𝐖𝐡𝐞𝐫𝐞 𝐚𝐫𝐞 𝟑𝟎𝟎 𝐀𝐫𝐠𝐮𝐦𝐞𝐧𝐭𝐬 𝐢𝐧 𝐁𝐫𝐚𝐡𝐢𝐧 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝𝐢𝐲𝐲𝐚 𝐚𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐦𝐢𝐬𝐞𝐝? (کیا براہینِ احمدیہ میں ۳۰۰ دلائل پیش کئے؟)




𝐖𝐡𝐞𝐫𝐞 𝐚𝐫𝐞 𝟑𝟎𝟎 𝐀𝐫𝐠𝐮𝐦𝐞𝐧𝐭𝐬 𝐢𝐧 𝐁𝐫𝐚𝐡𝐢𝐧 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝𝐢𝐲𝐲𝐚 𝐚𝐬 𝐩𝐫𝐨𝐦𝐢𝐬𝐞𝐝? (کیا براہینِ احمدیہ میں ۳۰۰ دلائل پیش کئے؟)

Apr 30, 2021

پھول تعظیم اسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ کتب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفین کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کے جوابات دے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں خاکسار عبدالرب کے ساتھیوں میں محترم مولانا حاجی حبیب عطاری صاحب تشریف فرما ہیں جو ان اعتراضات کے جواب دیں گے قاری صاحب ہم براہین احمدیہ پر بات کر رہے ہیں مخالفین مختلف قسم کے اعتراضات اٹھاتے ہی جیت سکتا ہوں تھوڑا سا اقتباس پڑھ لیں تو وہ ختم ہونے والے ہیں اور بعض جو ہیں وہ یہ نہیں کہنا چاہیے کہ علمی لحاظ سے بڑے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کے میں مل جاتے ہیں مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق براہین احمدیہ کے حوالے سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضور نے 300 دلیل لکھنے کا وعدہ کیا اور ان کو پورا نہیں کیا اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم عبدالمسیح مود یہ جو اعتراض ہے کہ 300 دلائل کا آپ نے وعدہ کیا کہ لکھیں گے نہیں پورا کیا وعدہ یا 300 جا سکے یہ سدیس اعتراض ہے میں اب یہ کتاب جو پہلی جلد ہے روحانی خزائن کی سات سو صفحات پر مشتمل ہے اس کو دیکھ لیا جائے تو یہ تو اٹھا نہیں سکتا سوائے اس کے کوئی جھوٹ بولے تو جہاں تک کتاب کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کتاب کے شروع میں جو اعلانات کیے اور تعمیرات بندی ذکر تھا کہ پی آئی اے اسلام کی مکمل اور اعلی تعلیمات ہے وہ بات اور دوسری زندہ معجزات اور نشانہ جو اسلام کے ساتھ ہے اب تین سو دلائل لکھے جائیں گے مجھے وہ علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ کام شروع کیا اور لکھے اور دلائل میں جو پہلی بات تھی کہ ہی اعلی تعلیمات اور مکمل تعلیمات اس ایک دلیل کو یا ایک پہلو میں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے ہزار ہزار باتیں لکھی ہیں تین سو کی بات جہاں نہیں رہتی بلکہ بہت زیادہ لکھے ہیں تو اسی وجہ سے جب آپ نے یہ کتاب لکھی تو اس کو مقابلے کے لیے پیش کیا کوئی جواب دے اور اس پر انعام رکھا یوسف کا جواب دے دے اس کا جواب دے دے مقابلے کے پانچویں سے کہیں جواب تو دے دیں یہ کتاب فیض آتے ہیں ایک مکمل غیر مسلم سلام کے یہ تین سو دلائل جو تھے وہ اس میں موجود تھے عنوان ایک تھا کہ اللہ اور مکمل تعارف ایک دلیر کے نیچے یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے 300 دلائل نہیں دیے آپ نے ایسے مضبوط دلائل دیے ہیں نعت کی ہے جن کا کوئی جواب نہیں دے سکتا اس وہ ہے ایک بڑا 5 کا جواب دے دیں تو بات اصل میں یہ ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب یہ کتاب لکھی جلد ہی شائع کی 782 اٹھارہ سو چوراسی 1884 مکمل ہو کے شائع ہو گئی اللہ تعالی نے آپ کا رخ ماموریت کی طرف پھیرا اور آپ کو مامور کیا ہے آپ مسیح اور مہدی ہو کر اللہ تعالی کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں تو اس اسلامی چونکہ اللہ تعالی نے آپ کا سارا کام سنبھالا اور آپ اللہ تعالی کے اشارے پر اللہ تعالی کی تقدیر کے مطابق دیگر انبیاء کی طرح آپ کا کام شروع جو دلائل اور اشاعت اسلام سعد کا جتنا کام تھا اسلام کی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق کیا بیسیوں کتابیں لکھی تقریبا پچاس کتابیں تو کہا تین سو دلایا اور کہا پچاس دے نسیم چلی گئی تو یہ جو کام آپ کے سپرد اللہ تعالی نے فرمایا اس کو آپ نے پورا کیا جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا وہ بھی آپ نے پورا کیا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو اسلام کا دفاع کیا وہ ہر قسم کے دلائل عقلی و نقلی منطقی اور جو واقعاتی ہیں وہ سارے پیش کی ہے آپ نے اظہار فرمایا کہ پوچھتی ہے دیوار دی اور ماما اسلام حفاظت کرنے کے لئے نہر صاحب دست دشمن کا فرق ہے جناب اور اس کتاب کے بعد اسلام کی دیوار پر اس طرف کوئی دشمن حملہ نہیں کر سکتا یہ عمل ایسا ہوا ہے احمدیہ کی تصنیف کے بعد اسلام پر حملوں کا زور ٹوٹ گیا ہے لاجواب ہوکر وہ لشکر تھے ان کے راز کرنے والے اور حملے کرنے والے واپس لوٹ گئے کل تک تین سوال کا تعلق کاظم علیہ السلام نے اسی براہین احمدیہ کے شروع میں پہلی جلد کے صفحہ 62 پر یہ تحریر فرمایا ہے کہ ہم نے سدہ طرح کا فتور اور فساد دے کر یعنی جو اسلام کے خلاف تھا اور مسلمانوں میں بھی یہ تو تھے کہ وہ جواب دینے سے قاصر تھے تو دست ہے کسی میں یہ طاقت نہیں چاہے وہ غربت کا یہ عالم تھا علامہ مل کر بھی اسلام کا دفاع کرنے سے قاصر تھے جری اللہ کا جس کو اللہ تعالی نے کھڑا کرنا تھا اور اس طرح کرنے سے پہلے تقدیر اور نصیب بنانے سے پہلے اللہ سے یہ کام لے چکا تھا کہ براہین احمدیہ آپ کے ذریعہ تصنیف فرمائی تو آپ نے فرمایا ہم نے سادہ طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تعلیم کیا تھا اور کتاب موصوف میں 300 مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے یہ دیکھیں مغلئی بریانی ایک دلیل جو تھی تعلیمات کے مطابق کے بارے میں تین سو مضبوط دلیل دے کر مکڑی دلیل سے صداقت اسلام کو فل حقیقت آفتاب سے بھی زیادہ روشن کر کے دکھا مجھے اس کتاب میں آفتاب کی طرح اسلام روشن موجود ہیں اور 335 کی بات کرتے ہیں یہاں سے آسان کی تعریف بھی آپ کے سامنے پیش کر آپ فرماتے ہیں میں نے پہلے ارادہ کیا تھا اس بات سے یہ این ٹی ایس پنجاب میاں فرما رہے ہیں سو رہے تھے اور ساتھ پر کہ میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اس بات حقیقت اس بات حقیقت اسلام کے لئے دلیل براہین احمدیہ میں لکھو میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل یعنی وہی زندہ ہے اور مکمل ان کی اعلی اور مکمل تعلیمات یہ دو قسم کے دلائل ہزارہ ان نشانوں کے قائم مقام ہے یہ کتاب میں درج ہیں بس خدا نے میرے دل کو اس راہ پر پر مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لیے مجھے ذرا صدرعنایت کیا کتاب براہین احمدیہ کے پورا کرنے میں جلدی کرتا تو ممکن نہ تھا کہ اس طریقہ سے حقانیت لوگوں پر ظاہر کر سکتا کیوں کہ براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں بہت سی پیشگوئی ہیں جو اسلام کی سچائی پر کوئی دلیل ہے مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خدا تعالی کے وہ معاہدہ نشان کھلے طور پر دنیا پر ظاہر ہوتے گانا سمجھ سکتا ہے کہ معجزات اور نشانوں کا لکھنا یار میں نہیں اور دراصل یہ نہیں ہے ایک بڑا ذریعہ سچے مذہب کی شناخت کا ہے اس میں برکات اور وحشت پائے جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے صرف کامل تعلیم کا ہونا سچے مذہب کے لئے پوری پوری اور کھلی علامت نہیں بلی کے انتہائی درجے تک پہنچا سکے انشاء اللہ تعالیٰ یہ دونوں قسم کے دلائل بھی اس کتاب میں کتاب کو پورا کروں گا احمدیہ حصہ پنجم جو انیس سو پانچ میں تحریر فرمائیں گی اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ وضاحت کی کہ درمیان میں جو وقت آیا چار سو کے اور اس سے 5 تک جتنا وقت آیا اس میں آزاد بھی اللہ تعالی نے دکھائے فی الافاق وفی انفسھم زمین و آسمان میں وہ نشان ظاہر ہوئے اور وہ نشانوں کا جو جو جگہ تھی وہ براہین احمدیہ میں تقریبا 300 کے قریب علامات ہے دنیا کے سارے اللہ تعالی ظاہر کرتا رہا اور بھی اللہ تعالی نے الہامات کی ہے براہین احمدیہ میں درج ذیل علامات بھی اس عرصے میں پورے ہوئے ابراہیم دیا وہ کتاب ہے جس نے موضوعات کے لحاظ سے بھی اگلے زمانے میں آکر اپنے پورے دلائل اور نشانہ بھی ہے اور جہاں تک علمی لحاظ سے اسلام کیا حال ہے اور مکمل تعلیمات کا ذکر تھا وہ براہین احمدیہ کے پہلے چار حصوں میں بھی موجود ہے اور آگے اور کھلے ہیں پھر ہندو مذہب عیسائی مذہب ان کے اعتراضات اور ان کے جوابات وغیرہ اخلاقی تعلیمات وغیرہ بھی ساری زندگی ان کتابوں میں جو تو یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے 300 دلائل براہین احمدیہ میں نہیں لکھی تو دراصل جیسے میں نے پہلے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالی نے مامور فرما دیا پھر آپ کی مرضی نہیں پہلے آپ کا خیال تھا آپ کا ارادہ تھا آپ نے اس کو لکھا لوگوں کے سامنے پیش کیا مگر جب اپنی مرضی اپنے ہاتھ میں نہ رہیں خدا کے ہاتھ میں تقدیر کی بات ہوگی روز مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ کی مرضی اسی کے عطا کردہ علوم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے حاصل کی آپ نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور چیلنج کیا جو تھا تین سو دلیل کا قصہ حضرت شاہ صاحب نے خود بڑی وضاحت سے فرمایا ہے اس میں وہ لکھ کر دکھا دیا گیا تھا حافظ صاحب اس اعتراض ہے اس مخالفین کے اعتراضات کرتے ہیں یہ ہے کہ انہوں نے وعدہ پورا نہیں کیا آپ خدا کے ہاتھ میں ہو گئے یہ خواہش کرتا ہے بازار تو وہ پورا نہیں ہوتا اللہ کی تقدیر کو چھوڑ دی کھا رہی ہوتی قسم کھا کر بھی ایک وعدہ کرتا ہے وہ اچھے اخلاق ہونے کی وجہ سے یا بہتر شرط پر بہتر ہے ویسے اس کو وہ قسم بھی ترک کرنی پڑتی ہے یہ پہلا جو بات کی تھی کہ ارادہ کرتا ہے یہ خواہش پوری نہیں ہوتی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بخاری کتاب الصلاۃ مناقب ابو فضل مکہ ٹاور بنا نہ ہو اور کے مکہ کی بنیاد پڑی اور خانہ کعبہ کی اس میں حضرت عائشہ فرماتے ہیں کہ میرا دل تھا کہ میں خانہ کعبہ کو ان ہی بنیادوں پر جن پر حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اس پر استوار کر دو اس کا دروازہ بھی نہیں چلے آؤ اور اس میں دو دروازے رکھ لو ایک شرکاء نے کربلا حضرت نوح علیہ السلام کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی وہ ہنستا ہی رہا تھا بعد میں ایک کوشش ہے اگلے زمانے میں بعض لوگوں نے مگر وہ بھی پھر رینی چڑھی تو یہ بعض اوقات پر ایک نبی اور وہ بھی دراصل اسلام جیسا بھی اگر ارادہ کرے اور پورا نہ ہو تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی کیونکہ وہ اس کا اپنا خیال اللہ تعالی کی تقدیر کچھ اور دکھائی دیتی ہے الزام نہیں آسکتا موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ارادہ کیا کہ میں لکھو اور اس کی بات کی وہ اسی طرح تھا اللہ تعالی نے اس سے بہتر شکل دکھائی وہ اس طرح وہ آدھا رہ گیا اردو کے اندر سلم نے خود فرمایا ہے کہ بخاری کتاب الایمان و النذور باب قول اللہ تعالیٰ آپ سب کو ملا ہوں بری امام میں یہ علیہ وسلم نے فرمایا اور جب تم کسی بات پر قسم کھا لو لیکن بھلائی اس کے غیر میں دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور بھلائی کو اختیار کر لی تو بعض اوقات آدمی ایک بات کرتا ہے قسم کھا کر بھی اور اس کے بعد حالات اچھے ہو جاتے ہیں تو بہتر کی طرف جانا چاہئے نہ کہ اس پر کے نقصان اٹھاتا ہے چنانچہ یمن والی سائیڈ سے حضرت ابو موسی اشعری قبیلہ تھا اس کے لوگوں نے گوگل کیا تم مدینے آگے کہلاتا گئے تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کے قریب لوگ تھے اور کچھ بھی وسائل نہیں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ہمیں کوئی سواری مہیا کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا الہ الا اللہ خدا کی قسم میں تمہیں کوئی سواری نہیں رہتا اور نہ میرے پاس ہے کہ میں دو وہ چلے گئے اور رونے لگے اس بات پر کہ ہماری اس بات سے انسان کو تکلیف ہوئی کہ آپ کے پاس وہ چیز نہیں تھی اور اب دیکھ نہیں سکے اور ہم اس تکلیف کا موجب ہے وہ کہتے تھے وہ نہ ہونے والے تھوڑے دیر کے بعد ہاسپٹل کے پاس اٹھا کے فضل الرحمان کو واپس بلا آئیے حضرت ابو موسی اشعری تو وہ لوگ جو انسانوں کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو انہوں نے کہا کہ اس قسم کا کیا ہوگا وہ واپس آئے یاد دلایا تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں جاؤں گا تمہاری شادی دیکھو تو تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا مگر تمہارے لیے وہ فیصلہ کروں گا تمہارے لیے یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہی سلوک ہوا کہ آپ کو معمول فرما کر کام کروایا جو اس خیال سے جو آپ کے دل میں بہت بڑ کر رہا ہوں کیا کہ اللہ تعالی نے وہ کام کروا دیا اور وہ مضمون سمجھا دیے اور ماموریت کا جو آپ کا فریضہ تھا اس کو آپ نے کماحقہٗ اللہ تعالی کی رضا کے مطابق پورا کیا اور پچاس ہی نہیں اور تین سو دلیلیں نہیں ہزاروں دل آئے تھے اسلام کی اعلی اور مکمل تعلیمات کو ثابت کرنے والے تھے ڈنکے کی چوٹ اور چیلنجز پر ثابت کرنے والا دوسری طرف زندہ معجزہ فی الافاق وفی انفسھم آسمانوں اور زمین کے وفات پر اور لوگوں کے نفوس میں بھی وہ نشان ظاہر ہوئے خدا تعالیٰ کی خاطر تجلیات ظاہر ہوئی ہے اسلام کی زندگی قرآن کی حقانیت اللہ تعالی کے ہستی کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کے ثبوت قرآن کریم کی حقانیت کا ثبوت اور اسلام کے دیگر دیگر ادیان پر غالب ہونے کے ثبوت ہے جو ہمیشہ موجود رہتا ہے گویا فرما دیے اور کوئی نہیں جو ان کا مقابلہ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین جزاک اللہ علی صاحب انشاءاللہ اگلے پروگرام میں ایک دوسرے اعتراض کا جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صرف دشمن کو کیا ہم نے بہت بہت کام علم سے احمدیہ مسلم جماعت فرشتے ثانیہ کی الہی تحریک

#Islam#Messiah#Islam#Ahmadiyyat#Messiah ##TrueIslamCA 𝐀𝐜𝐭𝐮𝐚𝐥 𝐑𝐞𝐟𝐞𝐫𝐞𝐧𝐜𝐞𝐬 𝐋𝐢𝐧𝐤: https://bit.ly/2SirW79 𝐕𝐢𝐝𝐞𝐨 𝐇𝐢𝐠𝐡𝐥𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬:- 1:24 𝐐𝐮𝐞𝐬𝐭𝐢𝐨𝐧: 300 𝑨𝒓𝒈𝒖𝒎𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒂𝒏𝒅 50 𝒗𝒐𝒍𝒖𝒎𝒆𝒔 𝒐𝒇 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂 𝒘𝒆𝒓𝒆 𝒑𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝒂𝒏𝒅 𝒏𝒆𝒗𝒆𝒓 𝒇𝒖𝒍𝒇𝒊𝒍𝒍𝒆𝒅! 1:35 𝐀𝐧𝐬𝐰𝐞𝐫: 𝑰𝒏𝒕𝒓𝒐𝒅𝒖𝒄𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂 𝒂𝒏𝒅 𝒊𝒏𝒗𝒊𝒕𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒕𝒐 𝒓𝒆𝒂𝒅 𝒊𝒕 𝒃𝒆𝒇𝒐𝒓𝒆 𝒂𝒄𝒄𝒖𝒔𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 3:10 𝐂𝐡𝐚𝐥𝐥𝐞𝐧𝐠𝐞: 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑺𝒂𝒉𝒊𝒃 𝒑𝒖𝒕 𝑹𝒔 10,000 𝑷𝒓𝒊𝒛𝒆 𝑴𝒐𝒏𝒆𝒚 𝒐𝒏 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒂𝒏 𝒂𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓 𝒕𝒐 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒂𝒏𝒅 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝒄𝒉𝒂𝒍𝒍𝒆𝒏𝒈𝒆 𝒔𝒕𝒊𝒍𝒍 𝒉𝒐𝒍𝒅𝒔 𝒗𝒂𝒍𝒊𝒅. 𝑨𝒍𝒉𝒂𝒎𝒅𝒐𝒍𝒊𝒍𝒍𝒂𝒉, 𝒏𝒐 𝒐𝒑𝒑𝒐𝒏𝒆𝒏𝒕 𝒐𝒇 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎 𝒉𝒂𝒔 𝒆𝒗𝒆𝒓 𝒃𝒆𝒆𝒏 𝒂𝒃𝒍𝒆 𝒕𝒐 𝒂𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒕𝒆𝒏 𝒊𝒏 𝒅𝒆𝒇𝒆𝒏𝒔𝒆 𝒐𝒇 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎 3:50 𝐈𝐦𝐩𝐨𝐫𝐭𝐚𝐧𝐜𝐞: 𝑻𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒃𝒆𝒄𝒂𝒎𝒆 𝒂 𝒘𝒂𝒍𝒍 𝒊𝒏 𝒅𝒆𝒇𝒆𝒏𝒔𝒆 𝒐𝒇 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎 𝒂𝒏𝒅 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒊𝒅𝒆𝒅 𝒂 𝒔𝒖𝒑𝒑𝒐𝒓𝒕 𝒕𝒐 𝒕𝒉𝒆 𝑴𝒖𝒔𝒍𝒊𝒎𝒔 𝒂𝒈𝒂𝒊𝒏𝒔 𝑯𝒊𝒏𝒅𝒖𝒔 𝒂𝒏𝒅 𝑪𝒉𝒓𝒊𝒔𝒕𝒊𝒂𝒏𝒔 5:00 𝐈𝐦𝐩𝐚𝐜𝐭: 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝒓𝒆𝒗𝒊𝒆𝒘 𝒅𝒐𝒏𝒆 𝒃𝒚 𝑴𝒐𝒍𝒗𝒊 𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑯𝒖𝒔𝒔𝒂𝒊𝒏 𝑩𝒂𝒕𝒂𝒍𝒗𝒊 𝒂𝒔 𝒉𝒆 𝒔𝒕𝒂𝒕𝒆𝒔 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒉𝒂𝒔 𝒃𝒆𝒆𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒆𝒔𝒕 𝒔𝒆𝒓𝒗𝒊𝒄𝒆 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒉𝒊𝒔𝒕𝒐𝒓𝒚 𝒐𝒇 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎, 𝒂𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒊𝒔 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒊𝒅𝒆𝒅. 5:50 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞: 300 𝒂𝒓𝒈𝒖𝒎𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒆𝒏𝒕𝒆𝒅 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒕𝒐 𝒔𝒉𝒐𝒘 𝒕𝒉𝒆 𝒂𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒃𝒆𝒂𝒖𝒕𝒚 𝒐𝒇 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎 𝒂𝒏𝒅 𝒄𝒉𝒂𝒍𝒍𝒆𝒏𝒈𝒆 𝒐𝒑𝒑𝒐𝒏𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒕𝒐 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒆𝒏𝒕 𝒂𝒏𝒚 𝒐𝒕𝒉𝒆𝒓 𝒓𝒆𝒍𝒊𝒈𝒊𝒐𝒏 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒄𝒂𝒏 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒆𝒏𝒕 𝒔𝒖𝒄𝒉 𝒔𝒖𝒃𝒍𝒊𝒎𝒆 𝒕𝒆𝒂𝒄𝒉𝒊𝒏𝒈𝒔. 𝑻𝒉𝒊𝒔 𝒄𝒉𝒂𝒍𝒍𝒆𝒏𝒈𝒆 𝒔𝒕𝒊𝒍𝒍 𝒉𝒐𝒍𝒅 𝒊𝒕𝒔 𝒗𝒂𝒍𝒖𝒆 𝒂𝒏𝒅 𝑨𝒍𝒉𝒂𝒎𝒅𝒐𝒍𝒊𝒍𝒍𝒂𝒉, 𝒏𝒐 𝒐𝒑𝒑𝒐𝒏𝒆𝒏𝒕 𝒉𝒂𝒔 𝒆𝒗𝒆𝒓 𝒃𝒆𝒆𝒏 𝒂𝒃𝒍𝒆 𝒕𝒐 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒆𝒏𝒕 𝒉𝒊𝒔 𝒓𝒆𝒍𝒊𝒈𝒊𝒐𝒏 𝒊𝒏 𝒄𝒐𝒎𝒑𝒂𝒓𝒊𝒔𝒐𝒏 𝒕𝒐 𝑰𝒔𝒍𝒂𝒎 7:15 𝐏𝐫𝐨𝐨𝐟: 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒐𝒇 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑺𝒂𝒉𝒊𝒃 (𝒂𝒔) 𝒂𝒃𝒐𝒖𝒕 300 𝒂𝒓𝒈𝒖𝒎𝒆𝒏𝒕𝒔 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 11:45 𝐇𝐚𝐝𝐢𝐭𝐡: 𝑻𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 ﷺ 𝒘𝒊𝒔𝒉𝒆𝒅 𝒂𝒏𝒅 𝒘𝒂𝒏𝒕𝒆𝒅 𝒕𝒐 𝒓𝒆𝒃𝒖𝒊𝒍𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒖𝒔𝒆 𝒐𝒇 𝑨𝒍𝒍𝒂𝒉 (𝑲𝒂’𝒃𝒂) 𝒃𝒖𝒕 𝒔𝒊𝒈𝒉𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒇𝒆𝒘 𝒓𝒆𝒂𝒔𝒐𝒏𝒔 𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒖𝒍𝒅 𝒏𝒐𝒕; 𝒃𝒖𝒕 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒘𝒂𝒔 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝑨𝒍𝒍𝒂𝒉’𝒔 𝒘𝒊𝒍𝒍! (𝑨𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒊𝒔 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒊𝒅𝒆𝒅 𝒊𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔) 12:50 𝑾𝒉𝒆𝒏 𝒐𝒏𝒆 𝒇𝒊𝒏𝒅𝒔 𝒂 𝒃𝒆𝒕𝒕𝒆𝒓 𝒂𝒓𝒈𝒖𝒎𝒆𝒏𝒕 𝒕𝒉𝒂𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒆𝒙𝒊𝒔𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒐𝒏𝒆, 𝒂𝒅𝒐𝒑𝒕 𝒕𝒐 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒆𝒕𝒕𝒆𝒓 𝒐𝒏𝒆, 𝒆𝒗𝒆𝒏 𝒊𝒇 𝒐𝒏𝒆 𝒉𝒂𝒔 𝒔𝒘𝒐𝒓𝒏 𝒖𝒑𝒐𝒏 𝑮𝒐𝒅 𝒐𝒏 𝒕𝒉𝒆 𝒑𝒓𝒆𝒗𝒊𝒐𝒖𝒔 𝒂𝒓𝒈𝒖𝒎𝒆𝒏𝒕. (𝑨𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒊𝒏 𝑫𝒆𝒔𝒄𝒓𝒊𝒑𝒕𝒊𝒐𝒏 𝑳𝒊𝒏𝒌) 13:40 𝑻𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 ﷺ, 𝒃𝒓𝒐𝒌𝒆 𝒉𝒊𝒔 𝒐𝒂𝒕𝒉 𝒘𝒉𝒆𝒏 𝒇𝒐𝒖𝒏𝒅 𝒂 𝒃𝒆𝒕𝒕𝒆𝒓 𝒓𝒆𝒔𝒐𝒍𝒖𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒕𝒐 𝒂𝒏 𝒊𝒔𝒔𝒖𝒆. (𝑨𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒊𝒅𝒆𝒅 𝒊𝒏 𝑫𝒆𝒔𝒄𝒓𝒊𝒑𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒍𝒊𝒏𝒌)SHOW LESS

 52 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: