حضرت مسیح موعودؑ کےخاندان کا تعارف۔




حضرت مسیح موعودؑ کےخاندان کا تعارف۔

Streamed live on Aug 4, 2021

ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نام کے اکاؤنٹ پروگرام کے ساتھ آزادانہ من آپ کی خدمت میں حاضر ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہیں یہ پروگرام ہفتے میں چھ دن پیش کرتے ہیں جمعہ کے دن پروگرام نہیں ہوتا اس کے علاوہ ہر روز تقریباً اسی وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے اسلام کے متعلق اور احمدیت کے متعلق جو بنیادی قسم کے سوالات ہوں ان کے جوابات دیئے جائے ہمارے باقاعدگی سے سننے والے اور دیکھنے والے جانتے ہیں اس پروگرام میں ہم مختلف موضوعات پر بحث لے کر آتے ہیں کبھی وہ موضوع تبلیغ کے متعلق ہوتا ہے ابھی کوئی موضوع تربیت کے متعلق ہوتا ہے کبھی ہم ہم جماعت احمدیہ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات دیتے ہیں اور کبھی حالات حاضرہ پر جو ہے وہ بحث کی جاتی ہے پروگرام کے عموما دو حصے ہوتے ہیں پروگرام کے پہلے حصے میں ہم کوئی موضوع پر گفتگو کا آغاز کرتے ہیں دس سے پندرہ منٹ جو ہیں اسی کے متعلق بات ہوتی ہے آپ کے جو ہوتے ہیں وہ آنا شروع ہو جاتے ہیں پھر ان کے جوابات دیئے جاتے ہیں تو آج بھی یہ سلسلہ جو ہے وہ قائم رہے گا آج پروگرام کے پہلے حصے میں ایک بہت ہی اہم موضوع کا انتخاب کیا ہے اس زمانے میں جس سے عظیم شخص نے مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا دعوی کیا ہمارے عقیدے اور ایمان کے مطابق وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہے آپ آنحضرت صلی کی پیشگوئیوں کے عین مطابق آئے اسی وقت آئے جب کہ آپ کے آنے کا ذکر تھا تھا بہت سارے لوگوں نے آپ کی سیرت اور سوانح کے متعلق جو ہے وہ کتابیں پڑھی ہیں جانتے ہیں کہ آپ کا پیدا ہوئے آپ نے کیا دعا کی ہے آپ کی وفات کب ہوئی آپ کا لٹریچر کس قسم کا ہے لیکن آپ کے خاندان کے حالات سے ہر کوئی شخص سے وہ واقف نہیں ہے کہ آپ کی پیدائش سے پہلے جو ہے آپ جو ہے وہ اسی کے متعلق بات ہو گی کہ آپ کا خاندان جو ہے وہ کہاں سے ہجرت کرکے قادیان میں آیا اس کی کیا وجوہات تھیں اور آپ کے جو آباواجداد تھے وہ کون تھے اس کے متعلق جو ہے میں آپ کو جماعت احمدیہ کی جو آفیشل ویب سائٹ ہے اس سے ہی آواز ہے جو ہے وہ آپ کو مل سکتی ہیں ہیں کہ ہم آپ کو مختلف پر بتاتے رہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی جو فحش ویب سائٹ ہے وہ اسلام ڈاٹ ہے یہ اس کا مین پیج اگر آپ یہاں جائیں گے اور یہاں جا کے پھر پھر آپ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام علیکم اس سے میں کریں گے گے تو آپ یہاں چلے جائیں گے شروع میں حضرت موسی علیہ السلام کے بعد جو ہیں ان کے حوالہ جات ہیں ان کی پی ڈی ایف کتب ہیں لیکن اگر آپ اس کے نیچے آئیں گے تو پھر آپ کی سیرت و سوانح کے متعلق بہت ساری کتابیں جو ہے آپ کو مل جائیں گے جس کتاب کا ذکر کرنا یا جسے کچھ پڑھ کر آپ کو آج بتانا مقصود ہے وہ ہے حیا ت طیبہ بہت ہی عمدہ کتاب ہے اور اسلام کی سیرت پر لکھی ہوئی یا شیخ عبدالقادر سابق صدر کے وکیل صاحب جو انہوں نے تحریر فرمائی ہے اسی میں سے آپ کے جو خاندانی حالات ہے وہ آپ کو پڑھ کر سنا تھا علی کی کتاب میں کی گئی ہے اس میں آپ کے خاندان کے جو حالات کے شروع میں ذکر ہے اس میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اہل فارس کی مشہور قوم برلاس کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اس قوم کے مورث اعلی قرار 496 میں گزرے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا کر اچار دے جو چغتائی کے وزیر اور ایک مشہور سپہ سالار تھے اپنی قوم کو سمرقند کے جنوب کی طرف تخمینا 30 میل کے فاصلے پر شہر کے گرد و نواح میں آباد کیا تھا اس کے پوتے اور کال کے ہاتھوں بیٹھے ہوئے ایک کا نام ترا گے اور دوسرے کا نام حاجی برلاس تھا مشہور ایرانی بادشاہ تیمور صاحب قرآن تلاوت کا بیٹا تھا کس کی حکومت حاجی برلاس کے حصے میں تھیں لیکن حاجی صاحب کے بھتیجے تیمور نے زور پکڑا حاجی برلاس علاقے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے تو کیا وہ علاقہ جو ہے وہ فارس کا کہلاتا ہے اس کے متعلق ذکر ہے اس وقت کی تاریخ سے جو جغرافیائی کیفیت معلوم ہوتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ والدہ سے بحیرہ فارس تک اور افغانستان اور بلوچستان سے بخارا تک پھیلا ہوا ہے خالص کہلاتا تھا بلکہ بقول بعض اکثر حصہ افغانستان بلکہ بقول باز اکثر افغانستان اور بلوچستان موجودہ اور دریائے گنگا کے ممبر سے شمالی علاقہ جو کا شکار کی طرف پھیلا ہوا ہے اس میں داخل ہے اور نبی انہیں حدود کے اندر ہے لیکن حلف عباسیہ کے زمانے میں یہ علاقہ ماوراءالنہر کا ایک حصہ شمار ہوتا تھا یہ بھی آتا ہے کہ وہ صرف اور صرف وہ ماوراءالنہر میں آئے گا یا اس علاقے میں سے آئے گا یہ تھوڑا سا اوس جغرافیہ کا ذکر تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خود ذکر کیا ہے یا آپ کی لکھی ہوئی خود کی تحریر ہے وہ اپنے خاندانی حالات لکھے ہیں تو یہ میں آپ کے سامنے پڑھتا ہوں آپ نے فرمایا ہماری یہ عبادت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ ہیں ہم آیا کہ ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں صبر کرنے آئے تھے تو ہندوستان میں آپ کے بزرگ جوتے وصول کرنے آئے تھے تھے اور ان کے ساتھ تقریبا دو سو آدمی ان کے تمام اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس کا صبح کی جگہ جو اس وقت ایک جو اس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے کمینا 50 گوشہ شمال مشرق میں واقع فروکش ہوگئے جس کو انہوں نے آباد کرکے اس کا نام اسلام پر رکھا ہے قادیان کا نام تعلیم کے حوالے سے بڑا کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب وہ انکے آباؤ اجداد واقعہ جو ہے وہ اس علاقے میں آئے انہوں نے اس جگہ کا نام جو غیر آباد دیکھ لو نے آباد کیا اس کا نام اسلام پر رکھا جو پھر جو پیچھے اسلام پور کا قاضی ماں جی کے نام سے مشہور ہوئے نے اس کے بعد جو ہے وہ اسلام پور قاضی ماں جی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماضی کی کی جگہ قاضی رہا اور پھر آخر قاضی بن گیا اور دیگر کا جو موقع دیا گیا اور قاضی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے یہ علاقہ جس کا دورانیہ تقریبا سات کو ہے ان دنوں میں سب کا سب ماجہ کہلاتا تھا اس وجہ سے اس کا نام آجاتا کہ ملک میں بھینسیں کثرت بکثرت ہوتی تھی اور مارچ کے معنی ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے علاقے کی حکومت بھی ملی تھی اس لیے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے مجھے کچھ معلوم نہیں کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمرقند سے اس ملک میں آئے مگر کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ریاست میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھاکیا ان کی نوی پشتو مذاق فیض محمد صاحب کے عہد اقتدار میں اس خاندان کے سلطنت مغلیہ کے ساتھ اور بھی گہرے تعلقات قائم ہوگئے چنانچہ سن 2016 میں شائے فقیر نے مرزا فیض محمد کو ہفتہ زاری کا ادا کرکے آزاد اللہ کا خطاب دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ خود اپنے طور پر سات ہزار نوجوانوں کی فوج رکھ سکتے تھے اور یہاں زمانے میں معتبر ترین افراد میں سلطنت کو دیا جاتا تھا تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا خاندان ایک شاہی خاندان کا ایک خاندان تھا اور جو بادشاہ وقت ہے وہ بھی ایک خاص قدر کی نگاہ سے آپ کے خاندان کو دیکھتے تھے پھر مزید آپ سے اپنی کتاب میں اپنے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ سکھوں کے ابتدائی زمانے میں میرے پردادا مرزا غلام احمد صاحب ان کی عظمت یوسف علیہ السلام کے پردادا مرزا غلام احمد صاحب ایک نامور اور مشہور رہی اس نوع کے تھے ان کے پاس اس وقت 85 گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضے سے نکل گئے تاہم ان کی جواں مردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروت کے طور پر بالغ تازہ مسلمان بھائیوں کو دے دیئے تھے جب تک ان کے پاس ہیں ورنہ وہ طوائف الملوکی کے زمانے میں اپنے نواح میں ایک خود مختار ریاست سے ہمیشہ قریب پانچ سو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ ان کے دستر خوان پر روٹی کھاتے تھے اور 100 کے قریب غلاماں اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے ان کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفہ مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر کا اللہ  اور قال رسول کا ذکر بہت ہوتا تھا اور تمام ملازمین موت اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو طارق نواز ہو یا تک کہ چکی پیسنے والی عورتیں بھی پنج وقتہ نماز ہوتا جب پڑھتی تھی اور گردونواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے قادیان کو جو اس وقت اسلام کو کہلاتا تھا تم کہتے تھے کیونکہ اس پر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لیے یہ قصبہ مبارک پناہ کی جگہ تھا اسے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا خاندان بہت ہی شریف خاندان معززین اور شریعت پر عمل کرنے والا تھا کہ آپ کے خاندان کے ارد گرد جو لوگ تھے وہ بھی صوم و صلوۃ کے پابند حافظ قرآن ہوتے تھے تے ہیں جن کی نسبت ایک گروہ کسی مخالفین کا بھی گواہی دیتا ہے وہ علاوہ ریاست و امارت کے اپنی دیانت اور تقوی اور مردانہ ہمت اور علمی اور حمایت دینے اور ہمدردی مسلمان کی صفت میں نہایت مشہور تھے ان کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب منطقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے اور فسق و فجور سے دور رہنے والے اور بہادر اور بعد میں تھے راستے میں میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم نے سنا ہے کہ زمانے میں ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا قادیانی بھی آیا جوا یا سود اللہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے مرزا غلام محمد صاحب کے مطابق مولاناطریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور وہ لازمی اور استقلال اوراق اور فہم اور حمایت اسلام اور جوش و خروش دیناتین بہادر سے پر پایا تب وہ چشم پر آب ہو کر بولا اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایک ایسا ملک موجود ہے جس میں صفات کے پائے جاتے ہیں تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا تو وہ بھی مانتے تھے کہ یہ بالکل جو ہے اسلام کے احکامات پر عمل کرنے والے ہیں بہترین جو ہے وہ سلطنت کو چلانے والے ہیں کہ یہ مقصد اور نہ لیاقتی اوربدسلوکی چغتائی ہمیں اس کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے تو ایک بڑا دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں اور آج کل کے دور میں بھی یہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان جو ہے ایسی چیزیں استعمال کر لیتے ہیں لیکن یہ عجیب واقعہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے آباء و اجداد کس قدر فارسی فرماتے ہیں کہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پردادا صاحب موصوف یعنی مرزا غلام محمد نے نے اس کی بیماری سے جس کے ساتھ اور رواج بھی تھے وفات پائی بیماری کے غلبے کے وقت طالبان نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لیے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالبا اس سے فائدہ ہوگا جو بھی بیماری تھی کہ اگر اب اس کے لیے استعمال کی جائے تو وہ پاک ہو گا مگر نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں عرض کریں ہم تقریر میسج کر دیا تب انہوں نے کہا اگر خدا تعالیٰ کو شفاء دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اور بہت سی دعائیں ہیں میں نہیں چاہتا کہ اصلی چیز کو استعمال کرو اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں آخر چند روز کے بعد اسی مرد سے انتقال فرما گئے موت کو مقرر تھی مگر یہ ان کا طریقہ کے تقوی ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ اختیار  نہیں کرتا ہوں نہ کرنے سے انہیں گناہ کرنے سے موت کو بہتر سمجھا تو سنو اب امیروں اور نویسوں کی حالت پر یہ چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بقول لاپرواہ ہو کر اور خدا تعالیٰ سے سارے علاقے توڑ کر توڑ کر دل کھول کر ارتکاب معصیت کرتے ہیں اور شراب کو پانی کی طرح دیتے ہیں اور اس طرح سے اپنی زندگی کو نہایت اور ناپاک کر اور عمر طویل سے محروم رہ کر اور بعض ہونا کورٹ میں مبتلا ہو کر جلد مر جاتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے نہایت خبیث نمونہ چھوڑتے ہیں اس لئے جو ہے وہ آگے جاری ہے فرماتے ہیں اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا محمد صاحب فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے ان کے وقت میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سے غالب آگے دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے بہت بینک کی اگر قضا و قدر ان کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لیے ناکام رہے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس سے قادیان رہ گئی اور قادیان وقت ایک طلاق سنت پر قبضہ تھا اور اس کے چار بج چکے تھے اور برجوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند تو پی تھی اور تفسیر بالماثور کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل پر اس پر جاسکتے تھے اور ایسا ہوا کہ گروہ سکھوں کا جو رامگڑھیا کہلاتا تھا اول فریب کی رات سے اجازت لے کر قادیان میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کرلیا اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی تاریخ کو ہیرو کی مانند پکڑے گئے اور ان کے معلومات سلوٹیں گی مسجد اوراس میں لے کیونکہ اس حصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنا لی تھی کہ ہمارے تمام دیہات بھی نجیب سے ان کے قبضے میں آگئے تھے اور لاہور سے پشاور تک اور دوسری طرف دھیان نہ تک اس کی برکت علی کا سلسلہ پھیل گیا ہماری پرانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ کا ہاتھ میں رہ گئے پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی اس کے مشہور رئیس سے گورنر جنرل کے دربار میں روزمرہ کرسی نشینوں کے ہمیشہ پڑھائے جاتے تھے چنانچہ سر لیپل گریفن صاحب نے اپنی کتاب تاریخ راولپنڈی پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ کام کی نظر میں بہت ہردلعزیز دل اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لیے حکام وقت ڈپٹی کمشنر کمیشن ان کے مکان پر کی ملاقات کرنے کرتے تھے تھے یہ مختصر وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی خاندان کے متعلق تھا اس کے بعد جو ہے وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے حالات زندگی جو ہیں وہ شروع ہو جاتے ہیں تو آج کے پروگرام میں نے آپ کی پیدائش سے پہلے طلاق کا ذکر کیا انشاء اللہ جب اس پروگرام کا دوسرا حصہ پیش کیا جائے گا اس میں تقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش سے لیکر آپ کے دعویۃ کا ذکر ہوگا تک حقیقی ہمارے جو سننے والے اے دیکھنے والے ہیں ان کو پتہ چلے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندانی حالات کیا تھے اور جیسا کہ آج کے پروگرام میں یہ ثابت ہو گیا کہ کیسے آپ کے آباء و اجداد تھے بہت ہی شریف النفس انسان تھے قال اللہ وقال رسول پر عمل کرنے والے شریعت کے احکامات کے پابند تھے غالباً یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کو یہ خاندان اتنا پسند آیا کہ اسی خاندان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق جائے اسے موضوع امام مہدی کا ظہور ہوا میں نے ذکر کیا ہے یہ معلومات جو ہیں آپ کو جماعت احمدیہ کے پیچھے واٹس ایپ ہے جائیں تو وہاں کتاب ٹائپ کرے حیات طیبہ تو یہاں سے آپ کو مل جائیں گے بہت سارے لوگوں نے السلام علیکم کہا ہے تو اس میں تمام امور میں سے بعض کے میں آپ کو بتا دیتا ہوں نام ہے لیکن طالب علم صاحبہ صادق محمود صاحب محمد سلیم صاحب ابن صاحب فی الدرس السابع من سب سے پہلے وہ سلام کرنے میں لیکن آج کا نمبر ہے پیچھے رہ گیا اسی طرح عائشہ خواجہ صاحبہ صبا صاحبہ ایکو صاحب اور وہ سارے اور لوگوں نے بھی السلام علیکم کہا ہے میں آپ کو سلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ سب کا بہت بہت شکریہ کہ آج کے پروگرام کے لائیو سے میں آپ ہمارے ساتھ شامل ہوئے  اچھا پہلا سوال لے لیتے کہتے ہیں واٹ از دا ٹائم بوریٹ بات یہ ہے کہ ہر نماز جو ہے اس کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا چاہیے اگر کسی وقت سے اگر کسی مجبوری کی وجہ سے انسان اول وقت میں ادا نہیں کر سکا تو پھر وہ آخری وقت نماز کا یہ ہے کہ اگلی نماز سے پہلے پہلے اس کو ادا کر لیا جائے تو عشاء کا وقت ہے بہترین وقت وہ شروع سے لے کر آدھی رات تک ان کے بارہ بجے تک ہے کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی انسان جو ہے وہ سوتا رہ گیا یا کام پر مصروف تھا نماز نہیں پڑھ سکا تو پھر بارہ بجے کے بعد سے لے کر تعجب کے وقت جو ہے وہ عشق نماز پڑھی جا سکتی تی اچھا یار خان صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے ایمیگریشن کاربن ایس وہ محفل پروگرام کی شروعات آتے ہیں کہ یہ پروگرام ہفتے میں چھ دن آتا ہے جمعہ کے دن یہ پروگرام نہیں ہوتا اس کے علاوہ ہر روز صبح تقریبا آج کے پہلے گیارہ بجے آپ کرتے تھے آج کا جو ہے وہ صبح گیارہ کے قریب کر رہے ہیں جو کہ اس میں سنڈے ٹائمز کے مطابق صبح گیارہ بجے اس ٹائم کے مطابق ہر روز سے واحد جمعوقت ختم ہوتا ہے آخر تک ک ک ہے کہ جب کوئی مرضی بنتا ہے تو اس کی پوسٹنگ یا جس ملک میں وہ جائیں گے خود پسند کرتے ہیں یا زور بتاتے ہیں اگر کسی ملک میں جانا ہو تو وہ دور بتاتے ہیں کہ کس ملک میں جائے گا اس ملک کے اندر جو ہے کس شہر میں جائیگا کہ اس علاقے میں جائیں گے وہ جو مقامی امیر ہوتا ہے اچھا اگلا سوال یہ ہے کہ طہارت اور پاکیزگی کیسے حاصل ہو سکتی ہے طہارت اور پاکیزگی تو اقامہ شریعت پر عمل کرکے ہوسکتی ہے تو پاکیزگی ایک تو ظاہر ہوتی ہے یعنی کہ انسان جو ہے وہ اپنے بدن کو پاک رکھے اس کے لئے جو ہے وہ نہایا جاتا ہے یا وضو کیا جاتا ہے پاکیزگی جاتی ہے وہ لباس کی پاکیزگی ہوتی تو لباس بھی انسان جو پاک و صاف رکھیں اس کی ہوتی ہے وہ خیالات کی پاکیزگی ہوتی ہے تو خیالات جو ہے وہ اصل میں گناہ کی طرف انسان کو لے کے جاتے ہیں تو اچھے خیالات اگر انسان جو ہے وہ ان کو اپنے ذہن میں رکھیے گا تو اچھائی کی طرف ہوجائے گا اگر برے خیالات آئیں گے تو برائی کی طرف جائے گا اس لئے اپنے ذہن کو اپنی سوچوں اور اپنے خیالات کو بھی انسان کو پاک کرنا چاہیے کیونکہ وہ پہلا سٹاپ ہوتے ہیں جو کہ کسی چیز کی طرف سے اچھی یا بری کی طرف لے کے جاتے ہیں تو جسم کے علاوہ اس کے علاوہ خیالات اور  سوچ اور دماغ کو پاک رکھنا بھی بڑا ضروری ہے اور اللہ تعالی سے دعا بھی کرنی چاہیے جیسے ہم وضو کے بعد دعا کرتے ہیں اللہ سے توبہ کرنے والوں میں اور پاک لوگوں میں سے بنا اس لحاظ سے جو سارے ان باتوں پر عمل کریں پھر نماز پڑھے اس میں اللہ تعالی سے پاکیزگی مانگی جائے روح کی پاکیزگی پر توجہ دی جائے روح کی پاکیزگی جو ہے وہ عبادت نہیں ہوتی ہے تو یہ مختلف ذرائع ہے جس کو استعمال کرکے انسان جو ہے وہ جو ہے پاکیزگی اختیار کرنے کے علاوہ قرآن کریم کی تلاوت کی جائے وہ بھی پاکیزگی کی طرف انسان کو لے کے جاتی ہے پھر اللہ تعالی کے نبی ہیں ان کی احادیث کو پڑھا جائے پھر زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود کی کتب کا مطالعہ کیا جائے کیونکہ وہ بھی فرشتوں کی تائید سے لکھی گئی ہیں تو ان سے بھی انسان کو پاکیزگی حاصل ہوگی جی آر سی سچ کہتے ہیں کہ اچھا موضوع ہے اس کی تفصیل کی ضرورت تھی جزاکم اللہ تعالی سنجیدہ اچھا گل سن چھلیا خاکساری اور عاجزی اور عزت نفس سب ایک ساتھ کیسے کیسے لگا سکتے ہیں خاکساری اور آجکل ایک ہی چیز ہیں نا کہ انسان اپنے آپ کو کوئی بھی ایسی بات نہ دے کچھ بھی نہ سمجھے عزت نفس جو ہے وہ تھوڑی مختلف ہے کہ انسان کی جو صرف ہوتی ہے وہ عاجزی و انکساری تو ہم نے خدا کے سامنے پیش کرنی ہے اور جب بندوں کے سامنے اس کا اظہار ہو تو یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس مال ہے کسی کے پاس جائیداد ہے کسی کے پاس بھی ہے کسی کے پاس اچھی نوکری ہے تو اس کو پڑھ کے بیان کیا جائے کہ مجھے اتنا جو ہے میری اتنی جائیداد ہے میری اتنی تنخواہ ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ تکبر کے زمرے میں آ جاتی ہے تو وہ گھر کے فرنٹ چیز ہے وہاں بھی انسان کو عاجزی انکساری استعمال کرنی چاہیے اور عزت نفس ہے وہ کسی کے سامنے پیش نہیں ہے کیونکہ اس وقت خدا کی جو بادشاہت ہے خدا کی جو عظمت ہے اس کو سامنے رکھنا ہے تو اس کا علاج خدا کے سامنے آنے چاہیے پھر جو ہے یہاں تک کہ انسان کا تعلق ہے وہ تکبر نہ کرے اور فکر نہ کریں اس لحاظ سے کہ میں بڑی چیز ہوں تو عزت نفس کو دوبارہ ہمیشہ جو ہے جان قائم رکھنا ہے وہ مختلف ہے ہیںان کے نام بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی اور عزیزوں رشتہ دار موجود نہیں ہے تو پھر جو ہے آپ کا خیال ہے کہ آپ اپنی جائیداد کو اس طرح تقسیم کرنا چاہیے تو آپ اپنی وصیت میں اس طرح لکھ سکتی ہیں ہیں ہیںاچھا کی فلائٹ میں اس کے بھائی بہنوں کا بھی اگر تو بھائی بہن ہے چونکہ وہ قریب ترین رشتہ دار ہیں تو اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جاتا ہے جس کا اور کوئی عزیز رشتے دار نہ ہو تو قریب ترین جو ماں باپ سے ان کا ان سب چلتا ہے وہ تو بہن بھائی ہیں اگر کوئی اور نہیں ہے تو پھر وہ جو حصہ ہے وہ ان کے بہن بھائیوں کی طرف جا سکتا ہے تو پہلا جو ہے وہ رشتہ داروں کا یہی حال ہوتا ہے جو آپ کے قریب ہیں اس کے بعد آپ کسی اور کو اپنا کر سکتے ہیں تو اگر آپ چاہیں تو ایک سال کے لئے معین کر دیا اس میں سے اور باقی جو اگر آپ اپنی مرضی سے مسلمانوں نے ایسی ہوتی ہے یہ صرف کسی کو تحفہ دینا چاہیں تو وہ بھی لے سکتے ہیں ہیں ہیں ہیں  اچھا اگلا سوال یہ ہے کہ جو انعامات قرآن میں صادقین النبوۃ میرا سوال یہ ہے کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ سب انعامات جاری ہیں تو نبوت کو ہم کیسے استعمال کر سکتے ہیں کا کچھ حصہ باقی اس کا ثواب میں کوئی کمی رہ گئی ہے تو غالبا یہ پوچھنا چاہتی ہیں باقی سارے الزامات ہیں تو نبوت کیوں نام جو ہے نہ تو یہی کہتے ہیں ہمارے نمائندے میں یہی عقیدہ ہے کہ سارے الزامات ہیں انسان کو مل سکتے ہیں صدیق میں بدل سکتا ہے شاید بھی بن سکتا ہے سعد بن سکتا ہے اور باقی سارے مسلمان یہ انعامات مانتے ہیں یہ میں سکتے ہیں آباد نبوت کے آتی ہے تو پھر ایک جواب پینترا بدلتے اور کہتے ہیں کہ وہ نہیں آ سکتی تو وہاں چاروں انعامات کا اکٹھا ذکر ہے یا چاروں کی نفی کرے کہ میں سے کوئی نام نہیں مل سکتا یا بے چاروں کو ماننا پڑے گا تو یہی کہتے ہیں ہیں کہ آنحضرت صلعم کی جو سچی اطاعت کرتا ہے اور نبی بھی بن سکتا ہے اور یہی حضرت اقدس مولانا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر میرے اعمال ہمالہ پہاڑ کے مطالعہ کے کے برابر بھی ہوتے تو مجھے یہ شرف مکالمہ مخاطبہ اور نبوت کا نام ملتا یہ مجھے اسی لیے ملا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ایک فرد ہوں اور آپ کی اطاعت اور پیروی کرتا ہوں تو اب آگے جو ہے کہ خدا تعالیٰ ضرور قبول اسلام کے بعد بھی کسی نبی کو بھیجے گا یہ خدا تعالی کا اختیار ہے جامع حدیث سے ذکر ملتا ہے وہ ایک نبی کے آنے کا ذکر ہے جس کو مسیح موعود امام مہدی بھی کہا گیا ہے لیکن اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ خلافت کا سلسلہ جو ہے وہ جاری ہوجائے گا تو خلافت چونکہ قیامت تک رہنی ہے اس لیے کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی کیونکہ خلیفہ بھی وہی کام کرتا ہے جو کہ خدا کا نبی کام کرتا ہے لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر خدا چاہے کسی وقت کوئی نبی نہیں آئے گا تو زمانے کا جوہر خلیفہ ہوگا اس کو خدا تعالیٰ نبوت کے مقام پر فائز کرنے کا آگے اللہ تعالی نے بیچنا ہے یا نہیں یہ وہ بہتر جانتا ہے سوال ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کا ٹھنڈا ہو جانا ہے سے کیا مراد ہے یعنی قرآن کریم میں جہاں ذکر آتا ہے یا نارو کونی بردا و سلاما علی ابراہیم کے آگ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجا تو اس کے متعلق آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی زبانی کا مخالف تھا اس نے اس وقت کی وجہ سے آگ میں ڈال دیا لیکن وہ ان کے لیے ٹھنڈی ہو گئی ہے وہ تو بہتر جانتا ہے لیکن اس کی تشریح کر سکتے ہیں جو کہ وہ ایک ایسا تھا کہ بہت ساری تفصیل ہمارے پاس محفوظ نہیں ہے ایک تو اس سے مراد ظاہری آدمی ہو سکتی ہے تو وہ آگ کیسے لگی ہو گی عین ممکن ہے کہ جب انہوں نے آگ جلائی ہو غزل ابراہیم کو وہاں ڈالنے کا ارادہ ہو تو اس وقت اللہ تعالی نے بارش برسادی ہوا ایسے سوال بھی ہم کہتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ شدید مخالفت ہو تو مخالفت کی آگ میں فلاں شخص جو ہے وہ اپنی زندگی بسر کرتا رہتا ممکن ہے کہ وہاں مراد نہ ہو اگر شادی ہو گئی تو اس ایکشن لیں میں نے بتا دیا ہے اگر اس سے مراد مخالفت اور دشمنی اور نفرت سے پھیر اللہ تعالی نے ان کو بچا لیا کیونکہ جبرئیل علیہ السلام کو حکم تھا یہاں سے ہجرت کر جاؤ اور اگر دوسری تشریح کریں گے میں پوری کہ وہ آزاد نہیں بلکہ مخالفت دشمنی نفرت اور فتنہ انگیزی کی تو پھر اللہ تعالی نے آپ کو بچا لیا کہ وہاں سے آپ کو ہجرت کرنے کا حکم دے دیا کریں اللہ تعالی نے آپ کو محفوظ رکھا کرو گے اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایگزیکٹ اس کی کیفیت کیا ہے ہے ہے ہے فقہ کا کیا مطلب ہے فقط کا مطلب ہے سمجھ بوجھ اور اس سے مراد جو خون سکول رفتار ہیں ہم جو ہے امام مالک امام شافعی امام احمد امام ابو حنیفہ وہ چار امام حسن کو بھی فقہ کے امام کہا جاتا ہے کیونکہ اسٹوڈنٹس کو کہتے ہیں میں تو وہ فقہ سے مراد ہے ہے اچھا کی قیمت بتائیں صاحب کی اصل تحریر کا حوالہ بتا دیں اگر تو آپ اس تحریر کی بات کریں جو کہ میں نے پروگرام کے شروع میں پیش کی ہے تو وہ میرے کتاب اللہ میں سے ہے تو اگر آپ کے پیچھے ویب سائیٹ پر جائیں گے تو وہ فورٹ میں وہ حوالہ دیا گیا ہے کہ کہاں سے وہ الفت حیات طیبہ کے انہوں نے حوالے سے مسائل کا حل میرا نام کا دیا تو مجھے اس کا تحفظ دیا ہے کہ اس کو کیسے پڑھا جائے میں وہ کہنے لگا تھا میں نے کہا شاید اسی لئے تو کہتے ہیں کہ یہ خوف ہے کہ جرمنی کی لیٹر کو ہمیشہ سلامت رکھے پاک صاحب بہت شکریہ تو آپ کا نام مجھے آ گیا اچھا فیس واش خواجہ صاحب کہے کہ سجدہ میں جب دعا مانگی جاتی ہے تب بھی درود اور سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری ہوتی ہے جو ہے وہ سجدے میں اور رکوع میں پڑھ سکتے ہیں لیکن قرآن کریم کا کوئی حصہ جو ہے وہ سجدے اور درود میں نہیں پڑھا جانا چاہیے کیونکہ سجدہ جو ہے انتہائی عاجزی اور انکساری کی حالت ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام جو ہے وہ اس میں چاہتا ہے اس لئے یہی حکم ہے کہ رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی کوئی صورت کوئی آیت نہیں پڑھی جائے اس کے علاوہ نماز کے کسی اور حصے میں کا قیام میں قعدہ میں آپ قرآن کریم کی آیات پڑھ سکتی ہیں تو سجدے میں نہ فاتحہ نہ ہی کوئی قرآنی دعا پڑھنی چاہیے لیکن رجوع کیا جا سکتا ہے ہے ہے ہے ہے ہے اچھا فرزانہ کیوں صاحب کہتے ہیں کہ آپ کا پروگرام بہت شاندار ہے مگر سکرین پر اپنی ویب سائٹ بہت چھوٹی لکھی ہے ٹھیک سے نظر نہیں آتا پلیز آپ سے تھوڑا بڑا کر دیں کون سی بس ایک تو یہ ہمارا جو شروع میں یہ نظر آرہا ہے آپ کو میری اسکرین کے وہاں ہی تو بہت زیادہ علم بھی نہیں کر سکتے اس کی ٹیکنیکل بعض وجوہات ہوتی ہیں جو ہم سکرین شیئر کرتے ہیں وہ بھی چھوٹی چھوٹی سکرین ہوتی ہے اس میں محدود طریقے سے یا مجھ کو خود پر بڑا کر سکتے ہیں تم کو شہیدوں کرتے ہیں کہ اس جو ہے میں اب تک آ جائے پڑھنے والا جہاز پیر کو دیکھ کر پڑھے لکھے نماز کا ذہن میں نہیں رہتا کہ اس کا فانٹ سے بڑا کیا جائے بلکہ اس سے دوستی نہیں کر رہا ہوں ایک تو آپ بولو ایک ساتھ باندھ رکھا ہے جس میں پڑھ کر جائے پہلے پڑھنا آسان ہو جاتا ہے تو اس سے پہلے آپ کو شیئر کرکے بتائیں جاتی لیکن تو جناب ہم آپ کے پیک کوشش کریں گے کہ وہ خان تھوڑا سا بڑا کرکے آپ کو دکھایا جائے لیکن ویب سائٹ ہے اس وقت ساڈا آپ کو نظر آرہی ہے ہے ہے ہےاس کا جو ترجمہ کیا ہے وہ غلط ہے اس میسینجر لاسٹ آف یہ درست نہیں ہیں خاتم جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ اگر آپ دیکھیں تو تاکہ فتح کے اوپر ہے اس کا ترجمہ جو واقع نہیں ہوتا ہے خاص طور پر جب وہ خاتم نبی جی آگے سے کلر کے ساتھ ہی کہا ہے اس کا مطلب آخری نہیں ہے یہ آپ نے غلط ترجمہ کہیں سے کاپی کر دیا ہے ہمارے عقیدے کے مطابق اور عربی لغت کے مطابق جو ہے جب خاتم اپنے سے بعد میں ایک جمع کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس گروہ کا بہترین تو جب ہم خاتم النبیین کہتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ حضرت سلیمان بیان میں سب سے بہترین ہے جب یہی لفظ جو ہے خاتم الشعراء استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ سب سے بہترین شاعر یہ لفظ جب اتفاق کے بارے میں آتا ہے اس کے متعلق فرمایا کہ آپ خاتم الاولیاء ہیں حضرت عباس کے متعلق فرمایا فاطمہ مہاجرین اور آپ نے یہاں آخری ترجمہ کرنا ہے تو پھر لازمی آپ کو ماننا پڑے گا اس کے بعد کوئی نہیں آیا کہ آپ یہ مانتے ہیں اگر مانتے ہیں تو آپ سے زیادہ کامل اور کوئی نہیں ہے کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں حضرت علی کے بعد بھی اولیائے کرام حضرت عباس کو خاتم المھاجرین مانتے ہیں کہ آپ کو اجر دے یہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ لاکھوں کروڑوں لوگوں نے آپ کے بعد بھی عزت کی اس مسئلہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ سخت بات ہے کہ اس کے بعد کوئی ڈاکٹر یا طبیب نہیں آیا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے جواب ترجمہ کرتے ہیں تو یہ مقصد ہے اس پروگرام کا یہ آپ کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے جوتے کے کسرہ کے ساتھ ہوتا ہے جو وزیر آتی ہے لیکن جو اس کا مطلب اعتماد نہیں ہوتا ہے ختم کا لفظ ہے جس کا معنی میرے بھائی آپ کیوں نہیں ہوتا جو ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ نے اردو والا ختم سمجھ لیا ہے اس میں بھی دیکھی تو کہتے ہیں کہ یہ خوبی تو خود بھی پر ختم ہے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کے بعد یہ کبھی کسی میں نہیں آئے گی مراد یہ ہے کہ بہترین ہے اس کام میں اس کو بھی میں تو اردو کے ساتھ اس کا نام لیں یا نبی کا میرے بھائی لگتا ہے  اچھا عید کی نماز کے بعد ٹائم ہو تو قرآن مجید پڑھ لے تو کیا فجر کی نماز کے بعد بھی پڑھنا ضروری ہے یا نہیں کیونکہ فجر کی نماز کے بعد قرآن پڑھنے کا بہت ثواب ہے دونوں طریقے سے ٹھیک ہے اگر آپ کو جلد سے پہلے بھی تھوڑا سا اگر وقت مل جاتا ہے تو پکارنے اور تہجد کے بعد اس قرآنی آیت کی تشریح میں یا اس کے حکم کی پیروی میں آپ کرتی ہیں تو آپ کو دوہرا ثواب ملے گا تاجر کے وقت میں پڑھنے کا اور قرآن کریم فجر کے نماز کے بعد بھی پڑھنے کا اس کے ہاتھ سے جتنا ثواب حاصل کر سکے اتنا کر سکتا کرنا چاہیے نہ صرف ہجر کے بعد پڑھنا چاہیے فجر سے پہلے پڑھ سکتے ہیں اس لیے جب بھی انسان کو وقت ملے تو پڑھنا چاہیے ہاں فجر کے بعد زیادہ ثواب کا موجب ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب فجر کی اذان پڑے گا تو نہیں پہلے اٹھ جائے گا اس سے پہلے جو ہے نماز فجر بھیجا ہے وقت پر ادا کرے گا اور نماز فجر کی کسی کو عادت ہوجاتی ہے تو پھر اس کو نماز تہجد کی طرف بھی الگ بات ہے ہوگی اس لحاظ سے یہی اس کا فائدہ ہے کہ اور چیزوں کی طرف اللہ تعالی اس کی رہنمائی کر دیتا ہے تو اگر پہلے پڑھ لیں اور بعد میں بھی پڑھ لیں تو زیادہ اچھا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے فجر کے بعد نہیں پڑھ سکتا تو قرآن تو کسی وقت میں پڑھنا جائز ہے وہ برکت کا باعث ہے ہے ہے اچھا نذیر صاحب وہی بات دوبارہ کریں کہ مزہ قادیانی اسلام کے خلاف اب دو اشخاص ہیں آپ کی بات مانیں یا حضرت حسن کی بات مانی امام مہدی اور مسیح موعود ہے وہ خدا کا نام بھی ہوگا اب بتائیں کس کی بات مانے ہم تو ظرف ظرف کی بات مانیں گے آپ کی جائے مگر نہیں مانیں گے کیوں کہ آپ کی باقی جو آپ خاتم النبیین کی قادیانی دوسری باتوں کی وہ بھی غلط ہےاس کو کبھی آپ نے پڑھا ہی نہیں کیونکہ اگر آپ اس کو پڑھتے یا ستم کا ترجمہ پڑھ لیتے تو یہ سوال کرنے کی گنجائش نہیں رہتی بلکہ قرآن کریم بڑا واضح طور پر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تیس کے قریب قرآن کریم میں آیات ہیں اس میں سوتی سا کی وفات کا ذکر ہو چکا ہے اس کے متعلق ارشاد 34 پروگرام پہلے کر چکا ہے جس میں ان آیات کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ان کی تشریح بھی کی گئی ہے کہ کیسے حضرت عیسی علیہ السلام سے وفات پا چکے ہیں اب قرآن کریم میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص فوت ہو جاتا ہے دوبارہ نہیں آسکتا ہوں گے تو دوبارہ کیسے آئیں گے اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی اور شخص ہوگا جو حضرت عیسی علیہ السلام جیسی خوبیاں اور صفات الہی جیسی تعلیمات لے کر آئے گا اور وہ ہم مانتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہے باقی آپ کی یہ جو بات ہے کہ بہت سے دوبارہ آپ کی غلطی ہے کیونکہ ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدہ زبان کے طور پر دیکھیں تو اس میں آنحضرت صلعم نے واضح فرما دیا ہے کہ المہدی الا حصہ اس کے علاوہ اور کوئی مہدی نہیں ہوگا تو آپ نہ قرآن کے بعد مانگ رہے ہیں آپ حضرات کی بات مان لیا لیکن اپنی اور اپنے رب کی تشریح آپ تو آپ دیکھ لیں گے پھر آپ کا انجام جو ہے وہ کیا ہوگا  اگلا سوال یہ ہے کہ وہ میں جمعہ کی نماز کے لیے اگر مسجد نہ آئے بغیر تو نہیں عورتوں کے لیے مسجد میں نماز پڑھنے جو ہے وہ فرض نہیں ہے مردوں کے لیے فرض ہے کہ وہ اپنی نمازوں کو جمع کی نماز اگر عورتیں آ جاتی ہیں تو بڑے ہی ثواب کی بات ہے ان کو اللہ تعالی صحت دے گا اگر کسی مجبوری کی وجہ سے جو ہے وہ نہیں آ سکتی تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا یہ مردوں پر لازم ہے اچھا محمود قریشی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ نماز ظہر اور عصر کا جماعت ہو رہی ہو تو اس کی آخری رکعت پڑھے ہو اس کی نماز باجماعت میں شامل ہونے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی جا سکتی ہے یہ ہے وہ بہرحال ہم نے قائم رکھتی ہے اگر ظہر اور عصر کی نمازیں جمع ہو رہی ہے یا مغرب اور عشاء کی نماز جمع ہو رہے ہیں اور آپ عشاء کے وقت آتے ہیں تو پھر آپ نے جماعت کے ساتھ شامل ہو جانا بلکہ جو پہلی نماز ہے اس کو پڑھنا ہے اگر عصر کی نماز پڑھ لیا تو پہلے آپ تو رو پڑو گے اور عشاء کی نماز چل رہی ہے اور اگر آپ نے غلط نہیں پڑھی تو پہلے آپ پڑھیں گے اگر ایسی صورتحال میں باجماعت نماز جاتی ہے تو اس کو جانے دو لیکن ترتیب جو ہے وہ بہرحال ہم نے قائم رکھی ہے پہلے ظہر ھو گئی ھو گی پہلے مغرب ہوگی پریشان ہوں گی یہ نہیں کہ دو روز کے پہلی عصر پڑھی جائے اور پھر بعد میں زور ہے یہ طریقہ جو ہے وہ درست نہیں ہے ہے ہےاچھا ایشین جرمنی کہتے ہیں کہ بس اب انسان کیسے ادا تعالیٰ کو حاصل کر سکتا ہے خدا تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرکے سورۃ کہف کی آخری آیت میں اللہ کے بندوں کو بشارت دیتا ہے بول انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الہکم ملا ہوا ہے امن کا قیام امن کے بعد تم لوگوں کو کہتے ہیں خدا تعالی سے ملنا چاہتا ہے اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ ایام العمل الصالح کو چاہیے کہ یہ عمل صالح کرے ولا یشرک بعبادۃ ربک احدا اور اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے الحجہ 10 ہی وقت میں صحیح کام نہیں کیا جائے تو شریعت کے احکامات پر عمل کرکے ان کی تعلیمات پر عمل کرکے جو ہے وہ انسان جو ہے وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتا ہے اور اس کے لیے تہجد بڑا ہی اہم ایک چیز ہے تہجد پڑھنے سے انسان اپنے نفس کو کچھ ہو سکتا ہے اس لیے قرآن کریم میں سورہ بنی اسرائیل میں آیا کہ تاجر پڑھنا نفس کو باندھنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہے تہجد پڑھی اور بھی نوافل پڑھے خدا تعالیٰ سے اس کی قربت کی دعا بھی کریں تو انشاء اللہ تعالی فرمائے گا گا اپنی نیت میں سوچا تھا کہ نہیں بڑھ کے اوپر تو نہیں منائیں تو خدا کی رضا کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس کی خوشی ہوتی اس کے حکم کے مطابق کام پر جا رہے ہیں لیکن اگر اس کا ذہن میں آ بھی جاتا ہے خدا تعالیٰ بڑا کرنے والے کے موافق دے تو وہ خدا تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ایسا ذہن میں ان کی بات نہیں ہے ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ مجھے یاد نہیں لیکن اس کا خلاصہ تو یہی ایک کے عورتیں غالب عمر تھا اس کے پاس کچھ روٹیاں آئی تو مہمان تھے تو انہوں نے مہمان زیادہ تر روٹیاں کم تھی انہوں نے وہ روٹیاں جو تین وہ خدا تعالیٰ ہمیں دین یا کسی فقیر کو دے دیں تو لوگ حیران ہوئے کہ میرٹھیا پہلے ہی کم تھی مہمان زیادہ جو آپ نے وہ روٹیاں جو ہے وہ فقیر کو دے دیے ہیں انہوں نے کہا کہ خدا کا وعدہ ہے کہ دہشت گردوں کو بڑھا کر دے گا تو ایسا ہی ہوا کہ کسی کی طرف سے ان کو تحفے کے طور پر روٹیاں آ گئ جو جو کہ ان کی خواہش سے ان کے مہمان تھے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی ایسی خواہش کا اظہار کر لیتا ہے تو وہ اس میں کوئی حرج یا گناہ والی بات نہیں ہے لیکن ہمیشہ یہ خواہش نہیں ہونی چاہئے بلکہ نیت اور خواہش خدا تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے نہ کہ دنیا بھی ایک راز ہے اچھا جی پروگرام جو ہے اس بالکل اس سے آپ کی فراہمی آب کا منصوبہ بھی بہت زیادہ ہیں جو کہ میں نہیں دیکھ سکا تو ایک اور سوال لے کر آج کے پروگرام کو ختم کرتے ہیں  ہیں کہتے ہیں کہ بھائی نماز کا ٹائم نواز 2005 ہوگی یہ نہیں کہ ایک ہی وقت میں اپنے پانچ نمازیں کرنی ہیں جو نمازیں اکٹھی جمع ہو سکتی ہیں کہ ظہر اور عصر کی نماز ہو سکتی ہے اور مغرب و عشا جمع ہوسکتی ہے تو اگر فجر آپ نے رکھ دی ہے ظہر عصر جمع کیے مغرب عشا جمع کی ہے تو پھر 50 ہو گئی لیکن اگر تو سوال یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کرتی تو اس کی شریعت میں اجازت نہیں ہے ہیں نہیں ٹھیک ہے جی‏how to stop the language نماز لیٹ مارننگ کا مطلب ہے کہ آپ رات کو لیٹ ہو رہے ہیں اگر تو جلدی سو جائیں گے تو پھر جلدی اٹھ جائیں گے اگر رات کو بارہ ایک بجے دو بجے آئیں گے تو پھر مشکل ہو جاتا ہے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عشاء کے بعد اگر کوئی ضروری اور کام نہیں ہے تو انسان جلدی جو ہے اس وجہ سے خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب کہ صبح اٹھنا اس کے لئے مشکل ہے تو جلدی اگر سو جائیں گے تو پھر جلدی جو ہے وہ چاہیے پر لعنت بھیجی ہے انسان استعمال کر سکتے ہیں گھر والوں کو بھی بتائیے کہ مجھے کپڑے اتار دیا جائے لیکن جلدی سونے سے جلدی اٹھنے میں مدد ملے گی تو ٹھیک ہے جی جزاک اللہ تعالیٰ آج کا پروگرام جو ہے وہ یہیں ختم ہوتا ہے سو بار ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ کو یہ پروگرام چاہتا ہے تو پھر کبھی تک آپ نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو کائنڈلی اس کو کرلیں اور نوٹیفکیشن بیان کر لیں تاکہ جب پروگرام آیا کرے آپ کو پتہ چل جائے گا بھی پانچ آدمیوں پر نہیں ہو جاتے ہیں اب دوسری مصروفیات کی وجہ سے لیکن اگر آپ نے نوٹیفکیشن آن کیا ہوگا تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ پروگرام جو ہے وہ کب آتا ہے اسی دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی آپ سب کے ساتھ ہو آپ سب کی مشکلات اور پریشانیاں دور کرے اور ان سب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین پروگرام کو ختم کرتے ہیں آئیے میرے ساتھ حاضر لباد پڑھنے میں شامل ہوجائے اللھم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کمابارکت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طہ

 29 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: