𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐨𝐟 𝐇𝐚𝐳𝐫𝐚𝐭 𝐅𝐚𝐭𝐢𝐦𝐚 (𝐫𝐚) – 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞




𝐂𝐨𝐧𝐭𝐞𝐦𝐩𝐭 𝐨𝐟 𝐇𝐚𝐳𝐫𝐚𝐭 𝐅𝐚𝐭𝐢𝐦𝐚 (𝐫𝐚) – 𝐑𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐞

(توہینِ حضرت فاطمہؓ کے الزام کا مدلل جواب)

Uploaded on Sep 5, 2021

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جوابات کا سلسلہ جاری ہے سٹوڈیو میں خاکسار عبدالوہاب کے ساتھ محترم مولانا حاجی علی چودھری صاحب شاملہ گفتگو ہوں گے ان شاء اللہ عنہ پر اعتراضات کے جواب دیں گے صاحب براہین احمدیہ سے ہی ایک کوشش ہے از مسیح علیہ السلام کا جو لیا گیا ہے اس کے مخالفین کے فرائض کرتے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک شخص کا ذکر فرمایا ہے جس میں فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے مادر مہربان کی طرح آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا سر اپنی ران میں رکھا ہے اس میں اٹھایا جاتا ہے طوفانِ بدتمیزی اٹھایا جاتا ہے کہ حضرت فاطمہ کی ایسی کی توہین کر دی جو ناقابل برداشت ہے اس کے بارے میں کچھ بتائیں ان کی برداشت نہ کیا جائے جس میں اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدالمسیح مود یہ حصہ چہارم کے صفا 598 سے 599 دونوں صفوں پر یہ کشش مذکور ہے ہے اس کا مکمل ذکر کر دیتا ہوں ذرا سی اسلام کی تاریخ سے آپ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم آج نے اس کثرت سے درود شریف پڑھنا کے دل و جان اس سے معطر ہو گیا اسی رات خواب میں دیکھا کہ اب زلال کی شکل پر نور کی مشقیں مساجد کے مکان میں لے آتے ہیں ہیں اور ایک نے کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد صلی اللہ کی طرف بھیجی تھی اور ایسا ہی عجیب ہے اور قصہ یاد آیا کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنی یہ تھے کہ ملا ہے علی کے لوگ حکومت میں ہیں ہے ہی ہے لیکن ہر نوس الا اللہ پر ہم ہیں ظاہر کی کہ تین ظاہر نہیں ہوئی اس لیے وہ اختلاف میں ہے اسی اثنا میں ایک کرتے ہیں اور ایک شخص آج کے سامنے آیا اور اشارے سے کہا جو ہیں وہ رسول اللہ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے محبت رکھتا ہے اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط لازم مسودے کی محبت رسول ہیں نہیں سونا شرط ہے اور ایسا ہی الہام میں متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے اس میں بھی یہی رہے ہے کہ آج ہی انوار الہی میں محبت اہل بیت نعت کو بھی نہایت عظیم داخل ہے طبیعت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے اور جو شہرت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ہے ہے اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد حین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبتہ سے جو خفیف سے نشہ سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا تو خوابوں کا ذکر کیا ہے اب یہ ایک شخص تھا اور بہت ہی لطیف پہ جو اینڈ بیداری میں ھوا ھےکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا پھر بعد اس کے پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی جس کی نسبت یہ بتایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی رضی اللہ انہوں نے تالیف کیا ہے اور اب علی رضی اللہ عنہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے الحمدللہ الحمدللہ تو یہ وہ شخص ہے جو تفصیل میں اور اس میں دیکھیں گے ایک تو کچھ بھی حالت ہے دوسرا فرمایا کہ یاد پڑتا ہے کہ اس دفعہ بھائی وہ بھی واضح نہیں ہے ایسی حالت ہے جس میں مبہم ہے ہے تو مگر اگر فاطمہ مادر مہربان کی ہے کہ پانچ لوگ آتے ہیں اور وہ کھڑے ہیں السلام ایک بچے کی صورت میں ہے جو حضرت فاطمہ کے نام تک پہنچے کھڑے ہوں اور یہ عمل ہوتا ہے گھر میں ہی چمکتے ہیں تو اس طرح الصلاۃ والسلام کے ساتھ ہو نے اپنے ساتھ لگایا یہ منظر ہے تو اس پر کیا ہے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ جو خواب یا کشف کی صورت ہوتی ہے اس میں کیا ہے جب کرانے کے لئے بیان فرماتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے اللہ ہو یا طوفان تو سہی نہ ہوتا اللہ کی روح کو قبض کرتا ہے روح کو قبض کرتا ہے فی منامہا کی روح قبض کرتا ہے ان کی نیند میں میں نے کہا جاتا ہے لاعلاج اور جس پر پر فیصلہ نہیں ہوتا موت کا اس کی روح واپس کر دیتا ہے ہے تو جب روح اللہ کے قبضے میں ہے نیند کے وقت بھی ابھی تو انسان تو ویسے آپ پھر جو دیکھا تا ہے اللہ تعالی دکھاتا ہے ہے اب یہ خوابوں کا سلسلہ اس میں بھی کئی چیزیں ہیں قرآن کریم میں فرماتا کا ذکر یوسف علیہ السلام کے قصے میں آتا ہے وہ شیطانی ہے نقصان بھی ہوتی ہیں شیطان بھی ہوتی ہیں اور رحمان نہیں ہوتی تو جو رہو اللہ کے قبضے میں ہوتی ہے اللہ تعالی اس کو رحمانی وہ آدمی ہے نیک آدمی ہے تو اس پر ہماری خواب آئے گی تو یہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں جائے تو انسان سے بڑی ہے اس کو خدا کیا دکھاتا ہے اس سے ہے تو نہیں لگ سکتا اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روپے الکلام الثلاثی تین آدمیوں سے اللہ تعالی نے قلم کو اٹھا لیا یا نہیں ان پر فیصلہ صادر نہیں فرماتا ہے کہ نہیں ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا کوئی الزام نہیں آتا اور وہ کیا ہیں یہ ثبوت کتاب الحدود اور سنن النسائی کتاب الطلاق اس میں وسلم کی طرف سے یہ روایت آئی ہے القلم عن ثلاث من تین آدمیوں سے قلم اٹھا لی گئی ہیں ان نعیمیہ ٹیسٹ مذاق عشق وہ شخص جو سویا ہوا ہے اللہ تعالی کا فیصلہ استاد نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ جاکر جو کام کرے گا وہ اللہ تعالی کی گرفت آئے گی اجر ملے گا میرا رب چاہے وہ بڑا ہو جائے کل فوجی حکام کے اور روحانی جنونی عن المجنون حتی یعقل اور پاگل مجنون یا تک اس کو عقل آ جائے یا اس کو غرق ہوجائے تو اس میں میں جب قلم ہیں خدا تعالی نے اٹھالی اور نسیم سلام کو کس نے دکھایا جاتا ہے کیا بات ہے مکمل طور پر خدا کے قبضے میں ہے ہے تو پھر یہ لوگ کون ہوتے ہیں دراز کرنے والے یا حضرت موسی علیہ السلام پر الزام لگانے والے کا تو پتہ نہیں یہ تو خدا کے اختیار میںآپ کو بچے کی شکل میں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو مادر مہربان کی طرح اور اس میں بھی ایک تھوڑا سا ہے کہ معلوم ہوتا ہے یا بے وفا تو یہ اس کا شکر ہے اور اس میں تیسرا منظر دیکھیں درود شریف اور اہل بیت سے محبت کا وہ انتہائی درجہ ہے جس سے آپ نے یہ اللہ تعالی سے ورثہ پایا ہے اور پاک طیبین ہوتا ہے اس کے بدلے میں یہ ملا ہے اب اس میں ہنسنے والی بات کر دی آپ نے ساری کے میری کیفیت کیا تھی باتیں مشترک ہیں ہے یہ اسلام کے لئے کشش ہے اور میں آپ کے سامنے باغوں میں پیش کروں گا ان میں دو باتیں مشترک ہے ایک یہ کہ یہ خواب میں ہے یا میں اور دوسرے یہ کے خواب میں خود کو انہوں نے بچے کی حالت میں دیکھا ہے ہے تمہیں ان میں دو فیصلے یہ اس حدیث کے اس فرمان کے مطابق ایک سوئے ہوئے اور دوسرا بچے کی حالت میں ان دونوں پر قلم نہیں چلتی کوئی الزام نہیں آتا اس کا مطلب ہے تلاوت کرنے والا غلط ہے وہ غلط ہے دیکھیں حضرت سید احمد شہید بریلوی یہ عجیب سا محسوس احمدی حضرت سید احمد شہید بریلوی بیوی کے بارے میں ساری کتاب ہیں ہیں اور ان کے بلند مقام ان کے کشوف اور مختلف ڈیزائن میں بیان کی گئی ہیں ہیں اس میں یہ لکھا ہے کہ ایک دن حضرت علی کرم اللہ کرم اللہ وجہہ ہو جناب سیدہ نساء فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہما کو سید صاحب نے خواب میں دیکھا وہ رات کو حضرت علی نے اپنے دست مبارک سے آپ کو نہلایا اور حضرت فاطمہ نے ایک لباس اپنے ہاتھ سے آپ کو پہنایا یا اس میں اب رہنا ہے اور آپ کو بلایا ہے اور لباس پہنایا ہے ہے ہے جو ہے پر ہماری طرف سے نشانہ بنایا ہے وہ اپنا نشان اب بھی کرے پھر ان کے جو بندیوں کے جو حکیم الامت ہے ان کے ملفوظات میں مولوی مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ان کے ملفوظات میں ہے ایک مرتبہ فرمایا یہ فرمایا کہ میں ایک دفعہ بیمار ہو گئے ہم کو مرنے سے بہت ڈر لگتا ہے ہے ابھی سے پتہ چل جاتا ہے کہ مرنے والا تو جگہ نیک آدمی ہے تو وہ تو خدا سے واسطہ ہے پہلے ہی اس کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا سے بہت ڈر لگتا ہے کہ ہم نے خواب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا انہوں نے ہم کو اپنے سینے سے چمٹا لیا یا تو یہاں تو سینوں کی بات ہو رہی ہے اور اور اب یہ ایک بزرگ ہیں شام محمد آفاق یہ ان کے دیوبندیوں کے پیر طریقت اور ہادی شریعت ہے ہے ارشاد رحمانی ارشاد رحمانی و فضل یزدانی یہ کتاب ہے اس میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں ہیں کہ ارشاد ہوا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہمارے گھر میں جاؤ مجھے جاتے ہوئے شرم آئی بھائی جان محمد آفاق صاحب بیان فرما رہے ہیں ہے کہ مجھے جاتے ہوئے شرم آئی اس لیے استعمال کیا گیا حضرت نے فرمایا کہ جاؤ ہم کہتے ہیں ہیں میں گیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف رکھتی تھی تھی اپنے سینہ مبارک بالکل کھول کر مجھے سینے سے لگا لیا اور بہت پیار کیا کیا اب اس بات کواس میں صفحہ 175 سے حضرت خواجہ سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر شروع ہوتا ہے آگے 207 صفحے پر پر دیکھیں کہ کیا لکھا ہے کیا فرماتے ہیں ہیں یا نہیں حضرت سری سقطی کے میں نے خواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دودھ بھی پیا ہے اور سیر ہو کر پیا کیا بتائیں کہ یہ خواب میں ان پر بھی چلائی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اٹھا دیا تھا تھا sa1 یہ دیوبندی بھی ہیں بریلوی بھی ہیں ان سب میں یہ بزرگ ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے سید احمد شہید بریلوی حضرت سری سقطی یہ بریلوی ان کو بہت مانتے ہیں جو بندہ بھی مانتے ہیں ہیں اور دیوبندی کے مولانا اشرف علی تھانوی صابر شاہ محمد آفاق صاحب کے کشمیر سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے امتیوں کو مانتی ہے غوث اعظم ہیں تو ان کی کتاب ہے قلائد الجواہر فی مناقب عبدالقادر ان کتنی ان کے بارے میں لکھی گئی ہے تو یہ تو ہے جن کی کتابیں اس کے حاشیہ پر ہے ہے وہاں یہ لکھا ہے یہ عربی میں ہے وہ کالا رضی اللہ عنہ نے یعنی عزت سے عبدالقادر جیلانی رضی اللہ انہوں نے لکھا کہ فرمایا جائے تو منہ میں میں نے خواب میں دیکھا کہ ان یھجر عائشہ تھا میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے کمرے میں ام المومنین رضی اللہ عنہ ام المومنین رضی اللہ عنہا بھی حال میں آپ کے پستان سے دودھ پیتا ہوں پھر چلتا ہوں فرض ہو اور اسے پیتا ہو خدا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے ہیں لہذا والا ناخن ایسا یہ ہمارا اصل بیٹا ہے حقیقی بیٹا ہے تو یہ ان کا کنکشن ہے یہ اردو میں ترجمہ بھی موجود ہے اس میں اس کا یہ ترجمہ کیا جو میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا ابھی آپ دیکھ لیں گے آگے تو اب یہ دونوں باتیں میں نے عرض کی تھی کہ ایک بچے کی شکل میں ہونا اور ایک نیند میں ہوں نا اہلی انیسویں ہونا بھی ہے ان پر کوئی الزام نہیں ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر الزام کیوں ہوتا ہے حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس لیے فرمایا کہ یہ ہمارا حقیقی بیٹا ہے اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہامی بتایا ہے یارسول اللہ یارسول اللہ میں تیرے ساتھ ہوں مخالف جتنے مرضی ہے کالے وہ انہیں بزرگوں پر جاتے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کو اللہ تعالی نے ہمارے لحاظ سے اسے الہامی لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ثابت فرمایا ہے ہیں اور ستور مالا محمد ہیں بہیمانہ الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی وسلم کا ورثہ ہے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ العلماء ورثۃ الانبیاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام امت کے علماء کے سب سے بڑے لیڈر ہیں ہیں سب سے بڑے رہنما ہیں ان کے سردار ہیں نہیں آپ نے سارا عالم ثانی رحمتہ اللہ علیہ وسلم کا ہے ہے اسی لئے حضرت علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا تھا کہ سارے علماء اولیاء انبیاء کے لحاظ سے اس کے ماتحت ہوں گے نیو رستم علی محمد نے محمد صلی اللہ وسلم کے مالک اور سہہ پایا ہے اور میں اس کی جو چنیں دا حال ہے کیسے ہو ہے اللہ تعالی فرماتا ہے نما کا یابن رسول اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ جو کشش دیکھا ہے اور حضرت فاطمہ کو مادر مہربان کی طرح دیکھا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اگر اٹھتا ہے تو جو جواب ان کو شرم اور خوابوں کا ہوگا وہی جو اب ہمارا ہےبہوج تیرے پاس مانگنے کا کام ہے علم سے دکھایا ہے جماعت اسلامی نشاۃ ثانیہ کے الہی تحریک

 44 total views,  2 views today

Leave a Reply

%d bloggers like this: