تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار




تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار

Streamed live August 14 2021

قوم رحمۃ اللہ و برکاتہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کے نام کے اکاؤنٹ پروگرام کے ساتھ حادثہ احمد آپ کی خدمت میں حاضر ہے پروگرام کے لیے ہفتے میں چھ دن بیچ کر جمعہ کے دن یہ پروگرام نہیں ہوتا اس کے علاوہ ہر روز تقریبا اسی وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے اسلام کے متعلق الاحمدیۃ کے متعلق جو کی قسم کے سوالات ہوں ان کے کیا کیا جاۓ پروگرام آپ کی خدمت میں جماعت احمدیہ کی جو فحش ویب سائٹ ہے اسلام آباد اور اس کے تعاون سے پیش اسی وجہ سے یہ ممکن کہ صرف سائیٹ پر موجود بعض مقالہ جات کی طرف آپ کی رہنمائی کرتے ہیں کسی کتاب میں سے کوئی ہے کر سناتے ہیں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ کون سا اس ویب سائٹ پر کہاں موجود ہے اب آپ اپنی سہولت کے مطابق وہاں جا سکے اور اس مواد کا کی رسائی ممکن آج یہ امریکہ میں 14 اگست ہے 14اگست جو ہے وہ مسلمان ان پاکستان جو ہے ان کے لئے خاص اہمیت کا دن ہے 14 اگست 1947 کو ہی پاکستان جو ہے وہ معرض وجود میں آیا اسے سب سے پہلے تو ہم ان تمام پاکستانیوں کو جشن آزادی مبارک پیش کرتے ہیں جو دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد ہو ارے یہ ملک میشہ شاد و آباد رہے عباسی جو ہے وہ خوشحال یہ دیکھیں اور اللہ تعالی اس ملک کے حکمرانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ انصاف کے ساتھ ان کے ساتھ سلوک کرے اور جس کر اس ملک کا قیام ہوا تھا وہ پورا کرنے والے ہو اور وہ بیان جو لیڈر نے دیکھا تھا جو قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں نے اس ڈویژن کی ہم جو ہے وہ اس کو پورا کرنے والے ہو اور اپنے ذاتی مفادات کو الگ رکھ کر قوم کے لئے ان کی خوشحالی کے لئے بولیے جو ہے وہ تمام آنے والے ہیں ایک ایسا ہی ہو جب ہم بات قرآن کی پاکستان کے قیام کی کرتے ہیں تو اس میں جماعت احمدیہ کا ایک خاص کردار ہے ایک خاص حصہ ہے غلطی سے آج جو ہے وہ بہت سے پاکستانیوں نے احمدیہ کی خدمت کو فراموش کر دیا ہے بعض تاریخ دان ہی بات جو صحافی ہیں جنرل سے انہوں نے بھی اس تاریخ کو کیا ہے اور جان بوجھ کر یہ کیا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا اور پاکستان کے حامی نہیں تھے بلکہ اب تک جماعت احمدیہ اسلام یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور بہت انہیں جماعت احمدیہ پر اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو جماعت احمدیہ ہیں پھر جماعت کی جو منہ الجماعۃ قائداعظم کے ساتھ مسلم لیگ کے ساتھ کھڑی تھی حقائق میں سے بعض کو جو کہ پردہ کے پیچھے چلے گئے ہیں آج آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا تاکہ آپ کو پتہ جماعت احمدیہ کا کردار کیا تھا جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے میں اچھا جی ہم آپ کو بتاتے رہتے ہیں ایسا بہت سا مواد جماعت احمدیہ کی جواب وہاں پر موجود ہے انہی سے ایک جو ہے آپ کو کتاب کی طرف کی جائے گی جس میں یہ سارے حقائق جو ہے وہ درج کیے گئے جس کے آپ کو ہم بتاتے رہتے ہیں جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹ ہے اسلام ڈاٹ اور یہ اس کا مین پیج ہے اردو کیسے والا اگر آپ جائیں گے اگر آپ جو ہے کتب اس سلسلہ میں جائیں تو مختلف جو مصنفین کی کتابیں جو ہے وہ یہاں مل جائے گی کتب مولانا دوست محمد صاحب جائیں گے یہ والا حصہ جو ہے وہ آپ کے سامنے آئے جو ہے وہ مؤرخ احمدیت کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں بہت سی جگہ ہے جہاں تاریخ احمدیت کی عظمت مولانا صاحب نہیں کرتے انہی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار اب یہ آجائے تو آپ کو یہ والی کتاب ہے وہ نظر تحریک پاکستان چوک ایک لمبی تحریک کی کئی سال پر محیط تھی تو جو مصنفین از مولانا دوست محمد شاہد صاحب آپ لوگوں نے اس کتاب کو دس جواب ہے یا دس سال میں تقسیم کیا ہے کیونکہ تحریک جوتی ادوار میں گزری تھی لے کے لئے جو دس یا گیارہ واقعی یہ بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں اس آزادی تحریک میں پہلے میں وہ دس جو یہ دستیاب ہے وہ آپ کو پڑھتا ہوں لیکن ان میں سے 12 کی کریں تفصیل میں جاؤں گا سر جی اس کتاب کی ہے وہ ہے دو قومی نظریہ کی ترویج و دوسری فصل ہے مسلم لیگ کا قیام اور جماعت احمدیہ کھلے جداگانہ نیابت کا بنیادی مطالبہ اور چھٹی کے لئے مسائل فضل ہے نہرو رپورٹ کے خلاف جدوجہد افضل یہ ہے کہ کے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں موسم گردوں کے لیے مؤثر آواز سلسلہ قائداعظم کی لندن سے واپسی کے لیے کامیاب تحریک فصل قرار داد پاکستان کی تائید وزیر اور صوبائی انتخابات 1945 اس کے دوران ہوئے تو مسلم لیگ کی پرجوش جماعت احمدیہ نے حمایت کی آٹھویں فصل ہے مسلم لیگ کی عبوری حکومت میری جدوجہد نویں فصل ہے خضر جو کہ جس قدر حیات تھے ان کو استعفے کے لیے قائل کیا سر ظفر اللہ خان صاحب نے دسویں فصل جو ہے وہ باؤنڈری کمیشن نے مسلمان مسلمان منی اور آخری چیز پر جو ہے وہ یہ ہے کہ قیام پاکستان اور امام جماعت احمدیہ کا کردار تو یہ ساری کتاب کی تفصیل میں تو میں نہیں جا سکتا لیکن میں سے بعض واقعات جو ہے بعض اوقات ہے وہ آپ کی شاعری پہلا اس میں سے جو آپ کے سامنے ذکر کرنا مقصود ہے وہ ہے کہ قائداعظم جو تھے وہ مسلمانوں کی عدم تعاون کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر جو ہے وہ لندن چلے گئے انیس سو طوسی کے متعلق پہلے آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ جب چلے گئے تو کیسے جماعت احمدیہ کے جو اس وقت کی امامت حضرت ثانی ان کی کاوشوں سے قائداعظم جوتے وہ پھر واپس آئے تو اس پر فیس میں پڑھتا ہوں قائد اعظم محمد علی جناح ہندو ذہنیت اور کانگریس میں شامل علماء کے مسلم کمرشل گو جمیل گول میز کانفرنس کے دوران یہ سخت مایوس ہوگئے ہندوستان کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنے کا فیصلہ انگلستان میں رہائش اختیار کرلی قائداعظم خود اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں مہران ہوں کہ میری ملی خدا دی اور وقار کو کیا ہو گیا تھا انگلش سے صلح و مفاہمت کی بھیک مانگا کرتا تھا میں نے اس مسئلہ کے حل کے لیے مسلسل اور غیر منقطع کے ایک انگریزی اخبار نے لکھا کہ مسٹر جتنا ہندو مسلم اتحاد کے مسئلے سے ایک بھی نہیں سکتے میز کانفرنس کا زمانہ تم نے مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ پہنچا کسی خطرے کے آثار نمایاں ہوئے ہندوئیت اعتبار سے اس طرح نمایاں ہوئی کہ اتحاد کا امکان بھی ختم ہوگیا پہلے چاہتے تھے کہ ہندو اور مسلمانوں میں واقعے کے بعد جو ہے آپ فرما دیں کہ میں دل برداشتہ ہو گیا میں مایوس ہو چکا تھا مسلمان بے سہارا اور ڈرامے ڈور ہو رہے تھے قیمت کے یار وفادار ان رہنمائی کے لیے میدان میں موجود ہوتے ہیں کبھی کانگریس کے نیازمندان خصوصی ان کی قیادت کا فرض ادا کرنے لگتے ہیں مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر نہ مسلمانوں کی آنکھ قرآنی آخر میں نے لندن میں ہی بودوباش کا فیصلہ کرلیا یہ سات کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جہاں سے یہ اور سنائیں گیا ہے تو اعظم کے فیصلے سے جو کانگریس تھی وہ کچھ اس طرح قابل نواز جو مسلمان تھے وہ بھی بہت زیادہ خوش تھے یہ لیڈر تھے جو کہ مسلمانوں کو ایک نیا وطن لا سکتی ان کے جانے سے بڑے خوش ہوئے لیکن جو مسلمانوں کا صحیح قسم کا درد رکھتے تھے جو ہے وہ بڑی ہی قسم کی مایوسی والی کیفیت ہوگی اور زبان کے دل جو ہے بڑے دکھی قائداعظ کتوں کو بھونکنا چھوڑ دو کاروان رات کو اپنی منزل کی طرف چلنے دوم کے اس فیصلے سے اس سب سے افضل جوتے از مرزا محمود احمد صاحب جو جماعت احمدیہ کے دوسرے امام تھے انہوں نے یہ جان لیا قائداعظم کے بغیر مسلمانوں کو آگے لے کر چلنا چاہے وہ بڑا مشکل ہے لیکن اس کے برعکس ہوتے جواب سید عطاءاللہ شاہ بخاری تھے انہوں نے جو ہے وہ کہا کرتے تھے قائد اعظم کے خلاف ان کے بڑے سخت مہاتما گاندھی کے متعلق کہتے تھے کہ بلا تشبیہ اور تمثیل مہاتمہ کا میم اور موسی کا میں برابر ہے یعنی کہ مہاتما گاندھی کو حضرت موسی سے تشبیہ پھر کہتے تھے مسلمانوں کے کارکن مسلم لیگ کے ساتھ نہ شامل ہوں بلکہ اس کے مخالف جو ہے وہ ووٹ ڈالو اور یہ بھی کہا جو لوگ مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے وہ سو رہی اور تو رکھنے والے ہیں یہ وہ لیڈر تھے جو پاکستان کے رہنما بنے ہوئے ہیں ان کے بڑے یہ کہا کرتے تھے جو لوگ مسلمان دینگے وہ سو رہی اور اور پھر یہ بھی کہتے تھے یہ خطرہ نہ ہو دل سے ہے نہ نو سے بلکہ خطرہ خود ان نیک دل اور سادہ لوگ تیمارداروں سے ہے اسلامیہ کے مرد بیمار کے مداوا کے لیے مسلم لیگ اور اس کے رہنماؤں کی جدوجہد اور اور اس لگائے بیٹھے میں مسلمانوں کو امید بھی نہیں لگانے دے رہے تھے اگر کوئی کسی کام آ سکتی ہے تو نیچے حوالہ دیا گیا مجلس احرار پاس جو ہے یہ والا آپ کو مل جائے گا تو اس وقت ثانی نے جو عورتوں کی جماعت احمدیہ کے امام تھے انہوں نے لندن میں جو جماعت احمدیہ کے اس وقت انہیں کہا کہ آپ قائد اعظم کے پاس جائیں اور انہوں نے اس بات پر قائل کرے کہ وہ واپس مسلمانوں کی جو سیاسی لیڈر شپ ہے اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیں اس کے متعلق جو ہے وہ پھر قائد اعظم کے پاس تھے ان کے دفتر ملے ان سے اور انہوں نے کہا کہ ایک تو آپ سے ہے مستقبل کے مضمون پر ایک لیکچر نے قائداعظم رضامند ہو گئے اور پھر انہیں قائل کیا کہ آپ ہندوستان واپس جائیں قائد اعظم کے الفاظ یہ تھے اور میں پڑھے تو کہتے ہیں سیالوی شہادت امام علی نواز کے آپ نے اس طریقہ سے مجھے قائم کیا ہے کہ ہمارے پاس واپس جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تو یہ اگر قائد اعظم کو واپس لانے کے لئے نہ کیا جاتا تو شاید آج جو ہے وہ پاکستان معرض وجود میں آیا لحاظ سے لسانی اور جماعت احمدیہ کا بہت بڑا رول تھا قائد اعظم کو واپس اس کے بعد جو ہے اگلا حصہ جو میں آپ کے سامنے پیش کروں گا وہ 41 ہے جس میں پتہ چلتا ہے کہ مسلمان اس وقت کے کیا سوچتے تھے قائداعظم کو کیا کہتے تھے اور جماعت احمدیہ جو ہے وہ کیسے قائداعظم کے کڑی دی تو قائداعظم جو ہے انہوں نے 1945 میں واپس آکر جلسہ بعد وہاں سے جو ہے کاموں کو انجام دیتے پھر انیس سو پینتالیس کا ایک بیان ہے جو آپ نے انتخابات کے لیے موقع پر اعلان کیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے نام ہمارے پیش نظر اہم مسئلہ آئندہ انتخابات کا ہے حالات میں انتخابات کو خاص اہمیت ہے انتخابات ہمارے لئے ایک آزمائش کی صورتیں ہم رائے دہندگان کی سماعت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ پاکستان چاہتے ہیں یا ہندو رواج کے مطابق مجھے معلوم ہے کہ ہمارے خلاف بعض طاقتیں کام کر رہی ہیں اور کانگریس ارادہ کئے بیٹھی ہے کہ ہماری صفوں کو ان مسلمانوں کے مدرسے پر کہ کانگریس نے ان نام نہاد مسلمان لیڈروں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا وہ قائد اعظم کی کیا کرتے تھے فرماتے ہیں کانگریس ارادہ کیے بیٹھی ہے کہ ہماری مسلمانوں کی امداد سے پریشان کر دیا جائے جو ہمارے ساتھ نہیں ہیں غصہ کے مسلمان ہمارے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ یہ مسلمان ہمارے خلاف مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے کام میں بطور کارندے استعمال کیے جاتے ہیں قرآن سنائے ہوئے پرندے ہیں یہ تھی قائد اعظم کے متعلق رائے یہ مسلمان سدھائے ہوئے پرندے ہیں شکل و صورت کے اعتبار سے صحیح مسلم چنانچہ جو مجلس احرار والے تھے وہ کیا کہتے تھے ان کے لیڈر نے کہا کہ بدلی گئی سرمایہ دار کا پاکستان نہیں عراق پاکستان کو پلیدستان سمجھتے یہ ہے رات کی جو حاصل کی کیفیت ان کی حالت اور ان کے بیانات کہتے ہیں کہ ہر آج پاکستان کو پلیدستان سمجھتے ہیں ریلوے 1946 کے ساتھ میں انھوں نے لکھا کہ پاکستان ایک خونخوار سانپ ہے جو انیس سو چالیس سے انیس سو چالیس سے مسلمانوں کا خون چوس رہا ہے اور مسلم لیگ کا ہائی کمان ایک صحرا ہے یہ تو ان کے قائد اعظم کے پھر انہی کے جو لیڈر تھے مظہر علی اظہر وہ کہتے ہیں ایک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا یہ قائد اعظم ہے یا کافر اعظم اس کو کافر اعظم کہتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ اسلام کے بغیر پاکستان سے ہم اس ہندوستان کو پسند کریں گے جہاں  سوالات کی ضرورت جواباتنماز روزہ کے اسلام کے باقی عدل و انصاف کے پروگرام کے مطابق نظام حکومت ہوگا ان کی جو ہے وہ حالت پھر وہ کہتے تھے کیا اس کے سخت خلاف ہیں جن کے لاکھوں مسلمان کی قربانی دیکھ کر کسی یزید جیسے مسلمان کے لیے تحفہ ایسے الفاظ سے مسلم لیگ کے لیڈر کے متعلق سید عطاءاللہ شاہ بخاری اور اس کے حامی علماء کے تو پھر یہ ہوا کہ جب 1945 کے انتخابات ہوئے تو احرار جماعت جمعیت علمائے ہند اور مودودی صاحب یہ تینوں جماعتوں نے کانگریس کے فتک علم کی حیثیت سے پاکستان مسلم لیگ کی درد کرم خان فرق یہ تھا کہ ہزاروں جمیعت نے تحریک پاکستان کے خلاف الیکشن میں سرگرم مسلح مگر جماعت اسلامی نے مسلمانوں کو سرے سے انتخاب گاڑی بائیکاٹ کرنے کی تلقین کی اور اس طرح پاکستان کا راستہ روکنے اور اس کو ناکام بنانے کی سازش کی کراچی مودودی صاحب نے فتوی دیا سوری انتخاب میں شرکت اور رائے دہی حرام ہے کیا کہ قرآن و سنت سے کی حق ہے نیز اپنے مسلک پر اصرار کرتے ہوئے بتایا کہ قائد اعظم کا لقب اور پاکستان منتخب مقالہ ہے جس میں ہم اپنی قوت کی وضاحت کریں سے قائد اعظم نے ان کے متعلق یہ کانگریس کے ستائے ہوئے علماء ہیں کوشش کی کہ مسلم لیگ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن اس وقت رضا محمود احمد صاحب جماعت احمدیہ کے بانی تھے انہوں نے ایک مضمون شائع کیا اور ان کروایا کہ آئندہ الیکشن میں ہر احمدی کو مسلم لیگ یہ کا انتخابات کے بعد مسلم لیگ بلاخوف بہت دیر تک اندر سے یہ کہہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے اگر ہم اور دوسری مسلمان جماعت ایسا نہ کریں گی کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی لان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بہتر ثابت ہوگی اور ایسا سیاسی اور اقتصادی آپ کو لگے گا کہ چالیس پچاس سال تک ان کو سمجھنا مشکل ہو جائے گا محبت کی کوئی عقلمند اسہال کی ذمہ داری اپنے اوپر لے ایک طرف آپ دیکھیں گے کہ راویوں کے اور جمعیت العلمائے ہند کا قیام وقت تھا اور دوسری طرف امام جماعت احمدیہ کہتے ہیں کہ ہم برملا یہ مسلم لیگ کے ساتھ کھڑی ہیں اور ہر الیکشن میں ان کی اور پھر آپ نے قائد اعظم کو بھی اقبال کے خطوط اور پھر قائداعظم نے حضرت امام جماعت احمدیہ کا جو خواب تھا وہ مسلم خبال ڈان جو ہے اس اشاعت کے لئے بھجوایا بڑے خوش ہوئے کہ یہی وہ جماعت ہے جو اس وقت میرے ساتھ کھڑی ہے جو اس وقت کے علماء دیوبند کو بھی یہ بات کرتی تھی کہ قائداعظم جو ہیں وہ جماعت احمدیہ کے ساتھ ساتھ چل رہی چنانچہ کہ جو جماعت احمدیہ کے جواب اس کے عذاب کے متعلق صرف مسلم لیگ پارٹی ایسی پارٹی تھی جس کے ساتھ مرزائیوں کو کچھ وقعت تھی عمران خان مرزائی 1921 آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر رہ چکے تھے کانگریس اور مسلم لیگ میں تلخی بڑھی اور پاکستان کا مطالبہ شروع ہوا اسد محمود اور اسکی پراپیگنڈا ایجنسی نام اردو کتابت کی مسٹر جناح نے یہ نہ سوچا کہ پولیٹیکل پالیسی اسلام کو کیا نقصان پہنچائے گی اگر مسٹر جناح نے مرزائیوں کو مسلم لیگ میں شامل کردیا لائیو میچ والی سکول لاہور میں مسلم لیگ کی آل انڈیا کونسل کا اجلاس ہوا مولانا عبدالحامد جوانی نے اس کونسل کے اجلاس میں ہے ایک قرارداد پیش کرنے کا لڑکے مرزائی چونکہ مسلمان نہیں ہے اس لئے ان کو نکال دیا جائے عدالت پیش ہوئے تو مسٹر جناح نے اس پر بحث کی اجازت نہ دیں قائد اعظم جانتے تھے کہ یہ مسلمان ہیں ان کے خلاف جماعت احمدیہ کے خلاف قرارداد تھی یہ محض جو ہے رات کی وجہ سے ایسا کیا جا رہا ہے چنانچہ وہ ایسی ہے سازش کو ناکام کر دیتے تھے پھر یہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مسٹر جناح نے کوئٹہ میں تقریر کی اور مرزا محمود کی پالیسی کو سراہا یعنی کہ جماعت احمدیہ کے دو اس کے بعد سینٹرل اسمبلی کے الیکشن ہوئے تو تمام مرزائیوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیئے یہاں تک کہ جب مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر ذمہ دار لاہور جو کسی زمانہ میں مرزائیوں کے پلے ان کا مسٹر بابا کا مقابلہ ہوا تو دفتر ضلع علی گرداس پور میں مرزا محمود احمد تبدیلی کی جس میں مرزائیوں کو صاف طور پر مسلمان قوم کیا گیا تو یہاں بھی دیکھیں کہ وہ مانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نہیں اہم کردار ادا کیا عجیب بات ہے جن کو وہ جھوٹ تیرے جن کو کافر کہہ رہے تھے جن کو اسلام کے دشمن سمجھتے ہیں انہوں نے ہی سب سے زیادہ اس بات کا قائد اعظم اور مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں ان کی حد مدد جو ہے وہ کرنے کو تیار ہیں اس پر بھی ان کو بڑی دعائیں شیروں کو بعد میں کہتے ہیں کہ آج مسٹر جناح بیرسٹر کے بجائے مفتی کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں ظفراللہ خان قادیانی کو جو پاکستان کے حامی ہیں مسلمان جانبدار قرار دیتے ہیں حسین احمد صاحب مفتی اللہ صاحب جیسے ماہرین نے ملت کو دیانت بے ایمان کہتے ہیں اس کو اتنی مرچیں لگیں کہ قائداعظم اور صرف جو کہ اس تحریک میں آگے آگے تھے ان کی قرآن کے المعتورۃ کیا جا رہا ہے لیکن قائداعظم اور سر خان صاحب کو جو ہے وہ ایک غیر معمولی حیثیت جو ہے وہ حاصل ہوتی ہے ابوالکلام آزاد اور چوبیس کتاب کے کئی ابواب سارے پڑھنے کی جو ہے وہ ہے ناہید نے ہمارے پاس ہوتا ہے کہ ایک اور حوالہ جات پڑھ کے جو ہے پھر میں آپ کے لائیو سوالات کی طرف اچھا تو جب پاکستان پتہ چل گیا ہے جو کہ پاکستان کے معرض وجود میں آگیا ہے تو پھر امیر شریعت کی نگاہ میں وہ کہتے تھے کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبورا قبول کر پاکستان بن گیا لیکن پھر بھی ان کے پاکستان مخالف جو روئے تھے ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ آئی تو پھر اس کی وجہ سے قائداعظم جوتے برداشت کرتے ان مسلمان علماء سے خاص طور پر جمیعت ہم تھے اور ہر بات سے تو ساری زندگی پر انہوں نے کیا تم کے متعلق ایک واقعہ آتا ہے خود جو ہے اہل علم تفسیر عطاءاللہ شاہ بخاری کہتے ہیں کہ آخری سلام پڑھتے حضرت قائداعظم مسیح وسلم کی ذمہ داری محبت اور شفقت اور عقل اور فہم کے پیکر تھے مگر آپ نے پاکستان کے غداروں کا یہ جو شرمناک انہیں عمر بھر معاف نہ کیا جس کا اعتراف لیت کے امیر سید عطاءاللہ شاہ بخاری چنانچہ آپ نے ایک بات کو نہیں بتایا کہ میں نے قائداعظم کے بوٹ پر اپنی داڑھی رکھی پر وہاں پہ احساس ہوا یا سیاسی قائداعظم سے معافی مانگیں تو قائداعظم کو اتنا ان سے مخالفت کا سامنا تھا اتنی انہوں نے اسلام کی اور مسلمانوں کی مسلم لیگ کی اور قائداعظم کی کیا آپ کے ذہن کو وہ معاف کرنے کے لئے تیار نہیں تھے تو کہتے ہیں کہ میں نے قائداعظم کے بوٹ پر اپنی داڑھی رکھی پر وہ آپ سے یہ تو حالات و واقعات ہے پاکستان کے جو ہے بننے میں کس کا کیا کردار تھا ان مولویوں کو کیا کردار تھا اور جماعت احمدیہ کا کردار کیا یہ کتاب جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے آج اگر آپ اس کتاب کو پڑھیں کے قریب جو ہے یہ اس کے صفاتی نام لیکن بہت ہی مفید ہے خاص طور پر ایسے شخص کے لئے جو تعویذ کو جاننا چاہتا ہے تو اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی پاکستان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ ہم اس سے بالکل غدار نہ ہو جائے بلکہ جو اصل ہیرو ہیں انہی کو ہیرو تصویر کیا آج کل کے نام نہاد لوگوں کو مثنوی سر ظفر اللہ خان صاحب کو پاکستان کی گورنمنٹ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ہیرو کا درجہ دیا گیا ہے کہ ایک ٹویٹ میں لکھا شور مچانا شروع کردیا کہ سر ظفر اللہ خان صاحب کے ہیرو ہوں گے وہ جانتے نہیں کہ سر ظفر اللہ خان صاحب تو قائداعظم کے رائٹ ہینڈ تھے اللہ تعالی ان کو ہدایت دے اور ان میں ہونے کی توفیق عطا فرمائے جو کہ قائد اعظم اور آپ کے ہو مسلم لیگ رہنما جس کی خاطر جو جس مقاصد کی خاطر ونیاملک چاہتے اللہ کرے کہ پاکستان کے لوگ اور عوام اور حکمران جنرل قاسم کب جو ہے آپ کے لائق سوالات کی طرف بس لوگوں نے السلام علیکم کہا ہے میں آپ کو نام پر دیتا ہوں بشریٰ خواجہ صاحبہ محمود صاحب حلفی عبداللہ کیا ملک صاحب بعض دانشور اور بہت سارے لوگوں نے جو اسلام علیکم کہا ہے میں آپ سب کو وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ آپ سب کا بہت شکریہ کہ آج کے پروگرام کے لائق حصے میں آپ اچھا دانشور صاحب کا پہلا سوال یہ لے لیتے ہیں آپ کہتے ہیں کیونکہ جن کا جواب دینا اور اذان کے دوران باتیں کرنا کیسا عمل ہے مصطفی نماز شروع کر دینا بتادیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اذان کے الفاظ تم سنتے ہو تو بجائے دوسری بات نہیں کرنے کی ان الفاظ کو دہرایا کرو جب موذن اللہ اکبر اللہ اکبر سنی اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے پر شرم اللہ اللہ سیدنا محمد رسول اللہ جو امیدوار آنی چاہیے جب موذن کہتا ہے یا اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لاحول ولا قوۃ الا باللہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ فلاح کی طرف وہ جو ہے نماز کی طرف تو کہتے ہیں کہ لا حول ولا قوۃ کہ خدا کی مدد کے علاوہ جو ہے ایسا کام کرنا ممکن نہیں ہے تو عمران خان سے مدد چاہتے کہ ہماری اس معاملے میں رہنمائی کریں تو اذان کے الفاظ دہرانے چاہیے غیر ضروری باتوں سے جو پرہیز کرنا چاہیے اذان کے فورا بعد نماز شروع کرنا تو ایسی نماز ہے جس میں بعد میں سنت ذرا سی بات ہے کہ انسان جو ہے وہ لے کے آنی چاہیے تاکہ لوگ اپنی سنتیں ادا کر لیں اگر کسی نماز میں سنت نہیں ہے تو اتنا تو ساقیب دے دینا چاہیے تاکہ اگر کوئی دو نفل پڑھنا حافظ ابوبکر سکے اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے شروع کر دی جاتی ہے ایسی نماز وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر تھوڑا سا اس میں وقفہ رکھ دیا جائے تو یہ بہتر ہے تاکہ کسی نے نوافل ادا کرنے ہیں تو ورسک غالب صاحب یہ دبئی سے اسلام کریں وعلیکم السلام وعلیکم صاحب جزاک اللہ اچھا کے قرضے کے دعا میں خلافت کی دعائیں پڑھ سکتے ہیں دعا تو کوئی بھی پڑھی جا سکتی ہے تو وہ جو وفا وقتن فوقتن دعائیں یا رہتی ہے یہ دعاؤں کی تحریک کرتے اور میں پڑھی جاسکتی قرضے کی اگر کسی کو دعا کیا تو وہ بھی پڑھ سکتا ہے یہ اگر کوئی دعا ذہن میں نہیں بھی ہے تو اس فرمایا کہ ایسا شخص سے زیادہ کثرت سے استغفار کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی جی لوں گا اور کوئی دوا نہیں آتی تو درود اور استغفار بھی جو ہے وہ بھی اس مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اگر اور بھی کچھ نہیں تو اپنی زبان میں بھی انسان کو دعا کرنی چاہیے کیونکہ ساری زبانیں ہیں وہ خدا کی بنائی ہوئی آگ مقصد کے لئے معین دعا قرآن یا حدیث میں آپ کو نہیں ملتی تو اس کے لئے پھر جو ہے آپ اپنی زبان میں دعا کرسکتے ہیں لیکن غسل کی بعد دعا ہیں اگر آپ جماعت احمدیہ کے آفیشل ویب سائٹ پر جائیں اور اسلام کا دعویٰ خزینۃ الدعا کتاب ہے اگر آپ اس کو کھولو بھائی آپ کو مل جائیں گے کیا جا سکے اور دوسری طرف اس میں کوئی حرج نہیں اگلا سوال یہ ہے کہ کیا جب کوئی بندہ مر جاتا ہے تو اس کا حساب کتاب اصول ہو جاتا ہے یا اس کو یوم حساب یعنی قیامت تک انتظار کرنا پڑے گا بس اب تو جو ہے وہ بولنا شروع ہو جاتا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تھوڑی سی کہ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کی کسی حد تک جزا یا سزا اس کو ملنا شروع ہو جاتی آپ نے اسے مثالی کیا ایک قسم کی کھڑکی کو جاتی ہے تمثیلی کلام ہے اسے جنت کی نو ماں کا بھی کسی حد تک جو ہے وہ فائدہ اٹھا سکتا ہے غلط اعمال ہو تو وہ پھر جہنم کی جو سزا ہے وہ بھی کسی حد تک اس کو پہنچتی ہے راجا وہ آخری دنیا روز قیامت تک جاری رہے گا آخری دن جو ہے روز قیامت اس وقت مکمل طور پر جو ہے وہ خراب ہو گا سب کا سب لوگوں کا لیکن اس سے پہلے کسی حد تک جائے وہ حساب کتاب جاری رہتا ہے منشاء چیمہ صاحب کے سوال ہے کہ آج کل موبائل اور کیمرے کا اتنا عام استعمال ہے تو اس میں شادیوں پر نامحرم رشتہ داروں کے سامنے کیسے پردہ ہو سکتا ہے نبی فیملی کے لوگ شادی ہال میں اکٹھے ہو جاتے ہیں بات یہ ہے کہ وہاں نامحرم کو وہاں تو ویسے ہی پردے کا حکم ہے تو عموما جو ہے جمعہ میں یہی طریقہ رائج ہے کہ خواتین ایک طرف ہوتی ہیں جب جو ہے فنکشن آخرت ہوتا ہے پھر جو قریبی فیملی کے افراد ہوتے ہیں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور جو بھی تصویر کھینچی ہوتی ہے وہ جاتی ہے اگر اس وقت بھی باز نہ محرم ہو تو پھر کتنے چاہیے اور غیر ضروری طور پر جو ہے وہ سر سے دوپٹہ ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ بابر بے پردگی جائزہ سے نہ ہو جائے تو پھر بھی وہاں موجود ہیں تو پھر آپ اپنے کپڑے اور شادی بیاہ کے اتنی بلوا نہ کریں کہ ہم نے اس کے بغیر تشریح اچھا یہ سوال ہے عائشہ خواجہ صاحب کی روح انصاف میں تب تک ہوتی ہے جب تک عبادت کرتا ہے یہ خطرہ رہتا ہے آخری وقت کی بات ہو رہی ہے وفات کے وقت کی کہ وہ کب تک ہوتی ہے تو اردو آخری وقت تک انسان کے ساتھ رہتی ہے تو بھی انسان کی زندگی کا جواب خاتمہ ہو جاتا ہے نہیں کی اگر کوئی کام ہے یا آخری بیماری میں آج جو ہے نہ اس کے لیے مشکل ہے عبادت کرنا مشکل ہے عروج ہو چلی گئ درست نہیں ہے تو جو ہے اس وقت انسان کے جسم جب اس کی وفات ہو جاتی ہے اس سے پہلے روس کے ساتھ ہوتی ہے وہ عبادت کوئی کر سکے یا نہ کر سکے اچھا اگلی کانٹیکٹ پاکستان کی ہسٹری زیادہ تر لوگ نہیں جانتے بس جو کسی نے غلط انفرمیشن دے دی سرکاری مسلم اچھالتے رہتے ہیں بالکل یہ درست ہے یہی مقصد ہے اس پروگرام کا کے بعد ان حقائق پر سے پردہ اٹھایا جائے جن پر مرور زمانہ کی وجہ سے جو ہے وہ دودھ گوگل گئے آج کے پروگرام کو کا بیان کرنے کا یہ مقصد تھا کہ چونکہ یوم آزادی ہے لوگوں کی طرف جو ہے خاص توجہ ہوتی ہے تو ان کو وہ واقعات بتایا جاۓ وہ پس منظر بتایا جائے جو پاکستان کا قیام عمل میں آیا مجھے کیا ہماری خدمات ہیں اگر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں دوبارہ ان کا ذاتی فعل ہے قاری آفتاب ہے وہ کبھی بھی اس سے انکار نہیں کریں گے اللہ تعالی ان کو ہدایت دے اچھا شاہد خان صاحب کہتے ہیں کہ سلام اگر تین ہزار سال پہلے کشمیر میں آتے تو بھارت کے لوگ صحیح تورات انجیل کا علم ہوتا بڑی امت اس کی بھارت میں ہوتی مگر دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پائی کو بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کو جب گائے گیا تھا اس وقت آپ کی عمر تقریباً 30 سال کی تھی سو تینتیس سال سے لے کر ایک سو بیس تک کا جلسہ تھا وہ پھر کا گزارا گیا آپ پہلے سوال کا جواب دے دیں تقریبا ستر اسی سال تک کا عرصہ بنتا ہے تو پھر کہا آپ نے گزارا تو لازماً ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس عید کے سدیس کی تائید میں کیا آپ جیت کر کے وہاں چلے گئے اور قرآن کریم بھی بڑا واضح ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے وہ صلیب پر لازمی ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام معجزات کیوں جنوں نے کشمیر کی طرف کی علی کو یاد رکھیں کہ حضرت عیسیٰ کا جو پیغام تھا وہ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے تھا میجر عزیز علیہ السلام اس وقت صرف دو قبائل تھے موبائل جوتے وہ کئی سو سال پہلے جو ہے ان کو غلامی جو ہے وہ مختلف جگہوں پر بھیج دیا گیا تھا یا خود کو ہجرت کر کے جاؤ چلے گئے اس سے زیادہ تر قبائل جو ہے وہ افغانستان کشمیر اس علاقے کی طرف ہجرت کر کے گئے تھے حضرت عیسٰی کی حکمت کے تحت علاقوں کی طرف گئے تھے تاکہ ان کو بھیڑوں کو جو ہے وہ اپنا پیغام پہنچا سکیں چنانچہ آپ کے اور آپ نے اسلام کا پیغام اللہ تعالی کا پیغام ان کو پہنچایا اور پھر انہیں ایک انداز آنے والے نبی کی بشارت دی تھی آزاد کشمیر کے علاقے کی تاریخ کا جائزہ لیں تو وہ بھی مانتے ہیں کہ یہاں ایک شہزادہ نبی آیا تھا اور اس وہاں ذکر آتا ہے اس کی خبر کا بھی کھانیاں رملہ میں ذکر آتا ہے اور پھر انہوں نے ایک آنے والے نبی کا بھی ذکر کیا ایک علاقے کے لوگ جو ہے وہ مسلمان ہوگئے اور اور قبول کرلیا اور عیسائیت باقی نہ رہے کیونکہ اس آیت کا اگلا مرحلہ جو ہے وہ اسلام ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ کے بعد از آغاز سال نو کی آمد کے لیے بھی تیار کیا ہوا تو اس وجہ سے عیسائیت جو ہے وہ رفتہ رفتہ جاتی گئی اور اسلام کی نظر میں کہتے ہیں یہ جھوٹی کہ حضرت عیسی جو ہے وہ کشمیر آئے تو میرے بھائی جو قرآن کریم میں آتا ہے واہ واہ واہ میں نے تو وہ بھی خراب ہے کی مخالفت میں اہمیت کی مخالفت میں آپ کے قرآن کو چھوڑنے اس قرآن کریم کی جو آیت اس کی کیا آپ کے نزدیک تشریح ہوگی اس میں فرمایا کہ ہم نے ایسا کر اس کی والدہ کو ایک چشم والی عورت جگہ میں جو ہے وہ اور اور یہ ماں کا جو ہے وہ آج ایک مشکل اور پریشانی سے گزر کر اللہ تعالی کسی کو خاص کرنا ہے تو وہ اگر ان کے تاریخی واقعات سے دیکھا جائے تو تکلیف کا ایک واقعہ تھا جس میں خاص طور پر تشدد کیا گیا آپ کے ماننے والوں پر تشدد کیا گیا اور اس کی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ کو جو عزت کرنے کا حکم دیا ماننا یا نعمان آپ کی مرضی ہے جو حقائق ہیں وہ ہم نے آپ کو بتا دیے ہیں آگے جیسے آپ کے بڑے انکار کرتے رہے ہیں آپ بھی انکار کرتے ہیں اس کے متعلق حدیث مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں ذکر کیا ہے اس میں بائبل کے بھی والد ایک ہی قرآن کریم کے حوالے بھی دیے کال بھی دیے گئے ہیں طب کی کتابوں کے والد دیے ہیں اور لوکل جو کشمیری ڈویژن کے حوالے کر دیے گئے ہیں اگر آپ میں واقع یہ جاننے کی جستجو ہے تو اس کا مطلب لے کر لی پھر بھی اگر آپ کے ذہن میں سوالات ہوں تو ضرور آئیں انشاءاللہ کوشش انجانے بغیر پڑھے بغیر جو ہے وہ کہنا کہ نہین کشمیر نہیں کہ جب آپ کو عقائد کا پتہ ہی نہیں سکتے ہیں آپ قرآن سے انکار کر رہے ہیں آپ اچھا فوزیہ خوشی سے پوچھتی ہیں کہ جب احمدیوں کو حج کی ممانعت تھی تو خلیفہ ثانی نے کس طرح کی حج کی ممانعت وارد ہوئی ہے جب نام نہاد ہے گوگل اپنے پاسپورٹ میں یہ چیز شامل کرلی ہے کہ جب تک کسی مذہب کا انکار نہ کریں گے آپ کو مسلمانوں صبر نہیں کیا جائے گا اور آپ کو حج پرجانے کی اجازت اس سے پہلے تو اس طرح کی جو ہے پابندی نہیں تھی پرانے وقتوں میں جب حضرت آدم سیستانی نے حج کیا تھا اس کتاب خلیفہ نہیں تھے اس وقت آپ نوجوانی کی عمر دے کابل کے دورے خلافت میں حج کیا تھا اس وقت آپ ایک غیر معروف شخصیت کے لحاظ سے بہت زیادہ لوگ آپ کو نہیں جانتے تھے اس لئے آج کرنا ہے آپ کے لئے آسان تھا کمپیوٹر اور مسیح موعود علیہ السلام جن کو جو ہے وہ سارا ہندوستان ایک لحاظ سے یہ آسان تھا کیوں کے ابھی آپ جماعت احمدیہ کے خلیفہ نہیں بنے تھے عام شخص کی زندگی گزار رہے تھے تو پھر آپ حج پر گئے اور آپ نے حج کر لے اسی طرح حضرت آج کیا اس سے جماعت احمدیہ کے لوگ جب حج کرتے ہیں آپ بھی کرتے ہیں لیکن ان ممالک سے جہاں پر کوئی پابندی نہیں ہے جن ممالک میں پابندی ہے وہاں سے جب وہ چپ نہیں جاتے اچھا یہ بھائی دوبارہ ایک بات کہتے ہیں کہ جہاد نہیں کرسکتے تو حق پر نہیں ہو سکتے میدان کربلا میں حسین نے تلوار اٹھائی جہاد کیا تھا میرے بھائی جہاد پر وہیں چوکے پہلی عید آپ کی غلط ہے ساری عبادت کی بنیاد پر ہو آپ قرآن کریم کا بھی مطالعہ کیا ہو تو اس میں بڑا واضح طور پر بیان ہے کہ جہاد کی اجازت جو ہے وہ کیوں دی گئی قرآن کریم نے جب جہاد کی اجازت کا ذکر آتا ہے وہ سورہ جس میں پہلی دفعہ اجازت زین للذین یقاتلون بانہم ظلموا وان العاملی لوگوں کو جن کے خلاف کتاب کیا گیا جہاد کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور پھر فرماتا ہے کہ اللہ اجازت نہ دیتا ان کو اس سے اپنا دفاع کرنے کی تو پھر عہدے جوتے یہود کے وہ تباہ ہو جاتے گر تباہ ہوجاتے مساجد تباہ ہوجاتی تو وہاں پتہ چلا کہ جہاد کس کی اجازت دے دی گئی تاکہ جو ہے مذہبی آزادی قائم ہو جہاد کی اجازت دے دی گئی تاکہ اپنا دفاع کر سکے مسلمانوں کو جب مکہ میں بھی امن سے رہنے کی وہ مدینہ مسجد کا بھی اور ان کے اوپر بھی لکھے چڑھائی کر دی اس وقت جو ہے کی دعوت دی گئی تو ہمارا یہ ماننا ہے کہ اسلام میں دفاعی جنگی جو ہے ان کی اجازت ہے اور یہی مسلمانوں نے کیا اور آخری زمانے میں اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح اس میں سے اور اس کی علامات میں سے یہ بات کی تھی یاد حال ہر کے جنگ کا جو ہے وہ خاتمہ کر دے گا تو آپ بتائیں آپ معاذ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانیں آپ کی بات کیا ہے مسیح موعود کے زمانے میں جہاد نہیں ہوگا قیاس کاانکار کرنے والے ہاں جہاں جبلت بڑے گی پھر جماعت احمدیہ وہ جہاد میں شامل ہوتی ہے جیسے کشمیر غفور جو ہے وہ آج کل پاکستانی نے تیار کروائی تو جہاز ہوگی جب وہ مواقع پیدا ہوں گے یا شرائط پوری ہوجائیں گی ماں جماعت احمدیہ کو جہاد میں شامل لیکن حال موقع پر جانا اس کی ضرورت ہے کی اجازت دیتا ہے سر یہ ایک اعتراض کرتے ہیں کہ تمہاری جماعت غالب نہیں آگئی اللہ نے عشاء میں سورہ آل عمران میں کہا تھا جو تمہاری پیروی کریں گے ان کو قیامت تک غالب کرے گا تمہاری جماعت غالب نہیں ہوئی آپ مجھے بتائیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام جو ہے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں نے ان کو مانا تھا جب مچھر وسلم کی آبادی ہے نا اور پھر تین سو سال تک لگاتار جو ہے وہ آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر ظلم ہوتے رہیں اگر آپ نے قرآن کریم کا کیا ہو تو سورہ کہف کو بھی پڑھنے کتاب میں ذکر آتا ہے کہ ان کو اپنے جان و مال کی حفاظت کے لئے غار میں پناہ لینی پڑی جو اصحاب کہف تھے وہ دین تھے تو تین سو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا قرآن کی اس آیت کو غریب آتا ہوں غزل مرزا صاحب نے بھی کہا ہے کہ تین سو سال نہیں گزریں گے کہ میری جماعت کی اکثریت ہوجائے گی میرے بھائی ابھی تک اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں ایک شخص سے کروڑوں کی تعداد میں ایک سو بیس سال میں گم ہو سکتے ہیں تو اگلے 120 سال جو ہے وہ کیا کیا آپ کے لئے کرائیں گے ہمارے لئے تو خوشی آپ کے لئے تو شاید یہ بڑے افسوس کا مقام ہوگا لیکن انتظار کر رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بجائے قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنا رسول بھیجا دین حق کے ساتھ تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب چودہ سو سال ہو گیا کہ کیا اسلام ہر دین پر غالب ہو گیا ہے آپ کی بتائی ہوئی بات کے مطابق تو نعوذباللہ اجنبی حضرت صحابی جو نبی تو سب روتے ہیں حضرت موسیٰ بھیجتے نبی صورت غالبا جس کا قرآن میں ذکر تھا ابھی تک کوئی غلط بات نہیں ہوسکا اور مسلمان جو ہے وہ اکثریت میں تو خدا کے لیے مرزا صاحب کی دشمنی میں اسلام کو تنہا چھوڑ دیں قرآن کو تو نہ چھوڑ دیں پلیز کو تنہا چھوڑ دیں ابھی اپنی آنکھیں کھولیں اور آنکھوں سے جو جہل کے پڑتے ہیں ان کو اتار کے دیکھے واضح ہو جائے گی اور پیچھے دونوں نے جلسہ سالانہ ایک انسان کا ذکر کیا تھا کہ کیسے خدا تعالی سعید روحوں کو جماعت کی طرف آئے خواب میں اللہ تعالی ان کی رہنمائی کرتا ہے یہ چیز جماعت ہے لاکھوں کی تعداد میں لوگ جو ہے اور جماعت احمدیہ میں شامل ہونے اب بتائیں کہ مسلمانوں کا کونسا ایسا فرقہ کی تعداد میں پڑھ رہا ہے دو سو سے زائد ممالک میں پھیل اگر آپ نے آنکھیں بند رکھنی ہے تو بند رکھیں لیکن سورج کی روشنی تو ہر طرف سے ویسے آپ کی آنکھ بند کرنے سے اندھیرا ہو جائے گا کی ذاتی خواہشات ہیں اور اور کچھ نہیں اس کے علاوہ پروگرام کے آغاز پر ہی پہنچ چکے ہیں دیکھنا اور کوئی کام اس ٹائم ہو تو دیکھتے ہیں اچھا گلے کیا باجماعت نماز کے لیے اذان دینا کم سے کم سننا ضروری ہے سنا یہ سننا لکھا ہے آپ نے اگر تو کسی مسجد میں نماز ہو رہی ہے تو اس میں تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ پہلے اذان دی جائے اگر مسلم کو گھر میں افراد نماز پڑھ رہے ہیں یا کوئی ایسی جگہ موجود ہیں جہاں باہر سے کسی کے آنے کی کوئی امید نہیں ہے تو ایسی صورتحال میں اذان دینے کی ضرورت کی نماز پڑھی جا سکتی ہے لیکن مساجد میں ضرور اذان دینی چاہیے اور اذان کے متعلق حضرت علی نے فرمایا ہے ان کو علم ہوتا کہ نظام اتنے میں اور اقامت کہنے میں کیا کیا اور ثواب کے کام ہے تو جو ہے وہ قراندازی کرتے کہ میں نے اذان دینی ہے میں نے کام تو کہنی ہے میں نے اس اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان جو ہے اس نیت سے دینی چاہیے کہ اللہ تعالی ہمیں اس قسم کے اجر کا جواب مستقبل اسی بات کی ہے کیا سنت ہے سنت دوبارہ ضروری ہے سننا ضروری آپ نے کہاں ہے تو آپ کی مراد یہ کے آڈیو بغیر اسے تو اس کی کوئی ظاہری طور پر اذان ہونی چاہیے اگر کسی وجہ سے نہیں ہوتی تو نماز اس کے بغیر بھی ہو جائے گی شاہد بھائی کہتے ہیں کہ ہم نے سوال کیا کہ تاریخ امجد 16 میں حضرت مصلح موعود نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان بننے کے خلاف تھے اس کی وجہ ابھی آپ کو جو حوالہ جات دیئے ہیں اس مرض میں مبتلا ہوا بڑے وثوق کے ساتھ یہ کہتے ہیں اور اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ تم نے لازم مسلم لیگ کو ووٹ دینا ہے قائداعظم کی مدد اور آپ کی ساری جو خاموشی تھی پاکستان بننے میں وہ اس کا عملی اظہار ہے کہ آپ سے پاکستان ان کے حق میں تھے یہ غلط بات ہے کہ آپ کو جو ہے وہ نہیں کرتے وہ کیا میں نوالہ ہے اور ہم نے نہیں اس لئے اس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا لیکن عمومی جو حضرت مصلح موعود کا کردار قیام پاکستان میں اس سے تو کوئی جو ہے وہ آنکھیں چرا سکتا تو تو اپنی جماعت کو تلقین کیا کرتے تھے کہ مسلم لیگ کو ووٹ دینا ہے قائداعظم کی ہم ان کی مدد کرنی ہے کوئی شخص ایسا کرتا ہے وہ کیسے ہیں چاہئیں بھائی جو ہے ان کے سارے عقیدے جو غلط ہیں کہتے ہیں کہ مرزا غلام میں صاحب مردوں کو زندہ نہیں کر سکتے تھے اس لئے کہ یہ تیار صرف اللہ نے اس کو دیا تھا یہ اختیار صرف اللہ کو ہے اس کے علاوہ کسی اور شخص نہیں اگر کسی کو اختیار ہوتا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہونے چاہیے تھے تو یہ شرک والا کہتا ہے احمدیہ کی مخالفت میں شرک پہنچ چکے ہیں لوبیا جن مردوں کو زندہ کرتے ہیں وہ روحانی مرد ہوتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم میں کے ای لوگو جب اللہ اور اس کا رسول تمہیں اپنی طرف بلائیں تو ان کو ان کی آواز پر لبیک کہا کر لیا یوں ہی کو تھا کہ وہ تمہیں زندہ کریں سجدہ کرنا روحانی طور پر زندہ کرنا ہوتا ہے نہ کہ جو ہے جسمانی طور پر قرآن کریم بڑا واضح ہے کہ وہ حرام نالاں کریں تنہائی ہو حرام کر دیا ہے کسی بستی پر یہ بستی کے رہنے والوں پر ایک دفعہ جب وہ مل جائیں تو پھر کبھی دنیا میں واپس نہیں ہے قرآن تو کہتا ھے کہ مرنے کے بعد کوئی شخص دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا شاہد الدین صاحب کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ کیا کرتے تھے یہ کون سے بھی استعمال کر لیا کریں کیوں شیر کے قریب جاتے ہیں نیو کو ختم کرنے کے لئے نہیں غلط عقائد کو دور کرنے کے لئے تو اسے یہ موقع نہ تھا بات کی شان دی ہے قرآن کریم کی جو ہے جو سمجھ نہیں آتا ہے اور کسی اور کو نہیں پتہ اس لئے جو کہ آپ کے سارے اکٹھے کرکے چل رہے ہیں اس لئے عید جو ہے وہ غلط ساری عمارت کی بنیاد جو ہے وہ گھڑی ہوگی تو آپ کے سارے عقیدے جو ہے وہ غلط طرف جا رہے ہیں جب سوالات سے ظاہر ہوا ہے کہ خدا کے لئے شیر کی طرح مجھے خدا کے علاوہ کسی اور کو زندگی یا موت کا اختیار دینا جو ہے بالکل ایک شیر کی آپ کو خرید لے جائے گا اس لئے اگر مردوں کو زندہ کرتے تھے حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ تو بہت بڑا مزہ ہو جاتا تھا پھر تو ان کا کسی کو انکار نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ چلو میں مردے کو زندہ کر کے دکھا دیتا ہوں تو تیری جان کے پرانے بزرگ کے پرانے ادبیات ان کو زندہ کر کے دکھا دیتے عیسی علیہ السلام کی گواہی دے رہے تھے یا ان کے جو اپنے قریبی عزیز تھے دوست تھے ان کے رشتہ دار تھے اس علاقے کے ان کو زندہ کر کے عزت دے آواز دے کے دیکھو یہ بندہ کہتا ہے کہ میں سچا نبی ہونے کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو مردہ کے زندہ ہونے کے بعد جو ہے وہ قبول کر لیا مجھے زندہ ہونے کی ہی نہیں تھی اس لیے میرے بھائی توبہ کریں چلیں ٹھیک ہے آج کا نوائے وقت ہوگیا ہے تو جزاکم اللہ تعالیٰ آپ سب کا بہت شکریہ جو آج کے پروگرام کے لئے ہمارے ساتھ شامل اللہ تعالی آپ سب کے ساتھ تو اور ہمارے جو غیر ملکی دوست احباب آتے ہیں ان سے ہماری گزارش ہے کہ کبھی جمعتہ میڈیا کی ویب سائٹ سے اسلام ڈاکٹر مطالعہ کرلیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا اس سے آپ کو روشنی عطا ہوگی آپ کو عرفان آتا ہوگا آپ کو راس آتا ہوگا جس سے آپ کو دین کی سمجھ آئے گی ورنہ عقائد آپ کے ذہن میں رہیں گے جیسے کی شاہد دین صاحب کہتے ہیں ان کی اسلام میں کوئی بے شک نہیں ہے اگر کوئی شخص زندہ کر سکتا تو نبی صلی وسلم تھے اس زمانے میں آزاد کشمیر کے ذریعے خدا تعالی نے دین کا احیاء کیا ہے جو کہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا جو ہے ان کے مطابق آئے ہیں تب کوئی روحانی زندگی چاہتا ہے اس کو مسیح موعود امام مہدی کو ماننا پڑے گا کہ اس کو مانے بغیر کوئی روحانی حیات جو ہے وہ کسی کو نہیں مل سکتی سوائے اس کے جو وقت کے نبی کو جو ہے وہ اللہ تمام امت مسلمہ کو توفیق عطا فرمائے پاکستان والوں کو بھیجوایا جشن آزادی منا رہے ہیں بلو کو بھیجو کا جشن آزادی منائیں گے اور تمام امت مسلمہ کو اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے اور ماموں تو مانے تاکہ ان کی فلاح اور بہبود کے اس دنیا میں بھی استعمال ہوا ہے اس کے ساتھ تھی آج کا پروگرام ختم کرتے ہیں میرے ساتھ درود پڑھنے میں شامل ہوجائیں اللہ ہم صلی علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علیٰ محمد آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید السلام علیکم ورحمۃ اللہ

 92 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: