جماعت احمدیہ کا اگلے بیس پچیس سالوں میں مستقبل کیا ہو




جماعت احمدیہ کا اگلے بیس پچیس سالوں میں مستقبل کیا ہو

Streamed live 10-08-2021

اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ و لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک اللہ محمد دور رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم دین اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جماعت یا ایک بار پھر جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ جس کا نام ہے boy kiss لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے جس کا نام ہے اس کا نام اردو جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارا یہ پروگرام ہفتے کی چھٹی عنایت کرتا ہے جمعہ کے علاوہ باقی تمام چھ روزہ میں پروگرام کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اس پروگرام کو لے کر حاضر ہوتا ہوں تین دن مولانا عدنان صاحب اس پروگرام کو آپ کی خدمت میں پیش کیا کرتے ہیں ہیں ہیں ہیں جو بھی گزرا اس پر جماعت یا کا جو برطانیہ میں جماعت کی ایک شاخ ہے ان کا جلسہ سالانہ تھا جیسا کہ آپ جانتے ہیں سالانہ ہماری جماعت کا ایک علم ہے اور جماعت اللہ تعالی کے فضل سے قائم ہے وہاں پے کوشش ہوتی ہے کہ ہرسال جو ہے یہ ہمارا جلسہ منعقد کیا جائے اس میں اللہ اور رسول صلی اللہ تعالی کی باتیں یہ قرآن پاک کی باتیں اور الرسول رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اسی طرح حضرت مہدی اور مسیح الزماں مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ و السلام کی تحریرات وغیرہ جو ہے وہ پیش کی جاتی ہیں اور خالص ایک تربیتی تعلیمی اور تفریحی جو ماحول ہے اس میں اس جذبے کو پیش کیا جاتا ہے ہے یہ جلسہ ہمارا ایمان والے اسٹینڈ میں کروانے سے پہلے جب ہوا کرتا تھا تو تقریبا چالیس ہزار پچاس ہزار کے قریب اس کی حاضری ہوتی تھی مختلف ممالک سے لوگ اس میں شرکت کرتے تھے لیکن اس پھنڈے کی وجہ سے جہاں مختلف قسم کی پوسٹنگ وغیرہ لگ گئی ہیں اس کی وجہ سے کبھی نتیجہ یہ نکلا تھا کہ حاضری جو ہے وہ کم کر دی جائے کیونکہ ایک مخصوص حاضری ہے جو برطانوی حکومت ہوتی ہے اور اس سے زیادہ وہ الاؤ نہیں کرتے تو اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہ جا سالانہ برطانیہ جو ہوا اس میں تقریبا نو ہزار کے قریب جو افراد تھے جس میں مرد اور عورتیں شامل تھے مختلف شفٹوں میں انہوں نے جلسہ سالانہ جو تھا اس کو کیا کسی نے پہلے دن کیا کسی کی باری دوسرے دن ایک سی کیفیت ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے جو ان کے بھی تھے یہ جلسہ ہیں وہ ہمارا ان کے اوپر بھی بلایا جس کو لاکھوں کی تعداد میں کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا دنیا بھر کے جو ممالک ہیں وہاں پر بسنے والے انسانوں نے بھی اور غیر احمدیوں نے بھی کیا مسلمان کا غیر مسلم ہیں سب نے جلسہ دیکھا اور جلسے میں جماعت احمدیہ کے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تھا جو روح پرور خطابات تھے ان کو سنا اور اس سے استفادہ کرنے کی توفیق دے اسی اثنا میں میں دوسرے علماء کی تقریر لکھیں جماعت کے دو نام ہیں انہوں نے بھی دینی باتیں جو تینوں حسین کے سامنے پیش کی ہمارے جلسے سے متعلق بعض غیر اہم بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایوب غیرت بے شرم لوگ ہیں جن کا تمام تر کاروبار گئی ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کے خلاف پروپیگنڈا مشین کے طور پر کام کرتی ہیں اور اپنے چینل کے اوپر فلکس وغیرہ وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کا نیٹ بند حیات کہ جھوٹ بولنے سے بھی گریز نہیں کرتے تو اسی قسم کے بعد چینل نے اس قسم کی افواہیں اُڑائی کی نعوذ باللہ من ذالک کا جماعت احمدیہ کے چودہ تھا وہ سکول نہیں ہوا یاد رہتا ہے ہمارے ذہن میں رہتا ہے ہمارے مخالفین کی نسبت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک نظم مناجات بیوہ کس نے فرمایا ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں ایک بلندی کی طرف ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں ایک بلندی کی طرف وہ بلاتے ہیں کہ وجائنہ حمزہ گا یہ جو مخالفین یہ چاہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ جو ہے یہ زمین کے نیچے پھنس جائے لیکن خدا تعالیٰ ہے زمین و آسمان کا مالک ہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ہے جس نے اسلام اس دنیا میں قائم فرمایا وہی خدا عرش کا خدا رحمان خدا ہمارا پیارا خدا ہمارا پیارا اللہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر دم ہر روز نئی ترقیات کے دروازے جماعت احمدیہ کے چلے جاتے ہیں جن میں جماعت احمدیہ کا فیوچر کیا ہے اگلے بیس سے پچیس سالوں میں اس بارے میں ایک زبردست ایک زبردست پیشنگوئی کے رنگ میں ایک بات ہے ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بطور چیلنج کی تمام مخالفین کو مخاطب کرکے وجہ سے پہلے بیان فرمائی کرکٹ اور اس کے اوپر عبدالماجد صاحب جماعت ایک سوال ہیں آپ نے اپنی عزت کی تقریر میں اس حصے کو پڑھ کے سنایا لہذا بھی آج آپ کو جو یہ پیچ ہے  ہے اس میں سے ایک حصہ جو ہے وہ چمٹا سنانا چاہتا ہے لہذا غور سے اسے کچھ نہیں ملے گا کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ خدا تعالی کی تقدیر کے مطابق پچھلے بیس سے پچیس سالوں میں جماعت احمدیہ نے ادھر ہونا ہے اور جماعت احمدیہ کے ساتھ خدا کا اگلے بیس سے پچیس سال میں کیا سلوک کرنے والا ہے ہےالخافض اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان مخالفین کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا اب صرف اور صرف ختم القرآن مع تفسیر ابو معاویہ علیہ السلام کی خلافت کی کی شکل میں ممکن ہے ہے حضور نے فرمایا ہماری طرف سے چیلنج ہے اگر مسلم دنیا کے تمام ممالک کی مسلح افراد نے فقہ طور پر کسی ایک شخص کو بطور کی بیعت میں شامل ہو جائیں اور جماعت احمدیہ بھی اس بات کو تسلیم کرلے اور امت کے باقی مسائل کے ساتھ اس کی بیعت کرنے پر ضرور غور کریں گی دور نے فرمایا ایسا نہیں کر سکے نہیں کر سکو گے ویسا تم کر ہی نہیں سکتے تے عزیز نے کہا بھی جماعت کی ایک آن لائن نے فرمایا اللہ تعالی کے فضل سے جماعت کی ترقی ہو رہی ہے جس میں اور ہر ملک کے کئی شہروں میں جماعت کی تعداد بڑھ رہی ہے ہے اور دنیا کے بڑے بڑے مذہبی جماعت کا تعارف ہوگیا ہے ہمیں امید ہے فرماتے ہیں تو ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ جماعت کے بہت اہم مثال ہے ہے اور آپ دیکھیں گے اکثریت انشاءاللہ مسیح موعود علیہ السلام کا جھنڈا لہرائے گا اے گی اسلام ہے ہے حضور نے فرمایا اسلام کے جھنڈے تلے خانہ کعبہ میں داخل ہوگئیں وزیر خان سکی نظریں جو کہ اس وقت آپ نے درست فرمایا جو آپ نے دیکھا اس میں اہمیت سے متعلق اہمیت کے مستقبل سے متعلق متعلق ایک شاندار جو پیشنگوئی ہے جو ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح دخلت علی بن عبدالعزیز کے الفاظ میں ہی اس کو مقرر مولانا عبدالمجید صاحب نے آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے کے اوپر جلسہ سالانہ میں ہم سب نے اس تقریر کو سنا اور جیسے لیزر کے ذریعے کسی چیز کو ان فرینڈ کر دیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح یہ الفاظ ہمارے پیارے امام کے ہمارے ذہنوں پر اور ہمارے دلوں پر نقش ہو گئے ہیں ہیں یہ ہے وہ عالیشان مستقبل جماعت احمدیہ کا جس کی نوید آپ کو سنائی گئی ہے اب اس کے بعدجو آپ کی طرف سے سوالات میں موصول ہو رہی ہیں ان کی طرف چلتے ہیں خاصخیلی بتا دیں ہمارے پروگرام کا دورانیہ تیس سے چالیس منٹ بات کرتا ہے اگر کسی وجہ سے آپ کا سوال اس پروگرام میں نام لیا جا سکے تو خوش آمدید کرتا ہے آپ جیسے کی انتہا پروگرام 14 آتا ہے کسی نے اپنے سوال پیش کر سکتے ہیں اگر کسی مخصوص دن آج کے دن مثلا اگر آپ کے سوالوں کی کمی کی وجہ سے نہیں لیا جا سکے دوسری بات یہ کہ ہمیں ای میل کے ذریعے اپنے سوالات دے سکتے ہیں کئی لوگوں کے سوالات کے جوابات بذریعہ ای میل لیا کرتے ہیں ہماری لائٹ کلر سکیم پیپر اس دعا کو دکھائی دے رہا ہے اردو اس ہے اہل اسلام کو عید کے بعد پیغامات موصول ہو رہے ہیں ان کی طرف چلتے ہیں ہیں ہمیں صاحب حنفی صاحب ہیں سب عجیب سے ہیں میں نے عائشہ خواجہ حیدر ولد اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے بردہ شریف صاحبہ ہیں جرمنی سے ایک یو ماموں نام دیا اسی طرح دوسرے اکاؤنٹ سے ان کی طرف سے اسلام علیکم کا پیغام آرہا ہے آپ سب کو سلام صاحب ہیں جن کا تعلق یورپ سے ہے ان کی طرف سے اسلام علیکم کا پیغام اگیا الدین بابر صاحب کہتے ہیں کہ جس کا سالانہ برطانیہ سب کو مبارک ہو خیر مبارک اسی طرح راجہ صاحب کہتے ہیں کہ احمدیت زندہ باد بعد اب جو سوالات آ رہی ہیں ان کی طرح جلتے ہیں ایک سوال آیا خواجہ صاحب کی طرف سے یہ میچ کھیل کر بھی شروع کر دیتا ہوں آپ کہتی ہیں کہ دنیا میں رنگ برنگ لوگ اس لیے کہ انسان خدا کو یاد کرتا ہے اگر سب اچھے ہو جائیں گے تو دنیا بھول ہو جائے گی تو پھر مرنے کے بعد جو جنت ملے گی وہ بھی بہت ہوگئی یہ کہاں تک صحیح ہے بالکل بھی سچ نہیں اس کی چند وجوہات میں آپ کی خدمت میں بیان کر دیتا ہوں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو مختلف رنگ بنائے ہیں اس کی طرح کی مثالیں جس نے ایک مالی باغ میں پھول لگاتا ہے تو ایک ہی قسم کے یا ایک ہی رنگ کے پھول نہیں لگاتا تھا بلکہ مختلف قسم کے مختلف رنگوں کے پھول لگاتا ہے رستے میں بھی مختلف قسم کے مختلف رنگوں کے پھول لگائے جاتے ہیں تو اس سے اس کی خوبصورتی اور زیادہ نکھر جاتی ہے ہے کہ جو آغاز کرنا تھا کہ اگر آپ اچھے ہو جائیں گے تو دنیاپور ہو جائے گی یہ بالکل غلط بات بات یہ ہے کہ ہمارے لئے اللہ تعالی کے کلام میں قرآن پاک میں تمام تر تعداد موجود ہے لہذا کلام پاک کی طرف رخ کرتے ہیں کہ سوال ذہن میں کیا جواب ملتا ہے تو قرآن کریم سے ہمیں یہ جواب ملتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی یہ خواہش تھی کہ تمام لوگ جو ہیں وہ اسلام قبول کرنے کی مان لیے لیکن اللہ تعالی نے یہ جواب نہیں دیا کہ سب لوگ ایمان لے کر آ جائیں گے تو دنیا اور ہو جائے گی اگر یہ بات حقیقت ہوتی کہ اگر انسان ایمان لے کر آ جائے تو دنیا پوری ہو جائے گی یہ جنت بھی پوری ہوجائے گی تو سب سے پہلے اس بات کی تو خود اللہ تعالی اللہ تعالی کے بعد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں پیدا ہونی چاہیے تھی لیکن آپ کے دل میں اس کے بالکل برعکس ایک خواہش تھی جس سے پتہ چلا کہ یہ جو آپ نے سوال کیا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں کوئی وقت غلط بنیادی ایک بات ہے تو لیتے ہیں جنت کے بارے میں اسلام کیا تعلیم دیتا ہے کہ اسلامی تعلیم دیتا ہے کہ جو دوزخ میں جائیں گے ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے جنت میں نہیں جائے گا کہ یہ تو بالکل بھی اسلام کا منشا نہیں اسلام کی تعلیم ہی نہیں ہے یہ سکھاتا ہے کہ دوزخ ایک ایسا دن آئے گا کہ جب اس میں کوئی بھی نہیں ہوں دوزخ کی مثال تو ایک ہوسپیٹل کی طرح ہے کہ مریض تک اس میں رہتا ہے جب تک اس کا علاج ہو جائے تو وہ ہیں جنہوں نے اس دنیا میں گناہ کیے وہ دوزخ کے ہوسپٹل میں کریں جب تک مکمل ہوجائے اور جب علاج ہو جائے گا تو پھر ان کو اس روحانی جائے گا بلکہ کو جنت میں منتقل کر دیے گئے تو اس طرح بھی تو ہر انسان جو ہر رہے ہو بالآخر جنت میں جائے گی تو بوریت والی بات جو تھی نہ اس جہاں کے متعلق صحیح ہے اور نہ ہی اگلے جہاں کے متعلق ہےاور اکثریت جہاں یہ بات ہوئی ہیں ان کا تعلق افریقہ کے ممالک سے تھا تو پہلی بات یہ کہ آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ کیا یہ باتیں اکثریت افریقہ میں ہوئی ہے تو اس کا جواب ہے کہاں اب آپ کی شادی باتیں ٹائم سیکس کو ہنڈرڈ پرسنٹ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جماعت اپنی طرف سے جس حد تک ممکن ہوتا ہے تحقیق کرکے اس کو اتنا ٹوٹ کر کے اس کے بعد آپ نے جو بھی یہ رپورٹ ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے اور بے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جو ہے وہ اس کا اعلان تمام دنیا کے سامنے جھکتے ہیں جہاں تک حقیقت کی بات ہے ہم مانتے ہیں کہ یہ حقیقت پر مبنی رپورٹ ہے اگر غلط ہوتی تو ہرگز بھی اس رپورٹ کو شیئر نہ کیا جاتا ہے لہذا ہم یہ مانتے ہیں کہ بالکل یہی تعداد ہے اور بالکل حقیقت پر مبنی رپورٹ ہے جو چلانا کے موقع پر پیش کی جاتی ہے ہے ہے ہے جب کوئی وفات پا جاتا ہے تو اس مرنے والے کا حساب کتاب قبر میں ہی ہو جائے گا یا پھر اس قیامت تک اس کو قیامت تک انتظار کرنا پڑے گا یہ ہے کہ ایک سرسری سا جو حساب کتاب ہوتا ہے وہ تو ادھر ہی ہو جاتا ہے قبر میں حساب کتاب کے لئے اللہ تعالی نے جو ہے وہ قوم کی حیات ہے ہے ہے اکاؤنٹ ایف آپ کی طرف سے پیغام ہے کہ دعا کی درخواست ہے کہ ہم جلد سے جلد فضل اللہ حافظ فرمائے آمین آمین مین اگر کسی کو کیدر ہو اور مسجد میں بہت ساری دعائیں مانگنے کی خواہش کے باوجود اس طرح دعا نہ مانگ سکے تو وہ کیسے دعا مانگے تاکہ اللہ تعالی ان کی دعا میں قبولیت رکھ دے بات یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کا تعلق انسان کی نیت یعنی کس نیت سے انسان دعا مانگ رہا ہے اس طریق پر دعا مانگ رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے تو اگر ایک انسان سجدہ نہیں کر سکتا کیونکہ دونوں کی تقریبا یا کوئی اور تکلیف ہے مریض کے نماز پڑھتے ہیں پڑھتے تھے جس میں آپ اس طرح سے سجدہ نہیں کر سکتے تو کیا اس ایسے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ آپ نے اپنے گھر میں بیمار تھی آپ نے جس سے ایک رسی جل گئی اور جواب نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ میں جاتی تو جب سجدے سے اٹھنے کا موقع تھا اس کو پکڑ کر سکتی کیونکہ آپ کو کافی زیادہ جو ہے وہ ٹانگوں میں یہ جانتے بھی اس وقت حضرت آمنہ کو تکلیف کی بیماری کی شدت کی وجہ سے ہے یا جو بھی وجہ تھی ہوسکتا کاؤنٹ یہ جو بھی تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس بات کو دیکھا تو آپ نے پسند نہیں فرمایا آپ نے فرمایا کہ پانچ بڑی اس قسم کی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو بات یہ ہے کہ اللہ تعالی تو اگر آپ عید کے نماز پڑھتے ہیں لیکن دل سے کرتے ہیں تو اللہ تعالی تو اس کو بھی قبول کرسکتا ہے لازمی یہ نہیں کہ آپ بیمار ہوں تب بھی آپ کو سجدہ ہی کرنا پڑے گا تب بھی آپ کی دعائیں ہیں وہ قبول ہو گی تو انسان کسی بھی حالت میں کرلے اگر دل سے سے دعا کی ہوگی اور نہ ہوگی تو پوری امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالی اللہ تعالی اس دعا کو شرف قبولیت بخشے گا انشاءاللہ محکمہ کی طرف سے آپ کہتی ہیں کہا جاتا ہے کہ جماعت یا تیسری جنگ عظیم کے بعد زیادہ دنیا میں پھیلے گی تو کیا اگلے بیس سال میں بالغ ہو گئی بات یہ ہے کہ میں تو نہیں جانتا کہ اگلے 20 سے 25 سال کے اندر اور ہوگی کہ نہیں ہوگی لیکن جو حالات اس وقت ہمارے سامنے ہے اس کے مطابق کیا لگتا ہے ایک دخل اندازی کے طور پر بات کی جاسکتی ہے کہ یہاں پہ ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے متعدد بار اس طرف توجہ دلائی کہ جس قسم کی چوٹ حالات ہیں دنیا میں جو بلاک بن چکے ہیں ویسٹ بلاک سے ایسے لوگ ہیںتو اس رنگ میں اگر دیکھا جائے تو ایک رنگ ہے تو تیسری عالمی جنگ والی کیفیت والی چلی گئی ہے پچھلے چند سالوں سے لیکن فل ایچ وار جس کو کہتے ہیں ان کے اگلے چند سالوں میں وہ جھڑ جائے لیکن ہمارا کردار ہونا چاہیے کہ ہم لوگوں کو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف پکارے ان کو بلائی ہیں ہم ان کو دین اسلام حقیقی اسلام کی طرف دعوت دیں ہم ان کو خلافت کے جھنڈے کے نیچے لانے کی کوشش کریں اور اس کے لیے جہاں میں اپنا عمل پیش کرنے کی ضرورت ہوتی تو ان کی ضرورت ہے اللہ تعالی ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے نیک عمل سے اور دعاؤں کے ذریعے ایک دنیا کو ہلا کے تھے بچانے والے ہو جائے اللہ تعالی فضل عمر صاحب ہیں ملیشیا سے آپ کا بھی اسلام علیکم کا پیغام مل گیا وعلیکم سلام پردہ کی طرف سے سوال آیا کہ کیا اللہ تعالی یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی جوری بینک کے باتھ روم وغیرہ جا سکتے ہیں پلیز کچھ تفصیل بتا دیں ہرگز نہیں جانا چاہیے یہ تو مبارک نام ہے اور ہمیں بغیر ہڈی انسان حوائج ضروریہ کے لئے جاتا ہے ایسی جگہوں پر جاتے ہوئے ہمیں اگر آپ نے مجھ پہ بھی ہے اس قسم کی کوئی ایک سلام سلام جماعت میں علیہ السلام واقع ہوگی بوٹیاں لوگ کہتے ہیں جس پر اللہ کا نام آتا ہے خود ہی قرآن پاک عربی ہے لہذا ہمیں باتوں سے گریز کرنا چاہیے واشروم رہ جاتے ہوئے اغوا یا اس قسم کی کوئی بھی اگر یہ بھارت کسی چیز پر لکھی ہوئی ہے تو ساتھ ہے کہ نہیں جانا چاہیے میں دوبارہ بتا دو کہ نہیں لے جانا چاہیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انگوٹھی جس کے اوپر محمد رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان دے اور آپ صلی اللہ وسلم جب بستر وغیرہ یوز کرنا ہوتا تو وہ یوز کرنا ہوتا ہے جریان کے لیے جانا ہوتا تو آپ سے اچھی کو اتار کے جاتے ہیں یعنی کہ کیا جاتا کے پاس ہمارے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء میں آپ کے اصول ہیں ہمارے لئے بھی دعا ہمارے لئے بھی دعا ہے ہے کی طرف سے ایک سوال آیا مجھے آپ کی سمجھ نہیں آئی آپ کہتے ہیں جنت کے ڈی سے گوشت کھانے سے کیا مراد ہے مجھے آپ کی اس بات کی یہ سوال کی سمجھ نہیں نہیں اسے فضل احمد صاحب کی طرف سے ایک سوال موصول ہوا ہے جس کے سلسلے میں آپ اس بارے میں میں نے لکھ کے وہاں سے اس بارے میں ہدایت دے ہدایت آپ سے چلی گئی زین صاحب کی طرف سے سوال آیا ہے کہ جماعت یا میں زنا کی سزا کیا ہے وہی سزا ہے جو قرآن پاک میں بیان ہوئے جماعت یا کوئی اسلام سے الگ تو جو دینی جماعت احمدیہ کے جو کتاب قرآن پاک یا شریعت اسلام کے قریب ہے نبی ہمارے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے خدا ہمارا حال ہے تو جو بھی اسلام میں بات ہوگی وہی جماعتیں بھی بات ہے جو سزا اسلام میں اس گناہ کی گئی ہے وہ جمعہ میں بھی بات یہ کہ ان سزاؤں کو کب دیا جاتا ہے دیا جاتا ہے جب حکومت اسلام کی ہو اسلامی حکومت قائم ہو شریعت کا نفاذ شریعت کا نفاذ اس وقت ہوتا ہےسوال ہے کہ جی جانے نماز کو کس طرح لگانا چاہیے جانماز کو کو قبلہ رخ اس فرقے کی جانی چاہیے سوائے اس کے کوئی مجبوری ہے جس کی وجہ سے آپ کو بروقت نہ بچا سکی لیکن پھر بھی تو نماز پڑھی گئی تو نماز دوبارہ تو بڑے پیدائش ہونے کے بعد بھی وضو کرنے کے پیچھے کیا ہے اس لیے کیوں کہ وضو کے لیے ایک الگ سے تائیدی تاکیدی حکم ہے اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہے وہ پہلے کرنا چاہیے اگر وسلم کا طریقہ تھا کہ جواب نہ آنے لگتے غسل دینے لگے تو وضو والے اجزاء ہیں پہلے آپ ان کو دھوتے وضو کا طریقہ ہے اور اس کے بعد جو پانی بچہ اس سے باقی کا بدلہ لیتے ہوئے شعور دیا جائے اس سلسلے تے عبدالحمید صاحب ہیں آپ بیتی اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ عنہ کی بہت بہت مبارکباد کی طرف سے پیغام آیا آپ کہتے ہیں اسلام علیکم پاکستان سے بات کر رہے ہیں ہم نے پہلی دفع آپ کے لائیو شو میں شرکت کی ہے پیارے حضور پوری جماعت کا سامنے تم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ خواجہ صاحب کی طرف سے ایشن آیا کہ اس پروگرام کو السلام کی ویب سائٹ پر بھی غور کیا جائے وہاں سے بھی لوگ آئیں گے آج نہ کل گی ان شاء اللہ تعالی کی تصویر آگے جو ہے ان تک پہنچا دی جائے گی گی گی ناسا کی طرف سے سوال ہے کہ جی پوچھنا یہ ہے کہ ایک آدمی کو اپنے گناہ کا پتہ چل جائے اور اللہ سے معافی بھی مانگی اس کے باوجود وہ گناہ چھوڑنا سکھ رہا پھر کیا کریں انسان جب خاص طور پر ایسی کیفیت ہے تو سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں نماز میں تو نماز کو ٹھہر کے سوال پر پڑی غور سے پڑھیں اور خاص طور پر جب ان الفاظ پر پہنچے ایاک نعبد وایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم تو ان سے رات کو بار بار دہرائے بار بار دہرائے اور غور کریں کہ آپ پڑھ رہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اس سے ایک تو یہ فائدہ ہوگا کہ اللہ تعالی کی مدد وہ بار بار جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ھوجائے گی دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ نماز میں آپ کی جو شوق ہے تو وہ کرے گی اور تیسرا فائدہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے ان الصلاۃ تنہا عن الفحشاء والمنکر ہے کہ نماز جب صحیح طریقہ پر اس کی شرائط کے مطابق عراق کی جاتی ہے تو بدلے میں کیا کرتی ہے ایسی نماز ہوتی جو انسان کو برائیوں سے بچا لیا تو اس چیز کا تو یعنی اگر کوئی گناہ میں پھنس گیا ہے اور نکل نہیں پا رہا تو اس کے لیے حلال اللہ تعالی نے نماز پڑھی ہے تو نماز کا اعادہ سوار کیا اور شہر کے بڑے گے اس سے آپ کو فائدہ ہوگا اس ضمن میں کی تقاریر وغیرہ آپ کو جماعت کی ویب سائٹ ان پر مل جائیں گی جہاں سے آپ کو تقریر سن سکتی ہیں جن میں بیان کی گئی کہ کس طرح کے انسان اس کو سنوار کے بڑے بے زبان سرفراز صاحب کی طرف سے سوال دوبارہ آیا ہے زنا کی سزا کے بارے میں 2008 کرتا ہے کہ ابھی دو دن پہلے آپ کے نماز کے اندر دعائیں مانگا کرتے تھے ابھی اظہار کے طریقے پر عمل کرنا چاہیے اچھا جی کہتے ہیں کہ خدا سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا اس لئے جماعت احمدیہ کی پکڑ نہیں ہو رہی کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ یہ لوگ دیکھ لیں اگر تو اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ جو جھوٹی جماعت ہوتی ہے اس کو اللہ کی لیتا ہے کہ مسلمہ کذاب کی جماعت کی اس کو کیا لینی تھی تھا اس کی جماعت کو اللہ تعالی نے بھی اتنی ڈھیر ساری جھوٹے نبوت کے دعویدار گزرے سب کی سلسلے ختم ہوگئے سب کے نام و نشان مٹ گئے ان کو کیوں لگا لینے کی کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ تو ہوتی چلی جارہی ہے کیا وجہ ہے کہ جماعت یا پچھلے سو سال میں دنیا کی تقریبا تقریبا ہر ملک میں پہنچ گیا اور اللہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پہنچانا ہے قرآن پاک کا جو خدا کا کلام ہے اس کا ترجمہ ستر سے زیادہ زبانوں میں کر چکی ہے انٹرنیشنل کے نام سے سیٹلائٹ چینل ہے جو چلا رہی ہے جو 24 گھنٹے گھنٹے کے ساتھ ہوتے سال کے 365 دن ہوتے لگاتار چلتا چلا جا رہا ہے لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوتی چلی جائے گی آتے جاتے مفت تعلیم دی جاتی ہے ہسپتال بناتے مطلع کیا جاتا ہے یا پاکستان اور بھارت ہو یا دوسرے ممالک کو جو غیر ترقی یافتہ ہیں وہاں پہ پہنچ کے غریب علاقوں میں لوگوں کی خدمت کی جارہی ہے بغیر کسی تفریق کے بغیر رنگ و نسل کی تفریق کے ہر قسم کی ہر ہر شخص کی خدمت کے لیے جماعت یا حاضر ہے اگر اس کو آپ گمراہ سمجھتے ہیں تو آپ سمجھیں لیکن یہ دو باتیں تو اسلام کا خلاصہ ہے آپ کے اپنے علماء کہتے ہیں کہ جب عدت کا تعلق احمدیوں سے اچھی بات نہیں کرتے آپ کے علماء کہتے ہیں کہ جہاں تک لوگوں کے انسانیت کے حقوق کی بات ہے ایم یو سے زیادہ شریف النفس کوئی اور موجودہ معاشرے میں دکھائی نہیں دیتا تو اسلام کی تعلیمات ہمارے اندر آ گئی پھر آپ نے کہا ہے ہے اور کہتا ہے اب یہ ہے کہ جی ایم کیو ایم بھی کافر ہیں اور ان کی پکڑ ہو رہی ہے کیونکہ اللہ تعالی ہے ہے اگر بات سچی ہے کہ اللہ تعالی لیا کرتا ہے تو پھر ماضی میں جو اتنے سارے آپ مانتے ہیں کہ جھوٹے دور پہ نبوت کا دعوی کرنے والے دن کیوں نہیں اللہ تعالی نے دھڑکن میں ڈھل گئی وہ فوری طور پر پکڑے گئے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹے تھے اور یہاں پیدا کرنے والا سچا تھا یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام سے بھی تو آپ کے پاس جانے والا سلوک کیا جارہا ہے کیا تعریف بیع میں کوئی ایک ایسا وجود میں دکھائی دیتا ہے کہ جس کے ساتھ خدا تعالی کا وہ سلوک نہ ہو جو اس وقت جن کے اندر سے آپ بات کو دیکھیں چائے خدا کی تائید کے لئے اس بات کو دیکھیں آپ نے خود علماء کہتے ہیں کہ خدا کی تائید پتہ نہیں کیوں جماعت احمدیہ کے ساتھ دکھائی دیتی ہے وہ بھائی اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ سچی ہے اس لیے تو خدا کی تائید ہمارے ساتھ ہے آگے چلتے ہیں ہیں ہیں ہیں وفات کے وقت انسان کے پاس فرشتے آتے ہیں ملک الموت کے آنے کا ذکر ہے کہ موت کا فرشتہ ہوتا ہے جس کی ذمہ داری یہ لگائی گئی ہے کہ وہاں کے انسان کی روح کو قبض کرے وہ ضرور پیش ہوتا ہے اور انسان کی ضرورت ہوتی ہے وہ جسم سے نکلتا ہے ہےبنائی تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں خود کو کس طرح لکھنا چاہیے اور کتنے پیسے چاہیے وہاں سے آپ اس ویڈیو کو دیکھ لیا اس نے کہا نے اس کے اوپر بھر اسی موضوع پر بات کی حقیقت کو کس طرح لکھنا چاہیے چاہیے سوال کیا قربانی کا گوشت محرم کے مہینے میں کھا لینا چاہیے میں نے تو کوئی ایسی روایت نہیں دیکھی جاتی ہے لکھوں کیوں نہیں کھا سکتے تے  تے بہت پرانی ہو جائیں ان کا کیا کرنا چاہیے کپڑا ہے اگر کسی وجہ سے پرانا ہوگیا ہے یا پھٹ گیا ہے تو آپ اس کو کہتے اس کو جو بھی پوروں پر ایک طریقہ ہوتا ہے ہارٹ سپورٹ کرنے کا آغاز کردیا اسی جگہ نیلی علی علی بن ابو طالب کے بارے میں سوال ہوا ہے پہلے بھی یہ 23 سوال چکا ہے تابوت سکینہ بنی اسرائیل کے جن میں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں یہ بات بھی اس کا ذکر کیا کہ بنی اسرائیل کے انبیاء کا جو جو میراث تھی کا جو حصہ تھا وہ بھی وہ تابوت سکینہ میں منتقل کی گئی جس کو خدا کے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوتے تھے تو تابوت کا ایک مطلب عربی زبان میں دل کو کہتے ہیں سینے کو اور دل کو کہتے ہیں تو سیدنا خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے اس کی یہ تعبیر کی اس کی یہ تصویر کی کہ اس سے مراد نیک لوگ تھے وہ نیک دل تھے جنہوں نے اپنے انبیاء بنی اسرائیل کی تعلیمات پر کما حقہ عمل کیا اور یہ بات جس کی طرف اشارہ تھا کہ انبیاء کے جو جو بھی ان کی وراثت تھی ان کو نیک لوگ ہیں وہ باتیں ہیں اور وہ وہ ان کے مشن کو ان کے کام والے چلاتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ العلماء ورثۃ الانبیاء کے جو نیک علماء ہوتے ہیں وہ انبیاء کے وارث ہوتے ہیں یہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ کے جسم پر مبنی ایسے نیک لوگ تھے وہ اپنے انبیاء کے ورثاء سے رنگے ہوئے ان کی باتوں کو اپنے دل میں محسوس کرتے تو پھر اس پر عمل کرتے ہوئے فرمایا کہ تابوت سکینہ تھا سکینہ سے بھی مراد قیمتی ہوتی ہوئی تھی کے ایسے دل تے جو پرسکون تھے جن کو پتہ تھا کہ وہ اللہ تعالی کی تعلیمات پر ملتا ہے اور فرشتوں نے ان دونوں کو ہرایا تھا اس سے مراد یہ ہے کہ فرشتے اسے لوگوں کی مدد کرتے تھے ایسے لوگوں کی حفاظت کرتے تھے تے اور نسل انسانی کے بڑھنے کے لیے جنت میں تقسیم ہونا ضروری تھا کہ مذکر مونث اور ان کے نتیجے میں آگے اولاد ہے وہ پیدا ہوئے جیسا کہ سورہ نساء کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالی نے فرمایا اللہ نے تم کو نفس واحدہ سے بنایا ہے اور اس غرض سے بنایا تھا کہ اس طرح کی ماں کے ذریعے ہے رمضان تیرا کے مرد اور عورت کے ملاپ کے ذریعے سے اولاد کی جو ایک منسلک ہوتی ہے وہاں گئے تھے تو اگلے جہاں میں اس چیز کا سوال ہی نہیں اٹھتا کے اگلے جہاں میں جو ہے وہ انسان جو ہے وہ اس کی نسل آگے چلی گئی کیوں کہ جو انسان ہوں گے ان کی روحانی پہنچ گئی مزید نئے انسان جو ہے ان کو تخلیق کرنے کی بے حد ضرورت نہیں ہے جنہوں نے اسی طرح اگلے جہاں سے متعلق بعض مولوی حضرات کا تنقیدی اگلے جہاں میں بھی جو جسمانی تعلقات ہوتے ہیں جو میاں بیوی کے ساتھ خصوصی تعلقات ہوتے ہیں مولوی حضرات کہتے ہیں کہ وہ اگلے جہاں بھی ہوں گے ہالہ کے ایک قسم کی کوئی بات کرو آنے پر ثابت نہیں کیونکہ جب جلد ہی نہیں تو مرد عورت کے مخصوص تعلقات کا سوال بھی خود بخود ختم ہو گیا تاکہ سوال کا دوسرے سے کا یہ جواب ہے کہ چونکہ اس دنیا میں نسل انسانی کو آگے بڑھانا تھا اس لیے اس دنیا میں زندگی میں نے انسانوں کو مرد اور عورت کی جنگ میں تقسیم کردیا سوال آئے جی 125 ہولی قرآن پاک نے 1970 71 ٹریول اینڈ ٹورزم قرآن پاک آپ کی اگر ایک شخص ہے جسے قرآن پاک پڑھا جا رہا ہے لیکن وہ اپنے باقی دوسرے اوقات میں معاشرے میں فساد و ہراس پھیلا رہا ہے تو ایسے انسان سے کیا قرآن کس کی بات یہ ہے کہ وہ آپ کو کیا قرآن سکھائے گا ایسا انسان جو فساد کی تعلیم دیتا ہے فساد کیا کرتا ہے جب وہ پڑھے گا تو وہ قرآن انسان آپ کے مذہب میں بھی رکھنا ڈالے گا اور آپ کو غلط باتوں کی تعلیم دینے کے بجائے اس کے کہ آپ اللہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سیکھیں ایسے انسان سے آپ کو مذہب کا علم حاصل کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے مے میاں صاحب کہتے ہیں جس کا سلانہ یوٹیوب مبارک ہو جزاک اللہ آپ سب کو بھی مبارک ہو ہو سوال ہے کہ جی محرم کی نواز کے بارے میں پوچھنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کپڑے نہیں ہونی چاہیے کی حقیقت ہے یہ بھی بات بنائی ہوئی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں حضور صل وسلم کی صفائی نصف ایمان ہے تو تو ایک ہیں جو ہمارا نصف ایمان ہے ہم کیوں اس کے بارے میں آگئی تے تے تے اس قسم کی باتیں یہ عمل کر سکیں کی دبئی سے ہمارے دوست ہیں غالب صاحب ان کی طرف سے بھی زیادہ سالانہ کی مبارکباد پیش ہوئی ہے خیر مبارک گی گیلیکن زیادہ نہیں جانتا ہوں روڈ پیر کے اندر پیر نہیں ہوتی بلکہ وہ نہیں ہوتا جس میں اقبال نہیں ہے وہ تو ہرا نہیں ہوگی صرف نام کبیر استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بھی ہمیں لیکن ہوتی نہیں ہے لیکن یہ کہ اس بارے میں تحقیق کی جاسکتی ہے اگر تو اس کے اندر ایک اکاؤنٹ ہے تو پھر وہ جائز نہیں نے والوں کے کیا خلیفہ وقت کو الہام ہوتے ہیں یہ سوال ہے اس کا جواب آپ کو خلیفہ قرار دے سکتے ہیں  کتے کی خلاف ہوتے ہیں لیکن لازمی نہیں کہ جو خلیفہ اس کو لازمی طور پر عام بھی ہوں اصل بات ہم نے اس لباس کو خدا سے تعلق ہے کہ خدا سے تعلق ہونا چاہئے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جو بھی خلیفہ وقت ہوگا دنیا میں خدا تعالیٰ کا سب سے قریب ترین بندہ سب سے نیک تر بندہ جو ہوگا اس وقت ہے وہ خلیفہ ٹھیک ہوئی سوال آیا کہ جس میں اسرائیل اور ایم بیز دیش میں جن کنڈیشن میں اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اس کا ذکر کیا ہے اس بارے میں سلف اور اللہ تعالی نے کافی دیر کے ساتھ اور خلیفہ اللہ تعالی سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا ذکر کیا ہے اس ضمن میں کتاب ہے انگریزی گرمی اور جہاں تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی چھوٹی سی کتاب ہے اسے چپکے چپکے سے بات کی ہے اس کو ایک دفعہ پڑھنا چاہیے چاہیے  سوال ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کیسے ہوئی تھی اس بارے میں اعلیٰ ارادہ ہے کہ ایک پروگرام پیش کیا جائے گا یا اس طرح پیش کر دے گا یہ مولانا نے میسیج کر لیں گے مگر اللہ تعالی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت پر ایک پروگرام جو ہے وہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے افریقہ جنگل میں جنگلی پرانا بینک لمیٹڈ قرآن پاک کو کس طرح پڑھا جائے کہ وہ ہمیشہ سبز رہے بولی نہیں اس طریق ہے جو انسان اس پر عمل کرے تو وہ اس کو یاد رکھتے ہیں ایک تو یہ کہ رات کو سونے سے پہلے آپ ضرور پڑھیں اور اسی طرح صبح فجر کا وقت عورتوں کے خاص طور پر انسان کا ذہن فریش ہوتا ہے اور جو چیز سکرین تلاوت کرتا ہے وہ اس کے دن میں جلد جو ہے وہ جذب ہو جاتی ہے میں بھی جواب تلاوت کریں ایسا بیعت کرتے ہیں وہ بھی تحریر کریں بعض صحابہ سے یہ بھی ثابت ہے مثلا حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد آپ سے یہ بات ثابت ہوتا ہے یہ بات آپ قرآن پاک کو یاد کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے تھے کہ جو آیتیں پھر اس کو اپنی مرضی سے لکھتے تھے جو چیز انسان یاد کرکے لکھ بھی لے تو وہ دعوت جرم ہو جاتی ہے ہے ہے ہے  سوال آپ کے خاندان یہاں پے جواب غیراں دی گئی ہیں کافی زیادہ میں ٹائم پر لے لیا ہے آج کے پروگرام کو ہم یہیں پر ختم کرتے ہیں جن دوستوں کا گروپ بھی کوئی سوال رہ گیا ہے تو آپ سے درخواست ہے آپ اپنا حال ہی میں بھیج دیں انشاء اللہ تعالی آپ کے سوالوں کا جواب دیا جائے گا آخر پر ہم اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں کہ اللہ ہم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم کی طرف سے پیغام آیا ہے کہ اہل کشمیر کے لئے دعا کریں ہم تو ہر وقت تمام مسلمان ممالک کے لئے اور دنیا کے لیے عمومی طور پر مہر علی اور مسلمانوں کی حفاظت کی دعا گو ہیں ہمارے امام بھی دعا کریں اللہ تعالی جلد بہتر کرے اور سختیاں دور فرمائے اور ہر جو لوگ ہیں جو جمع کر رہے ہیں ان کے شکن

 93 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: