Rahe Huda – Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab – Aurton K Huqooq




Rahe Huda – Seerate Muhammad pbuh Par Aetraz K Jawab – Aurton K Huqooq

Rah-e-Huda | 2nd January 2021 – from Qadian

Rahe Huda 2-02-2021 – text

مسلمانوں کا دیس دل سے ہے خدایا میں خط عمل بوسہ لینا دل سے ہے خدا میں ختم المرسلیں استعمال پلین اعوذ باللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج 26 جنوری 2021 ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور ناظرین یہ وقت کہاں پر ہے خدا کا قادیانیوں سے پروگرام مرحلہ کی سیریز کے تیسرے پیسوڈ ہے وہ لے کر اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہے ایم پی اے کے ناظرین کی خدمت میں روزمرہ کے اسٹوڈیو سے نیا سال کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے حضور یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی یہ نیا سال آپ سب کے لئے بے حد برکتوں والا ثابت ہو مرضی والے جانتے ہیں کہ پروگرام راہ داں کے چار سوٹ پر مشتمل سیریز قادیان دارالامان سے پیش کر رہے ہیں اور پروگرام کے فارمیٹ کے تعلق سے بھی ہمارے ناظرین جانتے ہیں کہ ایک لائیو ڈسکشن پروگرام ہے اور انٹرویو پروگرام بھی ہے اور ہم اپنے اس پروگرام کو لائیو صرف اپنے مجاہدین کے لئے کرتے ہیں تاکہ ہمارے مشاہدہ بھی ہمارے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہو سکیں اور ان کے ذہن میں جو سوالات ہیں اثرات ہیں وہ ہمارے علماء کرام کے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کر سکیں تو ہمارے ٹیلی فون لائن صاحب کے لیے کے بیٹے ہیں اس کے علاوہ ٹیکس میسج سپیس میسجز اور ای میل کے ذریعہ سے بھی آپ اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں تو ناظرین آج کا ایپیسوڈ میں آپ ہمارے ساتھ شریک گفتگو ہونا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ اس وقت اپنی اسکرین پر ہم سے رابطے کی تفصیل کو ملاحظہ فرما رہے ہوں گے یا دارالامان پروگرام ہے اللہ کی موجودہ سیریس کے تعلق سے آپ لوگ جانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف حسین پہلو کو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حضور صل وسلم کی سیرت پر جو بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں ان کے جوابات اور ان کی تفصیل بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سیرت کے حوالے سے جو غلط فہمیاں لوگوں کے دلوں میں آگئے ہیں تو آج اس موضوع پر ہم بات کرنے والے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جو اپنا عظیم الشان آنسو اور تعلیمات پیش کی ہیں اس کے حوالے سے ہماری گفتگو کریں گے کہ اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے آج کے موضوع پر علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ

اس میں تشریف رکھتے ہیں گفتگو کے لیے ان کا میں تعارف کروا دیتا ہوں مکرم و محترم مولانا محمد یوسف شاہد ہیں اور ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں مگر محترم مولانا زینت انصاف امداد پروگرام راہ خدا کے قادیان سیریز کے دوران پہلے ہی پروفیسر نجم کرتا ہوں ناظرین کرام آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مختلف سیاسی تنظیمیں قائم ہیں جو معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے قیام کے حوالے سے متنازعہ آتی رہتی ہیں دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ آکسفورڈ جیسے مشہور اور معروف ڈکشنری کے حوالے سے بھی بعض عورتوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں عورتوں کے حوالے سے مختلف ایسے الفاظ موجود ہیں جو دراصل عورتوں کی بےعزتی کرنے والے الفاظ ہیں لہذا ان کو خارج کیا جائے آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عورتوں میں کیا حیثیت ہے اور عورتوں کا ایک معاشرے میں کیا مقام ہے یہ موضوع ہمیشہ لوگوں کے درمیان متنازعہ موضوع رہا ہے جنات سے چودہ سو سال قبل کا زمانہ ہم دیکھتے ہیں زمانے میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی آزمانے کی حالت تو یہ تھی کہ جب لڑکی کی ولادت ہوتی ہے تو اس نومولود کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور عورت کی اس معاشرے میں کتنی تھی زمانے میں اللہ تعالی کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے میں ارشاد فرمایا کہ عورت اور مرد برابر ہیں اور دونوں کو برابر کے حقوق معاشرے میں حاصل ہیں آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ معاشرے میں عورت بحیثیت ماں ہوتی ہے اس کے قدموں کے نیچے اللہ نے جنت کو رکھا ہے آپ نے فرمایا کہ عورت جب ایک انسان کی بیوی ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ مرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورت کے حقوق کو ادا کرے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں تین بیٹیاں ہوتی ہیں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرتا ہے ان کو تعلیم دیتا ہے اور ان کی زندگی کو سنوارتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں حضور صل وسلم نے فرمایا کہ میں اس کو جنت کی خوشخبری دیتا ہوں اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے میں عورتوں کے حقوق قائم فرمایا ہے اور نہ صرف قائم فرمائے بلکہ عورت کا ایک مقام اور باعزت مقام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے میں عورت کے لئے عطا فرمایا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مستشرقین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بھی اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے عورتوں کا حقوق نہیں آتا کیا ہے بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی کی ہے وغیرہ اس قسم کے مختلف بے بنیاد الزامات بھی آپ صل وسلم کی سیرت پر لگائے جاتے ہیں جو کہ دراصل آپ صل وسلم کی سیرت اور ان تعلیمات کے پیچھے جو حکمت ہے اس سے ناآشنائی کے نتیجے میں ایک رات آپ صلی اللہ وسلم کی سیرت پر اٹھائے جاتے ہیں ناظرین آج کے دور میں ہم کوشش کریں گے کہ حضور کا جو کا معاشرے میں قائم فرمایا ہے اس سے کچھ تفصیل آپ کی خدمت میں پیش بعض ان کے جوابات بھی ہم آپ کو دینے کی کوشش کریں گے تو میں ایک مرتبہ پھر اپنے ناظرین کو یاد دلادو کہ ہم اگر ہمارے ساتھ آج کے سوٹ میں جاننا چاہتے ہیں اور اپنے سوالات علماء کرام کے بارے میں پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطے کی تفصیلات اس وقت آپ کی زبان پر موجود تھے اور ہمارے لائق بھی آپ کے ساتھ ہیں اور آج کا موضوع ہے اسلام میں عورت کا مقام اس تمہید کے بعد آج لازمی محترم مولانا محمد کریم الدین صاحب شاہ سے کرنا چاہتا ہوں عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب اسلام کی سیر پر مختلف ہے رات لگائے جاتے ہیں بالخصوص عورتوں کے مقام و مرتبہ کے تعلق سے تو آپ صل وسلم نے جو شادیاں کی ہیں اس کے بارے میں اعتراض کیا جاتا ہے ہیں اور آپ سب کی سیرت کو اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ان شادیوں کے پیچھے کیا حکمت ہے اس کے بارے میں آپ سے جانا چاہوں گا ناظرین تصاویر کتاب بھائی دراصل یہ ہے عورت اور مرد کا جو تعلق ہے صرف انسانوں میں بلکہ دنیا کے ہر چیز میں یہ تعلق بھائی جاتے ہیں کہ اللہ تعالی نے خاص طور پر قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ وہ نکلے شین خلق نہ جائے ہر چیز میں اللہ تعالی نے جوڑا بنایا ہوا ہے اور ایک ڈگری وہ ایک پارٹی میں بجلی جو ہم استعمال کر رہے ہیں دیکھیں اس میں بھی جو ہے لگتی ہے ایک زیور ہے یہ دونوں جب تک ملیں گے نہیں جب تک یہ صحیح کام نہیں کر سکتی کی طرف سے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ہیں ہمیں رہنمائی فرمائی ہے کہ انسان کو عقل کے لئے فیصل چلانے کے لئے اس واسطے کہ انسان برفانی موجود ہے کچھ عرصے کے بعد وہ فوت ہو جاتا ہے تو آگے انسان کی نسل چلانے کے لیے بھی عورت اور مرد کا تعلق لازمی قرار دیا گیا ہے پیار سے ہم دیکھتے ہیں جہاں پر کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پایا جاتا ہے آپ کی اس عمل میں آئی معاشرے میں عورت کے ساتھ تعلقات کے تعلق سے کوئی حدبندی نہیں تھی نہیں چاہتا ہے تو دسدی عورتیں کر سکتا تھا زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نفرت سے بیویاں کرنے کا رواج یہاں کے بادشاہوں میں بھی تھا چنانچہ حضرت رام چندر جی کے والد جو تھے ان کی بھی کی بیویاں تھیں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت حسین جی ان کی بھی متعدد بیویاں تھی یہ تو خیر ایسی بات نہیں ہے لیکن عرب میں خاص طور پر ایسا تھا کہ کوئی حد بندی تھی بتا یا بازو کو طلاق دے دیتا بعد میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی کے آدمی کے دوسری جو تبدیل کر دیتا ہے یہی حیثیت عورت کی لیکن قرآن مجید نے ہمیں یہ بتایا کہ قرآن مجید سے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان احسان کو اختیار کرے اس کے ساتھ اور اس کے معنی پاکدامنی کا اختیار کرنا جوانی کے ایام میں انسان بن سکتا ہے ایسے وقت میں جب تک اپنے گھریلو تعلقات میں اس کے اپنی بیوی کے ساتھ ہوں گے تو ادھر ادھر اس کی نظر نہیں بھٹکے گی اور پاکدامنی کا ایک ذریعہ قرآن مجید نے اس کو قرار دیا ہے چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ محصنین غیر مسافحین سورۃ النساء کی آیت پاک دامنی اختیار کرنے والے ہو شہوترانی اختیار کرنے والے نہ ہوں یہ صرف جذبات کی تسکین کیا ذریعہ ہی نہیں ہے کے پاکدامنی کا ذریعہ قرار دیا پوری غزل شادی کی ہے اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے کہ جس اوکمہ رسول اللہ آپ کے بغیر نسل ضروری ہے انسان نظر نہیں چلے گی تو یہ پھر سلسلہ قائم رہے گا انسانوں کا تمام جانوروں میں بھی یہ چیز پائی جاتی ہے عطا فرمائی تیسری کر بیان کی اور چوتھی غزل رفیقہ حیات میں اثر آجاتا عورت مرد کے لئے اور مرد عورت کے لیے نساؤکم حرث لکم جہاں اللہ تعالی نے فرمایا وہاں فرمایا لم تذکر ویلھا وجعلنا بینکم مودۃ ورحمۃ سورۃ الروم کی 22 ویں آیت ہیں اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے تمہارے لیے تمہارے اپنے نفع ہماری اپنے جو محفوظ ہیں اور مرد لحاظ سے تم دونوں کے اندر ایسی محبت اور رحمت کا سلوک کو پیدا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تم تسکین حاصل کرتی ہوں عورت مرد سے اور مرد عورت سے جو ہے یہ تسکین حاصل کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ معاشرے میں کوئی ایسی بات نہ پیدا ہو جس کے نتیجے میں بدنامی کا باعث ہو یا یہ کہ شرک ہو یا یہ کہ فساد کا موجب ہو دیکھیں گے کہ اگر عورت اور مرد کے تعلقات صحیح نہ ہو تو ایسی صورت میں بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے دہی اور پہنچ جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں لازمی طور پر ہے پورے معاشرے کو بدامنی کا شکار ہونا پڑتا ہے اس کے علاوہ خاص طور پر اب میں عرب میں اے اکثر قبائلی رواج تھا وہاں پر قبائلی رواج بھی تھا سردار جو ہے پورے قبیلے کو کنٹرول کرتا تھا تو اس لحاظ سے جو ہے یہاں پر جنگیں بھی ہوتی تھی ایک قبیلہ دوسرے پر حملہ کرتا تھا جنوں کے نتیجے میں پھر اولاد کا بھی معاملہ ہو جاتا ہے ہم نے عورتوں کا معاملہ بھی سامنے آ جاتا ہے کہ میں جو شہید ہوئے ہیں ان کی بیوہ آجائیں گی ان کی شادی کا بھی بندوبست کرنا پھر یہ کہ ان کے جو بچے یتیم رہتے ہیں ان کی پرورش کا معاملہ بھی تھا تو اس لحاظ سے بھی جنگوں کا ماحول ہونے کے اعتبار سے بہت سارے سورۃ النساء میں اس کی جگہ تفصیلا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اللہ تعالی نے فرمایا کہ تمہارے لیے مسئلہ حوصلہ سا روا کا خاص طور پر ذکر دو دو تین تین چار چار بیزی کر سکتے ہو لیکن اس پر شرط لگادی اگر تم عدل سے کام نہیں لے سکتے برابری کا سلوک نہیں کرسکتے ہر ایک کے ساتھ اور کھانے پینے کا اس کے والد نے پہننے کا اور اسی طرح سے محبت کے تعلقات کے اعتبار سے تو اگر برابر نہیں ہے تو ایسی صورت میں پھر ایک ہی پر اکتفا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے کے علاوہ محبت اور رحمت کے تعلقات کے اعتبار سے بھی آخر صلی اللہ علیہ وسلم آتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے آپ کی تمام بیویاں یا تو بیوہ تھی یا ملاقات خیریت تو بیواؤں کی تھی اور کچھ کافی تھی اعتبار سے آپ نے مولانا کی ہے کہ محبت اور رحمت کا سلوک اور دوسرے کے عورتوں کے ساتھ حضور کا جو تعلق تھا جو عدل اور انصاف آپ نے قائم کیا تھا وہ بھی ایک نمونہ ہے جو دوسرے قائم نہیں رکھ سکتے تھے تیسری اور اہم بات یہ بھی ہے کہ جو مذہب کے مسئلے ہوتے ہیں اسی طرح سے کام اور ملت کے مسائل ہوتے ہیں اس کے علاوہ سیاست اور حکومت کے لحاظ سے بھی جو مسائل ہوتے ہیں لے کہ عرب میں قبائلی رواج عقب ایل آج کا رواج تھا ہر سردار کا لقب ہر مقابلے کا سردار ہوتا تھا اور اس کردار کے بجائے سارا قبیلہ عملدرآمد اس کے ساتھ جو ہے کیونکہ وہاں پر ان کے ذرائع آمدنی بڑے محدود تھے تو ایک قبیلہ دوسرے پر حملہ آور ہو کر جائے اور لوٹ مار تو اس لحاظ سے ان رسالہ سے شادیاں کی ہیں اس میں ایک بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ مختلف ان سے اگر روابط قائم ہوجائیں تو لازمی بات ہے کہ جس کیلئے عورت آپ کے آخر میں آتی تھی وہ قبیلہ آپ کا جو ہے وہ رحمت اور رحمت کا سلوک کرتا تھا اس واسطے کے دیکھتے ہیں کہ بیوی کے خاندان والے اور ان کے خاص طور پر فخر کرتے ہیں جس کا موبائل کے بھی مسائل تھے ان تعلقات کو بڑھانے کے لیے بھی یہ شادی کی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ چونکہ اندر صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایک نبی کا وجود تھا وہ بھی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا اور شرعی نبی ہونے کے اعتبار سے آپ نے اپنا عملی نمونہ اس رنگ میں بھی دکھایا کثرت ازدواج کے نتیجے میں اللہ تعالی نے آپ کو ایک عورتوں کی اصلاح کے لئے ذریعہ بنایا مردوں کے ساتھ آپ کے تعلقات ہوتے تھے لیکن عورتوں کے لئے بعض خاندانوں میں شادیاں کرکے ان کی تربیت آپ نے اس رنگ میں کی کہ انہوں نے آگے آپ سے علم سیکھا اور آپ سے عذاب بھی سیکھی اور اسی طرح سے عورتوں کے مسائل ہوتے ہیں برفی اور لڈو کی تربیت اس رنگ میں آپ نے کی ہے کہ عورتوں کے اندر اندر جذبہ پیدا ہو گیا نہ صرف یہ کہ دین داری ان کے اندر پیدا ہوگی بلکہ اللہ تعالی سے تعلق بھی ان کا پیدا ہوگیا بہت ساری خواتین آپ کے زمانے میں بھی ایسی ہوئی ہیں جن کو جن کا تعلق اللہ تعالی سے قائم ہوتا چلا گیا بڑی وجہ ہے تو اعتراض کرنا تو الگ بات ہے لیکن یہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں میں بڑی حکمت یہ بھی تھی کہ عورتوں کی تربیت اس رنگ میں کی جائے کہ وہ عرفان ایک خاص طور پر جو ہے عورتوں کے مسائل سے اتنا واقف نہیں ہوتا جتنا کہ عورت واقع ہوتی ہے تو اس نے ہاتھ سے اندر تسلیم نے ان مستورات کی اس رنگ میں تو تربیت کی ہے کہ آپ نے خود فرمایا کہ اگر تم علم دین سیکھنا چاہتے ہو نصف علم جو ہے وہ حضرت عائشہ سے تم سے کرتے ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے المسائل بھی ہے قرآن مجید کی تفسیر بھی آتی ہے اس کے علاوہ دوسری بھی یہ خواتین تھی ان سب نے اپنے اپنے دائرے کے اندر دین کی تربیت کا کام سرانجام دیا تو یہ اغراض محصنین غیر مسافحین کے اندر رہتے ہوئے ان اللہ علیہ وسلم نے کے باوجود اس کے کہ آپ کے پاس کوئی مال و دولت نہیں تھی زبیر جائیداد بھی ایسی نہیں تھی آپ نے عیش و عشرت کی خاطر کی ہوں ایسا بھی نہیں نظر آتا ہے بلکہ احادیث میں بھی ذکر آتا ہے مہینہ گزر جاتا تھا لیکن آپ کے گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا کہ دفاع منایا پوچھا بیوی سے کہنے لگے کہ ہمارے پاس تو تو یہ غربت کا عالم تھا اور غربت کے عالم میں بھی ان تمام بیویوں کو پالنا اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا اور پھر اس رنگنے ان کی تربیت کرنا کے آگے مسلمان عورتوں کی وہ آگے تربیت کر سکیں تو یہ بلاوجہ شادی آپ کی نہیں تھی بلکہ بہت ہی مفید مطلب پہلے حکومت اور مسالے ہی محبت و تعلق کی وارث اک قوم اور ملت کے اعتبار سے اور مذہبی اعتبار سے یہ تمام شادی آپ کے لیے لازمی تھی ایک حد کے بعد آنے کے بعد اللہ تعالی نے پھر آپ کو جواب دیا کہ آپ نے آپ سے شادی نہیں کرنی تو یہ شادی بڑی حکمت کی باعث بنی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان عورتوں کے اندر بھی قربانی کے جذبات پیدا ہوئے مال و دولت بھی قربان کرنے کے لیے تیار تھے جان و مال بھی تیار تجارتی اور اللہ تعالی سے تعلق بڑھانے کے لئے سب سے آگے قدم بڑھانے والی کلاس جزا ہم کچھ ٹیلی فون کالز کی طرف جاتے ہیں اور ان کے سوالات پوچھتے ہیں سب سے پہلے ہم بات کریں گے بنگلہ دیش سے اس وقت الرحمان صاحب ہمارے ساتھ فون پر موجود ہیں ان سے بات کرتے ہیں اور ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ الرحمٰن صاحب ورحمۃ اللہ ضیاء صاحب نے سوال پیش کریں میں نے تو آپ کو مبارکباد دے رہا ہے کیا الزام استغفراللہ استغفراللہ کیا سے کیا مراد ہے جزاک اللہ محترم النساء میں سے درخواست ہے ستائیس سو یہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے نیک فطرت پر پیدا ہوتا ہے مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ ہیں اور ہم جیسا نہیں یونہی ہر بچہ جو پیدا ہوتے ہی نیک فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے ماں باپ جو ہے یا ان کا ماحول جو ہے وہ کونسا نہیں بنا دیتے ہیں ایسا ہی بنا دیتا ہے یا مجوسی بنا دیتے ہیں تو اسلامی تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے کہ انسان کو فطری و لوٹا ہے اس لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہتے ہیں کی تربیت جو بچے کو ملتی ہے وہ ماں کی گود ہے وہ اگر تعلیم یافتہ ہوگی اور دیندار ہوگی تب جا کے بچے کی سحری میں طبیعت اس لئے بیویوں کے اختیار میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سفر بھی ذاتی دین کو اپنا کرو میری تین چار باتوں کی رحمتوں کی جاتی ہے اور یہ تسبیح فرمایا یہ منہ اگر تم کامیاب ہونا دستاویزات دینے والی اور اس کو ترجیح دیں تو ان سے شادی کرو گی یا ماں کی گود جو ہیں سب سے پہلی درسگاہ ہیں ایک بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے ابھی تو اسلام نے یہ تعلیم دی تھی الجنۃ تحت اقدام الامہات کے ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اگر صحیح تربیت ماں نے بچے کی صحیح تربیت کرنے میں کامیاب ہوتی ہے والدین کامیاب ہوتے ہیں تو سہی صراط مستقیم پر چلتے ہیں وہ بچے آگے چل کر دین کے لئے ملک کے لیے اور دنیا کے لیے مفید بن جاتے ہیں

جو ذمہ داری ہے سب سے بڑی ذمہ داری عورتوں کی بچوں کی تربیت کی ہے اگر اس لئے عام طور پر یہ کہتے ہیں خلفائے کرام کی یہی عادت ہے کہ جب تک کسی عورت کو کوئی مجبوری پیش نہ ہونے کی وجہ سے گھریلو اخراجات کے لیے اسے وہ باہر جوب نہ کرے سوائے اسد مزاری جو ہے وہ بچوں کی تعلیم و تربیت ہی ہے کیا جن میں توتائے عقلمند بہت ہی معنی خیز ہے اور اسی پر تمام تربیت کا دارومدار ہے اور ٹیلی فون کالز اس وقت ہمارے ساتھیوں کے سے مکر محمد عبدالرشید صاحب ان کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کرتے ہوئے ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ زید صاحب اسلام کی کس مذہب اور لوگوں میں کس نے زیادہ مخالفت کی تھی اور ان کا کے لیے مفید ہوں جناب شکریہ محترم غزل عبدالرشید صاحب بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کئی مقامات پر بار بار اس بات کا ذکر فرمایا ہے فسیرو فی الارض کیف کان عاقبۃ المکذبین گجرا زمین میں گھومو پھرو ہو اور دیکھو کہ جو مقصد ہے جھٹلانے والے لوگ تھے نبیوں کو سر انجام ہوا تو ہم دیکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کے اندر سلم کے زمانے تک مختلف انبیاء کے مخالفین تھے وہ اللہ تعالی کے عذاب سے ہلاک ہوئے اور اللہ تعالی نے ان کو تباہ و برباد کر دیا اور آگے ان کی نسل بھی جو ہے چلی ہے تو صرف نبیوں کو ماننے کے نتیجے میں چلی ہے اور نہ کوئی ان کا نام لینے والا بھی باقی نہ رہا اب دیکھئے صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے اپنے سوال فرمایا ہے کے پی کے میں سب سے زیادہ مخالفت کرنے والے خود ابولہب جو تھے وہ ان کے چچا بھی تھے ان سلو کے لیکن شدید مخالفت یا تا کے کوہ صفا پر فرمایا تھا تو اس وقت بولا ہم نے یہ کہا کہ بندہ گا لہذا جماعت علی تیرا بیڑا غرق ہو تو کیا اس لیے ہم یہاں پر جمع کیا ہے وہ بھی بہت بخار تھا تو آپ نے قرآن مجید میں پڑھا ہوگا تبت یدا ابی العالمین اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان کے دونوں ہاتھ جو ہے وہ تباہ ہو گئے اور کے علاوہ ابوجہل وابولہب کہلاتا تھا وہ بھی اس کے علاوہ تباہی شوہ ہیں کو پھر جنگےبدر جب ہوئی ہے تو آنحضرت صلی وسلم نے نشاندہی فرمائی تھی کہ یہاں پر ابوجہل ملے گا یہ اس بارے اسی جگہ پر ہوں عذاب میں گرفتار ہوئے تو یہ عرب میں جو لڑائی ہوئی ہے وہ بھی وہ بخال فین کے آزاد کے تعلق سے حضرت موسی علیہ السلام نے اس کا بھی ذکر فرمایا اسلامی اصول کی فلاسفی میں بھی اس کا ذکر آتا ہے اور دوسری جگہ پر کریں ایک ہزار تھا کے نام پر مختلف قسم کے عذاب آئے ہیں لیکن عرب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد تھا مشرکین پر تو ہم دیکھتے ہیں کہ جتنے بھی مخالف تھے اب ابو جہل تو مر گیا ہلاک ہوا لیکن بیٹا عطا فرمایا تھا اس نے اسلام قبول کر لیا اللہ تعالی نے پھر اس کو اسلام کی خدمت کی بھی توفیق دی لیکن باقی جنہوں نے بھی مخالفت کی ہے ان کا نام و نشان مٹ گیا ہاضمے کے لیے یا ان وسلم کی صداقت کے لیے ان کا نام تاریخ میں باقی رہ گیا ورنہ تو ہم دیکھتے ہیں کہ جتنے بھی مخالفین ہوئے ہیں السلام کے سب کو تباہ و برباد کیا کوئی ان کا نام لیوا نہ رہا اگر تری دنیا میں کسی کا نام پھیلا ہے اور کسی پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے تو اس نے ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی صل وسلم کے اور کوئی وجود نہیں اللھم صلی اللہ محمد و آل محمد و بارک وسلم روزہ پروگرام کی طرف جاتے ہیں اور محترم مولانا ضیاء الدین صاحب حامد سے میرا یہ سوال ہے کہ حضور صل وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جو شادی ہے اس کے تعلق سے بھی مختلف اعتراضات کیے جاتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت کمسن تھی یا شادی کی عمر تک نہیں پہنچی تھی تو اس غلط فہمی کو حل کرنے کے لیے میں آپ سے درخواست کروں گا کہ کچھ تفصیل بیان کریں صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ پر جاتے ہیں مخالفین نے اسلام کی طرف سے عورت مختلف آپ کی سیرت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مختلف اعتراضات کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت کم عمری میں شادی کی ہے کی کی تعداد اس روایت کی بنا پر کسی کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ جب میرے اور نقصان ہوا اس سے میری عمر 19 سال تھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک پادری فتح مسیح یہ اعتراض لگایا ہے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق الزام لگائے کہ بہت کم عمر میں حضرت عائشہ سے شادی کی ہے اور بعض اور ناشتہ استاد باتیں بھی آپ کی آپ کی طرف منسوب کی ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

خاص طور پر نور القرآن اور یہ دھمکی سے کتابوں میں بڑی تفصیل کے ساتھ اس سے اس کی تعبیر فرمائی ہے اور حضرت مرزا بشیر حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی کتاب سیرۃ خاتم النبیین میں بھی ملاحظہ فرمائیے یہ بات نہیں کہ کہیں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ارشاد نہیں فرمایا حضرت عائشہ کی عمر کے متعلق یہ کوئی ایسی حدیث روایت نہیں ملتی اور ویسے تو اگر دیکھا جائے اگر نو سال اگر ہم تسلیم بھی کر لے تب بھی کوئی اعتراض کی جگہ نہیں ہے اس لیے میں محققوں نے تحقیق کی ہے کہ بعض ممالک میں ہر سال کی عمر میں آٹھ سو سال کی عمر میں بچیوں والی ہو جاتی شادی کے قابل ہو جاتی ہے محرم تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھ لیں کس طریقے سے کیا حضرت عائشہ کی عمر کیا تھی شادی کے کھانے کے وقت اس کے لئے ایک دو باتوں کا دیکھ عراق کی تحقیق بہت ضروری ہے ہے اللہ تعالی عنہ دوسری بات یہ کے رخصتانہ کب ہوا دونوں کے دونوں کا پتہ لگ جائے کہ پتہ چل جائے کہ یہ دونوں کے درمیان جتنے بھی سال بنتے ہو اصلی آپ کی رخصت ان کی عمر ہے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش کے متعلق ابن سعد کی ایک روایت ملتی ہے دانت عائشہ رضی اللہ عنہ حضرت حسن اور آب و ہوا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت نبوی سال 34 نبوی میں اس کے آغاز میں حدیث نبوی میں آپ کی ولادت ہوئی ہے اور اس کے علاوہ کوئی روایت ہی نہیں ملتی آپ کی ولادت کے بارے میں یہی ایک معتبر روایت ہے کہ آپ کی پیدائش جو ہے سال میں اس کے آغاز میں ولادت ہوئی دیکھیں گے رستہ نہ کے تعلق سے جو علامہ نبوی ہے اسی طرح آئینی ہے علامہ عسقلانی والے جیسے محققوں نے یہ ثابت کیا ہیں سن دو ہجری میں آپ کا آسان عمل میں آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت حضرت عائشہ جو چوہدری صاحب نبوی میں یہ جرت ہوئی ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے اگر اللہ تعالی نے عمر جو ہے اس ٹائم 10 سال سے تھوڑا اوپر آپ کی مرضی بس اور کچھ نہیں نہیں اگر دو ہجری میں ستانے میں آیا اس کتاب دیکھ لیا جائے تو بالکل وہی ہے وہ ہوئے بارہ سال کی عمر بنتی ہے بھارت سال کی عمر میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا رستہ نہ ہوا عمل میں آیا اس نے یہ اعتراض ویسے بھی بات نہیں کہ محققین کے نزدیک نو سال کی عمر میں بھی عورتیں اس علاقے میں خاص طور پر لڑکیاں شادی کے قابل ہوجاتی ہے کی عادت 16 صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت عائشہ سے ہوئی ہے یہ خاص اللہ کے اذن سے اللہ تعالی کی تجویز کے مطابق ہوئے خواب بیان فرمایا ہے کہ خواب میں آپ نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آتاہے اور ریشم کا کپڑا آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہے اور آپ بھول کے دیکھیں تو اس میں حضرت تصویر نظر آتی ہے کہ آپ نے اس خواب کو مخفی رکھا ہے کسی کو بتائیں کہ انسان سال گزرنے کے بعد کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ باقاعدہ تحریک ہوئی اور اپنے آپ سے شادی کی کوئی اعتراض بالکل باطل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر دیکھیں اس نے 55 سال تھی سال کی عمر میں اگر کوئی شادی کرتا ہے تو صائم اور شاعری کے مطابق تجویز کے مطابق کرتا ہے تو یہ اعتراض کرنا حلانکہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کو دین سکھا دوں 55 سال کی عمر میں شادی کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ صحیح یہ بھی یاد رکھیں گے جیسا کہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کیا ازواج مطہرات مجھے کوئی بھی بات نہیں تھی بھائی ایک بات کرا لڑکی تھی جن سے آپ کی شادی ہوئی ہے تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ اعتراض بے بنیاد ہیں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی نے شادی بالکل صحیح بلوغت کی عمر کو ہوئی یہ اعتراض بالکل بات نہیں روزہ اور ٹیلیفون کالر کی طرف جائیں گے اس وقت ہمارے ساتھ لائن پر موجود ہیں انڈیا سے ہی ہیں وہ کرم طارق احمد ڈار صاحب ان کا سوال بھی سنتے ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ پروگرام میں شامل کرتے ہیں اسلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی کے ڈار صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جی طارق صاحب ہم آپ کو سن رہے ہیں اپنا سوال مکمل پیش کر دی لیونٹ آواز کو بند کر دیں گے اور اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ہے جزاک اللہ شکریہ آپ کا سوال ہے مل گیا ہے محترم مولانا محمد کریم کی نسبت سے درخواست ہے سبب ہے تاریخ بتا دی ہے جس خدا نے یہ فرمایا ہم مشہور حدیث ہے یہ تو لولاک لما خلقت الافلاک مگر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر تیری پیدائش میرا مقصود نہ ہوتا تو میں ساری کائنات ہی کو نہ پیدا کرتا ان کی تقدیر تھی یہ تمام انبیاء کے آنے کے بعد ان بین کی حفاظت عمل میں آئے تاکہ وہ جو مکمل طور پر ان کی صورت میں ایک شریعت کی صورت میں ان کو دے دیا جائے تو یہ ایک درجہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو تمام نبیوں پر افضل ترین نبی ہونے کے اعتبار سے کتاب میں جو یہ بیان کی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین قرار دیا گیا ہے کرنے کا فائدہ کیا ہے تو بات یہ ہے کہ یہ حکم تو اللہ تعالی نے ہی ہمیں دیا ہے قلعہ وملاءکتہ و یصلون النبی ے صلو علیہ وسلمو تسلیما اے اللہ اور اس کے فرشتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور رحمت بھیجتے ہیں آپ کدھر ہیں لائیو صلو علیہ وسلمو تسلیما نہ تم بھی رحمت کی دعائیں اس کے لیے کرتے چلے جاؤ تاکہ اس کے درجات بڑھتے چلے جائیں جو ہم اپنا درود بھیجتے ہیں چلے جاتے ہیں اللہ تعالی آپ کے درجات کو بلند کرتا چلا جاتا ہے گویا کہ قیامت تک جو بھی اسلام میں پیدا ہونے والے بچے ہیں وہ بڑھتے چلے جائیں گے اور ان کے درودوسلام آسمان پر پہنچتے چلے جائیں گے تھے ان وسلم کا مرتبہ اتنا ہی بلند ہوتا چلا جائے گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مجھے ایک بات یاد آ رہی کہ اس خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے سب سے پیارے رسول ہیں سب سے پیارے نبی ہیں اور سب سے یوں کہیں کے ہم انسانوں سے سب سے زیادہ جو ہے وہ محبوب ہے ان سے جب دیکھے کوئی آدمی مانگنے جاتا ہے تو گھر میں اپنے آپ دیکھا ہوگا مانگنے والی ابھی یہاں پر بھی آتی ہر جگہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی تمہارے بچوں کا حافظہ سے ہوں تیرے بچوں کا بھلا ہو کہ کیوں کہتی ہیں کہ ہمارے اندر ایک جذبات پیدا ہوتے بچوں کے لئے جو محبت ہمارے اندر ہوتی ہے ارے بھائی ہمارے بچوں کا صدقہ لو یہ خیرات لے لو تم کل اس جذبات کو ابھارنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی کے اس پیارے نبی کو جو اس کا محبوب ترین بندہ ہے اس کا واسطہ دیکھیں جب ہم اللہ سے مانگتے ہیں تو اللہ کی رحمت جوش میں اس کو دراصل یہ ہے کہ فائدہ اس میں ہمارا ہی ہے درود و سلام بھیجنے کا فائدہ ہمارا ہی ہے کیونکہ ہم اس کے وسیلے اس کا نام لے کر جب اللہ تعالی سے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے باوجود ترین بندے کا واسطہ ہم دیتے ہیں تو اللہ تعالی کی رحمت تو یہاں ہر سال ان کے درجات بلند کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور دوسرے کے ہمارے لئے ادھر اصل پاکیزگی کا ذریعہ ہے ہے کہ اس پاک نبی کا نام لے کر جب ہم اللہ تعالی کے حضور نے اپنی درخواست پیش کرتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ اس پیار اور محبت کے جو اللہ تعالی کو اندر وسلم سے ہے اللہ تعالی ہماری بھی سن لیتا ہے صلح حسن رضا پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا محمد کریم سب شاید سے میرا یہ سوال ہے کہ اور موضوع خاص طور پر عورتوں سے متعلق ہے جس کے حوالے سے مختلف اعتراضات ہوتے رہتے ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جس طرح کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے ما ملکت ایمانکم کی جو تمہاری لونڈیاں ہوئی ہیں اس حوالے سے بھی اعظم کی سیرت کے حوالے سے اس لیے مختلف اعتراضات ہوتے ہیں تو میں آپ سے اس کے بارے میں تفصیل جاننا چاہوں گا یہ دراصل ناصر جی کی وجہ سے اعتراض لوگ کرتے ہیں ایمان ہم سے بعض لوگ جو ہے نا قربانیوں کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہیں یا اسی طرح سے بعض لوگ جو کمزور قوم ہیں ان کی بعض عورتوں کو اغوا کرکے جو اس کو بیچنے ہیں بازار میں یا خود ہی ان کو شادی کر لیتے ہیں تو یہ لونڈیوں کا جو خیال ہے یہ بالکل بلکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ماکان علی نبی نا یار فون علاوہ سرعت انزال کسی نبی کے لئے جائز نہیں ہے کہ کسی کو خریدنا یا کسی کو غلام بنائے یہاں تک کہ پوری جنگ نہ ہو جن کے نتیجے میں کوئی قیدی آتے ہیں تو ان کے لیے بھی پھر اللہ تعالی نے شرائط رکھی ہیں کہ دیکھو اگر پیڈیا لے کر ان کو چھوڑ سکتے ہو تو چھوڑ دو ڈاکٹر کا اللہ تعالی نے ان کا بھی اور اگر وہ خود بھی زیادہ دے نہیں سکتے ہیں تو ان کی قوم اگر تو دے دیتی ہے تو پھر بھی ان کو چھوڑ دیا جائے اس کی بھی طاقت اس کو نہیں ہے تو پھر اسلامی حکومت کو قرار دیا ہے کہ اس کا ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو بطور انسان کے چھوڑ دے لازمی بات ہے کہ جو جنگی قیدی یا جنگ میں اور پہ آتی ہیں پہلے زمانے میں تو رواج تھا کہ ان کو لونڈیاں بنا کے رکھ دیا جاتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق کی یہ شرط لگادی ہیں کہ ان کو اس رنگ میں استعمال نہیں کرنا ہے کہ ان کی ضرورت ہو

درجہ جو ہے اسلام نے بہت بڑا قرار دیا ہے جنگ میں جو عورتیں آتی ہیں ان کے جذبات کا خیال رکھنا ہے ان کا احترام کا بھی خیال رکھنا اور اس کے ساتھ ہی لے کر چھوڑنا ہے ان کو اور اگر ثریا نہیں دے سکتے ہیں تو اسلامی حکومت میں ان کو بطور انسان کے اور پھر اگر گوگل ان کی بنتی ہے تو جن کے جس پارٹی کے پاس ان عورتوں کو رکھا جاتا ہے پرورش کے لئے اگر وہ خود ہیں یا ان کے مجھ سے کوئی ان سے شادی کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں ان کو جو ہے پھر ایک آزادی نصیب ہو جاتی ہے ایک خانگی زندگی ان کو میسر آ جاتی ہے اور پھر اس کے علاوہ یہ بھی شرک ہے کہ جب اسے کوئی اولاد پیدا ہوتی ہے تو عام مسلمان عورتوں کی طرح وہ بھی آزاد سمجھ نہیں آتی ہے غلام ہی رہے گی یہ تمام باتیں ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے لوگوں میں جو ہے وہ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ کب جیسا کہ پہلے لکھا تھا کہ عرب کے لوگ جو ہیں عام طور پر حادثہ کے جو لوگ ہوتے تھے غلام جو حبشی ہوتے تھے ان کو غلام بنا کے لیے آتے تھے یا ایران سے یا اسی طرح دوسری جگہ جو ہے وہ تم کیسے دیکھ لیں اس کو پکڑ لیا اس کو لا کے کہیں بازار میں بیچ دیا یہ باتیں جو یہ بالکل غلط ہے کراچی میں تفسیر کبیر کا کچھ حوالہ میں آپ کے سامنے پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں سورۃ المومنین کی تفسیر میں کے داہنے ہاتھ مالک ہونے سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ تو اس میں نوکرانیوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں ان کو بھی چھاپا مار کر جو چھاپہ مار کر کسی کمزور قوم کے اندر سے زبردستی اغوا کر لی جاتی ہیں اور پھر فروخت کر دی جاتی ہے اور بعض لوگ ان الفاظ کے یہ مان لیتے ہیں کہ جو عورتیں جہاد میں حاصل ہو وہ بغیر نکاح کے گھروں میں رکھی جائے ہیں لیکن یہ سب مانا غلط ہے میں اور احادیث میں نوکروں اور غلاموں کا الگ الگ ذکر ہے نوکر اس میں شامل نہیں ہے دیکھا جائے تو مسلمان بادشاہ نے بھی مسلمان لوگوں نے بھی اپنے نوکروں کے ساتھ جو ہے نا جائز تعلقات تو رکھتے ہیں جو کہ بالکل ناجائز ہے فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں اور احادیث میں نوکروں اور غلاموں کو الگ الگ ذکر ہیں اس لیے بنا کر اس میں شامل نہیں ہے اور غلاموں کے متعلق قرآن کریم صاف طور پر فرماتا ہے کہ ماکان علی نبی نا یہ سورۃ الانفال کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی پر امن قوم سے مرد جنگی قیدی یاعورت جنگی قیدی زبردستی پکڑ لیا جب تک کہ اس کے اور اس کے دشمنوں کے درمیان خونی جنگ نہ ہو یوں ہی کسی کا ان سے جنگ نہ کر رہی ہو وہ قیدی پکڑنے جائز نہیں جیسا کہ سینکڑوں سال سے حجاز کے لوگوں سے غلام پکڑ کر لاتے ہیں یا جیسا کہ گزشتہ دنوں میں یہ یونان سے اٹلی کے جزیرے پکڑ کر لے آتے تھے ایسی غلامی اسلام میں جائز نہیں قیدی پکڑنے جائزے دوبارہ ہے جیسا کہ پہلے ذکر کیا ان کے لئے بھی بات شرائط رکھی ہیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ چھوڑ دو وہ نہیں دے سکتے ہیں یا خود سلام نہیں کر سکتے تو اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کو احسان کے طور پر چھوڑ دے یہ بھی مشکل ہے تو جوب روپیہ آتا ہے ان سے جو اتنی دیر ادا کرکے جو ان کو چھوڑا جا سکتا ہے دوبارہ کا جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے پھر کسی خود جو جو مسلمان اگر ضرورت مند ہے وہ شادی کر لیتا ہے یعنی جو سپاہی ہے اور اگر سپاہی کے خاندان میں سے کسی کو ضرورت سے شادی کی اس سے شادی کر دیتا ہے تو اس صورت میں بھی آزاد سمجھی جاتی ہے جبکہ ان کے ہاں پیدا ہو جاتی ہے تو یہ سب باتیں جو ہے وہ غلط تو سوچ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے تو کئی دفعہ میرے پاس بھی بات نوجوان بھی بعض دوسرے لوگوں کے سوال کرتے رہے ہیں میں نے ان کو کہا کہ بھئی یہ مطلب نہیں ہے کسی سے کسی اور کو پکڑ لیں اور جو ہے کہ نوکرانی ہماری گھر سے کام بھی لے لیا اور اس کے ساتھ ج********** بھی قائم کر لیے یہ اسلامی کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے تازہ پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا زین الدین صاحب ہم آپ سے میرا یہ سوال ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے عورتوں کے عورتوں کا ایک مقام ہے وہ معاشرے میں قائم فرمایا ہے اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ اسلام کا عورتوں کے ساتھ کیسے حسن سلوک تھا تو وہ بھی آپ کی سیرت کا ایک بہت ہی دلکش جو ہے وہ باب ہے تو میں آپ سے جاننا چاہوں گا کہ اس حوالے سے بھی ہمارے ناظرین کو غصہ آتا ہے اسلامی تعلیم کا مطالعہ کرتے ہیں پتہ لگتا ہے کہ اسلام تمام شعبہ ہائے زندگی میں الضابط حیات ضابطہ ہے اور اسی طرح رہنمائی اصول رہنمائی فرماتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود رحمت اللعالمین بنا کر اللہ تعالی قبول فرمائے یہ تمام کے لئے تو یہ کیسے ممکن ہے یہ خیال کرے کہ طبقہ صنف نازک پر آپ کے اثرات نہیں یقین ہے آپ نے اپنے اعلی ترین افسر کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں تعلیم کے مطابق

اور اس میں کوئی تفریق نہیں ہے جس طرح مرد مختلف ہے اور مختلف ہے اور ہمارے لئے اور قربانی کے لئے اسے اور آگے بڑھنے کے لیے ہیں زندگی کے مختلف شعبہ جات میں آگے بڑھنے کے لیے اور میں شانہ بشانہ کام کر سکتے ہیں اسلامی تعلیم کا خلاصہ یہی ہے جو قرآن کی فرماتا ہے من عمل صالحا من ذکر وہو من الولی نے وہی عقیدہ ہے جو کوئی بھی مرد ہو یا عورت نیک کام کرے گا اور ایمان کے ایمان لاتے ہوئے نیک کام کرے گا پلیز ان کی پاکیزہ زندگی عطا کرے گی ہریانہ احسن ما کانوا یعملون اور جو کچھ وہ عمل کریں گے بہترین اجر صاحبان کو دیں گے یہ اسلامی تعلیم یہی بتاتا ہے کہ نیکی کے حصول کے لیے اسے اور دین کے اختیار کرنے کے لئے اسے باقی دنیا کی مشاقی سے مرد اور اپنی کوئی تفریق نہیں ہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی نے مرد کو قوم کر دیا ہے اب وہ کون سا رہ گیا عورتوں کے لیے بطور سارے مرد کو پیدا کیا ہے بہت ساری اور خصوصیات ہے طبی خصوصیات ہے اور باتیں اعزازات اور ان کو نقصان پہنچانا اور کی زندگی کے دیگر تمام لوازمات مہیا کرنے مرد کی ذمہ داری کر دیا تاریخ انسانیت پر نظر ڈالتے ہیں پتہ لگتا ہے کہ ہر ملک میں ہر طبقے میں ہر مذہب ہر قوم میں وضو میں التواء پر بہت ظلم ہوا پتہ کریں ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے تھے لیکن اسلام نے آکر وہ تمام کے تمام ظلم کو ختم کیا اور عورت کو ایک ایسا عظیم الشان مقام عطا فرمایا کہ وہ ایک اگر اس کا اندازہ لگانا ہے تو یہ دیکھنا پڑے گا اسلام سے قبل عورتوں کو کیوں تنگ کیا ہوا تھا لیکن میں اس کی طرف اشارہ کر یہ پایا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے واذا بشر احدھم بالانثیٰ ظل وجہہ مسودا وہو کظیم ان کو کسی کو لڑکی پیدا ہونے کی اطلاع ہو جاتی تھی ان کے چہرے پر سیاہ ہو جاتا تھا قدیم انتہائی رنجیدہ ہو جاتا تھا کیا کرتا تھا وہ یہ تباہ میں قوم سے چھپتا پھرتا تھا یہ اس کے ظلط ہوئی ہے پھر وہ سوچتے تھے کہ ایسی کوئی لاہور او رسول کی طرف کیا اس کو اس ذلت کے ہوتے ہوئے قیام اس کو زندہ رکھے یا اس کو زندہ درگور کرے مٹھی میں دبائے مجھے یہ حالت تھی کہ ایسے حالات میں اسلام نے یہ اعلان کیا کہ ہم ان کے لیے ایسے دین کے اختیار کرنے کے لئے عورت اور مرد میں کوئی بھی فری ہے بہت ہی اچھے انداز میں اپنے عربی اشعار میں بیان فرمایا ہے عرب میں کیا حالت تھی فرمایا کہ کہیں ان علاقوں میں منفی ہما ایوب ان میں سے تھے دو باتیں ایسی تھی جس جب قوم بالکل اندھی ہو چکی تھی حصول اقاریو کثرت طمث والی ایک تو یہ کہ مزے لے لے کر شراب پینا بکثرت نسواں اور عورتوں کی بہت سی شادیاں کرنا لیکن اسلام نے کیا خراب لایا ایسی تعلیم پیش کی کہ ایک طرح کے موضوع پر فرماتے ہیں منصف ہوتی ان کا ہوا تو جن میں لہو تحریف قرآن کا معاملہ ہے کہ اسلام نے جو کثرت ازواج کو طلاق کی تحریر فرمائیں کے ہدف مقرر کیا وہ بھی پھر آگے قرآن مجید میں وہ تحریر کے ذکر کیا ان سے شادی ہو سکتی ہے کہ سے نہیں ہوسکتی ایک دو شادیوں کی اجازت دی ہے اور اب تو میری حوصلہ افزا فرمایا کے بھائی یوسف تم اللہ تعالیٰ فوائدہ اگر تم یہ خوف ہے تم عورتوں کی اور میں انصاف نہیں کر سکیں گے شادی کرنا ہے تو قرآن کریم نے یہ جو کثرت سے شادی کا رواج تھا عرب ماحول میں قرآن کریم اس کی تحدید فرمائیں اس کی حد مقرر فرمائی اور انصاف کو بنیادی شخص قرار دیا ہے آپ صلی اللہ سے جہاں پر عورتوں پر بہت زیادہ ظلم ہوتا تھا اور سراج الحق اس کا تعلق نسوان کا آہستہ مرتب فرمایا آپ ایک دن فرماتے ہیں دنیا کولوں ہمت ہوئی دنیا والو ہمتا و خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ یہ سب کے سب سے زیادہ سامان عیش ہے گزارنے کے زرعی ہے لیکن خیر متاع الدنیا المراۃ لیکن سب سے بہترین سامنے آیا جو ہے وہ ایک نیک بیوی ہے جو کی جتنی بھی حیثیتیں معاشرے میں پائی جاتی ہے بے شمار تعلیمات قرآن کریم میں آیات طور پر سورہ نساء اور سورۃ طلاق جیسے صورتوں میں عورتوں کے حقوق پر بہت تفصیلی روشنی ڈال لیا تھا وہ معاشی نظریات سے متعلق کوئی آمدنی حقوق یا شادی بیاہ کے حقوق کے متعلق ہوں یہاں عورتوں کو ورثہ میں تقسیم کیا جاتا ہے لیکن قرآن کریم میں ان کو خارج کر دیا بیونسے کا باقاعدہ حصہ مقرر کیا وہ اپنے شوہر سے بھی حصہ پاتی ہے اپنے والد سے بھی اس بات کی ہے اسی طرح اپنی بھائی بہن بھائیوں سے بھی اپنے دیگر رشتہ داروں سے بھی اللہ کرے ان کا حصہ مقرر کیا ہے کہ اسلام کے امتیازی شان ملتے ہیں پھر اگے اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا من والدہ و پہلی تم ہیں آپ سب

ایمان کے لحاظ سے کامل مومن کون ہے ایک فرمایا اسلامی ملک ہے جو سب سے بہترین اخلاقی گئے دوسری بات جو بیان کیا کہ الفتح اہل ہیں جو اپنے اہل کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ اہل و عیال کے ساتھ جو سب سے زیادہ منافقت سے پیش آتا ہے ہمدردی سے پیش آتا ہے محبت سے پیش آتا ہے وہ سب سے زیادہ کامل ایمان ہے اسی طرح جہاں اور بیٹی کا تعلق ہے تو اس کی ایک ایسی بیٹی کی بھی ہے کہ وہ حضور صل وسلم نکالتے ہیں فلم میں وہی اول میں آدھا ولم یؤثر ولدہ علیہا ایک بیٹی ہے ہوں تھی وہ تحریر کریں نے اس کو زندہ درگور کرے نہ کسی لڑکے پر اسے ترجیح دے تو اس کو فرمایا کہ اس کے لیے جنت واجب ہو کل من کان لہ ثلاث و من عال ثلاث بنات غضب و بعد بولنا کیا داخل جس کے پاس تین بیٹیاں ہوں کہ اچھی طرح ادب سکھاتا ہے وہ اسی طرح ان کو تعلیم دیتا ہے پھر آگے اس کی شادی کراتا ہے اور شادی کے بعد بھی اس کے مسلسل جاری رہتا ہے تو ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے جنت واجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس کے کامل کے ذریعے سے نمونہ دکھا یا پورا قرآن کریم قرآن کریم کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کریم کے عین مطابق جیو نیوز دکھائیں اور موت کو یہ تعلیم تھی خیرکم لاھلی بخیر اللہ تعالی یہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے اور میں تمہیں سب سے زیادہ اپنے یار کے ساتھ شروع کرتا ہوں اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر بارہ تیرہ ازواج مطہرات کے ہوتے ہوئے آپ کس طریقے سے آپ نے میسج کیا ہے کس طریقے سے انصاف کو قائم کیا ہے کوئی شکایت نہیں تو آپ نے قرآن مجید کے تعلیم کے مطابق کے شادی بیاہ کے متعلق بھی اتنے شاندار قسم کی تعلیم اسلام نے پیش کی ہے ایک زمانہ کیا تھا عورتوں کی کوئی مرضی نہیں تھی لیکن قرآن میں فرمایا کہ 77 ولاتنکحوا حضرت خضر بے وا دیؤ کی شادی نیو سکتی جب تک اس کے مشورہ نہیں لیا جائے وہی باقرہ کی شادی نہیں ہو سکتی جب تک اس کا اثر نہ ہو کیا اسلام نے غلام کیسا ہے وہ عورتیں جو بالکل معاشرے کی اس کی کوئی قیمت نہیں تھی یہ اسلام میں اعلی ترین مقام پر پہنچایا ہے وہ کسی حیثیت میں ہوں یہ ساری تعلیمات جو قرآن کریم میں اب دیکھ کے وہ جائیں گے اور تم کو کیا مقام تھا شعبہ جات میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی تھی

اب دیکھ لیں جنگوں میں بھی عورتیں شامل ہوتی ہیں جنگ احد کا واقعہ دیکھیں کہ عمر ہمارا جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں مشہور کی بہت بہادری کے ساتھ لے رہی تھی بن کے ہر وار کو ناکام بنا دے دے ادھار فلم دوستی یہ دیکھ رہے تھے آپ نے ابھی تک فرمایا کے یا مارا مفتی کمال تو دیکھ لینا میرے جو تمہیں یہ تو طاقت ہے نا وہ کسی کتنی ہیں وہ گویا فرمائیں کے مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں جنگل میں حصہ لیتی رہی اور مختلف قومیں کاموں میں حصہ لیتی رہی اور وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد بھی تمہارے جیسے کام نہیں کر سکتی تو کر رہی ہے نیو تیکوں ماں توں تے نہیں ملا دعوت کو جو بلند و بالا مقام عطا فرمایا ہے ادھر سے کو اسلامی تعلیم کا بہت ہی خوبصورت الیمان اسلام نے پیش کی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کرکے اپنے آمین کے ذریعے دکھایا ہے گویا اسلام نے عورت کا مقام بہت ہی بلند بہت اچھا فرمایا ہے آگے جہاں تک کے اعمال صالحہ سے مساوات مرد و زن کا تصور اسلام نے پیش کے وہ حیرت انگیز ہے تو عورت کے بارے میں بتائیں کہ یہ تو غزل ہے ایک پسلی کی ہڈی کی طرح ہے فرمایا اس کو تیز کرنے کی کوشش نہ کرنا وہ ٹوٹ جائے لیکن فرمائے اس کی اصل خوبصورتی اس فطری چیزیں فطرت میں اس کے اندر ایک تو عورتوں کی جو فطری طور پر فرمایا دوسری طرف ان کے حوصلوں یا سلم نے فرمایا مردوں کو تمہیں کہ عورتوں کی کمزوری ہوتی ہے اگر کوئی کمی نظر آتی ہے اس کے اندر خوبیاں بھی تو ہوتی ہے تو مرد کو یہ تعلیم دی اگر عورت کے اندر کوئی نظر آتی ہے اسی طرح کرنے کو اس نے اسی اس کے خوبصورت ہے اگر ایک نظر آتی ہے بے شمار خوبیاں بھی پائی جاتی ہے تو مردوں کو یہ حکم دیا تم بہترین وعاشروھن بالمعروف قرآن میں عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کرو یہ اور بات کرکے اس کو ختم کروں گا ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کو نماز سے تشبیہ دی ہے اگر تنگ ہے تو کیا ہے وہ اور تمہاری منزل بحث کی ہے اور تم ان کے لیے بطور لباس کے ہوں اب نماز کے مقاصد کیا ہیں اور ان کے لیے بنیادی طور پر دو تین باتیں بیان کی ہیں پاس گزرنا علیکم لباس اللہ نے نازل کیا ہے دو باتیں بیان کی گئی ہے کہ ایک ایک ہمارے لئے باعث زینت ہے اور اسی طرح سوات ہو کیو ایم کے لیے ایک جگہ گرمی سردی کو بچانے کا بھی ذکر کیا ہے یہ بتا کر کے دونوں ایک دوسرے کا لباس ہے یہ بتایا کہ ہر ایک کو چھپانا اور اسے زینت بنا عورتوں کے حفاظت کرنا پھر قبول نہیں کرتے ہوئے فرمایا عورت کا نان و نفقہ ان کا سہارا دینا کرنا گویا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین بن کر رہا آپ کا یہ احسان عظیم ہے جبکہ نسوان پر آپ نے وہ تمام حقوق این کیا خاک مدنی و معاشرتی زندگی کے مراحل کے ہوں یہ حیرت انگیز ہے قرآن کریم میں اس کی تفصیل موجود ہے آزاد ریاستوں کی تعداد کے بارے میں سوال ختم ہو جاتا ہے بعض فنکاروں سے مرے ساتھ لٹک رہے تھے لیکن وقت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو موقع نہیں دے سکے اپنے آئندہ برسوں میں ان کو موقع دینے کی کوشش کریں گے آخر میں سیدنا محمد قادیانی مہدی موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس میں حضور فرماتے ہیں اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دیکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے رہے وہ محض دلاور عمر ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کا تاکہ معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا خلیق تھے باوجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے بروگ تھے لیکن اگر کوئی عورت بھی آپ کو کھڑا کر اس وقت کھڑے رہتے تھے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے میں بھی اس اصول کی سیرت کے حوالے سے ایک پہلو آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے ہماری سیاست کا اگلا ایپیسوڈ 29 جنوری 2019 ہفتے کے دن انڈین ٹائم کے مطابق رات کے ساڑھے نو بجے اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے قادیان دارالامان سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت دیجیے گا اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بولا لو کہ یہیں نور خدا بعد گے لاعت محیتار تسلی بتایا ہے ہیلو کہ یہ نور پا پا یار تو نے تار تسلی بتایا ہے لعنت محیتار تسلی بھی بتایا ہے

 58 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: