Rahe Huda – Maseehe Maood PUBH K Christianity K Radd Men Dalail




Rahe Huda – Maseehe Maood PUBH K Christianity K Radd Men Dalail

Rahe Huda 29th June 2019 – Maseehe Maood PUBH K Christianity K Radd Men Dalail

مسلمانوں کا دیس دل سے ہے خود ہی میں ختم لیں اللہ الرحمن الرحیم اسلام علیکم 2019 ہفتے کا دن ہے انڈیا میں اس وقت رات کے ساڑھے نو بجے ہیں اور جن کے مطابق اس وقت چار بجے ہے اور ناظرین یہ وقت پروگرام کا ہوتا تھا قادیان دارالامان پروگرام رہا تھا کی سیریز کے چوتھے ایپیسوڈ کے ساتھ اس وقت ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ہم جانتے ہیں کہ پروگرام راہ خدا میں ہم جماعت احمدیہ کے عقائد کے تعلق سے بات کرتے ہیں اور یہ ایک لائیو پروگرام ہے اور الٹی ہوگئی ہے ہم یہ پروگرام انٹرویو محض اپنے ناظرین اور مجاہدین کے لئے کرتے ہیں تاکہ ہمارے مجاہدین بھی ہمارے ساتھ اس پروگرام میں شریک گفتگو ہو سکیں اور جو باتیں پیش کر رہے ہیں ان کو سنتے ہوئے ان کے ذہن میں جو سوالات اٹھتے ہیں علمائے کرام کے بارے میں پیش کر کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں اس پروگرام کو نشر کرتے ہیں ہیں ٹیلی فون کے ذریعے سے آپ سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اپنے سوالات ہم تک پہنچا سکتے ہیں اس کے علاوہ ٹیکس میسج سپیس اور اس کی سہولت موجود ہے جن کے ذریعے آپ اپنی بات کو ہمارے صدیوں تک پہنچا سکتے ہیں آپ ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور اپنے سوالات کے پینل میں پیش کر کے جوابات تو ہم سے رابطے کی تفصیلات اس وقت میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے دل پر ملاحظہ فرما رہے ہوں گے قادیان دارالامان سے جو ہمراہ اللہ کی سیرت پیش کرتے ہیں یہ مجموعی طور پر چار ایپیسوڈ پر مشتمل سیریز ہوتی ہے اور ہماری اس سیریز کا اختتامی ہے مکمل سیریز میں جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ مرزا غلام احمد کی تصنیف لطیف ایام صلح کے تعلق سے بات کر رہے ہیں جس میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے تقدیر الہی تدبیر اور دعا کی اہمیت کے تعلق سے بیان کرتے ہوئے پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے دعوی کے تعلق سے بھی تفصیلی گفتگو اس کتاب میں فرمائی ہے اس کی صداقت کی نشانی کے طور پر تعاون کا بھی ذکر کیا ہے نیز حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات اور پھر آپ علیہ السلام کی تائید میں ظاہر ہونے والے نشانات کا بھی آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کتاب میں تفصیلی ذکر فرمایا ہے جس کا کہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے سنتے آرہے ہیں آج بھی ہماری مسلح کے تعلق سے اپنی بات کو جاری رکھیں رکھیں گے اور اپنی گفتگو کو آگے اختتام کی طرف بڑھیں گے آج کے اس اہم موضوع پر گفتگو کے لیے علماء کرام اس وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں ان کا تعارف کروا دیتا ہوں مگر محترم مولانا محمد زکریا صاحب شاہد ہیں اور ان کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں مکرم و محترم مولانا شیخ مجاھد نشاد شاھ سری 2018 پروگرام کے دوران پہلے سے میں آپ دونوں حضرات کا پروگرام میں پرفارم کرتا ہوں نعمانیہ سلسلہ عالیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کا اللہ تعالی کے اذن سے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کرنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور اللہ تعالی نے ان کی صفات سے متصف ہو کر دنیا میں مبعوث کیا ہے یہ دعوی تاریخ مذاہب عالم میں ایک غیر معمولی انقلاب برپا کرنے والا دعوی تھا حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کے ساتھ یہودیت عیسائیت اور اسلام کا تعلق ہے یہودیت سے اسلام کی نبوت سے انکار کرتے ہیں عیسائیت حضرت مسیح علیہ کو علویت کے درجے پر پہنچا دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ کفارے کی شکل میں آپ علیہ السلام کو صلیب پر موت دی گئی ہے اور آپ کو اپنے سر پر اٹھا لیا اور اس کے نتیجے میں بنی نوع انسان کو نجات کا راستہ ہے وہ کھول دیا گیا ہے مکیش وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کے تعلق سے مسیحیوں سے مشترکہ عقیدہ رکھتے ہیں اور ان کو آسمان پر زندہ خیال کرتے ہیں اور آخری زمانے میں دوبارہ ان کے آسمان سے نزول کا منتظر ہیں اور بجتی ہیں العنصری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ خیال کرتے ہیں یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی اسی زمانے میں مبعوث کیا گیا تھا ہر طرف سے عیسائیت بڑی شدت کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تھے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی مقام عطا کو نعوذباللہ نیچا دکھانے کی کوشش کرتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے تھے اور چونکہ مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جیسے ڈھلان پر موجود ہیں اور آخری زمانے میں امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے انہوں نے ہی آسمان سے ہونا ہے تو چنانچہ اس عقیدے کے نتیجے میں مسلمان بے بس تھے عیسائیوں کے سامنے اور ان کو مجبوراً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقام کو اور جس طرح حضرت مسیحی ان کے کام کو پیش کرتے ہیں اس کو ماننا پڑتا تھا ایسے زمانے میں اللہ تعالی نے بانی سلسلہ احمدیہ کو مبعوث فرمایا اور اللہ تعالی نے اپنی جناب سے پہلے صلاۃ و سلام کو الہام نے فرمایا کہ حضرت مسیح جن کو بنی اسرائیل کی طرف لانا کیا تھا وہ فوت ہوچکے ہیں اور دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا ہے چنانچہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر اس بات کا انکشاف ہوا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی سے متزلزل نہ دعائیں کیں اور مطالعہ شروع کیا مختلف تاریخی کتب کا بھی اسی طرح بائبل کا بھی اور جو دیگر کتبِ مقدسہ میں ان کا بھی مطالعہ کیا تاریخ کی کتب کا اور ایسے شواہد آپ نے جمع کیا کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا اور آیات حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے حوالے سے پیش کی اور زمانے میں حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی پر ایک فتح نصیب خیال کیا جاتا تھا کہ آپ علیہ السلام نے اس آیت کا کیا ہے دلائل کے ساتھ کہ آپ نے ان کے جو عقائد ہیں الوہیت کے تعلق سے اور کفارہ کے تعلق سے ان کو پاش پاش کر کے علیہ السلام نے اپنے آپ کو اللہ کے اذن سے اپنے آپ کے تعلق سے یہ دعویٰ فرمایا کہ آپ ہیں وہ مسیحی جس کی آمد کے تعلق سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی ہے ہیں تو خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امام مہدی کی آمد کا زمانہ نزول اس پر جو اللہ تعالی کی طرف سے مشن کیے گئے ہیں اور اس کی صداقت کی جو مختلف نشانات ہیں فرمائی ہے گویا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام کے حق میں آپ علیہ السلام کے زمانے میں بڑی وضاحت کے ساتھ پوری ہوئی ہے کتاب الامثلہ میں بیان فرمائی ہیں جن کے تعلق سے آج کے دور میں ہم گفتگو کرنے والے ہیں ایک مرتبہ پھر میں اپنے ناظرین کو یاد دلانا چاہوں گا کہ اگر اگر مسلوں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد اور آپ کی صداقت کے نشانات اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے تعلق سے آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو ہمارے خلاف لائن آپ کے لیے اس وقت کہاں پر ہیں آپ اپنے سوالات پیش کرکے ان کے جوابات حاصل کر سکتے ہیں ہم سے رابطے کی تفصیل آپ اس وقت پر ملاحظہ فرما رہے ہیں عید کے بعد آج کے بارے میں گفتگو کا آغاز مولانا محمد رفیع الدین صاحب شاہ سے کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ اس بات کا بھی ذکر ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام علی نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہاں سے ان کو اللہ تعالی نے نجات بخشا اور اس کے بعد بھی انہوں نے اپنے مشن کو جاری رکھا اور اپنی تعلیمات کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اس دنیا میں پھیلاتے رہے تو اس حوالے سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ایام صلح میں جو دلائل پیش کئے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام علیکم فوت نہیں ہوئے ہیں اس بارے میں آپ سے تفصیل جاننا چاہوں گاالوہیت کا درجہ رکھتے ہیں نعوذباللہ میں والے اور دوسرے یہ کہ ایک صلیب پر انہوں نے اپنی جان دیں اور اس کے نتیجے میں ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ہے کہ اپنی نجات کے لئے ایک آسان راستہ انہوں نے یہ سوچا کہ سلیب پر ان کی وفات ہو جائے تو ہمارے گناہوں کی بخشش ہوجائے گی جبکہ یہ بات درست نہیں ہے یا محمد علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی کتاب ایام الصلح میں یہ علی علیہ السلام کے صلیب پر وفات نہ پانے کی جو بیان کی ہیں اس سے پہلی دلیل آپ نے یہ بیان کی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو پیشکش کی گئی تھی کہ آپ اگر خدا کی طرف سے مامور مرسل ہیں یا نبی ہیں تو ہمیں کوئی نشان دکھائی دیتی میں خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کو جواب دیا کہ اس زمانے کے حرام کاموں سے نشان طلب کرتے ہیں ان کو یونان نبی کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہیں دیا جائے گا  حضرت یونس علیہ السلام جو تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہے بعد میں واپس باہر آئے تو دکھانے کا حضرت مسیح علیہ السلام نے ذکر کیا تو اب اس میں آج سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو ایسی صورت میں ضرور تھا کہ وہ صلیب سے زندہ اتارے جاتے زندہ رکھے جاتے ہیں اور باہر سے ایک دلیل ہے کہ مسیح علیہ السلام نے یونس میں بھی کا جو نشان دکھانا چاہتا وہ نہیں اسی رنگ میں پورا ہوا کہ یورپ سلام اگر کہو کہ مچھلی کے پیٹ میں مردہ تھے اور مردہ ہونے کے بعد زندہ ہوئے پھر تو مشابہت رکھتی ہے یہ سایوں کی لیکن وہاں پر بالکل معاملہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں یونس علیہ السلام زندہ ہیں اور باہر آئے طرح سے حضرت موسی علیہ السلام بھی زندہ ہونے کی حالت پر صلیب سے اتارے گئے زندہ ہیں خبر نما کمرے میں ان کو رکھا گیا اور اس بات کی دلیل آتے ہی ہوتی ہے دوسری آپ نے یہ پیش کی ہے جو زمانے میں بطور جج کے کام کر رہے تھے ان کو ان کی بیوی نے یہ خواب بتائیں کہ مجھے رات ایک فرشتے نے یہ خبر دی ہے کہ اگر یہ شخص تمہارے ہاتھوں مارا گیا تو تم پر بڑی تباہی ہے ہے تو ایسی صورت میں ضرور تھا کہ اگر مسیح صلیب پر مر جاتے تو لازمی بات تھی کہ فرشتے نے جو ان کو کہا تھا کہ تم پر تو آئے گی اور اس کی بیوی پر کوئی اور یہ دلیل ہے اس بات کی جو ہے شاہ روم کے پاس تمہاری شکایت کریں گے اور برطرف کروا دیں گے ان تمام باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے عدالت میں اس شخص نے اپنی بیوی کو خواب بیوی کے خواب کو مدنظر رکھتے ہوئے اور یہودیوں کی اس سازش کو کہ اگر تم نے اس کو زندہ چھوڑ دیا یا اصلی پتھر نہیں مارا تو ہم روم کے بادشاہ سے تمہاری شکایت کر کے تمہیں وہی بہتر کرے گا یا تنزل کا شکار بنا دیں گے ان دونوں باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس نے عدالت میں فیصلہ سنانے سے پہلے انجیل میں ذکر آتا ہے کہ پیالا پانی کا بو آیا اس نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اس نے کہا کہ میں اس انسان کے خون سے اپنے ہاتھ ہوتا ہوں لیکن پھر مر گیا تو میرا اس میں کوئی اس بات کی دلیل ہے کہ پلاطوس اور اس کی بیوی پر کسی تباہی کرنا اور فرشتے کا ان کو یہ کہنا ہے کہ اگر تم نے مار دیا اس پر نہیں آئے گی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی تباہی نہیں ہوئی لہذا وہ خلیفہ نہیں مانتے کیونکہ خود حدیث کے حوالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ یہ بھی کہ حضرت موسی علیہ السلام نے جو اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے تھے رات بھر رو رو کر دعائیں کرتے رہے تھا انہوں نے او رنگیلے کی دعا کرواور اس وقت موسی علیہ السلام خود بھی رو رو کر دعائیں کر رہے تھے کہ اہل ہو سکے تو یہ پہلا مصرع ہوتے تو ایسے مقبول الہی کی دعا کا قبول نہ ھونا یہ باہر سے اس بات ہے جو اللہ کا اتنا مقبول بندہ ہوں وہ رو رو کر اس پر دعا کریں اور اس کی دعا قبول نہ کریں یہ ہو نہیں سکتا یقینی بات ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی دعاؤں کو سنا اور ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ وہ صلیب سے زندہ بچ گئے تھے اور سلیپر ان کی وفات نہیں ہوئی تھی چوتھی دلیل یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے صلیب پر چڑھنے کے بعد جب ان کو کئی لوگ اٹھ گئے تو وہاں پر بھی انہوں نے اکیلی لڑکی پاکستانی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا تو اب رو رو کے دعائیں کرنا وہ مقبول نہ ہو یہ بھی ایک قرینہ اور پھر یہ کہ صلیب پر چڑھایا گیا ہے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا تو یہ ایسی بے بسی کی حالت میں اللہ تعالی سے دعا قبول نہ ہوئی ہو نہیں سکتا تو لہذا اللہ تعالی نے اس کو سنا اور سلیبس سے ان کو زندہ ہوتا گیا اسی طرح سے پانچویں دلیل یہ سلسلے میں حضور نے بیان کیں جب مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا تو وہ جمعے کا دن تھا اور فیصلہ بھی اس وقت تو سنایا گیا جبکہ آخری کھڑی ہو رہی تھی تین بجے کے قریب جو ہے لگتا تھا اور بیان کیا جاتا ہے کہ جیل کے حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہاں سست ادھیاۓ بڑا اندھیرا چھا گیا لوگ ڈر گئے اور انہوں نے جلد سے جلد ہو چلی پر لٹکے ہوئے تھے ان کو صلیب سے اتار لیا گیا تو امریکا اور روس کے بعد گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ سے زیادہ مسیح علیہ السلام پر نہیں رہے تو یہ بات کی دلیل ہے کہ بعض لوگ تو تین دن تک صلیب پر لٹک رہے تھے لیکن پھر بھی ان کی وفات نہیں ہوتی تھی گھنٹے میں کے اندر مسیح علیہ السلام فوت ہو جائیں یہ ناممکن سی بات ہے تو یہ اس بات کا قرینہ ہے اور یہ سب کا دن تھا یعنی ہفتے کا دن جو یہودیوں کے نزدیک جو ہے بہت مقدس سمجھا جاتا ہے کسی کو صلیب پر لٹکایا ہوا نہیں رہنے دیتے تھے اور بہت ساری باتیں ہیں تو اس میں اس سے سلیپر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رہنے میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا ہونا ناممکن ہے تو یہ اس بات کا قرینہ ہے اسی طرح سے چھٹی دلیل آپ علیہ السلام کو صلیب سے اتارا گیا تو ان کے پہلو میں ہلکا سا چھا گیا تو اسے بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے چھ سے بہتا ہوا خون نکلا اگر کوئی شخص مر گیا ہو تو اس سے بہتا ہوا خون نہیں نکلتا تو جسم میں موجود ہو جایا کرتا ہے لیکن خون کا بیٹا ہوا خون کا نہ نکلنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسیح نے صلیب پر نہیں تھے بلکہ زندہ ہیں ا تا ے گئے تھے اور زندہ ہیں ان کو کمرے میں رکھا گیا تھا آپ نے یہ دی کہ آپ کیسی ہیں جو ہے وہ ہڈی نہیں توڑی گئی تھی دستور یہ تھا کہ جن کو صلیب پر لٹکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا تو ان کو باقاعدہ ہاتھوں کی لکیروں کی تمام ہڈیاں تھوڑی جاتی تھی تاکہ زندگی حضرت مسیح علیہ السلام کی نعتوں ہڈیاں توڑ دے گی ہاتھوں کی لکیروں کی بلکہ ان کو اسی طرح سالم رکھا گیا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور اس کے ساتھیوں کا نہ توڑنا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ مسیح علیہ السلام نہیں ہوئے تھے بلکہ زندہ اٹھائے گئے تھے اسی طرح آپ نے آٹھویں دلیل یہ دیاور اس کے بعد نویں دلیل آپ نے یہ بیان کی کہ عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر یہ نسخہ پندرہ میں ایسا ہے ہے صدیوں سے یہ نسخہ چلا رہا ہے ہے اور نہ ہی اس بات کو بیان کیا کہ مذہبی کتابوں میں یہ عقائد کی جو کتابیں ہوتی ہیں اس میں بسا ہوا تھا وہ تبدیلی نہیں کر لیتے ہیں لیکن جوحقیقت سے متعلق کتابیں ہوتی ہیں جو تحقیقی کتابیں ہوتی ہیں ایسی کتابوں میں تحریف عام طور پر نہیں ہوا کرتیں تو آپ نے بیان کیا ہے کہ کیونکہ ہر گز خیال نہیں ہوتا ہے وہی الفاظ کیونکہ ہر گز خیال نہیں ہو سکتا کہ مسلمان طبیب اور عیسائی ڈاکٹروں اور وہ بھی مجید میں موسی اور یہودی طبیبا نہیں باہر کے بنیاد یہ بے بنیاد بنا لیا ہو بلکہ یہ نسخہ دعوت کی صدا کتاب میں لکھا ہوا اب تک موجود ہے ایک ادنیٰ سا آدمی بھی میں لکھا ہوا آئے گا تو صدیوں سے نوازتا چلا رہا ہے میں ایسا عام طور پر زخموں کے علاج کے لیے جلدی امراض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ہے تو وہ فرماتے ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ مذہبی رنگ کی تحریروں میں کئی قسم کی کمی یا زیادتی ممکن ہے کیونکہ اس بات کی ہے کہ جو کتابیں میں رنگ میں لکھی گئی قدرتی طریقے سے کام لیا جاتا ہے کے دریافت کرنے کے لیے نہایت اعلی درجے کا ذریعہ ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ خیالات حضرت عیسی آسمان پر چلے گئے تھے چلے گئے چلے گئے تھے کیسے اور کس طرح کے ہیں اور خود انہیں اس کے جسم کو آسمان پر اٹھانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی اس کا مددگار کا فائدہ کام نہیں کیا کرتا دیکھیں سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب مشکلات کی گھڑی آئی ہے تو آپ کو اللہ تعالی نے مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر جو ہے سو رہے اس میں پناہ دی ہے ہے لیکن اللہ تعالی نے ان کی نظروں سے آپ کو محفوظ رکھا تو یہ اللہ تعالی کی حکمت ہوتی ہے کہ زمین پر رکھتے ہیں اللہ تعالی جو ہر طرح کی حفاظت کے سامان کیا کرتا ہے اب اس کا بیٹا کام نہیں کیا کرتا آسمان پر اٹھا کر لے جانے کے لیے یہ ہے کہ وہ اختلاف ہو یقینا بل رفعہ کے غلط معنی کیا کرتے تھے کہ ان کی روح کا عرفاں نہیں ہوا یہ عام طور پر یہ طے کرنے کے بعد روح کا نہیں ہوتا ہے تو یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالی نے بھی اس بات کو کھول کر بیان کر دیا کہ صلیب پر بھی ہم قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم  کی حالت جتنی ہوگئی تھی جب میں کے مقتول مصلوب ہوا کے باہر آتے تھے تو یہ تمام نو دلیل یہ بیان کی ہے کہ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب پر بیشک لگایا گیا تھا لیکن ان کو پھیلا دو اس نے جلدی سے جلدی سے اتارنے کے سامان کیے پھر یہ کہ ان کو خواب میں ان کی بیوی کو بتایا گیا تھا کہ اگر یہ شخص صلیب پر مر گیا تو بڑی تباہی آئے گی آئے اور کہا کہ میں اس سے آندھی اور طوفان کہاں نہ اور آگے سب کی رات کا شروع ہو جانا یہ ایسے کر آئے تھے کہ ان کو جلدی سے جلدی سے ہی پر اتارا گیا اور جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ان سے زیادہ سلیپر وہ نہیں رہے اس عرصے میں عام طور پر انسان نہیں مرتااور اسے ایمان ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کے صلیب پر مر کفارہ ہونے کا عقیدہ بالکل باطل ہے اس کو اور کوئی دلیل سوری نہیں اور انہوں نے پھر یہ ایک فیصلہ کرلیا کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو گیا یہ انتہائی غلط بات ہے کرام کے بیانات قرآن مجید کے بیانات اور اسی طرح سے طب کی کتابوں سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات صلیب پر ہرگز نہیں ہوئی بلکہ عام کبھی وفا تو نے پائی ہے دلیل سے ہوتے ہوئے پھر وہ آگے افغانستان سے کے راستے کشمیر میں چلے گئے وہاں پر بچوں کے جو بارہ قبائل کرکے چلے گئے تھے تو دس قبائل کے بارہ قبائل میں سے دس قبائل کشمیر وافغانستان میں جا کر آباد ہو گئے تھے بخت نصر بادشاہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے وہاں پر جا کے انہوں نے اپنی قوم کو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ میں اور بھی بیٹھے ہیں مجھے لانا ضروری ہے وہاں پہنچے اور تبلیغ کی اگر کوئی مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب مسیح ہندوستان میں اس بات کے دیے گئے کہ کیسے آپ سنائیں کیسے ہیں آپ کے ضلع میں یہ سہولت موجود ہے اور مختلف زبانوں میں دستیاب ہے اگر آپ علیہ السلام کو صلیب سے نجات کے تعلق سے مختلف تاریخی حقائق کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو کتاب میں ہندوستان کی طرف رجوع کریں بات کریں گے عبدالحکیم صاحب اس وقت ہمارے ساتھ رابطے میں جڑے ہوئے ہیں ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسلام علیکم ورحمۃ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ قریشی عبدالحکیم صاحب سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے اس عرصے میں ہم بات کرتے ہیں ان سے بنگلہ دیش سے اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں ان صاحب ہمارے جوسائلین ٹیلی فون کالز ان سے بات کرنے کی کوشش کریں گے اس وقت تھا پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم شیخ مجاہد حسن بصری سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کتاب آیا مسلم کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے کی تردید میں بھی حضرت علی علیہ السلام نے مختلف تلاوت اور حقائق و معارف کی باتیں بیان فرمائی ہیں تو میں آپ سے آپ سے پوچھنا چاہوں گا ایک بات بتانا چاہتا ہوں بات یہ ہے کہ مذاہب کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے ہے کہ جب بھی میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ان کے عقائد میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور ایسے عقیدے ان کی طرف منسوب ہو جاتے ہیں جو دراصل ان کے عقیدہ ہی نہیں ہوتے ہیں تب خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمان جوش میں آتی ہے اور اللہ تعالی اپنے کسی مصلحت اور معمول کو بیچتے ہیں یہ خدا تعالی کی قدیم سے سنت ہے اور جب وہ اپنے اور معمول کو بھیجتا ہے تو جسے وہ بھیجتا ہے وہ خدا اور نصرت کے ساتھ  کتاب کتاب کے ساتھ الہام کے ساتھ دلائل پیش کرتا ہے اور اللہ تعالی جس کو بھی معمول کے ایسے بھیجتا ہے اس کے ساتھ جو دلیل دیتا ہے وہ دلیل خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس کی سچائی کا نشان ہوتے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس طرح بیان فرمایا ہے سورہ المجادلہ کے اندر اللہ نے اس چیز کو لازم کر دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گےبلکہ وہ خاص خدا تعالی کی تائید و نصرت کے ساتھ دلائل دیے گئے تھے اور جو دلیل بھی وہ اپنے بیان کی ہے وہ آپ نے 80 سے زائد کو تم نے بیان فرمایا ہے میں نے کہا کہ اس مسئلے پر مامور کہنے کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ مذاہب کے اندر بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے کے مطابق اللہ تعالی نے ماموریت کے مقام پر فائز فرمایا مسیح موعود اور مہدی معہود بنایا تو اس وقت مسلمانوں میں اور عیسائیوں میں بگاڑ پیدا ہو چکا تھا خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں میں یہ بیکار پیدا ہو چکا تھا کہ انہوں نے اسلام کی بنیاد توحید اس کے اندر شرک کو داخل کر دیا تھا وہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان میں موجود ہیں خدا تعالی کی صفت ہای ان کے اندر انہوں نے عیسی علیہ السلام کو بھی شامل کر دیا اسی طرح یہ بھی ان کی طرف منسوب کیا جانے لگا کہ حضرت عیسی علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام نے بعض پرندے بھی پیدا کیے ہوئے یعنی خدا تعالیٰ کی صفت خالقیت کے اندر بھی شامل کر دیا اور اس کی صفت ہای یوم کے اندر بھی شامل کر دیا عیسائیوں کا یہ حال تھا کہ تورات کے اندر توحید کی تعلیم دی گئی تھی لیکن انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بنا دیا اور سالی کی چدائی کے ساتھ شریک کر دیا پھر آپ نے اس غلط دعوے کی تائید کے لئے کہ جو انہوں نے عقائد بنا لیے تھے گھر لے لیے تھے انہوں نے فرضی کہانیاں بھی بنائیں جن نہ ہی تاریخی طور پر کوئی ثبوت ملتا ہے نہ ہی عقلی طور پر نہ ہی سائنسی طور پر ان کہانیوں میں کوئی ثبوت ملتا مسلمانوں نے تو یہ کہانی گھر لیکن جب حضرت عیسی علیہ السلام کو یہود صلیب پر چڑھانے لگے تو خدا تعالی نے نعوذ باللہ کسی بے گناہ انسان کو جو ان کے مشابہ تھا ان کے بدلے میں ان کو چڑھا دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں کے شر سے بچا کے زندہ آسمان پر اٹھا لیا کیا اور اب تک وہ دو ہزار سال سے آسمان پر زندہ موجود ہیں وہیں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اب بھی مسلمانوں میں سب صحیح ہے یقین کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ دمشق میں نازل ہونگے سفید مینار پہ ظاہری طور پر دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آئیں گے اور زرد چادریں ان کی ہونگے عیسائیوں نے اپنے اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے جو انہوں نے گھڑ لیا تھا یہ کہانی علیہ السلام تین صلیب پر لٹک رہے اس کے بعد اللہ تعالی نے ان کو جسم سمیت آسمان پر اٹھالیا اور آخری زمانہ میں وہ کلیسا پہ نازل ہوں گے اور وہ صلیب پر اسی لیے انہوں نے جان دی کہ انہوں نے بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا اور اب اگر کسی کو نہیں چاہئے تو وہ جب تک اس صلیبی عقیدے پر خونی مسیح کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتا اس وقت تو اس کو نجات نہیں مل سکتی کتی اسی طرح یہودی کہنے لگے کہ چونکہ وہ صلیب پر مارے گئے تھے اور بائبل کے مطابق تورات کے مطابق جو شخص لیپ لٹکائے کا ٹوٹکا جاؤ لعنتی ہوتا ہے لہذا ہم ان کو مانتے ہیں تو یہ وہ وقت تھا جب اللہ تعالی نے بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود کے کام آنے پر فائز فرمایا اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہام نے بیان فرمایا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ ہو چکا یہ پہلی بات تھی اس جملہ کے رنگ میں ہو کر وعدے کے معاف تو آیا ہے یہ دوسری بات ہے وکان وعد اللہ مفعولا مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عظیم الشان کتاب علاوہ ا0نمبر 402 جو روحانی خزائن جلد 3 کا احساس کے اندر یہ بات بیان فرمائی کہ مجھے پتہ نہیں یہ عمل کے ذریعے بیان کیا جب یہ بات آپ کو علامات بیان کی گئی اس کو الہام کو بنیاد بناتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید سود احادیث اور بائبل سے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو ثابت کیا اور نہ صرف ایک دو آیات سے بلکہ متعدد آیات پیش کی ہیں یا مصرع کے اندر بھی انہوں نے بیان کی ہیں ترتیب کے ساتھ اور آپ نے بیان کیا کہ ایک دو نہیں بلکہ تیس آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں آپ نے وفات مسیح کے اصل حقیقت قرآن مجید انجیل سے یہ بیان کریں کہ جب یہود عیسی علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کے لیے گئے تو ان کی تو اس غلطی کہ ہم ان کو صلیب پر لٹکا کے مٹکا ہے اور سچے نبی نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے سچے نبی تھے آپ نے خدا تعالٰی کے حضور میں دعائیں کیں اور مشہور دعا ہے جو متی کی انجیل باب 27 میں درج ہے کہ آپ نے دعا کیاس نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ میں مسلمان سے بری ہوں جس دن آپ کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا وہ اللہ تعالی نے احسان کیا کہ جمعے کا دن تھا اور بمشکل ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ صلیب پر ہے پھر یہ ہوا کہ جب ان کو صلیب پر موجود تھے ان کو بھجوایا گیا تو اس میں سے خون رس رہا جو اس بات کی علامت تھی کہ آپ زندہ تھے اس کے بعد آپ واپس آئے گلیل کی طرف گئے آپ نے اپنے حواریوں سے ملے ان کو اپنے زخم کھائے اور پھر تاریخ اور اندر سے ثابت ہے کہ ان زخموں کے علاج کے لئے خاص ایک مرہم بنائی گئی جس کو عمرہ میں اسی کے نام سے موسوم کیا گیا اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ذکر ہوا تفسیر کے ساتھ بتایا کہ آپ کیسے وہاں سے ہجرت کرتے ہوئے ہندوستان کا علاقہ کشمیر ہے اس کے مولا ھیں اور میں اپنے سکونت اختیار کی اور ایک سو بیس سال کی عمر پا کر کبھی طور پر وفات پائی آپ نے اپنی اس کتاب میں اس امر کو بھی بیان کیا کہ اس دور میں جو یہ دلیل اللہ تعالی نے آپ کو دیے تھے اس دور میں جو لوگ سیاست کر رہے تھے اس کے قریب ایک شخص جو سویا تھا اس ہے وہ لاہور آتا ہے اور وہ تین چار سال بعد وہ کشمیر کے علاقے میں گھومتا ہے ہوئے طور پر ہوئی ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تفصیلی طور پر ایام صلح کے اندر وفات مسیح کے عقیدہ کو پیش کیا اور بتایا کہ آپ کا خیال جو ہے کہ جسم کے ساتھ آئیں گے وہ غلط ہے بلکہ اب جس شخص نے آنا ہے وہ انہی کی صفات میں آئے گا اور اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کہا کہ امام قومی وطن میں سے تمہارا امام ہوگا باہر سے کوئی نہیں آئے گا اور الحمدللہ کے بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام محمد قادیانی الصلاۃوسلام وہ امام ہے ہے جن کو اللہ تعالی نے بھیجا آپ علیہ السلام نے اس عقیدے کی تردید کرتے ہوئے ایک جگہ نہایت تجلی کے ساتھ اور شوکت انداز میں پیش گوئی بیان فرمائی ہے آپ بیان کرتے ہیں وہ لازمی پڑھ دیتا ہوں آپ بیان فرماتے ہیں مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض خیال ہے ہمارے سب مخالف جواب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر ان کی اولاد جو باقی رہے گی وہ بھی ملے گی اور ان میں سے کوئی آدمی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد ملے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبے کا بھی گزر گیا اور دنیا دوسرے رنگ میں آ گئی مگر مریم کا بیٹا حساب تک عثمان میں نہیں اترا تب دانشمند ایک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہوجائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ ایسا کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان یا عیسائی سخت نوعیت اور بدظن ہوکر جھوٹ عقیدہ کو چھوڑ دیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک پیشوا دہ شائستہ روحانی خزائن جلد 20 پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جو پیشگوئی بیان فرمائی تھی اس پر ایک صدی سے زائد کر ہوا ہے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ جو بھی جماعت احمدیہ کے مخالفین جماعت سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے یہی بات کرتے ہیں وفات مسیح کے اس بندے کو ختم کریں گے کسی سے ہم سے بات کرے مسیح موعود علیہ السلام نے جو بنیاد رکھی ہے وہ بنیادی الہام الٰہی کے رنگ میں یہ تھی کہ پہلے کی بات ثابت ہوگی اگر وہ ثابت نہیں ہوتی تو پھر میرے آنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے پس حقیقت یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے شعر میں بیان کر دی

کے تین مراحل ہیں ہے قرآن مجید نمبر اول اس کے بعد نمبر دو پر سنت رسولاس درجہ حدیث کا کا احادیث کو قرآن مجید کی روشنی میں ہمیں دیکھنا پڑے گا کیوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ قرآن مجید جو خدا کا قول ہے اس کے مخالف اسلم کوئی بات کہہ دے کیونکہ جیسا کہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر تھے اس کی روشنی میں باتیں بیان کرتے تھے آئیے اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کے سوال پر غور کرتے ہیں قرآن مجید کی شروعات میں پہلی سورت ہے سورہ فاتحہ کو ام القرآن بھی کہتے ہیں اس کے اندر یہ دعا سکھائی گئی ہے مسلمانوں کے وہ اور جو دل میں ستارہ بار یہ دعا کرتے ہیں کہ دین صراط المستقیم اے خدا ہمیں سیدھا راستہ دکھا صراط الذین انعمت علیہم ہیں ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا یے قرآن مجید کی ایک یہ بھی ہے کہ وہ فرقان آخری بات کو کھول کر بیان کرتی ہے اب یہ سوال رہ جاتا ہے کون ملا ہے لوگ ہیں جن کے بارے میں جن کے مطابق راستہ اللہ تعالی نے سورہ نساء کے اندر بیان کیا کہ وہ ان کو نہیں بتایا وہ ایودھیا اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیین rozalenda1989 ناول ایک رفیق یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے امت محمدیہ میں یہ چار ان کے لئے نام لکھے الگ ترتیب درجہ سے بتایا سب سے پہلے نبی کی نبوت کا انعام ہے پھر صدیق کا انعام ہے پھر شہادت کا انعام ہے پھر صالح کا انعام ہے کہ یہ حدیث کہ جو الفاظ ہیں وہ یہ ہے ابو بکر ی خیرالناس ابوبکر بہترین آدمی ہے بادہ میرے بعد الاعیان النبیون سوائے اس کے کوئی نبی فوت ہو جائے یہاں اس بات کو آپ بہتر نہیں سمجھنا چاہیے کہ دو باتیں ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے خاتم النبیین قرار دیا ہے اور ہاتھ میں نبی نہیں آپ آخری نبی ہیں آپ کی شریعت آخری شریعت ہے اس کا کوئی شریک نہیں میں اللہ تعالی نے سورہ نساء میں بیان فرمایا ہے اس آیت کی روشنی میں آپ کے بعد آپ کی کامل پیروی کے نتیجے میں کوئی شخص ہوسکتا ہے جس کو اللہ تعالی مقامات نبوت عطا فرمائے کے طور پر آئے گا اب میں اس چیز کو لے کر دیا ہمیں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہے جب واپس جائیں گے ان کا مقام ومرتبہ کیا ہوگا کیا وہاں مولوی کے اس سے ہونگے مدرسے سے فارغ التحصیل علم کی حیثیت سے ہوں گے یہ خود اقرار کرتے نہیں وہ نبی کی حیثیت سے آئیں گے ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے نتیجے میں وہ دن بھی آ سکتا ہے اور یہ اقرار کرتے نہیں وہ دوسرا بنی اسرائیل کی طرف جو نہ تھا وہ واپس آ سکتا ہے پس یہ وہ بنیادی چیز ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس آنے والے کا مقام ومرتبہ ظاہر کیا چنانچہ مسلم کی مشہور حدیث ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال کے اندر بیان کیا ایک بار نہیں دو بار نہیں اللہ کے الفاظ سے یاد کیا بس یہی اس کے مکمل معنی ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں ایک شخص مہدی کے طور پر ظاہر ہوگا وہ مقام نبوت حاصل کرے گا جو ظلم ہو گئی وہ خلفائے کرام سے اس میں افضلیت کا درجہ رکھتا ہوگا جو کہ اس کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اللہ تعالی دی اپنا سوال کرنا چاہوں گا یہ پوچھ رہے ہیں اللہ تعالی کو قرآن کریم میں نور کہا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے تو میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں ہے وہ تاریکی نہیں ہوتی تو اللہ تعالی نے اپنے آپ کو نور قرار دیا کہ وہ ایک تجلی ہے جیسے کہ سورج کی روشنی تمام دنیا کو اپنی روشنی سے منور کرتی ہے اور اس کے فوائد ہوتے ہیں اسی طرح سے اللہ ہو نور السماوات والارض گیا ہے کہ آسمان اور زمین کا نور ہے تو وہ اللہ تعالی ہی کی ذات ہے اسی کے ذریعے سے روشن ہے تمام دنیا کی ہر آیت کے سامان کیے جاتے ہیں تمام دنیا کیعلم انسان ہر چیز کو نمایاں طور پر دیکھتا ہے اسی طرح سے اللہ تعالی کے نور کے ذریعے سے تمام دنیا میں ہدایت کے سامان کیے جاتے ہیں تو دراصل اللہ اور اس کا مطلب یہی ہے کہ تمام دنیا کی ہدایت کے سامنے اللہ تعالی ہی کیا کرتا ہے وہ تاریکی نہیں ہے بلکہ روشنی ایسی ہے کہ جس کے ذریعے ہر چیز صاف نظر آتی ہے بشرطیکہ انسان جو اس کے طور پر اگر کوئی انسان نہ ہو تو اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہ دونوں اعتبار سے ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی اور روحانی اعتبار سے بھی اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب تک بات نہیں جب تک کہ روحانی آکے تیز نہ ہو جب تک کہ ظاہری آنکھوں میں وہ روشنی نہ ہو تب تک اللہ کے نور کو یاد میں دیکھ نہیں سکتا تو یہ نور ہدایت اور روشنی دونوں کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ کہ اس کے ذریعہ سے جو دنیا کے اندر عقائد کی اسی طرح بدکرداری کی یا بدامنی کی فضا پر تیار ہوتی ہے ان تمام باتوں کو دور کرنے کی طاقت اللہ تعالی میں ہے اور اپنے بندوں کو وقتاً فوقتاً اپنے اصول کے ذریعے سے ان تمام باتوں کو دور کرکے دنیا کے اندر امن شانتی اور دیگر بنیادی ان کو قائم کرتا ہے تو اس کے وسیم نے یہی ہے کہ اللہ تعالی ایسا نور ہے جو تاریکی کے ضد ہے جو تاریخ کے بالمقابل ہے تاریکی میں تو انسان کو دیکھ نہیں سکتا مولانا محمد کرم شاہ سے ہمارا اگلا سوال ہے کہ جس طرح دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اندر بھی اس بات کی تشنگی رہتی ہے کہ دنیا میں مختلف قدرتی آفات رونما ہوتے ہیں کیا یہ قدرتی آفات کسی خدائی پردے کے انکار کے نتیجے میں اللہ تعالی کے غضب کے طور پر رونما ہوتے ہیں یا یہ بھی قانون قدرت کا ایک حصہ ہے جو چلتا رہتا ہے اس سے چاہوں گا تم آنا ہے یا نہیں میں نے بھیجی ہیں یا جو شریعت میں نازل کی ہے اس نے قبول کیا ہے یا نہیں کیا دنیاوی اعتبار سے خوف کی وجہ سے کسی پر ظاہری بات ہے ہے اور جہاں تک انبیاء کی آمد کا سوال ہے کہ پہلے بھی میں اس بات کی کہ ایک دوست نے سوال کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے اندر لگاتار بہت سارے انبیاء آئے اور عمر بھی نہیں آئی کہ وہ اس کی مخالفت ہو رہی ہے تو میں نے اس وقت یہی کہا تھا کہ انبیاء کا عنہ کی فضیلت کی بات نہیں ہے کیوں اس واسطے کہ اللہ تعالی نبی اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ قوم بگڑ جاتی ہے قوم کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی مبعوث کیا کرتا ہے تو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے جو انبیائے ہیں وہ اسی وجہ سے کہہ دے کہ ان کی نافرمانیاں تھی ان کے اوپر عذاب نازل ہو چکنے کے قابل ہو چکے تھے ان کو بچانا چاہتا تھا انہوں نے پھر اللہ تعالی نے انسان کی ہدایت کے لئے اب یہاں بھیجنی شروع کیے تو قوم کے بگڑنے اور انسانیت کے الٹ جانے گناہوں کے بہت زیادہ پھیل جانے کے نتیجے میں یہ عذاب آیا کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر اللہ تعالی ہم بھی آپ کو بھی مبارک کیا کرتا ہے تو بھائی میرے بات اصل میں یہی ہے کہ کسی نبی کے انتقال کی وجہ سے کوئی عذاب نہیں آتا بلکہ اساور نہ ماننے کے نتیجے میں نہیں آیا بلکہ اس کے اپنے مظالم تھے اس کے اپنی شوخی تھی اس کا تھا جس کی وجہ سے وہ ذات کا حصہ بن چکا تھا موسی علیہ السلام کے ذریعے اصلاح کی کوششیں کی گئیں نہیں مانا اس نے تو اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب آیا کرتے ہیں تو قانون قدرت کے اوپر کسی نبی کے انتقال کی وجہ سے کبھی بھی نہیں آئے بلکہ ہمیں اس قابل ہو جایا کرتی ہے کہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے گناہوں کی وجہ سے بد قربانیوں کی وجہ سے مظالم کی وجہ سے تکبر کی وجہ سے یہ باتیں جب اس کے گھر جاتی شوقیہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس کو بھی اور اس کی تعلیمات کو اور اس کے انبیاء کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ہمیں وہ ایک دن میں وہ خود اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں تو ایسے عالم میں پھر اللہ تعالی کا جواب قانون قدرت ہے اس کے مطابق ان کے اوپر آزادی  ہونا واجب ہو چکا ہوتا ہے تو حضور علیہ السلام میں آیا مسلمانوں میں اس بات کی بڑی وضاحت سے ذکر فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر بھی پیدا کرتا ہے جو عذاب آئے ہیں کبھی تعاون آیا ہے کہ قوم کا عذاب ہے کہ میں سیلاب آئے ہیں سب سے زیادہ بڑا عذاب ہے وہ تعاون کیا ان کے اوپر تو یہ سب باتیں ان کی اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہوئی ہے گاڑیوں کی وجہ سے ہوئی ہے نبی کے انتقال کی وجہ سے نہیں ہے پھر اللہ تعالی نے اپنی رحمت کی وجہ سے نبی بھیجے کہ کسی طرح سے سدھر جائے تاکہ وہ اس کی رحمت کے باعث بن سکے اگر نہیں بن سکتے ہیں تو پھر جو قانون اس کا لاگو ہونا تھا وہ ہو جایا کرتا ہے تو بات یہی ہے کہ قانون قدرت کے مطابق جب وہ انسان کے اندر شوخی شرارت تکبر اور غرور بڑھ جاتا ہے ایسے حالات میں پھر انسان کے اپنے کردار کی وجہ سے عام طور پر عذاب ان پر آیا کرتے ہیں ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں قوم لوط کا ذکر آتا ہے تو موت کا ذکر آتا ہے جو ہے وہ نے سامان کیے تھے بڑی طاقتوں نے کی تھی بہت زیادہ انہوں نے ڈیولپمنٹ آپ کے اعتبار سے بھی اور دوسرے اعتبار سے وہ جو ہے وہ آتی تھی لیکن جب شوخی اور شرارتوں میں بڑھ گئے گروہوں میں بٹ گئے تو اللہ تعالی نے نبی بھیجے تاکہ اصلاح ہو جائے لیکن جب اسلام نہیں ہوئی اللہ تعالی نے پھر ان کو جو اذان پر واجب ہو چکا تھا ان پر لاگو کر دیا تو بات یہی ہے کہ قانون قدرت کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی قوم کو بھی ہلاک نہیں کرتا اس واسطے کہ اللہ نے فرمایا رحمتہ اللہ ہر چیز پر اللہ تعالی کی رحمت وسیع ہے بلاوجہ کسی کو ہلاک نہیں کیا کرتا اور اسی طرح دیکھیں چاہے کسی کام کا بھی کوئی ایک بھی ہو اگر وہ وہ چاہے وہ اسلام کو مانتا خدا کو مانتا ہوں یا نہ مانتا ہو تو ایسی صورت میں اگر وہ شوخی اور شرارت اختیار کرتا ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ اللہ تعالی کی ناراضگی کا باعث بن جاتا ہے لیکن ان میں سے بھی جو بحریہ ہیں یا غیر مسلم ہیں یا اور دوسرے مذاہب والے ہیں اگر وہ اچھے اخلاق کے استعمال کا اختیار کرتے ہیں تو ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچ بھی جایا کرتے تھے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو بھی آپ نے اس میں بیان فرمایا ہے ہے آپ فرماتے ہیں کہ کہ کہ ہیں تو آپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ ہندو ہوں مسلمان ہوں کوئی بھی ہو یہ اسی وقت جو ہے وہاور ظالم اور بے خوف اور مردم آزار ہوں گے خواہ وہ مسلمان ہوں خواہند وہ عیسائی عذاب سے بچ نہیں سکیں گے کہ لوگ اس بات کو سمجھیں اور غریب مزاج اور بے شرم انسان بن جائیں خدا تعالیٰ کسی کو عذاب دے کر کیا کرے گا قرآن مجید میں نہیں آتا ہے ماشاءاللہ یہ جاتا ہے تو پھر لازمی بات ہے کہ اللہ تعالی کی پکڑ میں آ جائے گا شیخ جو کہ بہار انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے بھی اپنا سوال ایک بھجوایا ہے مولانا شیخ موجودہ سیاسی سے وہ پوچھنا چاہوں گا ان کا سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے سے کیا فائدہ ہوگا آپ سے درخواست ہے خدا تعالیٰ کے کسی بھی معمول اور مرسل کو قبول کرنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے ہے کیا کوئی دنیاوی فائدہ پہنچتا ہے یا بہت بڑی نوکریاں مل جائیں گے سرکاری نوکریاں پھسا دئے وہ اس کی مثال سے اس بات کو سمجھ آئے تھے اور پوچھتے کہ ہم اسلام قبول کریں گے تو میں کیا فائدہ ہوگا اور فرماتے کہ آپ کو زندہ خدا کے ساتھ تعلق قائم ہو جائے گا اللہ کی جنت نصیب ہوگی اور اس کے احکام اسلام کے ماننے پڑھیں گے اس پر تاریخ میں واقعات ملتے ہیں کہ کئی لوگوں نے کہا کہ آپ نے جو باتیں ان کے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہم اس پر لازم پکڑ لے گیا جو نہ آ جاتا تو آج ہوگی اور مامور من اللہ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں وہ اسی لیے آتے ہیں کہ دنیا میں جو لوگوں کا تعلق ٹوٹ چکا ہوتا ہے اس تعلق کو دوبارہ قائم کیا جائے مذہب کے اندر جو فساد پیدا ہو چکا ہے جو غلط عقائد پیدا ہو چکے ہیں وہ دور کیا جائے آئے بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے جب مقامی مسیحی کے طور پر عطا فرمایا آپ کو معمول کے طور پر عطا فرمائے تو یہ صرف یہ نہیں تھا کہ آپ کو اللہ نے بتا دیا کے بارے میں پہلے سے خبر نہیں دی گئی تھی بلکہ قرآن مجید کا جب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک شخص مسلمان ہے اس کے لئے لازمی ہے سورہ آل عمران آیت 82 کے اندر اللہ تعالی نے بیان فرمایا کہ جہاں کو ان کے جذبے کو رسول اللہ نے نبیوں سے عہد لیا مصدق لما حکومت نے تصدیق کرنی ہے نہ تو میں نے انہیں ضرور تم نے اس پر ایمان لانا ہے پھر اس کے بعد بیان کردیا اہل سنت سے واضح رہے کہ 16 کیا نبی کریم سے تجھ سے بھی آباد لیا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی روشنی میں پھر احادیث میں اس بات کو بیان فرمایا کہ آنے والا جو محمود مہدی ہے ہے اس کے بارے میں بتائیں فائدہ رائے ہے جب تم اس کرنی ہے اور بتایا کہ باوجود اس کے کہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا نون علیہ السلام کے برف کے تودوں پر چلنا پڑے کیوں بات کرنی فائنل ہو خلیفۃ اللہ المہدی یہ سوال ہے کہ وہ بات کیوں کرنی ہے اس کا فائدہ کہ اس وقت کی دلشاد ہے قرآن مجید کی ہدایت ہے بس ایک مسلمان کے لئے جو اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی تعمیل پیروی کرتا ہے اس ہے کہ وہ اس آنے والے موعود امام مہدی کی بیعت کرے اور وہ اس لئے کہ وہ خدا سے ہدایت یافتہ ہے اب وہ جو راستہ بتائے گا وہ جو دین کے بارے میں حقائق بیان کرے گا مار بیان کرے گا وہی صحیح ہوں گے تو ہدایت یافتہ ہے اور پھر آگے سلم نے یہ انتباہ بھی کیا کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کی بیعت نہیں کرتا وہ جاہلیت کی موت کا اور اس بارے میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ان کے وقفے سے ایک والا پڑھوں گا مشہور حوالہ ہے مولانا قاسم نانوتوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب امام مہدی علیہ السلام کے پیدا ہونگے اور اس وقت جو ان کی اتباع نہ کرے گا اور امام پہچان کر ان کی پیروی نہ کرے گا گا اس معلومات ترجمان وارن جو سفر سو بس بانی جماعت احمدیہ سے احدث مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالی کے عزم سے آپ کی تائید اور آپ کی ہدایت کے مطابق ہمیں زندہ خدا آتی ہے آج اگر زندہ خدا کہیں سے حاصل کرنا ہے تو وہ جماعت ہے جو پیش کر رہی ہے جو امام زمان کے عقائد کی روشنی میں مسلمان نہیں کہتے کہ اللہ تعالی نے ہر بات کرنا چھوڑ دیا تھا اسلام نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کرے اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے لگتا ہے آپ صلم وصلم نبی کریم صلی وسلم کے مقام اور مرتبہکے مقام ومرتبہ کو کہہ کے پھر آپ کے ذریعہ آج زندہ خلافت کا ایک نظام ہمارے اندر موجود ہے اور یہ واحد وہ نظام ہے جو دنیا اور کہیں موجود نہیں ہے اس خلافت کی رسی ہے وہ اللہ ہے جس کو پکڑنا ضروری ہے اور جس پر چلنے کے نتیجے میں آج جو امت بٹی ہوئی ہے مختلف علاقوں میں مختلف عقیدوں میں مختلف معاملات میں اتفاق نہیں ہے تو عہدہ بننا ہے تو یہی ایک طریقہ ہے اور یہی امام زمان کی بیعت کا سب سے بڑا فائدہ ہے کہ زندہ خدا سے تعلق زندہ رسول کی پہچان زندہ کتاب سے تعلق اور خلافت کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں ان کے اندر آگئے ہیں ان سب سے ہمیں نجات مل جائے گی پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے محترم مولانا شیخ مجاہد ہم سے ہمارا سوال ہے کہ کتاب ایام سلف میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسی اسلام نے روحانی اور دنیاوی عذاب سے نجات پانے کے لیے بات نہیں اور جسمانی پاکیزگی کی طرف توجہ دلائی ہے تو اس امر کی مزید تفصیل جاننا چاہوں گا اسلام مذاہب میں وہ عظیم الشان مذہب ہے جس نے جو بھی تعلیم دی ہے وہ آپ نے انتہائی عروج تک اس کو پہنچایا ہے  ہے جسمانی پاکیزگی اور صفائی کے متعلق اسلام نے جو تعلیم دی ہے دیگر تمام تہذیبوں سے نظاموں کے افضل اور اللہ تعالی تمہیں قرآن مجید نے ہمارے سامنے جس خدا کا تصور پیش کیا ہے اس کی جو صفات بیان کی ہے اس میں یہ بتایا ہے کہ اس کے اندر کوئی ہے کوئی برائی نہیں ہے اور اس کی صفت کے اندر سفر اور القدوس کا خاص طور پر ذکر کیا ہے یعنی یہ دوست ہے کہ وہ عیبوں سے پاک ہے اور ہر ایک ناپاک چیز سے پاک ہے بس اسلام اپنے ماننے والوں سے بھی اس بات کی توقع کرتا ہے کہ وہ خدا تعالی کی ان صفات پر عمل پیرا ہو جائے اس کے بعد امام زمان سید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن مجید کے مطالعہ کی روشنی میں جو علم آپ کو دیا گیا آپ نے یہ فلسفہ وقت دنیا کے سامنے پیش کروایا کہ انسان کے جسم اور روح کا ایک گہرا تعلق ہوتا اور یہ شخص یہ سوچے کہ صرف روح ہے تو یہ درست نہیں بلکہ جسم اور روح کا ایک آپس میں انتہائی گہرا تعلق ہے جسم پر جو کیفیات وارد ہوتی ہیں جسم پر جو حالت گزرتی ہے روح کا بھی اس پر اثر پڑنے شروع ہو جاتا ہے اسی لیے ضروری ہے کہ روح کی پاکیزگی کے لیے اس میں تقویٰ اور طہارت کے حصول کے لیے جسمانی صفائی بیان مدنظر رکھ دے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو اپنی قیمتی درختوں میں اس بارے میں بیان فرمایا وقفے سے ایک حوالہ پڑھ کے سامنے آئے السلام بیان فرماتے ہیں قرآن مجید میں جو آیا ہے کہ ورز پہ زور سورہ المدثر آیت 66 یعنی ہر ایک قسم کی پلیدی سے پرہیز کر حجر دور کرنے اور جانے کو کہتے ہیں اس سے یہ معلوم ہوا کہ روحانی زندگی روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لیے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری ہر ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے دو حالتیں ہیں جو باطنی حالت تقویٰ اور طہارت پر قائم ہونا چاہتے ہیں وہ ظاہری پاکیزگی چاہتے ہیں تو وہ اس پر کام کریں پھر ایک اور مقام پر بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید نے بیان کیا ان اللہ ہیں وہی تب نا وہی بات ہر سورۃ البقرہ آیت 223 یعنی جو باطنی اور ظاہری طہارت کے طالب ہیں ان کو دوست رکھتا ہوں ظاہری پاکیزگی باطنی طہارت کے ممد اور معاون ہے اگر انسان اس کو چھوڑ دے اور پاخانہ پھر کر طہارت نہ کرے تو ان دونوں کے قریب بھی نہ بھٹکے گی 07 بس یہ بات جب ہم مان لیتے ہیں کہ ہمارا جسم جو ہے ہماری روح کے لئے منزل امکان کیا ہے تو اس جسم کی صفائی اور ستھرائی اور اس کو پاک کرنا یہ بڑا ضروری ہے اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عظیم الشان کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی میں بیان کیا ہےیہ پانچ چیزیں فطرت انسانی کے اندر داخل ہیں ختنہ کروانا زیر ناف بال اتروانا بغلیں صاف کرنا مجھے کاٹنا ناخن کاٹنا اور آپ نے جو اسلام کی بنیادی چیز تھی نماز اس کے شروعات میں وضو کا نظام رکھا کہ ظاہری طور پر جسم کو صاف ستھرا کر کے جانا ہے پھر وضو سے بڑھ کر غسل کے لئے اگر جگہ ہے بعض حالتوں میں غسل واجب حضروری ہے اور اس کے علاوہ مستحب ہے کہ آپ کو جمعہ کے دن غسل کرنا ہی اس کی ترغیب دلائی پر کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کے نظام فلسفہ کی پاکیزگی صفائی کا فلسفہ اور اسی طرح کے مزید دو میں جانا گلیوں کی صفائی کا معیار غرض سے اسلام نے صفائی ستھرائی کے اس نظام کو علمی طور پر پھیلا دیا اور حقیقت یہی ہے کہ ایک مضبوط جسم ہوگا صاف ستھرا جسم ہوگا اور مضبوط مومن ہوگا تو وہ اللہ تعالی کے ان ہی اقدامات کو جو خدا تعالی نے دیے ہیں جو روحانیت کے لیے ضروری ہیں اس وقت اچھی طرح گامزن ہو رہا ہوگا عورت کو حاصل کر رہا ہوگا اور اسلام نے اپنی اس کتاب الامثلہ میں بیان فرمایا ہے کہ طاعون سے بچنے کے لئے جو اور تدابیر ہیں کہ اللہ تعالی کی طرف جھوٹ اور اس کا تقوی اختیار کرو ہاں ظاہری تکبیر بھی اختیار کرنی چاہیے کی صفائی وغیرہ کا انتظام کرنا چاہیے اسلام نے بیان فرمایا اپنی کتاب اسلامی بیان فرماتے ہیں اگر قرآن کو غور سے پڑھیں تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالی کی بے انتہا رحمن نے یہی کہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کر کے روحانی عذاب سے نجات پا وے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کرکے دنیا کے جہنم سے بچا رہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ میں بیان فرمایا گیا ہے یہی آیت ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطہرین ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لیے کوشش  کرتے ہیں اور متاخرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لے آتے ہیں این 14 یا مسلح صفحہ 338 آخر میں یہی ہماری دعا ہے کہ آج جو صفائی کا اسلام نے عظیم الشان نظام قائم کیا ہے مسلمانوں کی اکثریت کا جائزہ لیتے ہیں تو اس سے دور نظر آتے ہیں بڑے بڑے شہروں میں آپ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی بستیاں مومند نظر آتی ہے نا وہ صفائی کا معیار راستوں میں نظر آتا ہے نہ گھروں میں ان کے لباس میں اور وہ یہی وجہ ہے کہ شاید ان کے اخلاق میں بھی لین دین کے معاملات کو دیکھنے اتنی صاف نظر نہیں آرہے ہوتے پس ہمیں چاہیے کہ ظاہری صفائی کے معیار پر قائم رہتے ہوئے اتحاد کے حصول کی کوشش کرے کے اختتام پر محترم مولانا محمد کریں گے سب خیریت سے ہیں یہ سوال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اسلام کی سربلندی کے لیے کارہائے نمایاں سرانجام دی ہیں اور جو اسلام مخالف طاقتیں تھیں ان اللہ تعالی نے حضرت اس مسئلہ اسلام کے ذریعے سے ہی اسلام کو فتوحات بخشی ہیں تو اس حوالے سے میں آپ سے مزید تفصیل جاننا چاہوں گا کہ کس طرح سے اسلام مخالف طاقتوں پر اللہ علیہ وسلم گزر رہے ہیں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے الفاظ نہیں ہیں کہ میں تمہارے لئے کشتی کرنے والوں کی طرح غیر قوموں سے لڑا اور ان پر فتح پائے کے معاملے میں بھی ایک کشتی تھی تلاش کرو آج کہاں ہیں یہ 1993 کی بات ہے جن میں عبدالحق کے ساتھ اسلام کی فضیلت کے تعلق سے مباحثہ ہوا تھا اور جنگ مقدس کے نام سے یہ کتاب چھپی ہوئی باوجود ہے تو آخر میں اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو الرحمن بتایا گیا کہ مقدمہ یعنی اس مباحثے میں جو فریق کو چھپا رہا ہے اور ان وسلم کو استدلال بھی قرار دیا تھا اس کی کتاب ہے تو حضور نے فرمایا کہ جو حق کو چھپاناآپ نے کوئی بات کی نہ کوئی لیکچر دیا نہ کوئی مضمون لکھا بلکہ شہر بہ شہر گھومتا پھرا اور ڈرتا تھا کہ ایسے لگتا تھا کہ میرے پیچھے کوئی لوگ جو حملہ کرنے کے لیے ہیں تو ڈر کے مارے جو پندرہ دن مہینے گزر گئے لوگوں نے کہا کہ جیسے کہ یہ آپ کے لئے ایک پیش ہوئی تھی اسلام کی صداقت کی مسلمان کے ساتھ شامل ہوگئے تو حضور نے فرمایا اگر یہ بات درست ہے کہ اس میں حضور نے کیا تھا تو قسم اٹھا لے اس نے قسم نہیں اٹھائے گا بائبل میں ختم کرنا آپ نے فرمایا کہ قسم کھائی ہے تم کیسے ہو کہ نہیں ہے پھر بھی ہے کہ اگر کوئی توبہ کرے اس کو قسم کھانے پر پچاس ہزار روپے بتائی کہ وہ خود کو قسم کھانے کو تیار ہوا آخر کار اللہ تعالی کی پکڑ میں آئیں اور یہ یہ 27 جولائی 1997 کو اس مقام میں فوت ہوگیا تو اسلام کے لیے بڑا نشان تھا یہ تو پہلی کشتی ہے اس کی وجہ سے اسلام کے خلاف اس کے ذریعہ سے لڑائی ہوئی اور اسلام کو اللہ تعالی نے خود کر کے دکھایا دوسری کشتی حضور نے فرمایا لکھ رہا معاملہ تھا اور سوچ کر دیکھو یہ لکھ رہا تھا جو دن رات اندر وسلم کے خلاف گالی آپ کا کرتا تھا اسلام کے خلاف گالیاں پڑھا کرتا تھا تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مصروف سلام نے جب چھیاسی میں جو اشتہار شائع کیا کہ ایک لڑکا دیا جائے گا اس نے کہا کہ لڑکا کیا ہے تین تین سال کے اندر ان کا خاتمہ ہو جائے گا ہے اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو یہ بتایا گیا کہ یہ عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک کیا جائے گا یہ خوفناک شخص جو ہے کاش میں دکھایا گیا کہ وہ اس کی آنکھوں سے خون نکلتا ہوا ہے وہ ڈھونڈ رہا ہے کہ دیکھ رہا ہے اور ایک اور شخص کو ڈھونڈ رہا ہے اور آپ کو الہام بتایا ازدواج حضرت علی و خوار اس عمر کے بچے کی طرح ہے اور جو ہر دو سالہ بچے کا ہوا تھا وہیں اس پر حاضر ہونے والا ہے اور فرمایا ہے ان کے مطابق اللہ تعالی کے اس فرمان کے مطابق اس کا بھی انجام یہ ہوا کہ 27 جولائی 30 ستمبر 1992 کو یہ کیسے ہلاک کیا گیا تو یہ بھی اسلام کے خلاف ب**** کرنے والا جو شخص تھا اس کو اللہ تعالی نے پہنچا دیا اس کا احساس ہوتا ہے جو حضور نے دیکھا کہ  کہ بہت سوں کا جلسہ جو جیسا مذاہب عالم ہوا ہے لاہور میں اٹھارہ سو چھیانوے تو وہاں پر حضور کا پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ مضبوط غالب رہا تمام مذاہب والوں نے مذاہب میں اپنے مضامین پڑھے اور پانچ سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی مسلمانوں کے بعض علماء نے پڑے لیکن سب سے زیادہ جو پسند کیا گیا اور بہترین مضمون تھا وہ آج کل بھی اسلامی اصول کی فلاسفی کے نام سے شائع شدہ مواد ہے کی زبانوں میں اس کے تراجم ہوچکے ہیں تو اللہ تعالی نے تمام مضمون کو بابرکت ثابت کرکے ان کو حیرت میں ڈال دیا اور یہ والا کام تھا یہ بہت بڑی کشتی تھی جو تمام عالم ہے کہ وہ اس اسلامک والوں نے کر کے دکھایا اور اس کے ساتھ جو ہندو اور عیسائی اور مسلمان سب نے مل کر حضور کے خلاف وہاں پر گواہی دینے پہنچے تھے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی بھی پہنچے تھا یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ نعوذباللہ شاہ عبدالعزیز کو ہے آپ کو پتہ ہے مارٹن کلارک کو ختم کرنے کے لیے بھیجا تھا یہ غلط ثابت ہوا اور آخر کار کپتان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کو بری کردیا یہ بھی کہاکہ تمام اقوام میں مل کے مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کا میدان بنایا تھا جس میں اللہ تعالی نے بتا دیں چنانچہ دیکھے کہ اللہ تعالی کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالی نے فرمایا تھا یا صرف لاہور میں اس مقدار کی اللہ تمہاری حفاظت کرے گا آئے گا اگر یہ لوگ تو میں نہ پڑ جائیں تو یہ بھی اللہ تعالی نے ایک بڑا نشان دکھایا کہ اس قتل کے مقدمے سے آپ کو بری قرار دیا گیا جبکہ تمام اقوام جو آپ کے خلاف تھے اور پانچویں کوشش کیا آپ نے فرمایا احمد بھائی کتاب مقدمہ تھابلقان کیا کرتا تھا تاکہ آئینہ کمالات اسلام میں آپ نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا کہ ایک شخص ہوتا ہوا یا میں نے کہا کیا ہوا کوئی فوت ہو گیا اس سے بھی بڑھ کر رکھی ہے اور اس کے ساتھی ہیں قرآن مجید کو نیچے پھینکتے اس کے اوپر جو ہے وہ اس کو روند رہے تھے تو گیا کے اسلام کے خلاف کام کر رہے تھے تو اللہ تعالی نے فرمایا کریں اپنی بڑی بیٹی محمدی بیگم کا نکاح کے ساتھ دے گا اللہ تعالی ان کی تمام بخشش کا سامان کردے گا لیکن وہ راضی نہ ہوا کر دے گا تو تین سال کے عرصے میں یہ فوت ہو جائے گا اور اس کے بعد جس سے اس کی شادی ہوئی ہے وہ ڈھائی سال کے اندر اس نے ایسا کیا کہ کہ دو بندے کو محمد پٹی کے ساتھ کر دیا گیا اور تین سال کی مدت اللہ تعالی نے کتی نگاہ سے پانچ مہینے 24 دن کے بعد مرزا احمد صدیق کی وفات ہو جاتی ہے اور اس کے بعد جو ہے یہ احمدیت کو قبول کرلیا اور بچوں کے ٹائم نہیں ہے اس میں صرف نام پر دیتا ہوں کہ مرزا احمد بیگ کی بیوی احمدیت میں موسیاتی ہمشیرہ محمدی بیگم اور مرزا محمد رفیع سودا ماتھے احمد کے وہ محمدی ہوئے تھے کے مشیر محمد حیات طیبہ میں ہوئی بٹتا محمد جواد احمد کے قصے تھے وہ احمدی ہو گیا مرزا محمود بیگ جو احمد بھائی کا بیٹا تھا وہ احمدی ہوگیا دختر مرزا مدین اور ان کے گھر کے سب افراد یہ احمدی ہوگئے مرزا غلام محمد جو مرزا نظام دین صاحب کے بیٹے تھے وہ احمدی ہو گئے ہیں لیکن مرزا غلام قادر صاحب یہ بھی موسیاتی یہ بھی احمد بھی ہوئی محمود وجہ ہے کہ مشیر محمدی بیگم ہوگی مرزا محمد اسحاق پے جو کہا تھا وہ بھی نہیں ہوا اس سے بڑا نشان اور کیا ہوگا اللہ تعالی نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ محمد یقین ہے اور اللہ تعالی نے اس زمانے میں اس کو تمام عوام کے سامنے غریب قرار دیا ہے آپ تک پہنچانا چاہتا تھا اس پیغام کو دنیا کے جو فریضہ کیا ہے آخر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جس میں حضور فرماتے ہیں میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کے ایمان و کوئی کرو اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھاؤ کیونکہ ہر ایک قوم کی حالت نہایت کمزور دور ہوگئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے انسان اپنی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ و مراتب رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیا بھی اس بات پر ہے یہ یقین اور بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی ٹھنڈی ہوگئی تھی اب میرے زمانے میں بھی یہی حالت ہے تو میں بھی ان کا زمانہ پھر آ گئے ہیں اب کیا ہوگا بعد اس کے کہ بہت دور ہو گیا تھا میں انہی باتوں کا مجدد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں آج کا ایپیسوڈ اختتامی پیسوڈ ہماری سکا انشاء پروگرام ہے اللہ کی اگلی صف سے پیش کی جائے گی اور ان کا پہلا ایپیسوڈ مورخہ 6 جولائی 2019 ہفتہ کے دن کی مٹی کے مطابق سہ پہر چار بجے کے درمیان اس ویڈیو سے لی پیش کیا جائے گا پھر چار سوٹ پر مشتمل ایک نہیں سیریز کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی امید کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ تسلی دیتے ہیںتحصیل کا بتایا ہی لو تمہیں دار تسلیف کا بتایا ہے ہم نے

 36 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: