سورج اور فرمایا خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کے کہہ سکتا ہوں کہ یہ میری تصدیق وہی مصدق میری کے لیے اللہ تعالی نے دی شاعری کیا ہے آپ نے فرمایا عثمان یا عثمان یا میرے لیے تو نے بنایا ایک دفعہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے وہ پوری ہوگی ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس کے اوپر ایمان لاؤ پھر آئے تو وہ اب آئے ہو جب کہ تمہیں برف کے اوپر جانا پڑے اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اللہ تعالی صبح میں اس پروگرام کا آخری سوال محترم مولانا منیراحمد خادم صاحب سے کرنا چاہوں گا کہ عربی زبان ایک بہت وسیع اور عمیق زبان ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالی نے عربی زبان میں ہے اور قرآن مجید کے واقعات ہیں ان میں آپ کے یہ اقرب الموارد ہے لسان العرب ہے مشہور و معروف کتابیں ان میں خاک بن کر کہا اس کے طور پر دو ہی معنی بیان کئے گئےآپ ساری خوشیاں ڈکشنری عربی کی جو معروف ہیں قرآن مجید کی وہ اٹھا کر دیکھ لیں وہ سب ایسی چیز کے اندر اس کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں کہ یہ خاتم کا حقیقی معنی ہیں اور مہر کے معنی کسی کے ذریعے کسی فرمان کو جاری کیا جاتا ہے اور بعد میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ خط لکھا جاتا ہے ان کو بادشاہ کو بھیجتا ہے تو اس کے نیچے اپنی مہر لگا ہے اس کو تو اسی طریقے سے باہر تسلسل میں صحابہ کے مشورہ تو آپ نے گھی بنائ خاتم بنائیں اور پھر آپ اس کو ان خطوں کے لگایا کرتے تھے اب آگے ہیں اب یہ تو اختلاف ہے اختلاف کو دور کرنے کے لئے طریقہ کہ ہمارے پاس اس کے حقیقی معنی کیا ہمارے اصل میں ہمیں کیا کرنا ہوگا اس شخص کی طرف جس کی جس پر یہ کلام مجید نازل ہوا ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کی طرف لوٹنا ہوگا چنانچہ جیسے عظیم ورثہ میں ذکر کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے پیدا ہوئے اور وہ پیدا ہونے کے بعد سال کے اندر ہی فوت ہوگئے اور جو کہ کافی سال کے وقفے کے بعد آپ کے ہاں نرینہ اولاد پیدا ہوئی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ بر روی صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ حضور آپ بھی روتے ہیں اور میں انہیں تو احمد کے آنسو ہے اللہ میرا دل میں جو ڈالی ہے رحمت تو بہرحال افسوس تھا کہ بچہ پیدا ہوا اور فوت ہوا اس کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ ابن ماجہ میں شامل ہیں حدیث کی کتاب اس کے الفاظ ہیں انبیاء اگر یہ میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق ربی بنتا ہے کتا تو اب جو آیت خاتم النبیین ہو تو سن 5 ہجری میں نازل ہو گئی تھی ہمارا کہنا ہے کہ اگر ان کے مخالفین سمجھتے ہیں اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا وہ صدیق نبی بنتا تو پتہ تھا کہ اس خاتون کو ختم کرنے والی نازل ہوگئی ہے اس کے باوجود آپ یہ بیان فرما رہے ہیں ہیں تو صرف اعتراض صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ابتدائی دور میں تھے کہ آنحضرت صلی وسلم کے پاس ہر قسم کے نبوت ختم ہوگئی ہے چنانچہ در منثور مشہور و معروف کتاب ہے اس میں ایک حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف منسوب کرکے آیا کہ رہا تھا کہ انہوں نے رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو ٹوکا نہیں یہ تو بولو گے وہ یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے تو اس کا مطلب کیا ہے کہ زمانے میں لوگوں کے اندر اختلاف کی ایک شکل سی پیدا ہو گئی تھی جس کو صحابہ کرام نے بالخصوص دیکھیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ جن کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بچوں کو حضرت امام حسن کو امام حسین کو بڑھانے کے لئے ایک صحابی کو مقرر کیا اور اتفاق سے وہ صحابی پڑھا رہے تھے تو آپ وہاں سے گزرے اور اس وقت تو فاقہ ایسا ہوا کہ وہ آیت خاتم النبیین پر ہے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے صحیح فرمایا کہ دیکھو میرے بچوں کو آیت جو ہے زبردست پرانا ایک ہزار سال پرانا ختم کرنے والے مہمانوں کے ساتھ بنتے ہیں آپ دیکھیں یہ ہے جس سے ہوں گے وہاں امام حسن امام حسین کے بچوں کے قرآن مجید پڑھنے کا طریقہ بچپن کا زمانہ ہوتا اور لازمی اس دور میں اگر یہ جو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ یہ جو ہے وہ میرے بچوں کا پرانا اور وہ صحابی سمجھتے کہ نہیں حضرت علی نے غلطنہیں لیکن نہیں حضرت عائشہ کی عبادت اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابراہیم کے بارے میں فرمان حضرت عائشہ کا فرمان حضرت علی کا فرمان ہے تو اس سے صاف پتہ لگ رہا ہے کہ خاتم النبیین کے یہ بزرگ تو ہی مانگا کرتے تھے جو جماعت احمدیہ کرتی ہے یہاں تک کہ سن 1965 ہوئے حضرت مولا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو بھی یہ تو ان سے پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے تو ختم ہو گیا تو انہوں نے کہا نہیں یہ تو حضور نے فرمایا عائشہ ابراہیم ملکانا صدیقا نبیا اگر وہ زندہ رہتا میرا بیٹا تو صدیق نبی فرمایا بنتا فرمائے اس کا مطلب کیا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں آئے گا جو آپ کر آج کا پروگرام کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے اختتام پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہوں گا ابھی نہیں ہے وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیا خاتم الانبیا کے ختم نبوت میں ہی ہی نہیں ہیں انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے لانے کا کیا مفہوم ہے مگر ہم بصیرت عام سے جس کو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالی نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو کے طور پر دل دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے یہ خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہو ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 341 63 قادیان دارالامان سے 4 اپیسوڈ پر مشتمل اس کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے ان شاء اللہ العزیز اس کو آگے بڑھائیں گے ہمارا دوسرا ایپیسوڈ قادیان دارالامان سے ان شاء اللہ تعالی یکم مئی 2019 انڈین وقت کےمطابق رات ساڑھے نو بجے اور جی ایم ٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے لائیو نشر ہوگا تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گول کیے یہ یادگاروں رضا خدا آباد آؤگے تو تمہیں پتا تسلی بھی بتایا گیا ہے کہ یہ تسلی بھی بتایا ہے

 55 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: