𝐀𝐡𝐚𝐝𝐢𝐭𝐡 𝐚𝐛𝐨𝐮𝐭 𝐌𝐚𝐡𝐝𝐢 (𝐚𝐬) 𝐚𝐫𝐞 𝐜𝐨𝐧𝐭𝐫𝐚𝐝𝐢𝐜𝐭𝐢𝐧𝐠 & 𝐟𝐚𝐛𝐫𝐢𝐜𝐚𝐭𝐞𝐝? (مھدیؑ کے بارہ میں احادیث مجروح اورمخدوش؟)




𝐀𝐡𝐚𝐝𝐢𝐭𝐡 𝐚𝐛𝐨𝐮𝐭 𝐌𝐚𝐡𝐝𝐢 (𝐚𝐬) 𝐚𝐫𝐞 𝐜𝐨𝐧𝐭𝐫𝐚𝐝𝐢𝐜𝐭𝐢𝐧𝐠 & 𝐟𝐚𝐛𝐫𝐢𝐜𝐚𝐭𝐞𝐝? (مھدیؑ کے بارہ میں احادیث مجروح اورمخدوش؟)

May 28, 2021

پھول اعوذ باللہ لگا جی بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ اتنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں پر مخالفین کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ویڈیو میں خاکسار عبدالوہاب مولانا حنیف چودھری صاحب تشریف فرما ہیں ان شاء اللہ ان اعتراضات کے جواب دیں گے صاحب سلسلہ براہین احمدیہ سے جاری ہے براہین احمدیہ حصہ پنجم کے صفحہ نمبر 356 پہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں کشمیر کے بارے میں جس قدر احادیث آئی ہیں مجروح اور مخدوش ہیں ان میں سے ا الصلوۃ والسلام نے اس بارے میں جو فرمایا یہ گلزمین نزول المسیح 1973 آئین کی صفحہ 139یک بھی صحیح نہیں اور جس قدر ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں نہیں ہوا یہ مخالفین یہ کہتے ہیں یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن خود احادیث کی آڑ میں اپنا مہدی ہونا بھی ثابت کیا ہے ہمارے سامنے پہلو میں رکھے یہ جو عبارت ہے صفحہ 356 براہین احمدیہ حصہ پنجم جی وہ میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں یہ پہلے بھی ایک پروگرام میں آ چکی ہے حضرت موسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مستحق من بلد فاطمہ کا وومن اترتی وغیرہ ہے بلکہ میرا دعوی تو مسیح موعود ہونے کا ہے یہ موت کے لیے کسی محدث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ میں سے ہوگا وہ اس کے جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں جس طرح تمام محدثین کے میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی معہود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں اور جس قدر ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں ایسا نہیں ہوا خلفای عباسی وغیرہ کے عہد میں خلیفوں کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ اپنے تئیں مہدی موت قرار دے وجہ سے بعض حدیثوں میں مہدی کو بنی عباس میں سے قرار دیا بنی فاطمہ میں سے اور بعض حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ آج الزام آتی کہ وہ میری وہ ایک آدمی میری امت میں سے ہوگا یہ تمام ایسے کسی اعتبار کے لائق نہیں صرف میرا ہی کال نہیں بلکہ بڑے بڑے علماء اہل سنت یہی کہتے چلے آئے ہیں اور ان حدیثوں کے مقابلے پر یہ حدیث بہت سے ہی ہے جو ابن ماجہ نے لکھی ہے اور وہ یہ ہے لال مہدی لا مہدی الا عیسیٰ یعنی کوئی ماضی نہیں صرف ایسی مہدی ہے جو آنے والا ہے ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جس پر انہوں نے معترض نے یہ سوال اپنا استوار کیا ہے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک اور تحریر اسی بارے میں کہ احادیث کا اپنا حال کیا ہے مہدی کے بارے میں جو ہے یہ روحانی خزائن جلد 19 ہنسی ہے فرماتے ہیں کہ علاوہ ہیں اس کے ان حدیثوں کے درمیان اس قدر طاقتور ہے کہ اگر ایک حدیث کے برخلاف ہے وہ میری والی بات اس کی بات کر رہا ہے اگر ایک حدیث کے برخلاف دوسری حدیث وہ فی الفور مل جائے گی مکالمہ آزادی ہے اس سے قرآن شریف کے بیانات کو چھوڑنا قیمت ناقص حدیثوں کے لئے ایمان دعا کرنا کسی مقام ہے نہ عقل مند کا کام ہے کرم ان کا کام نہیں اصل قرآن کریم قرآن کریم میں حکم ہے یہ روایات جو بعد میں پڑھی گئی وہ ایک دوسرے سے متصادم بھی ہیں متضاد اور متناقض بھی تو ان کو چھوڑنا پڑتا ہے قرآن کریم اصل بنیاد ہے میں پھر یہ بھی سوچو کہ اگر قرآن کے مخالف ہو کر حدیث کچھ چیز ہیں آج کی حدیثوں کو تو سب سے زیادہ وقت ہونی چاہیے تھی ترکی جنگ میں وہ ہونی چاہیے تھی ابھی آپ لوگوں کے تنازعات اور تفرقہ سے خالی نہیں ہے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہاتھ کہاں باندھنے چاہیے اور رفع یدین اور عدم رفع اور فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجہر وغیرہ کے جھگڑے بھی اب تو ختم ہونے میں نہیں اور بعض کی حدیث کو رد کر رہے ہیں وہابی حنفیوں کے مسجد میں جا کر رفع یدین کریں اور امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے اور سینے پر ہاتھ باندھے اور آمین بالجہر کرے تو وہ اس عمل کی تائید میں چار سو سے حدیثیں سنا وے تب بھی وہ ضرور مار کھا کر آئے گا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتداء سے ہی حدیثوں کو بہت عظمت نہیں دی گئی امام اعظم جو امام بخاری سے پہلے گزر چکے ہیں ماموں جرمن بخاری سے پہلے گزر چکے ہیں بخاری کی حدیثوں کی کچھ پروا نہیں کرتے اور ان کا زمانہ قریب تھا نادر السلام کے قریب ترین زمانے میں تھے اللہ کے وہ دائی تھے ان کو پہنچتی اس لئے مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کو نہ چھوڑا جائے ورنہ ایمان سے ہاتھ جائے گا ان نظر نہ العیون من الحق شیئا پھر اگر حکم کا فیصلہ بھی نہ مانا جائے تو پھر وہ حکم کس چیز کا یعنی جس مسیح نازل ہونا تھا اس نے حکم ہو کر آنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ اس منصب پر فائز کیا گیا اللہ تعالی کی طرف سے طواف ہیں آپ یہ فیصلہ فرما رہے ہیں ماسوا اس کے اگر نہایت نرمی کریں تو ان حدیثوں کو جن کا مرتبہ دے سکتے ہیں اور یہی محدثین کا مذہب ہے یا نہیں یہ مہدی کے بارے میں میں جس کے ساتھ کسی قسم کا استعمال لگا ہوا ہے کی بنیاد محض پر رکھنا اور خدا کے کتی یقین کلام کو پس پشت ڈال دینا کونسی عقلمندی ہے اور ایمانداری ہے نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو ردی کی طرف پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے وہ قبول کرو جو قرآن کے منافی اورمعارض نہ ہو طلاق نہ ہو جاؤ نزول مسیح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرما دیں کہ ان حدیثوں کی کیا حیثیت ہے ان حدیثوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شادی کے بارے میں بیان ہوئی ہیں معدہ کی وہ اعمال عیسائی علماء دیو الٰہی صاحب کتاب الفتن باب میں جس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ وہ صحیح حدیث ہے اس میں سند کے اعتبار سے بھی درستی پائی جاتی گوجرہ اس پر بھی ہوئی ہے مگر سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو اس میں یونس بن عبدالاعلی صرف یہ ہی تہذیب التہذیب جو راویوں کے حالات بیان کرتے ہیں اس میں ملوث قرار دیا ہے انا مسلم ہے محمد بن خالد الجندی ہمارے سامنے موجود مشہور کہا ہے مجھے اس کا مطلب ہے اس کے بارے میں نہیں جانتا نہیں دیکھا اور ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے تہذیب اور ابن معین جو ہیں وہ امام الجرح و تعدیل ہے حدیث کے راویوں پر پوری طرح چھان بین کرنا اس میں یہ معاملہ ہے انشاءاللہ اس میں یہ بھی لکھا ہے انس بن مالک صحابی ہیں تو یہ دی حکومت سر یعنی صحیح ترین حدیث بنتی ہے وہ یہ جو روایت آئی ہے علماء جو ایسا اس کی بنیاد قرآن کریم میں ہے کریم یہ کہتا ہے ہمیں کہ میں بہت سارے نبیوں کا ذکر فرمایا اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جعلناھم آئمۃ یھدون بامرنا ہم نے ان کو امام بنایا اور وہ ہدایت دینے والے تھے نبی جو ہے امام ہے اور مہدیہ ہے جو اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ ہو نبی جو خاص طور پر جان بھی ہے وہ براہ راست اللہ سے ہدایت پانے والا ہے اس لیے وہ ماضی ہے تو یہ آیت جو ہے سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 74 ہے ہر نبی کو امام اور مہدی قرار دیا یہ جماعت احمدیہ اس سے امام کو مانتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آیا نبوت کے مقام پر ہے اس کو نبی کر دیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علی النبی قرار دیا ہے یہاں کے بات آئی مگر کے مطابق یہ بالکل واضح ہے کہ اگر مخالفین جو یہ اعتراض کرنے والے ہیں مرحومہ وہ مسیح بنی اسرائیل کے مسیحائی ساتھ ہیں اگر وہ بھی آتے ہیں ان کا ذکر بھی سورۃ انبیاء کی آیت میں موجود ہے آگے امام بھی ہوں گے اور عزت دینے والے ہو بہر حال یہ آیت اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جو بھی ہو وہ امام بھی اور مہدی اس حدیث کو قرآن کی قسم کھا سکتے ہیں اس سوال کے جواب سے پہلے جو مخالفین کی طرف سے اور بھی کہتے ہیں کہ خود بھی احادیث کی آڑ میں اپنا معبود ہونا ثابت کیا ہے اس کے بارے میں اس کی روشنی میں ضروری ہے بالکل روشنی ڈالتے ہیں السلام علیکم لکھا ہے کہ میں نے حدیثوں پر بنیاد ڈالی ہے لیے نہیں تو اعتراض نہیں بنتا بات کر پیش کر کے اس اعتراض کو بناتے ہیں یہ درست بات نہیں یہ غلط بات ہے کتے ہیں جس شخص کو خدا نے کشف مامتا کیا اور بڑے بڑے نشان اس کے ساتھ پردہ فرمائے اور قرآن کے مطابق ایک رہا اس کو دکھا دیں تو پھر وہ بعض حدیثوں کے لیے اس روشن اور یقین کی راہ پر چل پڑے گا یہ اللہ تعالی کا براہ راست سلوک ہے اس کے ساتھ کاش کا اور کیا اس پر واجب نہیں ہے کہ جو کچھ خدا نے اس کو دیا ہے اس پر عمل کرے اگر خدا کی پاک وحی سے حدیثوں کا کوئی مضمون مخالف اوئے وہی کو قرآن سے مطابق وے قرآنی ہے غزل میں جو وحی نازل ہوتی ہے اللہ تعالی کے پاک بندوں پر وہ اس قرآن کریم کے تحت ہے تو یہ وہی جو قرآن کریم کے مطابق ہیں اگر روٹھ جاتے ہیں وہ اگر خدا کی پاک وحی سے حدیثوں کا کوئی مضمون مخالف پاوے بھائی کے بھی مخالف اور قرآن کے مخالف ہو اپنی وحی کو قرآن سے مطابقت پائی اور بعض حصوں کو بھی مائی اس کی نوعیت دیکھیں تو ایسے دوستوں کو چھوڑ دیں میری بہن کو اپنا نا یہ حدیث بھی موجود ہیں ٹھیک ہیں اصل بنیاد قرآن کریم ہے لیکن جو مخالف ہو گی اس کو ترک کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ قرآن کے مار سکتی ہے قرآن سے متصادم ہے تو فرمایا کہ ایسی حدیثوں کو چھوڑ دیا ورنہ دوسروں کو قبول کریں جو قرآن کے مطابق ہیں اور اس کی وحی کے مخالف ہیں اس کی مزید وضاحت پھر جاتے ہیں اور یہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے جواب میں دیا پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو مسیح اول کی پیشگوئی کا خیال کیوں دل میں آیا پیسوں سے ہی لیا گیا تھا پھر حدیثوں کی وہ علامات کیوں قبول نہیں کی جاتی فرمایا یہ سادہ لوح یا تو اس طرح سے اسے کہتے ہیں اور یا محض حماقت سے اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوی کی حدیث بنیاد نہیں ہے یہ جواب موجودہ اسے اپنی تحریر میں نے اپنی طرف سے بات کر دی مایا کہ میرے اس دعوی کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وہی ہے جو میرے پر نازل ہوئی عطائی طور پر ہم وہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں جو آپ کے مطابق ہے اور میں ہیں میری وہی کے معارض نہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست وہی ہے آپ کا اور دوسری حدیثوں کو مرضی کی طرح پھینک دیتے ہیں کیونکہ وہ بعد میں کھڑی ہے وہ قرآن کے معارض ہیں متصادم ہیں تو ان کو اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہیں اردو کا دنیا میں موجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعوے کو کچھ فرق نہیں پڑتا ہاں خدا نے میری وہی میں جا بجا قرآن کریم کو پیش کیا ہے اور براہین احمدیہ میں دیکھو گے اس دعوے کے متعلق کوئی حدیث بیان نہیں کی گئی جابجا خدا تعالی نے میری وہی میں قرآن کو پیش کیا ہے تو یہ حضرت موسی علیہ الصلاۃ و السلام کی طرف سے وضاحت موجود ہے کہ آپ نے حدیثوں پر بنیاد نہیں رکھی ہاں یہ بات ہوتی ہے پہلے انبیاء میں بھی امن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے کی بنیاد وہ پیشگوئیاں نہیں تھے جو حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت داؤد علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت عیسٰی علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام نے کی ھجتنی جتنی پیشگوئیاں وہ ان پر سلام ان پر دیکھتی تھی دعوے کی تائید کرتی تھی یا اور پیو کا جتنا حصہ تائید کرتا تھا وہ آپ کی صداقت کو پیش کرتا تھا لیکن یاد نہیں تھا مگر تائید وہ کرتی ہیں تو ان کو لیا گیا ہے وہ پہلے یہ اسلام کی آمد کو آپ کی بعثت کو آپ کے وجود کو آپ کی نبوت کو ثابت کرتی ہیں سرائیکی سہرا شاعر کہتا ہے نہ کہ صرف اس پھول پہ آتی ہے بہار وہ تو بہت ہوتے ہیں جن میں صرف اس پھول پہ آتی ہے بہار جو تیری زلف میں جا لگا جو بھی نبی کے صداقت کے ثبوت پر اس پر چسپاں ہوتی ہے وہ لینے کے قابل ہی نہیں ہے تو اعظم مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر بھی جو پیشگوئی ہی لگتی ہیں آپ کی صداقت کو ثابت کرتی ہیں اس کی تائید کرتی ہیں وہیں لینے کے قابل ہے کیونکہ قرآن کریم کے مطابق ہیں اور آپ پر ہونے والی وحی کے مطابق ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تو باقی یہ کہتے ہیں کہ حدیث کی آئی ڈی ہے میں نے کہا آپ کو عزت دینی تھی وہ تو خود ایسی مخدوش روایات جو مہدی کے بارے میں ہے ان کی اور کیسے لے سکتے ہیں حضرت موسی علیہ السلام نے جو لیا وہ میری طرف سے آپ پر نازل ہونے والی وحی اور قرآن کریم سے 2019 اس کی وضاحت فرما دی ہے باقی یہ کہ جتنی پیشگوئیاں مسیح کی آمد کے بارے میں یا امت میں کسی مسلک کے آنے کے بارے میں ہے وہ مثلا ایک لو کان الایمان فی الثریا کو ہر شخص سانحہ ہے جس نے سریا سے معنی چلانا ہے ایک صدی کا مجدد ہے اور تیسرا رسول اللہ صل وسلم کی اپنی دوسری باسط حج سورہ جمعہ میں بیان کی گئی ہے اور چوتھا مسیح پانچواں مہدی اور چھٹی پر خلافت کی بھی ہے موسم کی پیش گوئیاں آئندہ زمانے کے مسئلہ کے بارے میں موجود ہیں یہ اس کا مطلب ہر پیشگی کے مطابق ایک شخص آئے گا بہت اچھے لوگ ہو گئے یہ دوسرے مذاہب میں بھی آخری زمانے میں کل جو کہلاتا ہے زمانے میں کسی کی موت کی خبر ہے تو لوگوں کا ایک کتنی تعداد ہو جائے کہ مسلمان کی اور یہ خدا تعالیٰ کی توحید کے خلاف ہمارے اس پاک وجود میں جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے بارے میں پیشگوئی فرمائی کے لائنز نہ ہی کو معلوم ریما تو میں نازل ہوگا وہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شکل میں ایک وجود میں آنا بھی مہدی ہیں آپ ہی عنصر وسلم کے دوسری بات ہے آپ اسلام کی دوسری بات ہے اور باقی سارے مذاہب کی دنیا میں بھی آپ میں پوری ہوتی ہیں ایک وجود میں اور یہ خدا تعالیٰ کی توحید کا اصل مرکزی نقطہ ہے کہ ایک شخص ہوں اب اس میں یہ ہے کہ جو روایت جو حدیث خدا تعالیٰ کی پہلی شہادت کے ذریعہ ثابت ہوتی ہو سکی ہے اور یہی وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے فعل سے ثابت ہوئی ہے کہ مسیح اور مہدی ایک ہی مسیح اور مہدی ایک ہی وجود ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور پذیر ہو چکی ہے اور آپ کی صداقت کو اللہ تعالی اپنے تائید نشانات کے ذریعہ اپنی فیملی کی شہادت کے ذریعہ اپنی نصرت کے ذریعہ ثابت ہے جزاکم اللہ احسن الجزاء ہادی صاحب ناظرین کرام اگر پروگرام میں ایک نئے طرز کے جواب کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ صرف دشمن کو کیا ہم نے بہت ضد ہے کا کام ہے علم سے احمدیہ مسلم جماعت ثانیہ کی الہی تحریک

#Islam#Ahmadiyya#True Islam 𝗢𝗥𝗜𝗚𝗜𝗡𝗔𝗟 𝗦𝗖𝗔𝗡𝗡𝗘𝗗 𝗥𝗘𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗟𝗜𝗡𝗞: https://bit.ly/34sfPHs 𝐕𝐈𝐃𝐄𝐎 𝐇𝐈𝐆𝐇𝐋𝐈𝐆𝐇𝐓𝐒 (𝐌𝐈𝐍𝐔𝐓𝐄 𝐂𝐀𝐒𝐓): 0:50 : 𝑸𝒖𝒆𝒔𝒕𝒊𝒐𝒏: 𝑩𝒓𝒂𝒉𝒊𝒏 𝑨𝒉𝒎𝒂𝒅𝒊𝒚𝒚𝒂 𝑽𝒐𝒍 5 𝑷: 356: 𝑨𝒍𝒍 𝑨𝒉𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒐 𝒂𝒑𝒑𝒓𝒆𝒂𝒓𝒂𝒏𝒄𝒆 𝒐𝒇 𝑴𝒂𝒉𝒅𝒊 𝒂𝒓𝒆 𝒄𝒐𝒏𝒕𝒓𝒂𝒅𝒊𝒄𝒕𝒊𝒏𝒈, 𝒘𝒆𝒂𝒌 𝒂𝒏𝒅 𝒇𝒂𝒃𝒓𝒊𝒄𝒂𝒕𝒆𝒅. 1:40 : 𝑨𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓: 𝑶𝒓𝒊𝒈𝒊𝒏𝒂𝒍 𝑻𝒆𝒙𝒕 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌 𝒉𝒊𝒈𝒉𝒍𝒊𝒈𝒉𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒉𝒆 𝒂𝒄𝒕𝒖𝒂𝒍 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒂𝒏𝒅 𝒓𝒆𝒂𝒔𝒐𝒏𝒊𝒏𝒈 3:25 : 𝑨𝒏𝒔𝒘𝒆𝒓: 𝑨𝒏𝒐𝒕𝒉𝒆𝒓 𝒘𝒓𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝒕𝒉𝒆 𝒃𝒐𝒐𝒌𝒔 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑷𝒓𝒐𝒎𝒊𝒔𝒆𝒅 𝑴𝒆𝒔𝒔𝒊𝒂𝒉 (𝒂𝒔) 𝒉𝒊𝒈𝒉𝒍𝒊𝒈𝒉𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒕𝒉𝒆 𝒄𝒐𝒏𝒅𝒊𝒕𝒊𝒐𝒏 𝒐𝒇 𝒕𝒉𝒆 𝑨𝒉𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒓𝒆𝒍𝒂𝒕𝒆𝒅 𝒕𝒉𝒆 𝑴𝒂𝒉𝒅𝒊 6:45: 𝑯𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉: “𝑴𝒂𝒉𝒅𝒊 𝒊𝒔 𝒏𝒐𝒕𝒉𝒊𝒏𝒈 𝒃𝒖𝒕 𝑬𝒔𝒔𝒂” (𝑰𝒃𝒏 𝑴𝒂𝒋𝒂) 𝒊𝒔 𝒂𝒖𝒕𝒉𝒆𝒏𝒕𝒊𝒄 𝒂𝒏𝒅 𝒊𝒔 𝒊𝒏 11 𝒃𝒐𝒐𝒌𝒔 7:05 𝑹𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆𝒔: 𝑭𝒓𝒐𝒎 𝑻𝒂𝒉𝒛𝒊𝒃 𝒖𝒔 𝑻𝒂𝒉𝒛𝒊𝒃 𝒘𝒉𝒆𝒓𝒆 𝒕𝒉𝒆 𝑹𝒆𝒍𝒂𝒕𝒐𝒓𝒔 (𝑹𝒂𝒗𝒊) 𝒂𝒓𝒆 𝒑𝒓𝒐𝒗𝒆𝒅 𝒕𝒐 𝒃𝒆 𝑨𝒖𝒕𝒉𝒆𝒏𝒕𝒊𝒄 (ثقہ) 8:10 𝑷𝒓𝒐𝒐𝒇 𝒇𝒓𝒐𝒎 𝑸𝒖𝒓𝒂𝒏: 𝑨𝒍𝒍 𝑷𝒓𝒐𝒑𝒉𝒆𝒕𝒔 𝒂𝒓𝒆 𝑰𝒎𝒂𝒎 𝑴𝒂𝒉𝒅𝒊 10:00 𝑷𝒓𝒐𝒐𝒇: 𝑴𝒊𝒓𝒛𝒂 𝑺𝒂𝒉𝒊𝒃’𝒔 (𝒂𝒔) 𝒄𝒍𝒂𝒊𝒎 𝒊𝒔 𝒃𝒂𝒔𝒆𝒅 𝒖𝒑𝒐𝒏 𝑸𝒖𝒓𝒂𝒏 𝒂𝒏𝒅 𝒉𝒆 𝒅𝒊𝒅 𝒏𝒐𝒕 𝒖𝒔𝒆 𝑨𝒉𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒕𝒐 𝒑𝒓𝒆𝒔𝒆𝒏𝒕 𝒉𝒊𝒔 𝒄𝒍𝒂𝒊𝒎 15:00 𝑷𝒓𝒐𝒐𝒇: 𝑻𝒉𝒆 𝒂𝒉𝒂𝒅𝒊𝒕𝒉 𝒏𝒆𝒆𝒅 𝒕𝒐 𝒃𝒆 𝒖𝒏𝒅𝒆𝒓𝒔𝒕𝒐𝒐𝒅 𝒄𝒐𝒓𝒓𝒆𝒄𝒕𝒍𝒚 𝒘𝒊𝒕𝒉 𝒓𝒆𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒄𝒆 𝒕𝒐 𝑸𝒖𝒓𝒂𝒏 𝒐𝒕𝒉𝒆𝒓𝒘𝒊𝒔𝒆, 𝒑𝒆𝒐𝒑𝒍𝒆 𝒂𝒓𝒆 𝒘𝒂𝒊𝒕𝒊𝒏𝒈 𝒇𝒐𝒓 6 𝒅𝒊𝒇𝒇𝒆𝒓𝒆𝒏𝒕 𝒑𝒆𝒓𝒔𝒐𝒏𝒂𝒍𝒊𝒕𝒊𝒆𝒔 𝒕𝒉𝒂𝒏 𝒋𝒖𝒔𝒕 𝒐𝒏𝒆

 52 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: