Rahe Huda – Maseehe Maood pbuh Par Aiterazaat K Jawab – Maryam Kesy Bany




Rahe Huda – Maseehe Maood pbuh Par Aiterazaat K Jawab – Maryam Kesy Bany

Rah-e-Huda | 29th August 2020 – Frankfurt Germany

  • اس سے بابا احمد کم صاحب اور اس طرح یہ اسٹوڈیو میں خان صاحب کے ساتھ مکرم رحمت اللہ بندے سے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اسلا تین گرام پر موجود تھے اسلام بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تھے امت سے میں جو بزرگ گزرے ہیں اور اسلام کا درد رکھنے والے ہیں انہوں نے تمام امیدیں وابستہ کی گئی تھی عالم اسلام کے لیڈر اور مفکرین بارہ بار بار یہ اقرار کر چکے ہیں بلکہ سو سال قبل بھی ایک راز ہو چکا ہے موجودہ حالت میں جو زمانہ جس میں ہم گزرے ہیں جو حقیقی ایمان ہے وہ مضبوط ہو چکا ہے حق اس نے خود جھوٹے مدعیان نبوت کا کی تباہی کا بے خود اٹھایا ہوا ہے اور میں پاک کلام میں اس بات کی ضمانت دی ہوئی ہےیقی مسلمان نہیں ملتا ہم اپنی غربت سے اولیٰ میں واپس مبتلا ہو چکا ہے علامہ اقبال صاحب نے مسلمانوں کی حالت کا ایک نقشہ تصدیق کھینچا وہ کہ وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلمان ہے جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو نذیر این پیشنگوئی کے مطابق اللہ تعالی کے فضل سے چودھویں صدی کے سر پر اسلام کی تائید میں آسمان سے یہ آواز مسیحا بازار کہ خدا تعالیٰ نے اس وقت میں سب کے سب منتظر تھے اس دھماکے میں محفوظ کر دیا ہے کے فضل سے اس وقت جو شہید ہوئی تھی والہانہ اس مسئلے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے شامل ہوئے اور باوجود سخت مخالفت کے الٰہی سلسلہ پھیلنا شروع ہو گیا اور مسیح پاک کی حیات میں ہے یہ جو شامل ہیں جن کی تعداد تھی وہ چار لاکھ تک پہنچ چکی مجھے اس کو قائم ہوئے ایک سو تیس سال کا وقت گزر چکا ہے حق کے مخالفین احمدیت کو قادیانیت کے نام سے بھی موسوم کر اسلام کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہیں اور عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور ان سے سوال ہے کہ اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ ہم دیتا ہوں تو اور کیوں نہیں آپ کی راتوں کی نیندیں حرام ہوتی ہے آپ کو بات کرتے ہیں اسلام سے یہ حقیقی درد ہے کیوں نہیں آپ خدا تعالی کے حضور جھک تھے اور خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتے کرے گا اور اس کے جو اس کا جو سلسلہ ہے اس کا کام کرے گا بار مسلمہ کذاب کی مثال دیتے ہوئے اس خدا تعالیٰ نے دو سال پہلے دو سالوں میں اس کا دھماکا کر دیا تھا کیونکہ ان کا لکھا سلوک کر رہا ہے کیوں 130 سے زائد سال کا عرصہ گزر گیا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ نعوذباللہ جھوٹے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کو کیوں چھوڑ دے رہے ہو جانا پسند کر رہا ہے خدا تعالیٰ اسی کام کے بجائے ان کو فتح نصیب کر رہا ہے اور ناکامی کے بجائے ہر وقت ہر آنے والی مزید ترقیات نصیب کرتا ہے اپنے تو اپنے پوری کوشش کر لیں سب لگا دیا ہے جتنا جھوٹ بولنا تھا آپ نے بول دیا ہے کیا کیا جھوٹ بھی آپ کو نہیں بولا بلکہ جماعت احمدیہ کو غیرمسلم قرار دے دیا اور آپ کے اکابرین نے بھی خوشی سے گالیاں بھی بتائیں کیا ہم بھی اس کو روک سکے ہیں آپ کے حقیقی غلبے کو تحریک کو یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ پہلے سے زیادہ ترقی ہے ترقی کی منازل طے کرتی جا رہی ہے تو کیوں نہیں اہمیت کے ساتھ وہ فلم وزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی مثال بار بار دیتے ہیں ہم آپ کے سامنے ایک بہت آسان حل کرنا چاہتے ہیں پہلے بھی اس کو رکھا تھا وہ یہ ہے کہ ہم سب کا یہ متفقہ کی اور ایمان ہے کہ جب اسلام اس حالت زار کو پہنچ جائے گا تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اسلام کی فتح کے لیے اس کے نصرت کے لئے خدا تعالیٰ اسی ہوتا رہے گا ایک وہ میسیج جو فرض میں زکوٰۃ زندہ مانتے ہیں اور آسمان پر اس کا انتظار کر رہے ہیں وہ دو ہزار سالوں سے آسمان پر ہے کے آپ کے اکابرین آپ کے بزرگ بھی خود بھی چودھری صدیق کے حوالے سے اس کی آمد کی خبر دے چکے ہیں اور آپ کے لئے سب کچھ موجود ہے تو چوتھی صدی کے بعد میں آپ کے مسئلہ سے نہیں ہوئے اس کے یار بار آپ اپنے گھر سے پی ٹی آئی کا دور آتے رہیں اور عامۃ المسلمین کو جھوٹ اور فریب کے لیے صحبت سے دور رکھنے کی کوشش کریں اور مقاصد اندازہ لگائیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدایا اس فتنے کو اس سے دور کرو اس مسئلہ کو نہ کر ان کے پہلے بھی اس بات کا اعتراف کرچکی ہے اگر آپ کے فرض فرضی نازل بھی ہوتے ہیں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہم تو ماننے والوں میں سے ہیں کیا ہوا کوئی بتا دیں کہاں غائب ہیں تو تب بھی ان کو امان دینے والے نہیں ہیں کیونکہ آپ کے فرصت میں نفرمان یا نبوت کا اسلام علیکم چکا ہے وہی سلوک وہی فطرت وہی دل آپ کا ہو چکا ہے جو اس میں جو اس مسیح کے وقت علماء کا تھا جنہوں نے اس آگیا تھا 

انشاءاللہ ہم سانوں کوئی اپنے پروگرام میں شامل کریں گے اور کوشش کریں گے اس کا جواب دیں اسی طرح سے یہ ہمارا آج کے اس پروگرام میں بھی ایسے سوشل میڈیا پر اٹھنے والے اعتراضات پر بات چیت کریں گے مزید آپ کے سوالات کریں گے اس کے ساتھ ہی میں مکرم صاحب کے ساتھ کی طرف ایک اعتراض 2010 میں محدث لائبریری آپ خود دیکھیں گے کہ اعتراضات کی نوعیت کیا ہے وہ باتیں جو قرآن مجید کے عرفان سے تعلق رکھتی ہیں وہ باتیں جن کے متعلق وہ بزرگ اور صوفیاء میں گزرے ہیں بصیرت کے ساتھ وہ چیزیں دیکھی ہیں اور وہ چیزیں پہنچا نہیں ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کل کرتے ہیں تو کس آپ نے مخالفت کی وجہ سے حقیقت سے آگاہ کرنے کی بجائے ہم نے چیزیں پیش کرتے ہیں کہ وہ تمسخر اور ہنسی نشانہ بنا دیا جاتا ہے قرآن کریم میں باقی انبیاء کے بارے میں فرمایا گیا کہ اور مذاق کیا گیا آج بھی یہی سنت پر پوری کی جا رہی ہے یہاں تک کہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے آپ کو مریم قرار دینا اور پھر اس عمل قرار دینا اور پھر ابن مریم کلاس دینے کا تعلق ہے اگر قرآن اور حدیث سے غور کریں تو اس میں ذرا بھی نئی بات نہیں ہے یہ تمام باتیں بھی ہیں جو قرآن میں اللہ تعالی کی ذات بیان فرما حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان فرماتے ہیں مثال کے طور پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخاری کتاب التفسیر میں ہے کہ امام مودودی ضلع بسر ہو یہ مجھ سے ہو کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو محبت کرتا ہے جب پیدا ہوتا ہے تو سارے کم مت شیطان ان کے میسج کرنے کی وجہ سے روکتا ہوا پیدا ہوتا ہے اللہ مریم سوائے مریم اور اس کے بیٹے نے ابن مریم کے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کو ظاہری معنوں میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابنِ مریم علیہ ال ہوتا ہےسلام اور ابن مریم نے باقی تو پھر سارے کے سارے نقشہ کام سے پاک نہیں ہیں عبداللہ قسمت یار انبیائے کرام کے بارے میں بھی یہی عقیدہ رکھیں گے ایک دن مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی ایک ادارہ کہیں گے ہرگز نہیں یہاں دراصل حضور صلی اللہ وسلم نے صرف استعارہ تھا مریم اور ابن مریم کا ذکر کیا ہے نہ کہ حقیقت مثال کے طور پر اس کے وظائف اقساط کرتے ہیں اس کی تشریح میں کہ اس سے مراد کی مریم اور ابن مریم سے مراد یہ ہے پیسے فاتیما جو مریم اور ابن مریم کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے کہ پھر تمام انبیاء کے اندر بھی وہ صفات آتی ہیں لہذا تمام اللہ تمام اولیاء کون سے شیطان سے پاک ہوتے ہیں اس لیے کہ وہ مریم اور ابن عمر یہ پیارا تنگ طبیعت رکھتے ہیں اسی طرح سورہ تحریم میں اگر دیکھی یہ بہت تو شور مچاتے ہیں کہ مرزا صاحب کو سنائیں اور تو اور کسی کی مثال دینے نہیں آتی اللہ تعالی قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے طرح مزہ کا خیز تاریخ پر اس دعا کے ساتھ وہ باتیں اس طرح سے ذرا بیان کی جاتی ہیں کہ کوئی شریف انسان کسی محفل میں بھی نہیں اس کو بیان کر سکتا تو شاید خاکسار اس حوالے سے آپ سے فارغ سے جانا چاہے گا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر جو یہ ہے اور باقی اس الٹے اور غلط رنگ میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو فرمایا کہ پہلے میں مریم بنا پھر اس کے بعد میں خود بخود ہو کر ایسی بنا تو اس میں جو ان بیانات میں جو حقیقت ہے تو ہمیں بتائیں یہ جو آپ نے فرمایا اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ ہے کہ یہ معاملات پر روحانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں عمومی طور پر ان سے واقف نہیں ہوتے لیکن جو علماء ہیں جو واقف ہوتے ہیں کی طرف سے اب تک ہے وہ تو وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کا طریقہ اب میں اللہ تعالی نے کافروں کی مثال بھی بیان فرمائی ہے اور مومنوں کی مثال بھی بیان فرمائی ہے لیکن کی مثال بھی دو اور تم سے بھی ہے یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی کی بیوی سے جو کام پر ہوتے ہیں ان کی طرح ہوتی ہیں کیوں کے ان کے گھر میں نبوت اللہ تعالی نے ان کو عطا کی تھی ایسا لیکن گھر میں نبوت ہونے کے باوجود غور کرنے سے معلوم رہی اور خدا تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنیں اور اسی طرح پھر جہاں تک مومنوں کا تعلق ہے ان کو بھی دو عورتوں سے تشبیہ دی اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کو مسلہ دینا امن اس کا مطلب مالی امداد کا بہترین ترجمہ مومنوں کی مثال بیان کر رہا ہے جس کے ساتھ پھر ان کی بیوی کے ساتھ جب اس نے کہا کہ میرے خدا میرے لئے ورنہ نہیں فرعون عوامل ہیں بندہ نہیں ملا قومی تعلیمی اور مجھے فرعون اور اس کے عمل ظالم کو ظلم سے نجات دے مجھے دوسری مثال دیں و مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا کلمات سے لمبے ہیں وہی مکانات میں ناکام رہتی دوسری مثال مومنوں کی مریم بنت عمران کے ساتھ ہے جس نے اپنی شرم گاہ کی اس نے اللہ تعالی کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کانت من القانتین والقانتات نے فرمایا یہ بھی قابل غور ہے یہ وہ عورت تھی لیکن جو کھانے پینے ہے وہ بھی اس عورت کی طرح ہی ہیں اب یہاں دو اللہ تعالی بیان فرمایا ہے کہ مطالعہ اگر کوئی مومن ہے تو وہ یا تو مریم ہے اسے اپنے اندر رکھتا ہے یا پھر ان کی بیوی کی سیکس اگر ان دونوں میں سے کوئی فتوحات یار اتنا اپنے اندر نہیں رکھتا کو یہ آیات بتا رہی ہیں وہ مومن ہو ہی نہیں سکتا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی کا نام محمد مصطفی کابل پاک یہ بشارت دی کہ وہ آئیں گے وہ نازل ہوں گے تو پھر اب سوال یہ ہے کہ کیا اسی طرح ناکام ہوں گے جس کا کہا گیا ہے یا اس کے نازل ہونے سے مراد کچھ اور ہے اگر تو حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر تو وہی نازل ہوں گے اسلام کی وفات قرآن و حدیث سے ثابت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب وہ نازل نہیں ہوں گے تو اس کی ایک مثال حضرت عیسی علیہ السلام دے چکے ہیں کہ اس سے پہلے یہودیوں میں ان کو تشبیہ دی گئی ہے مسلمانوں کے ساتھ ان میں بھی ایک نبی کے آنے کا عقیدہ تھا اور اب بھی ہے اور وہ اور اس کی وضاحت خود حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایران وہ نہیں ہے وہ انڈیا کے نام پر آنا تھا نہ کہ لیا نے خود آنا تھا کرلیں کہ کسی کے آنے سے مراد کیا ہوتا ہے اب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد نہیں آئیں گے بلکہ اسی امت میں سے کسی کو ابن مریم بنایا جائے گا میں نے عرض کیا اللہ تعالی بیان فرما رہا ہے کہ مومن دو ہی قسم کی بیوی کی طرح ہے اس پر سارا دن یا اس طرح بند کمرے میں حالت رکھتے ہیں اب مومنوں میں سے ہیں اللہ نے کسی کو بنانا ہے یہ ذمہ داری سونپ نہیں ہے ابن مریم بنا کے وہ اسلام کی محمد مصطفی صلی اللہ وسلم کے دین کو آگے پھیلائے تو ان دو مومنوں میں سے آپ خود غور کریں کون سا مومن ہونا چاہیے یا پھر ان کے بیوی پھر کل بات ہے کہ اگر ابن مریم بنانا ہے تو پھر مریم حیثیت رکھنے والا مومن نہیں بن سکتا ہے ابھی موجود ہیں تو پھر میں نہیں جاتا اللہ تعالی نے ایک ذمہ داری دینی تھی اسی امت کے ایک بندے کی ہے جس نے ابن مریم بننا تھا اور آنحضور صلی وسلم کے دین کی اشاعت کرنی تھی گاڑی کو کیا کہتے ہیں اب جو کامل کا لفظ استعمال کیا حضرت مریم علیہ السلام نے حمل کیسے ہیں بوجھ کو وہ بوجھ جو ظاہری پہنچ بھی ہو سکتے ہیں بہت ذمہ داری کا بوجھ بھی ہوتا ہے کریم میں سورہ بقرہ کی آخری آیات دیکھیں اس نے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ دعا کے کھاتا ہے کہ ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلکم کہا خدا ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈالنا یعنی ایسی ذمہ داری نہ ڈالنا جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں کے پڑھ لیتے ہیں فرمایا حالات یہ ایک مرتبہ ہمارے اوپر وہ ذمہ داری نہ ڈالنا جس کے اٹھانے کی نہیں ہے وہ ملک سے مراد ذمہ داری کا اٹھانا بھی ہے اور روحانی امور میں یہ ذمہ داری اٹھانا لفظ عمل سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے کھانے پینے میں دوسری جگہ اللہ تعالی سورہ جمعہ میں فرماتے ہیں کہ ماشاءاللہ زبردست آتا صنم وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اب بھی عمل کا لفظ ہے یہ ذمہ داری کو نہیں اٹھایا حامل کا مطلب یہ ہوا بیماریوں ڈالنا حضرت علی کے اس کا ذمہ داری اٹھانا یہاں جلا کہ مومن دو قسم کے ہیں آپ یہ فرعون کی بیوی یا مریم کی طرح اللہ تعالی انہیں میں سے کسی کو ابن مریم بنائے گا اس کے اوپر ابن مریم ہونے کی ذمہ داری کو کہتے ہیں عمل کرنا اس کو اس کے اوپر یہ ذمہ داری ڈالے گا جب ذمہ داری ڈال دے گا اپنی روح کے اندر اس کے بعد وہ ابن مریم کو جائے گا وہی ابن مریم کہنا یہی بات حضرت مسیح علیہ اسلام نے اپنی کتب میں بیان فرمائی ہے کہ میں مدت سے ابنِ مریم کی حالت میں تھا یعنی میں ان دنوں سے تعلق رکھتا تھا جو مریمی حالت کے معنی میرے اوپر یہ ذمہ داری ڈالی اور ذمہ داری فرائض کا استعمال فرمایا خاوند 16 یہاں کی تصویر یہ عمل کی وجہ سے ہوتی ہے اور گویا اس کے بعد پھر مجھے ابن مریم برطانوی آف پے مریم ہی نہیں ابن مریم کا بچہ دیا ابھی صرف سمجھانے اسلام نے بیان فرمایا میں مریم بنا یہ قرآن سے ثابت ہے ہر مومن مریم ہے وہ مومن نہیں اور پھر اس کے اوپر اللہ نے نخروہ کرنے کی اس کے اوپر ذمہ داری ڈال دیں اس طرح متاثر نہ کر سکے مجھے ہیں حامل ہوتے ہیں عورتیں ہوتی ہیں اس طرح مجھے بھی اللہ تعالی نے یہ ذمہ داری ڈالی روحانی طور پر تم مجھے ہی خدا تعالیٰ نے اس امت میں اتنے مریم بنا دیا کہ اس کو جو قرآن کا اس میں اگر بالکل اسی طرح کر کے دکھایا ہے اس کے ساتھ ذکر کرنا یہ مناسب نہیں ہے اس سے پہلے کوئی اور لوگ بھی اس چیز کو سمجھتے پھر میں صرف ایک حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا کتاب چھپی ہے اس کا نام ہے عرفان اور اس کے لکھنے والے ہیں سلطان اور وقار فقیر محمد سروری قادری اس کے اس عمل میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتے ہیں ملتے ہیں کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود حکم اسم اللہ ذات نے پھلنے پھولنے کا کام شروع کیا اور اپنے ارد گرد نزول بہی کے آثار محسوس کیے مریم کی طرح صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باطن میں حملے بہی کی بے واسطہ کال کو معلوم کیا اب یہ الفاظ پر غور فرمائیے یہ فقیر محمد صاحب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو علماء حضرت موسی علیہ السلام کے اوپر تمسخر کرتے ہیں نہ وہ یہ الفاظ سن لیں پڑھ لیں اور اس کے بعد پھر جو مرضی کہتے رہیں لکھتے ہیں کہ یعنی مریم کی طرح آپ صلی اللہ وسلم نے اپنے بعد پہلے بھی کئی بار کال کو معلوم کیا بمقتضائے فہم علاقہ و فن کا مذاق نہیں مکان کریں نبی کریم کی حضرت مریم علیہ السلام کے بارے میں اس میں شامل ہوا پھر وہ اس کو لے کے ایک دور کے مقام پر چلی گئی تو یہ اس آیت کے لکھنے کے بعد ملتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشت و بیابان کا رخ کیا اور آبادی ایک پہاڑ کے غار میں جیسے گانے ہیرا کہتے ہیں جا کر موقع اور گوشہ نشین ہوئے اور بعد میں توہم کے سیکھنے اور پھوٹنے اور روحانی اسی کے بدلے حمل عورت ولد ہونے کے انتظار میں باہر یہ میں دوبارہ پڑھ دیتا ہوں وہ لکھتے ہیں کہ ایک پہاڑ کے غار میں جسے غار حرا کہتے ہیں ڈاکٹر محمد اقبال رویے اور باپ نے تخم کے چنے اور فروٹ نے آٹھ روحانی اسی کے بعد حمل عورت بلند ہونے کے انتظار میں کیا کرتے تھے اور کئی روز بیٹھے رہتے تھے ایک دن جبریل امین اس نوری تو من اسم اللہ ذات کو پانی دینے کے لیے احرام باندھنے چشمہ حیات اپنے سینے میں بھر کے لائے حضور صلی اللہ وسلم کے سینے کے تیل میں ملا کر آپ کو زور سے دبایا اور کہاں اقرار اور آپ فرماتے ہیں ان علی صاحب کاران اور پھر آگے وہ سارے لوگ ہی کیفیت ہے وہ لکھ ان میں جو بات کرنے لگا ہوں یہ مولوی فقیر اللہ صاحب نے عرفان 03 حصہ اول کے بابرکت رات میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام نے بیان لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد پر تمسخر کردیا جاتا ہے اب جو تم چھوڑ کر اتباع کو پڑھیں کہ کیا یہ باقی درست ہے یا نہیں ہے ایک آدمی یہ ہے باقی ہے کہ آپ قرآن کریم بھی مریم اور اماں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں جو میں نے ابھی آپ کے سامنے پیش کی ہے اس میں مریم اور ابن مریم کر رہے ہیں سارے کا سارا اس کی تشریح یہ ہے کہ اس سے مراد ظاہری طور پر مریم نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو مریم اور ابن مریم کی ہے مراد ہے قرآن بھی ہے مراد لیتا ہے پیار اتنا نہ دیس میں بھی اسی طرح تنگ ہی مراد ہے اور بزرگان بھی بھی عمران دے رہے ہیں تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ میں قرآن اور حدیث کو اس طرح کرنا چاہیے جی صاحب بہت بہت شکریہ جزاکم اللہ اس نظام میں بہت سی بات ہے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مختلف درجات کا ذکر کیا ہے یہاں پر ایک درجہ حرارت ایسا کبھی درجہ ہے اور جس تک حضرت علی علیہ السلام یہ ساری کل ہمیں اور جیسے آپ نے بہت اچھا ہمیں بتایا کہ اس حوالے سے یہ کوئی نیا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ جو تصویر ہے یہ پہلے بھی امت میں بزرگ کرنے والے ہیں واپس گزرے ہیں یہ درجات بیان کیے ہیں مرزا صاحب کا بیان کرتے ہیں مخالفین پر یہ استاد جلتے ہیں علوم قرآن کرنے کو شکست دی چلتے ہیں ناظرین آپ کے سوالات بھی پہنچ رہے ہیں اور زمان صاحب کا سارا ہے عبد الرشید صاحب ابھی ہم سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں ریاض احمد صاحب سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان سب سے پہلے ہم ٹی وی سب سے دور پاکستان سے ہمارے ساتھی یا رابطہ کر کے خلاف پیش کرنا چاہتے ہیں جی ڈاکٹر صاحب اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ گجرات آپ میرے دوست ملک ہے اقبال کی ایک نظم ہے تاکہ اگر ہمارے پاس موجود ہے اور نہ کرنا ابھی ہے یاد کے جنگل میں ہم کسی بھی فرقے میں پڑنے کی بجائے یا کی 2021 میں پڑنے کی بجائے یہ کافی نہیں قرآن پڑھنے اور نبی کریم صل وسلم کی احادیث اور تشریح اور ہم مطلب اور کی طرف نہ جائیں حمزہ آپ کے فعل کو بھی لے لیتے ہیں تو مقرر صاحب آپ نے سن لیا ہے تو بتا دیں جزاک اللہ بات یہ ہے کے اگر تو ہم نے اپنا مذہب خود بنانا ہو تو پھر تو میں اختیار ہے کہ جس چیز کو ہم چاہیں لے لیں جس چیز کو چاہیے نہ ن ہم نے جو اللہ نے بتایا ہے وہ ہے کہ جو نہ اتا کم الرسول فخذوہ ہو تمہیں بتلائے اس کو لینا ہے جس سے اس سے منع ہے اللہ سلم باوجود اس کے اقبال بلاک مدینہ کو واتممت علیکم نعمتی مکمل ہو گیا نا مکمل ہوں گے اس کے باوجود ایک آنے والے مسیح نبیلہ کی خبر دیتے ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں ہم نے اس کو نہیں لینا اگر یہ کہا جائے کہ قرآن کریم ہمارے پاس موجود ہے اللہ کے رسول کا اصل ہمارے پاس موجود ہے تو ہمیں فرقہ بازی میں پڑھنے کی ضرورت ہے جیسی ہے میں اس کو ماننے یا نہ ماننے کی کیا ضرورت ہے اگر جب حضور صلی اللہ وسلم کی وفات ہوئی وہ کہتے کہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ عثمان اور بعد میں علی رضی اللہ عنہ کے خلافت میں میں اس کے بارے میں فکر اللہ کے نبی کا کلام ہمارے پاس موجود ہے اللہ کا کلام قرآن کریم ہمارے پاس موجود ہے تو جس طرح قرآن کریم موجود ہونے کے باوجود کی باتیں اس وقت فیس بک پر اس میں موجود ہونے کے باوجود خلافت کو ماننا ضروری تھا اسی طرح جب اللہ کے رسول نے کہا ہے کہ باوجود سب کچھ موجود ہونے کے مسلمان آپس میں فرقہ بندی میں ملوث ہو جائیں گے جہاں پر فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکومت العاص مصر انعام اللہ کہ میری امت تو بہتر کی مدد سے لوگوں میں تقسیم ہو جائے گی تو میں اس وقت آپ کے لئے لازم ہے کہ تعلیم جماعت المسلمین امام ہند کے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ان کی ملنا ہے اسی میں ہی خیر اور برکت ہے ابن ماجہ میں بار حال یہ باقاعدہ طور پر اسلام کا حکم موجود ہے معاف فرمائے ہوں بات کرنی ہے اگر یہ تمہیں پہاڑوں کے طور پر سے چل کر جانا پڑے اسی زندگی معروف اہلحدیث عالم نواب صدیق حسن خان ان کی کتاب ہے جو عقلمند اس میں بغیر طور پر ایک حدیث لکھی ہے کہ جس نے آنے والے امام مہدی کا انکار کیا تو اُس نے کفر کیا ہے آلودہ میں بھی لکھا ہے کہ آنے والے امام مہدی کو ماننا ضروری ہے اور سارے مسلمان اس بات کو مانتے ہیں تو آج سے اسلام احمدیت کے بارے میں غور و فکر کرنے کے اپنے آپ پہلو نکالنا کے ہمیں کیا ضرورت پڑی اس یہ بات درست نہیں ہے جو اللہ کا اصول دے اس کو لینا ضروری ہے جس بات سے منع کرے اس سے منع بھی ضروری ہے بہت بہت شکریہ جزاک ملاحظہ فرمائیں کہ اس وقت عبدالرشید صاحب بھی ہیں کال پر یہ عبدالسلام حکومت لائیو کیسے بیٹا پروگرام کی ساری ٹیم اور حضور آپ کی خدمت میں محبت کو سلام تو میرا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے جو بھی ہے اس کے ساتھ روڈ پر مذاق کرتے ہیں عرب یہ ہے کہ جہاں تک تمام دوستوں کا جی پہنچ گیا آپ اس حوالے سے ہمیں بتا دیں یہ سب آپ کا یہ سوال پہنچ چکے ہیں ٹھیک ہے چھوٹے بچوں کے لیے لازمی نہیں ہو سکتی ہے اور نہیں بھی ہوسکتی الفت ہوتی ہے سچا نبی ہے اس کے ساتھ کو باہر حال ہنسی مذاق سمجھا بڑی ہے فلم سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے جیسے ابھی ہمارے محترم بزرگ نے جھوٹے نبی کا معاملہ سچے نبی کی مخالفت بہرحال ہوتی ہے اس کے ساتھ مذکر مونث مذکر مونث کس نے بنایا شیاطین ان کے والد نے کہا کہ ہر نبی کے سامنے دشمن بنائے شیطانوں میں تھے کہ نہیں جو جنّوں اور انسانوں میں سے جو بھی شیطان کی قسم کے لوگ تھے اور اسی طرح پھر دوسری جگہ بھی اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ازالہ کا ازالہ لکھ لے ہائے افسوس ہے لوگوں پر ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر یہاں سے تمام ذکر مایا احمد رسول نبی کے ساتھ ہو سکتا ہے تم سید بھی ہو اللہ کا نام بھی آتا ہے قرآن کریم سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جو بھی سچ ہے کیونکہ قرآن کریم بیان فرمایا نہ ہو بعض اوقات جھوٹے نبی آتے ہیں وہ جب دعویٰ کیا ہے تو اس کے ساتھ پورا گروہ تھا پوری جماعت کے اس تیاری کے ساتھ آپ نے کیا کرتے ہیں مثال کے طور پر اور اس کے بارے میں یہ نہیں آتا کہ کبھی اس کے ہمیں کم از کم علم نہیں ہے کونسی اکٹھا کیا گیا ہوں پھر وہی ہے لڑائی ہوئی ہے جس میں بعد میں وہ ہلاک ہوگیا اور تباہ و برباد ہو گیا جو جھوٹے کی جو نشانی ہے وہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جھوٹ یہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں حضرت موسی کے ضمن میں بھی فرمایا کہ دور سے ٹوٹا ہوا آیا اور اس نے یہی کہا کہ تم ایک آدمی کو کیوں اس لیے قتل کرتے ہو مارنا چاہتے ہو کہ وہ صرف استاد جی کیا حال ہیں یوسف باز نہیں آئے لیکن یہ دیکھو اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جواب کمال کی پڑ جائے گا کیا یہ کامیاب نہیں ہوگا تباہ و برباد ہو جائے گا ان کی کوششوں میں ڈراتا ہے وہ باغ آزاد تمہیں پکڑ لیں گے یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ جھوٹا ایک تو یہ کہ کامیاب نہیں ہوتا یہ قرآن لیکن یہ کہ اس کے ساتھ لازمی ہے کہ مذکورہ یہ لازمی نہیں ہے ہاں اگر ہوسکتا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہوں باپ کے ساتھ نہ ہو لیکن سچ ان کے بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کے ساتھ مذاق اور مصوری ٹھیک ہے شاہ صاحب بہت شکریہ جزاکم اللہ احسن الجزاء یا ہم اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں رحمت صاحب آپ سے درخواست کروں گا جو سوشل میڈیا پر آپ دیکھتے آرہے ہیں کہ پاکستان کی حکومت نے ایک نیا قانون پاس کیا ہے اور اس نے تو بڑی اچھی بات ہے رسوائی کی عظیم کا اظہار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ساتھ میں یہ قانون کے باپ کا نام نہیں ہے اب اس کے ساتھ اس میں پیغام دینے کے لئے کوشش کر رہے ہیں کہ گویا اس طرح سے انہوں نے احمد کو ایک بہت بڑی ایک بار کی اہمیت کے خلاف کے گویا وہ ختم نبوت کے خلاف میں اس کو مانتے نہیں تو مجبور ہو جائیں گے وہ اس کو استعمال کریں کریں کریں بتاتے آ رہے ہیں لیکن چونکہ یہ بات بار بار اس کو اٹھا کر لوگوں کو کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ہمارا جو موقف ہے جس کے بعد اسلام کا حسن کے مقام کے بارے میں اور آپ کی ختم نبوت کے بارے میں وہ کیا ہے طارق صاحب پنجاب قانون کا تعلق ہے جو قرارداد مختلف اسمبلیوں سے پاکستان میں پاس ہوئی ہے ان میں لکھا ہے کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھا جاتا ہے خاتم النبیین لکھا جائے عملی طور پر اگر کسی قرارداد کو پاکستان کے سیمنٹ کردیا جائے تجھے ممکن ہے اس کی وجہ سے پہلی بار دیکھیں قرآن کریم میں حضور صلی وسلم کا نام لے کر محمد کا لفظ چار دفعہ آیا ہے ایک جگہ پر کریں خاتم النبیین کا لقب ملا ہے باقی کسی جگہ رقم نہیں ہے ساتھ آج جو بھی پاکستان سے نیا قرآن کریم کب پیش ہوگا تو ہر جگہ وہ خاتمنبین کو ایڈ کریں گے دیکھیں گے اور فتح محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار فی ذکر کی عوام بھی ایڈ کریں گے کیا عمران نے بھی ایڈ کریں گے کیا سورہ محمد میں بھی ایڈ کریں گے تو عذاب الہی ہر احمدی اور غیراحمدی سارے مسلمان جانتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے لیے کلمہ جو اب تک معروف چلا رہا ہے حقیقت پر مبنی ہے وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو کیا آئندہ سے پاکستان میں کسی کو مسلمان نعوذ باللہ ہم یہ تصور کریں گے کہ پاکستان کے عوام کو مولویوں کو حکومت کو زیادہ پتا چل گیا کہ سچا مسلمان کیسے کرنا اس میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح پتہ نہیں تک مسلمان کیسے کرنا ہے نعت لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ مسلمان کہلائے گا تو آپ کو کیا انعام ملا یہ کہا جائے گا کہ لا الہ الا اللہ محمد خاتم النبیین رسول اللہ یحب المحسنین کرنا ممکن نہیں ہے جناب اس بات کا تعلق ہے شاید اس قانون کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم مدینہ سے اللہ ختم نبوت کے منکر ہیں یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے جس کو پنجابی میں کہتے ہیں چپ ہم تو اللہ تعالی علیہ السلام کے پاس تصنیفات موجود ہیں آپ کے اشتہارات موجود ہیں مکتوبات موجود ہیں اور موجودہ خلفاء کے تحریر ہزار ہا صفحات موجود ہیں ہمارا تو چیلنج ہے کہ کسی ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ان کا ہو کہ ہم روز قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم نبی نہیں مانتے تو پھر تم پہ فرض بنتا ہے ہمارا تو دعا کیجئے گا کہ ہم حقیقی طور پر خاتمنبین حضور صلی اللہ وسلم جانتے ہیں اور جو عرفان ہمیں اللہ تعالی نے مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے توسط سے دیا ہے وہ ان کو غیروں کو کچھ ہے یہ اس لیے اس موقع کی مناسبت سے میسج از مسیح موعود علیہ السلام کے بہترین اقتباسات پڑھ کے ساتھ رہتا ہوں تاکہ بانی جماعت احمدیہ کے اپنے الفاظ میں پتا چل جائے کہ آپ علم دین کی حقیقت کو سمجھنے والے تھے میری بے شمار ہیں آپ کی پہلی کتاب براہین احمدیہ آپ کی آخری کتاب تک میرا از مسیح موعود علیہ السلام کی جس دن وفات ہوئی 26 908 کو دن اخبار لاہور میں ایک ہندو کا خط شائع ہوا اس میں بھی ہے اسلام اپنی کتاب ازالہ ہاں میں سماتے ہیں ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیا کی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم فضلو توفیق باری تعالیٰ اس عالمی بحران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم نبیین ہیں وہ خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اب وہ تین مرتبہ اتمام پہنچ کی جس کے ذریعے سے انسان راہ راست اختیار کرکے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں او میری جماعت باجوہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتمنبین نہیں مانتے یہ ہم پر اتر آئے عظیم ہے ہم جس قوت یقین معرفت و بصیرت سے اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں نہ میں رہتا ہوں جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر آپ نے ایسا نہیں سمجھ کہ جو ان کے اپنے علماء ہیں اس کا ذکر گرامی کیا ہے میرے سر کی قسم میں نے اس سے بات پر روشنی ڈالی ہے مختصر اس بارے میں بھی اب کوئی جگہ کردیں تاکہ جگہ یہ بات صرف ایک ٹیم مقام نبی اللہ ہونے کا تعلق ہے ہمارا اور غیر ہم لوگوں کو کوئی اختلاف نہیں ہے غیر ہم دیکہتے ہیں کہ مسیح نبی اللہ نے خواب میں اسلام کے طور پر آنا ہے ہم بھی کہتے ہیں نبی اللہ نے خان نے اسلام کے طور پر انہیں جو قوم اسرائیل میں وجود میں اللہ تعالی کی طرف سے آئے تھے وہ آسمان پر ہیں انہوں نے واپس آنا ہم کہتے ہیں کہ ان کا حصہ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں خدا کا نام لینا تھا اور اللہ کے رسول اس کا نام نبیلا میں رکھا ہے موسم سوال کیا تھا کہ آنے والے ہمیں ماننے کی کیا ضرورت ہے جب قرآن موجود ہیں حدیث موجود ہیں تو میں 23 والے آپ کو پڑھ لیتا ہوں تاکہ پتہ لگ جائے کہ ہم نہیں کہتے جو ہے وہ نبی اللہ حی اللہ کے نبی توقع ہے کہ وہ آنے والا مسیح نبی اللہ ہم کہ ہم نے اس کو مانتے ہیں حدیث کی مشہور کتاب ہے صحیح مسلم باب کتاب کا نام کتاب الفتن باب ذکر الدجال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے دجال کے بالمقابل جس بندے کے ظہور کی خبر دی ہے اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے اگر اللہ کا صرف ایک دفعہ کہہ دو تمہارے لیے کافی ہے اللہ کے رسول نے چار دفعہ فرمایا نہیں وہ یار ول آ اس کے نبی اسحاق اور اس کے اصحاب کو گھیر لیا جائے گا صحابہ والا معاملہ حال ہوتا ہے میں فی الکعبہ اللہ من اصحاب معصومہ ع فی الادب العربی الحدیث چار دفاع ایک حدیث میں حضور صلی علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کو نبی اللہ تعالی جب اللہ کے رسول کو نبی اللہ کہتے ہیں ہماری کیا جرات ہے ہم اس کو نبیلہ نہیں معنی حدیث نہیں پاؤ گے قسم سے اداس موجود ہیں ایک اور حدیث میں آپ کو بتاتا ہوں ابو داؤد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لائسنس بھائی واہ نازل فائزہ رایتموہ فارم نہ میرے درمیان آنے والے ایسا کرنا اور کوئی نبی نہیں ہے نہ آنے والی صرف اللہ کہہ رہے ہیں اور ساتھیوں نہ ماننا جنون مضبوط ہونے والا ہے نازل ہونے والا ہے جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوئے پرائز بانڈ ہو فارغ ہو جب وہ آئے اس کو پہچاننا ہے تو وہ پہلے سوال کا جواب کے آنے والے حضور نے حضور صلی وسلم نے آنے والے مسیح کو ماننے اور پہچاننے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ نہیں ہےتا ہوں کہ قرآن شریف کی پہلی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوب کی طرح کا دیتا ہوں اور انشاء اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مطابق سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور جس بنا پر میں اپنے نبی کے لاتا ہوں وہ صرفیں مانتے ان کا ایسا ظرف بھی نہیں ہے وہ اس حقیقت اور اس کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگر اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے میں مگر ہم بصیرت عام سے اگر صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے اس عرفان کے شربت سے جو پلایا گیا ہے خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی کر ہی نہیں سکتا جو تم لوگوں کے چشمہ سے سیراب ہوتے ہیں غوث اعظم کی وفات والے دن جو خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اخبار عام لاہور میں شائع ہوا اس میں بھی حضور نے ختم نبوت کے بارے میں اپنا عقیدہ واضح لکھا جائے حضور کی وفات والدین جو آخری تحریر ہے اس میں فرماتے ہیں یہ جو الزام میرے پر لگایا جاتا ہے کہ گویا میسج نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ کی خبر حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے اللہ تعالی نے پیش کی کتاب خصائص الکبری علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پر موسی علیہ السلام اظہارکیا گیا خدا مجھے اس امت کا نبی بنا دے موسی علیہ السلام اللہ مجھے طلعت حسین کہ اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا اور مسلم رضی اللہ مجھے اس امت کا نبی نہیں بن سکتا ہے تو کم از کم اس امت کا جواب دے اللھم انا البحر اور تمہارا الجلالین جنت میں آپس میں جمع ہو سکتے ہیں صرف ہم نہیں بلکہ جو علمائے سلف ہے جس طرح آپ نے ابھی تک کیا یہ بھی اس بات کا اقرار کرتے رہے ہیں کہ آنے والا مسیحا نبی اللہ ہوگا مثال کے طور پر خود مختیار لکھا ہے کہ آنے والا ہے نبی نبی نبی ہو گیس علیہ السلام مرے اکثر مخالفین جو بڑھاپے اعتراضات کرتے ہیں وہ دیوبندی فرقہ سے بلو تعلق رکھتے ہیں جو بندیوں کے حکیم الامت کے علاقے اشرف علی تھانوی انہوں نے وہی جو میں نے اکثر کوبرا کی روایت پیش کی ترتیب کی گندی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ایک کتاب لکھی اس نے اس روایت کو نقل کیا ہے میں نے بھی آپ کے پاس ان کو بیان کیا کہ اس نعمت کا بندہ بنا دیا اور اللہ نے اس امت کا نام اسی طرح ہمارے ایک اور بڑا مخالف فرقہ اہل تشیع و اہل حدیث کو کہتے ہیں وہ نواب صدیق حسن صاحب صدیق وہ تیرے صدیقہ مسجد بھی کہتے ہیں ان کا بھی بارہا یہ قول ہے کہ آنے والا مسئلہ مسائل ہوں تو اپنی معروف کتاب الروح میں لکھتے ہیں کالا مسلمان نبوت ہیں فقط کافر حق ماسرہ بہ صوتی زبان ہوں بس نبوت فی حیاتی والا بعد الفاتحہ کہ جو شخص جماع کرتا ہے جو عقیدہ رکھتا ہے نبوت سے علیحدہ ہو کر آئیں گے وہ کھلا کافر ہے جیسا کہ نام سے کی ہے نصیب 12 النبی ہے لاگو ہوسکتا ہے اور نہ ہی ان کی وفات کے بعد آخری بات بیان کرنے کی کوشش کرتا وہ ہے کہ اللہ تعالی کو پتہ چلا کہ مسلمانوں نے اس قسم کے مسائل پیدا کرنے ہیں زبان سے اپنے ابدی کلام میں جو کلام موکل الفاظ محفوظ رکھے ہیں پیارے ہیں تم نے کہا تھا اجعلنی نبی جعلنی مبارکا اینما کنت اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے مبارک بنائے جہاں کہیں بھی ہو میں مسیحی کتاب پر ناز آئندہ ہوگا تو سٹیٹس نرمی کا قرآن ہے کہ سابق صدر بل اسٹیٹس نہیں کہ سابقہ وزیر اعظم دستگیر لنگا اللہ کے نبی بناتا ہے نبی رحمت اللہ کے رسول نے کا مسئلہ بنا ہے وہ مسیح نبی اللہ کے ہم قائل ہیں اور حسین رضی اللہ کے بارے میں کہا تھا اللہ تعالی نے قرآن کریم میں محمد کے لئے شرط لگائی ہے کہ اللہ کی عبادت کرنے والا ہوں اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں تو انبیاء سے دوکان شہداء اور صالحین میں سے مرتبہ پا سکے شکریہ ہمارے مخالفین جتنی مرضی توجیہات کر لیں ان نصوص کی موجودگی میں وہ ہرگز اس بات کا انکار نہیں کرسکتے کہ آنے والا جو مسئلہ ہوگا نبی اللہ ہو گا ایک چھوٹی سی باتیں آپ سے شیئر کر لیں آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب ہم حوالہ دیتے ہیں بن ابی اللہ یعنی خاتون کی کیا تعریف کی ہے اور آنے والے مسیح کا کیا مقام ہوگا تو اس حوالے سے بہت سے ایسے علم دین ملتی ہیں جو خود بھی یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ جو آپ نے بیان کی ہے مثلا اساتذہ کا عالمی دن ہے عربی کے حوالے سے ختم نبوت ختم نبین کی تشریح پیش کی ان کا موقف یہ تھا کہ کوئی نبی نہیں آسکتا جو رسول کے ساتھ شریعت کو منسوخ کر کے مجھ سے باہر ہوں اب کس بات یہ ہے کہ کیونکہ یہ چیزیں حضرت نصیبو درست اسلام کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں تو مخالفین تو یہاں تک بھی چلے جاتے ہیں کہ اپنے بزرگوں کا انکار کر دیتے ہیں بلکہ ان کتابوں کا انکار کرتے دکھائی دیتے ہیں کیا کہلاتے ہیں جو ایران میں علمائے نام نہاد ظالم آپ نے نمبردار کرنے والے وہ ان کتابوں کا انکار کرنا شروع کر دے تو ناظرین یہ ہے اصل میں وہاں چھوڑ جو لوگوں کا ہوتا ہے جن کے ہاتھ میں صداقت نہیں ہوتی وہ یہاں سے وہاں فرار ہوتے ہیں وہاں سے یہاں آتے ہیں اور بالکل ایک ایک نظریہ اور عقیدہ بنا کر سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں آزاد ہوتا ہے قرآن مجید کے خلاف ہوتا ہے تو وہ ہم آگے چلتے ہیں ہمارے ساتھ عارف زمان صاحب ہیں کال پر ہیں ہمارے پاس بہت سے سوالات کا یہی کوشش کریں گے وقت مجھے بہت ہو رہا ہے تو یہ بھی خوش ہونا چلیں تو عرفان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ سب سے پہلے پتہ پلان میرا چھوٹا سا سوال ہے ابھی محرم کا مہینہ چل رہا ہے اس حوالے سے روشنی ڈالی اور جماعت احمدیہ کا اس بارے میں کیا موقف ہے اور ہم خود کتنی تکلیف سے ان واقعات کی طرف دیکھتے ہی تو خان صاحب کرم اس درخواست کا اچھا ہمارے دوست شاعری شادی غیر ضروری ہے کہ ان کے سوال کے دو حصے ہیں کہ ایک تو ہم واقعہ کربلا کو کس طرح یہ کہ ہم کس طرح منائیں یہ دو مختلف چیزیں ہیں واقعہ کربلا کو دیکھنے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک بات وہی ہیں جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کے بارے میں یزید نے جو ظلم اور ستم کربلا کے میدان میں ان کی فوجوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام آپ کے بہت بڑا ظلم ہے جس کا تصور کرکے بھی انسان کو مختلف ہے لیکن سلام پیش کرنا کلیم امام کو نواسہ رسول کو جس نے صبر و استقامت کے ساتھ بہادری کے ساتھ اس ظلم کا مقابلہ کیا ان کے سامنے سر نہیں جھکایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ جب بھی کیا کرتے تھے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جایا کرتے تھے حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے اسلامباد میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور فرماتے ہیں کہ میری کھیل رہے تھے تو آپ نے ہمیں بلایا کہ اب میں تمہیں ایک کہانی سناؤں تو آپ نے ہمیں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ بیان فرمایا یہ بیان فرما رہے تھے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو رواں تھے انگلیوں کے پوروں سے تو آنسو پونچھتے جاتے تھے اس دوران آپ نے فرمایا کہ یزید پلید نے ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے کر لیا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جذبات تھے اور ہمارے جذبات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں بالکل اگر نہیں ہے اور پھر حضرت مسیح مجید میں فرماتے ہیں کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے اگر گالیاں دیں آپ کی عزت و آبرو پر حملہ نکالا اور قسم قسم کے نہ صرف الزایدی بلکہ ادائیں ایجاد کی تو کیا اس سے اسلام کی اشاعت میں اسی طرح حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابلے میں تمہیں گو اتنی قوت پکڑی ہیں کہ انہوں نے آپ کو شہید کردیا یزید آج بھی یزید ہے اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ آج حسین کہلاتے ہیں لوگ انہیں امام کہتے ہیں اور بادشاہت اور ان کی بادشاہت آج بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن یزید کی بادشاہت ایسی مٹی کی آج کوئی اپنے بچوں کا نام یزید رکھنا یزید کیسا اچھا نام ہے اس کے معنی اللہ کرے ہیں کہ اللہ تعالی بڑھاتا چلا جائے ہمارے پنجاب نام کتے ہیں جس کا عربی زبان میں ترجمہ کریں مگر کوئی شخص اپنے بچے کا نام یزید رکھنے کے لیے تیار نہیں یہ حضرت مسیح علیہ اسلام کے جذبات تھے کے جواب یزید کے بارے میں رکھتے تھے کہ بظاہر دیکھنے میں تو نام بہت اچھا ہے میں نے بہت اچھے ہیں عربی میں کے باوجود جو ظلم یزید نے کیا اس وجہ سے کوئی بھی نہیں یہ نام رکھنا پسند نہیں کرتا اپنے بچے کا یہی ادارہ تا کربلا کا میدان ظلم و ستم کا ایک ہتھیار بن چکا ہے حضرت امام حسین علیہ واٰلہ کا نام ہے وہ ظلم کا مقابلہ کرنے اور صبر و استقامت مصائب کو برداشت کرنے کے لیے تیار بن چکا ہے کربلا کا ذکر آئے گا تو کربلا میں ہونے والے ظلم کی ادائیگی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت تو عمر بھر مصائب کو کس طرح برداشت کرنا چاہیے بابری کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ میں اور ظلم کھڑے ہونا چاہیے جب یاد آئے گی ہمیں بھی یاد کو تازہ رکھیں اور اسی طرح بناتے ہیں بنانے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے ہمارے شیعہ دوست بناتے ہیں ہم اس بہانے بناتے ہیں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لڑائیاں بھی ہوئی جنگیں بھی ہوئیں صحابہ شہید بھی ہوئے لیکن آپ نے اس طرح یہ کسی بھی یہ صحابی کی شہادت کو اس انداز میں نہیں بنایا اور آج بھی جماعت احمدیہ کے ہاں شہادتیں ہیں بہت بڑے بڑے song بالکل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے صبر اور ان شہادتوں کو قبول کیا ہے اور یہی دعوت اسلام کا طریقہ ہے اسی کے مطابق ہم مناتے ہیں ایک حدیث میں آتی ہے کہ جب یوم عاشوراء ہوتا تھا تو فلم اس دن روزہ رکھنا وہ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس دن روزہ رکھا ہے کثرت سے جیسا کہ اگر تکلیف حدیث اللہ تعالی مزید میں خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا اس طرف توجہ دلائی ہے کے ساتھ درود شریف پڑھیں دعائیں کریں اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے بھی مسٹر چلنے والے تمام مومنین کے لیے کہ اللہ تعالی سب کو صبر اور عطا فرما اور ان کی حفاظت کی توفیق عطا فرماتا ہے بہت بہت شکریہ جزاک اللہ اس نظام کے نام ہمارا پروگرام بھی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے آخر پر آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش ایک حضرموت اسلام کا پیش کرنا ہم نے اپنے گزشتہ پروگرام میں بھی بار بار مخالفین بلکہ یہ یہ کس طرح سے احمدی ترقی اور اس کو اس رنگ میں وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ترقی کوئی یعنی وہ بلکہ بعض مخالفین میں نظر آئے جنہوں نے کہا کہ بعض اوقات اکثریت بھی ہوتی ہے مسلسل کی سزا کے خلاف لوگ تھے اور مسلمانوں کی تعداد میں کتنی جلدی ترقی کی تھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا معمہ ہے خدا تعالی نے قرآن مجید میں یہ وحید بھی ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کی طرف منسوب کرے خدا کی طرف منسوب کرکے علامات اپنے بیان کرے اور نبوت کا دعوی کرے تو ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ خود عالم اسلام کا ایک بار آپ کے سامنے ہے خدا تعالی نے مجھے بار بار خبر دے گا مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دل میں بیٹھے گا اس سلسلے کی تمام زمین میں پھیلے گا اور سب سڑکوں پر میرے کو غرق کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اپنے دلائل جو انسانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے چشمے سے پانی پیے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑے گا اور پھیلے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائے گا بہت سی روکے پیدا ہوگی اور اتنا ہی آئیں گی اور خدا سب کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اپنے بعد اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تجھے بھلا دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے کرنے والوں باتوں کو یاد رکھو اور انگلش بلیو کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا میں اپنے نفس میں کوئی نہیں دیکھتا میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا میں نے تو صرف ایک نہایت کمزور سمجھتا ہوں یہ میرا خدا کا فضل ہے اس اصطلاح کا در کریم کا ہزار شکر ہے کہ اس مشت خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنگم یوکے قبول کیا تو ین آپ کے سامنے اس تمام صورت حال ہے آپ خود دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ ایک ایسے شخص کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے اس کی جماعت کے ساتھ کیا آپ کو اس منصب کھڑا کر رہی ہے جو ایک نبی کے لئے تھا تو ہم انشاءاللہ آپ نے سندھ پولیس جاب اس وقت میں حاضر ہوں گے آپ کے سوالات ہمارے پاس آئے ہوئے ہیں ہم خوش ہیں ان کو بھی شامل کریں تو تب تک کے لئے اسلام علیکم ورحمۃ اللہ ہمارے ہیں ان سب کا بہت شکر گزار ہوں ہم تو رکھتے ہیں سلیمان و بلقیس ہم تو رکھتے ہیں ندیم دل سے غلام رفیع سنی

 36 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: