Rahe Huda – Musleh Maood Khalifa II Mirza Bashiruddin Mahmood r.a – Tareekhe Islam




Rahe Huda – Musleh Maood Khalifa II Mirza Bashiruddin Mahmood r.a – Tareekhe Islam

Rahe Huda 22nd Feb 2020 – Qadian India

حدیث دل سے ہے خدا میں تامل اور تسلی دل سے ہے خود ہی میری خطا مائی مرسلین استعمال مت حصہ لیں اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم ناظرین کرام السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اس 22 فروری 2020 ہفتہ کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور چیونٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے ہیں اور زرین یہ وقت پروگرام رہے خدا کا دارالامان سے جو گمراہ ہوتا کسی بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اس کا آج یہ چوتھا ایپیسوڈ ہے جو اس وقت ہم آپ کی خدمت میں لائیو پیش کر رہے ہیں جو آج کا پروگرام بھی ڈسکشن پروگرام ہے اور ہے اپنے مشاہدے کو بھی اپنے ساتھ اس پروگرام میں شامل کریں گے اور ٹیلی فون لائنز کے ذریعے سے ان کے سوالات کو سنیں گے اور اسی پروگرام کے ذریعے سے ابھی دیے جانے کی کوشش کی جائے گی ٹیلی فون لائنز کے ذریعے ہمارے مجاہدین ہم تک رابطہ کر سکتے ہیں اس کے علاوہ ٹیکس میسج پیکج میں سو رہی ہے اس کی بھی سہولت موجود ہے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے مجاہدین اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں جو ناظرین آج کے پاس ورڈ میں آپ ہمارے ساتھ کرنا چاہتے ہیں تو میں امید کرتا ہوں کہ ہم سے رابطے کی تفصیلات اس وقت آپ اپنی زندگی پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے اکرام جیسے کہ ہمارے رویوں سے جانتے ہیں کہ پروگرام ہے اللہ کی موجودہ سیریس ہے اس میں ہم سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کو کے تعلق سے جو پیش ہوئی تھی اور اس کے مختلف خوبیاں اس موضوع کے تعلق سے بیان کی گئی تھی اور وہ پیشگوئی کس طرح نہیں اس کے تعلق سے ہم تفاصیل آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے عظیم الشان کارنامے ہیں وہ ہم نے گزشتہ ایپیسوڈ میں آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالی کی ہستی سے دنیا کو روشناس کرانے کے حوالے سے اور قرآن مجید کے حقائق معروف بیان کرنے کے حوالے سے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم و ارفع مقام کے اظہار کے حوالے سے جو حضرت بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ عظیم الشان کارنامے سرانجام دیے ہیں اس کی کچھ حد تک تفصیل ہم نے اپنے گزشتہ برسوں میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور میں بھی ہم اسی تسلسل کو جاری رکھیں گے اور سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے خدمت اسلام کا جو فریضہ ان کے سپرد اللہ تعالی کی طرف سے اس وقت گیا تھا اس کو کس طرح اس انجام دیا اس کے بارے میں جس حد تک ممکن ہو گا کچھ فاصلہ کریں گے آج کے اس اہم موضوع پر گفتگو کے لیے جو علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ قادیانیوں سے چک وصول کرتے ہیں میں ان کا تعارف کرا دیتا ہوں مکرم و محترم مولانا شیخ مجاہد ہمبستری ہیں اور ان کے ساتھ شریف کی تلاوت مولانا محمد حنیف صاحب حضرت ابراہیم کے روزے اور قرآن کی پہلی سطحی عبدالحنان کا پروگرام فلم کرتا ہوں ناظرین کرام اللہ اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنی جناب سے غیب کی خبریں دیتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کو خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ جو برگزیدہ بندہ ہے اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی تائید و نصرت شامل حال ہے اور وہ جو پیشگوئیاں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اس کی صداقت کی ایک دلیل ہوتی ہے نہ صرف یہ کہ اس نبی کی صداقت کی دلیل ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالی کی ہستی کا بھی وہ ایک ثبوت ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی دراصل عالم الغیب ہیں اللہ بھی وہی ہے جو غیب کی باتوں کا علم رکھنے والا ہے حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی محمود مہدی موعود علیہ السلام کی سیرت کا جذبہ مطالعہ کرتے ہیں اللہ کی طرف سے سینکڑوں پیش کریں اور پیش گوئی یہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو عطا کی گئی جس کے ذریعے آپ کی صداقت دنیا پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے مسیح موعود علیہ السلام نے جو پیشگوئی فرمائی تھی اور جب اپنے وقت پر پوری ہوئی تھی یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اسلام اور بانی جماعت احمدیہ نے ایک زندہ خدا کا تصور دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے اور اس زندہ خدا کی مکمل تائید و نصرت مسیح موعود علیہ السلام جماعت احمدیہ کو حاصل تھی اور اس کے نتیجے میں اپنے السلام لویو کیسے خبر پا کر دنیا کو وہ پیشگوئی عطا فرمائی تھی جو اپنے وقت پر پوری ہوئی بتایا کہ حضرت مسیح علیہ سلام کی سینکڑوں پیش گوئیاں ہیں حقیقی تو ہی میں بے شمار نشانات بیان کیے ہیں آپ علیہ السلام نے تو پیشگوئی مصلح موعود بھی دراصل ایک ایسی ہی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو آسمانی نشانی کے طور پر اللہ تعالی نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی پیشگوئی مصلح موعود درست یا باری تعالیٰ کا ایک زندہ ثبوت ہے نرگس مسیح موعود علیہ السلام نے جب دنیا کے سامنے اس سود ایک زندہ وجود کے طور پر پیش کیا تو آپ نے نشان مائی کی چالیں دنیا کے سامنے پیش کی جس وقت قادیان کے ہمسایوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی کوئی نشان دیا جائے چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ہوشیارپور میں اللہ تعالی کی ذات پر چلہ کشی فرمائی جس کے نتیجے میں آپ کی عبادتوں اور میں آپ کو پیشگوئی مصلح موعود عطا فرمائی تھی پیشگوئی مصلح موعود میں ایک معمول فرزند کی ولادت کی خبر دی گئی تھی مؤلفین کی ولادت کے ساتھ ہی یہ پیشگوئی اپنی تکمیل تک نہیں پہنچتی ہے بلکہ اس کے فرزند کے اندر وہ ایک خوبیاں جس طرح اللہ تعالی نے پیش گوئی میں اس کی خبر دی تھی وہ دی گئی اور پھر کی عظیم الشان خدمت جو ہے وہ کرنے کی اس نے وہ فرزند کو توفیق عطا ہوئی پر یہ عظیم الشان پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بھی مشتمل ہے اسی طرح اللہ کی ہستی کا بھی یہ پیشگوئی ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے نہ صرف یہ بلکہ آپ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس پیشگوئی کے نتیجے میں اسلام کو غیر معمولی ترقی اللہ تعالی نے عطا فرمائی ہے ایک ایسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کے نتیجے میں اسلام کی صداقت دنیا کے سامنے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہیں طور پر حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب رضی اللہ تعالی عنہ جب خلافت کے عظیم الشان منصب پر فائز ہوئے تو اس وقت اسلام کی انہوں نے عظیم الشان خدمت اور بے نظیر اور بے مثال خدمت کے تعالی ان کو توفیق عطا فرمائی تھی اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے مختلف دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے حوالے سے اور جماعت احمدیہ کا پیغام اور السلام کے مشن کو آگے بڑھانے کے حوالے سے علیشا تک پہنچانے کے حوالے سے دور دراز ممالک تک اس پیغام کو لے کے جانے کے حوالے سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک نمایاں خدمت کی اللہ تعالی نے توفیق عطا فرمائی ہے دنیا بھر میں جہاں پر بھی جماعت احمدیہ کے مشن سکیم ہیں وہ 20 فروری کو اس عظیم الشان پیشگوئی کی یاد میں یوم مصلح موعود مناتے ہیں تو پوری دنیا میں گزشتہ جمعرات کے دن جو ہے سب بھائیوں مسلمان بنایا ہوگا اور اس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر اور اسی طرح پیشگوئی کا متن اور اس میں بیان کردہ نعمتوں کے حوالے سے تفصیلی تذکرہ ہوا ہوگا عزیز نے بھی اپنے لائیو خطبے میں اسی پیشگوئی کی عظمت کے تعلق سے اور کس طرح یہ پیش گوئی پوری ہوئی اس کے تعلق سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تفصیل بیان فرمائی ہے اور اس بات کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ ایک سو چونتیس سال سے پیشگوئی مصلح موعود کی نشانی ہے یہ آسمان پر چمکتا ہوا پوری دنیا کو اسلام کی صداقت کی دلیل پیش کر رہی ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمات کے تعلق سے اس میں تو ہم کی محدود تفصیلی ہمارے ناظرین کی خدمت میں پیش کر پائیں گے جب کہ جب ہم سیرت کی باتیں کریں تو سونے فضل عمر کے نام سے بیس سالوں سے بھی زیادہ پر مشتمل ہے وہ کتابیں لکھی گئی ہیں جس میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت اور آپ کی خدمات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو بہرحال یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو گزشتہ ایک سو چونتیس سال سے چمکتے ہوئے نشان کے طور پر پوری دنیا کو اسلام کی طرف اور زندہ خدا ناظرین آج کے دور میں ہم بات کریں گے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی خدمت کا جو مریض آپ کی طرف سے آ گیا تھا اس کو کس طرح خوش اسلوبی کے ساتھ اور کس طرح اس فریضہ کو سرانجام دیا اس کے بارے میں آج کے سوٹ میں ہم بات کریں گے ایک مرتبہ پھر آن لائن آپ کیلئے ایکٹر ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت کے تعلق سے یہ پیشگوئی مصلح موعود کے تعلق سے حضرت مصلح موعود کی خدمت اسلام کے تعلق سے سوالات ہیں تو ہمیں ٹیلیفون لائن کے ذریعہ سے کانٹیکٹ کریں ہم سے رابطہ کریں ہمارے فون نہیں ہیں اور ہمیں خوشی ہوگی اگر آپ کو بھی اپنے ساتھ اس پروگرام میں شامل کرنے کا اگر ہمیں موقع ملے گا تو ہم بڑی خوشی ہو گی اس کے بعد آج میں کا آغاز مولانا محمد امیر کوثر صاحب سے کرنا چاہوں گا سب سے پہلے میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا خدمت کے تعلق سے جب ہم بات کرتے ہیں تو تاریخ اسلام کو صحیح صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی ایک بہت بڑا فریضہ ہے جس کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے انجام دیا ہے تو اس حوالے سے میری ناظرین کو تفصیلات بتائیں ناظرین کرام سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو بشارت دی گئی تھی ایک پیشگوئی 20 فروری 1986 کو ہنسانے شرماۓ پھر وہ ریاض ہند اخبار میں کچھ اٹھارہ سو چھیاسی میں شائع ہوئی وہ ایک پیش گوئی نہیں پیشگوئیوں کا مجموعہ ہے اس ہم تو پیشگوئی مصلح موعود کی سکتے ہیں پیشگوئی دربارہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو اس کے اندر مضمر ہیں اور تفصیل اس کی بیان ہوئی ہے

ایک پیشگوئی یہ تھی کہ وہ معود حسن جب آئے گا نے اسلام کا مرتبہ اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کرے گا دین اسلام کا شرف اور کرام اللہ کا مرتبہ دین اسلام کا شرف جب ہم کہیں یعنی اسلام کی عظمت اسلام کی برتری اسلام کی سر بلندی کیا مراد ہے دین اسلام کا شرف اور یہ وعدہ دیا گیا تھا آدم علیہ السلام کو کہ وہ فرض ماؤتھ فرزند وہ پچھلے معود جب اللہ تعالی آپ کو نشان کے طور پر عطا کر رہا ہے اوکے کل امت یہ ہوگی کہ دین اسلام کا شرف جو ہے لوگوں پر ظاہر ہو گا جب یہ 1886 میں بات کی جا رہی تھی کہ دین اسلام کا شرف اس کا ذریعہ اسلام کی عظمت اسلام کا وقار اسلام کی سر بلندی اس کے ذریعہ سے نمایاں اور ظاہر ہوگی اس وقت یہ صورتحال دیکھی 1886 اور اس کے ایک دو سال پہلے اور بعد کی کھانے کے آداب المسلمین کا کیا خیال تھا اسلام کے بارے میں آپ حسین حالی ایک مشہور شاعر بھی ہیں اور ایک عظیم شخصیت اس زمانے کے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں رہا دین باقی نہ اسلام باقی اسلام کا رہ گیا نام باقی اسلام کے صرف نام ہونے کا باقی ہونے کا کا ذکر کر رہے تھے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اسلام دین نہیں رہا نہ اسلام کا کوئی بس ایک نام ہے اسلام اس کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہا اللہ تعالی حضرت موسی اور حضرت خضر علیہ السلام کو داتا دین اسلام کا شرف اس کے ذریعہ سے وہ نمایاں ہو کے لوگوں کے سامنے آئے گا جو دین اسلام کا شرف اس کی عظمت اس کے ساتھ بلندی کی محبت تھی وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شروع فرمائیں براہین احمدیہ تصنیف فرمائیں انسان یہ سوچتا ہے کہ میرے سجدہ سے جو مہ ہے یا جو معاندین ہیں وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہ مہم جو حضرت مرزا غلام احمد المسیح الموعود و المہدی الموعود علیہ السلام نے شروع کی ہے یہ زیادہ سے زیادہ ان کی زندگی مگر اللہ تعالی نے حضرت مسیح علیہ السلام کو یہ بشارت دی کہ یہ مہم جوابی اسلام اسلام کی سربلندی کی ای شروع ہوئی ہے یہ آپ کے بعد بھی جاری رہے گی اور اسی طرح اسلام کو سربلند رکھا جائے گا وہ اس ماہ فرزند کے ذریعہ سے سب سے بڑی چیز جو اسلام کو جو اسلام کے اوپر ایک دھبہ اور ایک دن وہ یہ تھا کہ اسلام کی تاریخ اس قسم کی تھی جو کہ اسلام کے لئے شرم کا باعث نہیں تھی بلکہ اس کی بدنامی کا باعث بن رہی تھی کے طور پر اس زمانے میں مستشرقین معاندین اسلام اور یہ جو ہندو سامان بازی ہاتھے وہ اسلام کے خلاف مضامین اور کتابیں لکھ رہے تھے وہ ان کتابوں میں سیدنا حضرت رسول کریم صلی علم کے بارے میں وہ کچھ لکھ رہے تھے اور انتہائی گھٹیا تھا نہ زیبا صورت میں پیش کر رہے تھے مثال کے طور پر پیچیدہ ذکر ہوا راجپال رنگیلا رسول لکھا یا اور تم نے ایک مضمون حضور کے خلاف شائع ہوا لیکن جب ان کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی تو انہوں نے واضح طور پر ایک بات کہی کہ ہم نے اپنے پاس کچھ نہیں لکھا ہے پانوں کی جو کتابیں ہیں حدیث کی تفسیر کی تعریف کی ہم نے اس میں سے یہ سب کچھ لیا ہے اور انہوں نے کورٹ میں پیش کرتی ہے کہ یہ ہے جس کی بنیاد پر ہم نے یہ سارا کچھ لکھا ہے ہاں مسلمان بالکل بے بس ہو جاتے ہیں کیوں کہ جب ان کے سامنے حدیث کے حوالے اور یہ جیسے مثال کے طور پر تفسیر جلالین ہے وقتی کی روایات ہیں جب یہ پیش کی جاتی تھی وہ بالکل خاموش ہو جاتے تھے کیونکہ اس کا کوئی جواب اس کے پاس نہیں تھا داؤد علیہ السلام کے زمانے سے یہ معاملہ چل رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیض کا ایک اصول ذکر کیا ارے اعتراضات جب تم کر رہے ہو چیز اسلام کی بنیاد ہے وہ قرآن مجید اللہ تعالی نے قرآن مجید کے بارے میں فرمایا انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ہیں قرآن مجید کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کیا ہر چیز قرآن مجید کی چھوٹی پر قرآن مجید کے معیار پر قرآن مجید کے میں اس پر پڑھی جائے گی اگر تو وہ اس پر صحیح ثابت ہوگی تو تسلیم کیا جائے گا ورنہ اس کو رد کر دیا جائے گا چنانچہ ان کی ایک تحریر میں پڑھ کر آتاہوں حضور فرماتے ہیں اللہ جل شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ بے آئے حدیث بعد اللہ و آیاتہ یومنون خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس حدیث پر ایمان لائیں گے یہ حدیث کے لفظ کی تنقید پر جو فائدہ عموم کا دیتی ہے صاحب چلا رہی ہے کہ جو حدیث قرآن کے معارض اور مخالف پڑے اور کوئی راہ تطبیق کی پیدا نہ ہو اس کو رد کر دوں قصور بنایا حدیث کا لفظ نقرہ ہے اور یہ اس بات کا فائدہ دے رہی ہے کہ ہر وہ حدیث جو کلام اللہ کے مطابق نہیں اور اس کی کوئی تدبیر نہیں اللہ کرو اس زمانے میں جو سب سے بڑا یعنی مشقوق آیات مبہم آیات  اتنی سیرتی شائع ہو چکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پڑتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئے اس کے ذریعہ انشاءاللہ اسلام کی تبلیغ میں بہت آسانی پیدا ہو جائے گی یا سیرت خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے کہ میرے مشورے سے میری رہنمائی سے یہ کتاب تدوین کی گئی ہے یہ کتاب لکھی گئی ہے شام کی آگ تصحیح تاریخ کو دیکھنا چاہتا ہے تو اس کتاب کو بنیاد بنا ئے گا تو وہ صحیح راستے پر چلے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے صحیح طور پر وہ آگاہی حاصل کرسکے گا لیکن اگر جائے گا اور آپ اس کی طبیعت اگر وہ تنازعات کا پہلو لے گا تو وہ کبھی بھی صراط مستقیم پر نہیں چل سکے گا اگر نیت درست ہے تو اس چیز کو دیکھنا ہوگا اب آج ہم جب مسلم اور اللہ تعالی عنہ اسلام کے کارہائے نمایاں کی بات کر رہے ہیں اسلام کے اوپر ایک بہت بڑے بدنما داغ تھے جو ان غیر نے ڈالی اور مسلمانوں نے اس کا مواد فراہم کیا یہ بھی ایک بڑے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان اب انہوں نے کیا یا نہیں کیا لیکن مسلمانوں کے نام پر وہ چیزیں تفسیر جلالین آیات ہیں واقدی کدھر سے ایک بڑا محبوب ہے اور اسی طرح ماہرین کے نزدیک اس کی روایات کو یہ لوگ بہت پسند کرتی ہے کیونکہ وہ ان کو پلٹ عماد اور جو بھی مواد فراہم کرتی ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور حضرت سلیمان ترانہ یہ اصول قائم کیے کی غلط بات ہوگی اس کو پرکھا جائے گا اور پرکھنے کے بعد ان سے یہ کام لیا جائے گا اور حضرت حسین نے کہ یہ جو ہے اس پر جمع کر دیتا کا دور تھا وہ جمع کی گئی اور مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ نے بتا دیا کہ دیکھو یہ زمانہ خطرناک قسم کا زمانہ تھا اور ڈیڑھ سو سال کے بعد کی تفسیر لکھی گئی یہ تاریخ لکھی گئی یہ حدیث لکھی گئی اور اس زمانے میں لکھنے کا زیادہ رواج نہیں تھا زبانی روایات بیان کی جاتی تھی اس میں مبالغہ کا مبالغہ تھا جو جھوٹ تھا مشکوک روایاتی مہم تھی یہ سارے خط اقوام موجود تھے اس لئے ہم آنکھیں بند کرکے ان چیزوں کو قبول نہیں کر سکتے یہ ہمیں کسی چیز کو بنیاد بنانا پڑے گا اور وہ ہے قرآن مجید وہ سنت وہ حدیث جو کے مطابق ترتیب قرآن مجید سے جہاں یہ مطابقت نہیں رکھیں گی اور نہ اس کی کوئی تصدیق ہو سکے گی ان کو رد کر دیا اسی نہج پر سیرت لکھنے کا کام شروع کیا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی یہ کتاب ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ خود بہت سے لگتا ہے نبیوں کا سردار جو دیباچہ تفسیر القرآن سے شائع کیا گیا ہے دنیا کا موسم اور بہت سے لگتا ہے جو حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ سیرت کے پہلو بھی ہیں بڑی حقیقت کے ساتھ تحقیق اور تفصیل کے ساتھ بیان فرمائیے یہ وہ کام تھا دین اسلام کا شک ظاہر کرنا اس تاریخ کے بعد جو جمعہ میں دیکھیں اور اس سورت کے بعد واقع ہیں اسلام کا شرف وہ دنیا کے سامنے آیا بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حملے کیے جاتے تھے وہ اس کے بعد بند ہوئے آج مخالفین کے سامنے یہ بات پیش کی جاسکتی ہے کہ صحیح سیرت اور تاریخ تو یہ ہے جو جماعت احمدیہ بیان کر رہی ہے اس سے ہٹ کر جو کچھ تم بناؤ گے وہ درست نہیں ہوگا وہ ایک بدنما داغ ہو گا جو تم اپنے پر لگا رہے ہو منصفانہ مزاج پہ لگا رہے ہو اگر تمہاری نیت ٹھیک ہوگی اس کو بنیاد بنا و تو صحیح طور پر اسلامی تاریخ اور سیرت رسول از مصنف ہوں گے یہ وہ شور تھا یہ وہ بلندی تھی یہ وہ عظمت تھیں جو حضرت مسیح علیہ سلام ربانی اسلامک واقعہ بھی ملاحظہ اب ہم کچھ سے ٹیلیفون کالز کو ہمارے ساتھ اس پروگرام میں شامل کرتے ہیں اور ان کا سوال سنتے ہیں سب سے پہلے ہم بات کریں گے قریشی عبدالحکیم صاحب سے جو کہ انڈیا سے اس وقت ہمارے ساتھ چلنے پر موجود ہیں پروگرام میں شامل کرکے ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم رحمت اللہ کیرانوی وعلیکم السلام محترم میری عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالی سے تحفظ پاگل سیدنا حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مبارک دور خلافت میں جلسے سیرت فرمایا آج ساری دنیا کے مسلمان بارہ ربیع الاول کے دن جس نے میلاد مناتے ہیں کیا اس کامیابی کا سہرا سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے سر ہے اور میری درخواست کی ہے کہ آج ساری دنیا معاشی بحران سے دوچار ہے اسلام کا اقتصادی نظام کی روشنی میں کیا آج کے معاشی بحران کو کس طرح لکھا جاتا ہے پیزا کا جواب سیرت النبی کے تعلق سے آپ کا سوال تھا اس کا تعلق کس نے اپنے گمشدہ ایپیسوڈ میں تفصیلی گفتگو کی ہے کہ کس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا اجر عطا فرمایا اور اس کے کیا اثرات ہیں دنیا میں عمر ناظرین کے سامنے پیش کی ہیں آپ نے ہمارے پرانے پیسوں کی طرف رجوع کریں گے تو اس سے آپ کو کافی معلومات ہیں وہ حاصل ہو جائیں گے جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے درخواست کروں گا کہ اسلام کا اقتصادی نظام کے تعلق سے سوال کیا ہے دیکھیں بات یہ ہے کہ جو آج کا اقتصادی بحران ہے اور آئندہ یہ اور زیادہ سنگین ہوتا چلا جائے گا اس میں سب سے پہلے برکت حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ کا اسلام کا اقتصادی نظام نظام نو اور پھر سب سے بڑھ کر جس کے بارے میں بھی بات نہیں کریں گے ہم تحریک جدید کے مطالبات ہیں جو حضور نے اس میں بیان فرمایا ہے اور عصر حاضر میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نصراللہ الحسن عزیزہ نے اس بحران کے تعلق میں بہت سے خطبات اور ارشادات فرمائے یہ اقتصادی وہ اور زیادہ سنگین ہوتا چلا جائے گا میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ خطاب کیے اس وقت منظم کا دور تھا اشتراکیت کا دور تھا اور اسی طرح جو سرمایہ داری وہ ایک نظام تھا حضور نے اس کے اسلامی نظام کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور اب جا کے آج جو دنیا میں سب کچھ ہو رہا ہے وہ یہ مفاد پرستی اب آپ دیکھیں کہ دونوں نظاموں کے بیچ کے نظام نو اور اسلام کا اقتصادی نظام جو بات نمایاں کر کے بتائیں یہ تھی کہ جو اس زمانے میں اس طرح کی ایک اور نظم کا نام تھا وہ زبردستی کا ایک نظام تھا انسان زیادہ دولت نہیں رکھتا اس سے زبردستی چھین لیا جاتا تھا اب سرمایہ داری نظام ہے وہ یہ ہے کہ سرمایا آپ جمع کرے اور زبردست ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور اس کے مطابق حکومت چلائی جاتی ہے لیکن اسلام کا جو نظام ہے ستایا نظام ہے آپ چندہ دیں گے آپ ٹیکس دیں گے پھر اللہ تعالی کا حکم ہے زکوۃ دیں گے یہ اللہ تعالی کا حکم ہے اس کے مطابق ایک مساوات رہے گی آج کی دنیا میں کیا ہے جو امیر ہے وہ بہت زیادہ تر ہوتا چلا جاتا ہے جو غریب ہے بہت ہی زیادہ پستی میں پتہ چلا جاتا ہے آپ دنیا کے بہت سے ملکوں میں دیکھ لیں خود ہندوستان میں دیکھنے اور اسلامی دوسرے ملکوں میں بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جس کا رہنے کا گھر ہے ان کو روٹی ہے نہ ہو سکا ہے اسلام قرآن بنیادی طور پر جو دیتا ہے انسان کی بھوک کو بیٹا ہوں اس کو کھانا دو اس کو جھونپڑی ہو اس کو اس کو علاج دو دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں یو این او کا دعوی کر دیا ہم بھی کرتے ہیں فلاں بھی کرتی ہے لیکن ستارے زمین پر کچھ بھی نہیں ہے وہ صرف تصاویر کی حد تک ہے اور رپورٹ کی ہے آج بھی اگر اس قرآنی نظام کو جو حضرت مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کا اقتصادی نظام نظام نو اور اس وقت بات میں ارشاد فرمایا الرسالۃ رحمہ اللہ نے اسلام کے اقتصادی نظام کا فلسفہ وخطبات کا ایک مجموعہ شائع خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس کے اوپر کافی روشنی ڈالی خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی اس پر روشنی ڈالی لیکن یہ لوگ اس طرف متوجہ نہیں ہوتے ہیں یہ لوگ دولت جمع کرنے کی طرف ہے ابھی دیکھئے عرب کو اللہ تعالی نے عرب ملکوں کو ایک چیز ہے سب کچھ ہے کسی نہ کسی طرح سے اس کو وہاں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور ان کو اس خطہ زمین پر رکھنا چاہتے ہیں کے ایک اللہ تعالی کی طرف سے عذاب ہے اور جب تک یہ اسلام کی طرف واپس نہیں آتے مامور کی آواز پر ملتے اس مصیبت سے یہ لوگ نکل نہیں سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ ہو گا جو حضور اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ دوسری جنگ عظیم اور پہلی جنگ عظیم کی وجہ سے ہوئی جب دنیا میں اس صورتحال بنتی چلی جا رہی ہے اور اگر اس کا علاج نہیں کیا گیا تو یہ ایک تیسری جنگ اس سر پر کھڑی ہوئی ہے جس کی ابتدا کسی نہ کسی رنگ سے ہوچکی ہے تو یہ اس سے آج بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے ضلع کل فون کروں گا اس وقت ہمارے ساتھ پاکستان سے عبدالمصور خان صاحب ہیں جو اس وقت ہمارے ساتھ رابطے میں موجود ہیں ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم ورحمتہ عبدالنصر خان صاحب اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و آلہ وسلم اور یہ ہے کہ میرے دوست والے میرا پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت خلیفہ پہلے جب حج ادا کیا تھا تو کیا انہوں نے کہ ہر جماعت کے پیچھے نماز پڑھی تھی میرا یہ ہے کہ جب پاکستان اور انڈیا کا میچ ویڈیو جزاک اللہ ہمیں آپ کا پہلا سوال مل گیا ہے میں موت مولانا سب کچھ سونگ اسلام اور اللہ تعالی عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے تھے انیس سو بارہ میں اس خلافت سے پہلے آپ گئے تھے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالی عنہ کی اجازت سے گئے تھے آپ میسر بھی گئے حج پر گئے میرے علم میں یہ نہیں ہے کیا آپ نے کسی کے پیچھے نماز پڑھی ہے ایسا نہیں ہے آپ نے حج کیا وہاں پر آپ نے تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دیا اور وہاں پر آپ لوگوں کو جماعت کے بارے میں بتایا بھی اور آپ کی کافی پذیرائی ہوئی آپ کی باتیں سنیں گے قسم کے سوالات کرنا کہ پڑھا کہ نہیں پڑا جب تاریخ میں اس بارے میں کوئی واضح بات ہے ہی نہیں بعد خبریں طرف سے ادھر شائع کرتے تھے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر اس طرح کا میں یہی کہہ سکتا ہوں اس بارے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے نہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کیا جواب دیں جزاک اللہ مکرم منصور نوجوان صاحب جن کا انڈیا سے تعلق ہے ان کا سوال ہمارے پاس آف لائن آیا ہے محترم مولانا محمد میاں صاحب ایک مسلم اور تعالی عنہ کا جاری کردہ رسالہ تشحیذ الاذہان کا کیا پس منظر ہے اور کیا آج بھی وہاں جاری ہے اللہ ان سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی شروع کیا تھا بہت ہی اچھے مضامین ہیں اس میں ابتدائی طور پر اگر اس کی پرانی جلدی لکھی جائے یہ رسالہ جاری رہا اور اس کے بعد جب پاکستان بنا تب بھی یہ رسالہ جاری رہا اس وقت کی تشریح الحان اطفال الاحمدیہ اور بچوں کے لئے مختص ہو گیا خاص طور پر ان کے تعلق سے یہ مضامین چوتھے برس میں شائع ہوتی ہے وہ تھے اس کے بعد کچھ پابندیاں اس کو پر لمبی بدقسمتی سے ایک ملک اور وہاں سلام ہے اس کی وجہ سے پابندیاں لگی تو آج کل میرے خیال میں یہ شعر وقتی طور پر نہیں ہو رہا جب یہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے ان شاء اللہ پھر یہ شائع ہونا شروع ہو جائے گا پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا شیخ مجاہد حسن عسکری سے ہماری یہ سوال ہے کہ جیسے کیا جاتا ہے جس میں اسلام کی آمد بہت بڑا مقصد یہ تھا کہ دیگر ادیان پر اسلام کی اور اسی مشن کی تکمیل کے حوالے سے آگے آپ کے وصال کے بعد خلفاء کرام نے بھی اپنی ذمہ داریاں ہیں وہ سرانجام دی ہیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ بھی خاص طور پر پیش گوئی میں الفاظ ملتے ہیں کہ دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کرنے کے لیے پیدا ہوگا اور خدمات سرانجام دے گا تو اس حوالے سے مسلم رضی اللہ تعالی عنہ کی کیا خدمات ہیں وہ میں آپ سے جانا چاہوں گا نزلے کرام بانی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام اور حضرت محمد مصطفی مسلم کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالی نے جو عظیم الشان نشانات عنایت فرمائے ان میں سے ایک عظیم الشان پیشگوئی مصلح موعود ہے اس پیش گوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اعلان فرمایا کہ آپ کے یہاں ایک محدود بیٹا پیدا ہوگا جو نو سال کے عرصے میں پیدا ہوگا اس کے اندر 52 علامات ہوں گے علامات میں سے ایک علامت یہ ہے جس کا ذکر بھی آپ نے اپنے سوال میں کیا کہ خدا نے یہ کہا کہ وہ زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات بابے اور جو قبروں میں دبئی پڑے ہیں باہر آگئے اور دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کو دین اسلام کا شرف اس کی برکت برتری اس کی عظمت کیسے دنیا میں ظاہر ہو بیان کرنے سے پہلے اس طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ جس وقت خلافت پر متمکن ہوئے یعنی 14 مارچ 1954 کو جب آپ خلیفہ بنے آپ کے کیا حالات تھے ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے سے سوال میں سنا پہلی جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی میں انتشار پھیلا ہوا تھا اللہ ہماری ہو رہی تھی لڑائیاں پہنچ چکی تھی حضرت مصلح موعود کی اپنی صحت کمزور تھی اس کے باوجود حضرت مصلح موعود نے دین اسلام کے غلبہ کے لئے اور کلام اللہ کا شرف پھیلا مرتبہ پھیلانے کے لیے جو عظیم الشان کام کیے اس مختصر بات میں محدود کر کے بیان نہیں کیا جاسکتا آپ نے جو عظیم الشان کام کیے اس کا آپ کے دل میں ابتدا سے ہی ایک دوست تھا اس کے لیے آپ خاص طور پر خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور اپنی نوجوانی کے وقت سے ہی یہ دعائیں آپ نے شروع کر دیے تھے چلی کی تاریخ میں یہ بڑا مشہور واقع ہے شیخ غلام محمد صاحب بیان کہ وہ ایک مرتبہ مسجد مبارک والے کہ ایک شخص سجدے میں ہے اور تسلسل کے ساتھ گریہ و زاری کر رہا ہے رو رہا ہے اور وہاں اٹھتا ہی نہیں یہاں تک کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی جو دعائیں کرنے گئے تھے انہوں نے خدا سے دعا کی کہ خدایا یہ ہے ہو مل جائے جب اس شخص نے فائدہ اٹھایا نماز مکمل کی تو دیکھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے انہوں نے پوچھا کہ میں آج کیا آپ نے اللہ تعالی سے مانگا کوئی جواب تھا میں نے تو یہی مانگا کہ الہی مجھے میری آنکھوں سے کو زندہ کر کے دکھا دے توں یہ تڑپ آپ کے دل میں نوجوانی کے وقت سے ہی تھی الصلاۃ والسلام نے جس تاریخ پر غلبہ اسلام کی داغ بیل ڈالی خلفائے کرام نے اسی طریق پر اسی نہج پر اس کو آگے کیا میں وقت کی مناسبت سے چند ایک نکات کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا علیہم الصلاۃ والسلام نے اپنے وقت میں کو جو ملکہ ویکتوریا تھی اس کو ایک کتاب لکھی اس کو اسلام کا پیغام پہنچایا جو جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے روحانی خزاءن میں تحفہ کے نام سے مشہور ہے کی تائید اور اس کے حکم کے مطابق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد بعد کی جو اس وقت کی سب سے بڑی مملکتی انوکھے آصفیہ حیدرآباد کی حکومت تھی وہاں کے والی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک کتاب لکھی جو بالکل ابتدائی زمانے میں جون 1914 کی ہے اور اور وہ تاریخ میں ہماری جماعت میں تحفۃ الملوک کے نام سے مشہور کتاب ہے 1924 کے قریب پاکستان کو اس وقت تک امیر تھا امان اللہ اس کا نام ہے اس کو ایک تفصیلی خط لکھا سلسلے میں دعوت الامیر کے نام سے مشہور ہے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالی نے 1895 میں ایک عظیم الشان اسلام کے غلبے کی شکل یہ ظاہر فرمائی کہ لاہور میں ایک عظیم جلسہ ہوا جس میں اللہ تعالی نے پہلے سے ہی اسلام کو بیان کردیا کہ تیرا مضمون غالب رہے گا اور واقعہ کتاب کی شکل میں مضمون شائع شدہ ہے جو اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے مشہور ہے اسی طرح حضرت مصلح موعود کے زمانے میں اللہ تعالی نے ایک موقع عنایت فرمائیں کہانی ویلے انگلستان میں ایک کانفرنس ہوئی عالمی کانفرنس اس کے اندر حضرت مصلح موعود کو خود بنفس نفیس شرکت کا موقع ملا آپ کا یہ مضمون سر چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے پڑھا اور یہ ایسا عظیم الشان مضمون تھا کہ اس وقت کے اخباروں نے اس پر تبصرے لکھے اور یہ مضمون کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے نام سے یہ اسلام ویب سائٹ پر بھی مسلم عورت کی کتب انوار العلوم اس کے اندر موجود ہیں ایک اخبار کو خط لکھتا ہوں مانچسٹر گارڈن 24 ستمبر انیس سو چوبیس وہ لکھتا ہے کہ اس کے بعد یعنی اس مضمون کے بعد جس قدر تحصیل خوشنودی کے چیز کے ذریعہ اظہار کیا اس سے پہلے کسی پر چپراڑ آ گیا تھا یہاں میں زندگی بھی بیان کر دوں کہ اس سفر کے دوران ہی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے مسجد فضل کا سنگ بنیاد رکھا کہ جو آپ نے اس کی سنگ بنیاد کے وقت میں جو تحریر لکھی اور جو اس میں آج بھی وہاں لگائی گئی ہے اس میں حضرت مسلم اور بطور پیش گوئی کے دعا کے رنگ میں یہ بیان فرمایا وہ لکھتے ہیں احمد مسیح موعود نبی اللہ یہ جگہ حضرت محمد مصطفی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت احمد مسیح موعود نبی اللہ بروز نعیم محمد علیہ السلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے اے خدا تو ایسا ہی کر یہ وہ دعا تھی اور ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس دعا کو اثر پھر کیا کہ وہی مسجد فضل میں جب خلافت نے ہجرت کی پاکستان سے تو اسی مسجد فیصل کے احاطے میں ہی خلیفہ وقت موجود ایک لمبا عرصہ تک اور پھر اس میں بھی لاہور واقعہ آج ایم پی اے کا کام ہے وہیں سے جاری ہے اور اسلام کے غلبہ کے لئے ایم پی اے کے ذریعہ سے جو کا مشہور ہیں وہ سحری ہے داؤد رضی اللہ تعالی عنہ عالم اسلام کے لیے جو عظیم الشان تحریکیں اس میں سے ایک تحریک ہے تحریک جدید کے ذریعہ حضرت مصلح موعود نے ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت اسلام بچانے کے لیے جدوجہد اور کوشش کی آپ خود ایک مقام پر بیان فرماتے ہیں تحریک جدید کی بنیاد بھی اس بات پر ہے کہ اسلام کے نام کو روشن کیا جائے اور قرآن کریم کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا جائے مسلم عود اسی کشمیر ہے اور اسی کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی وقف کر دیں کہ کسی طرح اسلام کا غلبہ ہو اور اسلام کے اس پیغام کو ساری دنیا میں پہنچائے آپ کے دور ہے اس میں اگر ہم اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھیں کہ آپ کی عظیم الشان کام کیا ہیں تمہارے خاوند آیت اللہ تعالیٰ العزیز نے بیان فرمایا ہے کہ آپ نے سو کے قریب علمی تربیتی اور روحانی تحریک جاری کی ہیں اسی طرح آپ کے بابرکت دور میں بیرونی ممالک میں 311 مساجد کی تعمیر ہوئی 40 ممالک میں احمدیہ مشوروں کا قیام ہوا 164 کی زندگی نے بیرون ممالک میں آزاد انجام دیا ہے زبانوں میں تراجم قرآن کریم کی مکمل اقساط ہوگی ممالک میں 74 تعلیمی مراکز کا قیام ہوا 28 دینی مدرسوں اور ستارہ ہسپتالوں کا قیام ہوا چالیس کے قریب اخبارات اور رسائل کے ذریعہ اس کا اجرا ہوا پھر ان سب سے بڑھ کر آپ نے دو سو پچیس سے زائد کتب نے فرمائے ہیں اور دس ہزار سال سے بھی زیادہ مشتمل آپ کی تفسیر کبیر کے نام سے لوگ قرآن مجید کی شان تفسیر ہے وہ شادی شدہ ہے وہ کام تھے جن کا مختصر تھا میں نے ایک باقی چاہے ان سب سے ہٹ کر دنیا کے سامنے اسلام کی دعا سے نکال کر اسلام کو ایک زور اور صداقت کے طور پر پیش کیا اور ساری دنیا کو یہ چیلنج دیا کہ کسی بھی مذہب کا اگر کوئی مانگنے والا ہے تو میرے پاس آئے میرے روحانی طور پر مقابلہ کر کے دیکھیں اور اس کو پتہ چل جائے گا کہ ہے یا نہیں ہے چنانچہ اپنی کتاب زندہ مذہب میں جو انیس سو ستارہ میں آپ نے لکھے حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں نہیں پڑھتا ہوں بیان فرماتے ہیں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد تمام دنیا کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو آئے مقابلہ کرے مجھے تجربہ کے ذریعہ آ گیا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور کوئی مذہب اس کے مقابلے پر نہیں ٹھہر سکتا خدا تعالی ہماری دعائیں سنتا اور لگتا ہے اور ایسے حالات میں قبول کرتا ہے جب کہ ظاہری سامان بالکل مخالف ہوتے ہیں اور یہی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی بہت بڑی علامت ہے اگر کسی کو پتہ ہے تو آئے اور آزمائیں ہاتھ کنگن کو آرسی کیا پس یہ حضرت مصلح موعود کا چیلنج تھا جو ساری دنیا کے لوگوں کے سامنے تھا بس یہ جو کے اندر جو الفاظ موجود تھے دین اسلام کا شرف اور محمد بالوں کو پر ظاہر ہو حضرت مصلح موعود علیہ اللہ تعالی انہوں نے دین اسلام کا شرف اور برتری کو اس رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور اس کے لیے وہ عظیم الشان کام اور پروگرام شروع کیے اس پر رکھیں کہ آج احمدیت کی بنیاد جو آگے قافلہ بڑھ رہا ہے انہیں پروگراموں کو آگے لے لیتا ہوں آگے بڑھ رہا ہے اور خلافت میں نئے رنگ میں جزاک اللہ تعالیٰ فون کالز کو ہم کی رعایت کے حساب سے شامل کرتے ہیں اپنے پروگرام میں سب سے پہلے بات کریں گے خواجہ عبدالمومن صاحب سے جن کا تعلق ناروے ہے اس وقت وہ پاکستان سے ہم سے تو ان کا سوال سنتے ہیں اسلام علیکم رحمت اللہ خان صاحب زبردست السلام علیکم آمین یا رب لعلمین جی میں نے یہ چیک کرنی تھی گے یہ حضرت ٹوٹی ہوئی تھی ہوئی تھی پاکستان کے طور پر قاری عالم اور اس کے بعد یہ 14 محبت میں شامل نہیں خلافت پر متفق ہوئے وہ اس سے بات یہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کے یہ اس میں موت کی پیش گوئی ہے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے بارے میں ہے کا اعلان غالب 944 میں کیا ہے لاہور میں خدا نے خبر دی تھی سب کو میری پوچھنا تھا کہ یہ کالا نہیں کیا تو اسے قبر دور ہوئے ذاکر نائیک مسلمان ہو کدھر سب کا باپ کا نام کیا ہے یہ مضمون تو جلتے ہیں اس سے قبل اس کے بارے میں شکریہ میں آپ کے دونوں سوال مل گئے ہیں مولانا محمد میاں صاحب کا صحیح مسلم وصی اللہ تعالی عنہ ان کے بارے میں قیاس آرائیاں تو تھی اور اگر حضرت محمد صل وسلم کی تفصیلات کو دیکھیں تو حضور نے بھی موت جو حضور نے فرمایا اللہ تعالی نے مجھے ایک بیٹے کی بشارت دی ہے اور حضور نے فرمایا کہ وہ محمود پیدا ہوچکا ہے اور اس کی اتنی عمر سراج منیر میں حضور کا ذکر کیا بیچ 1914 میں جب آپ خلافت پر متمکن ہوئے بعض لوگ یہ کہتے رہے اور جب بھی حضور سے اس بارے میں سوال ہوا حضور نے فرمایا اس کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے انیس سو چوالیس کا سال ایک ایسا آیا جب کہ حضور لاہور میں تھے شیخ بشیر احمد صاحب کی کوٹھی پے ہے وہاں پر تھے وہاں ایک بڑی تعداد اور اس میں ایک لفظ تھا المسیح الموعود وسیلہ وخلیفتہ اور پھر آگے بہت لمبی ہو تفصیلی کروایا اس کے بعد حضور نے سب سے پہلا اعلان قادیان پہنچنے کے بعد سب سے پہلے مسجد کس شہر میں گیلانی کہ مجھے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بنایا ہے حضور نہ دوسرا جلسہ جو ماں کی دعا وہ 20 فروری 1944 کو وہ کنڈی وہ آج بھی موجود ہے اور وہاں جہاں کل حضور مایا کہ حضور نے انگلی کے اشارے سے کہا اسماء سلیم احمد کی بشارت حضرت مسیح ان کو اللہ تعالی نے سامنے والی بلڈنگ میں دی تھی اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ میں مسلمان ہوں تو حضور نے حلفیہ بیان اس بارے میں بیان فرمائیں اور اس کے بعد حضور پھر اس چلہ کشی والے کمرے میں تشریف لے گئے تھے اور وہ چلا ہوا والا کمرہ الحمدللہ موجودہ جماعت کے پاس بڑا صاف ستھرا عبادت کی وہ جگہ ہے جہاں حضور نے دعا فرمائی تھی اور دعا میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ یہاں صرف آج کے جو دعا ہوگی وہ غلبہ اسلام کے تعلق سے تیسرا جلسہ اس تعلق سے دودھ آنے میں ہوا تھا لاہور میں ہوا تھا گلی میں ہوا تھا ان سارے مقامات پر حضرت اللہ تعالی عنہ اپنے پیشگوئی مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا تھا اور یہ واضح اور فرماتا ہے کہ میں ہی وہ مسلم ہو جس کے اللہ تعالی نے بشارت دی تھی ایک بار مودی کا جو سلسلہ شروع ہونے والے پر انیس سو چالیس چور جلسہ اس وقت ہوا تھا اس کے بعد سے متواتر یہ جلسہ ہوتا تھا کہ یہ جلسے کا ایک صرف جلسہ مقصد نہیں ہے جیسا کہ حضور نے قل ہو اللہ پڑھ کر سنائے گوگل مجھے یہ تھا کہ چلو کو دو دور ہے دور اس لیے مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں الفی جن کو یہ نشان دکھایا وہ یہ کہ اس کرتے تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ جو کچھ ہے وہ اس کی زندگی تک اس کے بعد میں لیکن ایک نئے دور کی بشارت مسلمان ہو تعالئ عنہ کے ذریعہ سے دی تھی جب ہم 134 تک پہنچ گئے اور آج آپ دیکھ سکتے ہیں تو آپ کو یہ بخوبی علم ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عامد کی جو علت غائی تھی جو مقصد تھا جو مشن تھا اس کو مسلم اور اللہ تعالی نے بہت حد تک بازاری بنیادوں پر جو بعد میں آئے حضرت طالوت شعبے اور موجودہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پروگراموں کو آگے بڑھا رہے ہیں مزید بھی شروع کر رہے ہیں لیکن اسی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے یہ ایک بہت بڑی صداقت تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کے آپ یہ دیکھیں کہ ابھی آگے ایک سوال بھی ہے سالوں سے اس نے بھی اس کی وضاحت آ جائے گی ہم بیٹھے یہ پروگرام پیش کر رہے ہیں کا نظام ہے کا بیان سے یہ پروگرام پیش کر رہے ہیں 1986 میں ایک آدمی اعلان کرتا ہے وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اٹھارہ سو سی سی میں کتنے ہیں بچے قادیان میں پیدا ہوئے اور اشعار میں پیدا ہوئے کہاں ہوئے ان کا پتہ بھی نہیں ہے تو وہ زمین کے کناروں تک شعور اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسیحا کا پیغام کو اسلام کا پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لیے ایک عظیم بنیاد رکھے گا ایک تاریکی اور کی ترقی کی جو دنیا میں پہنچ گئے آج ہم یہاں ان کا پروگرام دیکھ رہی ہے یہ سچ ہے کہ نہیں جو اللہ تعالی نے فرمایا تھا وہ لفظ بہ لفظ پورا ہوا یہ بھی سچ ہے کہ نہیں کہ ایک ماننے احمدیت نے اسی وقت یہ اعلان کیا تھا درجہ تین سال چھوڑ گیا آج اگر پڑھ لیں کرام کی کی روح ہے اور کلیات آریہ مسافر ہیں اس کو بتا دے گا کہ جو تو نے اپنے پروفیشن کے خاتمے کے اعلان کیا تھا وہ انتہائی غلط نکلا وہ جو اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تھا ایک ایک لفظ کا پورا ہوا اور یہ صداقت ہے اس بات کی کہ اللہ موجود ہے اسلام جو صلح کو پیش کر رہا تھا وہ پورا ہوا میرے بھائی اگر نشان آپ دیکھیں گے اللہ تعالی نے تو اشتیاق کو بھی نشان کر دیا اللہ تعالی نے جو اور یہ کمر وغیرہ کو قرآن مجید میں موسی کو یہ بھی اللہ تعالی نے یہ بھی نشاندہی کرکے عصائے موسیٰ جو دیا وہ بھی دیا یہ اس وقت دیے تھے لیکن 75 سال تک ایک انسان موجود رہا اور چمکتا ہوا نشان آسمان پہ راہ 12 جنوری 1989 کورٹ پیدائش ہوئی نومبر 1965 میں مسابقہ وفات ہوئی شرط پر سال ایک انسان اپنے وجود کے ذریعے اللہ تعالی کا ثبوت دیتا ہے یہ وہ نشان ہے جو کہ میں نے دیا تھا اور پھر اس کے خلافت کے جو کارہائے نمایاں ہیں وہ تو بے شمار ہیں اس کے پھل آگے دنیا دیکھتی رہے گی اور اس سے استفادہ کرتی ہے غزہ کویت سے کورٹ آف نکالیں اس وقت ہمارے ساتھ کھڑے ہیں مکرم لقمان احمد صاحب ہم انہی پہ مرتے ہیں وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ عمل پر استعمال کا تھوڑا سا جواب مولانا حنیف کو صدقہ دیا تھا دنیا کے کناروں سے چور اور قومی سے برکت پائیں گے کہ ابھی الفاظ کا حضرت وجود پر پورا ہونا حکام کے مطابق کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ کے مسائل پر روشنی ڈالنے جزاک اللہ اس میں خلافت کے تعلق سے ہمارا پروگرام کا اپنا سوال بھی ہے پروگرام سنتے رہے ہیں تو آپ کے سوال کا جواب مل جائے گا اسی طرح دنیا کے کنارے تک شہرت پانے کے تعلق سے بھی آپ نے بھی محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے سن لیا ہے آپ کا جو دوسرا حصہ ہے سوال کے قومی اسے برکت پائیں گے اس سے میں راستے سے درخواست جزاک اللہ اس سے برکت پائیں گی یہ الہامی رنگ میں اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس وقت کا بیان کی سرزمین سے آواز اٹھی کبھی آپ نے اس بات پر میں 18 چھیاسی میں سینکڑوں بچے پیدا ہوئے تھے جو قادیان میں یہ شہر میں ہوئے تھے لیکن آج دنیا میں ان کو کوئی بھی نہیں جانتا مسلم اور جب خلیفہ بنے تو آپ نے اپنی خلافت کے شروعات میں ہی تبلیغ اسلام کا کام زور و شور سے شروع کر دیا وسائل آپ کے پاس موجود الوسائل کو مزید بروئے کار لاتے ہوئے کوشش یہ کی کہ ساری دنیا تک احمدیت اور اسلام کے پیغام کو پہنچا دیا جائے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود کے اس دور میں ہیں امریکہ میں پیغام پہنچتا ہے حضرت مفتی محمد صادق کے ذریعہ بھی اس سال بھی غالبا سال امریکہ کی جماعت احمدیہ کے ہم پہ ہوئے بخارا روس کے علاقوں میں بھی پہنچے ظہور حسین صاحب وہاں پہنچے افریقہ کے ان علاقوں میں عبدالرحیم کے ذریعہ آسیہ جو پیغام نامسائد حالات میں دنیا کے ساتھ تک پہنچایا ان کو تک پہنچایا اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ آپ اسلام کی شہرت کو ساری دنیا تک پہنچا رہی ہے وہاں پر احمدیت کے ذریعہ ان قوموں کے روحانی لحاظ سے تو سب سے پہلے فائدہ ہو ہی رہا تھا وہاں ان کے معاشی لحاظ سے بھی اہم ہے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے فروغ کی کوشش کر رہی تھی مسلم ممالک میں جب احمدی مبلغان پہنچے انہوں نے تعلیم کا انتظام کیا وہ اسکول کھولے گئے نے اپنے زمانے میں وہاں کی ڈاکٹروں کو بھیجا ہسپتالوں کا اجرا کیا میں بھی ان قوموں نے احمدیت کی بدولت سے دنیاوی لحاظ سے بھی استحکام کیا اور استحکام جوا خاص طور پر تھا وہ تو یہی تھا کہ خدا تعالیٰ کی ایک اس پیغام کو اسلام کے پیغام کو اس کو سمجھا اور اللہ تعالی سے اپنے تعلق کو مضبوط کیا آج بھی اسی نہج پر خلفائے کرام کے ذریعہ جماعت احمدیہ ساری دنیا میں جہاں بندوں کا تعلق اس کے رب کے ساتھ جوڑ رہی ہے وہاں ان کے ظاہری فوائد کے لیے بھی ان کی اسکول کالج اور دیگر اور جتنے بھی اس کے وسائل ہیں اس میں کوشش کر رہی ہے بس میں اس سے برکت حاصل کریں گے اس کے اندر دونوں چیزیں آجاتی ہے اور حضرت مصلح موعود کے دور میں یہ 52سالہ جواب کے خلافت کا دور ہے ابھی جیسا کہ میں نے پہلے سوال سعدیہ کیا آپ نے کس طرح اسکول کالج کا اجراء کیا اور کس طرح لوگوں کے امداد کی اور کیسے ان کو ترقی کے ذریعے کیا پھر دوسرے نقطہ نگاہ سے اگر ہم دیکھیں کہ قوموں کو جو برکت حاصل کی تو بے شمار کو انہوں نے برکت حاصل کی اگر فتح عرب کے حوالے سے ہم جن کو ہم نے آپ سے برکت حاصل کی اسرائیل کا جو مسئلہ ہوا یا اس وقت جو اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے اپنے کام کو تاریخ میں درج ہے اسی طرح ہندوستان میں جو اور صدی کی تحریکیں اس وقت کے کام ہے تو مختلف قوموں کے لحاظ سے اپنے الگ الگ کام بھی کیے اور ان کے استحکام کے لئے ان کے فلاح و بہبود کے لئے جو کام کیے وہ اس پیشگوئی کا زندہ ثبوت ہے کہ کامونکی سے برکت حاصل کی انتہا سے زیادہ پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا محمد کاشف صاحب سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ خلفائے راشدین اور اہل وسلم کے صحابہ رضوان اللہ ان کی اعلی مرتبہ اور ان کی سیرت پر جو مختلف اعتراضات ہوتے تھے ان کے ازالہ کے حوالے سے مسلم اور ذلت اللہ انہوں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دی ہیں اس کے بارے میں مر ناظرین کو غسل بتائیں بات یہ ہے کہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو کہ یکم ربیع الاول 26 مئی 632 کا عہد تھا آپ کی وفات کے بعد سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے مسلمانوں کی خلافت پر متمکن فرمایا آپ دو سال خلیفہ رہے آپ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے خلافت سے نوازا سال خلیفہ رہے آپ کی وفات کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بارہ سال خلیفہ رہے چھ سال سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ وہ خلیفہ ہے یہ تقریبا کوئی تیس سال کا تھا بدقسمتی یہ ہوئی باغ باغ منافقین یا کمزور ایمان یا جو بھی سمجھ لیں یا دشمنان اسلام ان مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوگئے گھر سے داخل یہ پہلے بھی ہوتے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مثال کے طور پے ایک جب جنگ احد کے لیے جا رہے تھے اس سال اپنے تین سو آدمی کو لے کر واپس آ گیا حضور صل وسلم کے زمانے میں کتنے ہیں فتح عبداللہ بن ابی سلول کیا پھر حضرت عمر مومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ پر الزام کا ایک نیا فتنہ کھڑا کیا پہلے بھی ہوتے رہے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلافت میں اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اندرونی طور پر یہ طرح کھڑا ہوگیا کہ اصل میں خلیفہ حضرت علی رضی اللہ کیا تھا یہ تین خلفاء اور خاص طور پر حضرت ابوبکر یہ خلاف خلیفہ برحق نئے یہ جتنا پڑھتے پڑھتے پڑھتے پڑھتے چلا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک تیرہ صدیاں شیعہ سنی فساد ایک دوسرے پر الزام ایک دوسرے کے خلاف اتہام حتی کہ بعض دفعہ یہ جلد کو تک نہ پہنچیں اور یہ انشقاق یہ اختراق یہ کشیدگی بہت زیادہ ہوتی چلی گئی اور ابھی بھی بعض ملک اس کشیدگی کی آگ میں ج تاریخ احمدیت مشہور ہے اس میں تمام دفعات کے بڑے بڑے لوگوں کو بلایا گیا اور آپ نے واضح کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جانشین خلیفہ ہی ہے اور خلافت کا نظام ہے اور وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ نہیں اس جگہ کا نام دیا ہے ان لوگوں کا اپنا عمل بھی چھ سال تک خلافتل رہے ہیں کہیں ایک طرف کوئی ملک ہے دوسری طرف وہ ملک ہے کچھ بتا دینا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی میری امت میں ایک مسئلہ مسیح امام مہدی آئے گا اور اس کی ایک صفت یہ بتائی تھی دلہن محکمہ ہوگا اور عدل ہوگا نیا سال وہ قرآن مجید کی روشنی میں اس سنت کی روشنی میں مسلمانوں کے جذبات تنازعات اختلافات ہے اس کے بارے میں فیصلہ سمجھانے کے لیے بچوں کو بتاتا ہوں جیسے مثال کے طور پر ہمارے ہی سپریم کورٹ ہوتی ہے وہ ہے دستور اور قانون اور کنسٹیٹیوشن کے مطابق وہ فیصلہ کرتا ہے اور فیصلہ صادر کرتا ہے اسی طرح حضرت مسیح ان کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ حاکم اور عدل ہوگا اور اگر وہ شخص ہوتا ہے جو فیصلہ صادر کرتا ہے اور اس کے بعد کوئی اپیل نہیں ہوتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام تشریف لائے گی اس سے پہلے یہ مصیبت جو اسلام میں یہ فرق ہے کتنا خرچہ خون ہوا خون خرابہ ہوا الزامات لگے اتہامات لگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چورانوے میں ایک کتاب لکھی جو عربی زبان میں ہے اور خلاصہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ کن اپنی رائے دیں آپ نے فرمایا کہ دیکھو خلاصہ پڑھ کر سنا دیتا ہوں حضرت السلام نے دلائل قطعیہ سے ثابت کر دیا کہ حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت عثمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چاروں خلیفہ برحق تھے سب صحابہ سے علی شاہ رکھتے تھے استخلاف کے مستحق تھے حضرت عمر پر سیاستدان کی غفورہ کے جو اعتراض کئے جاتے ہیں حضور نے اس کے متعلق جواب دیے اور شیعوں کی غلطی کو قرآنی آیات سے واضح فرمایا یہ تھا ہمارا دل کا فیصلہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ برحق تھے اور یہ کہنا کہ انہوں نے خلافت کو چھینا یہ غلط ہے یہ درست نہیں ہے نہ حضرت ابوبکر کے بارے میں نہ حضرت عمر کے بارے میں قرآن کی آیات سورہ نور آیت استخلاف کے مطابق یہ دونوں خلیفہ برحق تھے اس کو چاہیے وہ ان مقدس ہستیوں کو مانے تلاشی کا سلسلہ ختم کرے اس کے بعد کیا ہوا چاہیے تھا کہ مسلمان اس فیصلے کو مانتے مگر ماننے کی صورت یہ ہوئی کہ جو لوگ جماعت میں شامل ہوتے چلے گئے ہاں وہ شیعہ تھے یا سنی تھی اہل حدیث وہابی تھے جو کہتے تھے وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے چلے گئے اور ان کی مدد سے وہ بھارت چلے گئے بات دور آیا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ہوئی اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیوی کی شہادت ہوئی اس سارے عرصے میں یہ جو فتنہ پیدا ہوا عبداللہ بن سبا یہودی النسل اور اس کے ساتھ جو منافقین اور کمزور تھے لیکن جو تاریخ لکھنے والے تھے مہم اور مشکوک روایات کی بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ الزام انہوں نے لگائے اور دوسرے تہا حضرت عبداللہ بن عمر وغیرہ ان کے اوپر انسان لگائیں اور صحابہ کو منظم اور متحد کیا مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس موضوع پر 20 فروری 1919 کو اسلامیہ کالج لاہور میں جو کہ اسلام میں اختلافات کا آغاز اس عنوان سے شائع شدہ اور انوار و میں موجود ہے ایک آپ نے اسی طرح کا ایک خطاب فرمایا انیس سو بیس کو واقعات علوی اس میں بھی حضور نے اس کی وضاحت فرمائیں اور اس میں سے ایک اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں حضور فرماتے ہیں خیال کے اسلام میں فطرہ بعض بڑے بڑے صحابہ ہی تھے بالکل غلط ہے حضرت عثمان اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہ ایک فتنے سے یا عیب سے پاک تھے ان کا رویہ نہیں الاخلاق ہمسفر تھا اور ان کا قدم نیکی کے اعلی مقام پر قائم تھا آپ آپ کو حضرت عثمان کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا آخری دم تک وفاداری سے کام لیتے رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا الزام بھی بالکل غلط ہے سر پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ناراض تھے وہ غلط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انصار کے سردار یہ فتنہ کے دور کرنے میں کوشاں رہے اب یہ فیصلہ کن بیان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سر ہلا دیا مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے اختلافات مہدیہ اور واقعات خلاف تعلیمی دیا واضح کر دیا وہی خلیفہ کوئی مخلص صحابی اس فہرست میں ملوث نہیں تھا سب کے سب پاک تھے اور یہ ہو بھی کیسے سکتا تھا قرآن مجید میں جو اصول پہلے بتایا کہ تاریخ کو پرکھنے کے لئے قرآن مجید دیکھنا ہوگا اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے والذین معہ اشداء علی الکفار فروم او بہنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور جو آپ کے ساتھ ہیں مقابلے میں توبہ اور مہ لیکن آپس میں رحمت شفقت اور محبت کا سلوک کرنے والے ہیں یہ ان کی سمت اللہ تعالی نے آخری کتاب قرآن مجید میں دائیں طور پر درد سورہ توبہ میں فرمایا رضی اللہ عنہم و رضو عنہ اللہ ان سے راضی ہوگیا وہ اللہ سے راضی ہوگئے جن صحابہ کے بارے میں اللہ تعالی نے گواہی دے دیں الزام لگانا یہ درست بات نہیں ہے اب ان صحابہ کے خلاف یا خلفائے راشدین کے خلاف اگر آج بھی کوئی بات کرتا ہے ہمارا جواب یہ ہے کہ سب غلط ہے یہ مشکوک روایات پر یہ ساری باتیں قائم کی گئی ہیں یہ منافقین کی عبداللہ بن سبا کی ایک سازش تھی جس کی وجہ سے کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ ایک بات جو بڑی وضاحت سے یہ کہہ رہے ہیں وہ یہ کہ دیکھیں خلافت کا ایک نظام ہے جو اللہ کی طرف سے قائم کیا گیا انسان خلافت سے ہٹ کر اگر کوئی بھی نظام ہے غیبت کرنے کے قابل ہے وہ قابل قبول نہیں ہے وہ روایات ایسی ملتی ہیں جو خلیفہ ویسے کسی خلیفہ کے بارے میں ہے یا اس کے اوپر کوئی الزام ہے اور رد کرنے کے قابل ہے وہ کسی منافق کیا جائے حضرت نے فرمایا کسی خبیث الطبع کے داخل کی ہوئی چیزیں ہیں ورنہ اسلام ان چیزوں سے بھری ہے اسلام کو اور اگر یہ الزامات درست مانتے جائیں تو اس کا پاک رسول پاک صل وسلم کی تلاوت کی ہے نے اپنے صحابہ کی ایسی تربیت کی اس تنبیہ مانتے حضور پاک نے بہترین صحابہ تیار کیے بہترین مخلصین تیار کیے یہ سارے الزامات جھوٹے ہیں جن کو ہم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ہاں روایات غلط ہیں تاریخ غلط ہے جو ڈیڑھ دو سو سال تک پہنچی ہے اس کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاسکتا اس کو ہم بنیاد بنا کے اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ معاملے سارے قرآن کے مطابق اللہ تعالی نے انسان کو رضی اللہ عنہ ورضو عنہ کہا ہے یہ اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے راضی ہیں اس لئے ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے مصور تھے جو سیدہ ام سلمہ ود رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فرمائے اور فیصلہ وہی ہے رضی اللہ عنہ قل ہو اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوا یہی اس کا جواب مرزا غلام علی سے زیادہ پروگرام کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے محترم شیخ مجدد الف ثانی سے میرا سوال یہ ہے کہ خلفائے راشدین کے تعلق سے بھی ہم نے بات کی ہے تو اللہ تعالی نے جماعت احمدیہ میں بھی اپنے وعدے کے عین موافق کا عظیم الشان نام جو ہے وہ عطا فرمائے کے بعد جماعت احمدیہ میں خلافت علی منہاج نبوت کا سلسلہ شروع ہوا ہے جب خلافت کے حوالے سے مختلف طرف سے آخر اور ہم لوگ اس وقت بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اس میں خلافت کے حوالے سے کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں تو اس حوالے سے بھی ہمارے ناظرین کو کچھ نہیں ہوتا ناظرین کرام ابھی یہ سوال بھی اس حوالے سے ہوا تھا کہ استحکام خلافت کے بارے میں حضرت مصلح موعود کے عظیم الشان کارنامے ہیں کارہائے نمایاں ہیں اس کے بارے میں بیان کیا جائے قرآن مجید میں سورہ نور کی آیت 56 میں اللہ تعالی نے جو سچے خلیفہ خلیفہ کی نشانی بیان فرمائی ہے اس میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ یہ ممکن نہ ہو دینا ہوں لذت ہو یا ان کے ذریعہ دین کو تمکنت حاصل ہوتی ہے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ مارچ 1978 کو جب مسند خلافت پر متمکن ہوئے اس وقت کے حالات کیا تھے انتہائی نامساعد حالات تھے جماعت کے اکابرین میں سے ایک بڑا طبقہ اس بات کے اوپر قائم تھا کہ خلافت کی ضرورت ہی نہیں ہے اس کے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جانشین صدر انجمن احمدیہ ہے نظام خلافت کو ہی ختم کرنے کے درپے تھے مسلم عورتیں اللہ تعالی عنہ ان لوگوں کے مقابل پر جو کہ جماعت کے پرس کے اوپر غالب تھے جماعت پر اپنا اثر و رسوخ رکھنے والے بھی تھے اور ایک اس رنگ میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے کہ نعوذباللہ المسلمون نے اس خلافت کی گردی کے ذریعے جماعت کے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے کھانا کھلایا جا رہا تھا کہ ایک کم عمر نوجوان کو خلیفہ منتخب کرلیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا تھا کہ قادیانی ویران ہوجائے گا اور اس وجہ سے ایسے نامساعد حالات میں حضرت مصلح موعود کی جب کہ صحت بھی کمزور تھی اور پھر عمر بھی کم تھی اللہ تعالی کے خاص تائید و نصرت کے ساتھ ہے آپ نے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے خود اس بات کا ذکر فرمایا ہے تقریر میں جو شملہ میں انیس سو تیرہ میں کی کہ آپ نے بتایا کہ مجھے اللہ تعالی نے رویا میں بتا دیا تھا بیان فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ میرے ذمے ایک بہت بڑا کام ہے غلام اتنا بڑا ہے کہ میرے انتہائی مشکلات ہیں اور وہ کام بہت ہی بڑا ہے ایک پہاڑ کے بعد دوسرا بھاگ جا رہا ہے دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے پاس آتا ہے مجھے اس کام کی تکمیل کے لیے بتاتا ہے کہ تم نے اپنی توجہ کو ادھر نہیں کرنا خاص طور پر یہ دعا کرتے جانا کہ خدا کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ خدا کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ لمبی ہے اس نے مسلمانوں نے تفصیل بیان فرمایا کہ کس طرح میں پھر ان پہاڑوں سے گزرتا چلا گیا اور آخر میں کامیاب ہوا اور حقیقتا حضرت مسلم مسند خلافت پر فائز ہوئے تو جو خلافت کو مٹانے کے درپے تھے ویسے ہی معاملات پیش آئے حضرت مسلم محمد سب سے پہلے ان کے توڑ کے لیے کو خلافت کی اہمیت جماعت کو بتانے کے لئے اور ان کو خلافت کے نام کرنے کے لیے رسالہ لکھا اور اس رسالے کا نام یہ تھا کہ کون ہے جو خدا کے کام کرو کس کے اس میں آپ نے خلافت کی تفصیل کے ساتھ وضاحت بیان کی پھر تمام جماعت کے لوگوں کو نظام خلافت کی اہمیت بتانے کے لئے اپنے 12 اپریل 1974 کو قادیان میں ایک احمدیہ کا یہ بتا رہا تھا کہ ہم ہیلو یہ موضوع اسلام کا جانشین حضرت خلیفہ خلافت کو ہی مان رہے تھے صرف اپنے مفادات کے لیے اپنے اقتدار کے لیے انہوں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کیا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے 52 سال کے قریب تقریباً خلافت کا عرصہ ہے اس تمام عرصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ استحکام خلافت کے لئے چوہدری نثار کے بیان فرمائیں یہ کار بیان فرمائے ان کو اتنی تفصیل کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش کیا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا فتنہ ہوتا تھا تو حضور آہنی دیوار کی طرح اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے اور ساری جماعت کو جس طرح مرغی اپنے بچوں کو کسی مصیبت کے وقت میں اپنے پروں کے نیچے محفوظ کر لیتی ہے آپ کے وجود کے ذریعہ ساری جماعت محفوظ ہو جاتے تھے آپ نے جو اہمیت اور استحکام کے طریقے بیان کئے ان میں سے چند ایک واقعات سے پیش کرتا ہوں مثلا آپ نے شروع میں ہیں کس کے زمانے میں خلافت کی اہمیت اور مقام کے حوالے سے ایک مقام پر بیان فرمایا آفت اسلام کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے اور اسلام کبھی ترقی نہیں کرسکتا جب تک خلافت نہ ہو ہمیشہ خلفاء کے ذریعے اسلام نے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کرے گا 14 مارچ کے اپنے خطاب میں جو بھی میں نے ذکر کیا کہ آپ نے لکھا کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اس میں آپ نے واضح کیا کہ خلیفہ انسان نہیں بناتا حضور بیان فرماتے ہیں خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے لال مسجد مولوی نورالدین صاحب آپ نے خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسئلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان سوال بھی بار بار لوگوں کے ذہن میں اٹھتا رہا کہ کیا خلافت کے وجود ہوسکتا ہے اگر خلیفۃ المسیح الثالث کے زمانے میں بھی یہ سوال بہت زوروں سے اٹھا لیکن ایک مجلس عرفان میں اپریل انیس سو سینتالیس کلفٹن میں شائع شدہ ایک شخص نے عرفان میں حضور سے سوال کیا کہ کیا خلیفہ کی موجودگی میں مجدد آسکتا ہے اس پر حضور نے خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے پھر اس کی موجودگی میں مدد کس طرح سکتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود کے زمانے سے ہی خلافت ڈے کیا کیا گیا یعنی آپ نے خاص طور پر انیس سو ستاون میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر انیس سو چھپن میں ہوئے دھماکے کے موقع پر یہ تحریک کی کے آئندہ سے خلافت کے حوالے سے جماعت میں خاص طور پر جلسوں کا انعقاد کیا جائے اور نئی نسلوں کو خلافت کے بارے میں بتایا جائے کہ اس کے کیا فوائد ہیں کیا برکتیں اور کس طرح اس کے ذریعے کراچی 27 مئی کے دن ساری دنیا میں کے حوالے سے جماعت احمدیہ منائی جاتی ہیں پھر ان سب سے بڑھ کے بعد جو حضور نے بیان کی وہ یہ تھا کہ خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے بڑا اور بنیادی نقطہ ہے جو آپ نے بیان کیا اور ان سے بیان فرماتے ہیں خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا حرف شاگرد جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کے بغیر نہیں چھوڑنا مارچ 1946 یہ بنیادی نقاط تھے اور اس نے خلافت کے لئے شروع سے لے کر آپ نے ہر وقت ہر زمانے میں پوری کوشش کی کہ جب بھی خلافت کے بارے میں کوئی سوال اٹھا آپ نے اس کا رد کیا اور جماعت کو ایسے اصولوں پے آپ نے کیا کر دیا کہ آپ جماعت میں خلافت کے ساتھ وابستگی کے ساتھ اور اس سے وابستہ رہ کر اپنی روحانیت کو آگے بڑھا رہی ہے اور آج اللہ کے فضل سے انہیں اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ہم خلافت خامسہ کے بابرکت پانچویں دور سے گزر رہے ہیں کے اختتام پر مولانا محمد کوثر سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ایک دوسرے کو حضرت علی نے خود بڑی محنت سے اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے ایسے جان نثار لوگوں کو بھی تیار فرمایا اور ان کی تربیت کی اور تبلیغ کے حوالے سے ایسی سنہری نسائی آپ نے جماعت کے سامنے پیش کی ہیں جس کے نتیجے میں ہر فرد کو دعائیں اللہ بننے کی تلقین فرمائی ہے تو اس حوالے سے میں آپ سے تفصیل جاننا چاہوں گا ہے کے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے کو اگر ہم دیکھتے ہیں ایسے زبردست فیدایی آپ نے پیدا کی ہے کیا اور کوئی ایسی خدائی پیدا نہیں کرسکتا یا تو اس کی مثال حضور صاحب اور خلفاء کے زمانے میں ملتی ہیں مسلم اور اس کے بعد خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت موسی علیہ السلام اور رضی اللہ تعالی عنہ نے 1934 کا دور تھا جب یہ تحریک جدید شروع ہوئی ہے ہوا کیا کہ یہ اخبار کرتی تھی اس کو پشت پناہی حاصل کی حکومت کی ان کا ایک عزم تھا کہ کسی طرح سے کتابیں ان سے احمدیوں کو پکڑ لیا جائے ان کا ایک بہت بڑا جلسہ بھیج انڈیا اسکول ہے وہاں پر ہوا اور بہت دعوے کئے گئے کہ مینار کو کھا کے دریا میں پھینک دیں گے یہ کردیں گے وہ کرتے اور خطر حالات میں حضور تجدید کا آغاز فرمایا تھا اور حضور نے دو باتیں کرنی تھی ایک تو یہ کہ احمدیوں اپنی زندگی کو سادہ بناؤ اور آپ نے ایک خانہ ایک لباس اور مختلف اس کے مطالبات کیے تھے دوسرا یہ ہے کہ اس کو جو بچت ہو اس کو تحریک جدید کے چند میں دو اور ایسے فدائی تیار کیے اخلاق عالم میں چلے گئے اسپین میں ہے کلیمی ہے اور کئی مقامات پر یہ سارے کے سارے مبلغین کے ایسی حالت میں تھے ان کو تنخواہ تک بھی نہیں دی گئی لیکن ان سب نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی شان پر گئے اور وہاں اور منطق کا فریضہ انجام دیا خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پچھلے جلسے میں یہ اعلان فرمایا کہ 213 ممالک میں احمدیت فوت ہوگیا ہے یہ وطیرہ ممالک تک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ جو زمین کے کناروں تک پہنچایا کی بات تھی جو وہاں پہنچ گئی ہے اور دوسری بات عید کے اعلان کے وقت حضور اعلان فرماتے ہیں فلاں نے فلاں فلاں نے اتنا وہ برکت ہے اس مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ کی برکت پائیں گی اس کا ایک مقصد یہ ہے آپ کے جو لوگ جماعت احمدیہ میں جس سکون سے داخل ہوں گے ہاں وہاں رہوں افریقہ انڈونیشیا کو کوئی بھی ہو اس سے برکت پائیں گے آج جو تحریک جدید کا چندہ وقف جدید کا چندہ لوگ دیتے ہیں وہ اپنی آمدن میں خاص برکت محسوس کرتے ہیں یوں ہی نہیں آجاتی ایک موقع پر حضرت مسلم اور رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اگر میں ابھی یہ خودکشی حرام نہ ہوتی اور میں یہ اعلان کرتا کہ سوات میں اپنے پیٹ میں خنجر مار کے مر جائیں ابھی یہاں میں تمہیں دکھا دیتا ہوں الحاق حضور نے فلائی پیدا کیے جبکہ ہم یہ پروگرام پیش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ الفاظ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں ٹھیک ہے بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور آسماں سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ ایک عالم کو پھیلا بشارت کیا ہے ایک دل کی آزادی پر سبحان اللہ اس عطا فرما جس بات کو کہے کروں گا یہ میں ضرور کرتی نہیں وہ بات خدا یہی تو ہے جو اللہ تعالی نے کہا وہ کر دیا پورا ہوتا چلا جا رہا ہے لوگ اپنی آنکھوں سے اس نشان کی حرکت کو دیکھتے چلے جائیں شان شان یہ موضوع اسلام کا جانشین حضرت خلیفہ خلافت کو ہی مان رہے تھے صرف اپنے مفادات کے لیے اپنے اقتدار کے لیے انہوں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کیا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے 52 سال کے قریب تقریباً خلافت کا عرصہ ہے اس تمام عرصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ استحکام خلافت کے لئے چوہدری نثار کے بیان فرمائیں یہ کار بیان فرمائے ان کو اتنی تفصیل کے ساتھ جماعت کے سامنے پیش کیا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا فتنہ ہوتا تھا تو حضور آہنی دیوار کی طرح اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے اور ساری جماعت کو جس طرح مرغی اپنے بچوں کو کسی مصیبت کے وقت میں اپنے پروں کے نیچے محفوظ کر لیتی ہے آپ کے وجود کے ذریعہ ساری جماعت محفوظ ہو جاتے تھے آپ نے جو اہمیت اور استحکام کے طریقے بیان کئے ان میں سے چند ایک واقعات سے پیش کرتا ہوں مثلا آپ نے شروع میں ہیں کس کے زمانے میں خلافت کی اہمیت اور مقام کے حوالے سے ایک مقام پر بیان فرمایا آفت اسلام کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے اور اسلام کبھی ترقی نہیں کرسکتا جب تک خلافت نہ ہو ہمیشہ خلفاء کے ذریعے اسلام نے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کرے گا 14 مارچ کے اپنے خطاب میں جو بھی میں نے ذکر کیا کہ آپ نے لکھا کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اس میں آپ نے واضح کیا کہ خلیفہ انسان نہیں بناتا حضور بیان فرماتے ہیں خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے لال مسجد مولوی نورالدین صاحب آپ نے خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسئلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان سوال بھی بار بار لوگوں کے ذہن میں اٹھتا رہا کہ کیا خلافت کے وجود ہوسکتا ہے اگر خلیفۃ المسیح الثالث کے زمانے میں بھی یہ سوال بہت زوروں سے اٹھا لیکن ایک مجلس عرفان میں اپریل انیس سو سینتالیس کلفٹن میں شائع شدہ ایک شخص نے عرفان میں حضور سے سوال کیا کہ کیا خلیفہ کی موجودگی میں مجدد آسکتا ہے اس پر حضور نے خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے پھر اس کی موجودگی میں مدد کس طرح سکتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود کے زمانے سے ہی خلافت ڈے کیا کیا گیا یعنی آپ نے خاص طور پر انیس سو ستاون میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر انیس سو چھپن میں ہوئے دھماکے کے موقع پر یہ تحریک کی کے آئندہ سے خلافت کے حوالے سے جماعت میں خاص طور پر جلسوں کا انعقاد کیا جائے اور نئی نسلوں کو خلافت کے بارے میں بتایا جائے کہ اس کے کیا فوائد ہیں کیا برکتیں اور کس طرح اس کے ذریعے کراچی 27 مئی کے دن ساری دنیا میں کے حوالے سے جماعت احمدیہ منائی جاتی ہیں پھر ان سب سے بڑھ کے بعد جو حضور نے بیان کی وہ یہ تھا کہ خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے بڑا اور بنیادی نقطہ ہے جو آپ نے بیان کیا اور ان سے بیان فرماتے ہیں خلیفہ استاد ہے اور جماعت کا حرف شاگرد جو لفظ بھی خلیفہ کے منہ سے نکلے وہ عمل کے بغیر نہیں چھوڑنا مارچ 1946 یہ بنیادی نقاط تھے اور اس نے خلافت کے لئے شروع سے لے کر آپ نے ہر وقت ہر زمانے میں پوری کوشش کی کہ جب بھی خلافت کے بارے میں کوئی سوال اٹھا آپ نے اس کا رد کیا اور جماعت کو ایسے اصولوں پے آپ نے کیا کر دیا کہ آپ جماعت میں خلافت کے ساتھ وابستگی کے ساتھ اور اس سے وابستہ رہ کر اپنی روحانیت کو آگے بڑھا رہی ہے اور آج اللہ کے فضل سے انہیں اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ہم خلافت خامسہ کے بابرکت پانچویں دور سے گزر رہے ہیں کے اختتام پر مولانا محمد کوثر سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ایک دوسرے کو حضرت علی نے خود بڑی محنت سے اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے ایسے جان نثار لوگوں کو بھی تیار فرمایا اور ان کی تربیت کی اور تبلیغ کے حوالے سے ایسی سنہری نسائی آپ نے جماعت کے سامنے پیش کی ہیں جس کے نتیجے میں ہر فرد کو دعائیں اللہ بننے کی تلقین فرمائی ہے تو اس حوالے سے میں آپ سے تفصیل جاننا چاہوں گا ہے کے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے کو اگر ہم دیکھتے ہیں ایسے زبردست فیدایی آپ نے پیدا کی ہے کیا اور کوئی ایسی خدائی پیدا نہیں کرسکتا یا تو اس کی مثال حضور صاحب اور خلفاء کے زمانے میں ملتی ہیں مسلم اور اس کے بعد خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت موسی علیہ السلام اور رضی اللہ تعالی عنہ نے 1934 کا دور تھا جب یہ تحریک جدید شروع ہوئی ہے ہوا کیا کہ یہ اخبار کرتی تھی اس کو پشت پناہی حاصل کی حکومت کی ان کا ایک عزم تھا کہ کسی طرح سے کتابیں ان سے احمدیوں کو پکڑ لیا جائے ان کا ایک بہت بڑا جلسہ بھیج انڈیا اسکول ہے وہاں پر ہوا اور بہت دعوے کئے گئے کہ مینار کو کھا کے دریا میں پھینک دیں گے یہ کردیں گے وہ کرتے اور خطر حالات میں حضور تجدید کا آغاز فرمایا تھا اور حضور نے دو باتیں کرنی تھی ایک تو یہ کہ احمدیوں اپنی زندگی کو سادہ بناؤ اور آپ نے ایک خانہ ایک لباس اور مختلف اس کے مطالبات کیے تھے دوسرا یہ ہے کہ اس کو جو بچت ہو اس کو تحریک جدید کے چند میں دو اور ایسے فدائی تیار کیے اخلاق عالم میں چلے گئے اسپین میں ہے کلیمی ہے اور کئی مقامات پر یہ سارے کے سارے مبلغین کے ایسی حالت میں تھے ان کو تنخواہ تک بھی نہیں دی گئی لیکن ان سب نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی شان پر گئے اور وہاں اور منطق کا فریضہ انجام دیا خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پچھلے جلسے میں یہ اعلان فرمایا کہ 213 ممالک میں احمدیت فوت ہوگیا ہے یہ وطیرہ ممالک تک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ جو زمین کے کناروں تک پہنچایا کی بات تھی جو وہاں پہنچ گئی ہے اور دوسری بات عید کے اعلان کے وقت حضور اعلان فرماتے ہیں فلاں نے فلاں فلاں نے اتنا وہ برکت ہے اس مسلم اور رضی اللہ تعالی عنہ کی برکت پائیں گی اس کا ایک مقصد یہ ہے آپ کے جو لوگ جماعت احمدیہ میں جس سکون سے داخل ہوں گے ہاں وہاں رہوں افریقہ انڈونیشیا کو کوئی بھی ہو اس سے برکت پائیں گے آج جو تحریک جدید کا چندہ وقف جدید کا چندہ لوگ دیتے ہیں وہ اپنی آمدن میں خاص برکت محسوس کرتے ہیں یوں ہی نہیں آجاتی ایک موقع پر حضرت مسلم اور رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اگر میں ابھی یہ خودکشی حرام نہ ہوتی اور میں یہ اعلان کرتا کہ سوات میں اپنے پیٹ میں خنجر مار کے مر جائیں ابھی یہاں میں تمہیں دکھا دیتا ہوں الحاق حضور نے فلائی پیدا کیے جبکہ ہم یہ پروگرام پیش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ الفاظ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں ٹھیک ہے بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور آسماں سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ ایک عالم کو پھیلا بشارت کیا ہے ایک دل کی آزادی پر سبحان اللہ اس عطا فرما جس بات کو کہے کروں گا یہ میں ضرور کرتی نہیں وہ بات خدا یہی تو ہے جو اللہ تعالی نے کہا وہ کر دیا پورا ہوتا چلا جا رہا ہے لوگ اپنی آنکھوں سے اس نشان کی حرکت کو دیکھتے چلے جائیں شان شان وہ ہمارا دکھاتے چلے جائیں گے اور آخر پر ہم صرف ایک ہی بات کہیں گے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کے الفاظ میں وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے ہماری دعا ہے ہزار ہزار رحمت زخم سینے کے ساتھ آج کا ایپیسوڈ ختم ہو جاتا ہے آخر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرتا ہوں میں نے پہلے بھی مسلم عورت کی اہمیت کے تعلق سے بیان فرمایا ہے حضور فرماتے ہیں اس جگہ فضلیت الاحسان یہی و برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیل گئی بظاہر یہ نشان کیا کے برابر معلوم ہوتا ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ یہ نشان مردوں کو زندہ کرنے سے سجدہ درجہ بہتر ہے خدا کی بھی روہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی مہنگائی گی مگر ان روحوں اور اس میں لاکھوں کوششوں کا فرق ہے تو جیسا کہ میں نے شروع میں بھی بتائیں رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت اور آپ کے کارہائے نمایاں عظیم الشان ہے اور بہت ہی وسعت کے حامل ہیں جس کو ہم اس محدود سیریز میں ہم اس کا احاطہ نہیں کر سکتے تھے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت اور آپ کے کارہائے نمایاں کے حوالے سے دو چار ایپیسوڈ پر مشتمل سیریز میں آپ کی خدمت میں پیش کی ہے اس کا اختتام پذیر ہوتا ہے ہمارے روزمرہ کے اگلے افسوس دنیا کے دیگر نام اس کی جائیں گے ایک مہینے کے بعد پھر 4episode پر مشتمل سیریز لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی امید کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتا ہوں نور خدا آباد لہنگے تار تسلی بتایا ہمیں لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ بعد لہٰذا تمہیں طارق تسلی بدعیات لاہور تمہیں تار تسلی کا بتایا ہے

 41 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: