𝐃𝐢𝐝 𝐌𝐢𝐫𝐳𝐚 𝐒𝐚𝐡𝐢𝐛 (𝐚𝐬) 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐒𝐚𝐡𝐚𝐛𝐚 (𝐫𝐚)? ( صحابہ کرامؓ کی توہین کے بے بنیاد الزام کی حقیقت)




𝐃𝐢𝐝 𝐌𝐢𝐫𝐳𝐚 𝐒𝐚𝐡𝐢𝐛 (𝐚𝐬) 𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐒𝐚𝐡𝐚𝐛𝐚 (𝐫𝐚)? ( صحابہ کرامؓ کی توہین کے بے بنیاد الزام کی حقیقت)

Jun 18, 2021

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ وبرکاتہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں خاکسار عبدالوہاب کے ساتھ محترم مولانا حاجی علی چودھری صاحب میرے گفتگو ہوں گے جو ان اعتراضات کے جواب دیں گے حاجی صاحب براہین احمدیہ پر اعتراضات کے جوابات کا سلسلہ جاری ہے یہ جو اعتراض یہ بھی براہین احمدی یہود کے درمیان اللہ تعالی نے قیامت تکہ اور والدین اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے صحابہ کرام کی نعوذباللہ توہین کی ہے اور جب ان سے پوچھا کہ جائے کہ جناب کہاں پے کی ہے تو وہ حوالے دیتے ہیں اس میں سے ایک والا یہ ہے اور بالکل آوٹ آف کنٹری کہتی یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق ہے شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ کال کو ایک ربط اس طرح پھینک دے کرک جگہ حقیقت الوحی کا بھی حوالہ ملتا ہے حضور فرماتے ہیں کہ بعض کم تعداد کس صحابی جن کی طرح اچھی نہیں تھی جیسے وہ نعرہ تو اس کے بارے میں یہ بتائیں کہ کیا یہ توہین ہے کیا ایک بات کو پیش کرکے وہ جو پینٹ کرنے کی کوشش کرنے کے سارے صحابہ کی توہین کر دی یہ کہا تھا کہ ان کے بعد جائز ہے اور کیا اس کی امانت ہے بولنے کی وہی آ جاؤ حضرت نوح علیہ السلام تو کچھ بھی تحریر فرماتے تھے ان کو اعتراض ہو جاتا ہے اور وہی چیزیں ہمارے علماء اور مفسرین کتے چلے آئے ہیں کبھی کسی کو اعتراض نہیں ہوگا جو سچائی ہے اس مقام کے اندر مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہے اور تو نہیں تھے دوسرے جب طرح دیکھتے ہیں اس راز کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم دو باتیں آپ نے پیش کی ہیں جن سے کہتے ہیں توہین ہوتی ہے یہ میں اصل عبارت پڑھ دیتا ہوں ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سنو حضور فرماتے ہیں غرض موت ہی کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے یعنی یہ جو قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت ہے وہاں من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ علی اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے اس پر بحث ہورہی ہے پیچھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے اور آگے فرماتے ہیں غرض ہوتے ہیں کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف عیسائیت کی دوسری قرات میں موت ہے قبل موت ہیں حضرت عیسی کی طرف یہ ضمیر پھرتی تو دوسری قرات میں موت ہی کیوں آتا دیکھو تفسیر ثنائی جس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہی معنی ہیں تفسیر لکھتا ہے یعنی تفسیر ثنائی کا حوالہ یہاں بھی نہیں ٹھیک ہے صاحب تفسیر لکھتا ہے ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے ابھی ہم اسلام کے الفاظ ہیں ان کاموں میں اس کا کوڈ کیا ہے کام شروع ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی شرائط پر محدثین کو اعتراض ہے وغیرہ میں نقل کرنے کا مادہ تھا آئے اور فہم سے بہت ہی کم اثر رکھتا تھا یہ تفصیل سنائی والے نے لکھا ہے اس کا کوڈ کیا ہے لیکن بیان کی عظمت حسین کی یہ بات درست ہے اور میں کہتا ہوں کہ اگر ابھی ہریرہ رضی اللہ انہوں نے ایسے مانے کیے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہے جیسا کہ اور کوئی مقام میں محدثین نے ثابت کیا ہے کہ جو امور فہم اور درایت کے متعلق ہیں اکثر ابوہریرہ ان کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا تھا ہوتا ہے اور غلطی کرتا ہے مسلم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شریف حجت نہیں ہو سکتی یہ ایسی سچائی ہے جس کو ترقی نہیں جا سکتا ہے وہ مشری کیسے مانے نہیں انگریزی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کا ذکر کیا ہے علیکم بسنتی نمبر1 میری صنعت و سنت خلفائے راشدین یہ حجت ہے اور پھر جو جہاں تک اجماع کا تعلق ہے وہ صحابہ کا اجماع ہے ایک مرتبہ ذکر ہی کوئی نہیں ہے صحابی کی رائے یہ مسلمہ امر ہے اور سارے مفصلی نبی کی رائے شرعی حجت نہیں ہوسکتی شرعی حد صرف اجماع صحابہ ہے چکے ہیں کہ اس بات پر اجماع اجماع صحابہ ہو چکا ہے کہ تمام انبیاء فوت ہوچکے ہیں حضرت عباس عمل ہے یہ وہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ کا خطاب تھا اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ٹھیک ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب ہمارے وہاں صحابہ موجود تھے اندر سے اور کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا تو پاکستان تو یہ شرعی حجت ہے حضرت موسی علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں اب دوسرا دوسری جگہ جو ہے ایک طالب علم نے ذکر کیا بعض والے پورہ والا یہ ہے کہ بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی جیسے وہ رہا اور ہمیں سے ایسی موت کے آنے کی پیش گوئی پر نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ہی آجائیں گے ابتدا میں ابوہریرہ کو بھی یہی دھوکا لگا ہوا تھا صرف باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمیاب درایت کے ایسے دو کو میں پڑھا کرتا تھا چنانچہ ایک صحابی کے آنکھ میں پڑ جانے کی پیش گوئی میں بھی اس کو یہی دھوکا لگا تھا اور آئے تو آئینہ لکتاب اللہ عنہ بھی قبل موت ہیں کہ ایسے الٹے معنی کرتا تھا کرنے والے کو ہنسی آتی تھی کیونکہ وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسی کی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آئیں گے سب ایمان لے آئیں گے اللہ کے دوسری قرات اس آیت میں بجائے قبلہ موت ہی کے قبلہ موت ہی موجود ہے اور یہ عقیدہ کھلے طور پر یہ عقدہ کھلا طور پر قرآن شریف کے مخالف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ سب لوگ حضرت عیسی کو قبول کر دوسرا مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر آگے تفصیل بھی بیان کی ہے کہ سارے قبول نہیں کر سکتے کیونکہ والقینا بینہم العداوۃ والبغضاء  جو بغض اور عداوت رکھی ہوئی ہے اس وجہ سے وہ حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لائیں گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مسئلہ کو یہاں بیان کیا ہے اور بتایا کہ یہ مسلمہ امر ہے اور سارے اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی درایت اور جو تھا اس میں لکھ اور جہاں تک کہ سر اس کا تعلق ہے اس میں ایک بات یہ ہے کہ کیا اس سے حضرت کی توہین ہوئی ہے کہتے ہیں صحابہ کی توہین کرتے ہیں کیا ٹھیک تھی اور تیسری یہ ہے کہ کیا ایک صحابی کے قول کی وجہ سے قرآن کی وحی کو قرآن کریم کی آیات کو ترک کر دینا چاہیے اور چوتھی بات اس میں یہ ہے اعظم سلام صحابہ کی توہین کرتے تھے یہ تو ہے اس بندے کی بات میں پہلی دو باتیں ہیں کہ پیسے توہین ہوتی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ادھر اٹھی ہے یہ ہمارے پاس والجماعت کی رسول کی بنیادی کتاب ہے اصول الشاشی اس میں وہ بڑے واضح طور پر لکھتے ہیں راویوں کی قسمیں بیان کر رہے ہیں پہلے وہ راوی ہیں جو بہت مستند ہے اور ان کی روایت اور درایت دونوں ٹھیک ہے اور دوسری وہ کہتے ہیں قسم ثانی میں ان رواۃ راویوں میں جو دوسری قسم میں ہوں معروف ہو نہ بل تہ زو العدالۃ وہ حفظ کرنے اور اس کو یاد کرنے میں تو وہ بہت معروف ہے دونوں الجہاد و الفت وی بات کرنے میں اور فتوی کے لحاظ سے یہ نہیں ہے کا بھی ہو رہا تھا وہ انس بن مالک الشاشی میں صفحہ نمبر 75 پر لکھا ہوا ہے بعد انہوں نے مثالیں دی ہیں کیا بول رہا ہے زمانہ کس کس غلطی ہے اس سے تو ہی نہیں ہوتی بلکہ دین اسلام کے مسائل جو ہے وہ نکھر کر سامنے آجاتے ہیں پھر ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کالا علیہ السلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کسانوں کو ملا حدیث آبادی بخاری حدیث تمہیں سنائی جائیں گی میرے بعد علاقوں معنی حدیث اور جب بھی تمہارے سامنے کوئی بات بیان کی جائے یعنی میرے حوالے سے میں نے بیان کی ہے حدیث کے طور پر فارض والا کتاب اللہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن کریم کے سامنے پیش کرو قرآن کریم حکم ہے ما وافق فاقبلوہ وما خالف اردو جو معاف کو اس کو لے لو اور جو اس کے خلاف ہو اس طرح کر لو اصول کی کتابوں میں انہوں نے درج کیا ہے جو راوی ہے دوسری قسم کے ان میں ابوہریرہ بھی ہیں ان کی باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان کیا اور تفسیر ثنائی کا بھی حوالہ دیا ہے انہوں نے یہ بیان کیا ہے تو یہ بات درست ہے اور حضرت ابوہریرہ کے اجتہاد اور ان کے فتوی اور ان کے استدلال سے ہم قرآن کریم کو نہیں چھوڑ سکتے اور جو تیسری بات ٹھیک ہے کیا ایک صحابی کے قول کی وجہ سے قرآن کریم اور وحی الہی کو ترک کر دینا چاہیے اس طرح اسلام نے سونا کیا فرمایا کہ جب پائی اصحاب رسول اللہ سندھ کو جب آیا صابر رسول اللہ نے اس کے مال و جان و تن بھڑکے کرتے تھے نثار کر فرقان کو آثار ہے مخالفت چھوڑ کر فرقان کو آثار مخالف ترجمے صرف مسلم اور بخاری کے دیں ان احد کا پہاڑ بخاری اور مسلم کا نام لے کر سمجھتے ہیں مستند ہے اور قرآن کریم کو چھوڑ دیتے بہرا صحابہ کے آثار پر یعنی جو باتیں صحابہ نے کی ان پر ان کو چھوڑ دیتے ہیں اور نام لیتے ہیں مسلم اور بخاری کے امکانات ازبک کجروی اخبار میں کاتھی کے رکھیں سب انہیں پر ہی نہ تھا تو یہ جو روایتیں اس طرح کی ہیں یہ آثار پیش کیے گئے ہیں ان میں بعد میں غلطیاں ہیں ان میں کیڑے پنڈ ہیں تو اس کی وجہ سے ہم قرآن کے لیے بھی چھوڑ دے گل کیتی اے خطا کار مسیحا کی حیات جس دین نصرانیت کا ہوگیا خدمتگزار ایسی مسالک کی بھی ہے اور اس کی وجہ سے جو ہے اس کا خدمت گزار ہو گیا دین اسلام ابھی وہ مسئلہ وفات مسیح کا یہ جو پیش کر رہے ہیں مسافر اس نے ایسی شہادت دی خدا نے صاف صاف ایسا کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف اقبال قرآن کریم کے مقابلے پر کوئی حدیث اگر وہ مخالف ہے مقابل پر ہے متصادم ہے متضاد ہے وہ ترک کرنی ہے کیونکہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے گرمہ صحت کا حق پر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کے لئے فرقان کرسکتے ہوا یہ حضرت ابو طالب کی بات کرتے ہیں ان کا استدلال تھا حضرت ابو ہریرہ کا احترام اور ان کا ذکر حسین رضی اللہ عنہ لکھا ہے ہے مگر ایک پہلو ہے جس کی وجہ سے قرآن پر نہیں پڑتی ہے اس لیے اس کو نہیں لیا جا سکتا اور یہ فیصلہ کس کا ہے وہ جو حکم عدل بن کے آیا ہے اور جو امام مہدی ہے اس کا یہ حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں چاچی ہیں تفسیر ثنائی کا حوالہ ہے اور بہت ساری جو ظلم سے اسلام کا ایک ہاتھ ہے کے آپ فیصلہ کریں یہ دیا ہے قرآن کریم کو کسی بات پر نہیں چھوڑنا اس کے مقابل جو اس پر واقع از مسیح موعود علیہ السلام جو کے بارے میں یہ جو کہتے ہیں کہ آپ نے صحابہ کی توہین کی اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جو صحابہ کا احترام اور ان کا ادب اور ان کا تقدس آپ کے ادا ہوا آپ کی کے دہر میں تھا نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی حکومت کے رو سے سچ مچ واحد کی طرح ہوگئے تھے روزانہ عبرت اور زندگیاں باطن میں انوار نبوت ایسے رکھے تھے کہ آپ اندر صلی اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں دے یہ مقام حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا کہوہ اللہ علیہ وسلم کے عشق سے تصویریں مانگ رہے تھے تو یہ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توہین کی ہے یہ عزت ہے جو ہم سے اسلام کے دنوں میں تھے فرمایا سو یہ بھاری معاوضہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ سے فوج بت پرستی کرنے والے کا مال خدا پرستی تک پہنچ گئے اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئی کہ اس کی راہ میں پانی کی طرح اپنے فون کو بحال دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا اسلام صفحہ 21 اور 22 رانی جلدی سے اسلام نے جو قصائد لکھے ہیں ان میں قصیدہ فی مدح صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ان صحابہ کاکلمہ ممتاز کوئی صحابہ سب کے سب سورج کی مانند ہے انہوں نے مخلوقات کا چہرہ اپنے روشنی سے منور کر دیا انہوں نے اپنے اقارب کو عیال عربی قصیدہ جے توں جھوم کر گانے والا قصیدہ ہے میں صرف ترجمہ پڑھتے ہو انہوں نے اپنے فارم کو ریال کی محبت کو اور رسول اللہ کے دور میں فکرا کی طرح حاضر ہوگئے کیا گیا اور اپنے صحت کی وجہ سے مخلوق سے نہ ڈرے بلکہ مصیبت کے وقت انہوں نے خدائے رحمان کو اپنے خلوص کی وجہ سے وہ تلواروں کے نیچے شہید ہو گئے اور مجالس میں ان کے قرب سے گواہی دی وہ سالے تھے اپنے رب کے حضور حاضری آج اور اس کے ذکر میں رو رو کے رات گزارنے والے تھے آپ نے سندھ کی وجہ سے وہ تمام میدانوں میں حاضر ہوں گی اور ان میدانوں کے سنگ لاکھ تک زمین میں جمع ہوگئے وہ بزرگ لوگ ہیں ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے وہ خیر الرسل کے لئے بمنزلہ اعضاء کے تھے قانون خیر رسالہ جائے لوگوں کے ساتھ ان کے بارے میں لوگوں کے تعاون کے بارے میں سچے نہ تھے بلکہ وہ کھیلنے سے یقین ہے جو اس وجہ سے پیدا ہوا ہے جو لوگ ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں وہ کینہ رکھنے والے ہیں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کے تمام صحابہ کو حضور میں دائمی عزت کے مقام پر پاتا ہوں تو یہ بہت ہی قیمتی اور بہت اعلی کلام ہے اور بھی کئی شہر ہے مگر وقت کی قلت کی وجہ سے بھی کافی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کیا اور آپ کے صحابہ بھی اسی طرح ہیں آپ کے دل میں وہی قدرومنزلت رکھتے تھے جو ان کا مقام تھا یہ ایک قاعدہ ہے کہ وہ حبیب القلبی حبیبی کہ محبوب کا محبوب بھی میرے دل میں محبوب ہے یہ ثابت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھے فرماتے ہیں اللہ ہو اللہ فی اصحابی جوب وہ ستاروں کی چمک در مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے دل میں پاتے تھے قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے جگر کی نگاہ سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اللہ کو دیکھا کون کہہ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کسی کی تاکید کی تھی اطاعت رسول کی ہے اور اس میں قرآن کریم مقدم ہے اس کی عزت سب سے مقدم ہے اور کوئی نہیں یہ بھی اصول حسامی راستہ فرمائے وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین زاہد صاحب ناظرین کرام آپ نے سنا کہ مخالفین کا یہ اعتراض بالکل گدھا اور علم و عرفان سے بالکل خالی تھا انشاءاللہ اگلے پروگرام میں ایک نئے طرز کا جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صرف دشمن کو کیا ہم نے

#Islam#Ahmadiyya#TrueIslamCa 𝗢𝗥𝗜𝗚𝗜𝗡𝗔𝗟 𝗦𝗖𝗔𝗡𝗡𝗘𝗗 𝗥𝗘𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗟𝗜𝗡𝗞: https://bit.ly/3zywKGB 𝐕𝐈𝐃𝐄𝐎 𝐇𝐈𝐆𝐇𝐋𝐈𝐆𝐇𝐓𝐒 (𝐌𝐈𝐍𝐔𝐓𝐄 𝐂𝐀𝐒𝐓): 1:00 𝑸𝑼𝑬𝑺𝑻𝑰𝑶𝑵: 𝑫𝒊𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒆𝒎𝒑𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝑺𝒖𝒉𝒂𝒃𝒂 (𝒂𝒔)? 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂; 𝑯𝒂𝒒𝒊𝒒𝒂𝒕𝒖𝒍 𝑾𝒂𝒉𝒊 𝒂𝒏𝒅 𝑨𝒋𝒂𝒛𝒆 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊 2:25 𝑨𝑵𝑺𝑾𝑬𝑹: 𝑨𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒑𝒓𝒐𝒑𝒆𝒓 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒕𝒐 𝒕𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒆𝒙𝒕 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂 𝑽𝒐𝒍 5 5:00 𝑹𝑬𝑭𝑬𝑹𝑬𝑵𝑪𝑬: 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑯𝒐𝒍𝒚 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕 (ﷺ) 𝒔𝒕𝒂𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝑴𝒖𝒔𝒍𝒊𝒎𝒔 𝒎𝒖𝒔𝒕 𝒇𝒐𝒍𝒍𝒐𝒘 𝒕𝒉𝒆 𝒕𝒓𝒂𝒅𝒊𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒔𝒆𝒕 𝒃𝒚 𝒉𝒊𝒎 𝒂𝒏𝒅 𝒉𝒊𝒔 𝒈𝒖𝒊𝒅𝒆𝒅 𝑲𝒉𝒖𝒍𝒂𝒇𝒂 (𝒓𝒂). 6:10 𝑯𝑨𝑸𝑰𝑸𝑨𝑻𝑼𝑳 𝑾𝑨𝑯𝑰: 𝑨𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒕𝒐 𝒕𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒆𝒙𝒕. 𝑻𝒉𝒆 𝒂𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒊𝒕𝒔𝒆𝒍𝒇 𝒂𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓𝒔 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝒃𝒂𝒔𝒆𝒍𝒆𝒔𝒔 𝒂𝒍𝒍𝒆𝒈𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏. 8:00 𝑻𝒉𝒓𝒆𝒆 𝑰𝒎𝒑𝒐𝒓𝒕𝒂𝒏𝒕 𝑨𝒏𝒈𝒆𝒍𝒔 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒊𝒔 𝑨𝒍𝒍𝒆𝒈𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 8:36 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆: 𝑨𝒔𝒐𝒐𝒍 𝒂𝒔 𝑺𝒉𝒂𝒔𝒉𝒊 – 𝑭𝒂𝒎𝒐𝒖𝒔 𝑭𝒊𝒒𝒉 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒏𝒂𝒓𝒓𝒂𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒉𝒆 𝒆𝒙𝒕𝒓𝒂𝒑𝒐𝒍𝒂𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒄𝒂𝒑𝒂𝒃𝒊𝒍𝒊𝒕𝒊𝒆𝒔 𝒐𝒇 𝑯𝒂𝒛𝒓𝒂𝒕 𝑨𝒃𝒖 𝑯𝒖𝒓𝒂𝒊𝒓𝒂 (𝒓𝒂) 11:00 𝑨𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓: 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 𝒔𝒕𝒂𝒕𝒆𝒔 𝒕𝒉𝒂𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒉𝒐𝒍𝒚 𝑸𝒖𝒓𝒂𝒏 𝒊𝒔 𝒂𝒃𝒐𝒗𝒆 𝒆𝒗𝒆𝒓𝒚 𝒐𝒕𝒉𝒆𝒓 𝒘𝒐𝒓𝒅 𝒂𝒏𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒐𝒓 𝒂𝒏𝒚 𝒊𝒏𝒕𝒆𝒓𝒑𝒓𝒆𝒕𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒂𝒈𝒂𝒊𝒏𝒔𝒕 𝒕𝒉𝒆 𝒉𝒐𝒍𝒚 𝑸𝒖𝒓𝒂𝒏 𝒊𝒔 𝒏𝒐𝒕 𝒂𝒄𝒄𝒆𝒑𝒕𝒂𝒃𝒍𝒆 13:45 𝑷𝒓𝒐𝒐𝒇 01: 𝑹𝒆𝒔𝒑𝒆𝒄𝒕 𝒐𝒇 𝑺𝒖𝒉𝒂𝒃𝒂 (𝒓𝒂) 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒆𝒏 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 15:10 𝑷𝒓𝒐𝒐𝒇 02: 𝑹𝒆𝒔𝒑𝒆𝒄𝒕 𝒐𝒇 𝑺𝒖𝒉𝒂𝒃𝒂 (𝒓𝒂) 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒆𝒏 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈𝒔 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔). 𝑸𝒂𝒔𝒆𝒆𝒅𝒂 𝒊𝒏 𝒉𝒐𝒏𝒐𝒖𝒓 𝒂𝒏𝒅 𝒑𝒓𝒂𝒊𝒔𝒆 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑺𝒖𝒉𝒂𝒃𝒂 (𝒓𝒂)SHOW LESS

 56 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: