Rahe Huda – Sabar Aor Dua Par Bharosa – Muhammad pbuh Ka Namona




Rahe Huda – Sabar Aor Dua Par Bharosa – Muhammad pbuh Ka Namona

Rah-e-Huda – 18th April 2020 – London UK

اس سے لام سے نہ باندھا گیا ہے نہیں ہے جو نے بانو جان شمسو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم یا ایو ہل الذین امنو استعینوا بالصبر و الصلاہ اللہ مع الصابرین ناظرین کرام آیت کریمہ قرآن کریم کی سورۃ بقرہ کی 154 نمبر آئے تھے اور اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے لائیو للذین آمنو اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ہمبستری آسل وہ اللہ تعالی سے صبر اور دعا کے ساتھ مانگو ان للہ مع صابرین یقینا اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں دنیا کے جو حالات گزر رہے ہیں ہمیں خاص طور پر مدنظر رکھنی چاہیے ساری زندگی اس کو صبر اور دعا کے ساتھ گزارنی چاہیے حالات میں سیدنا ابو امامہ نہ حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی ہمیں اسی طرف توجہ دے رہے ہیں عمر عمر ہے عمر دا ہے جو اس وقت ایم کے انٹرنیشنل کے لندن سٹوڈیو سے آپ کی خدمت میں براہ راست پیش کیا جا رہا ہے 18 اپریل سن 2020 ہے ہفتہ اور جی ایم ٹی وقت کے مطابق شام کے چار بج چکے ہیں جبکہ برطانیہ کے وقت کے مطابق شام کے پانچ بچے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ تقریبا ایک گھنٹے تک یہ پروگرام آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا راہ دا سالہا سال سے اللہ تعالی آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قرآن کریم جماعت احمدیہ مسلمہ کے عقائد کے بارے میں آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور یہ پروگرام مبنی ہوتا ہے میں بتاتا چلوں کہ آپ نے سوالات کے اس طرح کرنے ہیں ایک تو ہمارا معروف واٹس ایپ نمبر ہے جو پروگرام کے دوران آپ کو اسکرین پر نظر آتا رہے گا واٹس ایپ نمبر پر آپ اپنا تحریری سوال کا جواب دے سکتے ہیں یا وائس میسج کے ذریعے بھی اپنا سوال بھجوا سکتے ہیں اگر آپ ہم سے بات کرنا چاہیے اس پروگرام میں ہمارا لینڈ لائن نمبر استعمال کر سکتے ہیں حالات میں گزشتہ چند پروگرام اور آج کا پروگرام بھی ہم اور صبر کے مضمون پر کر رہے ہیں کیونکہ یہی وہ مضمون ہے جو ہمیں آج کل مدنظر رکھنا چاہیے اور ان حالات میں ایک جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے احباب ہیں اور وہ بھی ہیں جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں ہے ان کو غور و فکر کرنا چاہئے کہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق کیا کوئی وجود اس دنیا میں آیا تو نہیں سکا جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا یہی دعویٰ ہے کہ آپ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اس دنیا میں تشریف لا چکے ہیں اور آپ اور آپ کے بعد خلفاء احمدیت اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کا کام کر رہے ہیں کا آغاز کرتے ہیں اور اپنے پینل میں آپ کا تعارف کروا دیتا ہوں یوسی ٹو پاکستانی آپ سے مخاطب ہو گا جبکہ انشاءاللہ اسکائپ کے ذریعے ہم بات کریں گے فضل الرحمن ناصر صاحب سے اور نصیر احمد عمر صاحب سے مولانا فضل الرحمن صاحب جس طرح کے آپ کے علم میں ہے گزشتہ پروگراموں میں بھی آپ ہمارے ساتھ رہے ہیں کہ ہم جس موضوع کو ہم نے شروع کیا ہے وہ ہے صبر اور دعا کے بھروسے کا وہ میں دیکھ رہا ہوں اس کو اسکرین پر بھی میرے سامنے انڈیا سے بھی سوالات آگئے ہیں بنگلہ دیش سے بھی سوالات آگئے ہیں فرانس سے بھی سوال آنے شروع ہو گئے اور ابو سے بھی سوال آ رہے ہیں لیکن میں پہلے چاہوں گا کہ آپ ہمارے ناظرین و سامعین کو یہ بتائیں کہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوی نبوت فرما دیا اور اس کے بعد آپ کی زندگی میں جو مشکلات آئیں ان کا اپنے کیسے دا اور صبر کے ساتھ سامنا کیا غلام اللہ الرحمن الرحیم انبیاء کے ساتھ دعا اور صبر ایک ایسی چیز ہے جو اس طرح بنی ہوئی ہے کہ دراصل کیا انبیاء اپنی دعاؤں اور صبر کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں اس بات کا بڑا واضح ثبوت ہوتا ہے یہ شخص جو اپنے آپ کو خدا کی طرف منسوب کر رہا ہے نہیں اس کے پیچھے خدا ہے اب ظاہر ہے تو اس طرح کی صورتحال نظر آتی ہے کہ بالکل تنہا کمزور اور قریب ساری دنیا ہی اس کی مخالفت نظر آتی اور یہی حال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب دعوی نبوت کیا سے باز بڑی محبت کرنے والے اور آپ کے ساتھ کھڑے تھے آپ پر اعتماد کرنے والے بعض ایسے لوگ تھے جو آپ کو چھوڑ کر چلے گئے آپ کو یہ کہتا ہوں کہ آپ پر اعتماد کرنے والے مکہ کا مجموعی طور پر معاشرہ جہاں آپ کو صادق اور امین کے لقب سے یاد کرتا تھا اسی طرح اپنی امانتیں بھی آپ کے پاس آتے ہیں لیکن جب آپ نے دعویٰ نبوت کیا ہاتھی شکریہ چودھری وہ آپ کو چھوڑ کر چلی گئی کس حالت میں آپ کے اوپر جو اپنے نبی کا کام کیا وہاں ایک بڑی تعداد غریب لوگوں کی جس نے آپ کو قبول کیا جن میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور غلام تھے جنہوں نے آپ کو قبول کیا ان میں سے بعض اچھے لوگ جو بظاہر اپنی ایک مرتبہ رکھتے تھے اپنے قبیلے میں جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جو اپنے قبائل میں انڈیا میچ اور خاص طور پر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ہم قبول کیا تو ایک سا مسلمان اکٹھے تھے کیک پک کر نماز پڑھتے تھے اب پتا چلا میں آئے اور اسلام کے قبول کا اظہار کیا کا نعرہ تکبیر بلند کیا آبادی کو جھوٹی اور گویا مسلمانوں نے سمجھا کہ آپ تو گویا ہمارے پاس ایک بہت بڑی طاقت آگئی اس کے باوجود آپ کے صحابہ نے آپ سے پوچھے تھے اللہ کیا ہم ظلم و ستم کا جواب دے دیا ان کا مقابلہ کریں تو آپ نے ہمیشہ ان کو یہی کہوں تلقین کی گئی ہے مجھے ان کے ساتھ اس پر تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں ہے اس لئے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بذات خود ایک ایک مقام تھا ان کے لیکن کبھی بھی اپنے ہاتھ نہیں اٹھایا کسی پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس کے مقابلے پر یہ نظر آتا ہے کہ جتنا ظلم بڑھتا تھا اس کے ساتھ ساتھ آپ کی دعاؤں گزاری کا ایک آج اس کو استعمال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایا دودھ بڑھ گیا نہاموں گئے یار اب بات کو سمیٹتے ہوئے مکہ والوں کو آپ نے بڑی تبلیغ اپنے رشتہ داروں کو بھی آپ نے جو آپ کو جھٹلایا بلکہ آپ پر اور آپ کے ماننے والوں پر تو آپ نے ایک غریب علاقہ تھا پچاس میل کے فاصلے پر واقع ہے تشریف لے گئے اور درد دیتا ان کو لے کر یہ خیال تھا کہ یہاں شاید یہ لوگ میری بات کو قبول کر لیں اور آپ نے وہاں ان کے سردار ابن عبدالبر کے ساتھ جا کر بات کی اور پیغام کو پہنچایا لیکن وہ مکہ والوں سے بھی بڑھ کے زیادہ ان لوگوں نے آپ کے اوپر مخالفت کی اور وہاں کے جو نوجوان تھے ان کو آپ کے پیچھے لگا دیا اور میں آپ کے پاس طرح طرح کی آپ کو اذیت کیا تک کہ آپ کو وہاں سے باہر نکلنا پڑا اور آپ اس سال سے پڑھا رہے تھے آپ کر سر جو تھا اور سر سے آپ کا جسم سر سے پاؤں پر زخم آیا تھا اور یہ ایسا دن تھا جس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک دن پوچھا میرے علم کے مطابق تو ایسے کے دن جب بظاہر کر دیا تھا اور آپ کے خواب کے اوپر کتنے پتھر آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ کے دندان مبارک بھی زخمی ہوئے آپ سے دل سے بھی زیادہ کوئی دن آپ کے اوپر سچ بتایا ہے کہ آپ نے فرمایا ہاں یہ قریش مکہ نے مجھ پر بہت ظلم کیا ہے سب سے زیادہ ظلم اور سب سے مشکل میرے لئے وہ دن تھا جب میں طائف میں ان کے پاس خدا کا پیغام لے کر گیا لوگوں نے اپنے دو نوجوان تھے ظالم لوگ تھے وہ میرے پیچھے لگ گئے اور انہیں پتھر پتھر مار مار کر مجھے وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں وہاں سے نکلا درختوں میں اترتا چلا گیا اور ایک پہاڑی کے نزدیک جا پہنچا تو میں نے کچھ تھوڑا سا بڑا سہارا لینے کے لئے ایک جگہ پر بیٹھا اب یہاں پر مجھے کچھ سکون ملے اور میں دو پاکستانی ثقافت اور کتنی زخم لگے ہیں ان کا کچھ مداوا کرو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے پاس اللہ تعالی نے اپنا اپنا حصہ ڈالا کہ اے محمد مکہ والوں کو تبلیغ کی تم نے طائف والوں کو تبلیغ کی انہوں نے ان پر بہت ظلم کئے اس نے کہا کہ میں پہاڑوں کا استغفراللہ جو طائف والوں نے آپ کے ساتھ کیا ہ یا صبر کا ایسا نہ دکھایا جس کے نتیجے میں ساری قوم کے لئے ایک حیرت انگیز یہ کون تھا یہ واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں یہ ہےے بستی کے دونوں طرف پہاڑ اگر آپ مجھے کہے پہاڑوں کو آپس میں ملا بستی کو سمیٹ کر دو اور اس کے درمیان کے پیسے ہے میسیج نہیں سکتا جب ان کی اولاد میں سے کچھ ایسے جو خدا کے دین کو قبول کریں اور پھر آپ نے اس لیے دعا کی اللہ ہو اللہ ہو لا الہ اللہ ہمارے قومی فانھم لا یعلمون ایک چھوٹا سا واقعہ لگتا ہے کسی تاریخ کی کتاب 10 ہو لاہور کر کس قدر آپ کو اور اپنے شہر والوں نے اسلام قبول کیا تھا نہ آپ کے جب آپ ٹائپ کرنے والوں کے پاس ہے اور بقا والے تو آئے دن کیوں ظلم ڈھا رہے تھے ان کی قیمت ان کا کھڑے ہو جاتے ہیں خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے وہاں پر صدر انہیں قرآن پر آئے ہوئے تھے وہ ایک بڑا بدبخت شخص آپ کے پاس آیا اور اس سے آپ نے آپ کی گردن میں ڈال کے اس کو لوٹنا شروع کیا کیا آپ کا آپ کی گردن قدر اس کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہیں آپ کو یہ سانس لینا بھی مشکل ہو گیا اور اس وقت اللہ تعالی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی وجہ سے انہوں نے جب دیکھا کہ کس طرح ایک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلط بات ہے اس کو آ کر کہا کہ اللہ نے اسی طرح ایک اور واقعہ ملتا ہے یہی واقعہ کو بیان کر کے واقعات تو بے شمار ہیں پھر واقعی یہ بتاتا ہے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے بدلے میں اس دنیا میں تو انبیاء اللہ تعالی کی عبادت کے لیے آتے ہیں خود بھی عبادت ہے ماننے والوں کو بھی بات کی تلقین کرتے ہیں جناب خانہ کعبہ کے صحن میں خدا کے حضور سجدہ ریز بعض دارانہ قریش نے جب آپ کو دیکھا تو ان میں سے ایک نے کہا کہ میرے علم میں ہے کہ مکہ کی فلاں گلی میں کیا ہوا ہے کی بچہ دانی اٹھا کر لائے اور اس کے اوپر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر واقف تھا اور وہاں پر وہ گندم لے کر آیا اور کہا میں کچھ اثر نہ ہونے والی ہو اوپر کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ اتنا بھاری سال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اٹھا سکتے تھے آپ مسلسل مگر آپ کا ہے آپ مکہ والوں کے لیے دعائیں کرتے چلے جا رہے ہیں اور جب آپ کی بیٹی اور یہ صرف اکیلی تھی اور کبھی ہے فاطمہ رضی تصور کریں اور اس بیٹی کی حالت جس نے اپنے باپ کو اس حالت میں کھانا کعبہ میں پیدا ہوئے دیکھا اس کو سیدھا کھڑا ہوا ہے لوگوں نے آپ کے فرزند بیٹھا ہوا ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ آگے بڑھیں اور انہوں نے آ کر وہ گانا خدارا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے ان لوگوں کے نام سے لے کر یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اے اللہ تو ہی ان سے بدتر ہے اور خدا تعالی نے پھر ان کیا لیکن آپ کے طرف سے یہی نظر آتا ہے کہ مسلسل آپ کی انتہائی کوشش ہے یہاں تک کہ بالکل فیض صاحب یہ بالکل حصہ اس قتل کر دیں گے ٹھیک ہے سر آپ کی رات آپ کو مکہ میں ٹھیک ہے تھے ٹھٹھک آپ پر ایک بڑی اہم کتاب ہے مجھے مدینہ ہماری ویب سائٹ پر پڑی ہوئی مجھے وہ تاب پڑے کراچی اور طالبان سے شائع ہوئی ہے تو وہ واقعات پڑھے تو حیرت انگیز واقعات نے ایمان کو تازہ کرنے والے کو ٹھیک فیصل بینک نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات ایسے پیارے واقعات ہیں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللھم اھد قومی فانھم اور ہمیں اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے یہ بات یاد رکھنی چاہیے جماعت احمدیہ کا بھی نظر آرہی ہے اس بات کی ضرورت ہے کہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنی زندگیوں میں اپنایا جائے اور یہی وہ بات ہے جو سید نہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ میں اس کی طرف توجہ دے رہے ہیں اس وقت بھی حالات ہیں کہ ایک تو دنیا کا وہ طبقہ ہے جو جماعت احمدیہ کی مخالفت بھی کرتا ہے لیکن کونسل سے بالا ہو کر مذہب و ملت سے بالا ہوکر جماعت احمدیہ کو بھی جل موقع ملتا ہے ہم خدمت انسانیت میں لگے رہتے ہیں وہ ہے جو آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہے اب میں نصیر قمر صاحب کی طرف چلتا ہوں اور ان کے سامنے میں اگلا سوال رکھتا ہوں میں نازیوں نے آپ لوگوں کو یہ بتا دو کہ اعجاز احمد صاحب برطانیہ سے آپ کا پیغام مل گیا ہے عبدالرؤف خان صاحب پاکستان سے آپ کا پیغام بھی ہمیں مل گیا ہے گھروں میں نمازوں کا اہتمام کر رہے ہیں اور دعاؤں میں لگے ہوئے ہیں یہی وہ باتیں ہیں جن کی طرف ہمارے امام بھی ہمیں تو جلا رہے ہیں محترم نصیر گھر صاحب جمال ناصر صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے صبر اور دعا کے واقعات پیش کیے ادھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو مان ہمیں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا خیال آتا ہے آپ کچھ ناظرین کو یہ بتائیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو صبر اور دعا کا اعلی معیار قائم کیا اور پھر وہ جماعت آپ نے بنائی جو صحابہ کی جماعت تھی انہوں نے اس سوال کو اپنی زندگیوں میں کیسے بنایا بی آغاز کرتا ہوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مسلمانوں کے بابرکت الفاظ سے فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے میں خود ثبت کرکے ہرگز تلوار نہیں اٹھائی زمانہ دراز تک کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا ادھر صبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں ایسا ہی آپ کے اصحاب بھی الاوصول کے پابند رہے اور جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ دکھاؤ اور صبر کرو کہاں ہیں انہوں نے اس پر صبر دکھایا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے محمد الرسول اللہ جامعہ اشداء علی الکفار رحماء ہونا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھی ہیں وصیت ہے کہ وہ کفار کے مقابلے میں بڑے سخت لیکن اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ دلوں کی سختی کی طرف منہ کی بات ہو رہی ہے تم ہو آپس میں بہت ہی رحیم ہیں کیا ہوا آپ کو فارغ کے الفاظ میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ کفار کے تمام مظالم کو تباہی سے برداشت کرنے والے ہیں اور آپ جانتے ہیں رضی اللہ تعالی عنہ کو کالو ہے ذرا پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا جاتا تھا آپ کے گلے میں رسی ڈال کر اس لڑکے کے آپ کو مکہ کی پتھریلی زمین پر پہاڑیوں میں گھسیٹتے ہیں حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ مالیگاؤں میں انوار اس کے غلام تھے عوام اسلام لائے تو وہ گرم لوہے کو آپ کے سر پر رکھ دیتی ہیں اور کے انگاروں پر آپ کو لٹا دیا جاتا اور ایک بھاری پتھر آپ کے سینے پر رکھ دیا جاتا کے آپ کے بدن کی چربی کلر انگاروں کو ٹھنڈا کیا کرتے تھے حضرت او کی رضی اللہ عنہ پاؤں میں بیڑی ڈال کر دو میں نے لوٹا دیا جاتا کیا جاتا ہے یہاں تک کہ آپ بلکل مختلف ہوا سو جاتے مایا رضی اللہ عنہ عمار کی والدہ تھیں قرآن میں برچھی مارکر کو شہید کر دیا گیا بعض دفعہ صحابہ پر اتنا شدید ظلم بعض خواتین کو پھر شدید گرمی میں شہری کے ساتھ روٹی کھانے کو دی جاتی اور پانی نہ دینے پر اور سخت گرمی میں انہیں اسی طرح نہاتے تکلیف کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا گجرات بیان کیا جاتا ہے آمین تک اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ اس دوران آپ سے بار بار یہی کہتے رہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دو اور تم نے اختیار کیا اسے ترک کر دو تو آپ کے تو حواس بالکل ان کی باتیں سمجھ نہیں آتی تھی آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا کہ اس خدا کا انکار کرو اتنے بڑے جلال سے فرمایا کہ میں تو اسی توحید کے عقیدے پر قائم ہوں یہ صرف غلاموں سے یاور عباس سلوک نہیں تھا حضرت زبیر بن عوام کو چٹائی میں لپیٹ کر ناک میں دوا دیا اور بہت سارے صحابہ کے مختلف رنگ میں تکلیف اٹھا رہے تھے باقی لوگوں سے بھی تکلیف دی گئی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے انہوں نے کہا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرو اور توحید کے عقیدے سے ہٹ کر واپس اپنے بتوں کی پرستش کے سربراہ کا تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی اور نہ کچھ کھاؤں گی اور نہ پیو گی اور میں اسی طرح مر جاؤں گی اور لوگ کہیں گے کہ یہ بیٹا اپنی ماں کا قاتل ہے ڈرامہ یہ تو نہیں ہو سکتا میں نے جس دا کو پایا ہے اسے چھوڑ نہیں انہوں نے تین دن تک اسی طرح کھانا پینا چھوڑ دیا یا تک قریب المرگ ہو گی اس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص نے بہت بہت تاریخی والا فرمایا کیا عمران خان مرتی ہے اگر تیری ہزار جان ہوتی اور ایک ایک کرکے میرے سامنے نکلتی تب بھی میں کو نہیں چھوڑ سکتا تھا اور نہ چھوڑ سکتا ہوں جس سے میں نے پایا ہے جو لا الہ الا اللہ محمد صحابہ نے اپنے اموال کو بھی چھوڑا کریم ان کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ متمول شخص سے بہت خوبرو جوان تھے جو اپنے ملک سے اجرت کا ارادہ کیا تو اس نے کہا کہ تم نے بھی مال تو ہمارے یہاں سے بنایا ہے یہ کدھر ہے یہ سارا مال چھوڑ دو تمہارا میں تو میرا راستہ چھوڑ دو گے سارا مال کو فارغ کیا اور اسی طرح خالی ہاتھ نہ لوٹے اور بڑی تکلیف کی حالت میں اب وہاں پر پہنچے فخر رنگ بابر کے بے مثال نمونے دکھائیں اپنے آقا کی طرح غالب کا ایک شعر پڑھتے جاؤ اور صحابہ کا صبر پر تفصیل سے اور بہت ہی پرزور انداز میں روشنی ڈالتا ہے ایک بات کہوں تم سے میں نے پہلے آپ فرماتے ہیں اور جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ 28 اور صبر کرو ایسا ہی انہوں نے سب کو صبر دکھایا وہ پیروں کے نیچے کچھ لے گئے ہیں انہوں نے دم نہ مارا کے سامنے ٹکڑے کیے گئے وہ آگ اور پانی کے ذریعہ سے عذاب دیئے گئے مقابلے سے ایسے واضح رہے کہ گویا وہ شیر خوار بچے ہیں ہم ثابت کرسکتا ہے کہ دنیا میں تمام نبیوں کی امت میں سے بین ایک نے بھی باوجود اسلام ہونے کے خدا کا حکم سن کر آج اورمقام بنا دیا جیسا کہ انہوں نے بنایا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی اور بھی ایسا گروہ ہوا ہے جو بہادری اور جماعت الدعوۃ اور طاقت مقابلہ اور پائے جانے کے تمام لوازمات مرد کی مرد میں اور مردانگی کے پھر خونخوار دشمن کی اذاں اور خراسانی پر 13 برس تک ہمارے ساتھ ہو تو مولا اور آپ کے صحابہ کا یہ سفر کسی مجبوری سے نہیں تھا بلکہ سب کے زمانے میں بھی آپ کے جانثار صحابہ کے وہیں ہاتھ اور بازو کے جو جہاد کے حکم کے بعد انہوں نے دکھائے ایک ہزار جوان نے مخالف کے ایک لاکھ سپاہی نہیں شکست دے دی ایسا ہوا تھا لوگوں کو معلوم ہو کہ جو مکے میں دشمنوں کی خونریزیوں پر صبر کیا گیا تھا اس کا باعث کوئی بزدلی اور کمزوری نہیں تھی کہ خدا کا حکم سن کر انہوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ذبح ہونے کو تیار ہو گئے تھے ایسا صبر انسانی طاقت سے باہر ہے وہ ہم تمام دنیا اور تمام نبیوں کی تاریخ پر جائیں ہم کسی امت میں اور کسی نبی کے گھروں میں یہ اخلاق فاضلہ نہیں پاتے اور اگر پہلو میں سے کسی کے ہیں تو فی الفور دل میں گزرتا ہے کہ کر اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں کہ اس سفر کا موجب دراصل بزدلی اور آدمی قدرت انتقام ہو یہ بات کے ایک گروہ جو درحقیقت سپاہیانہ فن اپنے اندر رکھتا ہوں اور کبھی دل کا مالک ہوں شکریہ جائے اور اس کے بچے آئی اور اس کو نیزوں سے زخمی مگر پھر بھی وہ بدی کا مقابلہ نہ کرے وہ مردانہ سے تھے جو کامل طور پر یعنی تیرہ برس برابر شکریہ اور آپ کے صحابہ سے ہے اس قسم کا صبر جس میں ہر دم سخت بلاؤں کا سامنا تھا جس کا سلسلہ سند 13برس کی دراز مدت تک لمبا تھا درحقیقت بے نظیر ہے اور اگر کسی کو اس میں شک ہو تو میں بدلا لسٹ آف بازو میں اس قسم کی خبر کی نظیر کہاں ہے غزل مسا جو صحابہ پر کیا گیا کے وقت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اتحاد سے کوئی تدبیر بچنے کی پلائی بلکہ بار بار یہی کہا کہ تمام دکھوں پر صبر اور اگر کسی نے مقابلے کے لیے کچھ عرض کیا تو اس کو روک لیا اور فرمایا کہ مجھے صبر کا حکم ہے ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم صبر کی تاکید فرماتے رہے جب تک کہ آسمان سے حکم مقابلہ آگیا عباس کیس تمام اول اور آخر کے لوگوں میں تلاش کرو فرماتے ہیں سبحان اللہ وہ لوگ کیسے راستباز اور نبیوں کی لگتے تھے کہ جب خدا نے مکہ میں ان کو یہ حکم دیا کہ بازی کا مقابلہ مت کرو اگر ٹکڑے ٹکڑے کیے جاؤ اس شیر خوار بچوں کی طرح اجاڑ اور کمزور گویا نام کے ہاتھوں میں زور ہے نہ اس کے بازوؤں میں طاقت و بازار میں سے اس طور سے بھی تک عطا کئے گئے کہدو اونٹوں کو ایک جگہ کھڑا کرکے ان کی ٹانگیں مضبوط و پر گئی السلام علیکم فضل الرحمن صاحب یہ وسلم جب شیب ابی طالب میں محصور تھے اس وقت کیسے حالات میں گزارا کیا اور صبر کا کیا نمونہ پیش کیا گیا یہ ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم شعب ابی طالب میں تقریبا تین سال کا ذکر ملتا ہے کہ آپ وہاں پر رہے داتا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے بھی اور بعض اوقات ہو ان حالات میں اس سے قبیلے نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر وہاں ہم کوشش کریں گے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جہاں تک ہماری یہ ممکن ہم ساتھ دیں گے اور پھر جب سارے وہ اکٹھے ہو گئے ہو کہ جب مکہ کے عام ماحول میں مختلف جگہ پر کھڑے ہوئے تھے تو اس وقت زیادہ خطرات تھے مکہ والوں کا یہ خیال تھا کہ جیسا کہ بعد میں ان کا یہ وعدہ بھی ہوا ان کی باتوں سے اور ان کا کہ ہمیں گویا بنو ہاشم کو بھی چاہیے کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں اور ہم جو بھی ان کے ساتھ کریں اس کی مزاحم نہ ہو آپ کے سر کیا حال ہیں آپ کے ساتھ بات قربانیاں ہیں اور ان میں سے ایک ہی قربانی دی تھی ان بظاہر جو روایات ملتی ہیں اس کیا ہے کی طلب میں تھے باہر سے کوئی چیز بھی ابی طالب کے اندر جانے نہیں دیتے کھانے کے لئے آنا پینے کے لئے یہاں تک کہ بعض اوقات بعض روایات میں ذکر آتا ہے کہ بچے بھوک اور پیاس سے جب روپے تھے صندل اوقات ہے وہ سکتے تھے گویا طنزیہ ان پر واضح کرتے اور بعض ہمدرد جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے خاندان تک کچھ چیزیں ہیں اللہ عنہ کے بارے میں ذکر ملتا ہے جو انہوں نے کوشش کی کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بہت قریب سرداروں میں سے تھے ان کے لیے کچھ نہ کچھ بھی جائے وہاں پر اس وقت تک آپ کے پاس ابھی تک زندہ تھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی زندہ تھی اور یہ جو معمر لوگ تھے یہ ساری اس تکلیف میں سے گزر رہے ہوں گے ان لوگوں کو اللہ تعالی نے کس طرح صبر کی توفیق عطا فرمائی یہ ایک صبر کر رہا ہوتا ہے وہ جانتا ہے اس کا خدا جانتا ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے کئی دنوں سے اور پیاس سے اور اس طرح جیسے سوشل بائیکاٹ ہوتا ہے اب پتہ نہیں یہ کس حد تک تسبیح دینی درست ہے یا نہیں ہے آج کل کے زمانے میں جب جب کہ ہمیں ہر گھر میں بے شمار سہولیات میسر ہے جب کہ میں گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے تو کتنی مشکل پیش آتی تو ہم تھوڑا سا اندازہ لگا کے اس قبیلے کے لئے کتنی بڑی مشکل پیدا کر دی گئی تھی لین دین کریں گے نہ آپ کے ساتھ کوئی رشتہ دار اور کسی طرح کی کوئی کھانے پینے والی چیز ہم سے بھی تعلق کے اندر نہیں جانے دے لیکن باہر اس نے قربانیاں کیں اور پھر قربانیوں اور پھر اس کو سے گزرتے ہوئے روایات میں آتا ہے کہ حضرت آپ کے چچا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتنی بگڑ گئی اس کے فورا بعد تقریبا اور ان کی وفات ہوگئی یہ دور تھا ظاہر ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے بڑی دعاؤں سے اللہ تعالی کے حضور گریہ و زاری کرتے ہوئے کین یو پلیز اس زمانے کا ایک واقعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک صاحب جب اس طرح کا سوشل بائیکاٹ ہوا تھا کس قدر بھوک تھی میں کیا کروں اندھیرے میں کوئی چیز کہتے ہیں میرے پاؤں کے نیچے آ گیا یہ کچھ لمحے مجھے محسوس نہیں  مزید لکھتے ہیں وہ لکھتے ہیں لیکن ہمیں اپنے آقا کی سنت پر عمل کرنا ہے جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک تفصیلی خط بعد میں پہلے پڑھ کر سنایامیں نے منہ کے اندر ڈال دیا ایسا ہو کہ میں اس کو دیکھوں تو مجھے وہ کھانے کو دل کرتا ہے وہ صحابی کا سفر کرتے تھے یہ پتا نہیں کہ وہ کیا چیز ہے میں اپنے جسم میں لے گیا بالکل ٹھیک نہیں ہے وہ واقعات تھے جن میں سے تین سال تک آپ کیا بالکل ٹھیک فضل الرحمان صاحب آپ نے جس طرح آپ ہمارے ناظرین کو بتایا اس وقت میں یہ شعبہ بھی تعلیم کا جوہر ہے خود پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ مشکلات اور وہ بھی ایک لاک ڈاؤن کی صورتحال اور اس نے صبر اور پیروں کی حفاظت بھی اور اس پر بھی صبر دکھانا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تھا جو ہر دور میں ہم دیکھتے ہیں سیدہ مبشرہ صاحبہ انڈیا سے بارہ مقصود صاحبہ قادیان سے سمرا ملک صاحب امریکہ سے جلدی صحت مند جوس پاکستان سے اور نادیہ خالد صاحبہ پاکستان سے آپ سب کے پیغامات ہمیں مل رہے ہیں لیکن امام جماعت احمدیہ کا جو بھی موقف ہے اور ہم یہاں جو بھی باتیں آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اللّٰہ علیہ وسلم پر بھی جماعت احمدیہ کا شرح وہ آپ سب کے لئے موجود ہے اگر آپ نے جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کرنا ہو تو اس کے لیے الاسلام ڈاٹ ضرور جائیں نہ صرف اردو زبان میں انگریزی زبان میں عربی زبان میں بلکہ دیگر زبانوں میں بھی آپ کو خاطر خواہ لٹریچر یہاں مل جائے گا میں اگلا سوال لے کر محترم سید قمر صاحب کی طرف چلتا ہوں محترم نصیر قمر صاحب طاہر اقبال صاحب ہیں ہماری بہن انڈیا سے کے سامنے پڑھے تو سیر کبر صاحب اور کچھ اور بھی چاہوں گا اس میں اضافہ کریں وہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے اس وقت ہمیں اپنے صبرکا کس طرح مظاہرہ کرنا چاہیے اس میں ایڈ کر رہا ہوں آپ ہمارے ناظرین کو یہ بھی بتائیں کہ ہماری امام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام جو اپنے آپ کو غلام احمد کہتے ہیں یعنی وہ آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں کس طرح صبر کا نمونہ ہمیں دکھایا ہے لیکن آپ نے بہت عمدہ کیا کہ ان کے سوال کے ساتھ مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے حوالے سے بھی کے کچھ ذکر کردیا جائے باقی یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے اور سیدالمرسلین تھے نوع انسانی کا فخر تھے اور ایک مسلمان کے لیے اللہ کے بعد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبت اس کے ایمان کا حصہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اندازہ نہیں کر سکتے وہ اسلام کا جو مقام تھا اللہ تعالی نے آپ کو امتی نبوت کے مقام پر فائز فرمایا اور آپ کو مسیح اور امام مہدی بنا کر بھیجا آپ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اعمال اگر پہاڑوں کے برابر ہوتے اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں ہوتی یا نہ ہوتا تو میں یہ یہ جو کچھ بھی ملا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے پیسے ملا ہے اور آپ اور آپ کی زندگی اس بات پر شاہد ہے کہ کس طرح آپ اندر صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے ساری عمر تادم آخر سرگرداں رہے ہیں سرگرم رہے ہیں اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا نہایت بے ہودہ گھٹیا زبان استعمال کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق آپ کی ازواج مطہرات سے متعلق صحابہ سے متعلق قرآن سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کلمہ آپ نے پکڑا اور اس کے ذریعے سے ان جھوٹے دلائل کا کام فرمایا فرمایا کہ جنگل کے بھیڑیوں کے ساتھ ملا کر سکتا ہوں لیکن ان لوگوں کے ساتھ سلا نہیں کر سکتا جو ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق گستاخانہ رویہ رکھتے ہیں آپ کے متعلق نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خواب میں کبھی آپ نے اسی طرح کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا جیسا کہ مخالفین اختیار کیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ دلائل کے ساتھ آپ نے قائم کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و شان پر افطار فرمایا ہے اور ان کے جو اختیار کرنا چاہیے اور اپنے اپنے اور ہمارے ہم سب کے آقا مولا علی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بیان فرمایا یہی وہ طریقہ ہے جو حضور علیہ دوران ہے آپ کے بعد خلفائے کرام نے اپنایا اور جماعت کو تعلیم دی اور تربیت دی اور زیادہ کی حفاظت سے اپنے امام کے مطابق جماعت اسی پر گامزن ہے مقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ فرماتے ہیں گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں لوگو گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ و غضب ڈھایا ہم نے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تڑپتے تھے یہ لوگ نادانی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں انہیں پتا نہیں کہ وہ کیسا عظیم الشان موجود ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جو ہمارے آپ کے مخالفین نے گندی زبان صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے صحابہ نے مخالفین کی ہر قسم کی اذیت کو پسند کیا صرف گالی گلوچ پر نہیں بنیادی طور پر بھی سفر کیا مراد لوٹی گئی انہوں نے صبر کیا ان کے رشتے داروں سے ان کے تعلقات کاٹے گی انہوں نے اس کے  ان القران الفجر کان مشہودا یہ دعا کرتے ہیںصبر کیا انہیں قتل کیا گیا انہوں نے صبر کیا اسوہ امام علی علیہ الصلاۃ و السلام کی جماعت نے بھی اپنا کیونکہ یہ صحابہ کی سیرت کے بعد بھی ہزاروں ایسے احمدی ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موت مسیح اور مہدی پر ایمان لائے اور انہوں نے یہ بولا کہا انہوں نے لا الہ الا اللہ اللہ محمد الرسول اللہ کی شہادت دی یار ابھی کیا اور آپ یہاں بھی گیا انہیں لہولہان بھی کیا گیا اور شہید بھی کیا گیا ان کے بچوں کو کے سامنے کپڑے کیا گیا بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا ان کے آباء لوٹے گئے ان کے گھر جلائے گئے گھروں سے بے گھر کیا گیا دور میں بھی آپ دیکھ لیجئے کیا اور میں جو شہادتیں ہوئیں دو مساجد میں کیا کروں سو کے قریب میں واقع وہ علم نہیں تھا وہ تو خدا کی عبادت کے لیے اکٹھے ہوئے تھے مسجد میں اس کا گھر نہیں لوٹا تھا کسی کو رکشے نے عنوان نہیں تھے کوئی کی بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا اس کا مطلب اور جو دنیا میں ان معصوم احمدیوں پر ظلم و ستم کئے گئے اور ان کی شرائط کے ساتھ کا بیٹا اور گھسیٹا گیا ان کی لاشوں پر رقص کئے گئے کیا ظلم کیا جرم تھا ان کا وہی عالم تھا جو بلال سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا تھا لا الہ الا اللہ اور اگر صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی جب عزت سادات بھی دستار کے ساتھ بات کرتے ہیں ساری باتیں کی تھیں بشارت دی گئی آخری زمانہ میں مسیح موعود امام مہدی آئے گا تو جب ہم اس کو بھی مانتے ہیں اور اس کو مان کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کا ہی گواہی دے تو یہ لوگ ہم پر ظلم کرتے ہیں ہمارے لیے وہی تاریخ ہے کوئی اور راستہ نہیں ہے سوائے صبر کے کہ جو ہمارے امام نے کہا ہے جو ہمارے ہمارے امام کا اسوہ حسنہ ہے ہمیں اس کے اوپر چلنا ہے لاہور کی شادی ہوئی جمعہ کا دن تھا اس صبر کے ساتھ کوہ وقار بن کر ہمارے پیارے امام نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا بالکل ٹھیک میں چھوٹی سی بات پر اوکاڑہ میں ہے کسی ایک بھی آپ ایسا ہوا کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلافت احمدیہ کا اعجاز ہے تمام افراد اس سے وابستہ تمام افراد جماعت اپنے آقا و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں اور انہوں نے اپنے امام کی کامل اتباع کرتے ہوئے کوئی صبر کے نے دیکھا ہے اسی صبر کی عظیم الشان مثالیں پہنچ گئی اور یہ سفر بہت بہت شکریہ صابرین کے لئے جان یہ بالکل صحیح بول رہا ہے نصیر صاحب صبر کی یہی وہ داستانیں ہیں جن کو آج کل کے زمانے میں بھی دہرانے کی ضرورت ہے جس طرح کے بھی حالات ہوں اللہ تعالی کے حکم کے مطابق صبر کرنے کی اور کثرت کے ساتھ دعا کرنے کی ضرورت ہے اور یہی وہ بات ہے جس کی طرف سیدنا امام عنہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز توجہ دلارہے ہیں اس وقت مجھے بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے محترم نصیر حبیب صاحب ہم سے بات کرنا چاہ رہے ہیں یہ بس آپ سے بات کرا دیں اسلام علیکم نصیر صاحب نصیر حبیب صاحب سے بات ہو سکتی ہے میری اچھا نہیں مجھے لگتا ہے وہ بھی اس وقت نہیں ہے ٹھیک ہے پھر موقع ملے گا تو اس سے بات کر لیں گے صاحب ہیں پاکستان سے آپ کا پیغام مل گیا ہے محمد زاہد صاحب جرمنی سے آپ کا پیغام مل گیا ہے شاہزیب صاحب ہیں اور اسی طرح حفیظ ہم صاحب ہیں آپ کا بھی پیغام مل گیا ہے اللہ تعالی ہم سب کو آج کل کے ایام میں کثرت کے ساتھ دعائیں کرنے کی اور صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اگلا سوال لے کر محترم فضل الرحمن صاحب کی طرف چلتا ہوں خان صاحب فضل الرحمان صاحب آپ کے سامنے جو میں کے سامنے جی سنبھال کر رکھنا وہ معروف صاحب کا ہے برطانیہ سے وہ سوال پوچھ رہے ہیں وہ پوچھتے ہیں کیا سجدے میں درود شریف اور دوسری عربی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں اس کا جواب تو یہی ہے کہ میں سب سے اچھا انسان اللہ تعالی کے قریب ہوتا ہے جب سجدہ میں ہو تو سجدہ میں درود شریف اور عربی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہنا کے نماز کے اندر جس حالت میں بھی انسان کو خوب جوش و خروش دعاؤں میں پیدا ہوتا ہو اس کو اس وقت دعائیں شاید ہمیں بھی کثرت کے ساتھ دعا کرنا اگر اس میں انسان کے دل میں جوش پیدا ہوئے اس میں درود پڑھنے کی ممانعت نہیں ملتی ہے میں یہ سیدہ میں درست نہیں پڑھا جا سکتا ہے اگلا سوال میں نے جس طرح پہلے اس کی ہے کہ کثرت کے ساتھ یہاں سوالات آنے شروع ہوگئے ہیں آپ اگلا سوال لے کر تو بہت ہی کم وقت رہ گیا ہے تو میں کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ سوالات اپنے پینل میں ان سے پوچھنے محترم نصیر قمر صاحب علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نسیم شاہ کرکٹر ہماری بہن ہے ہم تمہیں سو صاحبہ برطانیہ سے سوال کر رہی ہیں ان کا سوال میں اسی طرح پڑھتا ہوں اور میں چاہوں گا کہ آپ اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کر دیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 101 میں آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی یہ کہتا ہے کہ میں تیری دعا قبول کروں گا اور جس کا مطلب یہ ہے وہ ہے جو ہر دعا ہے وہ نہیں ہیں کوئی ہے جس سے کوئی تکلیف کا عمر ہوں جو کسی کو بتانے کے لئے کی جائے تو وہ اس پر بحث کرکے اپنا سوال یہ کہہ رہی ہیں کہ میرا سوال یہ ہے کہ ہمیں کس طرح پتہ لگے گا کہ ہماری ہر دعا قبول ہوگئی ہے یا ہماری کونسی دعا قبول ہوگی اور کونسی دعا قبول نہیں ہوگی یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہماری کون سی دعائیں قبول نہیں ہوتی دعا قبول نہ ہونے کی کیا وجہ ہے دراصل ان کا سوال قبولیت دعا کے بارے میں ہے اور یہ جو جگہ جگہ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی ہر دعا قبول کرتا ہے اس سے کیا مراد ہے تو آپ اس بارے میں ان کی رہنمائی کردیں دیکھیں دعائیں تو اللہ تعالی قبول فرماتا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں ہے اس کا وعدہ ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول فرماتا ہے لیکن دعاؤں کی قبولیت کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں اگر وہ شرائط پوری نہ ہو تو پھر پوری کو دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور قرآن مجید میں اس رات کا ذکر ہے اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی تصنیفات میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان دعاؤں کو کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور او کے متعلق اچھا یہ بھی ہے کہ کیا اس کی شرائط ہے اگر وہ شرائط پوری نہ ہو قبول نہیں ہوتی مسلم قرآن مجید میں ہیں اللہ تعالی یہ فرماتا ہے عجیب و دعوت داعی اذا دعان ادائیں بننا پڑے گا یعنی حقیقی معنوں میں دعا کرنے والا جو فرماتا ہے کہ جب وہ مجھے دعا وہ اس کے آگے میں پیچھے سے پڑھتا ہوں اور اعزاز سالک عبادی عنی فانی قریب السلام سے مخاطب ہوں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب تجھ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو نے کہہ دیا کہ میں اب اس میں یہ بتایا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ ضروری ہے آپ کا واسطے کا اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس کیا جائے تب بھی آپ اس کو اختیار کر سکتے ہیں لی ہے بتایا گیا کہ جب دعا کرتے ہیں تو اس کے بعد اللہ کی حمد و ثنا کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا جائے اور درود محبت کے ساتھ دلی محبت کے ساتھ افسوس کے ساتھ بنائیں اور سمجھ کر پڑھا جائے اور آپ کے اس پر عمل کرنے کی کوشش کی پھر اللہ تعالی کی طرف سے انہیں غریب کی آواز آتی ہے میاں دعوت داعی اذا دعان فلیستجیبوا لی ولیومنوا بی یہ بھی ایک اس کی شرط ہے کہ اور خدا کو دعاؤں کی قبولیت کا اثبات میں پختہ ایمان ہو کہ خدا ایک قبول کرتا ہے اور کرنے پر قادر ہے اور پھر جب تم اس کو قادر قیوم سمجھ کر اس سے دعائیں مانگے اور پوری ازیں اور نیستی کے ساتھ تو پھر وہ اور اس کی باتوں کو قبول کرو گے اس کے احکامات پر چلوگے تو لیتے دعا کے بعد ہیں لیکن اگر خدا سے تعلق صرف یہ کہ خدا کسی کا غلام آپ دعا مانگے اور وہ اچھا جی میں آپ کو دے دیتا ہوں وہ مالک ہے وہ قادر ہے مقدر ہے وہ خالق ہے ہم تو اس کی مخلوق ہیں ہمیں اپنی حیثیت کو سامنے رکھنا چاہیے ہر طرف مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرنے والے آداب دعا سے واقف ہیں اس زمانے میں دعا کرنے والے تاکہ جو پوری دعا کے ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیفات میں بڑی تفصیل کے ساتھ مختلف مثالیں دے کر اس مضمون کو کھولا ہے اگر آپس میں تعلق کے متعلق یہ قطعی طور پر نہ جائیں کی تحریروں کا انتخاب جو ہے اردو زبان میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام اور فنکاروں کی رو سے شائع شدہ ہے کہ جب سائٹ پر یہ کتاب موجود ہے اس میں ایک عنوان پہلے جنت میں دعا کے عنوان یہ گئے یا نہیں پڑھی تو اس کو ترجمہ ہو چکا ہے اور اسلام کے نام سے یہ موجود ہے تو اس پر کے عنوان کے تحت جایا بھی اس میں ممکن تو نہیں ہے کہ ساری باتیں تصویر بچوں کا بچوں کے بہت کم رہ گیا ہے بالکل ٹھیک ہے سب بہت بہت شکریہ ‏re بار بار آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا جو بھی لٹریچر ہے وہ آپ کے لئے اویلیبل ہیں آپ ضرور اسلام ڈاٹ جائیں اور میں یہ میں صرف ان لوگوں کے لیے نہیں کہہ رہا جن کا تعلق جماعت یا سے نہیں ہے بلکہ احمدیہ کو بھی آج کل زیادہ وقت مل رہا ہے تو ضرور الاسلام دادآف جاکے احمدیہ لٹریچر کا مطالعہ کرنا چاہئے مولانا فضل الرحمان صاحب اگلا سوال لے کر آپ کے سامنے حاضر ہو رہا ہوں اور ندیم احمد انجم صاحب نے پاکستان سے ان کا سوال ہے اور ان کے سوال کے ساتھ ھی معارف و زبان سے بنگلہ دیش ہے ان دونوں سوالات کو بتا دیتا ہوں کہ سوال کی نیچے ایک ہی ہے وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باجماعت تہجد پڑھی تھی یہ ندیم احمد انجم صاحب کا سوال ہے اور جو میں نے آپ کو زمان صاحب کا سوال اس کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں وہ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ نماز تراویح کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نام کی کیا رہنمائی ہے چند ہی دنوں میں رمضان شروع ہونے والا ہے فضل الرحمان صاحب اس کا دائرہ یاد پہلے سوال کا تعلق ہے ایک واقعہ سناتا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض اوقات نماز تہجد بھی پڑھی ہے بڑا دلچسپ ہے حضرت ابن عباس عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بہت چھوٹے تھے ان کا دل میں شوق پیدا ہوا کہ ہمیں اردو سوال مسلم کو مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے باہر اس دن ان کے گھر میں جا کر رات کیا جائے اور روایات میں آتا ہے کہ تم میں سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کی خالہ تھی تو ان کے گھر اس نیت کے ساتھ سوئے کہ صبح اٹھ کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد ادا کریں گے اور تفصیلات ہیں وہ سب کچھ ہوتے ہوئے میں یہ بیان کرتا ہوں کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے دیکھا وآلہ وسلم تہجد کے لئے ادا کر رہے ہیں تو آپ بھی وضو کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باہر کھڑے ہو گئے اپنے آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگر دل سے کان سے پکڑ کر یا اور کوئی ایک لحاظ سے باجماعت طالب علم نے نماز تہجد کا ایک واقعہ ملتا ہے اس کے علاوہ بھی بعض ایسی روایات ملتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں صحابہ بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے باہر وآلہ وسلم کا گھر بھی مسجد نبوی کے ساتھ ہی تھا تو بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردے میں کیوں کہ اصل میں تو نماز تہجد پرائیویٹ دماغ ہے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کے لیے بعض اوقات اس کو تہجد باجماعت پڑھی گئی ہے لیکن عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں ہی اس کو پڑھا ہے یا نبی نے بھی اثر پڑا ہے تو کوشش تنہائی میں پڑھی لیکن بعض اوقات بعض صحابہ آپ کے ساتھ آ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور روایات میں آتا ہے کہ بالغ اتنی لمبی آپس میں قرات کرتے تھے کہ بعض نوجوان صاحب ابھی کیا ہے کہ شہرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے تو شاید ان کے لئے ان معنوں میں آتا ہوں تاکہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اس ملک میں نہیں کر سکتے تھے وعلیکم السلام بڑی لمبی کر اب کیا کرتا جب میں قرآن کریم میں آتا ہے کہ ہم نے اب اگر آپ کے نزدیک تہجد کے وقت نماز قرآن پڑھنا ہے کہ درج ذیل ہے میں نماز کا ذکر قرآن پڑھا جاتا ہے بالکل ٹھیک ٹھاک کے نظریات اس سے لگتا ہے بہت بہت شکریہ فضل الرحمان صاحب بہت کم وقت رہ گیا ہے یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے یہ چار پروگرام تھے جو ہم لندن سٹوڈیو سے آپ کی خدمت میں پیش کر رہے تھے اور موجودہ حالات کے پیش نظر چاروں پروگرام کا دورانیہ بھی ایک گھنٹے کا تھا لیکن بہت جلد ہی آپ کے کثرت کے ساتھ سوالات بھی آتے رہے ہم سارے سوالات بھینس کے تمام احباب کا نام بھی نہیں لے سکے لیکن میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ سب لوگوں کا یہ پروگرام سنتے رہے ہیں اور اس میں سوالات بھیجتے رہیں سوالات نہیں بھیجتے رہے تب بھی میں آپ کا شکر گزار ہوں ان کا بھی میں بہت زیادہ شکر گزار ہوں لیکن ان پروگرام میں جو ہم نے طریقہ کار رکھا تھا موجودہ حالات کے پیش نظر وہ یہ طریقہ کار تھا کہ ایک تو سیدنا و امامان حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو ہماری رہنمائی فرما رہے ہیں ہم اسی کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں گفتگو کریں کل کے خطبہ جمعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آخری منٹ میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ آج کل کے ایام میں کیا کیا جائے وہ سنتے ہیں اگر میں دوبارہ آج کل کے مرض کے حوالے سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے شہباز گل بکری اللہ تعالی سب کو شفائے کاملہ عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنی کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے رنگ میں ہمیں عبادت کا گوگل اوپن بات کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جلدی عقل عام سے دوسری اے دنیا کو بھی سمجھ اور عقل دے وہ بھی ایک خدا کو پہچانے والے بنے خدا تعالی کی ضد کرنے والے بنے توحید بننے والے بنے سپریم فرمائے اللہ تعالی ہم سب کو امام وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ وہی جذبہ ہے یہ وہی روح ہے جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ تھا اور وہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ تمام دنیا کے لیے دعا فرمائیں اور ہماری اسی طرف رہنمائی فرما رہے ہیں ناظرین جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہاں بلڈنگ اسٹوڈیو سے پروگرام رادھا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اس پروگرام کے ساتھ اگلے پروگرام کے لیے انشاءاللہ خدا کی جرمن سٹوڈیو کی ٹیم سے مخاطب ہو کی لندن سٹوڈیو سے تمام لوگ اس پروگرام کو آپ تک پہنچانے کے لیے کام کرتے رہے ہیں ان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اس پروگرام کو ہم آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درست کرتے ہوئے ختم کرتے ہیں اگلے پروگرام تک کے لئے اجازت دیجیے وعلیٰ آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں دل سے ہے خدا میں ختم

 45 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: