اسلام اور احمدیت کے متعلق کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہیں




اسلام اور احمدیت کے متعلق کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہیں

Streamed live on Aug 11, 2021

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نام کے ایک اور پروگرام کے ساتھ پاکستان میں آپ کی خدمت میں حاضر ہے ہے جیسا کہ آپ کے علم میں ہیں یہ پروگرام ہم ہفتے میں چھ دن پیش کرتے ہیں تین دن اس پروگرام کو مولانا فرمان ربانی صاحب جو ہیں وہ اس کرتے ہیں تین دن خاکسار پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے اسلام اور احمدیت کے متعلق جو بنیادی قسم کے سوالات ہوں ان کے جوابات دیئے جائیں پروگرام آپ کی خدمت میں جماعت احمدیہ کے آفیشل ویب سائٹ ہے الاسلام ڈاٹ اس کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے اس لئے ہم آپ کو قطعا اس ویب سائٹ سے کوئی نہ کوئی اہم حصہ جو ہے وہ دکھاتے ہیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ کون سا مواد ہے تو کہاں پہ موجود ہے اور آپ اپنی سہولت کے مطابق وہاں جاکر اس مواد تک آپ کی رسائی کے لیے لکنس آج جو ہے اسی ویب سائٹ کے ایک بہت ہی اہم حصے کی طرف جو ہے آپ کی توجہ کروانی ہے ہے جیسا کہ ہمارے احمدی احباب و خواتین جانتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ کی ہے وہ کثرت سے سوال و جواب کیا کرتے تھے تو انہیں کے سوال و جواب کے متعلق جو ہے آپ کو بتانا ہے کہ کہاں سے آپ کو جو ہے وہ مواد مل سکتا ہے یہ جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹ ہے اسلام آباد اور یہ اس کا میچ بھیجیں انگلش کیسے والا یہاں اگر ہم لے جائیں گے رائٹ سائیڈ والا تو اگر یہاں کل کیا جائے ملٹی میڈیا تو یہ والا حصہ جو ہے آپ کے سامنے آجائے گا یہاں سےآپ قرآن کریم کا تلاوت اور ترجمہ بھی جو ہے وہ سن سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں اسی طرح جو انگریزی زبان میں حضرت نصیرآباد رحمتہ اللہ علیہ کے سوال و جواب تھے وہ آپ کو وہ اسلام جو ہے آج اسلام اگر آپ یہاں پے کلک کرے تو مختلف آنا آئین کے تحت جو ہے یہ سوال جواب کو ترتیب دیا گیا ہے اگر آپ نے جہاد کے متعلق کیا زندگی کی کیا کیفیت ہے انسان کی موت کے بعد جو ہے اس کے ساتھ کیا ہوگا فرشتوں کے متعلق دو مختلف عناوین کے تحت اجازت سے رابطے نے جو سوالوں کے جوابات دیے تھے اس کو یہاں اسلام میں ایک اچھے کیا گیا ہے اس طرح یہ دیکھے پارٹی اس کے بارے میں آپ نے جانا ہے نمازوں اور روزوں اور اور دوسری بات کے متعلق جاننا ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق لٹریچر اور لینگویج کے متعلق اگر آپ نے جو ہے وہ جاننا ہو تو تو یہ جو ہے آپ دیکھ سکتے ہیں یہاں پے ے اس کے علاوہ اگر آپ اس سے میں جائیں سوال و جواب کے تو آپ کا یہ دیکھیں گے اگر مصعب رحمتہ اللہ علیہ کے جو سوال و جواب تھے مختلف لوگوں کے ساتھ اس میں جرمن بھی تھے آج بھی تھے بنگلہ بھی تھے عربی لوگ بھی تھے ان کے ساتھ مختلف آپ کی مجالس ہوا کرتی تھی تو وہ مجالس عرفان کے نام سے جانی جاتی ہیں تو یہ اگر آپ دیکھیں آپ کی اسکرین میں یہ والا حصہ جو سامنے آجائے گا اسی سے اس کی خاطر جو ہے ایک سوال کا جواب جو ہے وہ آج آپ کو دکھا دیتے ہیں تاکہ آپ کو عبداللہ کی محفل کا ایک بھی رنگ پور انداز ہوا کرتا تھا آپ سوال و جواب کے علاوہ محفل کی جان ہوا کرتے تھے اور کوئی ایسی بات کر دیا کرتے تھے کہ ساری محفلیں ہوتی تھیں وہ خوش ہو جائے گی تو آپ کا انتظار بھی کمال کرتا دیکھتے ہیں آج ایک سوال کے جواب میں حضور نے کیا فرمایا کیا ہے جب کے کام آنے والی چیز ہے پہلے کرلے تواللہ تعالی آپ کو پھر سے گفتگو کی جائے گی آنکھیں بند کرکے کھڑا ہونا مناسب نہیں ہے اور رسول اللہ فرمایا ہے کہ نماز میں احسان کرنا چاہیے احسان کی تعریف یہ ہے کہ یوں محسوس کرو کہ تم خدا کے سامنے کھڑے ہو اور آپ دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہیں تو کم سے کم یہ تو دیکھو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے اس لیے یہ شرط رکہے کہ عقلی لکھی جائیں اور بند آنکھوں کے ساتھ بات نہ کی جائے تو اسے بند آنکھوں سے غصہ بھی پیدا ہوتی ہے ایک قسم کی گندگی یا غفلت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے انسانوں سے بات کرتا ہے ابھی باقی ہے دوسری بات یہ ہے کہ سجدے کی طرف نظر اس لیے کہ اگر کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آنکھیں بند نہ کی جائیں یہ بھی ہے کہ نظر اٹھا کر آنکھیں اقبال کے بات کی جائے اور اگر غالب ہو تو انسان کی نظریں جھک جاتی ہیں اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کا تعلق رکھو یہ کہ اگر نگاہ اٹھتی رہے تو یہ ہے کہ دور کا نظر کے سامنے آنے والے اپنی جدوجہد کرتے رہیں گے آگے سے گزرنے والے چھوڑ جاتے ہیں وہ اپنی توجہ کو مرکوز کرتے رہیں گے دوسری طرف نظر ہو تو کچھ عرض کروں مجھے بھی تو آپ کی توجہ دی جائے گی کبھی سجدے کی طرح آپ نے مانسہرہ ڈسٹرب نہیں ہوگی یہ امکانات ہیں یہی پیش نظر آؤں گا  ایک سوال دیکھا جو ہردہ نصیرآباد رحمۃ اللہ علیہ جو ہے جس کا جواب دے رہے تھے بہت ساری اور بھی سوال و جواب کی مجالس ہے یہ آپ کو مل جائیں گی اس طرح مختلف زبانوں میں بھی جو ہے اگر کا مطلب والے جو ہمارے عربی دوست ہے وہ یہاں کلک کریں گے تو بہت ساری اور بھیجو ہے آپ کو یہاں مل جائے گی بے شمار ہیں وہ یہاں سوال و جواب کی محفل آپ کو مل جائے تو اردو میں بھی ہیں جیسا کہ ذکر کیا عربی میں بھی ہیں فریج میں بھی ہے بنگلہ بھی ہیں تیس علی آپ کو یہاں سے مل جائے تو اس کے پیچھے ویب سائٹ پر آپ جائیں آل سعود اور وہاں جو مرضی ہے وہاں جائیں تو یہ ریزی میں اگر کسی نے اس سوالوں کے جوابات دیکھنے ہیں تو اسلام علیکم جائیں اور اردو اور دوسری زبان میں جانا ہے تو یہاں ریسٹوران سر میں درد ہے وہ آپ جا سکتے ہیں تو یہی ہے آج کے پروگرام کے پہلے حصے میں آپ کو تعارف کروانا تھا اب جو ہے آپ کے لائق سوالات کی طرف آتے ہیں جو بھی آپ کے اسلام اور اہمیت کے متعلق ہوں تو بہت سارے لوگوں نے السلام علیکم کہا ہے کہ تمام امور میں سے بعض کے نام پر دیتا ہوں مدثر بٹ صاحب جاوید طارق صاحب حضرت محمد صلی وسلم ندیم احمد صاحبہ صادقہ محمود صاحبہ سب آج صاحب حرف یا پھر صرف جلالی صاحب نگہت عالمگیر صاحب اس طرح کے بہت سارے لوگوں سے السلام علیکم کہاں ہے تو میں آپ کو وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ سب کا بہت بہت شکریہ کہ آج کے پروگرام کے لائیو سے میں آپ کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ہیں یا پہلا سوال لے لیتے ہیں نہیں کہتے ہیں کہ جس فون رنگ ریز میننگ آف quranohadees.com والا یہ ہے آپ کا میں دیکھتا ہوں کیا کہیں آپ کے بعد میںکرتے ہیں تو وہ ایک لحاظ سے رسول بن جاتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کے انبیاء اسی پیغام کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو وہ انسانوں میں سے رسول بن جاتے ہیں یہی اس آیت کا مطلب ہے ہے ہے ہے ہے اچھا بیوٹیفل لائف کہتے ہیں دعا کی درخواست ہے اللہ تعالی ہم سب پر فضل کرے یہ اللہ تعالی ہم سب پر فضل کرے اور جو بھی کسی کی مشکلات اور پریشانیاں ہیں ان کو دور کرے تے کرے گا اگلا سوال یہ ہے کہ کہ اسلام علیکم رضا بھائی والا اس دا کم وی اپلوڈ خبر song of پاکیزہ سونگ 2019 یو ٹیوب چینل پر جماعت اسلامی کے ساتھ بات یہ ہے کہ ہمارے لئے جماعت احمدیہ میں ایک نمونہ ہے تو جماعت احمدیہ کی بھی آفیشل ویب سائٹ جو ہوتی ہیں یہاں جس میں جماعت احمدیہ کا مواد ہوتا ہے وہاں کسی قسم کے ایسے گانے جو ہے وہ نہیں لگائے جاتے تو اس لحاظ سے اچھی باتیں جو تلاوت ہے وہ لگائی جاسکتی ہے نظم جو ہے وہ لگائی جاسکتی ہے لیکن چونکہ اس طرح کی جماعت احمدیہ کے پلیٹ فارم پہ جو ہے وہ کسی قسم کی اجازت نہیں ہے تو اس سے جو ذاتی طور پر کرتا ہے یہ اس کا ذاتی فعل ہے لیکن جماعت میں اس چیز کو انکار نہیں کیا جاتا تااچھا اگلی کام لیتے ہیں عمران خان صاحب کہتے ہیں کہ مغربی عدنان صاحب سر ان فارمیٹ پروگرام ایبل الا بالجماعۃ ایلیسن مچل پروگرام ماشاءاللہ جزاکم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں آپ کا بہت شکریہ آپ لوگوں سے درخواست ہے جن کو بھی یہ پروگرام ہے وہ پسند آتا ہے تو ایک تو اگر آپ لوگوں نے ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا تو اس کو سبسکرائب کر لے اور پھر ایک کام کرو ذرا چیک کر لیں تو نوٹیفیکیشن آ جایا کریں کہ جب کبھی یہ پروگرام ہم پیش کرتے ہیں کہ بارگاہ تھوڑا سا آگے پیچھے ہو جاتا ہے وقت جواب نہیں دیا ہو تو اگر آپ نے وہ نوٹیفیکیشن آن کیا ہوا ہے تو اور آپ کو پتہ چل جائے گا کہ پروگرام آیا ہے اور دوسری آپ سے درخواست کی ہے کہ اس پروگرام کو دوسرے لوگوں تک بھی پھیلائیں آپ کے دوست احباب ہے جماعت احمدیہ کے افراد تک پہنچائیں اسی طرح جو غیر احمدی احباب ہیں جن کو جماعت کے متعلق جو ہے کوئی جاننے کی خواہش حالت کبھی آپ جو ہے یہ پروگرام آپ کو ایک چائے تک  کے ان کا بھی فائدہ ہو تو لیگ کا بھی ایک ذریعہ بنے مے ye dil jo ایسا بنے بھی دعا کی درخواست کی اللہ تعالی فضل فرمائے ان کی مشکلات بھی ہیں وہ دور کرے مجھے گلاس والی ہے اگر شوہر کا اندیشہ ہو اس وجہ سے آپ کسی کی دعوت پر نہ جائیں تو کیا اس پر گناہ نہیں ہوگا نہیں اگر شرک کا اندیشہ ہے اس وجہ سے آپ کسی جگہ پر کسی محفل میں کسی مجلس میں کسی علاقے میں نہیں جاتے تو ایسی صورتحال میں گناہ نہیں ہوگا گا گا چاہے وہ بھی کسی کام نہیں آتا لیکن داری جو ہے وہ انسان کی ساری زندگی جو ہے وہ کام آتی ہے آئندہ نسلوں تک جاگ کو منتقل ہوجاتی ہے اس کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وقتاً فوقتاً جو ہے وہ ارشاد فرماتے رہتے ہیں اور خاص طور پر آپ کی جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کی مناسبت سے تقریر اور بیان سے خطاب ہوتا ہے اس میں حضور انور 12 ان باتوں کی طرف جائے وہ توجہ دلائی چکے ہیں تو خراب مجدد صاحب جائیں وہاں جانور کے مستورات سے کتابات کی طرف آئیں تو وہ ابھی آپ کو جوہے کافی مواد مل جائیگا اور کامیاب عائلی زندگی اگر آپ کے ماتحت عملے کی فحش ویب سائٹس پر ٹائپ کریں تو پھر وہاں سے بھی آپ کو کافی مواد مل جائے گا گا گا جاوید طارق صاحب پوچھتے ہیں اور 59 سالہ پیپر اسٹارٹ سی ڈی سیونٹی ون کلاس کی ڈیٹ شیٹ کہتے ہیں کہ بعض لوگ جو ہیں جب ان کی موت کا وقت قریب ہو تو ان کے جو وفات یافتہ رشتہ دار عزیز ہوتے ان کو خواب میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کیا یہ درست ہے بعض لوگوں کو ایسی خواب میں آ جاتی ہیں جس میں ان کو ایک قسم کا پیغام ہوتا ہے ان کے جو عزیز فوت ہوچکے ہوتے ہیں ان کی طرف سے کوئی شعر ہوتا ہے کہ آپ ہماری طرف آ جاؤ گے آپ کو ساتھ لے کے جاتے ہیں ان کو یا ان کی کسی اور چیز کو جاب نقاب آ جاتی ہے جس سے مجھے تعبیر کی جاتی ہے کہ ان کا آخری وقت ہے وہاں گیا ہے لیکن ایک شخص کے مطالعے کے بعد درست نہیں ہے بعض کو ایسی خواب آ جاتی ہے اور ضروری نہیں کہ اگر خواب میں جو ہے کسی فوت شدہ شخص کو دیکھا ہے ملازم اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آچکا ہے بعض کتابوں میں اشارہ ملتا ہے وہ درست ہے اس کی کتاب بیل یہی ہوگی کہ آخری وقت آگیا ہے لیکن ہر شخص نہیں ایسی خواب دیکھتا ہے اور نہ ہی ہر شخص کا فوج شدہ شخص کو دیکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ جو ہے اس کا آپ ہی بتا چکا ہے ہےکونسی ایسی آسان دعا ہے جو عرش کو ہلا دے خود اس کی قبولیت فرمادے بعد یہ ہے کہ ہم تو عاجز اور خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کے نوکر ہیں ہم کبھی یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ یہ ہم نے دعا کی ہے اور ضرور خدا تعالی جو ہے وہ قبول کرے گا اس کے بعد میں ایک پنجابی شاعر بھی آتا ہے کہ مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نا لاوے اس لئے انسان کا کام تو یہ ہے کہ دعا کرے کرے اور جب صدق دل سے کوئی دعا قبول کی جاتی ہے وہ دعا جو قبول ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے آج تک پہنچتی ہے دعا کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی بھی دعا جو ہے وہ رد نہیں کی جاتی کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی صورت میں وہ دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے آپ نے فرمایا نمبر ایک تو یہ ہے کہ جیسے انسان نے کوئی چیز مانگی ہو ایسے اللہ تعالی اس کو وہ چیز جو ہے وہ عطا کر دے دو سر آپ نے فرمایا کہ اگر ویسے ہی دعا قبول نہ ہو تو اس کے بدلے میں اللہ تعالی کوئی اور دعا جو ہے ایسے شخص کی دعا قبول کر دیتا ہے اگر یہ بھی نہ ہو تو نمبر3 یہ ہوتا ہے کہ اس کے بدلے میں خدا تعالیٰ اس کی کسی تکلیف کو جو ہے اسے دور کر دیتا ہے زندگی میں اگر یہ بھی نہ ہو تو چوتھی بات آپ نے یہ بیان فرمائی کہ آخرت میں وہ دعا جو ہے اس کے لیے خصوصی دعا کر دی جاتی ہے جمع کرا دی جاتی اور اس کو فائدہ جو ہے وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کرے گا تو اس لحاظ سے دعائیں جو ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہیں لیکن اس کی میں نے مختلف شکلیں جو ہے وہ آپ کو بیان کرتی ہیں اس لحاظ سے اللہ تعالی سے پہلے تو ایک ذاتی تعلق ہونا چاہیے یا نہیں چاہیے کہ جب ضرورت پڑے جب کوئی مشکل و پریشانی میں انسان گر ہو اس وقت دعا کرے کہ آپ میری دعا ہے جانی چاہیے ایسا نہیں ہوتا اس کے متعلق حضرت وسلم نے ایک جگہ یہ بھی بیان فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس عیش میں اور جو شخص یہ چاہتا ہے کہ تم گیو می اور مشکلات میں اس کی دعائیں اللہ تعالی قبول کرے تو اس کو چاہیے کہ آسائش اور اچھے دنوں میں بھی خدا تعالیٰ کو یاد کر رہے ہیں کیونکہ ہم نے یہ دیکھا جاتا ہے کہ خدا کو اس وقت لوگ زیادہ یاد کرتے ہیں جب کسی مشکل میں پریشانی میں ہوں بیمار ہوں کوئی اور ابتلاء ہوں لیکن جب اچھے حالات ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں یہی بات ہے کہ ہر وقت خدا کو یاد رکھنا چاہیے اس کے متعلق بڑا دلچسپ واقعہ بھی آتا ہے ایک شخص تھا وہ دریا میں ڈوب رہا تھا تو اس نے یہ دعا کی کیا خدا اگر تو مجھے یہاں سے خیریت سے نکال دے گا کنارے تک پہنچا دے گا تو میں تیری راہ میں چاول دوں گا دے دوں گا ایک لہر آئی اور اس شخص کو جو ہے بالکل کنارے پر لے آئیں جب اس نے یہ محسوس کیا کہ اب وہ خطرے سے باہر ہے اس نے کہا کہ کڑی دے کہ کونسی دیکھو تو اسی وقت آتا ہے کہ ایک اور لائیو دوبارہ اس کو دریا کے درمیان ملے گی دوبارہ کرنے لگا کیا خدا میرا یہ مطلب تھا کہ جدید یعنی کہ نمکین چاول یا مر جاون والے تو انسانی فطرت یہی ہے کہ جب مشکلات میں ہوتا ہے تو دعائیں کرتا ہے اور جو ہیں اسی آسائش کی طرف جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے ہیں ان کو بھول جاتا ہے تو ہر وقت میں ہر حال میں خدا کو یاد رکھنا چاہیے تو ایسی دوائی جب کی جائے تو پھر وہ جو ہے اور اس تک پہنچ جاتی اچھا تم سے رابطہ کرنا شروع میں لکھا ہے نکل کے متعلق فرماتے ہیں بے شک نصیر اب رحمتہ اللہ علیہ بہت پیاری شخص سے کاش میں ان کے دور میں ہوتی ان کے انہیں لیٹر لکھ سکتی جی بالکل ہمارے سیارے کی خواہش ہے کہ تم سے رابطہ کے دور میں ہوتے ہیں یہ سارے خلاف اکٹھے کیے ہیں ایک طریقہ ہے لیکن آپ خوش قسمت ہیں کہ ہمیں خلافت موجود ہے کتاب کا دورہ کوئی مسیحا بستا دور ہو اور اللہ کی تعداد تو ہر وقت جماعت احمدیہ کے ساتھ ہی تباہ کن سیلاب کو نہیں مل سکی ان کو خط لکھنے کا موقع نہیں ملا وہ مسئلہ اس کو جو ان سے ملاقات کرکے ان کو قاتل کیونکہ خدا جو ہے اس کی تائید خلیفہ کے ساتھ ہر گام پہ ہوتی ہے تو وہی نور ہے جو حضرت سید عبد اللہ تعالی کی جلد اسی کی جھلک جو ہے وہ کون سی خاص میں ہوتی تو مالی تعاون نہیں چاہیے اور یہ کوشش یہ ہونی چاہیے کیا خلافت کے ساتھ تھے ہم محبت میں اور پیار اور وفاداری کا سلوک رکھیں تاکہ اس کے نتیجے میں ہم بھی خلافت کے نام اختیار حاصل کرسکیں کے کےکہ تم کو شیشہ اسموکنگ کے متعلق حضور نے جو بیان فرمایا تھا وہ اگر آپ کا جائیں السلام پہ تو وہاں اس طرح کے الفاظ اگر آپ ٹائپ کریں تو آپ کو معلومات مل جائیں گی اس وقت مجھے مسجدوں کی خبر نہیں ہے کہ کون سے خطبے میں صرف باجوہ صاحب یہ طور پر حضور نے وہ شیشہ کے جو غلط تاثرات تھے جو اسٹیشن وغیرہ پیتے ہیں جو ایک قسم کا نشہ ہے تو اس کے متعلق کیا ہے اس کا مجھے موجود نہیں ہے کس صوبے میں تھک گیا ہوں وہاں جاکے ٹائپ کریں تو یہ میری جان آپ کو مل جائے گی جی عبدالشکور صاحب کہتے ہیں کہ جس آدم علیہ السلام کے متعلق جو ہے وہ پروگرام کریں چاہے وہ پلین ہے بس آج کل کوئی مصروفیت بھی میں ٹرائی کر رہا ہوں اس لئے وہ نیو جمیل صاحب تو وہ نہیں ہے تو انشاء اللہ جب میں کالج سے واپس آجائیں گے تو یا میں اپنی مولانا حنیف ربانی صاحب ہیں اس پر ضرور پروگرام کریں گے تو تھوڑا سا انتظار کرتی سوال یہ ہے کہ محرم کے بارے میں اسلامی تعلیم کیا ہے اسلامی تعلیم جو ہے وہ جیسے ہم جانتے محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور یہ اس لحاظ سے ایک قسم کا مسلمانوں میں یاد رکھا جاتا ہے کہ اس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تھی تو اس لحاظ سے جو ہے وہ بڑا ہی کی قسم کے واقعات کی یاد دلاتے ہیں اور ان دونوں میں حضرت علی اور آپ کی آل پر کثرت سے درود بھیجنا چاہیے اور ان کے حالات زندگی جو ہے ان کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اپنی زندگیوں میں وہ رہے اپنی تبدیلیاں لے کے آئیں جن کی خاطر حضرت امام حسین اور اہل بیت اور آپ کے ساتھ جو لوگ تھے انہوں نے قربانیاں دی ہیں اس لحاظ سے یہ جلسے جلوس نکالنا اٹلی کرنا اپنے آپ کو زخمی کرنا تو یہ درست نہیں ہے لیکن اگر اپنے اندر انسان پاک تبدیلی لے کے آئے تو اصل یہی ہے جو کہ اسلام کی تعلیم ہے  یہ ہے کہ ایلین کی کیا حقیقت ہے کہ واقعے کے لیے ہوتے ہیں قرآن کریم کی ایک آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے کہ اس کی جو مخلوق ہے زمین کے علاوہ اور دوسری جگہوں پر بھی موجود ہے اور جب خدا تعالیٰ چاہے گا ان دونوں کو آپس میں ملا دے گا تو اس آیت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس دنیا کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بھی زندگی موجود ہے اور جس رابطے کا اللہ تعالی بیان فرماتا ہے اس کی کیا کیفیت ہوگی کہ وہ فیزیکل ذاتی رابطہ ہوگا یا مواصلاتی رابطہ ہوگا اس کے متعلق تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بہرحال اس آیت میں ذکر آتا ہے کہ کسی وقت یہ دونوں مخلوق جو ہیں یہ آپس میں جو ہے وہ مل جائے گی کب ملے گی یہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہےاچھا عرف جیلانی صاحبہ کا سوال ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا ذکر ہے کیا یہ سب اسی آٹھ ہزار سالوں میں میں آئے ہیں یعنی حضرت عیسیٰ تک نہیں پہلے تقریبا پانچ ہزار سال جی جب آنحضرت نے فرمایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ہیں تو وہ حضرت آدم سے لے کر جو ہے وہ ایک سلسلہ ہے جو ہے ان کا ذکر ہے تو وہ طاقت جو آدمی کو آلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ وہ سات ہزار سال کا دور فرمایا ہے نہ کہ آٹھ ہزار کا تو اب تک جو ہے وہ اپنے بن گئے تقریباً پانچ ہزار سال اور ساڑھے چار ہزار تو اس لحاظ سے آزاد مسیح موعود علیہ السلام کے آپ کے چودہ سو سال بعد آئے تو یہ پھر اس لحاظ سے آپ کی ہزار سالہ چل رہا ہے تو اسی دور کے حضرت آدم سے لے کر جاتے ہیں راہزن جب ذکر کر رہے ہیں تو اسی دور کے بیان کریں کرے اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی وقت میں آپ جیسے آج کل کے حالات ہی دور ہے ایک شخص بیٹھا دنیا کے کسی کونے میں ساری دنیا تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے لیکن پرانے وقتوں میں تو ایسی کوئی کیفیت نہیں ہوتی ایسی کوئی طریقہ یا زہرا یا نہیں تھے تو ایک علاقے کا دوسرے کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا اس لحاظ سے ایک ہی وقت میں بے شمار انبیاء ائے اس لحاظ سے کہ ایک قوم کو اللہ تعالی نے اپنی ہدایت عطا کیا تھا کیا آپ کو پہچان سکے اور اپنی زندگی ہے جو ہے وہ اچھے طریقے سے گزار سکے لیکن افریقہ میں بعض انبیاء ہوئے اس نے یورپ میں بعض انبیاء ہوئی امریکہ میں آسٹریلیا میں ہوں میں ایک ہی وقت میں کیا مراد ہے اس لحاظ سے آئے تھے کہ ان کا قیام بھی محدود تھا صرف نے اپنی قوم اپنے علاقے کے لئے تھا اس لئے بے شمار ہے لیکن آنحضرت صلی وسلم کو آخری نبی ہیں جن کا پیغام ہے جو ساری دنیا کے لیے اس لیے وہ عالمگیر پیغام کام بن گیا یا وہ کہتی ہیں کہ حضرت یعقوب اور یوسف سے چالیس سال دور ہے اس میں کیا حکمت ہے بات یہ ہے کہ جتنے سال بھی دور ہے خاص چالیس احادیث دیکھا 45 سے جو واقعہ سورہ یوسف میں پڑھتے ہیں اس میں ذکر آتا ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھی کے سورج چاند اور ستارے ان کو سجدہ کریں تو اسی وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس کی تائید کی کہ آنے والے وقت میں جو ہے ان کے بھائیوں سے نہ پہنچے گا تو اور یہ بھی آپ کے آنے والے عظیم مقام و مرتبہ کی طرف اشارہ تھا تو آپ نے انہیں کہا کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس کا ذکر نہ کرنا کیونکہ ان کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ سر کا بت کی وجہ سے یہ نہ سمجھیں کہ ان کو ہم سے بہتر جو ہے وہ مرتبہ دیا جارہا ہے تو پھر جب ان کے بھائیوں نے ان کو کنویں میں پھینک دیا اور سارا واقعہ جو ذکر آتا ہے پھر وہاں سے قافلہ والے آپ کو لے گئے پھر چلے گئے تو ایک لمبا عرصہ جو ہے وہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے بیٹے سے دور رکھا ہے ایک مجھے کیا ہے ایک تو صبر کی تعلیم جو ہے وہ انبیاء کے ذریعے ان کی قوم کو اور آئندہ آنے والے لوگوں کو ملتی ہے کہ صبر کرنا چاہیے اور اس کے جو باقی بچے تھے ان کی اندرونی حالت بھی جاؤ ظاہر ہو گئی اور پھر ان کو اصلاح کا موقع ملا جب کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس جو ہے وہ آئیں تو پھر خدا تعالیٰ یہ بھی چاہتا تھا کہ یوسف علیہ السلام کے ذریعہ سے جو کہ بہت زیادہ لوگ ہیں ان کو بچائے تو جو بادشاہ نے خواب دیکھی کہ جس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام لیے کی کہ آئندہ بہت زیادہ درد ہوگا اور اگر بادشاہ آپ کی اس تعبیر پر عمل نہ کرتا آپ کے بتائے ہوئے باتوں پر تو بہت سارے لوگ جب مصر اس کے ارد گرد کے جان سے چلے جاتے ہیں نظر آتی ہے میں اس بات کا بھی ذکر کر دیا ایگزیکٹ کے آئے تو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے لیکن صبر اور تحمل اور برداشت و حریت کانفرنس کے ذریعے ایک نبی بھی اور کبھی بھی آپ مایوس نہیں ہوئے بچے کہتے تھے کہ جو فوت ہو چکا ہے کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ابھی تک اس کا ذکر کرتے ہیں تو آپ کو اللہ تعالی کی ذات پر پختہ یقین تھا کہ جو ہے وہ میری دعا ضرور قبول کرے گا اور دل اس بات پر قائم تھا یوسف جو ہے وہ زندہ ہے اس میں بھی ایک اشارہ ہے ہمارے لئے کہ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میری دعا جو ہے وہ فورا قبول کیوں نہیں ہوئی کی سے پہلے دعا کریں سوال تھا تو خدا کے نبی کی دعا جو ہے وہ تیس سے چالیس سال لگ جاتے اس کو پورا ہوتے ہوئے تو ہم لوگ کیا ہیں ہماری کیا حیثیت ہے اس لیے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میں دعا کے متعلق بھی سکھایا جائے کہ دو اور لگاتار کرتے رہنا چاہیے اور خدا کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیےاچھا ہمت افزائی بھی سوال ہے کہ میرے بچے مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ حضور تو سارا دن جماعت کے لیے کام کرتے ہیں تو ان کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں وہ دنیا بھی کام تو نہیں کرتے یہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں جو لوگ بھی اپنی زندگی خدا کے دین کے لیے وقف کرتے ہیں کہ ان کے اخراجات کی ذمہ داری جو ہے وہ جو اترتی ہے تو خلافت سے قبل بھی حاضر جو ہے وہ اپنی زندگی وقف کر چکے تھے اور افریقہ میں پاکستان میں جو ہے آپ نے جو خدمت کی مختلف اداروں میں رہ کر مختلف تھا اپوزیشن میں رہ کر توجہ مرکوز کر کیا ہر وقت زندگی کا جو حضور ان کی دیکھ بھال جماعت ان کی دیکھ بھال کرتی ہے تو بھی واقف زندگی اس لحاظ سے ان کے اخراجات کا دیکھنا جو جماعت کا مستقل اور حضور کی اپنی زمینیں بھی ہیں جو ہے جائیداد پاکستان میں گیارہ مئی تو ان سے بھی آپ کے جو ہے وہ نہ کام آتی ہیں اس لحاظ سے یہ دونوں باتیں ذہن میں رکھنی چاہیے کیا یہ بھی بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو پہلے خلیفہ ہوتے تھے ان کا گزارا کیسے ہوتا ہے وہ بھی تو سارے کام جو حسن کی دلیل کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر جب خلیفہ بنے تو ان کا گزارہ کیسے ہوتا تھا حضرت عمر جب خلیفہ بن گئے ان کا گزارا کیسے ہوتا زبان وچ تعلیم اور شخصیت ہے حضرت علی جب خلیفہ بنے اور کے گزارا کیسے ہوتا تھا یہ جو خلیفہ ہوتا ہے اس کا ذمہ دار ہیں جو ہے وہ اس بات کی ہوتی ہے یا اردو جماعت 11 منٹ کی ہوتی ہے اس کے لئے دیکھ بھال کرنا تو جیسے پہلے خرافات کے گزارا ہوتا تھا ایسے ہیں جو جماعت احمدیہ کے جو ہلکا ہلکا پیلا پن یعنی اولاد بھی ہے اولاد بھی کم آتی ہے تو اس کے ذریعہ سے جو بھی ایک اگر آپ کے جواب دے رہا ہوں آپ سے پوچھ سکتی ہیں لیکن یہ تین باتیں جو ہے وہ میں نے آپ کے سامنے کھڑا کر دیا ہے باقی زندگی والی زندگی اپنی زمین جائیداد کی اور ان کے بچے رے اچھا اسٹاک مارکیٹ کے متعلق کچھ کہنا ہے کہ آپ واٹس اپ نمبر اٹھتی ہے اس پروگرام کا بھی واٹس ایپ نمبر ہمارا نہیں ہے تو بہتر آپ کا جو ہے وہ کرنے کا ایک پروگرام کے لئے آپ آکر سوال پوچھ سکتے ہیں دوسرے آپ ہمیں ای میل بھی بھیج سکتے ہیں جہاں تک بات اسٹاک ایکسچینج کی تو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ ایسی چیزیں جو حلال ہیں اسی کمپنی جو حلال چیزیں ہوتی ہیں جن کو ایسے عوامل ہیں تو اس میں استاد ایکسچینج کا جو ہے وہ کاروبار کیا جا سکتا ہے لیکن ایسی کمپنیاں میں شراب بھی دیتی ہیں ایسی جان کی پیداوار ہوتی ہے جس کی اسلام میں اجازت نہیں اس کے ساتھ بھیجا ہے وہ نہیں لیے جاسکتے اچھا کیا ظفر صاحب پوچھتے کیا حضرت ابراہیم کی ہائٹ لمبی تھی ابراہیم کی قبر کافی لمبی زبان سے میں بتا دیں  اگلا سوال یہ ہے کہ کیا جو فوت ہو جاتے ہیں انہیں ہماری زندگی کا علم ہوتا ہے روز مرہ زندگی کے واقعات ہیں ان کا علم تو نہیں ہوتا لیکن خدا تعالیٰ کی ذات جو ہے وہ اگر چاہے تو کسی کو اس بارے میں جو ہے وہ خبر دے سکتی ہے تو اس کے منہ سے وصل یار لوگوں نے بھی لکھا ہے کہ ان کی زندگی میں ایک بار ذاتی مشکلات چل رہی ہیں ان کے لیے دعا کیجئے تو اللہ تعالی ایسے شخص کو جو کسی قسم کی مشکل دور سے گزر رہے ہیں ان کی تکلیف اور پریشانی دور کرے تےاچھا نظامی صاحب پوچھتے ہیں کہ ہمیں دعا کس طرح کرنی چاہیے دعا کرنے کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثنا کی جائے اس لحاظ سے بہترین طریقہ اس کا جو ہے سورہ الفاتحہ میں بیان کر دیا گیا ہے پہلے آپ سورۃ الفاتحہ پڑھ لیں پھر بھی خدا تعالیٰ کی حمد کی اگر آپ کو دعاؤں میں یاد ہے تو وہ پڑھے اور پھر اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے اس کے بعد جو ہے اسلام اور مدد کی ترقی کے لیے خلیفہ وقت کے لیے دعا کیجئے کیونکہ یہ وہ دعائیں جو اللہ تعالی نے باہر قبول کرنے ہی کرنی ہے پھر اس کے بعد یہ ہے جتنا انسان اپنی دعاؤں کو وسیع کرے گا اتنا ہی اس کی قبولیت کے زیادہ چانسز ہیں بس دنیا کے بیمار ہیں ان کے لیے دعا کریں جو مشکلات میں گرفتار ہیں ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے جو ظالم ہیں ان کی روزگار کے لیے دعا کریں تو جتنی زیادہ پھیلائیں گے اپنی دعا کو اتنا زیادہ مجھے دعا کے زیادہ چانسز ہیں پھر اس کے بعد آخر پر آپ اپنے لیے بھی دعا دعا مانگی کہ اب میری حاجات بھیجا ہے آپ نے باقی بندوں کی طرح قبول کرے اچھا کہتے ہیں کہ در نماز ٹائم سی نیوز ریڈیو اور اسٹیج دسمبر سن دو ہزار تین تک کہ نماز کا ہر دن وقت اور تبدیل ہوتا ہے کچھ نہیں رہتا ہے اس کا جنازہ پڑھا جاتا ہے لیکن آپ کو پتہ ہے وہ چینج کریں تو عموما مساجد میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک وقت مقرر کر دیا جاتا ہے اس سہولت کے پیش نظر کے سب لوگوں کو پتہ ہوگا اس وقت جو ہے وہ نماز ادا کرنی ہے اگر ہر روز ایک منٹ دومنٹ کی کمی یا زیادتی کر دی جائے تو لوگوں کو مشکل ہو جائے گی مساجد میں آنے سے اس لحاظ سے کہ پتہ نہیں ہوگا کہ آج جو ہے وہ کس وقت نماز ادا ہوگی اس لئے ایک معین کچھ ہفتوں کے لیے یا مہینے کے لئے مقرر کر دیا جاتا ہے وقت سب کو علم ہو کہ اس کے گھر میں بھی آپ کی طرح استعمال کرسکتے ہیں تو ہر روز ایک منٹ یا دو منٹ کے اضافہ یا کمی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہے ہے ہے اچھا اگلا سوال یہ ہے کہ پھر بھی اینیملز online converter apk پوچھتے ہیں کہ کیا جنت میں جانور بھی ہوں گے اور دوسرا سوال ان کا یہ ہے کہ انعامات کا ذکر کیا جاتا ہے آخرت میں تو دنیا بھی چیزوں کا ہی کیوں ذکر کیا جاتا ہے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت میں جانور ہوں گے اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ کہیں بھی ہمیں ذکر نہیں ملتا نہیں قرآن کریم میں نہ ہی احادیث میں جہاں وہ جانبر بھی ہوگئے وہ چونکہ ایک روحانی مقام ہوگا اور انسانی روح جو ہے اس کو اللہ تعالی نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ یا انسانی جسم کو یہ صلاحیت دی ہے کہ اس کو دماغ دیا ہے کہ وہ غلط اور صحیح میں فرق کر سکتا ہے اس پر جو ہے شریعت کے احکامات لاگو ہو سکتے ہیں جانوروں میں اس طرح کا وہ شعر نہیں ہوتا چونکہ ان کا وہ شعور ہی نہیں ہے کہ وہ ایسی باتوں پر عمل کر سکے اس لئے ان کی جزا اور سزا کا جہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ان کی وہ کے لئے نہیں ہے کہ ان کو جنت میں لے کے جائے دوزخ میں اس لیے ان کا مجاہد ہے جو ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ جنت میں ساتھ کوئی نہیں غلط لگ جائے تو کر سکتا ہے لیکن کہیں ذکر نہیں ملتا ہے کہ دنیاوی چیزوں کا کیوں ذکر ہے بات یہ ہے کہ انسان ہمیں سمجھانے کے لیے ذکر ہے کیونکہ اگر بعض روحانی انعامات کا ذکر کر دیا جاتا ہے جس کی ہماری عقل اور ہمارا ہم سمجھ نہیں سکتا ہے جن کو تو پھر پتہ نہیں چلتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت نے فرمایا کہ آخری زمانے میں ایک گدھا ہوگا وہ آنکھ آئے گا اس کے اندر جو ہے وہ بلائیں تو کیا لگی ہوئی ہے ایک جگہ سے وہ چلے گا دوسری جگہ پہنچ جائے گا اگر اس وقت آپ کہتے تھے کہ جہاز ہوگا اور میں ہوائی جہاز کی بات کر رہا ہوں اور وہ ایئرپورٹ بنیں گے یہ ہوگا وہ ہوگا تو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا گدھا کہہ کے یہ بتا دیا کے کوئی غیر عقل شخصیت اس میں عقل نہیں ہے یہ ایک مشینری کی قسم ہو کہتا کہ ہمیں کچھ نہ کچھ سمجھا جائے کہ کیا ہوگا آخرت میں کیوں کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ تمہیں آخرت میں وہ تمام چیزیں ملیں گی جو تمہیں اچھی لگتی ہے جس کا تمہارے نفس جو ہیں وہ خواہش کریں گے تو اسی کے پیش نظر بعض باتوں کا ذکر کر دیا آپ اہل ہوں گے نعمان ہوں گے باغات ہوں گے نہ رہوں گی یہ ہوگا کہ ہمارے سمجھنے کے لئے کہ وہ ساری چیزیں جن سے انسان کی خواہش کر سکتا ہے اس کو آخرت میں ملیں گے اگر صرف روحانی باتیں ایسی باتوں کا ذکر ہوتا ہے جس کی ہمیشہ ہی نہیں ہے تو پتہ نہیں چلتا پھر جنت میں کیا ہوگا صاحب کبھی یہ سوال ہے کہ کیا اینیملز اور برکت کی روح آسمان پر جاتی ہے ہمیں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ جانوروں پرندوں آسمان پر جاتی ہے ہے اگلا سوال یہ ہے کہ حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے حدیث تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ہیں ہیں مثلا آپ نے فرمایا کے قاتلوں کو من تعلم القرآن وعلمہ ہو تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے اور سنت وہ ہے جو آپ نے خود کسی چیز کا پر عمل کرکے دکھایا مسلم قرآن کریم یہ تو ذکر آتا ہے کہ آپ نے نماز پڑھنی ہے لیکن کب نماز پڑھنی ہیں کتنی اس کی حرکت ان کی اس کی کیا پوزیشن ہے رکوع سجدہ وغیرہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے ہمیں دکھایا تو حدیث آپ کے اقوال ہیں اور سنت جو ہے وہ آپ کا پھول ہیں ہے ہےشفیق صاحب پوچھتے ہیں کہ آج جماعت سے بورڈ انویسٹمنٹ کمپنی اس قسم کی کمپنی کی عمومی طور پر یہ رکھی کہ جوئے اور سود کا کاروبار ہو وہاں جو ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اس میں شمولیت اختیار کی جس کے علاوہ باقی جو کرو بات ہی اپنی اس میں کی جا سکتی ہے ہے گوگل ہاؤ آر یو پلیز ایکسپلین ختم نبوت موت واٹ از مینٹ بائے حدیث یہ تو تقریبا ہمیشہ سے ہی ختم نبوت ہمارے نزدیک اس کا یہ کام ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں وہ بہترین نبی ہیں آپ سے پہلے آپ جیسے مقام اور مرتبے والا کوئی اتنا ہی آپ کے بعد بھی ایسا آئے گا اور آپ پر جو کمالات نبوت جو ہے وہ ختم ہوگئے اب کوئی نیا شخص نہیں آ سکتا مگر وہی جو آپ کی شریعت کے تابع ہو آپ کی امت میں سے ہوں اور آپ کی مہربانی سے اور آخری شریعت ہے کسی نے شریعت کی ضرورت نہیں لیکن آپ نے جو کہ خود فرما دیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک نبی آئے گا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاون بھی ہوگا ان سے الگ نہیں ہوگا تم نہیں مانتے کیا حضرت سلیمان نبی ہیں اس لحاظ سے کہ کوئی اور نبی نہیں آسکتا آخری نبی ہیں اور آپ سب سے افضل ترین بھی ہے تو یہ مختصر طور پر جو ہے وہ ختم نبوت کانفرنس کہ ہر سال میں اسپتال جوھی پروگرام بھی کر چکی ہیں آپ ہماری اس میں جائیں تو آپ کو وہاں سے پروگرام مل جائیں گے اور ڈپریشن میں تقریبا اس کے متعلق جو ہے آپ کا جواب دیتے ہیں کیا پروگرام کے بالکل آخر پہ مارچ کے میں کچھ کام سیاست کر رہا ہوں اس لیے سوال مشکل ہو گا اس کا ایک اور سوال کو جگر اگر اگر اچھا یہ جو سوال ہے کہتے ہیں کہ میرا سوال ہے قرآن کریم نازل ہونے میں 23 سال کیوں لگے بات یہ ہے کہ جو جو کسی قسم کے حکم کی ضرورت تھی تو تو اللہ تعالی جو ہے وہ احکام جو نازل کر رہا تھا مثلا جب وہ نمازوں کی رکعتوں والی نماز کے متعلق کیا حکم دینے شروع ہوگئے ہیں سارے احکام شریعت نازل نہیں کیے کیونکہ مشکل ہوجانا تھائی صحابہ کے لئے اور مسلمانوں کے لیے سارے احکامات پر عمل کرنا تو جیسے جیسے کسی چیز کی ضرورت پیش آتی گئی ویسے ویسے اللہ تعالی نے اس کے متعلق کیا احکامات نازل ہوئے اور ایک ہی دفعہ کتاب دے دی جاتی تو وہ تھوڑا اس کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اس پر عمل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور اگر لگتا تھا وہی جو ہے آتی رہتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو بھی تسلی ہوتی رہتی ہے تسکین ملتی جاتی جیسے سارے دن کا کھانا ایک وقت میں نہ کھا جاتے وقت اسے تو جسم بھی جو ہے بھیجا ہے وہ بھرا رہتا ہے اس لحاظ سے آہستہ آہستہ وحی نازل ہوئی تعلق سمجھنے بھی آسانی ہو اس کو یاد کرنا بھی آسان ہو اور ہر روز ہے وہ نئے باتیں جا بجا دیکھنے کو ملے اور خدا تعالیٰ کے نشانات تازہ تازہ دیکھ کر جو ہے وہ ہمارے ایمان میں جو ہوا ترقی ہوتی رہے ہے رہی ہے ہے رحیم صاحب کہتے ہیں کہ برے خیالات آتے ہیں ان کو کیسے ختم کیا جائے استغفار کر اور توبہ اور استغفار انسان کرے تو اس لحاظ سے پھر انسان کا ذہن اور خیالات بات کرو گے تو استغفار اس کے لیے بڑا ضروری ہے ہے  ہے کی اہلیہ کو قادیانی کہہ سکتے ہیں اگر تو قادیانی اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ قادیان کے باشندے ہیں یا قادیان سے جماعت احمدیہ کا آغاز ہوا پھر تو ٹھیک ہے لیکن بعض اوقات انسان جو مولوی ہیں یا غیر اہم بھی وہ طنز کے طور پر کہتے ہیں قادیانی نے تو جیسے پاکستان کے رہنے والے ان کو اب پاکستانی کہتے ہیں لاہور کے رہنے والے ان کو لاہوری کہتے تو اس لحاظ سے جو قادیان کے رہنے والے ہیں ان کو آگے نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن طنز کے طور پر لینگویج مارچ کا ایک قادیانی کہنا یہ درست نہیں ہے لیکن میسج قادیان سے آغاز ہوا اس لحاظ سے اگر کوئی کہتا ہے تو کہنے دے جو کہتی ہیں آپ کے رہنے والے ہیں وہ قادیانی ہیں لیکن جماعت احمدیہ میں فرق کیا جاتا ہے کہ احمدی کہا جائے قادیانی نہ کہا جائے جائے آئے گی مرزا غلام احمد قادیانی کی نوید دے جی بالکل آپ وہی نبی تھے جن کا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا تھا مسلم کی حدیث میں آپ نے کہا تھا کہ وہ نبی ہوگا چار دفعہ اپنے نبی کے الفاظ استعمال کیے ایک اور حدیث میں فرمایا کہ میرے بعد اس امت کا بہترین فرض ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام سوائے اس کے کہ آخری زمانے میں اجنبی ہوں گا تو اماں حضرت سلم کے ارشاد کے مطابق یہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو خدا کا نبی مصطفی واٹس ایپ نمبر کے بارے میں کیا رائے ہے ہمارا واٹس ایپ نمبر ہے نہیں تو آپ کو کیسے بنتی ہے جا سکتا ہے صرف ای میل کے ذریعے اس وقت آپ کا کیا جا سکتا ہے ہے ہے ٹھیک ہے جی آج کے پروگرام کا پھر وقت ہی ختم ہوتا ہے جزاکم اللہ تعالیٰ آپ سب لوگوں کا جو آج کے لائیو پروگرام میں ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں بہت ساری کامرس ہاجرہ گئی ہیں اس کے لئے معذرت ممکن نہیں ہے کہ ساری کامرس الیکشن میں جو ہے وہ بیان کر دی جائیں لازمی بات کا منشاء یہی سوالات بھی رہ گئے ہیں لیکن چونکہ جو ہے وہ چاہے جتنا ہمارے پروگرام کرتا ہے گوگل آج آپ کا کوئی سوال نہیں ہے تو کالج مولانا فضل الرحمن صاحب آئیں گے ان سے سوال پوچھنے کل بھی نہ آئے تو اس کی عمر تک آتے رہتے ہیں یہ پروگرام ہفتے میں چھ دن آتا ہے تو کسی بھی وقت آپ نے ہمارے پروگرام میں شامل ہو کر سکتے ہیں میرے ساتھ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے میں شامل ہوتے ہیں پھر اس پروگرام کا آج کا پروگرام کا اختتام کرتے ہیں اللھم صلی علی محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علیٰ محمد رحیما الرحیم ناکامی مجید السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 97 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: