Rahe Huda – Wafato Hayate Maseeh Esa pubh – Quran Se Saboot




Rahe Huda – Wafato Hayate Maseeh Esa pubh – Quran Se Saboot

Rah-e-Huda – 11th January 2020 – London UK

غلام سے نبھانا اردو خدایا ہے تو نبھانا لو دو شمسا یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اس وقت جی ایم ٹی وقت کے مطابق آپ کے چار بچوں کے ہیں اور ایم پی اے انٹرنیشنل پر یہ وقت ہے پروگرام راہ خدا کا پروگرام آپ کے سامنے ایم پی اے وطن کے لندن سٹوڈیو سے پیش ہے اور یہ پروگرام دراصل آپ کے لئے ہے جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں آپ کے بارے میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو آپ اس پروگرام میں کرسکتے ہیں گزشتہ پروگرام سے جس موضوع پر ہم گفتگو کر رہے ہیں وہ سے کے وفات مسیح کا موضوع بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں آپ امام مہدی ہیں کی بنیاد اس بات پر ہے جو قرآن کریم سے بھی ثابت ہوتی ہے احادیث سے بھی ثابت ہوتی ہے خود بائبل بھی اس کی گواہی دیتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام ایک طرف صلیبی موت سے تو اللہ تعالی نے معجزانہ رنگ میں آپ کو نجات دی اور دوسری طرف آپ ایک بھرپور زندگی گزار کے تقریبا ایک سو بیس سال کی عمر میں سنت اللہ کے مطابق اس دنیا سے چلے گئے جماعت احمدیہ نے اپنی کتب میں اس کا بھرپور انداز میں ذکر کیا ہے اس موضوع پر یا کسی اور بارے میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتی ہوں اگر آپ سوال کرنا چاہیں تو اس پروگرام میں شامل ہوسکتے ہیں سوال کرنے کے طریقوں گے تو آپ کو اسکرین پر مستقل ہمارا واٹس ایپ نمبر نعرہ ہوگا واٹس ایپ نمبر پر آپ تحریری سوال بھیج سکتے ہیں اور اس طرح وائس میسج کے ذریعے بھی سوال بھیج سکتے ہیں لیکن اگر آپ فون کرکے خود اس پروگرام میں شامل کرنا چاہ رہے ہیں آ رہے ہیں تو اس کے لیے آپ نے رابطہ کرنا ہے ہمارے لینڈ لائن نمبر پہ اس تمہیدی کلمات کے ساتھ ہم آج کے پروگرام کا آغاز کرتے ہیں یہ اسٹوڈیو میں خاکسار کے ساتھ شامل گفتگو ہو گے مولانا نصیر احمد قمر صاحب اور مولانا فضل الرحمن ناصر صاحب جب کہ ان شاءاللہ ٹیلیفون لائن کے ذریعے ہمارے ساتھ گانا سے شامل ہوں گے مولانا عبدالسمیع خان صاحب کرام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ہر دعوے کی بنیاد قرآن کریم پر رکھی ہے فنی کریم سے آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کا جو دوبارہ آنا ہے وہ تمثیلی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات میں پورا ہوا ہے آپ نے فرمایا مریم مر گیا داخل جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اس کو فرقہ سر بسر اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر ہم آج کے پروگرام کا آغاز کرتے ہیں اور میں چاہوں گا کہ میں اب آپ سے بات کرو السلام علیکم عبدالسمیع خان صاحب وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سمی صاحب جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دعوے کی بنیاد ہمیشہ قرآن کریم پر رکھی ہے اور وہیں سے جو بات آپ نے بیان کی ہے اس کا ثبوت پیش کیا ہے گزشتہ پروگرام میں ہم نے تفصیل کے ساتھ بائبل کے حوالوں کا ذکر کیا ہے میں چاہوں گا کہ اس پروگرام کے آغاز میں ہی اس پر روشنی ڈالیں کہ قرآن کریم واقعہ صلیب کے بارے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے یہ آپ کو مولانا فضل الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عمران خان اور موت کے متعلق اختلافات پیدا نہیں ہوئے اس میں حضرت موسی علیہ السلام عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے سے عمر یہ ہے کہ حقیقت واٹس ایپ سب سے پہلے روایت توڑ دیتا ہوں اس میں پرانے فریم میں واقع ہے کیا ہے ہے جو لوگ کیا اس میں نہ کو ہمیں معلوم ہے آیت بے وقوف بنا رہا ہے ‏ma ho na movie ملحدین خلاف ورزی ہے نفیس کے من ہو اللہ کے رسول نے مریم کو مل کر دیا ہے حالات کے ناولوں میں اس کو قتل کیا اور نہ انھوں نے اسے سلیکٹ کر مارا ہے کے لیے مصروف اور لوگوں میں اسلام کیا ہے میں کیا سمجھوں اب آپ پر ظلم کیا ہے ایک بڑے آیا ترجمہ نگاری کے اصول پڑھائی نہیں قرآن میں اور بھی کئی جگہ پر کیا کر رہے ہو عمران صابر شاکر کے مطابق ملک میں دکھایا گیا اس کے بعد ان کے بیٹے اور سرکار کے خیال کرتے تھے مسجد کو منتقل کر دیا گیا کیا گیا اب وقت آ گیا ہے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ سال اچھا ہے ثابت کرنا چاہتے جب اللہ تعالی نظر بد سے بچائے ہاں کھانا چاہتا تھا ہیلو کے بارے میں مسلمانوں کی تعداد اور ا میں اپنے حالات پر رکھی ہے اور بھوک اور پیاس اس کے بعد میں عرب شام کیا گیا کی طرف سے ہوا اور خطرہ پیدا ہوا کہ شام ہو جائے اور نام کا مطلب کہاں ہو جائے جب روم کے بارے میں ان کے سینے میں ٹھنڈ بیمار اور وہ اس کے بعد میں اور اس کے بعد اللہ تعالی وہ اس کے بارے میں فرماتا ہے اور شکریہ اور اللہ تعالی کی ذات اور جدید ہے اس بات پر کے والدین کے مغفرت فرمائے اس کے بارے میں بیان اور حضرت موسی علیہ السلام علیکم فلیٹ سے اتارے گئے اخلاق ڈرامہ حسد سے بچا جائے لیکن السلام علیکم اور یہ بات کر رہا ہوں بات کر لیا کرو آمد کے خلاف بھرپور استعمال کرتے ہوئے اور ان کی قبر کشمیر میں موجود ہے کشمیر کے ساتھ جو قرآن کریم میں جو موقع پر بیان کیا گیا ہے اس کا ذکر کر دیا ہے نصیب پر ہم قرآن کریم کے مضمون کوئی آگے لے کے بڑے تو ویسی باتیں ایک غلط بات امت مسلمہ میں بھی رائج ہے جو لوگ جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتے وہ بھی کچھ عقائد رکھتے ہیں تو ان کی طرف سے خاص طور پر جو آئے تھے سورہ آل عمران کی آیت ہے جس میں اللہ تعالی فرما رہا ہے انی متوفیک کا عراقیوں کا علیہ و متحرک ان الذین کفرو کچھ ہمارے مخالفین جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ تو ایک کی حالت ہے اس میں تو واضح طور پر پتہ لگ رہا ہے کہ گویا اللہ تعالی نے ان کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا جسم کے ساتھ تو میں چاہتا ہوں کہ کچھ تفصیل کے ساتھ آپ اس آیت کے بارے میں بھی ہماری رہنمائی کر دیں اس میں تو درست ہے کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے ادا فرمایا یہ پوری فرمائیں کیا تم مجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور افیون کھا لیا اور دوسری طرف فرمایا بھی کہا اللہ ہو اللہ اپنی طرف اٹھا لیا لیکن یہ بات وہ کہاں سے نکالتے ہیں کہ ان کو جسم کے ساتھ اس وجہ سے ان سری ان کو وہ اللہ نے اٹھا لیا اس پر کہ جس کے متعلق پیغام محاورے میں بھی کیا ہے ہمارے اردو زبان میں کہتا ہے شکر ہے تو کیا مطلب ہوتا ہے کہ وہ سوال تو اٹھا لیا کہتے ہیں کہ فلاں کو اللہ نے اٹھا لیا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں نہیں رہا اور اس کے متعلق میں نے کہا جا سکتا کہ اس کا آگے واقعہ خدا کے ہاں اس کا رتبہ اور مقام کیا ہے اللہ تعالیٰ خودکشی کے متعلق فرمائیے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا تو اس سے مراد ہمیشہ کے بعد اس کے درجات کی بلندی اللہ کی قربت ہوتی ہے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام سے متعلق خاص طور پر ایسے الفاظ کے ایسے معنی کرنا چاہتے ہیں رانا کرتے ہیں جو کسی اور کے متعلق ہو اور ان معنوں کو کرتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس سے عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے متعلق جو عیسائیوں کا عقیدہ ہے اس کو تقویت ملتی لیکن آج بھی اگر آپ پتا کریں اور انٹرنیٹ پر بھی ایسے سائٹس ہیں جس میں یہ موجود ہے اور عیسائی جو ہیں وہ اپنی دینے والوں کو اپنے والدین کو یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں میں تبلیغ کے متعلق جائے کہ دیکھو تمہارے قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ جب ان سے تمہارے رسول سے یہ کہا گیا کہ تو آسمان پر چڑھ تو اس نے کہا کہ صبح قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا اے محمد سلیم آپ یہ اعلان کر دیجئے کہ میں بہت سی باتوں سے پاک ہے میں تو عشق رسول ہوں اور رسول جو ہوتا ہے وہ آسمان پر زندہ اس طرح نہیں چلا کرتا اور آپ ہی مانتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام بجٹ عنصری آسمان پر زندہ چڑھ گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بشر نہیں تھے اور بشر رسول نہیں تھے بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ دے اور وہ خدا تھے اور خدا کے بیٹے تھے اسی لیے تو اللہ تعالی ان کو جسم کے ساتھ کیا گیا اور اس کا احمدی علماء کے پاس اور اس عقیدہ رکھنے والوں کو جواب نہیں پھر وہ کہتے ہیں کہ دیکھئے آپ کے قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ ما جعلنا لبشر من قبلک الخلد کہ تجھ سے پہلے کسی بشر کو ہم نے دائمی زندگی نہیں دی اور وہ غیر ملکیوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ یہ نہیں مانتے کہ آپ علیہ السلام کو زندہ جس میں عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا گیا تو پھر وہ برسوں سے بڑھ کر ہوئے نا وہ جو زندہ آسمان پر ابھی تک خدا کے ہاں موجود ہے اہمیت ہے یا وہ جو فوت ہو چکا ہے وہ جو بشر رسول کے طور پر ہے یا وہ جو شریعت سے بڑھ کر آپ کو عزت دے رہا ہے اس لیے ایسا عقیدہ اپنا لیا جو عیسائیوں کے کو تقویت دیتا ہے جس میں وہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو مافوق البشر قرار دیتے اور خدا یا خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں حیرت کی بات ہے کہ وہ لوگ جو رات کو کہاں سے یہ سمجھ لیکن جسمانی طور پر اٹھا لیا وہی بات کرتے ہیں یہاں پہ اللہ تعالی کے حضرت عیسی کو اپنی طرف اٹھانے کا ذکر ہے یا خدا دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوں جیسے کہ اس بات کا حق رکھتے ہیں بات مانتے ہیں کہ سارے اسلام آسمان پر ہیں لحاظ سے لیکن کیا جسمانی طور پر مانا جائے تو پھر کیا خدا بھی وہیں پہ بیٹھا ہوا ہے کیوں غلط اعتراف کیا حال ہے یہاں پر صرف اللہ کا ذکر ہے رفع استعمال کر نہیں ہے لیکن ہمارے جو بغیر جماعت جو ہم سے اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں علیہ الصلاۃ والسلام کبھی زندگی گزار کر وفات پائی اور وہ ان کی جسمانی حیات کے قائل ہیں وہ اس کا ترجمہ کرتے رفع السماء کا اور آیت کا حوالہ دیتے اور آف علیہ کا رفع اللہ کا تم سے یہ سوال ہے کہ کیا خدا دوسرے انسان پر موجود ہے دو ایک طرف یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں مسلمان یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالی توجہ دو اور مکان کی حدود سے بالا ہے وہ تو آسمان میں بھی ہے زمین میں بھی اللہ انہوں نے اسلام آباد ہر جگہ موجود ہے وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم تو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ خدا جو ہر قسم کی جہتوں سے پاک ہے اس کو تو ایک محدود جگہ قرار دے رہے ہو طارق سے بھی زیادہ قریب ہے اگر اس نے السلام کا رفع اپنی طرف اگر جانور سے نفع سے مراد یہ کہ جسمانی طور پر ان کو اپنے پاس کر لیا بڑا مزا کہاں ہے یہ ایسے سوالات اٹھتے ہیں ان کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں اور پھر ہم پڑھتے ہیں ہم موت کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون کیا مطلب کیا جاتا ہے کہ جسمانی طور پر لوٹنے والے ہیں نمازوں میں دعا کرتے ہیں بین السجدتین جو دعا ہے اس میں بر فانی کی دعا کی جاتی ہے کہ اللہ میرا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا یہ دعا کرتے تھے سابق بھی کرتے تھے کیا کسی کا نہیں ہوا اس رنگ میں جسمانی طور پر اٹھا لیا گیا مولانا صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا قبول نہ ہوئی ایسے مانے کرنے جس کو قرآن مجید کرتا ہے کی توحید اس کی عظمت و شان کے خلاف ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مترادف یہ خطرناک بات ہے کوششوں کو تقویت نہیں ملتی بلکہ عیسائیوں کے عقائد کو تقویت ملتی رافضیوں کا سے یہ مراد لینا مثال کے طور پر رہا کیا یہ درست نہیں اور پھر اس آیت پر بھی غور کرلیا جائے تو یہ بات اور بھی آسان ہو جاتی آپ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ تعالی علیہ الصلاۃ والسلام سے فرماتا ہے یا عیسی انی متوفیک و رافعک علیہ بے وفا دوں گا اور تیرا رفع کرونگا یہ بات جو ہوتا ہے وہ ہمیشہ روحانی رفع ہوا کرتا ہے سجاد کی بلندی کا ہوا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھنے کا رکھا ہوا ہے وفات کے بعد یورپ ہے وہ ہوا کرتا ہے وہ ایک نبی کا ہوا ہر خدا کے نیک بندوں کا تو یہ ہے جو اس کے معنیٰ ہے ترتیب کو بعض لوگ تو یہاں تک چلے گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ باہر اللہ آسمان پر پہنچ جانا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت میں اس میں غلطی ہو گئی ہے لیکن وہاں پر بھی نہیں اس لفظ کو رکھا جا سکتا کیونکہ باقی تین چار واقعات میں چاروں ایک ترتیب ہے اور اسی ترتیب سے یہ خدا کے وعدے اس واقعہ کی زندگی میں پورے ہوئے ہیں خدا پر بھی اعتراض کرنے کے لئے تیار ہیں کلام اللہ میں تحریف کا اعتراض کرنے کے لیے تیار ہے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام دھرنے کے لئے تیار ہیں لیکن عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آپ جس طرح نثری آسمان پر پہنچ جانا ہے تو یہ نہایت خوفناک عقیدہ ہے قرآن کریم جو ہے القرآن یفسر بعضہ بعضا بھی ہے دیگر آیات میں اس مضمون کی روشنی ڈالتی ہیں حضرت یوسف علیہ الصلاۃ و السلام خدا کے برگزیدہ رسول حضرت علی کا قول بناتا ہوا اور دیکھیں نہیں یہ چاہتے تھے کہ آپ کو پر موت دی جائے تاکہ آپ ان کے اپنے کتاب کے مطابق کہ جو کاٹ پر مارا جائے ولادت ہی ہوتا ہے حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذباللہ معلوم ثابت کریں اور یہ ثابت کریں کہ یہ خدا کا مقرب بندہ نہیں تھا دور تھا یہ شیطان کا پیدا ہوا تھا اور اس کے مقابلے پر یہ فرمایا کہ رافضیوں کی اہلیہ یہود اپنے مرنے بدرا دے میں ناکام ہوں گے کبھی وفا دوں گا اور یہ جو الزام تجھے دیتے ہیں اور مجھے جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہیں تجھے میرے درد کا ہر انداز کر دینا چاہتے ہیں میں تجھے کہتا ہوں کہ میں تیرا رفع کروں گا اور تیری عزت و عظمت دنیا میں کام کروں گا اور ایسا ہی ہوا بالکل ٹھیک بالکل فضل صاحب وہی ہوا ہے جو ہر پروگرام میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے کثرت کے ساتھ واٹس ایپ کے ذریعے سوالات آنے شروع ہو گئے تو میں چاہوں گا کہ انہوں نے کی طرف چلی عارف زمان صاحب بنگلہ دیش ایک بہت بنیادی سوال نہ کر رہے ہیں میں چاہتا ہوں آپ اس پر تفصیل سے روشنی ڈال دیں اور یہ پوچھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں یہ جو ذکر ہے کہ ان کی عمر 120 سال ہوئی وہ 120 زندہ ہے اس کا کوئی ثبوت پیش کرتے اسلام علیکم ابراہیم رضیہ کے یوں تو ہمارے پاس حدیثیں بھی ہے جن میں اور صرف ایک کتاب میں نہیں عدد ایسی حدیث کی کتابیں ہیں جن میں بڑی واضح طور پر حدیث علیہ السلام کی عمر 120 سال کی 125 سال کی ہوئی ہے اور ایک مسلمان جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والا ہے اس کے لیے میں سمجھتا ہوں تو بہت بڑی دلیل ہے لیکن تھوڑا سا اس کے علاوہ ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں زندہ ہو پر ڈالا ہے کہ ہر چیز کو ہم قرآن کریم سے بھی دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں میں بس میں چند آیات صرف آپ کے سامنے خلاصہ لگتا ہوں کہ جہاں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ صرف ان کی عمر 33 سال تھی اس کے بعد پھر وہ کون عیسائیوں اور مسلمانوں کو آسمان پر اٹھائے گئے تو قرآن جو ہے وہ کہہ رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیا صبح کو وہ اوصانی بالصلاہ تو زکات مادمت حیا برم بوالدتی ولم یجعلنی جبارا شقیا یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا تم مجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون سا ایسا زمانہ حدیث علیہ السلام کے اوپر آیا میں وہ نماز کے بارے میں لوگوں کو کہتے بھی رہے اور پھر زکوۃ بھی دیتے رہے اور والدہ کے ساتھ بھی ان کو سنو کا موقع ملا پھر اسی طرح ایک اور آیت قرآن کریم کی ہے جو بڑا واضح طور پر ہمیں یہ اشارے دیتی ہے کہ نظام کی عمر کی زندگی اس کے علاوہ بھی ہے جو صرف ہمارے سامنے پیش کر دیں اگر ہم تیس سال تک ہی رہے ہیں اس کا مطلب ہے جیسے جیسے عیسائیوں نے ہمارے سامنے یہ سب کو پیش کیا ہے اسی طرح قبول کر لیا ہے آپ نے ان کی بات مان لی قرآن کریم میں فرماتا ہے قاری امام بیت عوا ارباز اقراری میں تو کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشان بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند گاہ کی طرف ہم یہ پوچھتے ہیں کہ تیس سال کی زندگی میں کونسا ایسا واقع ہوا جب تو اسلام کو ہی نہیں آ پائے نہ ہو ماں ان دونوں کو خدا تعالی نے پناہ دی اور خاص لفظ راستہ پر مزید تحقیق کرکے دیکھیں تو ایک تکلیف دے یا کسی مشکل سے نکال کر کسی پناہ میں لے جانے کا ذکر ہو رہا ہے اس کے بارے میں قرآن حکیم نے اشارہ بھی کیا کہ وہ کوئی ایسی جگہ ہے روزہ کے بارے میں نہیں یہاں تک کہ احادیث کا تعلق ہے یہ کنز العمال کی حدیث ہے جو حضرت فاطمہ زہرا سے یہ روایت ہے کہ عیسی بن مریم عاش عشرین و آتا ہے ناراستی نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں صابن مریم جو تھے وہ ایک سو بیس سال زندہ رہے تم مجھے میرا خیال ہے کہ میں تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں فوت ہو جاؤں گا اور اس پر اور حدیث میں یہ بھی بتاتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عام طور پر بھی جو ہیں وہ اپنے پہلی نبی کی عمر سے نصف پاتے ہیں اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا دلچسپ فیصلہ کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ طبرانی اور حاکم حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایسا 120 برس تک زندہ رہے اس نے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں کہاں سے میری عمر عادی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر انسان فوت نہیں ہوئے تو غالبا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک زندہ ہوں گے یہ ساری باتیں کی جائیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنے آپ کی مووی نمبر ایک سو بیس سال ایک سو پچیس سال کی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے جو قرآن عطا فرمایا اور جو حکمت عطا فرمائی اس کا ایک بہت بڑا کام یہ تھا کہ آپ نے اپنے سے پہلے انبیاء اور خاص طور پر جو آپ سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام آئے تھے اور ان کے اوپر ان کی والدہ پر لگنے والے الزامات کی تردید کی یہودی یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے ان کو اس صلیب پر لٹکا کر لعنتی کردیا اور یہودیوں نے عیسائیوں کی بات مانتی مان لیا ہم اس اتنا ہی سمجھے کہ تیس سال کے بعد فوت ہوگیا وہ قتل کر دیئے گئے اپنے اوپر لٹا دیے گئے تو گویا ہماری حالت بالکل یہودیوں اور عیسائیوں والی ہے انشاء اللہ اسی پروگرام میں کچھ مزید باتیں بتائیں گے کہ بڑے واضح طور پر ان کے نشانات ملتے ہیں کہ اسلام کے تیس سال کے بعد کیا مر کے بھی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ باتیں درست کی عمر 120 سال آپ نے نہایت عمدہ پیرائے میں قرآن حکیم کا بھی حوالہ دیا ہے اور خاص طور پر اپنے احادیث کا بھی ذکر کر دیا سے عمر صاحب وہ پاکستان سے وہ جو دوسرا حصہ آپ نے جواب میں سوال پوچھ رہے تھے کہ ہم قرآن کریم سے کیسے ثابت کرسکتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کشمیر میں گئے تھے تو میرے بھائی مجھے امید ہے آپ کو بھی آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہو گا اب میں بات کرنا چاہوں گا اب دوسری خان صاحب سے اور سمی صاحب اسلام علیکم وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ بھائی صاحب ایک اور بہت اہم سوال ہے وہ اس کا معنی خاران ہمارے موضوع سے تو بہت گہرا تعلق ہے تو میں چاہتا ہوں کے آپ کے سامنے پیش جا رہا ہے کہ یہ سوال نہ صرف عصمت احمد صاحب نے سری لنکا سے کیا ہے بلکہ کثرت کے ساتھ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں اور وہ سوال یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شادی کے بارے میں کیا کچھ معلوم ہوتا ہے تو اس بارے میں بتا دیں اور پھر مختلف سوالات میں ان کی اولاد کے بارے میں بھی سوال پوچھا جاتا ہے تو میں چاہوں گا کہ آپ کدھر تفصیل کے ساتھ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ و السلام کی شادی اور اولاد کے بارے میں ہمارے ناظرین کو آج بتا دیں اولاد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے فرمائی ہے جو کہ آپ کی یادوں میں ہی رہتے ہیں یا نہیں اور ان کی اولاد بھی ہو حضرت یوسف علیہ السلام کی شادی ہوئی ہے اور اس کی تائید اور ایک ایسی خاتون کا کردار ہے جو پہلے بھی موجود تھے اس امر کے جملے میں ہے اس کے بعد یہ غلطی سے لیکن شاعری کشمیر پر قرآن کریم اور کون ہے تاریخ السلام علیکم لمبا پنجاب میں موبائل ہے اور ان کے بڑوں کا یہ دور ہے کہ ہم کھیل کے معنی اولاد کے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ اسلام میں بہت زیادہ تھے اور ان کی اولاد بھی ہوئی ہو آپ کے طور پر یہ بات کرنی پڑتی ہے کہ پاکستان ترکش ایئر لائن اور وہ اپنے آپ کو کیوں بھائی میں موبائل کے ساتھ رابطہ ہوا جماعت کے بعد میں قرآن آگئے ہم سے ملے گی اور آپ پڑھنے لگے وہ اللہ کے کیا لگتے تھے وہ انہوں نے شروع ہوگی شادیوں کی روایت کے مطابق السلام علیکم کی حال ہے ہے وہ اپنا حال کشمیر میں ہے موبائل کارڈ ہار گیا تھا ہے کہ ہم نے آیا ہوں ابھی تک ہو نہیں سکتی ان کی اولاد موجود ہے کرتا کہ میں سے معلوم ہوتا ہے کہ کیا بات ہے ہمارا ہوگا لیکن اسٹار پلس کے لئے ہے کیسے ہیں آپ بالکل ٹھیک کہا بھائی صاحب میرے خیال میں بہت تفصیل کے ساتھ آپ نے ہر پہلو سے اصولی طور پر بھی اس بات کا جواب دے دیا ہوا ہے اور یہ بات بھی ہمارے ناظرین کے سامنے اپنے تفصیل کے ساتھ پیش کر دی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شادی ہوئی کہ نہیں آپ کی اولاد ہیں کہ نہیں یہ ایک تاریخی نوعیت کا سوال ہے بہرحال اس کے بارے میں جو ہماری تحقیق جو آپ کے سامنے پیش کر دی گئی ہے مجھے امید ہے کہ وہ تمام ناظرین اور تمام سوال کرنے والے جو سوال کا جواب دینا جو آپ چاہتے تھے ان کو جواب مل گیا ہوگا فضل صاحب ایک اور سوال اس وقت میرے سامنے ہیں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں یہ فرزانہ ڈار صاحبہ ہیں بمبئی انڈیا سے سوال کر رہی ہیں وہ پوچھنا یہ تھا کہ رہی ہیں کہ جو عیسائی آقا مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھے الصلاۃ والسلام کی وفات کے قائل تھے یا حیات کے قائل تھے مرا سوال ہے جہاں تک یہ ہے کہ حدیث الصلاۃ والسلام کے زمانہ کے عیسائی دیکھا جائے تو یہ لوگ اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی عیسائی کوئی ایک فرقہ نہیں تھے ماشااللہ کے زمانے میں ہیں بلکہ حضور صلی اللہ وسلم کے زمانے تک 500 سال ہو جاتے ہیں اتفاق سے میں اس جنوں پڑ رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یورپ کی کیا حالت ہے تو قریب عیسیٰ علیہ السلام کے تین چار سو سال کے بعد یورپ میں عیسائیت آئی ہے ان میں یہ صاحب کی خدائی کے جو بھی تصورات بگڑے ہوئے تھے وہ پائے جاتے تھے اور ظاہر ہے جیل تو دیسی بھی حالت میں تھی گری ہوئی تھی لیکن یہ درست ہے کہ سارے کے سارے ایس آئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک خیال کے تھے نہ ہی اب تک ہے ویسے بھی بات کرتے ہیں تو وہ حدیث انسان کو انسان بھی مانتے ہیں اور اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ پانچ ہجری میں ہجرت کر کے آئے ہیں تو وہاں پر کہ بچہ میں وہاں کے حساب لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدسلوکیاں تو کفار کا ایک وفد گیا جس نے وہاں کے بادشاہ کو مل کر بارش کا یاد لگائیں کہ یہ تو اس طرح کے خیالات نہیں رکھتے ہیں اسلام کے بارے میں جس طرح کہ آپ لوگوں کی ہیں یعنی ان کو خدا نہیں مانتے اور ان کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرتے تو اس نے جو معاشی بادشاہ تھا اس نے مسلمانوں کو بلا لیا اور ان کو بلایا اور ان کے درمیان ایک گفتگو بھی کروائی اور اس میں حضرت جعفر طیار میں سورہ مریم کی آیات کی تلاوت حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کے حالات بیان کرتی ہیں خدا کا ذکر ہے کہ جو بھی احساس ان کی زندگی ملی جس کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ان کو ایک ایسی مبارک زندگی عطا ہوئی جس نے ان کو عزت بھی ملی اور ان کو اپنی والدہ سے اس وقت ملا ان کو اللہ تعالی نے ایک غیر معمولی وجہ بھی عطا فرمائیں جب یہ آیات پڑھیں گی تو جو بھی وہاں جو بادشاہ تھا اس نے کہتے ہیں کہ پاس ایک کنکر اٹھایا اور اس نے اٹھایا اس نے کہا کہ جعفر نے جو بات کی ہے جو عنایات عیسی علیہ السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے یہ السلام آپ کے دن کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہے ملتے ہیں کہ بعض ایسے تھے جو بہت تھے اور ان کے درمیان ایسے مشرکانہ خیالات نہیں تھے لیکن واضح طور پر اگر دیکھا جائے تو ان کے خیال میں اس انسان کو خدا بنانے کے یا جسمانی طور پر ان کو آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کے خیالات و بائبل میں ذکر حسین ی نہیں بگڑی ہے اس کے اندر چلے آتے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ جو عیسائی ان کے تھے جس علاقہ سے حضرت عیسی علیہ السلام حدیث علیہ السلام کو دی گئی اور پھر تیسری حسد کرکے کشمیر کی طرف چلے گئے ہیں لیکن اس علاقے میں نےعیسائیت پھیلی ہے تین سو سال کے اندر یہ بگاڑ پیدا ہو چکا ہوا تھا معاہدہ چلا گیا تھا یہ پتہ لگتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سوال کیا ہے تو اس وقت تک عیسائیوں میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا اور اس میں بھی متفرق جو خیالات رکھنے والے لوگ تھے وہ موجود تھے نصیر صاحب ایک اور سوال اس وقت میرے سامنے ہے جو عبدالرشید صاحب لندن سے کر رہے ہیں قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے ہے میں وہ اسی طرح آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہوں وہ یہ کہتے ہیں کہ جو سورہ صف میں جو ذکر ہے یا طیبہ اس میں بات سے کیا مراد ہے انہوں نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ ہم تو یہ سوال بغیر جماعت کے آگے ہوتا ہے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اس علیہ الصلاۃ والسلام اپنی وفات کے بعد اپنے بعد ایک رسول کی آمد کی خبر دے رہے ہیں جس کا نام محمد ہوگا اور اس سے مراد مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی محمد بھی تھا اور احمد بھی تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے ایک عظیم الشان رسول کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہر بڑے شان کے ساتھ پوری ہوتی ہے میں تو وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں تو پھر اس بات کا کیا مطلب ہوگا اگر وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں میں تو نہیں آ سکتا تھا نہ وہ رسول جس کی وسعت دی تھی ظاہر ہے اس کا ایک ہی نتیجہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ اس علیہ الصلاۃ والسلام زندہ آسمان پر بھیجتے ہیں موجود نہیں ہیں بلکہ وفات پا چکے ہیں کیونکہ انہوں نے اس عظیم الشان رسول کے آنے کی خبر دی تھی اس کا نام نامی احمد تھا وہ ظہور فرما چکا ہے اگر تو یہ ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی نہیں ہوا السلام کی پیشگوئیاں بھی پوری نہیں ہوئی بلکہ جب وہ زندہ کہیں دوبارہ وہ اسی قسم کے ساتھ آئیں گے پھر وہ رخصت ہو گئے تو اس کے بعد یہ پیشگوئی بعد میں بادی والی پوری ہوگی نامعقول اور خلاف حقیقت بات ہے خوبصورتی سے دراصل یہ سوال اٹھا کر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے ان لوگوں کو جو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ الصلاۃ والسلام زندہ آسمان پر موجود ہیں وہ پھر اس بات کا کیا مطلب ہوگا آبادی کا تم میرے بعد اگر وہ خود ہی تو موجود ہیں ابھی تو بات تو نہ آیا شادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور مبارک ہو اتنی عظیم الشان صداقت ہے جس کا نام کتا بالکل ٹھیک بالکل ٹھیک ہیں سب بہت اچھا آپ نے تفصیل کے ساتھ جو سوال کے اندر چھپی ہوئی بات تھی اس کا بھی ذکر کر دیا ہے میں اس وقت پھر السلام علیکم عبدالرحمن خان صاحب پروگرام میں کہ ہم ایک سوال کا جواب دیتے ہیں لیکن اس کے کسی نہ کسی پہلو سے وہ جواب میں ذکر آچکا ہوتا ہے لیکن ہمارے پوچھنے والے چاہتے ہیں کہ کچھ اور کو وضاحت مل جائے تو یہ جو آپ نے بھی اس پروگرام کے شروع میں بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اس کے ایک پہلو کے بارے میں اس باہمت نوجوان کہ صاحب کینیڈا سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان ہی میں ڈال دیا تو خدا نے ایسا طریقہ اختیار کیا کہ وہ صوبے میں پڑ گئے اس بات کی وضاحت کر دیں تلاوت قرآن کریم ہے اعلان کر دیا گیا ہے وجہ سے آج تک یہودی اللہ تعالی نے میں برباد کرے گا اور وہ آخرت پر ایمان لانا بنی اسرائیل میں اس کو تلاش کرتے رہے ہیں ای کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد تھے اور ان کی اولاد میں سے بہترین لیکن میں حکمت راستہ بھی قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور منٹو کی برسی چل رہے تھے کہ بند سورۃ الاحزاب آیات میں گرجا روڈ پر بات کریں گے اس بات پر اتفاق کیا ہے سات لاکھ کی ضرورت ہے اس کے ہر شخص کے سامنے ہار گیا اس بات کو کے سر پر ہے اور ہر فرد کو روزہ لگ رہا ہے سالگرہ منائی جا رہی ہے کی وجہ سے باہر محکمہ اور سائیڈ کا او اکرام حل کتاب لغتی اور مغرب کے درمیان فرق کیا ہے وہ ہے اور اس کو ان کو بالکل ٹھیک ہیں صاحب مجھے امید ہے ہمارے بھائی جو بات جاننا چاہتے تھے بڑی تفصیل کے ساتھ میاں صاحب نے اس کا ذکر کر دیا ہے اگر چلتے ہیں عارف زمان صاحب ہیں اے مختلف جو پوچھنا چاہتے ہو یہ پوچھ رہے ہیں ہم نے اپنے پروگرام کے شروع میں بھی ذکر کیا اور آگے بھی ذکر کریں گے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہ صرف بائبل کے حوالے پیش کئے قرآن کریم کو تو جس طرح کہتے ہیں تو اس کو کھول کے رکھ دیا امت مسلمہ کے سامنے کی ہے دیکھو تیس آیات ہیں غور کرو تو سوچو سمجھو جس نے آنا تھا وہ آ گیا اس کو مان لو اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے کہتے میڈیکل میڈیسن کی فیلڈ سے وہاں سے بھی ایک ریفرنس دیا ہے ایک ثبوت پیش کیا ہے جس کو ہم رحمہ اللہ کے نام سے جانتے ہیں تو عارف زمان صاحب جاتے ہیں اور سر میں آپ سے درخواست کروں گا کہ ہمارے ناظرین کو ملی اہم حصہ کی کچھ تفصیل بتا دیں کہ اس کا کس طرح تعلق ہے حضرت عیسی علیہ السلام کا صلیب سے نجات پانے سے پہلے بھی اسی پروگرام میں بھی بات ہوئی اس میں پروگرام بھی ذکر ہوا کہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو یہودیوں نے صلیب پر لٹکایا تھا آپ کے ہاتھوں اور پیروں میں کل بھی بھٹو کے بڑے تعالیٰ نے اپنی تقدیر سے اسباب پیدا فرمائے کہ آپ بہت دیر تک کئی دنوں تک سلیپر نہیں رہے بلکہ چند گھنٹے اسالیب پر رہے اور بے ہوشی کی حالت میں آپ کو وہاں سے اتار دیا گیا آقا بڑے ذی اثر دوست وہ آپ کے اس وجود کو سواری کو لے کے تو انہوں نے ایک قبر نما کمرے میں رکھا جہاں پہ آپ کو کچھ ادویات بھی ملے گی اور یہ ایم سی ماڈل آیا ہے کہ ممکن ہے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے خود پہلے سے الہام کی بنا پر اس کی تیاری کا حکم دیا ہو کیونکہ آپ کو ایسے کرائم تو نظر آ رہے تھے کہ آپ کو صلیب پر لٹکایا جائے گا اور زخم آئیں گے اور یہ بھی آپ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے بچائے گا لیکن بہرحال ایک ایسی مرہم اس موقع پر تیار کی گئی استعمال کی گئی وہ چکی ہیں اور وہاں سے دستیاب ہیں وہ مرہم جو ہے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے جسم پر ملیں گی اور اس مرہم میں ایسے خواص ہیں کہ وہ زخموں کو خاص طور پر وہ ٹھیک کرتی ہے اور بڑی جلدی طور پر یہاں تک کہ زخموں کے نشانات بھی اس کے استعمال سے جو ہیں وہ بھی مٹ جائے کرتے ہیں امام کا نام اس وقت سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہے اس وقت سے کتابوں میں موجود ہیں اسلامی بیان فرمائیے کہ ہزار ہا تو بہی مسلمانوں کی یہودیوں کی جائو کی مجلسی و کی دوسرے لوگوں کی جس میں اسپرم کا ذکر چلتا چلا آتا ہے اس کا نام جو ہے وہ بھی مریم اور مرحلہ وار یہ کے نام سے دیکھیں گے کیمرہ میں شریفہ بھی کہا گیا ہے سلیقہ یہ شریفہ جو 412 ہماری جو تھے ان کی طرف منسوب کیا گیا کہ انہوں نے یہ مرہم تیار کی ہے اور اس کا نامحرم ایسا بھی بیان کیا جاتا ہے اور وصل بھی بیان کیا جاتا ہے جو اس طرف کرینہ ہے کہ آپ کے جو حواری تھے ان کو رسول کہتے تھے کیونکہ وہ آپ کا پیغام لے کے آ گئے لوگ کتنی تکلیف کے لئے جایا کرتے تھے تو ان کی طرف بھی اس کو منسوب کیا گیا ہے تو یہ ذکر ملتا ہے بڑی وضاحت کے ساتھ طبی کتابوں میں اس مرہم کا اور یہ محبت لگائی گئی آپ کے وجود پر ملے گی اور یہ واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام کی سلیپ کے سے زندہ اترنے کے بعد کا ہے کوئی اور واقعہ ایسا نہیں نظر آتا تاریخ میں کہ جس میں یہ ہوں کہ آپ کو ملا ہوں جیسے کوئی مرہم لگانے کی ضرورت پڑی مرہم کا پایا جانا اسی نام سے اس کا معروف ہونا اور اس میں ایسے خواص ہونا الصلاۃ والسلام کے زخمی حالت ان کے زخموں کے اندمال کے لیے ضروری یہ سب باتیں اس بات پر حضرت عیسی علیہ السلام دعوت الی گئے تھے اور تھے تو جب آپ کہاں سے ہو وہاں پہ اس قدر نما کوٹھڑی میں رہنے کے بعد جب ان سے نکلے ہیں تو بعد میں آپ نے اپنے ساتھیوں کو اپنے اپنے زخم کھائے بھی اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ قریب چالیس دن تک اسی علاقے میں جو ہے وہ شام کے علاقے میں حضرت صالح علیہ السلام سفر کرتے رہے ہو دیو سے چھپا کے اور یہاں تک کہ زخم جب وہ مکمل طور پر ٹھیک ہو گئے تو پھر آپ نے وہ لمبا سفر اختیار کیا جو ایران اور افغانستان سے ہوئی کشمیر تک سکڑ جاتا ہے ایسی باتیں کے جو ٹکڑے لڑکے آج بھی جو میڈیسن سے تعلق رکھتے ہیں وہ لوگ اس نسخہ کو جانتے ہیں اور خاص طور پر ہم نسخہ میں جو چیزیں جو انڈین سے استعمال ہوتے ہیں وہ اسی طرح کے انگلینڈ سے جو خاص طور پر اسٹینڈیز کے لیے یا زخموں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالی کے فضل و کرم کے ساتھ جماعت احمدیہ نے بھی اسی نسخے کے مطابق اس درخت کے قریب ترین جا کے اس کو بنایا ہے اور وہ تیار بھی کیا جاتا ہے اور استعمال بھی کیا جاتا ہے اور اس سے فائدہ بھی ہوتا ہے میں نے کہا میں آپ کو یہ عرض کرتا چلوں یہ بتاتا چلوں کہ یہ پروگرام راہ خدا ہے جو آج 11 جنوری 26 2020 کو انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے براہ راست پیش کیا جا رہا ہے اگر آپ اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں اپنا کوئی سوال پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہم حاضر ہیں ہمارا واٹس ایپ نمبر بھی پروگرام کے دوران آپ کو نظر آرہا ہے اور آتا رہے گا آپ ہمیں اپنا ٹیکسٹ کی صورت نہیں دے سکتے ہیں اور وائس میسج کی صورت میں بھی سوال دے سکتے ہیں اور اگر آپ خود اس پروگرام میں شامل ہونا چاہیں تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہے آپ کو لی نمبر بھی نظر آرہا ہے منیر احمد صاحب سے رابطہ کرنا چاہتے تھے ہم ان سے انہیں سکول بھیجا ہے تو ان کا سوال کیونکہ ہمارے پاس ہے تو وہ ہم اس کا جواب جاننے کی کوشش کریں گے لیکن میں یہ بھی آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ جماعت احمدیہ ایک کھلی کتاب کی مانند ہے ہمارے کیا قائد ہیں اور ہم تو کہتے ہیں یہ ہیں کہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ان سامنے کے آئے آپ نے جو پیش کے مطابق حضرت بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام اس دنیا میں آچکے ہیں ہم ان کے ماننے والے ہیں اور ساری دنیا کو اسی راہ ہدایت کی طرف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتائیں ہے کہ آپ اپنے سوالات اس پروگرام میں پیش کریں گے اور فضل صاحب میں آپ کے سامنے اگلا سوال پیش کرنا چاہوں گا جو منیر احمد صاحب نے عمان سے ہمیں بھیجا ہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ میرا سوال یہ ہے جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ و السلام کی قبر کشمیر محلہ خانیار میں ہے سائنسی طریقے سے ہوئی ہے سال کا بڑا دلچسپ ہے بات یہ ہے کہ تو ان کا ایسا خیال ہے کہ کوئی آڈیو ویڈیو غیرہ صرف یہ مراد لے رہے ہیں ظاہر ہے ہم کوئی ایسا اندرونی تصویر تو نہیں گئی فارم ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالی نے جیسے ہی سادہ سا کے جو کہ کے بارے میں جو غلط فہمی ہے اس کو دور کرنے کے لیے کئی حقائق سے کھولے ہیں اور ان کے ذریعے اور اس کے اندر جو چیزیں پڑی ہوئی بازی کا مسئلہ سامنے شاہد ہیں کہ اگر اس کمرے کے اندر جانے دیا جائے اور وہاں کی چیزیں کھولی جائے تو ممکن ہے بعض اور بھی ہمیشہ سے ہی ملی لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ دراصل مسیح موعود علیہ السلام نے جو عیسی علیہ السلام کی قبر کشمیر میں محلہ خانیار میں ثابت کی ہے مسیح ہندوستان میں مسیح موعود آسان کتاب پڑھے گا کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن اصولوں پر چلتے ہوئے کلاس اسلام کہ ان کی ساری زندگی کے حالات بیان کی ہیں تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ سائنسی اصولوں کے خلاف ہے آتی ہے تجربہ اور مشاہدہ پیش کرنا کسی بھی تاریخی حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے سائنس جو اصول ہمیں دیتی ہے ان اصولوں پر مسئلہ سامنے اس السلام کے زمانے میں جو اندھیری تھی ان میں سے دلائل پیش کیے مقصد کیا تھا ان کا تھا بنی اسرائیل کی طرف جانا کے میں کوئی بیوی کی طرف آیا تو ان دس قبائل کی طرف جانا تھا پھر جب پر چڑھانے لگے تو اللہ تعالی نے کئی رنگ میں ان کے بچانے کے لیے وہاں کا جو گورنر تھا اس کی بیوی کو خواب دکھایا میں نے خود کہا کہ اتنی جلدی مر گیا پھر جس وقت اور پھر ان کو ایک کمرے میں رکھا گیا جہاں پر جو ایک ایسا کمرہ تھا جہاں جو موجودہ زمانہ ایک لوگوں کی طرح نہیں تھا پھر اس کے بعد اصلاح زندہ حالت میں لوگوں کو نظر آئے ایسے ایسے انسان کی طرح جو زخمی انسان ہوتا ہے یہ ساری تفصیل آگے بڑھتے چلے جائیں اور پھر آگے اس سے آگے احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اشارے دیئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے وحی کی کہ تو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا چلا جا اور پھر یہ بھی حدیث میں آتا ہے کہ وہ زمین کی سبزیاں اور پھل کھایا کرتے تھے اور پھر آگے بڑھیں اس زمانہ میں جب مسیحا سامنے حقائق ہوتے ہیں تو کشمیر کے مقامی باشندوں میں سے بعض لوگوں نے ایسی دوائی ہیں اور پھر افغانستان کی تاریخ لکھنے والے جو لوگ ہیں وہ بھی سارے اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ واقعہ حضرت عیسی علیہ السلام جو ہے وہ ان علاقے میں آئے بس بھائی سے ملے ہیں جن کے اوپر جو تاریخ ہیں جو اصول ہے اس کے مطابق ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس احسان کے زمانے کے ایک بادشاہ نے وہ سکہ بنائے اور اس پر اسلام کی تصویر ہے تو میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں اس کے ان کے مطابق اگر دیکھا جائے تو مسیح ہندوستان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو دلائل بیان کیے ہیں وہ کامل طور پر سائنسی اصولوں پر پورے اترتے ہیں اور ان پر غور کرنے سے بڑا واضح طور پر یہ ایک تلخ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ صاحب کی قبر جو ہے وہ محلہ خانیار میں بالکل ٹھیک ہوں صاحب اور فضل الرحمان صاحب نے جس کتاب کا ذکر کیا ہے مسیح ہندوستان میں نہ صرف یہ کہ اردو زبان میں موجود ہے انگریزی زبان میں بھی موجود ہے اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم ہوچکے ہیں میں ناظرین کو عرض کرتا چلوں جماعت احمدیہ کی آفیشل ویب سائٹ ہے جہاں بھی حوالوں کا یہاں ذکر ہو رہا ہے جن کتب کا یہاں ذکر کر رہا ہے ان کے نام آپ ہاں لکھی آپ اس کتاب تک باآسانی رسائی حاصل کر سکتے ہیں تحقیق کرنے والے لوگوں سے نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیب سے نجات اور بعد میں وفات کے بارے میں یہ کتاب مسیح ہندوستان میں پڑھنا بہت ضروری ہے اور بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ خود کشی اور معاشرے میں کی یورپ کے لوگ بڑی دلچسپی رکھتے ہیں اور ہم سے تقاضا کر کے یہ کتاب لیتے ہیں اور اس کو پڑھتے ہیں وہ ہر کسی کی اپنی مجبوری ہوتی ہے ان کے عقائد سے توبہ اور اس کا تصادم ہے لیکن اس کا جواب دینے سے وہ باہر کاسے ہیں مجھے امید ہے کہ ہمارے ناظرین کو اس بات سے یقین فائدہ ہوا ہوگا اور ہوگا اب میں چاہوں گا کہ عبدالسمیع خان صاحب سے میں بات کرو اور ان کے سامنے گلاس وار رکھنا چاہوں گا اسلام علیکم عبدالسمیع خان صاحب صاحب اللہ اب اس میں کہاں سے ہے سہیل غالب نام میرے سامنے ہی لکھا آرہا ہے لندن سے ایک سوال پوچھ رہے ہیں میں چاہوں گا ان کے لئے اس سوال کا جواب دے دیں وہ لکھتے ہیں قرآن کریم میں موجود حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات کے متعلق خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ جو معجزات ہیں جن میں پرندوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے اس کے بارے میں جماعت احمدیہ کیا کہتی ہے تو آپ ہمارے بھائی ہو حارث سہیل کو اس بات کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان میں ہی اور دیگر قوموں کے درمیان میں سلمان خان ہاں یار صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ جو اللہ نے اپنے اوپر تھوڑی ہے میں طور پر نافذ کرنا یا اللہ اور نہ ہی ہے آپ کے آپ کی بیٹری نئی ہے یا آپ کے پیارے ہیں آپ کے صحابہ آپ کے بزرگان شہید ہوئے ہوئے کریم عالم لوہار کے ساتھ لے رہا تھا نبی اور رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے ساتھ بیٹھا ہوں واقعہ معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر رحم فرما اللہ اس کے لیے کعبہ سے پہلے ماہ میں فوت ہوا تو صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی وجہ سے کے اس پار ہے ملنے کو دل کرتا ہے میں آپ سے بات نہیں کروں گا جو اللہ کی رضا کے خلاف اللہ کی رضا کرنے کا طریقہ میں نے بولا ہے رسول ہے آزاد مومنو زمانے میں نہیں سمجھتا کہ اس سے مراد ہے کرنے کا ذکر ہے کے مشہور ہے کہ اگر کوئی آپ کو خوش رکھے ہوتے ہیں آپ نے میری آواز ہے آپ نے یار یہ کوئی واقع ہے یہ ہوا علامہ اقبال اوکے کیا ہے قرآن کریم میں ذکر کرتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو آپ لوگوں کو غلام حضرت نمایاں پہلو میں یہ میں آپ کو میسج کرو میرے صحابہ ستاروں کی مانند اس کی پیروی کرو تو پھر آپ آ جاؤ گے آپ نے فرمایا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہے عوام کی آواز میں ہزاروں سال شفا کے درخت کا کیا مطلب ہے کیا آپ کی مرضی ہے ٹھیک ہو گئے جمعرات 28 ٹھیک ہوگی پانی بھرنے کے واقعات ایک قرآن و سنت کے اللہ ہمیں ان کے ظاہری معنوں میں کوئی بھی اعتراض نہیں لیکن جو آپ کے اور پرندے بنا کر اڑا دے گا اور پھر اس کا یہ کہنا کہ خلع کے بعد ایک نیا کونسی اور مکھی کی کہانی ایک نیا سونگ خیال محمد نہیں ہے یہ روحانی کرنے بنانا مراد ہے عالمہ اسلام ان کے لئے خدا کی طرف سے آپ کے ساتھ ہیں وہاں کے چار پرندوں کا ذکر ملتا ہے وہ بھی گرفتار ہوں میں کہہ رہے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوت میں کمی ہے اس کی روحانیت سے ہے علامہ خادم حسین رضوی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کے باوجود لیا ہے عصریاتفروغِ علم و فن سے ہے اس کے لیے بالکل ٹھیک بہت شکریہ عثمان صاحب آپ نے بڑی تفصیل ہمارے بھائی کو یہ بات سمجھا دیں لگی تھی اور کسی کے ذہن میں بھی جن کے ذہن میں سوال ہوگا کیا ہوں گے کہ قرآن کریم میں آپ کا ذکر ہے ان کو قرآن حکیم سے ہی سمجھنا چاہیے اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کے نمونے ملتے ہیں نصیر صاحب ایک بہت بنیادی نوعیت کا سوال ہے کیونکہ ہم یہاں اس بات کا ذکر حدیث کے حوالے سے بات کرتے ہیں یہ ہمارے بھائی ہیں ابی لطیف صاحب ساہیوال سے پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر آنے والے نبی کی عمر سے پہلے سے شادی ہوتی ہے اور وہ نہایت یہ پوچھنا چاہتے ہیں سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس کی مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی تو ان کو یہ معاملہ تو سمجھا دیں ادھر سے شروع کریں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریبا 18 سال تھی آپ کی ایک سو بیس سے اقتباس تو اس حساب سے اگر چلی تو پھر تو کا اخراج جب پچھلے کی نسبت ہونی چاہیے تو بہت آگے باتیں اور واقعات مری میں برف باری ہے مریم سے ہے اور حضرت مریم کی قبر کی وجہ سے اس جگہ کو امریکہ آجاتا ہے یہ پاکستان کے دارالحکومت سے اسلام آباد راولپنڈی کے قریب ہے ہے کے پہلے حصے میں عورتوں کے تاریخی حقائق اور واقعات کے بعد یہ بات خلاف جائے گی بلکہ وہ ضرور ہوں لیکن کل حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ذکر فرمایا ہے اور اس دوسری حدیث میں جس کا پہلے ذکر بھی گزر چکا ہے جو کنزالعمال میں بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت بھی فرما دیں کہ ان عیسی ابن مریم عاش عشرین و ماءۃ ا نیلا اور انیلا زاہد اس سے تین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی آزاد بات کو اس رنگ میں بیان کیا جاتا ہے تاکہ یہ ایک دم سب کو شوق نہ ہو اور وہ صدمے میں نہ پڑجائیں تو دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کی ہے لیکن ذکر آپ کا اپنا تھا اور وادی کہ عیسی علیہ السلام جو ہیں وہ انہوں نے 120 سال عمر پائی ہے اور میں بھی 60 کے قریب قریب میری عمر ہو گئی تو یہ مقصود تھا دیکھیں سیاسی احادیث ملتی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومیت کے رنگ میں ذکر فرماتے ہیں لیکن دراز کر اپنا ہی ہوتا ہے مسلم از رسول اللہ اور رسول اللہ نے فرمایا کہ مومن کی مثال ایک جسم کی ہے ایک وجود کی ہے یہ جسم کے عائشہ کو تکلیف پہنچے تو سارا وہ بخار اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے کہنے کو تو بے شمار ہوں میں نے لیکن کیا سب کی یہ کیفیت ہوتی ہے نہیں ہوتی دراصل یہ مثال بھی سب سے اول اور آسان طور پر مکمل طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں ہوتی ہے اور آپ اپنا ہی ذکر فرما رہے تھے شعری مثال تو مومنوں کے ساتھ اس طرح کے ایک وجود کی طرح ہے کسی بھی مومن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچتا ہے السلام علیکم یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ذکر فرما رہے تھے اور اس کیونکہ آپ کی زندگی کا کوششوں کے اسوہ حسنہ بنایا گیا اس لحاظ سے ایک رنگ میں بھی فرما رہے تھے کہ آپ لوگوں کا بھی یہی حال ہونا چاہیے ایسے منے کہ کسی بھی مومن بھائی کی کوئی تکلیف ہو تو اس کو شدت سے محسوس کریں اور کے دکھ میں شریک ہوں اور اس کی تکلیف کا ازالہ کے لیے کوشش کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ بتایا گیا ہو گا کہ آپ کی عمر کتنی ہوگی تو ایک میٹنگ میں ذکر فرمایا اور پھر دوسرے موقع پر اس کی وضاحت بھی فرما دیں کہ میری عمر 60 سال مکمل ہوگی کہ عیسیٰ ابن مریم جو تھے وہ 120سال ایپ صاحب آپ کی طرف میں اگلا سوال لے کے آتا ہوں بڑے ہیں اس میں بنیادی نوعیت کا یہ سوال ہے پاکستان سے ہمارے بھائی ہیں ثوبان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب یہ جو احمدیوں نے وفات مسیح کا مسئلہ ہے یہ دراصل نئی ایجاد کیا ہے ورنہ دیکھنے ان کے نزدیک تمام بزرگان امت اور ائمہ امت کا اس بات پر اجماع ہے اور میں بھی تھوڑا وضاحت کر رہا ہوں جمعہ کے لفظ میں زور دے رہا ہوں کیونکہ ہم طور پر اسی طرح کرتے ہیں یا امت مسلمہ کا اجماع ہے اس مسئلے پر تو جو آمد ہیں وہ اس کے خلاف بات کر رہی تھی حقیقت ہمارے ناظرین کے سامنے پیش کرنے اجماع کی جو اطلاع اردو میں لکھی ہوئی ہے وہ تو تشریح تو یہ ہے کہ کوئی ایسا عقیدہ تمام امت مسلمہ اختیار کرے جس میں کسی ایک فرد کو بھی اختلاف نہ رہے ہم نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض فرقوں کو خلاف نہ ہو لیکن جہاں تک وفات مسیح کے عقیدے کا تعلق ہے اگر ان کا یہ خیال ہے کہ امت مسلمہ میں سے اگر وہ جماعت احمدیہ کو امت مسلمہ میں سے سمجھتے ہیں تو ان کی مہربانیوں کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ تعریف کی رو سے تو جماعت احمدیہ تو باہر امت مسلمہ میں سے ہی ہے لا الہ الا اللہ مالک ہے تو کیا کہ علاوہ شروع سے ہی کچھ نہ کچھ ایسے بزرگان رہے ہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات کے قائل تھے میں چند ایک والے ایسے تو میرے پاس اس وقت بیس پچیس والے ہیں جو میں اس حوالے سے پیش کر سکتا ہوں لیکن میں اس وقت صرف دو تین حوالے پڑھوں گا کیوں کا ہم نام بھی ذکر کر دیتا ہوں امام مالک کے بارے میں مجمع بحارالانوار میں یہ لکھیں ہوتی ہے اس کے لکھنے والے وہ کہتے ہیں کہ وہ سارے لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ یہ صاف ہو چکے ہیں اسی طرح ایک اور کتاب ہے المحلہ الحافظ ابی محمد علی بن حزم الاندلسی یہ کوئی چوتھی صدی ہجری کے ایک بہت بڑے عالم ہیں دو میں انہوں نے تحصیل بھر میں کتابیں لکھیں اور حدیث میں بھی وہاں انہوں نے لکھا انہوں نے مختلف مسائل کو پر بات کی ہے وہ کہتے ہیں مثال تم ورنہ ایسا لکھنے والا میوزک والا سمہ رہا ہوں یہ اور پھر اسی کو آگے کہتے ہیں والمنام علامہ علی وفات موتی کے فلما توفیتنی کا مطلب ہے وفا تو میں پانی وفات موت ہے کہ میری مراد ایسی وفات سے ہے جس نے موت آ جائے کتاب طبقات الکبریٰ 1 میں نے سعد کی کتاب ہے سعد بن سعد ہیں یہ مشہور کتاب ہے یہ بھی چوتھی پانچویں کے ایک بہت بڑے امام ہیں ایک لمبی حدیث نے کی ہے نہ وہ ساری نہیں پڑتا اس میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ 89 دن قبل ہوئی تھی انہوں نے القضاء فی اللیلۃ یا ورد فیہا روح ہے اس نے میری ماں لیلی سونگ اصلی نماز آنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی روح اسی رات قبض کی گئی تھی جس رات میں مریم قبض کی گئی تھی یعنی 27ویں رمضان کی رات کو یہ تو چند رکھوالے ہیں اس کے علاوہ ابن عربی اور اس کے علاوہ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش دے تعالی عنہ کی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کشف المحجوب میں پسندوں نے یہ لکھا ہوا ہے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات جہنم بیاں کو دیکھا تھا وہ ضرور ہوئی تھی گویا ان میں بھی حصہ میں شامل تھے اور ان کی روح تھی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی ان معنوں میں اسلام کی وفات کے قائل تھے کہ ان کی روح جو ہے وہ سے انصاف پرواز کر چکی ہے اسی طرح اگر موجودہ زمانہ کے بڑے بڑے علماء کو دیکھا جن کو یہ کہتے ہیں روشن خیال ماہے سرسید احمد خان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے تو بڑے واضح طور پر یہ بات لکھی کہ تین آیتوں سے ایسی کا اپنی موت سے وفات پانا اعلانیہ ظاہر ہے مگر کے علماء اسلام نے بدعت کلید باز فرق نصاری کی قبل اس کے کہ مطلب ہے قرآن مجید پر غور کریں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ حدیث زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اس لئے انہوں نے ان آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر محققۃ سلیم کے مطابق کرنے کی بجائے کوشش کی اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھی ہیں اسی طرح غلام احمد پرویز ہیں مولانا ابوالکلام آزاد مراد ہے جو اس بات کے بڑے واضح طور پر دلیل دیتے ہیں کہ قرآن کریم سے اور احادیث سے کیا ثابت ہو چکے ہیں یہ ان کے اجتماع کی صورتحال ہے حالانکہ اب زباں میں تو یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک بھی اختلاف نہ کرے اور آپ نے تو لگا دیا والوں کے اور بھی حوالے موجود ہیں تو جزاک اللہ بات بتاؤ ایک پروفیسر حمید اللہ بڑے اچھے اور سرچ سکالر موقف تھوپنا غیر حضرت نواب بہاولپور یونیورسٹی میں انہوں نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے تو اس وقت ہمارے پرنسپل رومان صاحب اللہ تعالی ان کے درجات مجھے اور آپ سب کو بھیجا کہ آپ کی جا کے وہ لیکچر سنا ہے سوالات کبھی موقع ہوتا تھا ان کے لیکچر کے بعد حالات کبھی تو نہیں ہوے ایک دن ایک سوال نمبر تو ہو گیا بڑے سوچ بچار کر کے وہاں جمعہ کے موضوع پر ان کا حسن خطاب تھا میں اس نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر جب راہ پیدا ہوا کہ اگر صرف فوت ہوئے ہیں یا نہیں اور حضرت عمر نے فرمایا گردن مار دونگا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ انہوں نے پے یاد کریم تلاوت فرمایا ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل پھر آپ نے فرمایا کہ جو محمد صل وسلم کے بات کرتا تھا تو وہ جان لے کے جو ہے وہ ہے لائیو موت ہے اس موقع پر کسی نے بھی اس بات سے انکار نہیں کیا اور سب اس بات پر متفق ہوں گے تو کہاں سے صحابہ کا پہلا اجماع قرار دیا جاسکتا ہے امت کا پہلا جمع مسوال پڑگئے جہلم شعر آدمی تھے انہوں نے فورا آ کے بات یہ ہے کہ یہ تو وہ قرآن کریم کی ایک آیت پڑھی تھی اور قرآن پر سب کا اتفاق تھا سوال یہ ہے آگے تو سوالات کا موقع نہیں تھا سوال یہ ہے کہ قرآن کی کسی آیت کے خلاف اجماع ہو سکتا ہے قرآن نے بار بار ثابت کر رہا ہے کہ حضرت یوسف علیہ الصلاۃ و السلام فوت ہو چکے ہیں اور صلیب پر نہیں مرے پاس ہوتا ہے اور اپنے مشن میں کامیاب ہو کے کبھی طور پر لعنت ان کے فائدے باقی عجم اگر بنا بھی لے تو اس کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ انہوں نے صرف اتنی پڑیں مجھ سے بات کیا تھا ان کے استدلال کی بنیاد قران کریم میں ایت قران کریم سے استنباط کیا اور یہ بتایا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہلے رسولوں کی طرح بہت ہو چکے ہیں اس پہ کسی نے تمام التواءجمع اگر ہے تو دراصل ایک ہی جمع ہے جس کے بارے میں غلطی سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ جماعت ہے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے موقع پر تمام رسولوں کی وفات پر صحابہ کا اجماع ہے شمع جس کو آجکل قرار دیا جاتا ہے کہ یہ آج کل ہمارے خلاف بھی کہہ دیتے ہیں قادیانیوں کی فتح خلاف ساری امت کے اجماع کے دائرہ اسلام سے خارج ہیں یہ بھی غلط کہتے ہیں کوئی حقیقت نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ جھوٹ بولتے ہیں تو یہ بھی شدت سے لفظ نہ ہو کیوں کہ بہت سارے لوگ ہیں ان کے اندر سے گواہی دیتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں سے اسلام دیکھنا ہے ایلسا میں خصوصیات اسلام پر عملدرآمد دیکھنا ہے تو جماعت احمدیہ میں لیکن وہ پر اپنا پروپیگنڈا کرتا جاتا ہے کہ یہ ہمارے سب کا اجماع ہے علامہ اقبال نے بھی کہا تھا کہ اسلامی شریعت کا ایک نمونہ دیکھنا ہے دھوکا دیا جا کے دیکھیں آج کل بھی کوئی دیانتداری سے کام کر رہا ہوں وہ سچ بول رہا ہوں رشوت نہیں لے رہا ہوں تو پتہ کرو یہ جماعتیں اس کا تعلق ہوگا آپ نے بالکل ٹھیک کہا تھا اگر امت مسلمہ میں کسی اجماع کا میں ذکر ملتا ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر تمام صحابہ کا اجماع تھا اور وہ اس بات پر مشتمل تھا آج جمعہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے ہوئے تمام انبیاء ان کی وفات ہوگئی ہے ہم پروگرام کے آخری حصے کی طرف بڑھ رہے ہیں سوالات میرے پاس ہم نے بہت سارے ہیں ہمیں مختلف لوگوں کی آراء بھی موصول ہو رہی ہیں ان کو شکریہ ادا کرنا چاہیے منیر احمد صاحب فرزانہ ڈار صاحبہ تو سب کہتے ہیں کہ احمدی ہیں اور بعض دوستوں کے سوال یہاں پیش کرتے ہیں تو آپ سب لوگوں کا جزاک اللہ اللہ میاں اس میں خان صاحب کے پاس ایک سوال ہے کہ جانا چاہتا ہوں السلام علیکم سنی خان صاحب السلام و رحمۃ اللہ حسین شاہد ہتل صاحب ہماری بہن ویسے انہوں نے یہ سوال کیا ہے کیا حضرت مریم علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ ہجرت کی تھی حضرت مریم جو حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ تھیں اور یہ انہی کے بارے میں سوال ہے کہ کیا حضرت مریم کی کبھی شادی بھی ہوئی تھی کہ نہیں یہ قرآن کریم سے حضرت مریم کی کسی شادی کا ذکر نہیں ملتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے راما شان کے ساتھ اسلام کو علماء پیدا کیا نشانہ بنایا ملتا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کی پیدائش کے علاوہ ان کے چار بھائیوں کا ذکر بھی موجود ہے ان کے نام بھی جیل میں موجود ہیں حضرت مریم کے بعد میں شادی ہوئی یوسف جان صاحب سے ہے کے چار بھائی اور پیدا حضرت مریم علیہا السلام خاوند کا وہاں بھی کوئی ذکر نہیں ملتا کریں گے میں فرماتا ہے اور وہ اس وقت فرماتا ہے واضح نہیں ہوا وہ ہو گیا تھا این سورۃ المومنون کی آیت نمبر 57 ہے یا ویڈیو مسئلہ پر عمل نہیں کرتے سورۃ یاسین شریف اور ان کے بھی قائل تھے یہ ہے کہ ہم نے اپنے مریم اور اس کی ماں کو ایک نشانہ بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پر حدیث قابل اور امام مالک کے اساتذہ کے لئے ہے اس کشمیر ہے جنت کس طرح سلام کشمیر تشریف لائے اور بعض روایتوں کے مطابق اور اس کے جو کپڑے میں گرہ ہے اس میں حضرت مریم علیہ السلام کی قبر بھی موجود ہے ماہرین کے مطابق تعریف کرتے ہیں قرآن کریم میں حضرت مریم اور میں بیٹھے رہتے ہیں حالانکہ کشمیر کی طرف ہجرت اورنج معلومات یار کرنے والے گرمی ہے اور مر گیا کہ کمرہ عمری میں بتائی جاتی ہو سکتا ہے کہ آپ سے کچھ اور ہی ہوں گے بہت بہت شکریہ عابد حسین خان صاحب ننکانہ صاحب سوالات تو آ رہے ہیں لیکن وقت بہت مختصر رہ گیا ہے محمود الرحمن صاحب بنگلہ دیش سے سوال کر رہے ہیں جی وہ ان کا سوال یہ ہے کہ کیا نبی اور رسول ایک ہی ہیں یا دونوں میں کوئی فرق بھی ہے دیکھیں دو مختلف حیثیتیں ہیں 82 ایسے کہ اللہ تعالی سے کس سے غیب کی خبروں پر اطلاع بات ہے اور رسول اس حیثیت سے کہ وہ خدا سے پیغام حکم پاک تو برینو انسان تک اس پیغام کو پہنچاتا ہے تو دو حیثیتیں ہیں ایک شخص کی وہ نبی ہے اور رسول بھی ہے اور قرآن کریم میں یہ دونوں الفاظ انبیاء کے متعلق استعمال ہوئے ہیں کہ وہ نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں ایک اور سوال فضل صاحب آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جرمنی سے منافقانہ صاحب ہیں انہوں نے یہ سوال کیا کہ حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی زندگی میں اپنی قوم کو یہ کیا یہ بتایا تھا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں یا اس کو الٹ کر لو کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اپنی قوم کو یہ بتایا تھا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں ہیں نصیر صاحب آپ کو چند روز کا بتا دیں پھر سب سے آپ کا بڑی وضاحت سے پہلے سے ذکر فرمایا ہوا ہے مائدہ کی آیت 118 ما قلت لھم الا ما امرتنی بہیانے بودلہ ربی و ربکم حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے اللہ تعالی نے بتایا وہ ایک ہی گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا انتقال نعت نعت نعت ہون میں حال ہی میں اللہ نے لوگوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے میری ماں کو خدا کے سوا دو معبود بنا لوں تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے سبحان حکام ایان علی انعام الصلیب حق مرطوب کا علم تھا کہ میرے لیے میں کیسے کہہ سکتا ہوں آج تک مجھے یقین نہیں ہے اگر میں نے کہا تھا تو مجھے تو ظالم ہے تو جانتا ہے جو میرے نفس میں اور میں نہیں جانتا جو تیرے نصیب میں ہے انک انت علام الغیوب اور اس کے بعد کیا کہ میں نے تو نے اس کے سوا کچھ نہیں کہا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا بھی رب ہے اور انجیل میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کا میری ماں کی بات کرو یا مجھے خدا کا بیٹا مانو اور میری عبادت کرو بلکہ ہمیشہ ہونے اس ایک خدا کی عبادت کی طرف سے ان کو تعلیم دی ہے جس کے بارے میں انہیں مصاحبہ الرحمن صاحب اور عبدالسمیع خان صاحب اور ناظرین آپ کا بھی بہت بہت شکریہ کہ آپ اس پروگرام میں ہمارے ساتھ رہے اس وقت بھی مجھے سکرین پر کی نام نظر آرہے ہیں چشتیاں ضلع بہاولنگر سے ارسلان احمد صاحب نے بھی اپنا سوال بھیجا ہوا ہے عارف الزماں صاحب کی بھی کچھ سوال رہ گئے ہیں ہم ان کے جوابات نہیں دے سکے لیکن اگلے پروگرام میں بھی ہمارے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں ہمارا واٹس ایپ نمبر ضرور نوٹ کریں یہ ڈبل سیون زیرو تھری 250 ہے اور اگر آپ برطانیہ کے باہر سے رابطہ کرنا چاہ رہے ہیں تو ڈبل زیرو ڈبل فور اس سے پہلے ضرور لگا دیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے منظوم کلام میں فرمایا ابن مریم مر گیا یا جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اس کو فرقہ سر بسر اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر باہر رہا آواز سے ہو گیا ثابت تیس آیات سے کوئی مردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقہ نے بھی بتلایا نہیں ناظرین کرام وہ لوگ جو جماعت احمدیہ کے موقف سے نہیں ہیں ان کے لئے بھی بہت ضروری ہے کہ قرآن کریم کو پڑھیں کیونکہ قرآن کریم ہی ہم سب کے لئے ایک رہنما کتاب ہے جو قیامت تک کے لئے ہمارے لئے رہنمائی کے لیے اس دنیا میں بھیجی گئی ہے اللہ تعالی ہم سب کو اللہ تعالی کے پیغام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اگلے پروگرام تک کے لئے اجازت دیجئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کی قدیم ہم تو رکھتے ہیں 9 قدیم دل سے ہے خدا ختم رمضان صلی

 28 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: