کابل کی سرزمین اور ایک سو بیس سال پرانی پیشنگوئی




کابل کی سرزمین اور ایک سو بیس سال پرانی پیشنگوئی 

Streamed live on Aug 15, 2021

برکاتہ ارشد والا لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسول اللہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیممعزز سامعین کا مشاہدین کرام خاکسار مربی سلسلہ حضرت بانی جماعت احمدیہ مسلمہ کی مرکزی ویب سائٹ www.ubqre.org پروگرام کو لے کے ایک اور نشست لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے ہمارے پروگرام کا نام ہے اس کا نام اردو جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارا یہ پروگرام ہفتے کی چھٹی بنایا کرتا ہے تین دن اس پروگرام کو مزہ لے کر حاضر ہوتا ہے اور تین دن گلے کے مولانا عظیم صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی ہیں ہماری یہ پروگرام صرف جمعہ کے روز نہیں آتا اس کے علاوہ ہم کوشش کرتے ہیں کہ باقی ہفتے کی چھٹی پروگرام بتائیں گی کہ آپ کی خدمت میں پیش کیا کریں ہمارے اس پروگرام کا دورانیہ جو ہے وہ تیس سے چالیس منٹ کے لقب ہوا کرتا ہے پروگرام کے دو حصے ہوتے ہیں جیسے میں ہم جماعت یا کی مرکزی ویب سائٹ ہے وہاں سے کوئی نہ کوئی مضمون یا کوئی ویب سائٹ کا فیچر آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے ہیں اور پروگرام کے دوسرے حصے میں ہم آپ کے لائق جو سوالات ان کو لے کر ان کا جواب دیتی ہیں کیونکہ وہ کی کمی ہوتی ہے اس وجہ سے اگر کبھی کسی دوست کا سوال اس پروگرام بنا لیا جا سکے تو آپ ہمارا ای میل ایڈریس نوٹ کر لیں میں نے پہلے بھی آپ ہمیں اپنا جو سوال ہو بھی چکی ہے اردو اس یو آر یو ایس کے ایک الاسلام daughter آئیے اس موضوع کی طرف چلتے ہیں وہ آج کی ہماری گفتگو کا اصل موضوع ہے جس پر آج آپ کی خدمت میں چند گزارشات جو ہیں وہ میں پیش کرنا چاہتا ہوں جیسے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک قابل کی سرزمین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے افغانستان کے حالات دن بدن بگڑتی چلی جارہی ہیں روز وہاں پے ایسی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے انسان کام کرتا ہے انسانیت کے خلاف معصوموں کے خلاف عوام کے خلاف وہ کچھ نہ بولا ہے پہلے بعض یورپین مغربی اقوام نے افغانستان میں دہشتگردی ایک جنگ کے اوپر ایک محاذ آرائی کی اس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں افغانستان اور پاکستان کی بھی ہزاروں کی تعداد میں نہتے لوگ دیتے شہید کئے گئے پھر دہشت گرد جو تنظیم کی بجائے اس کے قدموں کی مزید پڑھیں چلی گئی اور اب جب حال ہی میں امریکی جو فورسز تھی جو فوج کی مسلح افواج کی تھی جب امریکہ کی فوج وہاں سے نکلی ہے قابل سے اور افغانستان سے تو بیچارے زمین افغانستان کی اپنی فوج جوتی وہ اس ملک کا جو حصہ ہے اس کی حفاظت نہیں کر سکی اور طالبان نے چند دنوں کے اندر اندر ملکیوں پر ایک رنگ اپنا قبضہ جما لیا اور اب چونکہ یہ پہلے بھی برسر اقتدار آ چکے ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ طالبان جو ایک تنظیم ہے یہ کس قسم کے کام پہلے کر چکی ہے کہ اس قسم کے کام یہ کر سکتی ہےاور کس قسم کی کام انہوں نے دوبارہ کرنے شروع کر دیے ہیں لیکن میں اس بارے میں آج آپ کے ساتھ بات نہیں کرنا چاہتا میں جس سے میں بات کرنا چاہتا ہوں اس کا تعلق ایک سو بیس سال پرانی ایکشن کے ساتھ ہے  آپ نے صحیح سنا 120 سال پرانی ایک پیشنگوئی کابل میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے لوگوں کے ہوش اڑا دیں ایک عرصہ سے دل دہلا دینے والا واقعہ ایک ایسا واقعہ جس کے نتیجے میں ایک معصوم انسان کو ایک نیک انسان کو ایک گولی انسان کو قتل کیا گیا صرف اس وجہ سے کہ اس نے اس دور میں ظاہر ہونے والے امام مہدی علیہ السلام مسیح علیہ السلام کو دیکھا پہچانا منا ان کی بیعت کر لی ان کی جماعت میں شامل ہو گئے میں جس مبارک ہستی کا ذکر کر رہا ہوں ان کا نام ہے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالی عنہ  ان کا تعلق خوست کے علاقے سے تھا وہاں کے ایک بہت بڑے بے غیرت بھی تھے اور آپ کو اس وقت جو امیر افغانستان تھا اس کے یہ دربار میں رسائی بھی حاصل تھی اور وہ ہر اہم امور میں آپ سے مشورہ کیا کرتا تھا پھر اچانک کیا ہوا کہ یہی امیر افغانستان کا جو تھا اور عوام آپ کے خون کی پیاسی ہوگی وہ کچھ یوں کے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ حج کے ارادے سے نکلتے ہیں اور راستے میں آپ کو پتہ چلتا ہے کہ امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے لہذا آپ حج پر جانے سے پہلے امام مہدی کی زیارت کو جب جاتے ہیں تو امام مہدی کو آپ جانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے واقع ہے ایک سچا موجود ہے جو دنیا میں رونما ہوا ہوا وہ میری کون تھا وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلاۃ و السلام کی ذات بابرکات دی  سجاد عبداللطیف حیدری چندمہ قادیان میں رہتی ہیں اور حضرت امام مہدی علیہ الصلاۃ والسلام کی سہولت سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور اس دوران آپ کو الہام ہوتا ہے کہ سرزمین کے قابل ہے اس کو آپ کا فون چاہیے یعنی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ہمیں بتا دیتا ہے کہ آپ کی شہادت ہوئی دوسری طرف آپ کے آقا حضرت امام مہدی علیہ السلام کو بھی اللہ تعالی اللہ اکبر بتا دیتا ہے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں وہ شہید ہونے والی ہے بہر حال مردا ہمت واپس اپنے ملک آتا ہے تھانہ کے اگر کوئی انسان ہوتا ہے ممکن ہے کہ اگر کوئی خبر دی جاتی ہے کہ کابل میں شہید کردیا جائےگا عین ممکن ہے کہ اگر کوئی انسان ہوتا تو وہ بھاگ جاتا لیکن صاحبزادہ عبداللطیف عید نہیں بھاگے آپ سے مل گئے آپ  جی سی ملک کے اندر قدم رکھا آپ کو بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا کیونکہ امیر افغانستان جو تھا اس تک یہ خبر پہنچی کے صاحبزادہ عبداللطیف ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے امام مہدی علیہ صلاۃ و سلام کے بیٹھ کر لیا مولویوں نے جیسے کہ مولوی حضرات میں کہتی ہیں کہ انہوں نے ملک کا بادشاہ تھا اس کے کان بھرے اس کے کان میں غلط قسم کی افواہیں ڈال دیں اس کے نتیجے میں آپ کو بالآخر شہید کردیا کہ سنگسار کر دیا گیا میں اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی ڈیٹ میں تو نہیں جاتا لیکن یہ کہ جو حضرات اس بارے میں ہے کچھ پڑھنا چاہیے ان کے لیے کتاب ہے جو ہماری مرکزی ویب سائٹ ہے وہ میں ابھی چند ثانیوں میں آپ کو دکھاؤں گا جن کے اوپر اگر یہ آپ کا اسکرین کے اوپر کتاب دیکھ سکتے ہیں اس کا نام ہے تذکرۃ الشہادتین یہ ہماری الاسلام کی جو لگ رہی ہیں 

‏islam.org لاش اردو کے اس کتاب کا لنک جو ہے یہ میں چین میں اس وقت سے لے کر وہ جو کرنا ہے کہ اس کتاب کو پڑھ بھی سکتے ہیں یہ کتاب حضرت امام مہدی علیہ السلام مسیح موعود علیہ السلام میں داخل ہوکر قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کی تصنیف لطیف ہے روحانی خزائن کی کتب کا مجموعہ ہے اس کی نمبر20 میں یہ کتاب آتی ہے تذکرہ تو شہادت ہے جس میں ذکر ہے دو لوگوں کی شہادتوں کا ایک تو حضرت سعد عبداللطیف ہیں اور آپ کے شاگرد شہادت کس دن ہوئی اور ان کے واقعات کیا تھے اس کی ڈیٹیل آپ کو اس کتاب میں مل جائے گی اگر آپ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اگر آپ کا تعلق یا آپ کو شوق ہے پڑھنے کا ڈیٹا یوز معلومات حاصل کرنے کا تو آپ کو یہاں سے حاصل ہو جائیں گی

چاہتا ہوں کہ جب یہ شہادتیں ہوئیں تو اس کے بعد سیدنا امام مہدی علیہ الصلاۃ والسلام نے پیشنگوئی کے رنگ میں ایسا کیا بیان کیا جسے آج تک کابل کی سرزمین جموں اثرانداز ہو رہی ہے خدا کی طرف سے جب بھی کوئی فرستادہ اس دنیا میں رونما ہوتا ہے تو ان کے ہونٹوں سے نکلی ہوئی الفاظ ترکیۃ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ دنیا میں کسی کو اپنی نمائندگی کا حق ادا کرتا ہے جائے خلافت کی صورت میں یا نبوت کی صورت میں تو پھر خدا اس شخص کے الفاظ کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے یہ خدا کی تائید اور شخص کے الفاظ کے ساتھ ہوتی ہیں زمین و آسمان سے تعلق رکھنے والے فرشتے اس کلام کو سچا ثابت کرنے کے لئے لگ جاتے ہیں

آئیے میں آپ کو اس میں سے وہ نماز پڑھ کے سناؤ جواب بھی جب پڑھا جاتا ہے تو کھڑے ہوتے ہیں سید امام علی علیہ الصلاۃ والسلام نے تحریر کیا آپ نے فرمایا اس تمام وہی حال ہی میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف مرحوم کا اس بے رحمی سے مارا جانا اگر چہ ایسا عمل ہے کہ اس کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے بما آرائیں ناول من و یزداں لیکن اس خون میں بہت برکات ہیں کہ بعد میں ظاہر ہوں گے اور قابل کی زمین دیکھ لے گی یہ خون کیسے کیسے پھیلے گا یہ خون کبھی ضائع نہیں جائے گا پہلے اس غریب عبدالرحمان میری جماعت کا ظلم سے مارا گیا پہلے اس سے غریب عبدالرحمان

جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس کو پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ہوں گے گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو ان ہی دنوں میں سخیدہ کا بل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے کردار اور عزیز بھی اس جہاں سے رخصت ہوئی مگر ابھی کیا ہے یہ کون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے سے خون کی زمانے میں نہیں ملے گی ہائے اس نادان ویر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا اب یہ الفاظ وہ چنگا اے کابل کی زمین دوبارہ ہے کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا تو خدا کی نظروں سے گر گئی

تو اس ظلم عظیم کی جگہیں یہ بھارت اپنے اندر ایک پیشنگوئی کا رنگ رکھتی ہے زمین جس کے اوپر یہ واقعہ رونما ہوا تب سے لے کر آج تک اس سرزمین نے امن قائم نہیں دیکھا سلامتی کمیٹی نہیں دیکھا ہمیشہ تب سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی واقعہ کوئی حادثہ اس سرزمین پر رونما ہوتا چلا رہا ہے یہ باتیں شاید دنیا لوگوں کو عجیب معلوم ہو لیکن وہ جو تھوڑا ہی تھوڑی سی بھی تقوی کی شناسی رکھتا ہے وہ جو خداشناسی رکھتا ہے وہ جو خدا والے ہیں وہ لازمی طور پر کسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ الفاظ کسی عام انسان کے الفاظ نہیں تھے جس نے یہ تحریر فرمایا کے اقبال کی زمین دوبارہ ہےتو اس ظلم عظیم کی جگہیں یہ بھارت اپنے اندر ایک پیشنگوئی کا رنگ رکھتی ہے زمین جس کے اوپر یہ واقعہ رونما ہوا تب سے لے کر آج تک اس سرزمین نے امن قائم نہیں دیکھا سلامتی کمیٹی نہیں دیکھا ہمیشہ تب سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی واقعہ کوئی حادثہ اس سرزمین پر رونما ہوتا چلا رہا ہے یہ باتیں شاید دنیا لوگوں کو عجیب معلوم ہو لیکن وہ جو تھوڑا ہی تھوڑی سی بھی تقوی کی شناسی رکھتا ہے وہ جو خداشناسی رکھتا ہے وہ جو خدا والے ہیں وہ لازمی طور پر کسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ الفاظ کسی عام انسان کے الفاظ نہیں تھے جس نے یہ تحریر فرمایا کے اقبال کی زمین دوبارہ ہے

جماعت کا ظلم سے مارا گیا اور خدا چپ رہا مگر اس کو پر اب وہ چپ نہیں رہے گا اور بڑے بڑے نتائج ہوں گے گیا ہے کہ جب شہید مرحوم کو ہزاروں پتھروں سے قتل کیا گیا تو ان ہی دنوں میں سخیدہ کا بل میں پھوٹ پڑا اور بڑے بڑے ریاست کے نامی اس کا شکار ہو گئے اور بعض امیر کے کردار اور عزیز بھی اس جہاں سے رخصت ہوئی مگر ابھی کیا ہے یہ کون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے سے خون کی زمانے میں نہیں ملے گی ہائے اس نادان ویر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا اب یہ الفاظ وہ چنگا اے کابل کی زمین دوبارہ ہے کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا تو خدا کی نظروں سے گر گئییہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے بدقسمت زمین تو خدا کی نظروں سے گر گئے جو اس ظلم عظیم کی جگہیں کوچی کابل کی سرزمین کی پچھلی 120 برس کی تاریخ اٹھا کے پڑھ لیں اور خود دیکھیں کیا اس سر زمین پے امن قائم ہوا ایک کے بعد دوسرا جاتا ہے بادشاہ اس دنیا اس زمین کے اوپر ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ظلم کرے پھر یہ کب تک چلے گا یہ سلسلہ زمین کب تک چلے گا جب تک وہ سر زمین جس نے ساری عدالتی شہید رضی اللہ تعالی عنہ کا فون آیا تھا وہ لوگ جو اسکول میں شامل تھے جب تک انہیں کی نسلیں اسی سرزمین پر امام مہدی علیہ السلام کو قبول نہیں کر لیتی یہ سرزمین خدا تعالی کی نظر سے جو گزر چکی ہے واپس تک نہیں ہو سکتی

یہ ان کی بیعت میں داخل نہیں ہوتے اس سرزمین کے یہ واقعات رونما ہوتے چلے جائیں گے یہ ایک سو بیس سال کی تاریخ شاہد ہے اس بات پر گواہ ہے اور آج ان کے آگے اور کتنا سفر لگے ہم جو خود بھی مسلمان مانتے ہیں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی اس سرزمین کو اور اس کے باشندوں کو بچائے اور ہم ساتھ میں گاؤں کے کوشش کرتے ہیں کہ میں بھی علیہ السلام کا جو پیغام ہے وہ اس سرزمین کے باشندوں تک پہنچانے کی کوشش ہے لہذا سرزمین افغانستان کے جو بادشاہ تھا امیر تھا جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مولانا بشیر الدین محمود احمد صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ ایک کتاب لکھی جو فارسی زبان میں امیر کو بھیجی گئی جس کا نام ہے دعوت ملی ہے جس میں جماعت احمدیہ کا پیغاماگر ہم چاہتے ہیں کہ سرزمین پہ ظلم و تعدی اور بربریت کا جو بازار گرم ہو رہا ہے وہ ختم ہو تو لازمی ہے کہ یہ سرزمین قابل اس امام مہدی مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہو جائے جس کے انکار کے نتیجے میں جس کی مخالفت کے نتیجے میں جس کے پیروکاروں کو شہید کرنے کے نتیجے میں یہ بات الگ نظر سے گزری ہم جو اس وقت کافی دور بیٹھے ہیں کابل کی سرزمین سے صرف اس کے لئے دعا کرسکتے ہیں اللہ تعالی رحم فرما دیں لیکن اللہ تعالی بھی رحم فرماتا ہے جب خدا تعالی کی تقدیر کے مطابق وہ باتیں لازمی طور پر ظہور پذیر ہو جس کی وجہ سے وہ سرزمین خدا کی نظر سے گزری تھی بس جب تک اس سرزمین کے باشندے اس دور کے امام کو امام علی رضا علیہ الصلاۃ والسلام کو پہچاناسلوبی کے ساتھ خوبصورت پر پہنچایا گیا جماعت احمدیہ کے فارسی زبان میں ٹرانسلیٹ ہو کے اس سرزمین تک اس سرزمین کے لوگوں تک اس زبان کے بولنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ہماری ویب سائٹ الاسلام ڈاکٹر جی اس کے اوپر بھی خاصی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کلام موجود ہے لہذا آپ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ اس کلام کو خاص طور پر دو حسنین جو مسیح موعود علیہ السلام کی فارسی زبان میں ہے اور اسی طرح دعوت اسلامی ان دو کتابوں کو جتنا زیادہ فارسی بولنے والے دوستوں تک پہنچ سکتے ہیں اور پہنچا یہ دونوں کتابیں ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں www.boy کے بعد اب آپ لوگوں کی طرف سے جو بھی ہمیشہ موصول ہو رہے ہیں ان کی طرف چلتے ہیں کیونکہ آج بازور پروگرام بھی اس وقت ہم واپس ہو رہے ہیں اس وجہ سے آج کا پروگرام زیادہ نہیں کیا جائے گا میں آج کا پروگرام مفتی تقیکے مارکیٹ کی جگہوں کو ختم کر دوں گا ہمارے پاس تقریبا پندرہ منٹ ہیں سوالات وغیرہ لینے کے لیے میں پیغامات کو آج ہی نہیں کروں گا جو اسلام علیکم سب دوستوں کی طرف سے پیغامات بنا رہے ہیں آپ سب کو سلام جو بھی سوال یہ مسئلہ ان سوالوں کی طرف چلتے ہیں دانش صاحب کی طرف سے سوال آیا ہے کہ اسلام علیکم وعلیکم السلام کیا گھر میں اگر میاں بیوی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتے ہیں تو اقامت اور کہیں گی یا نہیں بتا دیں بات یہ ہے کہ اگر میاں بیوی نماز پڑھی ہیں تو اس میں اقامت کی اس طرح سے ضرورت نہیں ہے امت کی اس نے اس طرح سے ضرورت نہیں ہے بعض لوگوں کو وہ کہتے ہیں شوق کے طور پر ہم چاہتے ہیں کہ ایک عام طور پر اگر وہ چاہتے ہیں اس طرح سے کہ بی زروری کہو تو حرج بھی کوئی نہیں حضرت اقدس حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے دعامیں یہ سوال ایک دفعہ ایک شخص نے کیا تھا کہ کیا گھر میں اگر کوئی بیٹی ہے یا بیوی ہے تو کیا وجہ ہے کہ سکتے ہیں اس وقت خلیفہ دوم سیدنا عمر رضی اللہ تعالی نے جواب دیا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر آپ ان کے چکروں میں ابھی تک بیٹھے ہیں تو نماز پڑھے گا تو اس غرض یہ کہ نماز ہو جاتی ہے فقہ حنفی کی بات تو فقہ کی رو سے ضروری نہیں ہے کہ اور جو ہے وہ کام بھی کہے بغیر کام کے بھی اس طرح سے نماز ہو جاتی ہے ایک سوال کی طرف چلتے ہیں بعض حلقوں کی طرف سے اس قسم کے پیغامات آتے ہیں کہ جی ہمیں فائنل اسسٹنس کریں یا پیسے وغیرہ کے ذریعے حل کریں یہ پروگرام آپ کے نام جو ہے اس کا تعلق جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ السلام کو عرضی کے ساتھ ہے ہم اس پروگرام میں اسلام سے متعلق اہل بیت کے متعلق لوگوں کے جذبات ہوتے ہم ان کے جوابات میں رہتی ہیں میری بات مانی جاتی تو مالیاتیہ جماعت یا میں کل کے شعبہ ہے آپ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں 100 کہتے ہیں مجھے پیسے دے تو آپ کے مذھب میں داخل ہوجاؤں گا آپ ہمارے مذہب میں داخل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو آپ سمجھے داخل ہونا چاہتے ہیں کہ آپ کی مالی مدد کی جائے مالی مدد کرنے کے لیے کسی خاص مذہب سے تعلق ہونے کا اللہ تعالی نے کس نبی نے فرمایا اللہ تعالی نے قرآن پاک میں جہاں بھی غرباء کی مدد کرنے کا ذکر کیا کہ یہ بھی فرمایا کہ وہ ہر بار جب تک مسلمان نہ ہو اور مسلمانوں میں بھی تمہارے مسئلہ کے حل تک ان کی مدد کرے تو اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ جی ہاں ہم اب بھی ہو جاتے ہیں مسلمان ہو جاتے ہیں تاکہ تمہاری بہن سے مدد کر سکتا بے شک ہم بھی مسلمان نہ ہو کیونکہ یہ غلط ہے کسی بھی مسئلہ ہو یا کسی بھی مذہب میں داخل ہونے کے لئےجاوید تاریخ سے واپس بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی اگر آپ اسی سوال کو مجھ سے اردو میں لکھ دیں تاکہ میں سمجھ سکتا ہوں مبشر صاحب کا سوال ہے آپ کہتے ہیں کہ زلزلے کی دعا کے درمیان خلافت کی بنا پر سکتے ہیں آپ کے سوال کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ قرضے کی دعا اگر آپ پڑھ کر صرف کے لئے تو بعد مسنون دعائیں ہیں اجنبی ہیں تو ان دونوں کو پڑھنے کے بعد اگر آپ خلافت سے متعلق پڑھاتے ہیں اس میں کوئی ایسی بات نہیںسوات جی عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کہاں موجود ہے ان کی قبر کی عذاب لوکیشن کے بارے میں دو خاصہ کو نہیں پتا کیونکہ جہاں پر ان کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہاں سے ان کی جو جگہ تھی اس کو ایک ایسی جگہ پر منتقل کرکے دفنا دیا گیا تھا کہ جہاں پر عوام الناس کو پتہ نہ چل سکے کہ سکیورٹی کی وجہ سے بنا وہ لاش کی بے حرمتی کی ہے وہ کرتے تو اس بارے میں میں نہیں جانتا کہ ناشتہ ہے ان کی قبر میں دفن کی گئی تھیسوال ہے کہ جی نویں اور دسویں محرم الحرام کی حقیقت کیا ہے اور روزہ رکھنا کیسا ہے رہنمائی فرمائیں ہیں صلی اللہ علیہ وسلمکو ایک روزہ رکھا کرتے تھے رمضان کے روزوں سے پہلے یہی کے ابھی رمضان کے روزے جو تھے ان کی فرضیت نہیں آئی تھی اللہ تعالی کی میں تو اس سے پہلے اللہ علیہ وسلم یہ دسویں محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے اور دسویں محرم کو روزہ کیوں رکھا کرتے تھے دس محرم کے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ اس تاریخ کو دودھ کی کمی ہوتی ہے وہ روزہ رکھا کرتی تھیں اور ان کے ہاں یہ روایت چلی آ رہی تھی کہ یہ تاریخ ہے جب اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو یہودیوں کو فرعون کے شکنجے سے نجات بخشی تھی تو اس دن کرانے کے طور پر قوم یہود بنی اسرائیل جو ہے وہ روزہ رکھا کرتی تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس روزہ رکھا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالی نے مسلمانوں کو مومنوں کو جو اللہ تعالی نے خود رمضان کے تیس روزے عطا فرما دیں یا رمضان کے پورے مہینے کے روزے دار فرما دیے تو اس کے بعد پھرالسلام نے جس نے دسویں محرم کا روزہ ہوتا ہے کہ جس کو غالب عاشورہ کا روزہ بھی کہتے ہیں یا آپ نے پھر نہیں رہتا لیکن اگر کوئی شخص مر جائے تو اس کی ممانعت بھی اس طرح سے نہیں اس روزہ دار السلام علیکم رمضان کے روزے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ رمضان کے روزوں کی ترتیب توجہ نہیں دیتے اور ادھر ادھر جو دوسرے بازو کا ذکر روایات میں ان کی تعداد ہوتا ہے تو اس کی مثال ہے فرض کو چھوڑ کے سنتیں پڑھی جاۓ حنفی ہے اصل چیز پر فرض ہے جو فرض کی ادائیگی ہو جائے اس کے بعد دہشت گرد و نواح میں ان کی تربیت جو کرے تو پھر کوئی حرج کی بات نہیں ہمارے پروگرام کے تقریبا ساڑھے چھ گھنٹے رہ گئے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل آج احمدیہبھوک لگی ہے اور کی ان کی نسل کے لیے ان کی نسل سے ایسے احباب ہیں جن کو کھا کر خود ذاتی طور پر جانتا ہے بلکہ ایک رنگ میں ان کا نمبر بھی ہے نمبر اسلامی کے جہاں میں رہتا ہوں وہاں سے کوئی بھی زیادہ دور رہتے ہیں نہیں تو زیادہ عبدالغنی شہید رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد ہے وہ دنیا بھر میں پھیل گئی اور اللہ تعالی کے فضل سے احمدیت اپنے ساتھ لے کے وہ آدھی دنیا کے چاروں کونوں میں پہنچ چکے ہیں سردار صاحب کی جنت ہےخدا تعالی نے تو صاحبزادہ عبداللطیف اللہ تعالی عنہ کی نسل کو بہت نوازتا ہے کیونکہ وہ آیت میں داخل لیکن وہ جنہوں نے امت مخالفت میں سب کو شہید کیا آج ان کا نام لینا بھی کوئی نہیں بلکہ نہ صرف یہ کہ ان کا نام لینا کوئی نہیں آج انہی کی سرزمین دبا رہتا ہے پچھلے ایک سو بیس سے زیادہ تر ہوتی چلی جاتی ہےسلالہ کے لوگ جو تحائف وغیرہ پڑھتے ہیں نماز کے علاوہ یہ تعداد میں آتے ہی بات یہ کہ بعض واقعات ایسے ہیں جو مسجد کے اندر شامل ہوجاتی ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کا شاید کسی روایت میں آپ کو کہیں پہ کوئی ذکر وغیرہ جائے وہ مل بھی جائے لیکن اسلام اس بارے میں جو حکم ہے وہ اس بارے میں جو ہدایت ہے گائیڈنس ہے سید مہدی علیہ الصلاۃ والسلام ایک دفعہ سوال کیا گیا جس میں آپ نے اس کا بڑا کی ایک جماعت یا کسی دوست نے آپ سے یہ لکھیں یہ کہ کوئی شخص بغیر بتا دیں تو حضرت اقدس امام مہدی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اصل وظیفہ دو نمازیں ہے کیا کرتے ہیں کہ نماز کو چھوڑ کے باقی وہ جیسے ہی وہ ان کے اوپر زیادہ جلدی پنسورہ پڑھتے ہیں آپنقیب اللہ محسود خبریں یا خدا تعالی کی طرف سے بہت زیادہ پڑھی یہ وہ جگہ ان کے اصل وظیفہ حاصل دعا کو چھوڑ کر باقی سب کی طرف زیادہ توجہ دینا وہ جیسی بوبی خان صاحب کی طرف سے ایک سوال آیا ہے کہتے ہیں بالکل ایمانداری سے بتانا امام مہدی کے ظہور کی نشانیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہیں آپ کا ظہور کس مقام پر ہوا تھا ایمانداری سے بتانا پلیز جھوٹ نہیں بولنا پہلی بات تو یہ کہ ہمارے پیارے بھائی جماعت احمدیہ میں الحمداللہ ہم لوگ جھوٹ کو گناہ سمجھتے ہو ہم تو جھوٹ بولتے ہیں آپ کے مولوی حضرات صبح شام دن رات بغیر کسی تفریق کے کپڑے موجود ہوتے ہیں مثلا اگر اپنے مولوی حضرات سے جاکے جماعت احمدیہ کے بارے میں کوئی بھی بات ہوئی تھیان کی جماعت احمدیہ کے بارے میں کوئی ایک بار بتا دو میں آپ کو یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ عین ممکن ہے کہ جو بھی بات ہو تو بتائیں گے وہ نوٹس غلطی ہوگئی ہے ممکن ہے کہ سو فیصد جھوٹ یوں تو دنیا کی پہلی بات تو یہ کہ جھوٹ والی باتیں تو ہمارے ہاں کوئی بھی بولتا رہا ہم لوگ نہیں بھولتے آپ کے مولوی حضرات ایک ضروری بات یہ کے ایمانداری سے ہم آپ کو یہ بتائیں کہ امام مہدی نے انہیں کس مقام پر تھا تو آپ اگر حدیث پڑھتے ہیں تو آپ کو بتاؤں گا کہ امام مہدی کی آنے کی ایک جگہ کے بارے میں ذکر نہیں بعض روایات میں آتا ہے کہ میں بھی جاؤں مدینے میں آئے گا بعد میں آتا ہے کہ میں آئے گا یہ کہتے ہیں کہ وہ بیت المقدس ہے فلسطین کا علاقہ ہے وہاں پیدا ہوگا کہ خراسان میں پیدا ہوتا ہے بعض کہتے معونہ میں پیدا ہوگا بعض روایات میں ہندوستان کا ذکر آتا ہے بعض روایات میں خدا کا ذکر ہےلوکیشن نہیں کیا پتہ چلا یہ پتہ چلا کہ کوئی پانچ موجود ہوں گے تو ہمیں بھی ہونگے ایک بندے نے پانچ جون کو پیدا ہونے ہے اگر کسی مذہبی پھر کیا پتہ چلتا ہے جب نماز شروع کرتے ہیں کے متعلق امام مہدی کے متعلق اکثر حدیث جو ہے وہ کانٹے ہیں ان میں آپس میں تضاد ہے اس کی وجہ کیا ہے تعداد کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مسالک کے جو لوگ تھے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق امام مہدی کے متعلق حدیثیں بھی بنائی جو آیا کہ نہیںوہ یہ کہتا تھا کہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک کوئی ان کو بنیالوی کہتے تھے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی دوسری شادی ہوئی ہے کوئی یہ کہتا ہے کہ جی وہ امام جو ہوگا وہ سرے سے ہوگا ہی نہیں خاندان رسول سلسلے میں آتا ہے کہ وہ صرف اعظم کی امت کا ایک فرد ہوگا پھر امام علی کے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ امام مہدی الگ وجود ہیںاور عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور امام مہدی نماز پڑھیں گے لیکن پھر یہ بتاتی ہیں کہ امام مہدی اور مسیح جو ہیں وہ کوئی دو الگ وجود میں ایک عہد کا نام تو اتنی متضاد باتیں آپ کو ملتی ہیں آپ کس چیز کے ملیں گے آپ جس بات کو لیں گے اس کے خلاف آپ کو بتا دو روایات میں کھو گئی تو یہ جس کی وجہ سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے امام مہدی کے متعلق ایک بھی حدیث کا ذکر نہیں کیا گیا دیس صحیح بخاری نہیں آتی جس نے امام مہدی کا استعمال کیا ایک بھی نہیں آتی کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ امام دینا نہیں تھا ہرگز نہیں آنا تھا لیکن امام بخاری کے نزدیک اکثرآدھی جو تینوں ساری کی ساری چیزیں ایک عرصہ سے انتظار تھا سب سے بڑی بات یہ کہ نشانیاں تو نشانیوں کی مطلب ہیں آپ اگر حدیث کو کھول کے دیکھ لیں قران کو قران کے اخری پارے کی پہلی سورت تقویر وغیرہ میں اللہ تعالی نے انسان کو بتا دیںنعت خان ہوں گے ٹھیک ہے پھر اسی طریقے سے جواب ہمیں آگے نکلنے کا ذکر تھا پھر ریل گاڑی وغیرہ وغیرہ ایجاد کی طرف یہ پیشن گوئی تھی پھر ہلکے کا ذکر آتا تھا جگہ یہ ماڈل ٹاؤن کورٹس غیر ہیں اس بارے میں کافی ڈیٹیل میں ہم پہلے بھی جواب وغیرہ اپنے پروگرام میں لے چکے ہیں ہمارے اس پروگرام کو آگے چاند اور سورج گرہن کا ذکر آتا ہے کہ ان کے مہینے میں دو دفعہ چاند سورج گرہن ہوگا یعنی ایک دفعہ ان کو دھاگے کا ایک دو سورتوں کی زندگی کا رمضان کے مہینے میں جب امام مہدی کا دعویدار امام بھی مہدویت کے دعویدار دنیا میں موجوداور پوری دنیا میں جب سے دنیا قائم ہوئی ہے آج وسلم کا فرمان ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صرف ہماری ماضی کے لیے یہ نشان کہ اللہ تعالی نے پورا کردیا اٹھارہ سو چورانوے 1850 سے اس کی پر بھی ہماری اگر آپ نے اس میں چلے جائیں آپ کے ماموں کی تو وہ آپ کو ایک فوری بھاڑ میں جائے گی یہ نشان بھی پورا ہوا پھر ٹاؤن کا ذکر تھاپڑے گی اس کا ذکر تھا پیشن گوئیوں میں وہ بھی پوری ہوگئی تو بڑی بات یہ ہے کہ جو پیشن گوئی کی تھی وہ تو پوری ہوگئی ہیں آپ بیٹھے ہیں نہیں جی ابھی تک نہیں بلکہ آپ کے اپنے بڑے آپ کے اپنے اجداد آپ کے اپنے بڑے بڑے علماء جو چکے ہیں صدیوں پہلے وہ یہ کہتے ہیں کہ چودھویں صدی کے سر کے اوپر ہوا میں دینے ہیں نواب صدیق حسن خان صاحب آپ کے علم میں آپ کے علماء میں سے وہ یہ کہتے تھے کہ چودھویں صدی کے ساتھ فرمایا آپ کے بڑے بڑے علماء نے لکھا ہے کہ چودھویں صدی جو ہے وہ سندھی ہے جس نے امام مہندی ہے قاسم تیمور آئے گا سوال یہ ہے کہ آپ کے علماء کے نزدیک تو اس صدی کے ساتھ جانا تھا ہم کیا کہا گیا جانی تھی وہ پوری ہوگی دعویدار بھی آگیا جماعت بھی ٹائم کردیں پھر جماعت کے متعلق نشانی تھی وہ بھی پوری ہو گئی ہیں ایک روایت میں آتا ہے کہ امام علی جب آئے گا تو اس کے 313 صحابہ ہو اور وہ اس کا نام ایک کتاب میں لکھے گا یہ نشانی پوری ہوگئی یہ بھی نشانی تھیمہدی آئے گا تو جب وہ بات کرے گا اس کی بات عثمانی برقی لہروں کے ذریعے دنیا کے دوسرے کونے میں بھی پوچھیں گے ہوئی وغیرہ کے ذریعے آج امام مہدی علیہ السلام کا پیغام پوری دنیا کے قریب پیشن گوئی کہ دامن نہ بھیگ جائے گا تو اس کے آگے خلافت شروع ہو گی پچھلے ایک سو بیس کے اوپر ہونے کو آیا بلکہ نا تو یہ چاہیے کہ ایک سو انیس سو ساٹھ سے لے کر اب تک ایک سو تین سال ہو گئے ہیں جماعت اسلامی خلافت کا اخلاق کی مالک ہیں کیا وجہ سے آپ لوگوں کو یہ چیزیں دکھائی نہیں دیتی وہ پیشنگوئی ایمان کے متعلق سے تعلق رکھتی تھیں بڑے زور و شور کے ساتھ پوری دنیا میں دیکھی کہ وہ پوری ہوگی ایک دنیا ہے جو امام علی علیہ الصلاۃ والسلام کو مان کہ ان کی جماعت میں داخل ہو رہی ہے آپ بھی کہتے ہیں کہ سچ بتانا نشانیاں پوری نہیں کیا نشانی ہےکتاب پڑھی ہمیشہ اپنے مولویوں کے بینک اکاؤنٹ بتاتے ہیں قیامت کے روز اپنے مولویوں نےآپ کو نہیں پہچانا سب سے پہلے لگاکے ملیں گے قیامت کے روز اللہ تعالی نے جب سوال پوچھتے ہیں کہ حاجی امام علی کو بھیجا تھا نا کہ اس وقت آپ کے مولوی حضرات دائیں بائیں دائیں ہو جائیں گے اس لئے مولوی سے پیچھا چھڑایا خود چیک کریں اور ترقی کے لئے ہماری ویب سائٹ آپ کے لئے اسکرین کے لکھاری ایک بار دیکھ لیں تاکہ آپ ہماری ویب سائٹ پر جا کے جو بھی ہمیشہ آپ کو چاہیے آپ کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں آج کا پروگرام میں کیسے ختم کریں ہمارے پروگرام کا دورانیہ آج کے لئے صرف اتنا ہی تھا باقی وہ لوگ جن کے سوالات کے پروگرام میں رہ گئے آپ اپنے سوالات بے شک کال پوچھنے والا ایمیل کسی سے پوچھنے انشاءاللہ آپ کے ہر سوال کا حکم ضرور جواب دیں گے یہ ہمارا ہے اب بھی سات بجے انشاء اللہ تعالی آپ کے سوالات کے جواب دیں گے بعض دفعہ بات سوالات کے لئے تھوڑی سیٹنگ کرنی پڑتی ہے کچھ پڑھنا پڑتا ہے اس سے تھوڑی دیر لگ جاتی ہے اسے معاف کیجیے گا ہم یہ نہیں چاہتے کہ آپ کو غلطفیدیو جدید بھیجیں ہم یہ چاہتے ہیں اگر ٹائم لگ جائے لیکن ماں باپ کو درست ہے جو ہے وہ بھی جائے ای میل ایڈریس معلوم کرنے اردو اسپیچ الاسلام ڈاٹ او آر جی اسی کے ساتھ آپ اپنا آج کا پروگرام ہے اس کو ختم کرتی ہیں اپنے پیارے آقا اپنے پیارے امام حضرت محمد مصطفی سید الانبیاء خاتم النبیا کائنات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر درود شریف پڑھے اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللہ وعلیٰ آل محمد کمابارکت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 401 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: