Justification for Multiple Marriages in Islam (Urdu)




Justification for Multiple Marriages in Islam (Urdu)

اسلام میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت پر اعتراض کا جواب

Uploaded on Mar 8, 2009

کیا یہ سوال میرے بھائی نے کیا ہے ان کے پاس مودودی کی تفہیم القرآن ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اسلام میں چار بیویوں کے علاوہ رکھنا جائز ہے تو سوال کرنے والوں نے ان سے یہاں کے ویسٹرن کلچر جو ہے اس میں رہنے والے بچے اس کے حوالے سے یہ پوچھتے ہیں کہ چار بیویوں کے کیا جسٹیفیکیشن ہے اور اس کے اوپر سے لونیوالا کیا حکم ہے کیا دوسری بھی لانا پہلے کے لئے انفر نہیں اور انسانی فطرت کے خلاف نہیں ہے اس نے بہت تفصیل سے مختلف مجالس سوال و جواب میں ہوتی رہی ہیں وہ روشنی ڈالی ہے اس کا مثبت جواب ہے کا اندازہ تھا کہ اسلام کا بستر پر پڑے ہو جاتا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے جواب دیا ہے اس سے بات کرتا ہوں مگر اس مگر اس کے بعد شروع کرنے سے پہلے یہ بتا دو کہ مولانا مودودی کے ساتھ سے اس معاملے میں مجھے نہیں ہے ہے کہ آج کل کے زمانے میں اسلام قرآن کریم کے بیان کردہ حالات اخلاق پر آرہے ہیں وہ حالات عضلات پا رہے ہیں جن میں ان کی غلامی کے خلاف ہے ہے آزادی کا علمبردار ہے اور جہاں بھی بلانے کی بات ہوئی ہے وہ افسوس کے ساتھ ان جنگوں میں غلام بننے والوں کی جگہ والا ہے جو غلام بنائے جاتے ہیں دونوں طرف سے بنائے جاتے تھے اس زمانے میں کوئی ایسا انتظام نہیں تھا کہ وہ کیمپس وہ یہاں ہزاروں عورتوں کو اکٹھا رکھا جائے آئے وہ زمانہ کیسا تھا کہ قیدی تقسیم کیے جاتے تھے اور بھی تھے اور اگر اس خصوصی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر مناسب حال حکم جاری نہ ہوتا تو سارا معاشرہ کی قسم کی بچیوں سے بھر جاتا ہے ہے اور پھر یہ بھی یاد رکھیں کہ مقابل پر دشمنوں ہی کرتا تھا عطا مومن کسی کے قیدیوں سے سلوک کرتا ہے تو عمومی طور پر صرف ان لوگوں کے نزدیک مناسب ہو یا نہ مناسب ہوں ایک جنگ کا قانون ہے یہ جنگ کے عدل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جب یہ دل کا تقاضا یہ ہے کہ جس میں تم سے ایک زیادتی کرتا ہے تو تم اسی حد تک زیادتی کر سکتے ہو ہو لیکن اسلام میں یہ زیادتی تھی کہ اس قواعد اور پابندیوں کے تابع ہیں وہ دشمن جو اس زمانے میں دوسرے ملکوں کے قیدیوں پر دسترس رکھتے تھے التجا کرتے تھے وہ اس طرح کے مظالم نقل کرتے تھے تھے اور اسلام نے ان کی اجازت نہیں دی کھو تو اسلام کو بھی اجازت نہیں بہیمانہ کامیاب کاروائیاں استقبال کریں جب تک وہ اپنے ہمارے مسلمان قیدیوں پر کیا کرتے تھے مثلاً کے دوران غسل کرنا چہرہ بگاڑنا اور کس نے کی بشارت دی تھی تھی کہ اسلام ان کی اجازت مل گئی غلاموں کے متعلق یہ تاکید فرمائی آئی کہ تمہارے پاس ہی رہیں مگر بندے خدا کے ہیں اور تم آمین ہو تم ان کے بارے میں جوابدہ ہوں گے  آگے تمہارے لئے ضروری ہے کہ جو جو خود کھاتے ہو ویسے ہی ان کو اور اگر تم نے ان پر جاتی تھی خدا کے حضور پہنچ جاؤ گے جو والا حصہ ہے اس کی اجازت دینا اس لیے ایک مجبوری تھی سو میں بچیوں اور ان کے بارے میں کوئی ایسی تعلیم نہ دی جاتی تو خطرہ تھا کہ سارے معاشرے میں بات بنیاد پر جائیں گے اس لئے اللہ تعالی جو مالک ہے وہ شادی کے قانون کو سب سے زیادہ حقدار کیوں بنائے آئے گا ایک غلط تصور میں موجود ہے اگر واقعی یہ خدا کی طرف سے ہے جس سے شادی جائز ہے اسے یہ بھی جائز ہے ہے یہ ہے کہ اللہ تعالی یہ تو حق ہے ایک بیوی کی اجازت دے دو بیویوں کی اجازت دے دے مگر یہ حق نہیں ہے کہ شادی کا ایک اور طریقہ رائج کر دیں اسلامی قوانین ہیں ان کا ماخذ کیا ہےکیا کرتا تھا مسلمانوں نے اسے بہت کم کر لیا تو میں کیا تکلیف ہے لیکن کوئی مستقر قیدیوں کو بنانے کا اور بیچنے اور خریدنے کا ایسا نظام قرآن کریم جاری فرمایا جو ہمیشہ کے لئے اسی لونڈے سے اس کے مالک کا بچہ پیدا ہو جاتا ہے اگر کوئی غلام یہ چاہتا ہے کہ میں ناراض ہوں اس وجہ سے نہیں ہے کیونکہ ان کو رکھنے کا انتظام ہوا کرتا تھا اس کا ایک ذریعہ ہوا کرتا تھا اللہ تعالی نے یہ بھی حکم پابند کردیا مسلمانوں کو کوئی غلط فہمی ہے کہ میں اس وقت نہیں دے سکتا مگر میں کما کے دے دوں گا اور مالک انکار کرے تو وقت کے خلیفہ یا امام کو یہ حق حاصل ہے کہ زبردستی اس کو آزاد کروائیں اور یہ دیکھیں کہ جس بت کو توفیق ملے اس کے اندر رہتے ہوئے کریں پھر ہر قسم کے گناہوں کے میں  میں صرف یہ دیکھنا بھی معافی کی کہ غلام بھی آغاز کو اتنے غلام آزاد کرو آزادی کی شاعری میں ملتے ہیں غلام بنانے کا کوئی ذریعہ نہ دکھائی دیتا ہے اس میں دشمن پہل کرے گا تو موقع ملے گا بس ایک ایسا برتن جس میں داخل ہونے کے راستے بہت ہی تنگ ہو اور شاید ہو اور اسے لے کر جانا اور مسلمان کے طور پر اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے تو کسی غلامی کا کوئی سوال باقی رہ جاتا تھا بعد میں لوگوں نے اپنے نفس کے بہانے بنا کر غلامی کو جاری رکھنے کے لیے ادھر کراچی ہی میں ملتا ہے کسی کو غلام بنانا محمد حسین کو آتے ہوئے ہر گز جائز نہیں ہے جب تک کہ سورج نہ کریں جنگ بھی معمول یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے غلام بنا لیا یا خدا کا ذکر ہے اور وہ جنگ اس میں یہ بات مجھ میں ہے شامل ہے لازما حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ملاقات ہوئی تھی تو جنگ کرنے کا اختیار نہیں ہے سوائے اس کے دشمنوں سے اور پھر قیدیوں صف بنانا ہے جب وہ واقعتا سنگین مولانا مودودی صاحب نے جو تصور پیش کیا ہے وہ بالکل غلط ہے یہ بیان نہیں کرتا اور اس زمانے میں مجھے نظر نہیں آرہی جو مذہب کو مٹانے کے لیے لیے گلی جا رہی ہو اور اس میں مسلمان خواتین سے وہ سلوک کیا جا رہا ہوں کہ ان کو روڈ بنایا جا رہا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ اجازت حاصل کریں اس لیے ایک تو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ مولانا مودودی صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے یہ درست نہیں ہے اور غلامی تعلیم کی تعلیم کے متعلق غلط تاثرات قائم ہے اسلام تو آزادی کا آزادی انسانیت کا علمبردار ہے ہے بلکہ جو غلاموں کو آزاد بھی کرتے ہیں ان کے متعلق قرآن کریم میں بڑے سخت استعمال ہوئے ہیں ہیں تلخ بہت دن ہوئے ہیں ایسے وقت نے جو سکتے ہیں وہ ہیں جو چاروں صوبوں کو اٹھاتے ہیں جو آزاد کرتے ہیں آزادی کی مہم کا نام ہی سچا ایمان ہے اور غلامی مجبوری کے اصطلاحی اس کے سوا کوئی نہیں یہ سوال بھی کرتا ہوں یورپ آج کے بعد کال کرتا ہے ان کو یہ تو نظر آجاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ عورتیں ہوں تو میری بیوی کی دل شکنی ہو گی لیکن یہ بھی دکھائی دیتا ہے ایک شادی کی ایک عورت کو رکھ کر اس کے حقوق ادا کر کے اس کے ساتھ تعلق قائم کرنا پھر ان کو خوش رکھے اور یہ دکھائی دیتی ہے مگر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہو معاشرے میں ہر طرف بے حیائی عام ہو جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لڑکی کی آواز ہے ایسے لوگوں سے سوال کر کے اسلام سے لوگوں کو وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایک لڑکے نے اپنی طرف سے بڑے طنز کے ساتھ لیکن جب ان سے پوچھا کہ سنا ہے تمہارے چاند سے ہوتی ہیں تو اس نے کہا کہ میں نے آپ کے فاضل ہوتے ہیں چار ماہ میں تمہارے ساتھ بات ہوتے ہیں اس سے بھی زیادہ استعمال تو نہیں جاتی ہر جنگ کے بعد ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے نتیجے میں ان کے معاشرے پر سجدہ کرتے ہیں ہیں اس بات کو بیان کی ہے اگر پڑھنا ہو تو کیسے پڑھا جائے ہے

 226 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: